🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-08-1445 ᴴ | 04-03-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-08-1445 ᴴ | 04-03-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یو پی مدرسہ بورڈ سے منشی مولوی عالم کامل اور فاضل کی مارکشیٹ والے بیرونِ ممالک جائیں یا سینا میں بھرتی ہوں، نہیں آئےگی کوئی رُکاوٹ ـ
यू.पी. मदरसा बोर्ड से मुंशी मौलवी आ़लिम कामिल और फ़ाज़िल की मार्कशीट वाले विदेश जाएं या सेना में भर्ती हों, नहीं आएगी अड़चन.
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یو پی مدرسہ بورڈ سے منشی مولوی عالم کامل اور فاضل کی مارکشیٹ والے بیرونِ ممالک جائیں یا سینا میں بھرتی ہوں، نہیں آئےگی کوئی رُکاوٹ ـ
यू.पी. मदरसा बोर्ड से मुंशी मौलवी आ़लिम कामिल और फ़ाज़िल की मार्कशीट वाले विदेश जाएं या सेना में भर्ती हों, नहीं आएगी अड़चन.
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯1
حضرت مولانا غلام رسول کشمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت مولانا غلام رسول ، جنت نظیر وادی کشمیر کے ایک گاوٗ ں پر تاب پورہ ( قصبہ شوپیاں تحصیل کو لگام ) ضلع اسلام آباد ( اننت ناگ ) کے ایک معزز و متمول ’’بٹ ‘‘ خاندان میں ۱۹۳۵ء کو تولد ہوئے۔ آپ کے والد عبدالعزیز گاوٗ ں کے نمبر دار تھے ۔
تعلیم و تربیت :
اپنے علاقہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد ۱۹۴۸ ء میں مزید تعلیم حاصل کرنے کیلئے سفر اختیار کیا ۔ تبلیغی جماعت ‘‘ کے ظاہر کو دیکھ کر چھ ماہ اس کے ساتھ رہے جب باطن نظر آیا توالگ ہو گئے بلکہ متنفر ہو گئے ۔
۱۹۵۱ء میں پاکستان تشریف لائے، کراچی میں قاری احمد حسین فیروز پوری ثم گجراتی کی دل کش تقریروں اور روح پر ور نعتوں نے دل کو گرمایا ، عشق کو جگایا، قاری صاحب سے تعلق خاطر ہو گیا ، تبلیغی جماعت کے اثرات زائل ہو گئے۔ مولانا نے ابتدائی دینی کتابیں حضرت مولانا قاری مصلح الدین صدیقی سے پڑھیں پھر دار العلو م مظہریہ ( جامع مسجد آرام باغ کراچی ) میں مولانا مفتی عبد الحفیظ حقانی ( مفتی آگرہ ) سے اور علامہ خادم رسول ( تلمیذ حافظ الملت علامہ عبدالعزیز مراد آبادی شیخ الحدیث مدرسہ مصباح العلوم جامعہ اشرفیہ مبارکپور انڈیا) سے ایک سال پڑھا،
اس کے بعد ۱۹۵۴ء ، سے ۱۹۵۹ء تک تقریبا چھ سال دارالعلوم امجد یہ کراچی میں ممتاز اساتذہ سے پڑھتے پڑھتے آخر میں مدرسہ مخزن بحر العلوم کراچی میں تاج العلماء مفتی محمد عمر نعیمی سے دورہ حدیث کی تکمیل کی اور ۲۵، ذوالحجہ ۱۳۸۶ھ بمطابق ۱۷، اپریل ۱۹۶۶ء کو تاج العلماء کے صاحبزادے مولانا مفتی محمد اطہر نعیمی نے سند جاری فرمائی ۔
آپ کو محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ سردار احمد صاحب فیصل آبادی ( رحلت ۱۳۸۱ھ؍ ۱۹۶۱ئ) سے مشکوٰۃ شریف کے کچھ اسباق پڑھنے کا شرف بھی حاصل ہے۔
