🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-08-1445 ᴴ | 05-03-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-08-1445 ᴴ | 05-03-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Ramadan Challenge رمضان چیلینج
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_رمضان_المبارک 126
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ ᴿᵒᶻᵃ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Ramadan Challenge رمضان چیلینج
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_رمضان_المبارک 126
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ ᴿᵒᶻᵃ
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-08-1445 ᴴ | 05-03-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-08-1445 ᴴ | 05-03-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
پہلے چاہت پھر نگاہوں سے اتاری جاؤگی
آبرو بھی جائےگی اور تم بھی ماری جاؤگی
पहले चाहत फिर निगाहों से उतारी जाओगी
आबरू भी जाएगी और तुम भी मारी जाओगी
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
پہلے چاہت پھر نگاہوں سے اتاری جاؤگی
آبرو بھی جائےگی اور تم بھی ماری جاؤگی
पहले चाहत फिर निगाहों से उतारी जाओगी
आबरू भी जाएगी और तुम भी मारी जाओगी
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯1
حضرت سید عتیق اللہ چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: شیخ سید عتیق اللہ چشتی صابری ۔ خاندانی تعلق سادات جالندھر سے ہے ۔
سیرت و خصائص:
فخر السادات امام الاولیاء حضرت شیخ سید عتیق اللہ چشتی صابری جالندھری اولیاء کبار سے ہیں ۔ آپ صحیح النسب سادات جالندھر سے ہیں ۔ آپ کی وجہ سے سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ کو بہت تقویت اور فروغ ملا ہزاروں افراد آپ کے دست حق پرست پر بیعت سے مشرف ہوئے ۔ اور لا تعداد گمراہوں کو راہ ہدایت ملی ۔
آپ جامع الصفات و کمالات اور صاحب کشف و کرامات بزرگ ہوئے ہیں ۔ تمام عمر خدا اور اس کے رسول ﷺ کی اتباع میں گزاری ۔ درس و تدریس میں ممتاز اور یکتا تھا ۔ بڑے بڑے نامور شیوخ آپ کے شاگردوں میں شامل ہیں ۔ جن میں سید عبد الرشید چشتی صابری جالندھر اور شاہ بہلول برکی خلیفہ حضرت شاہ میراں بھیکھہ چشتی صابری علیہ الرحمۃ شامل ہیں ۔
تاریخ وصال:
آپ کا وصال باکمال 1031ھ کو ہوا ۔ مزار پُر انوار جالندھر انڈیا میں مرجع خاص و عام ہے ۔ آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے حضرت سید علیم اللہ چشتی صابری جالندھری آپ کے جانشین و خلیفہ اکبر ہوئے ہیں ۔ جن کی وجہ سے سلسلہ کو بہت تقویت پہنچی ہے ۔ (انسائیکلوپیڈیا جلد، 3، ص99) ـ
آپ جالندھر کے صحیح النسب سادات سے تھے ظاہری اور باطنی کمالات کے مالک تھے شاہ ابو المعالی چشتی کی خدمت میں رہا کرتے تھے ۔ ساری عمر عبادت و ریاضت میں گزار دی ۔
وصال:
آپ کی وفات ماہ شعبان ۱۱۳۱ھ میں ہوئی تھی ۔
ز دنیائے دوں چو بفردوس رفت
ز دنیائے دوں پیر پیران عتیق
شہنشاہ عشق است تاریخ او ۱۱۳۱ھ
دوبارہ بگو میر میراں عتیق ۱۱۳۱ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-atiqullah-chishti
نام و نسب:
اسم گرامی: شیخ سید عتیق اللہ چشتی صابری ۔ خاندانی تعلق سادات جالندھر سے ہے ۔
سیرت و خصائص:
فخر السادات امام الاولیاء حضرت شیخ سید عتیق اللہ چشتی صابری جالندھری اولیاء کبار سے ہیں ۔ آپ صحیح النسب سادات جالندھر سے ہیں ۔ آپ کی وجہ سے سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ کو بہت تقویت اور فروغ ملا ہزاروں افراد آپ کے دست حق پرست پر بیعت سے مشرف ہوئے ۔ اور لا تعداد گمراہوں کو راہ ہدایت ملی ۔
