برادر قائد ملت اسلامیہ حضرت مولانا حامد صدیقی ربانی میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ!
منگل ، ۲۳؍ شعبان المعظّم ۱۴۳۷ھ مطابق ۳۱؍ مئی ۲۰۱۶ء کی صبح، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں مُحدّث بریلوی کے جلیل القدر خلیفہ مبلغِ اعظم حضرت علّامہ شاہ محمد عبد العلیم صدّیقی میرٹھی مدنی کے فرزندِ ارجمند اور قائدِ ملّتِ اسلامیّہ حضرت امام شاہ احمد نورانی صدّیقی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم) کے برادر یعنی نذرِ فرید حضرت مولانا حامد ربّانی صدّیقی میرٹھی مدنی طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال فرما گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ!
مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لئے انجمن ضیائے طیبہ کے دفتر میں فاتحہ خوانی کی گئی۔
اُسی شام بعدِ نمازِ مغرب، قائدِ ملّتِ اسلامیّہ حضرت علّامہ مولانا شاہ احمد نورانی علیہ الرحمۃ کے دولت کدے ’’بیت الرضوان‘‘ واقع کہکشاں، کلفٹن (کراچی) پر،علمائے کرام سمیت مُتعدّد اہم شخصیات کے علاوہ، بے شمار محبّین و مخلصین نے نمازِ جنازہ میں شرکت کا شرف حاصل کیا۔ انجمن ضیائے طیبہ کا وفد بھی بیت الرضوان پہنچ کر، آخری دیدار سے فیض یاب ہوا؛نیز، شریکِ نمازِ جنازہ بھی ہوا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ اپنے حبیبِ پاک صاحبِ لولاک حضرت محمد مصطفیٰ صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم کے طُفیل، مرحوم کی بخشش و مغفرت فرمائے! اعلیٰ علّیین اور جنّت الفردوس میں بلندیِ درجات سے نوازے اور آپ کے تمام لَوَاحقین ، مخلصین اور محبین کو صبرِ جمیل سے نوازے! آمین!
انجمن ضیائے طیبہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hamid-rabbani-siddiqui-meerthi
اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ!
منگل ، ۲۳؍ شعبان المعظّم ۱۴۳۷ھ مطابق ۳۱؍ مئی ۲۰۱۶ء کی صبح، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں مُحدّث بریلوی کے جلیل القدر خلیفہ مبلغِ اعظم حضرت علّامہ شاہ محمد عبد العلیم صدّیقی میرٹھی مدنی کے فرزندِ ارجمند اور قائدِ ملّتِ اسلامیّہ حضرت امام شاہ احمد نورانی صدّیقی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم) کے برادر یعنی نذرِ فرید حضرت مولانا حامد ربّانی صدّیقی میرٹھی مدنی طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال فرما گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ!
مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لئے انجمن ضیائے طیبہ کے دفتر میں فاتحہ خوانی کی گئی۔
اُسی شام بعدِ نمازِ مغرب، قائدِ ملّتِ اسلامیّہ حضرت علّامہ مولانا شاہ احمد نورانی علیہ الرحمۃ کے دولت کدے ’’بیت الرضوان‘‘ واقع کہکشاں، کلفٹن (کراچی) پر،علمائے کرام سمیت مُتعدّد اہم شخصیات کے علاوہ، بے شمار محبّین و مخلصین نے نمازِ جنازہ میں شرکت کا شرف حاصل کیا۔ انجمن ضیائے طیبہ کا وفد بھی بیت الرضوان پہنچ کر، آخری دیدار سے فیض یاب ہوا؛نیز، شریکِ نمازِ جنازہ بھی ہوا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ اپنے حبیبِ پاک صاحبِ لولاک حضرت محمد مصطفیٰ صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم کے طُفیل، مرحوم کی بخشش و مغفرت فرمائے! اعلیٰ علّیین اور جنّت الفردوس میں بلندیِ درجات سے نوازے اور آپ کے تمام لَوَاحقین ، مخلصین اور محبین کو صبرِ جمیل سے نوازے! آمین!