بیعت و خلافت :
آپ ۱۹۵۳ء میں حضرت مفتی اعظم ہند مولانا مصطفی رضا خان بریلوی سے غائبانہ بیعت ہوئے ، پھر ۱۹۶۲ء میں بریلی شریف حاضر ہو کر تجدید بیعت فرمائی ۔اسی وقت مفتی اعظم ہند نے اجازت و خلافت جاری فرمائی اور ۱۹۸۰ء میں احباب کے اصرار پر بیعت کا آغاز کیا۔
خانقاہ کی بنیاد:
آپ نے کورنگی نمبر ۵ کراچی میں ’’خانقاہ ایمانیہ قادریہ رضویہ ‘‘قائم کی، آخر میں ۱۹۹۳ء میں ’’دعوت ایمانیہ رضویہ ‘‘ کے نام سے ایک ٹرسٹ قائم ہوا، جس کے آپ چیئر مین ہوئے۔
عادات و خصائل :
مولانا نہایت خاموشی اور لگن کے ساتھ کراچی میں دین و مسلک کی خدمت کرتے رہے نام و نمود اور شہرت سے بچتے رہے ، دنیا کی ہوس کو دل سے دور رکھا ، مجاہد انہ اور فقیر انہ زندگی بسر کی۔ معمولات کی محفلوں کے علاوہ گھر گھر محفلوں میں شریک ہوئے ، مسلک اہل سنت و جماعت کی حقانیت کو اجاگر کیا، عقیدوں کو سنبھالا ، گمراہی سے بچایا۔ آپ ایک شعلہ بیان مقرر اور حق گو خطیب تھے۔ امام احمد رضا خان بریلوی ؒ اور آپ کے مسلک مستقیم سے مولانا کو والہانہ لگاوٗ تھا، زندگی بھر اسی مسلک کی اشاعت کرتے رہے، آپ علماء اہل سنت کو بہت پسند فرماتے تھے اور ملاقات کے وقت انہیں تحفہ ضرور نذر کرتے تھے۔
خطابت و امامت :
۱۹۵۷ء سے تادم وصال امامت و خطابت سے وابستہ رہے ۔ غوثیہ مسجد لیاقت آباد ، تاج مسجد وغیرہ ۔
سفر حرمین شریفین :
۱۴۰۷ھ ؍ ۱۹۸۷ء کو آپ زیارت روضہ رسول اکرم ﷺ اور حج بیت اللہ کی سعادت سے سر فراز ہوئے ۔
شادی و اولاد :
آپ نے خاندان سے باہر شادی کی اس میں سے ایک بیٹا اورایک بیٹی تولد ہائے۔
وصال :
بروز بدھ ۲۳ ، شعبان المعظم ۱۴۱۵ھ؍ ۲۵، جنوری ۱۹۹۵ء کی شام اچانک آپ کو درد قلب کی شکایت ہوئی اور ہم سے جدا ہو گئے ۔ وصال کے وقت عمر ۶۳ سال تھی ۔ آپ کی نماز جنازہ دوسرے روز صبح ۱۰ بج کر ۵۰ منٹ پر جامع مسجد بسم اللہ لانڈھی نمبر ۶ کراچی سے متصل مرکزی شاہراہ پر علامہ سید شاہ تراب الحق قادری کی امامت میں ادا کی گئی ۔ کراچی کے ناگفتہ نہ حالات اور اس روز خوف و دہشت کے باوجود عوام الناس جوق شریک ہوئے، جلوس جنازہ دیدنی تھا، کورنگی کراچی کے قبرستان میں آپ کو سپرد خاک کیا گیا۔
آپ کے وصال کے بعد اتفاق رائے سے آپ کے جواں سال خلیفہ مولانا زاہد سراج قادری کو آپ کا جانشین نا مزد کیا گیا۔ ( ماخوذ: کتابچہ ماہ حق مطبوعہ دعوت ایمانیہ رضویہ کورنگی کراچی ۱۹۹۵ء )
حضرت صابر براری نے قطعہ تاریخ وصال استخراج فرمایا وہ درج ذیل ہے:
چل دیئے آج سوئے خلد بریں
اہل سنت کے واعظ مقبول
تھے وہ شیدائی اعلیٰ حضرت کے
دوستی کی نہ دشمنوں سے قبول
کی ہے تبلیغ دیں میں عمر بسر
کبھی چھوڑے نہیں ہیں اپنے اصول
سال رحلت ہے ان کا یہ ’’صابر‘‘
شان اہل ارم غلام رسول
( ۱۹۹۵ء )
