🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-08-1445 ᴴ | 05-03-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-08-1445 ᴴ | 05-03-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Ramadan Challenge رمضان چیلینج
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_رمضان_المبارک 126
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ ᴿᵒᶻᵃ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Ramadan Challenge رمضان چیلینج
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_رمضان_المبارک 126
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ ᴿᵒᶻᵃ
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-08-1445 ᴴ | 05-03-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-08-1445 ᴴ | 05-03-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
پہلے چاہت پھر نگاہوں سے اتاری جاؤگی
آبرو بھی جائےگی اور تم بھی ماری جاؤگی
पहले चाहत फिर निगाहों से उतारी जाओगी
आबरू भी जाएगी और तुम भी मारी जाओगी
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
پہلے چاہت پھر نگاہوں سے اتاری جاؤگی
آبرو بھی جائےگی اور تم بھی ماری جاؤگی
पहले चाहत फिर निगाहों से उतारी जाओगी
आबरू भी जाएगी और तुम भी मारी जाओगी
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯1
حضرت سید عتیق اللہ چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: شیخ سید عتیق اللہ چشتی صابری ۔ خاندانی تعلق سادات جالندھر سے ہے ۔
سیرت و خصائص:
فخر السادات امام الاولیاء حضرت شیخ سید عتیق اللہ چشتی صابری جالندھری اولیاء کبار سے ہیں ۔ آپ صحیح النسب سادات جالندھر سے ہیں ۔ آپ کی وجہ سے سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ کو بہت تقویت اور فروغ ملا ہزاروں افراد آپ کے دست حق پرست پر بیعت سے مشرف ہوئے ۔ اور لا تعداد گمراہوں کو راہ ہدایت ملی ۔
آپ جامع الصفات و کمالات اور صاحب کشف و کرامات بزرگ ہوئے ہیں ۔ تمام عمر خدا اور اس کے رسول ﷺ کی اتباع میں گزاری ۔ درس و تدریس میں ممتاز اور یکتا تھا ۔ بڑے بڑے نامور شیوخ آپ کے شاگردوں میں شامل ہیں ۔ جن میں سید عبد الرشید چشتی صابری جالندھر اور شاہ بہلول برکی خلیفہ حضرت شاہ میراں بھیکھہ چشتی صابری علیہ الرحمۃ شامل ہیں ۔
تاریخ وصال:
آپ کا وصال باکمال 1031ھ کو ہوا ۔ مزار پُر انوار جالندھر انڈیا میں مرجع خاص و عام ہے ۔ آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے حضرت سید علیم اللہ چشتی صابری جالندھری آپ کے جانشین و خلیفہ اکبر ہوئے ہیں ۔ جن کی وجہ سے سلسلہ کو بہت تقویت پہنچی ہے ۔ (انسائیکلوپیڈیا جلد، 3، ص99) ـ
آپ جالندھر کے صحیح النسب سادات سے تھے ظاہری اور باطنی کمالات کے مالک تھے شاہ ابو المعالی چشتی کی خدمت میں رہا کرتے تھے ۔ ساری عمر عبادت و ریاضت میں گزار دی ۔
وصال:
آپ کی وفات ماہ شعبان ۱۱۳۱ھ میں ہوئی تھی ۔
ز دنیائے دوں چو بفردوس رفت
ز دنیائے دوں پیر پیران عتیق
شہنشاہ عشق است تاریخ او ۱۱۳۱ھ
دوبارہ بگو میر میراں عتیق ۱۱۳۱ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-atiqullah-chishti
نام و نسب:
اسم گرامی: شیخ سید عتیق اللہ چشتی صابری ۔ خاندانی تعلق سادات جالندھر سے ہے ۔
سیرت و خصائص:
فخر السادات امام الاولیاء حضرت شیخ سید عتیق اللہ چشتی صابری جالندھری اولیاء کبار سے ہیں ۔ آپ صحیح النسب سادات جالندھر سے ہیں ۔ آپ کی وجہ سے سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ کو بہت تقویت اور فروغ ملا ہزاروں افراد آپ کے دست حق پرست پر بیعت سے مشرف ہوئے ۔ اور لا تعداد گمراہوں کو راہ ہدایت ملی ۔
آپ جامع الصفات و کمالات اور صاحب کشف و کرامات بزرگ ہوئے ہیں ۔ تمام عمر خدا اور اس کے رسول ﷺ کی اتباع میں گزاری ۔ درس و تدریس میں ممتاز اور یکتا تھا ۔ بڑے بڑے نامور شیوخ آپ کے شاگردوں میں شامل ہیں ۔ جن میں سید عبد الرشید چشتی صابری جالندھر اور شاہ بہلول برکی خلیفہ حضرت شاہ میراں بھیکھہ چشتی صابری علیہ الرحمۃ شامل ہیں ۔
تاریخ وصال:
آپ کا وصال باکمال 1031ھ کو ہوا ۔ مزار پُر انوار جالندھر انڈیا میں مرجع خاص و عام ہے ۔ آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے حضرت سید علیم اللہ چشتی صابری جالندھری آپ کے جانشین و خلیفہ اکبر ہوئے ہیں ۔ جن کی وجہ سے سلسلہ کو بہت تقویت پہنچی ہے ۔ (انسائیکلوپیڈیا جلد، 3، ص99) ـ
آپ جالندھر کے صحیح النسب سادات سے تھے ظاہری اور باطنی کمالات کے مالک تھے شاہ ابو المعالی چشتی کی خدمت میں رہا کرتے تھے ۔ ساری عمر عبادت و ریاضت میں گزار دی ۔
وصال:
آپ کی وفات ماہ شعبان ۱۱۳۱ھ میں ہوئی تھی ۔
ز دنیائے دوں چو بفردوس رفت
ز دنیائے دوں پیر پیران عتیق
شہنشاہ عشق است تاریخ او ۱۱۳۱ھ
دوبارہ بگو میر میراں عتیق ۱۱۳۱ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-atiqullah-chishti
❤1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت مولانا خواجہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا خواجہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: شیخ المشائخ، امام العلماء ۔ والد کااسم گرامی: شیخ المشائخ حضرت خواجہ حافظ محمد عباس علی خان علیہ الرحمہ۔
آپ کا سلسلۂ نسب بہ واسطہ حضرت مولانا سید شاہ فخرالدین احمد، حضرت حکیم بادشاہ الہ آبادی، و مولانا سید محمد عاشق ، ومولانا شاہ ابو الحسن نصیر آبادی، و مولانا مراد اللہ تھانیسری ، ومولانا نعیم اللہ بہرائچی ،حضرت مرزا جان جاناں تک پہنچتاہے ۔ یہ وہی مولانا نعیم اللہ ہیں جن کو حضرت مرزا صاحب نے مکتوبات شریف دے کر فرمایا تھا: "لو امانت حضرت مجدد علیہ الرحمہ آپ کو تفویض کر دی گئی ہے، یہ تمام خزانوں سے بڑا خزانہ ہے" ۔ (جواہر مجددیہ:7) ۔
اسی طرح آپ کےخاندان کےایک اوربزرگ حضرت شیخ جان محمد خان قادری بلخی علیہ الرحمہ حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کے خلیفہ تھے ۔ یہ خاندان صاحب تقویٰ و طہارت ، علمی و روحانی دولت سے مالا مال، اور بالخصوص حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کی روحانی و علمی امانتوں کا حامل خاندان ہے ۔ اس خاندان میں بڑے بڑے صوفیاء کرام گزرے ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 24 شعبان المعظم 1289ھ، مطابق آخر ماہ اکتوبر /1872ء کو " امروہہ " ضلع مراد آباد میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت علمی و روحانی ماحول میں ہوئی ۔ آپ بے حد ذہین تھے، آپ کے چہرے سے ہی ذہانت و فطانت کے آثار نظر آتے تھے ۔ یہی وجہ ہےکہ مولوی احمد حسن امروہوی شاگرد خاص مولوی قاسم نانوتوی نے آپ کی ذہانت سے متاثر ہو کر از خود آپ کو اپنے مدرسہ میں داخل کر لیا ۔ تذکرۃ الکرام میں مرقوم ہے کہ مولوی احمد حسن آپ کو "علامہ با یزید" کے لقب سے پکارتے تھے، اور آپ کی شاگردی پر فخر کرتے ۔ مگر آپ اپنے استاذ کے عقائد سے قطعی متاثر نہ ہوئے، بلکہ علی الاعلان استاد کے عقائد و نظریات کی تردید کرتے تھے ۔ یہ آپ کے جد اعلیٰ حضرت شیخ جان محمد خاں قادری بلخی خلیفہ امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہما کا فیض و اثر تھا، کہ وہابیہ میں رہ کر چھوٹی سی عمر میں ان سے متأثر نہ ہوئے، اور اپنے عقائد و نظریات پر نہ صرف قائم رہے بلکہ ان کے باطل عقائد کا رد بھی کرتے رہے ۔ جامع المعقولات حضرت مولانا لطف اللہ علی گڑھی اور حضرت مولانا انوار اللہ حیدر آبادی (مصنف انوار احمدی) سے بھی استفادہ کیا ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت:47)
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد گرامی حضرت شیخ المشائخ خواجہ محمد عباس علی خان علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت سے سرفراز کیے گئے، حضرت سید محمد معروف علی شاہ قادری حیدر آبادی نے بھی اجازت دی تھی ۔
اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنت ، امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه نے آپ کو خلافت و اجازت کا شرف عطا فرمایا ۔
آپ کی رفعتِ شان کی بدولت متعدد مشائخ نےآپ کو اجازت و خلافت کے شرف سے مشرف فرمایا ۔ (خلفائے اعلیٰ حضرت:127)
سیرت و خصائص:
صاحبِ جود و سخا، مجمع السلاسل، جامع فضائل و خصائص، بحرِ طریقت، حبرِ شریعت، امام العلماء، سید الاتقیاء، سند الاصفیاء، رئیس الحکماء، حامیِ دین مصطفیٰ ﷺ، ماحیِ اہل بدع والہواء، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، محبوبِ ربِ کونین حضرت مولانا خواجہ شاہ احمد حسین نقشبندی قادری امروہوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ایک جید عالم دین اور شیخِ طریقت تھے، اپنے خاندان کی علمی و روحانی امانتوں کے وارث اور اہلِ حق اہل سنت و جماعت کے سچے نقیب تھے ۔ بچپن میں ہی چہرے سے بزرگی و فطانت کے آثار نمایاں تھے۔مدرسے میں ہمیشہ نمایاں نمبروں سے کامیاب ہوتے رہے، بہت جلد علوم نقلیہ و عقلیہ میں مہارت حاصل کرلی، اور دینِ متین کے فروغ و ترقی کے لئے کوشاں ہو گئے ۔
حضرت مولانا شاہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ علم تقویٰ کی بدولت بہت جلد عوام و خواص میں بہت مقبول ہو گئے ۔ آپ قابل رشک شخصیت کے مالک تھے ۔ احقاق حق اور ابطال باطل آپ کی زندگی کا ایک اہم مقصد تھا ۔ اس کے لئے کسی کی رو رعایت کے قائل نہیں تھے۔اسی وجہ سے علماء و مشائخِ اہل سنت کی عقیدتوں کا محور تھے ۔
اعلیٰ حضرت سے محبت:
اعلیٰ حضرت امام اہل سنت سے خصوصی محبت تھی ۔ مجدد وقت کی زیارت کے لئے 24 / رمضان المبارک 1331ھ، مطابق اگست / 1913ء کو بارگاہ اعلیٰ حضرت میں پہنچے ۔ مغرب کا وقت تھا، اعلیٰ حضرت کی اقتداء میں نماز ادا کی، امام اہلسنت کی نگاہ لطف و عنایت سلام پھیرتے ہی آپ پر پڑی، اعلیٰ حضرت نے سلام پھیرتے ہی اپنے سر کا عمامہ اتار کر آپ کو مرحمت فرمایا، اور " تاج الفیوض " کے نام سے فی البدیہہ تاریخ فرما کر عزت بخشی ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا خواجہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: شیخ المشائخ، امام العلماء ۔ والد کااسم گرامی: شیخ المشائخ حضرت خواجہ حافظ محمد عباس علی خان علیہ الرحمہ۔