انجمن ضیائے طیبہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hamid-rabbani-siddiqui-meerthi
scholars.pk
Hazrat Molana Hamid Rabbani Siddiqui Meerthi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مولانا عبد الرحمٰن جامی رحمۃ اللہ علیہ
خدا در انتظار حمد مانیست
محمد ﷺ چشم برراہ ثنا نیست
محمد ﷺ حامد حمد خدا بس
خدا مداح شان مصطفی بس
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبدالرحمن ۔ لقب: جامی ۔
والد کا اسمِ گرامی:
مولانا نظام الدین احمد دشتی بن شمس الدین محمد ۔
تاریخِ ولادت:
مولانا جامی موضع خرجرد علاقہ جام ، " ہرات" میں 23 شعبان 817ھ مطابق 2 نومبر 1414ء کو پیدا ہوئے ۔
بیعت:
حضرت خواجہ عبید اللہ احرار علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔
سیرتِ مبارکہ:
مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ ذوق لطیف کے مالک تھے ۔ فرماتے تھے کہ خامکار لوگ ہوا و ہوس کا نام عشق رکھ لیتے ہیں۔ ایسوں کا عشقِ حقیقی کے کوچے میں گزر نہیں۔سچا عاشق وہ ہے جس کے دل میں سوز و گداز ہو اور نفسانی خواہشات اور راحت و آرام سے کنارہ کش ہو اور آپ کے دل میں عشق حقیقی صحیح طور پر موجود تھا۔آپ صحیح معنوں میں درویش تھے اور تواضع ’فروتنی’ ترک ریا’نفس کشی اور خلوص عقیدت آپ کے حرکات و سکنات اور قول و فعل سے نمایاں تھا ـ
آپ شریعت کے احکام کی بجا آوری میں اکمل تھے اور ان فضائل و اصاف سے آراستہ تھے’ جو مشائخ صوفیہ کے لیے اپنے پیروؤں کو تعلیم دینے کے لیے ضروری ہے’ مگر آپ میں ظاہر داری اور نمود و ریا کی آلائش بالکل نہیں تھی۔ آپ کے پاس جو آکر بیٹھتا’ آپ اس کے ساتھ برابر بیٹھے رہتے اور نہ اٹھتے جب تک وہ خود نہ اٹھ جاتا۔ طویل نشست سے آپ بیمار بھی ہوگئے مگر اپنی اس شریفانہ عادت کو ترک نہ فرمایا ۔
آپ کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ سب سے نیچے بیٹھیں’ اور ممکن ہوتا تو دہلیز پر بیٹھتے اور کم درجے کے آدمیوں کے ساتھ کھانے میں شریک ہوجاتے۔ زیادہ رغبت آپ کو بے تکلف کھانوں کی تھی ۔
آپ کی عادت زیادہ بولنےکی نہ تھی ۔ حاضرین سے کہتے کہ دوستو! کوئی بات کرو۔میرے پاس تو کرنے کو کوئی بات نہیں۔ مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ ضعیفوں کے دستگیر اور مظلموں کے مددگار تھے اگر واقعی کسی کو محتاج کو پاتے تو خفیہ طور سے اس کی مدد کرتے ۔ آپ نے شہر ہرات میں ایک مدرسہ، خیابان میں مدرسہ اور خانقاہ ،اور "جام" میں مسجد تعمیر کی اور کئی املاک مدرسہ خیابان پر وقف کیے ۔
آپ یہ کہنا اخلاص سے بعید جانتے تھے کہ میں نے یہ کام فی سبیل اللہ کیا ہے۔ آپ بڑے لوگوں اور بالخصوص بادشاہوں کی خوشامد اور چاپلوسی سے متنفر تھے، بلکہ انہیں ہمیشہ نیکو کار رہنے کی تلقین بذریعہ مکتوبات کرتے رہتے تھے چنانچہ ایک خط میں بادشاہ وقت کی مخاطت کر کے لکھتے ہیں کہ:
اے بادشاہ! تو جس تاج و تخت کا دلدادہ ہے وہ ناپائدار ہے۔ یہ زندگی فنا ہونے والی ہے ۔ نہ یہ زمانہ رہے گانہ یہ زمین جہاں تک ہوسکے دنیا میں نیکی کرلے ’کیونکہ یہی کام آنے والی شے ہے ۔
وصال:
مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ اس دنیائے فانی میں 81 برس گزار کر 18 محرم 898 ھ ، بمطابق 14 نومبر 1492ءکو بروز جمعہ وقت اذان راہی عالم بقا ہوئے ۔
مزار شریف:
آپ کا مزار ہرات افغانستان میں ہے ۔
ماخذ و مراجع: مقدمہ نفحات الانس ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdur-rehman-jami
خدا در انتظار حمد مانیست
محمد ﷺ چشم برراہ ثنا نیست
محمد ﷺ حامد حمد خدا بس
خدا مداح شان مصطفی بس
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبدالرحمن ۔ لقب: جامی ۔