( انوارِ علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-ghulam-rasool-kashmiri
حضرت مولانا غلام رسول ، جنت نظیر وادی کشمیر کے ایک گاوٗ ں پر تاب پورہ ( قصبہ شوپیاں تحصیل کو لگام ) ضلع اسلام آباد ( اننت ناگ ) کے ایک معزز و متمول ’’بٹ ‘‘ خاندان میں ۱۹۳۵ء کو تولد ہوئے۔ آپ کے والد عبدالعزیز گاوٗ ں کے نمبر دار تھے ۔
تعلیم و تربیت :
اپنے علاقہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد ۱۹۴۸ ء میں مزید تعلیم حاصل کرنے کیلئے سفر اختیار کیا ۔ تبلیغی جماعت ‘‘ کے ظاہر کو دیکھ کر چھ ماہ اس کے ساتھ رہے جب باطن نظر آیا توالگ ہو گئے بلکہ متنفر ہو گئے ۔
۱۹۵۱ء میں پاکستان تشریف لائے، کراچی میں قاری احمد حسین فیروز پوری ثم گجراتی کی دل کش تقریروں اور روح پر ور نعتوں نے دل کو گرمایا ، عشق کو جگایا، قاری صاحب سے تعلق خاطر ہو گیا ، تبلیغی جماعت کے اثرات زائل ہو گئے۔ مولانا نے ابتدائی دینی کتابیں حضرت مولانا قاری مصلح الدین صدیقی سے پڑھیں پھر دار العلو م مظہریہ ( جامع مسجد آرام باغ کراچی ) میں مولانا مفتی عبد الحفیظ حقانی ( مفتی آگرہ ) سے اور علامہ خادم رسول ( تلمیذ حافظ الملت علامہ عبدالعزیز مراد آبادی شیخ الحدیث مدرسہ مصباح العلوم جامعہ اشرفیہ مبارکپور انڈیا) سے ایک سال پڑھا،
اس کے بعد ۱۹۵۴ء ، سے ۱۹۵۹ء تک تقریبا چھ سال دارالعلوم امجد یہ کراچی میں ممتاز اساتذہ سے پڑھتے پڑھتے آخر میں مدرسہ مخزن بحر العلوم کراچی میں تاج العلماء مفتی محمد عمر نعیمی سے دورہ حدیث کی تکمیل کی اور ۲۵، ذوالحجہ ۱۳۸۶ھ بمطابق ۱۷، اپریل ۱۹۶۶ء کو تاج العلماء کے صاحبزادے مولانا مفتی محمد اطہر نعیمی نے سند جاری فرمائی ۔
آپ کو محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ سردار احمد صاحب فیصل آبادی ( رحلت ۱۳۸۱ھ؍ ۱۹۶۱ئ) سے مشکوٰۃ شریف کے کچھ اسباق پڑھنے کا شرف بھی حاصل ہے۔
بیعت و خلافت :
آپ ۱۹۵۳ء میں حضرت مفتی اعظم ہند مولانا مصطفی رضا خان بریلوی سے غائبانہ بیعت ہوئے ، پھر ۱۹۶۲ء میں بریلی شریف حاضر ہو کر تجدید بیعت فرمائی ۔اسی وقت مفتی اعظم ہند نے اجازت و خلافت جاری فرمائی اور ۱۹۸۰ء میں احباب کے اصرار پر بیعت کا آغاز کیا۔
خانقاہ کی بنیاد:
آپ نے کورنگی نمبر ۵ کراچی میں ’’خانقاہ ایمانیہ قادریہ رضویہ ‘‘قائم کی، آخر میں ۱۹۹۳ء میں ’’دعوت ایمانیہ رضویہ ‘‘ کے نام سے ایک ٹرسٹ قائم ہوا، جس کے آپ چیئر مین ہوئے۔
عادات و خصائل :
مولانا نہایت خاموشی اور لگن کے ساتھ کراچی میں دین و مسلک کی خدمت کرتے رہے نام و نمود اور شہرت سے بچتے رہے ، دنیا کی ہوس کو دل سے دور رکھا ، مجاہد انہ اور فقیر انہ زندگی بسر کی۔ معمولات کی محفلوں کے علاوہ گھر گھر محفلوں میں شریک ہوئے ، مسلک اہل سنت و جماعت کی حقانیت کو اجاگر کیا، عقیدوں کو سنبھالا ، گمراہی سے بچایا۔ آپ ایک شعلہ بیان مقرر اور حق گو خطیب تھے۔ امام احمد رضا خان بریلوی ؒ اور آپ کے مسلک مستقیم سے مولانا کو والہانہ لگاوٗ تھا، زندگی بھر اسی مسلک کی اشاعت کرتے رہے، آپ علماء اہل سنت کو بہت پسند فرماتے تھے اور ملاقات کے وقت انہیں تحفہ ضرور نذر کرتے تھے۔