آپ کا سلسلۂ نسب بہ واسطہ حضرت مولانا سید شاہ فخرالدین احمد، حضرت حکیم بادشاہ الہ آبادی، و مولانا سید محمد عاشق ، ومولانا شاہ ابو الحسن نصیر آبادی، و مولانا مراد اللہ تھانیسری ، ومولانا نعیم اللہ بہرائچی ،حضرت مرزا جان جاناں تک پہنچتاہے ۔ یہ وہی مولانا نعیم اللہ ہیں جن کو حضرت مرزا صاحب نے مکتوبات شریف دے کر فرمایا تھا: "لو امانت حضرت مجدد علیہ الرحمہ آپ کو تفویض کر دی گئی ہے، یہ تمام خزانوں سے بڑا خزانہ ہے" ۔ (جواہر مجددیہ:7) ۔
اسی طرح آپ کےخاندان کےایک اوربزرگ حضرت شیخ جان محمد خان قادری بلخی علیہ الرحمہ حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کے خلیفہ تھے ۔ یہ خاندان صاحب تقویٰ و طہارت ، علمی و روحانی دولت سے مالا مال، اور بالخصوص حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کی روحانی و علمی امانتوں کا حامل خاندان ہے ۔ اس خاندان میں بڑے بڑے صوفیاء کرام گزرے ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 24 شعبان المعظم 1289ھ، مطابق آخر ماہ اکتوبر /1872ء کو " امروہہ " ضلع مراد آباد میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت علمی و روحانی ماحول میں ہوئی ۔ آپ بے حد ذہین تھے، آپ کے چہرے سے ہی ذہانت و فطانت کے آثار نظر آتے تھے ۔ یہی وجہ ہےکہ مولوی احمد حسن امروہوی شاگرد خاص مولوی قاسم نانوتوی نے آپ کی ذہانت سے متاثر ہو کر از خود آپ کو اپنے مدرسہ میں داخل کر لیا ۔ تذکرۃ الکرام میں مرقوم ہے کہ مولوی احمد حسن آپ کو "علامہ با یزید" کے لقب سے پکارتے تھے، اور آپ کی شاگردی پر فخر کرتے ۔ مگر آپ اپنے استاذ کے عقائد سے قطعی متاثر نہ ہوئے، بلکہ علی الاعلان استاد کے عقائد و نظریات کی تردید کرتے تھے ۔ یہ آپ کے جد اعلیٰ حضرت شیخ جان محمد خاں قادری بلخی خلیفہ امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہما کا فیض و اثر تھا، کہ وہابیہ میں رہ کر چھوٹی سی عمر میں ان سے متأثر نہ ہوئے، اور اپنے عقائد و نظریات پر نہ صرف قائم رہے بلکہ ان کے باطل عقائد کا رد بھی کرتے رہے ۔ جامع المعقولات حضرت مولانا لطف اللہ علی گڑھی اور حضرت مولانا انوار اللہ حیدر آبادی (مصنف انوار احمدی) سے بھی استفادہ کیا ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت:47)
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد گرامی حضرت شیخ المشائخ خواجہ محمد عباس علی خان علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت سے سرفراز کیے گئے، حضرت سید محمد معروف علی شاہ قادری حیدر آبادی نے بھی اجازت دی تھی ۔
اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنت ، امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه نے آپ کو خلافت و اجازت کا شرف عطا فرمایا ۔
آپ کی رفعتِ شان کی بدولت متعدد مشائخ نےآپ کو اجازت و خلافت کے شرف سے مشرف فرمایا ۔ (خلفائے اعلیٰ حضرت:127)
سیرت و خصائص:
صاحبِ جود و سخا، مجمع السلاسل، جامع فضائل و خصائص، بحرِ طریقت، حبرِ شریعت، امام العلماء، سید الاتقیاء، سند الاصفیاء، رئیس الحکماء، حامیِ دین مصطفیٰ ﷺ، ماحیِ اہل بدع والہواء، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، محبوبِ ربِ کونین حضرت مولانا خواجہ شاہ احمد حسین نقشبندی قادری امروہوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ایک جید عالم دین اور شیخِ طریقت تھے، اپنے خاندان کی علمی و روحانی امانتوں کے وارث اور اہلِ حق اہل سنت و جماعت کے سچے نقیب تھے ۔ بچپن میں ہی چہرے سے بزرگی و فطانت کے آثار نمایاں تھے۔مدرسے میں ہمیشہ نمایاں نمبروں سے کامیاب ہوتے رہے، بہت جلد علوم نقلیہ و عقلیہ میں مہارت حاصل کرلی، اور دینِ متین کے فروغ و ترقی کے لئے کوشاں ہو گئے ۔