والد کا اسمِ گرامی:
مولانا نظام الدین احمد دشتی بن شمس الدین محمد ۔
تاریخِ ولادت:
مولانا جامی موضع خرجرد علاقہ جام ، " ہرات" میں 23 شعبان 817ھ مطابق 2 نومبر 1414ء کو پیدا ہوئے ۔
بیعت:
حضرت خواجہ عبید اللہ احرار علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔
سیرتِ مبارکہ:
مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ ذوق لطیف کے مالک تھے ۔ فرماتے تھے کہ خامکار لوگ ہوا و ہوس کا نام عشق رکھ لیتے ہیں۔ ایسوں کا عشقِ حقیقی کے کوچے میں گزر نہیں۔سچا عاشق وہ ہے جس کے دل میں سوز و گداز ہو اور نفسانی خواہشات اور راحت و آرام سے کنارہ کش ہو اور آپ کے دل میں عشق حقیقی صحیح طور پر موجود تھا۔آپ صحیح معنوں میں درویش تھے اور تواضع ’فروتنی’ ترک ریا’نفس کشی اور خلوص عقیدت آپ کے حرکات و سکنات اور قول و فعل سے نمایاں تھا ـ
آپ شریعت کے احکام کی بجا آوری میں اکمل تھے اور ان فضائل و اصاف سے آراستہ تھے’ جو مشائخ صوفیہ کے لیے اپنے پیروؤں کو تعلیم دینے کے لیے ضروری ہے’ مگر آپ میں ظاہر داری اور نمود و ریا کی آلائش بالکل نہیں تھی۔ آپ کے پاس جو آکر بیٹھتا’ آپ اس کے ساتھ برابر بیٹھے رہتے اور نہ اٹھتے جب تک وہ خود نہ اٹھ جاتا۔ طویل نشست سے آپ بیمار بھی ہوگئے مگر اپنی اس شریفانہ عادت کو ترک نہ فرمایا ۔
آپ کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ سب سے نیچے بیٹھیں’ اور ممکن ہوتا تو دہلیز پر بیٹھتے اور کم درجے کے آدمیوں کے ساتھ کھانے میں شریک ہوجاتے۔ زیادہ رغبت آپ کو بے تکلف کھانوں کی تھی ۔
آپ کی عادت زیادہ بولنےکی نہ تھی ۔ حاضرین سے کہتے کہ دوستو! کوئی بات کرو۔میرے پاس تو کرنے کو کوئی بات نہیں۔ مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ ضعیفوں کے دستگیر اور مظلموں کے مددگار تھے اگر واقعی کسی کو محتاج کو پاتے تو خفیہ طور سے اس کی مدد کرتے ۔ آپ نے شہر ہرات میں ایک مدرسہ، خیابان میں مدرسہ اور خانقاہ ،اور "جام" میں مسجد تعمیر کی اور کئی املاک مدرسہ خیابان پر وقف کیے ۔
آپ یہ کہنا اخلاص سے بعید جانتے تھے کہ میں نے یہ کام فی سبیل اللہ کیا ہے۔ آپ بڑے لوگوں اور بالخصوص بادشاہوں کی خوشامد اور چاپلوسی سے متنفر تھے، بلکہ انہیں ہمیشہ نیکو کار رہنے کی تلقین بذریعہ مکتوبات کرتے رہتے تھے چنانچہ ایک خط میں بادشاہ وقت کی مخاطت کر کے لکھتے ہیں کہ:
اے بادشاہ! تو جس تاج و تخت کا دلدادہ ہے وہ ناپائدار ہے۔ یہ زندگی فنا ہونے والی ہے ۔ نہ یہ زمانہ رہے گانہ یہ زمین جہاں تک ہوسکے دنیا میں نیکی کرلے ’کیونکہ یہی کام آنے والی شے ہے ۔
وصال:
مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ اس دنیائے فانی میں 81 برس گزار کر 18 محرم 898 ھ ، بمطابق 14 نومبر 1492ءکو بروز جمعہ وقت اذان راہی عالم بقا ہوئے ۔
مزار شریف:
آپ کا مزار ہرات افغانستان میں ہے ۔
ماخذ و مراجع: مقدمہ نفحات الانس ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdur-rehman-jami
scholars.pk
Hazrat Abdur Rehman Jami
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
مشہور عاشق رسول ﷺ، عماد الدین و نور الدین، حضرت سیدنا ملا عبد الرحمن جامی نقشبندی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 23 شعبان 817ھ کو موضع خرجرد، علاقہ جام، صوبہ غور، افغانستان میں ہوئی۔ آپ امام اعظم کے شاگرد رشید امام محمد بن حسن شیبانی کی اولاد سے ہیں۔ آپ محب صحابۂ کرام و اہلبیت عظام، حافظ قرآن، عالم دین، خاتم الشعراء، مؤرخ، مصنف کتب اور سلسلہ نقشبندیہ کے شیخ طریقت ہیں۔ بہارستان و رسائل جامی، نفحات الانس، شرح ملا جامی اور شواہد النبوۃ وغیرہ آپ کی بہترین کتب ہیں۔ 18 محرم الحرام 898ھ بوقت آذان جمعہ وصال فرمایا۔ مزار مبارک ہرات، افغانستان میں دعاؤں کی قبولیت کا مقام ہے۔ (نفحات الانس)