خطابت و امامت :
۱۹۵۷ء سے تادم وصال امامت و خطابت سے وابستہ رہے ۔ غوثیہ مسجد لیاقت آباد ، تاج مسجد وغیرہ ۔
سفر حرمین شریفین :
۱۴۰۷ھ ؍ ۱۹۸۷ء کو آپ زیارت روضہ رسول اکرم ﷺ اور حج بیت اللہ کی سعادت سے سر فراز ہوئے ۔
شادی و اولاد :
آپ نے خاندان سے باہر شادی کی اس میں سے ایک بیٹا اورایک بیٹی تولد ہائے۔
وصال :
بروز بدھ ۲۳ ، شعبان المعظم ۱۴۱۵ھ؍ ۲۵، جنوری ۱۹۹۵ء کی شام اچانک آپ کو درد قلب کی شکایت ہوئی اور ہم سے جدا ہو گئے ۔ وصال کے وقت عمر ۶۳ سال تھی ۔ آپ کی نماز جنازہ دوسرے روز صبح ۱۰ بج کر ۵۰ منٹ پر جامع مسجد بسم اللہ لانڈھی نمبر ۶ کراچی سے متصل مرکزی شاہراہ پر علامہ سید شاہ تراب الحق قادری کی امامت میں ادا کی گئی ۔ کراچی کے ناگفتہ نہ حالات اور اس روز خوف و دہشت کے باوجود عوام الناس جوق شریک ہوئے، جلوس جنازہ دیدنی تھا، کورنگی کراچی کے قبرستان میں آپ کو سپرد خاک کیا گیا۔
آپ کے وصال کے بعد اتفاق رائے سے آپ کے جواں سال خلیفہ مولانا زاہد سراج قادری کو آپ کا جانشین نا مزد کیا گیا۔ ( ماخوذ: کتابچہ ماہ حق مطبوعہ دعوت ایمانیہ رضویہ کورنگی کراچی ۱۹۹۵ء )
حضرت صابر براری نے قطعہ تاریخ وصال استخراج فرمایا وہ درج ذیل ہے:
چل دیئے آج سوئے خلد بریں
اہل سنت کے واعظ مقبول
تھے وہ شیدائی اعلیٰ حضرت کے
دوستی کی نہ دشمنوں سے قبول
کی ہے تبلیغ دیں میں عمر بسر
کبھی چھوڑے نہیں ہیں اپنے اصول
سال رحلت ہے ان کا یہ ’’صابر‘‘
شان اہل ارم غلام رسول
( ۱۹۹۵ء )
( انوارِ علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-ghulam-rasool-kashmiri
scholars.pk
Hazrat Molana Ghulam Rasool Kashmiri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شیخ رضا رفیقی کشمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
شیخ رضا بن محمد بن مصطفیٰ رفیقی:
ابو حمزہ کنیت تھی ـ
ولادت:
آپ کی ولادت ۱۲۰۵ھ میں پیدا ہوئے ـ
اپنے زمانہ کے فقیہ محدث، مفسر، فاضل، متدین، صالح، امین، صوفی، کثیرہ العبادۃ، جامع بین الشریعہ والطریقہ اور صاحبِ کرامات و مکاشفات تھے ۔
تعلیم:
اپنے باپ اور دونوں چچا اور نانا شیخ نعمت اللہ بن اشرف ٹوپیگر و کی صحبت حاصل کی اور ان سے فقہ وحدیث و تفسیر و کلام کو پڑھا اور ہر ایک علم میں کامل مکمل ہوئے ۔
کئی سال تک حدیث و فقہ اور اصول کا درس دیا ۔ تصوف و سلوک کو اپنے باپ سے اخذ کیا ۔ ہر ایک شخص کو خواہ بڑا ہوتا یا چھوٹا غنی ہوتا یا فقیر، پہلے سلام کرتے تھے، بڑے حلیم، رحیم، متوضع تھے ۔