آپ جامع الصفات و کمالات اور صاحب کشف و کرامات بزرگ ہوئے ہیں ۔ تمام عمر خدا اور اس کے رسول ﷺ کی اتباع میں گزاری ۔ درس و تدریس میں ممتاز اور یکتا تھا ۔ بڑے بڑے نامور شیوخ آپ کے شاگردوں میں شامل ہیں ۔ جن میں سید عبد الرشید چشتی صابری جالندھر اور شاہ بہلول برکی خلیفہ حضرت شاہ میراں بھیکھہ چشتی صابری علیہ الرحمۃ شامل ہیں ۔
تاریخ وصال:
آپ کا وصال باکمال 1031ھ کو ہوا ۔ مزار پُر انوار جالندھر انڈیا میں مرجع خاص و عام ہے ۔ آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے حضرت سید علیم اللہ چشتی صابری جالندھری آپ کے جانشین و خلیفہ اکبر ہوئے ہیں ۔ جن کی وجہ سے سلسلہ کو بہت تقویت پہنچی ہے ۔ (انسائیکلوپیڈیا جلد، 3، ص99) ـ
آپ جالندھر کے صحیح النسب سادات سے تھے ظاہری اور باطنی کمالات کے مالک تھے شاہ ابو المعالی چشتی کی خدمت میں رہا کرتے تھے ۔ ساری عمر عبادت و ریاضت میں گزار دی ۔
وصال:
آپ کی وفات ماہ شعبان ۱۱۳۱ھ میں ہوئی تھی ۔
ز دنیائے دوں چو بفردوس رفت
ز دنیائے دوں پیر پیران عتیق
شہنشاہ عشق است تاریخ او ۱۱۳۱ھ
دوبارہ بگو میر میراں عتیق ۱۱۳۱ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-atiqullah-chishti
❤1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت مولانا خواجہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا خواجہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: شیخ المشائخ، امام العلماء ۔ والد کااسم گرامی: شیخ المشائخ حضرت خواجہ حافظ محمد عباس علی خان علیہ الرحمہ۔
آپ کا سلسلۂ نسب بہ واسطہ حضرت مولانا سید شاہ فخرالدین احمد، حضرت حکیم بادشاہ الہ آبادی، و مولانا سید محمد عاشق ، ومولانا شاہ ابو الحسن نصیر آبادی، و مولانا مراد اللہ تھانیسری ، ومولانا نعیم اللہ بہرائچی ،حضرت مرزا جان جاناں تک پہنچتاہے ۔ یہ وہی مولانا نعیم اللہ ہیں جن کو حضرت مرزا صاحب نے مکتوبات شریف دے کر فرمایا تھا: "لو امانت حضرت مجدد علیہ الرحمہ آپ کو تفویض کر دی گئی ہے، یہ تمام خزانوں سے بڑا خزانہ ہے" ۔ (جواہر مجددیہ:7) ۔
اسی طرح آپ کےخاندان کےایک اوربزرگ حضرت شیخ جان محمد خان قادری بلخی علیہ الرحمہ حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کے خلیفہ تھے ۔ یہ خاندان صاحب تقویٰ و طہارت ، علمی و روحانی دولت سے مالا مال، اور بالخصوص حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کی روحانی و علمی امانتوں کا حامل خاندان ہے ۔ اس خاندان میں بڑے بڑے صوفیاء کرام گزرے ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 24 شعبان المعظم 1289ھ، مطابق آخر ماہ اکتوبر /1872ء کو " امروہہ " ضلع مراد آباد میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت علمی و روحانی ماحول میں ہوئی ۔ آپ بے حد ذہین تھے، آپ کے چہرے سے ہی ذہانت و فطانت کے آثار نظر آتے تھے ۔ یہی وجہ ہےکہ مولوی احمد حسن امروہوی شاگرد خاص مولوی قاسم نانوتوی نے آپ کی ذہانت سے متاثر ہو کر از خود آپ کو اپنے مدرسہ میں داخل کر لیا ۔ تذکرۃ الکرام میں مرقوم ہے کہ مولوی احمد حسن آپ کو "علامہ با یزید" کے لقب سے پکارتے تھے، اور آپ کی شاگردی پر فخر کرتے ۔ مگر آپ اپنے استاذ کے عقائد سے قطعی متاثر نہ ہوئے، بلکہ علی الاعلان استاد کے عقائد و نظریات کی تردید کرتے تھے ۔ یہ آپ کے جد اعلیٰ حضرت شیخ جان محمد خاں قادری بلخی خلیفہ امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہما کا فیض و اثر تھا، کہ وہابیہ میں رہ کر چھوٹی سی عمر میں ان سے متأثر نہ ہوئے، اور اپنے عقائد و نظریات پر نہ صرف قائم رہے بلکہ ان کے باطل عقائد کا رد بھی کرتے رہے ۔ جامع المعقولات حضرت مولانا لطف اللہ علی گڑھی اور حضرت مولانا انوار اللہ حیدر آبادی (مصنف انوار احمدی) سے بھی استفادہ کیا ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت:47)
