🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مشہور عاشق رسول ﷺ، عماد الدین و نور الدین، حضرت سیدنا ملا عبد الرحمن جامی نقشبندی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 23 شعبان 817ھ کو موضع خرجرد، علاقہ جام، صوبہ غور، افغانستان میں ہوئی۔ آپ امام اعظم کے شاگرد رشید امام محمد بن حسن شیبانی کی اولاد سے ہیں۔ آپ محب صحابۂ کرام و اہلبیت عظام، حافظ قرآن، عالم دین، خاتم الشعراء، مؤرخ، مصنف کتب اور سلسلہ نقشبندیہ کے شیخ طریقت ہیں۔ بہارستان و رسائل جامی، نفحات الانس، شرح ملا جامی اور شواہد النبوۃ وغیرہ آپ کی بہترین کتب ہیں۔ 18 محرم الحرام 898ھ بوقت آذان جمعہ وصال فرمایا۔ مزار مبارک ہرات، افغانستان میں دعاؤں کی قبولیت کا مقام ہے۔ (نفحات الانس)

Ardent devotee of the Beloved Prophet ﷺ, Imad al-Deen, Noor al-Deen, Mulla Abdur Rahman Jaami Naqshbandi (Alayhir Rahmah) was born on 23 Sha’ban 817 AH in Kharjerd, the area of Jaam, Ghor province, Afghanistan. He is the offspring of Imam Muhammad bin Hasan al-Shaybani, the famous disciple of Imam al-Azam Abu Hanifah. He was a Hafiz of Qur’an, Islamic scholar, leader of poets, historian, author of books, and spiritual guide of the Naqshbandiyah Sufi order. Baharestan wa Rasa’il Jami, Nafhaat al-Uns, Sharh Mulla Jaami, Shawahid an-Nubuwwah, etc., are among his remarkable books. He passed away on Friday, 18th Muharram-ul-Haraam 898 AH at the time of the Adhan of Jumu’ah. His blessed resting place situated in Herat, Afghanistan, is a place of the acceptance of prayers. [Nafhaat al-Uns]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0fk76xnPCjr5cikJkGgPHviANVSQ34LDwZFn1LFBNwJEW7VTcTogEVc8k6vAriWpgl&id=100050689590519
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سیدنا قاسم بن محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہما

نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت قاسم رضی اللہ عنہ ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاسم بن محمد بن سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہم ۔ آپ امیر المؤمنین خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پوتے تھے ۔

حضرت زین العابدین، حضرت سالم اور حضرت قاسم تینوں خالہ زاد بھائی ہیں:
خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد مبارک میں شاہِ فارس " یزد جرد " کی تین بیٹیاں مالِ غنیمت میں آئیں ۔ جن میں سے شہر بانو، حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عقد میں آئیں، جن سے حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے ۔ دوسری حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجیت میں آئیں، جن سے حضرت سالم رضی اللہ عنہ متولد ہوئے ۔ اور تیسری حضرت محمد بن ابو بکر صدیق کے نکاح میں آئیں، جن سے حضرت قاسم نے جنم لیا ۔ اس طرح حضرت زین العابدین، حضرت سالم اور حضرت قاسم تینوں خالہ زاد بھائی ہیں ۔

ولادت:
حضرت قاسم کی ولادت 23 شعبان 24ھ کو ہوئی۔

سیرت و خصائص:
حضرت قاسم اپنے وقت کی بے نظیر ہستی اور امام الوقت تھے ۔ فقیہ بے مثل، عالم بے بدل اور کثیر الحدیث تھے ۔چھوٹی عمر میں ہی داغِ یتیمی لے کر اپنی پھوپھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آغوشِ شفقت میں آ گئے ۔ آپ نے علمِ باطن کا اکتساب حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا اور یوں اپنے جدّ امجد حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی باطنی نعمت اُن کے وسیلہ سے حاصل کی ۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پرورش اور حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت نے سونے پر سہاگے کا کام کیا ۔ نتیجتاً آپ تابعین کبار اور فقہائے سبعہ میں سے ہوئے ۔ زہد و عبادت، تقویٰ و طہارت میں اپنی مثل آپ تھے ۔

یحییٰ بن سعید انصاری فرماتے ہیں:
" کہ ہم نے مدینہ منورہ میں کسی شخص کو بھی ایسا نہیں پایا جسے حضرت قاسم پر فضیلت دے سکیں " ۔