وصال:
وفات آپ کی ماہ شعبان ۱۲۷۶ھ میں ہوئی ۔ ’’ قامع الشرک والبدعات ‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-raza-rafeeqi-kashmiri
شیخ رضا بن محمد بن مصطفیٰ رفیقی:
ابو حمزہ کنیت تھی ـ
ولادت:
آپ کی ولادت ۱۲۰۵ھ میں پیدا ہوئے ـ
اپنے زمانہ کے فقیہ محدث، مفسر، فاضل، متدین، صالح، امین، صوفی، کثیرہ العبادۃ، جامع بین الشریعہ والطریقہ اور صاحبِ کرامات و مکاشفات تھے ۔
تعلیم:
اپنے باپ اور دونوں چچا اور نانا شیخ نعمت اللہ بن اشرف ٹوپیگر و کی صحبت حاصل کی اور ان سے فقہ وحدیث و تفسیر و کلام کو پڑھا اور ہر ایک علم میں کامل مکمل ہوئے ۔
کئی سال تک حدیث و فقہ اور اصول کا درس دیا ۔ تصوف و سلوک کو اپنے باپ سے اخذ کیا ۔ ہر ایک شخص کو خواہ بڑا ہوتا یا چھوٹا غنی ہوتا یا فقیر، پہلے سلام کرتے تھے، بڑے حلیم، رحیم، متوضع تھے ۔
وصال:
وفات آپ کی ماہ شعبان ۱۲۷۶ھ میں ہوئی ۔ ’’ قامع الشرک والبدعات ‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-raza-rafeeqi-kashmiri
❤1
برادر قائد ملت اسلامیہ حضرت مولانا حامد صدیقی ربانی میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ!
منگل ، ۲۳؍ شعبان المعظّم ۱۴۳۷ھ مطابق ۳۱؍ مئی ۲۰۱۶ء کی صبح، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں مُحدّث بریلوی کے جلیل القدر خلیفہ مبلغِ اعظم حضرت علّامہ شاہ محمد عبد العلیم صدّیقی میرٹھی مدنی کے فرزندِ ارجمند اور قائدِ ملّتِ اسلامیّہ حضرت امام شاہ احمد نورانی صدّیقی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم) کے برادر یعنی نذرِ فرید حضرت مولانا حامد ربّانی صدّیقی میرٹھی مدنی طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال فرما گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ!
مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لئے انجمن ضیائے طیبہ کے دفتر میں فاتحہ خوانی کی گئی۔
اُسی شام بعدِ نمازِ مغرب، قائدِ ملّتِ اسلامیّہ حضرت علّامہ مولانا شاہ احمد نورانی علیہ الرحمۃ کے دولت کدے ’’بیت الرضوان‘‘ واقع کہکشاں، کلفٹن (کراچی) پر،علمائے کرام سمیت مُتعدّد اہم شخصیات کے علاوہ، بے شمار محبّین و مخلصین نے نمازِ جنازہ میں شرکت کا شرف حاصل کیا۔ انجمن ضیائے طیبہ کا وفد بھی بیت الرضوان پہنچ کر، آخری دیدار سے فیض یاب ہوا؛نیز، شریکِ نمازِ جنازہ بھی ہوا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ اپنے حبیبِ پاک صاحبِ لولاک حضرت محمد مصطفیٰ صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم کے طُفیل، مرحوم کی بخشش و مغفرت فرمائے! اعلیٰ علّیین اور جنّت الفردوس میں بلندیِ درجات سے نوازے اور آپ کے تمام لَوَاحقین ، مخلصین اور محبین کو صبرِ جمیل سے نوازے! آمین!