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد گرامی حضرت شیخ المشائخ خواجہ محمد عباس علی خان علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت سے سرفراز کیے گئے، حضرت سید محمد معروف علی شاہ قادری حیدر آبادی نے بھی اجازت دی تھی ۔
اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنت ، امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه نے آپ کو خلافت و اجازت کا شرف عطا فرمایا ۔
آپ کی رفعتِ شان کی بدولت متعدد مشائخ نےآپ کو اجازت و خلافت کے شرف سے مشرف فرمایا ۔ (خلفائے اعلیٰ حضرت:127)
سیرت و خصائص:
صاحبِ جود و سخا، مجمع السلاسل، جامع فضائل و خصائص، بحرِ طریقت، حبرِ شریعت، امام العلماء، سید الاتقیاء، سند الاصفیاء، رئیس الحکماء، حامیِ دین مصطفیٰ ﷺ، ماحیِ اہل بدع والہواء، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، محبوبِ ربِ کونین حضرت مولانا خواجہ شاہ احمد حسین نقشبندی قادری امروہوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ایک جید عالم دین اور شیخِ طریقت تھے، اپنے خاندان کی علمی و روحانی امانتوں کے وارث اور اہلِ حق اہل سنت و جماعت کے سچے نقیب تھے ۔ بچپن میں ہی چہرے سے بزرگی و فطانت کے آثار نمایاں تھے۔مدرسے میں ہمیشہ نمایاں نمبروں سے کامیاب ہوتے رہے، بہت جلد علوم نقلیہ و عقلیہ میں مہارت حاصل کرلی، اور دینِ متین کے فروغ و ترقی کے لئے کوشاں ہو گئے ۔
حضرت مولانا شاہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ علم تقویٰ کی بدولت بہت جلد عوام و خواص میں بہت مقبول ہو گئے ۔ آپ قابل رشک شخصیت کے مالک تھے ۔ احقاق حق اور ابطال باطل آپ کی زندگی کا ایک اہم مقصد تھا ۔ اس کے لئے کسی کی رو رعایت کے قائل نہیں تھے۔اسی وجہ سے علماء و مشائخِ اہل سنت کی عقیدتوں کا محور تھے ۔
اعلیٰ حضرت سے محبت:
اعلیٰ حضرت امام اہل سنت سے خصوصی محبت تھی ۔ مجدد وقت کی زیارت کے لئے 24 / رمضان المبارک 1331ھ، مطابق اگست / 1913ء کو بارگاہ اعلیٰ حضرت میں پہنچے ۔ مغرب کا وقت تھا، اعلیٰ حضرت کی اقتداء میں نماز ادا کی، امام اہلسنت کی نگاہ لطف و عنایت سلام پھیرتے ہی آپ پر پڑی، اعلیٰ حضرت نے سلام پھیرتے ہی اپنے سر کا عمامہ اتار کر آپ کو مرحمت فرمایا، اور " تاج الفیوض " کے نام سے فی البدیہہ تاریخ فرما کر عزت بخشی ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا خواجہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: شیخ المشائخ، امام العلماء ۔ والد کااسم گرامی: شیخ المشائخ حضرت خواجہ حافظ محمد عباس علی خان علیہ الرحمہ۔
آپ کا سلسلۂ نسب بہ واسطہ حضرت مولانا سید شاہ فخرالدین احمد، حضرت حکیم بادشاہ الہ آبادی، و مولانا سید محمد عاشق ، ومولانا شاہ ابو الحسن نصیر آبادی، و مولانا مراد اللہ تھانیسری ، ومولانا نعیم اللہ بہرائچی ،حضرت مرزا جان جاناں تک پہنچتاہے ۔ یہ وہی مولانا نعیم اللہ ہیں جن کو حضرت مرزا صاحب نے مکتوبات شریف دے کر فرمایا تھا: "لو امانت حضرت مجدد علیہ الرحمہ آپ کو تفویض کر دی گئی ہے، یہ تمام خزانوں سے بڑا خزانہ ہے" ۔ (جواہر مجددیہ:7) ۔