Ardent devotee of the Beloved Prophet ﷺ, Imad al-Deen, Noor al-Deen, Mulla Abdur Rahman Jaami Naqshbandi (Alayhir Rahmah) was born on 23 Sha’ban 817 AH in Kharjerd, the area of Jaam, Ghor province, Afghanistan. He is the offspring of Imam Muhammad bin Hasan al-Shaybani, the famous disciple of Imam al-Azam Abu Hanifah. He was a Hafiz of Qur’an, Islamic scholar, leader of poets, historian, author of books, and spiritual guide of the Naqshbandiyah Sufi order. Baharestan wa Rasa’il Jami, Nafhaat al-Uns, Sharh Mulla Jaami, Shawahid an-Nubuwwah, etc., are among his remarkable books. He passed away on Friday, 18th Muharram-ul-Haraam 898 AH at the time of the Adhan of Jumu’ah. His blessed resting place situated in Herat, Afghanistan, is a place of the acceptance of prayers. [Nafhaat al-Uns]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0fk76xnPCjr5cikJkGgPHviANVSQ34LDwZFn1LFBNwJEW7VTcTogEVc8k6vAriWpgl&id=100050689590519
Ardent devotee of the Beloved Prophet ﷺ, Imad al-Deen, Noor al-Deen, Mulla Abdur Rahman Jaami Naqshbandi (Alayhir Rahmah) was born on 23 Sha’ban 817 AH in Kharjerd, the area of Jaam, Ghor province, Afghanistan. He is the offspring of Imam Muhammad bin Hasan al-Shaybani, the famous disciple of Imam al-Azam Abu Hanifah. He was a Hafiz of Qur’an, Islamic scholar, leader of poets, historian, author of books, and spiritual guide of the Naqshbandiyah Sufi order. Baharestan wa Rasa’il Jami, Nafhaat al-Uns, Sharh Mulla Jaami, Shawahid an-Nubuwwah, etc., are among his remarkable books. He passed away on Friday, 18th Muharram-ul-Haraam 898 AH at the time of the Adhan of Jumu’ah. His blessed resting place situated in Herat, Afghanistan, is a place of the acceptance of prayers. [Nafhaat al-Uns]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0fk76xnPCjr5cikJkGgPHviANVSQ34LDwZFn1LFBNwJEW7VTcTogEVc8k6vAriWpgl&id=100050689590519
❤1
حضرت سیدنا قاسم بن محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہما
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت قاسم رضی اللہ عنہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاسم بن محمد بن سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہم ۔ آپ امیر المؤمنین خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پوتے تھے ۔
حضرت زین العابدین، حضرت سالم اور حضرت قاسم تینوں خالہ زاد بھائی ہیں:
خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد مبارک میں شاہِ فارس " یزد جرد " کی تین بیٹیاں مالِ غنیمت میں آئیں ۔ جن میں سے شہر بانو، حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عقد میں آئیں، جن سے حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے ۔ دوسری حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجیت میں آئیں، جن سے حضرت سالم رضی اللہ عنہ متولد ہوئے ۔ اور تیسری حضرت محمد بن ابو بکر صدیق کے نکاح میں آئیں، جن سے حضرت قاسم نے جنم لیا ۔ اس طرح حضرت زین العابدین، حضرت سالم اور حضرت قاسم تینوں خالہ زاد بھائی ہیں ۔
ولادت:
حضرت قاسم کی ولادت 23 شعبان 24ھ کو ہوئی۔
سیرت و خصائص:
حضرت قاسم اپنے وقت کی بے نظیر ہستی اور امام الوقت تھے ۔ فقیہ بے مثل، عالم بے بدل اور کثیر الحدیث تھے ۔چھوٹی عمر میں ہی داغِ یتیمی لے کر اپنی پھوپھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آغوشِ شفقت میں آ گئے ۔ آپ نے علمِ باطن کا اکتساب حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا اور یوں اپنے جدّ امجد حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی باطنی نعمت اُن کے وسیلہ سے حاصل کی ۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پرورش اور حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت نے سونے پر سہاگے کا کام کیا ۔ نتیجتاً آپ تابعین کبار اور فقہائے سبعہ میں سے ہوئے ۔ زہد و عبادت، تقویٰ و طہارت میں اپنی مثل آپ تھے ۔
یحییٰ بن سعید انصاری فرماتے ہیں:
" کہ ہم نے مدینہ منورہ میں کسی شخص کو بھی ایسا نہیں پایا جسے حضرت قاسم پر فضیلت دے سکیں " ۔
ایوب سختیانی کا بیان ہے:
"کہ میں نے کسی کو بھی حضرت قاسم سے افضل نہیں دیکھا " ۔
حضرت امام بخاری کا قول ہے:
" آپ اپنے زمانہ میں سب سے افضل تھے"۔
ابو الزناد کا قول ہے:
کہ " اُن سے بڑھ کر کسی کو سنّت کا عالمِ باعمل نہیں پایا اور نہ کسی فقیہ کو آپ سے زیادہ اعلم دیکھا " ۔
حضرت عمر بن عبد العزیز فرماتے ہیں:
" کہ اگر امرِ خلافت میرے اختیار میں ہوتا تو میں حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیتا " ۔
ابنِ اسحاق کا بیان ہے:
کہ " میں نے حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے دیکھا ۔ ایک اعرابی آیا، اُس نے آپ سے پوچھا کہ آپ اور سالم میں کون زیادہ عالم ہے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا: سبحان اللہ! اعرابی (صحرانشین) نے پھر وہی سوال کیا، آپ نے فرمایا: سالم وہ ہیں اُن سے پوچھ لے ۔ ابن اسحاق نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ حضرت قاسم نے اپنے آپ کو اَعلم (زیادہ علم والا) کہنا پسند نہ کیا کیونکہ یہ تزکیۂ نفس ہے اور یہ بھی نہ کہا کہ سالم ۔ اعلم ہیں کیونکہ یہ جھوٹ ہے ۔
خاندانِ نبوت سے رشتے داری:
حضرت سیدنا قاسم بن محمد بن صدیق اکبر رضی اللہ عنہم کی خاندانِ اہلِ بیت سے قریبی رشتے داری ہے ۔ حضرت قاسم کے والد محمد بن صدیق اکبر اور حضرت سید الشہداء امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ ہم زلف ہیں ۔
اس لحاظ سے حضرت سیدنا قاسم اور حضرت سیدنا امام زین العابدین خالہ زاد بھائی ہوئے ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت قاسم رضی اللہ عنہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاسم بن محمد بن سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہم ۔ آپ امیر المؤمنین خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پوتے تھے ۔
حضرت زین العابدین، حضرت سالم اور حضرت قاسم تینوں خالہ زاد بھائی ہیں:
خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد مبارک میں شاہِ فارس " یزد جرد " کی تین بیٹیاں مالِ غنیمت میں آئیں ۔ جن میں سے شہر بانو، حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عقد میں آئیں، جن سے حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے ۔ دوسری حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجیت میں آئیں، جن سے حضرت سالم رضی اللہ عنہ متولد ہوئے ۔ اور تیسری حضرت محمد بن ابو بکر صدیق کے نکاح میں آئیں، جن سے حضرت قاسم نے جنم لیا ۔ اس طرح حضرت زین العابدین، حضرت سالم اور حضرت قاسم تینوں خالہ زاد بھائی ہیں ۔
ولادت:
حضرت قاسم کی ولادت 23 شعبان 24ھ کو ہوئی۔