انجمن ضیائے طیبہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hamid-rabbani-siddiqui-meerthi
اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ!
منگل ، ۲۳؍ شعبان المعظّم ۱۴۳۷ھ مطابق ۳۱؍ مئی ۲۰۱۶ء کی صبح، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں مُحدّث بریلوی کے جلیل القدر خلیفہ مبلغِ اعظم حضرت علّامہ شاہ محمد عبد العلیم صدّیقی میرٹھی مدنی کے فرزندِ ارجمند اور قائدِ ملّتِ اسلامیّہ حضرت امام شاہ احمد نورانی صدّیقی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم) کے برادر یعنی نذرِ فرید حضرت مولانا حامد ربّانی صدّیقی میرٹھی مدنی طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال فرما گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ!
مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لئے انجمن ضیائے طیبہ کے دفتر میں فاتحہ خوانی کی گئی۔
اُسی شام بعدِ نمازِ مغرب، قائدِ ملّتِ اسلامیّہ حضرت علّامہ مولانا شاہ احمد نورانی علیہ الرحمۃ کے دولت کدے ’’بیت الرضوان‘‘ واقع کہکشاں، کلفٹن (کراچی) پر،علمائے کرام سمیت مُتعدّد اہم شخصیات کے علاوہ، بے شمار محبّین و مخلصین نے نمازِ جنازہ میں شرکت کا شرف حاصل کیا۔ انجمن ضیائے طیبہ کا وفد بھی بیت الرضوان پہنچ کر، آخری دیدار سے فیض یاب ہوا؛نیز، شریکِ نمازِ جنازہ بھی ہوا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ اپنے حبیبِ پاک صاحبِ لولاک حضرت محمد مصطفیٰ صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم کے طُفیل، مرحوم کی بخشش و مغفرت فرمائے! اعلیٰ علّیین اور جنّت الفردوس میں بلندیِ درجات سے نوازے اور آپ کے تمام لَوَاحقین ، مخلصین اور محبین کو صبرِ جمیل سے نوازے! آمین!
انجمن ضیائے طیبہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hamid-rabbani-siddiqui-meerthi
scholars.pk
Hazrat Molana Hamid Rabbani Siddiqui Meerthi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مولانا عبد الرحمٰن جامی رحمۃ اللہ علیہ
خدا در انتظار حمد مانیست
محمد ﷺ چشم برراہ ثنا نیست
محمد ﷺ حامد حمد خدا بس
خدا مداح شان مصطفی بس
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبدالرحمن ۔ لقب: جامی ۔
والد کا اسمِ گرامی:
مولانا نظام الدین احمد دشتی بن شمس الدین محمد ۔
تاریخِ ولادت:
مولانا جامی موضع خرجرد علاقہ جام ، " ہرات" میں 23 شعبان 817ھ مطابق 2 نومبر 1414ء کو پیدا ہوئے ۔
بیعت:
حضرت خواجہ عبید اللہ احرار علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔
سیرتِ مبارکہ:
مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ ذوق لطیف کے مالک تھے ۔ فرماتے تھے کہ خامکار لوگ ہوا و ہوس کا نام عشق رکھ لیتے ہیں۔ ایسوں کا عشقِ حقیقی کے کوچے میں گزر نہیں۔سچا عاشق وہ ہے جس کے دل میں سوز و گداز ہو اور نفسانی خواہشات اور راحت و آرام سے کنارہ کش ہو اور آپ کے دل میں عشق حقیقی صحیح طور پر موجود تھا۔آپ صحیح معنوں میں درویش تھے اور تواضع ’فروتنی’ ترک ریا’نفس کشی اور خلوص عقیدت آپ کے حرکات و سکنات اور قول و فعل سے نمایاں تھا ـ