اسی طرح آپ کےخاندان کےایک اوربزرگ حضرت شیخ جان محمد خان قادری بلخی علیہ الرحمہ حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کے خلیفہ تھے ۔ یہ خاندان صاحب تقویٰ و طہارت ، علمی و روحانی دولت سے مالا مال، اور بالخصوص حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کی روحانی و علمی امانتوں کا حامل خاندان ہے ۔ اس خاندان میں بڑے بڑے صوفیاء کرام گزرے ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 24 شعبان المعظم 1289ھ، مطابق آخر ماہ اکتوبر /1872ء کو " امروہہ " ضلع مراد آباد میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت علمی و روحانی ماحول میں ہوئی ۔ آپ بے حد ذہین تھے، آپ کے چہرے سے ہی ذہانت و فطانت کے آثار نظر آتے تھے ۔ یہی وجہ ہےکہ مولوی احمد حسن امروہوی شاگرد خاص مولوی قاسم نانوتوی نے آپ کی ذہانت سے متاثر ہو کر از خود آپ کو اپنے مدرسہ میں داخل کر لیا ۔ تذکرۃ الکرام میں مرقوم ہے کہ مولوی احمد حسن آپ کو "علامہ با یزید" کے لقب سے پکارتے تھے، اور آپ کی شاگردی پر فخر کرتے ۔ مگر آپ اپنے استاذ کے عقائد سے قطعی متاثر نہ ہوئے، بلکہ علی الاعلان استاد کے عقائد و نظریات کی تردید کرتے تھے ۔ یہ آپ کے جد اعلیٰ حضرت شیخ جان محمد خاں قادری بلخی خلیفہ امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہما کا فیض و اثر تھا، کہ وہابیہ میں رہ کر چھوٹی سی عمر میں ان سے متأثر نہ ہوئے، اور اپنے عقائد و نظریات پر نہ صرف قائم رہے بلکہ ان کے باطل عقائد کا رد بھی کرتے رہے ۔ جامع المعقولات حضرت مولانا لطف اللہ علی گڑھی اور حضرت مولانا انوار اللہ حیدر آبادی (مصنف انوار احمدی) سے بھی استفادہ کیا ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت:47)
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد گرامی حضرت شیخ المشائخ خواجہ محمد عباس علی خان علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت سے سرفراز کیے گئے، حضرت سید محمد معروف علی شاہ قادری حیدر آبادی نے بھی اجازت دی تھی ۔
اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنت ، امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه نے آپ کو خلافت و اجازت کا شرف عطا فرمایا ۔
آپ کی رفعتِ شان کی بدولت متعدد مشائخ نےآپ کو اجازت و خلافت کے شرف سے مشرف فرمایا ۔ (خلفائے اعلیٰ حضرت:127)
سیرت و خصائص:
صاحبِ جود و سخا، مجمع السلاسل، جامع فضائل و خصائص، بحرِ طریقت، حبرِ شریعت، امام العلماء، سید الاتقیاء، سند الاصفیاء، رئیس الحکماء، حامیِ دین مصطفیٰ ﷺ، ماحیِ اہل بدع والہواء، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، محبوبِ ربِ کونین حضرت مولانا خواجہ شاہ احمد حسین نقشبندی قادری امروہوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ایک جید عالم دین اور شیخِ طریقت تھے، اپنے خاندان کی علمی و روحانی امانتوں کے وارث اور اہلِ حق اہل سنت و جماعت کے سچے نقیب تھے ۔ بچپن میں ہی چہرے سے بزرگی و فطانت کے آثار نمایاں تھے۔مدرسے میں ہمیشہ نمایاں نمبروں سے کامیاب ہوتے رہے، بہت جلد علوم نقلیہ و عقلیہ میں مہارت حاصل کرلی، اور دینِ متین کے فروغ و ترقی کے لئے کوشاں ہو گئے ۔
حضرت مولانا شاہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ علم تقویٰ کی بدولت بہت جلد عوام و خواص میں بہت مقبول ہو گئے ۔ آپ قابل رشک شخصیت کے مالک تھے ۔ احقاق حق اور ابطال باطل آپ کی زندگی کا ایک اہم مقصد تھا ۔ اس کے لئے کسی کی رو رعایت کے قائل نہیں تھے۔اسی وجہ سے علماء و مشائخِ اہل سنت کی عقیدتوں کا محور تھے ۔
اعلیٰ حضرت سے محبت:
اعلیٰ حضرت امام اہل سنت سے خصوصی محبت تھی ۔ مجدد وقت کی زیارت کے لئے 24 / رمضان المبارک 1331ھ، مطابق اگست / 1913ء کو بارگاہ اعلیٰ حضرت میں پہنچے ۔ مغرب کا وقت تھا، اعلیٰ حضرت کی اقتداء میں نماز ادا کی، امام اہلسنت کی نگاہ لطف و عنایت سلام پھیرتے ہی آپ پر پڑی، اعلیٰ حضرت نے سلام پھیرتے ہی اپنے سر کا عمامہ اتار کر آپ کو مرحمت فرمایا، اور " تاج الفیوض " کے نام سے فی البدیہہ تاریخ فرما کر عزت بخشی ۔