حضرت مولانا شاہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ علم تقویٰ کی بدولت بہت جلد عوام و خواص میں بہت مقبول ہو گئے ۔ آپ قابل رشک شخصیت کے مالک تھے ۔ احقاق حق اور ابطال باطل آپ کی زندگی کا ایک اہم مقصد تھا ۔ اس کے لئے کسی کی رو رعایت کے قائل نہیں تھے۔اسی وجہ سے علماء و مشائخِ اہل سنت کی عقیدتوں کا محور تھے ۔
اعلیٰ حضرت سے محبت:
اعلیٰ حضرت امام اہل سنت سے خصوصی محبت تھی ۔ مجدد وقت کی زیارت کے لئے 24 / رمضان المبارک 1331ھ، مطابق اگست / 1913ء کو بارگاہ اعلیٰ حضرت میں پہنچے ۔ مغرب کا وقت تھا، اعلیٰ حضرت کی اقتداء میں نماز ادا کی، امام اہلسنت کی نگاہ لطف و عنایت سلام پھیرتے ہی آپ پر پڑی، اعلیٰ حضرت نے سلام پھیرتے ہی اپنے سر کا عمامہ اتار کر آپ کو مرحمت فرمایا، اور " تاج الفیوض " کے نام سے فی البدیہہ تاریخ فرما کر عزت بخشی ۔
اس اعزاز و اکرام کا سبب یہ ہوا کہ دورانِ جماعت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو حضرت غوث الثقلین رضی اللہ عنہ نے مولانا کی رفعتِ مرتبت کے باعث اجازت و خلافت عطاء کرنے کا ارشاد فرمایا تھا۔(تذکرہ علماء اہل سنت ص:47 / خلفائے اعلی حضرت ص:127)
آپ نے 1894ء کو "مطبع انتظامی" کے نام سے امروہہ میں ایک پرنٹنگ پریس کی بنیاد ڈالی اور "گلدستۂ نسیم چمن" کے نام سے ایک ماہنامہ بھی جاری کیا۔اسی طرح حیدر آباد دکن میں بسلسلہ ملازمت ایک عرصے تک مقیم رہے، اور تبلیغِ دین کی خدمت بھی انجام دیتے رہے ۔ شیخ طریقت اور جید عالم دین کے ساتھ بلندپایہ سخن گوبھی تھے۔اردو کےعلاوہ عربی اورفارسی شعروادب میں خاصا عبور حاصل تھا۔"احمد"تخلص فرماتے۔آپ نےمختلف موضوعات تقریباً تیرہ بہترین اورضخیم کتب تصنیف فرمائی ہیں۔آپ کی ایک کتاب "جواہر مجددیہ" ادارہ مسعودیہ کراچی نےشائع کی ہے۔آپ کی تمام کتب ایک ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں، اور ان کی اشاعت اہل سنت پر احسانِ عظیم ہوگا۔کیونکہ بعد میں آنے والے ان کی کتب سے ہی مستفید ہوسکتےہیں۔
تاریخِ وصال:
27 / رجب المرجب 1361ھ، مطابق 11 / اگست 1942ء، بروز منگل داعیِ اجل کو لبیک کہا۔آپ کے محب صادق حضرت مولانا شاہ مفتی محمد مظہراللہ دہلوی نے نماز جنازہ کی امامت کی۔والد ماجد کے پہلو میں مدفون ہوئے، آپ کا مزار دہلی میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ خلفائے اعلیٰ حضرت ۔ جواہر مجددیہ ۔ تذکرۃ الکرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-khawaja-ahmed-hussain-amrohi
آپ نے 1894ء کو "مطبع انتظامی" کے نام سے امروہہ میں ایک پرنٹنگ پریس کی بنیاد ڈالی اور "گلدستۂ نسیم چمن" کے نام سے ایک ماہنامہ بھی جاری کیا۔اسی طرح حیدر آباد دکن میں بسلسلہ ملازمت ایک عرصے تک مقیم رہے، اور تبلیغِ دین کی خدمت بھی انجام دیتے رہے ۔ شیخ طریقت اور جید عالم دین کے ساتھ بلندپایہ سخن گوبھی تھے۔اردو کےعلاوہ عربی اورفارسی شعروادب میں خاصا عبور حاصل تھا۔"احمد"تخلص فرماتے۔آپ نےمختلف موضوعات تقریباً تیرہ بہترین اورضخیم کتب تصنیف فرمائی ہیں۔آپ کی ایک کتاب "جواہر مجددیہ" ادارہ مسعودیہ کراچی نےشائع کی ہے۔آپ کی تمام کتب ایک ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں، اور ان کی اشاعت اہل سنت پر احسانِ عظیم ہوگا۔کیونکہ بعد میں آنے والے ان کی کتب سے ہی مستفید ہوسکتےہیں۔