ایوب سختیانی کا بیان ہے:
"کہ میں نے کسی کو بھی حضرت قاسم سے افضل نہیں دیکھا " ۔

حضرت امام بخاری کا قول ہے:
" آپ اپنے زمانہ میں سب سے افضل تھے"۔

ابو الزناد کا قول ہے:
کہ " اُن سے بڑھ کر کسی کو سنّت کا عالمِ باعمل نہیں پایا اور نہ کسی فقیہ کو آپ سے زیادہ اعلم دیکھا " ۔

حضرت عمر بن عبد العزیز فرماتے ہیں:
" کہ اگر امرِ خلافت میرے اختیار میں ہوتا تو میں حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیتا " ۔

ابنِ اسحاق کا بیان ہے:
کہ " میں نے حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے دیکھا ۔ ایک اعرابی آیا، اُس نے آپ سے پوچھا کہ آپ اور سالم میں کون زیادہ عالم ہے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا: سبحان اللہ! اعرابی (صحرانشین) نے پھر وہی سوال کیا، آپ نے فرمایا: سالم وہ ہیں اُن سے پوچھ لے ۔ ابن اسحاق نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ حضرت قاسم نے اپنے آپ کو اَعلم (زیادہ علم والا) کہنا پسند نہ کیا کیونکہ یہ تزکیۂ نفس ہے اور یہ بھی نہ کہا کہ سالم ۔ اعلم ہیں کیونکہ یہ جھوٹ ہے ۔

خاندانِ نبوت سے رشتے داری:
حضرت سیدنا قاسم بن محمد بن صدیق اکبر رضی اللہ عنہم کی خاندانِ اہلِ بیت سے قریبی رشتے داری ہے ۔ حضرت قاسم کے والد محمد بن صدیق اکبر اور حضرت سید الشہداء امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ ہم زلف ہیں ۔

اس لحاظ سے حضرت سیدنا قاسم اور حضرت سیدنا امام زین العابدین خالہ زاد بھائی ہوئے ۔
1
حضرت امام جعفر صادق کا نسب:
حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی حضرت سیدنا ام فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہے ۔ جبکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد گرامی کا اسم مبارک حضرت سیدنا امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن حسین بن علی المرتضٰی شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہے ۔

یوں آپ رضی اللہ تعالیٰ والدہ کی طرف سے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور والدہ کی طرف سے حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے جا ملتے ہیں ۔ یعنی آپ والدہ کی طرف سے " صدیقی " اور والد کی طرف سے " علوی و فاطمی " ہیں ۔ اپنے آپ کو امام جعفر صادق کی نسبت سے " جعفری " کہلانے والے، اور دن رات خلفاء راشدین پر تبراء کرنے والے، صرف ان کی آپس میں رشتے داریاں دیکھ لیں ۔ جو حسینی ساداتِ کرام ہیں، خاندانِ صدیقِ اکبر ان کا ننھیال ہے ۔

مزید تفصیل کے لئے فقیر کا مضمون " حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اہلِ بیت سے رشتے داری " مفید رہےگا ۔ (تونسوی غفرلہ) ۔

حضرتِ قاسم اور امام جعفر صادق:
حضرت قاسم رضی اللہ عنہ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے نانا جان ہیں ۔

وصال:
جب آپ کی رحلت کا وقت قریب آیا تو آپ نے وصیت فرمائی کہ مجھے اُن کپڑوں میں کفنانا جن کپڑوں مِیں مَیں نماز پڑھا کرتا تھا ۔ یعنی قمیض، تہبند اور چادر ۔ آپ کے صاحبزادے نے عرض کیا: ابا جان! کیا ہم دو کپڑے اور زیادہ کر دیں؟ ارشاد فرمایا: جانِ پدر! حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کفن بھی تین کپڑوں پر مشتمل تھا ۔ مردے کی نسبت زندہ کو نئے کپڑوں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔ آپ کی رحلت مکہ و مدینہ کے درمیان " قدید " میں ہوئی اور وہاں سے تین میل دور " مثلّل " میں آخری آرام گاہ بنی ۔

تاریخِ وصال:
جدید تحقیق کے مطابق آپ نے 81 سال کی عمر میں 24 جمادی الثانی 108ھ مطابق ستمبر 726ء کو رحلت فرمائی ۔

ماخذ و مراجع:
تاریخ مشائخِ نقشبند ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qasim-bin-muhammad-bin-abu-bakr-siddiq
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👌1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-08-1445 ᴴ | 04-03-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-08-1445 ᴴ | 05-03-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-08-1445 ᴴ | 05-03-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-08-1445 ᴴ | 05-03-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1