سیرت و خصائص:
حضرت قاسم اپنے وقت کی بے نظیر ہستی اور امام الوقت تھے ۔ فقیہ بے مثل، عالم بے بدل اور کثیر الحدیث تھے ۔چھوٹی عمر میں ہی داغِ یتیمی لے کر اپنی پھوپھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آغوشِ شفقت میں آ گئے ۔ آپ نے علمِ باطن کا اکتساب حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا اور یوں اپنے جدّ امجد حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی باطنی نعمت اُن کے وسیلہ سے حاصل کی ۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پرورش اور حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت نے سونے پر سہاگے کا کام کیا ۔ نتیجتاً آپ تابعین کبار اور فقہائے سبعہ میں سے ہوئے ۔ زہد و عبادت، تقویٰ و طہارت میں اپنی مثل آپ تھے ۔
یحییٰ بن سعید انصاری فرماتے ہیں:
" کہ ہم نے مدینہ منورہ میں کسی شخص کو بھی ایسا نہیں پایا جسے حضرت قاسم پر فضیلت دے سکیں " ۔
ایوب سختیانی کا بیان ہے:
"کہ میں نے کسی کو بھی حضرت قاسم سے افضل نہیں دیکھا " ۔
حضرت امام بخاری کا قول ہے:
" آپ اپنے زمانہ میں سب سے افضل تھے"۔
ابو الزناد کا قول ہے:
کہ " اُن سے بڑھ کر کسی کو سنّت کا عالمِ باعمل نہیں پایا اور نہ کسی فقیہ کو آپ سے زیادہ اعلم دیکھا " ۔
حضرت عمر بن عبد العزیز فرماتے ہیں:
" کہ اگر امرِ خلافت میرے اختیار میں ہوتا تو میں حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیتا " ۔
ابنِ اسحاق کا بیان ہے:
کہ " میں نے حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے دیکھا ۔ ایک اعرابی آیا، اُس نے آپ سے پوچھا کہ آپ اور سالم میں کون زیادہ عالم ہے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا: سبحان اللہ! اعرابی (صحرانشین) نے پھر وہی سوال کیا، آپ نے فرمایا: سالم وہ ہیں اُن سے پوچھ لے ۔ ابن اسحاق نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ حضرت قاسم نے اپنے آپ کو اَعلم (زیادہ علم والا) کہنا پسند نہ کیا کیونکہ یہ تزکیۂ نفس ہے اور یہ بھی نہ کہا کہ سالم ۔ اعلم ہیں کیونکہ یہ جھوٹ ہے ۔
خاندانِ نبوت سے رشتے داری:
حضرت سیدنا قاسم بن محمد بن صدیق اکبر رضی اللہ عنہم کی خاندانِ اہلِ بیت سے قریبی رشتے داری ہے ۔ حضرت قاسم کے والد محمد بن صدیق اکبر اور حضرت سید الشہداء امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ ہم زلف ہیں ۔
اس لحاظ سے حضرت سیدنا قاسم اور حضرت سیدنا امام زین العابدین خالہ زاد بھائی ہوئے ۔
❤1
حضرت امام جعفر صادق کا نسب:
حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی حضرت سیدنا ام فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہے ۔ جبکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد گرامی کا اسم مبارک حضرت سیدنا امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن حسین بن علی المرتضٰی شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہے ۔
یوں آپ رضی اللہ تعالیٰ والدہ کی طرف سے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور والدہ کی طرف سے حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے جا ملتے ہیں ۔ یعنی آپ والدہ کی طرف سے " صدیقی " اور والد کی طرف سے " علوی و فاطمی " ہیں ۔ اپنے آپ کو امام جعفر صادق کی نسبت سے " جعفری " کہلانے والے، اور دن رات خلفاء راشدین پر تبراء کرنے والے، صرف ان کی آپس میں رشتے داریاں دیکھ لیں ۔ جو حسینی ساداتِ کرام ہیں، خاندانِ صدیقِ اکبر ان کا ننھیال ہے ۔
مزید تفصیل کے لئے فقیر کا مضمون " حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اہلِ بیت سے رشتے داری " مفید رہےگا ۔ (تونسوی غفرلہ) ۔