تاریخِ وصال:
27 / رجب المرجب 1361ھ، مطابق 11 / اگست 1942ء، بروز منگل داعیِ اجل کو لبیک کہا۔آپ کے محب صادق حضرت مولانا شاہ مفتی محمد مظہراللہ دہلوی نے نماز جنازہ کی امامت کی۔والد ماجد کے پہلو میں مدفون ہوئے، آپ کا مزار دہلی میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ خلفائے اعلیٰ حضرت ۔ جواہر مجددیہ ۔ تذکرۃ الکرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-khawaja-ahmed-hussain-amrohi
scholars.pk
Hazrat Molana Khawaja Ahmed Hussain Amrohi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مصلح عظیم، مرد میدان، امیر جند اللہ
حضرت پیر حافظ محمد شاہ غازی بھیروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
مصلح عظیم، مرد میدان، امیر جند اللہ حضرت پیر حافظ محمد شاہ غازی ابن حضرت امیر السالکین پیر امیر شاہ (قدس سرہما) تقریباً ۱۳۰۸ھ؍۱۸۹۰ء میں بھیرہ ضلع سرگودھا میں رونق افزائے وار دنیا ہوئے ۔
سلسلۂ نسب:
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت شیخ الاسلام بہاء الحق و الدین ابو محمد زکریا سہروردی ملتانی قدس سرہ (جن کی دینی خدمات تاریخ اسلامی کا روشن ترین باب ہیں) سے ہوتا ہوا اصحاب صفہ میں سے صحابیٔ رسول حضرت ہبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔
قریباً تین سو سال پہلے حضرت شیخ الاسلام کے خاندان کے ممتاز فرد حضرت دیوان پیر فتح شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھیرہ میں تشریف لائے اور رشد و ہدایت اور تبلیغ اسلام کا وہ چراغ روشن کیا جو آپ کی اولاد امجاد کی بدولت ہمیشہ در خشندہ و تابندہ رہا حتیٰ کہ یہ مرکزیت اور دینی قیادت حضرت پیر محمد اہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے حصہ میں آئی ۔
حضرت پیر محمد شاہ رحمہ اللہ تعالیٰ سن شعور کو پہنچے تو مکتب میں بٹھائے گئے جہاں آپ نے حافظ محمد موسیٰ اور حافظ جہان سے قرآن کریم حفظ کیا بعد ازاں اگرچہ درس نظامی کی تکمیل نہیں کی لیکن بہت سے اساتذہ سے بہت حد تک ضروری مسائل کی واقفیت حاصل کر لی ۔
قرآن پاک کے ساتھ آپ کو عشق کی حد تک لگاؤ تھا ۔ رمضان شریف میں تراویح کے علاوہ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں نوافل میں قرآن مجید کا ختم آپ کا معمول تھا ۔ قدرت نے آپ کو لحن داوٗدی عطا فرمایا تھا، جب آپ تراویح میں قرآن پاک پڑھتے تو بعض ہندو مسجد کے باہر بیٹھ کر ذوق و شوق سے سُنا کرتے تھے ۔
والد گرامی نے بڑی توجہ سے آپ کی تربیت فرمائی اور مناسب وقت پر حضرت خواجہ ضیا ء الدین سیالوی قدس سرہ العزیز سے بیعت کرا دیا حضرت خواجہ نے مختلف ریاضتیں کرانے کے بعد آپ کو خرقۂ خلافت عطا فرمایا اور خلق خدا کی رہنمائی کا کام آپ کے سپرد کیا جسے آپ نے اس خوبی سے نبھایا کہ باید و شاید، عبادت و ریاضت میں حویت کا یہ عالم تھا کہ تمام عمر صوم داوٗدی (ایک دن روزہ اور ایک دن افطار) رکھتے اور نماز تہجد اور دیگر نوافل اس پابندی سے ادا کرتے کہ حالت علالت میں بھی شاید ہی کبھی قضا ہوئے ہوںگے ۔ نماز با جماعت ادا کرنے کے خیال سے سفر میں کسی نہ کسی کو اپنے ساتھ ضرور رکھتے ۔ پندرہ شعبان سے آخر رمضان تک اعتکاف میں رہتے، وصال سے چند سال قبل تک آپ کا معمول تھا کہ نماز عصر کے بعد دریائے جہلم کے کنارے تشریف لے جاتے اور رات کو نو، دس بجے تک اور اوراد و وظائف میں مشغول رہ کر واپس تشریف لاتے ۔
علوم دینیہ کی ترویج سے آپ کو فطری لگاؤ تھا جس کی بنا پر آپ نے والد گرامی کی موجودگی میں مدرسہ تدریس القرآن قائم کیا جو اب تک جاری ہے، ایک پرائمری اِسکول کھولا تاکہ قوم کے نونہال لکھنے پڑھنے کے قابل بن سکیں ۔ ۱۹۲۵ء میں تعلیم المسلمین کے نام سے ایک دینی درس گاہ قائم کی جس میں اپنے دور کے مقتدر فضلاء کو تدریس کے لئے مقرر کیا ۔ اس دار العلوم نے خاطر خواہ ترقی کی اور قابل قدر دینی و علمی خدمات انجام دیں ـ
۱۹۵۶ء میں آپ کے فرزند پیر کرم شاہ ازہری (پیر کرم شاہ ازہری کے عقائد صحیح نہیں تھے) مدین ماہنامہ ضیائے حرم نے دار العلوم غوثیہ (بھیرہ) کے نام سے ایک خوشگوار انقلاب پیدا کیا اور دار العلوم کے نصاب میں قدیم و جدید علوم کو یکجا کر دیا، اپنی نوع کا یہ منفرد دار العلوم بڑی کامیابی سے جانبِ منزل گامزن ہے ۔
قیام پاکستان سے قبل مسلمانوں کی زبوں حالی اور بے عملی آپ کو ہمیشہ بے چین رکھتی اور خاص طور پر جب مسلمانوں کو ہدنو نبیوں کے سودی قرضوں میں جکڑا ہوا دیکھتے تو بے قرار ہو جاتے اس لئے آپ سال میں ڈیڑھ دو ماہ کا تبلیغی دورہ کرتے اور احکام الٰہیہ پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے، سودی قرضوں سے نجات پانے کے لئے بچوں کو زیور علم سے آراستہ کرنے اور تجارت میں بڑھ بڑھ کر حصہ لینے کی بھر پور تبلیغ فرماتے ۔
تحریک پاکستان کے زمانے میں بڑی گر مجوشی سے مسلم لیگ کی تائد و حمایت کی، اپنے حلقۂ اثر میں بکثرت طوفانی دور ے کئے اور مسلم لیگی امیدوار کو کامیاب کرانے کے لئے فضا ہموار کی، اگر کسی مرید نے کسی مجبوری کے تحت مسلم لیگ کو ووٹ دینے میں پس و پیش کی تو اس سے تعلق قطع کرلیا جب قائد اعظم کے ایماء پر نا فرمانی کی تحریک شروع ہوئی تو آپ بھی اس میں شریک ہوئے اور قید بند کی صعوبتوں کی خندہ پیشانی سے قبول کیا ۔
حضرت پیر حافظ محمد شاہ غازی بھیروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
مصلح عظیم، مرد میدان، امیر جند اللہ حضرت پیر حافظ محمد شاہ غازی ابن حضرت امیر السالکین پیر امیر شاہ (قدس سرہما) تقریباً ۱۳۰۸ھ؍۱۸۹۰ء میں بھیرہ ضلع سرگودھا میں رونق افزائے وار دنیا ہوئے ۔
سلسلۂ نسب:
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت شیخ الاسلام بہاء الحق و الدین ابو محمد زکریا سہروردی ملتانی قدس سرہ (جن کی دینی خدمات تاریخ اسلامی کا روشن ترین باب ہیں) سے ہوتا ہوا اصحاب صفہ میں سے صحابیٔ رسول حضرت ہبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔
قریباً تین سو سال پہلے حضرت شیخ الاسلام کے خاندان کے ممتاز فرد حضرت دیوان پیر فتح شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھیرہ میں تشریف لائے اور رشد و ہدایت اور تبلیغ اسلام کا وہ چراغ روشن کیا جو آپ کی اولاد امجاد کی بدولت ہمیشہ در خشندہ و تابندہ رہا حتیٰ کہ یہ مرکزیت اور دینی قیادت حضرت پیر محمد اہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے حصہ میں آئی ۔