حضرتِ قاسم اور امام جعفر صادق:
حضرت قاسم رضی اللہ عنہ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے نانا جان ہیں ۔
وصال:
جب آپ کی رحلت کا وقت قریب آیا تو آپ نے وصیت فرمائی کہ مجھے اُن کپڑوں میں کفنانا جن کپڑوں مِیں مَیں نماز پڑھا کرتا تھا ۔ یعنی قمیض، تہبند اور چادر ۔ آپ کے صاحبزادے نے عرض کیا: ابا جان! کیا ہم دو کپڑے اور زیادہ کر دیں؟ ارشاد فرمایا: جانِ پدر! حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کفن بھی تین کپڑوں پر مشتمل تھا ۔ مردے کی نسبت زندہ کو نئے کپڑوں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔ آپ کی رحلت مکہ و مدینہ کے درمیان " قدید " میں ہوئی اور وہاں سے تین میل دور " مثلّل " میں آخری آرام گاہ بنی ۔
تاریخِ وصال:
جدید تحقیق کے مطابق آپ نے 81 سال کی عمر میں 24 جمادی الثانی 108ھ مطابق ستمبر 726ء کو رحلت فرمائی ۔
ماخذ و مراجع:
تاریخ مشائخِ نقشبند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qasim-bin-muhammad-bin-abu-bakr-siddiq
حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی حضرت سیدنا ام فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہے ۔ جبکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد گرامی کا اسم مبارک حضرت سیدنا امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن حسین بن علی المرتضٰی شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہے ۔
یوں آپ رضی اللہ تعالیٰ والدہ کی طرف سے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور والدہ کی طرف سے حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے جا ملتے ہیں ۔ یعنی آپ والدہ کی طرف سے " صدیقی " اور والد کی طرف سے " علوی و فاطمی " ہیں ۔ اپنے آپ کو امام جعفر صادق کی نسبت سے " جعفری " کہلانے والے، اور دن رات خلفاء راشدین پر تبراء کرنے والے، صرف ان کی آپس میں رشتے داریاں دیکھ لیں ۔ جو حسینی ساداتِ کرام ہیں، خاندانِ صدیقِ اکبر ان کا ننھیال ہے ۔
مزید تفصیل کے لئے فقیر کا مضمون " حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اہلِ بیت سے رشتے داری " مفید رہےگا ۔ (تونسوی غفرلہ) ۔
حضرتِ قاسم اور امام جعفر صادق:
حضرت قاسم رضی اللہ عنہ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے نانا جان ہیں ۔
وصال:
جب آپ کی رحلت کا وقت قریب آیا تو آپ نے وصیت فرمائی کہ مجھے اُن کپڑوں میں کفنانا جن کپڑوں مِیں مَیں نماز پڑھا کرتا تھا ۔ یعنی قمیض، تہبند اور چادر ۔ آپ کے صاحبزادے نے عرض کیا: ابا جان! کیا ہم دو کپڑے اور زیادہ کر دیں؟ ارشاد فرمایا: جانِ پدر! حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کفن بھی تین کپڑوں پر مشتمل تھا ۔ مردے کی نسبت زندہ کو نئے کپڑوں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔ آپ کی رحلت مکہ و مدینہ کے درمیان " قدید " میں ہوئی اور وہاں سے تین میل دور " مثلّل " میں آخری آرام گاہ بنی ۔
تاریخِ وصال:
جدید تحقیق کے مطابق آپ نے 81 سال کی عمر میں 24 جمادی الثانی 108ھ مطابق ستمبر 726ء کو رحلت فرمائی ۔
ماخذ و مراجع:
تاریخ مشائخِ نقشبند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qasim-bin-muhammad-bin-abu-bakr-siddiq
scholars.pk
Hazrat Qasim Bin Muhammad Bin Abu Bakr Siddiq
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-08-1445 ᴴ | 04-03-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-08-1445 ᴴ | 05-03-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1