حضرت پیر محمد شاہ رحمہ اللہ تعالیٰ سن شعور کو پہنچے تو مکتب میں بٹھائے گئے جہاں آپ نے حافظ محمد موسیٰ اور حافظ جہان سے قرآن کریم حفظ کیا بعد ازاں اگرچہ درس نظامی کی تکمیل نہیں کی لیکن بہت سے اساتذہ سے بہت حد تک ضروری مسائل کی واقفیت حاصل کر لی ۔
قرآن پاک کے ساتھ آپ کو عشق کی حد تک لگاؤ تھا ۔ رمضان شریف میں تراویح کے علاوہ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں نوافل میں قرآن مجید کا ختم آپ کا معمول تھا ۔ قدرت نے آپ کو لحن داوٗدی عطا فرمایا تھا، جب آپ تراویح میں قرآن پاک پڑھتے تو بعض ہندو مسجد کے باہر بیٹھ کر ذوق و شوق سے سُنا کرتے تھے ۔
والد گرامی نے بڑی توجہ سے آپ کی تربیت فرمائی اور مناسب وقت پر حضرت خواجہ ضیا ء الدین سیالوی قدس سرہ العزیز سے بیعت کرا دیا حضرت خواجہ نے مختلف ریاضتیں کرانے کے بعد آپ کو خرقۂ خلافت عطا فرمایا اور خلق خدا کی رہنمائی کا کام آپ کے سپرد کیا جسے آپ نے اس خوبی سے نبھایا کہ باید و شاید، عبادت و ریاضت میں حویت کا یہ عالم تھا کہ تمام عمر صوم داوٗدی (ایک دن روزہ اور ایک دن افطار) رکھتے اور نماز تہجد اور دیگر نوافل اس پابندی سے ادا کرتے کہ حالت علالت میں بھی شاید ہی کبھی قضا ہوئے ہوںگے ۔ نماز با جماعت ادا کرنے کے خیال سے سفر میں کسی نہ کسی کو اپنے ساتھ ضرور رکھتے ۔ پندرہ شعبان سے آخر رمضان تک اعتکاف میں رہتے، وصال سے چند سال قبل تک آپ کا معمول تھا کہ نماز عصر کے بعد دریائے جہلم کے کنارے تشریف لے جاتے اور رات کو نو، دس بجے تک اور اوراد و وظائف میں مشغول رہ کر واپس تشریف لاتے ۔
علوم دینیہ کی ترویج سے آپ کو فطری لگاؤ تھا جس کی بنا پر آپ نے والد گرامی کی موجودگی میں مدرسہ تدریس القرآن قائم کیا جو اب تک جاری ہے، ایک پرائمری اِسکول کھولا تاکہ قوم کے نونہال لکھنے پڑھنے کے قابل بن سکیں ۔ ۱۹۲۵ء میں تعلیم المسلمین کے نام سے ایک دینی درس گاہ قائم کی جس میں اپنے دور کے مقتدر فضلاء کو تدریس کے لئے مقرر کیا ۔ اس دار العلوم نے خاطر خواہ ترقی کی اور قابل قدر دینی و علمی خدمات انجام دیں ـ
۱۹۵۶ء میں آپ کے فرزند پیر کرم شاہ ازہری (پیر کرم شاہ ازہری کے عقائد صحیح نہیں تھے) مدین ماہنامہ ضیائے حرم نے دار العلوم غوثیہ (بھیرہ) کے نام سے ایک خوشگوار انقلاب پیدا کیا اور دار العلوم کے نصاب میں قدیم و جدید علوم کو یکجا کر دیا، اپنی نوع کا یہ منفرد دار العلوم بڑی کامیابی سے جانبِ منزل گامزن ہے ۔
قیام پاکستان سے قبل مسلمانوں کی زبوں حالی اور بے عملی آپ کو ہمیشہ بے چین رکھتی اور خاص طور پر جب مسلمانوں کو ہدنو نبیوں کے سودی قرضوں میں جکڑا ہوا دیکھتے تو بے قرار ہو جاتے اس لئے آپ سال میں ڈیڑھ دو ماہ کا تبلیغی دورہ کرتے اور احکام الٰہیہ پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے، سودی قرضوں سے نجات پانے کے لئے بچوں کو زیور علم سے آراستہ کرنے اور تجارت میں بڑھ بڑھ کر حصہ لینے کی بھر پور تبلیغ فرماتے ۔
تحریک پاکستان کے زمانے میں بڑی گر مجوشی سے مسلم لیگ کی تائد و حمایت کی، اپنے حلقۂ اثر میں بکثرت طوفانی دور ے کئے اور مسلم لیگی امیدوار کو کامیاب کرانے کے لئے فضا ہموار کی، اگر کسی مرید نے کسی مجبوری کے تحت مسلم لیگ کو ووٹ دینے میں پس و پیش کی تو اس سے تعلق قطع کرلیا جب قائد اعظم کے ایماء پر نا فرمانی کی تحریک شروع ہوئی تو آپ بھی اس میں شریک ہوئے اور قید بند کی صعوبتوں کی خندہ پیشانی سے قبول کیا ۔