آپ شریعت کے احکام کی بجا آوری میں اکمل تھے اور ان فضائل و اصاف سے آراستہ تھے’ جو مشائخ صوفیہ کے لیے اپنے پیروؤں کو تعلیم دینے کے لیے ضروری ہے’ مگر آپ میں ظاہر داری اور نمود و ریا کی آلائش بالکل نہیں تھی۔ آپ کے پاس جو آکر بیٹھتا’ آپ اس کے ساتھ برابر بیٹھے رہتے اور نہ اٹھتے جب تک وہ خود نہ اٹھ جاتا۔ طویل نشست سے آپ بیمار بھی ہوگئے مگر اپنی اس شریفانہ عادت کو ترک نہ فرمایا ۔
آپ کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ سب سے نیچے بیٹھیں’ اور ممکن ہوتا تو دہلیز پر بیٹھتے اور کم درجے کے آدمیوں کے ساتھ کھانے میں شریک ہوجاتے۔ زیادہ رغبت آپ کو بے تکلف کھانوں کی تھی ۔
آپ کی عادت زیادہ بولنےکی نہ تھی ۔ حاضرین سے کہتے کہ دوستو! کوئی بات کرو۔میرے پاس تو کرنے کو کوئی بات نہیں۔ مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ ضعیفوں کے دستگیر اور مظلموں کے مددگار تھے اگر واقعی کسی کو محتاج کو پاتے تو خفیہ طور سے اس کی مدد کرتے ۔ آپ نے شہر ہرات میں ایک مدرسہ، خیابان میں مدرسہ اور خانقاہ ،اور "جام" میں مسجد تعمیر کی اور کئی املاک مدرسہ خیابان پر وقف کیے ۔
آپ یہ کہنا اخلاص سے بعید جانتے تھے کہ میں نے یہ کام فی سبیل اللہ کیا ہے۔ آپ بڑے لوگوں اور بالخصوص بادشاہوں کی خوشامد اور چاپلوسی سے متنفر تھے، بلکہ انہیں ہمیشہ نیکو کار رہنے کی تلقین بذریعہ مکتوبات کرتے رہتے تھے چنانچہ ایک خط میں بادشاہ وقت کی مخاطت کر کے لکھتے ہیں کہ:
اے بادشاہ! تو جس تاج و تخت کا دلدادہ ہے وہ ناپائدار ہے۔ یہ زندگی فنا ہونے والی ہے ۔ نہ یہ زمانہ رہے گانہ یہ زمین جہاں تک ہوسکے دنیا میں نیکی کرلے ’کیونکہ یہی کام آنے والی شے ہے ۔
وصال:
مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ اس دنیائے فانی میں 81 برس گزار کر 18 محرم 898 ھ ، بمطابق 14 نومبر 1492ءکو بروز جمعہ وقت اذان راہی عالم بقا ہوئے ۔
مزار شریف:
آپ کا مزار ہرات افغانستان میں ہے ۔
ماخذ و مراجع: مقدمہ نفحات الانس ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdur-rehman-jami
خدا در انتظار حمد مانیست
محمد ﷺ چشم برراہ ثنا نیست
محمد ﷺ حامد حمد خدا بس
خدا مداح شان مصطفی بس
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبدالرحمن ۔ لقب: جامی ۔
والد کا اسمِ گرامی:
مولانا نظام الدین احمد دشتی بن شمس الدین محمد ۔
تاریخِ ولادت:
مولانا جامی موضع خرجرد علاقہ جام ، " ہرات" میں 23 شعبان 817ھ مطابق 2 نومبر 1414ء کو پیدا ہوئے ۔
بیعت:
حضرت خواجہ عبید اللہ احرار علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔
سیرتِ مبارکہ:
مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ ذوق لطیف کے مالک تھے ۔ فرماتے تھے کہ خامکار لوگ ہوا و ہوس کا نام عشق رکھ لیتے ہیں۔ ایسوں کا عشقِ حقیقی کے کوچے میں گزر نہیں۔سچا عاشق وہ ہے جس کے دل میں سوز و گداز ہو اور نفسانی خواہشات اور راحت و آرام سے کنارہ کش ہو اور آپ کے دل میں عشق حقیقی صحیح طور پر موجود تھا۔آپ صحیح معنوں میں درویش تھے اور تواضع ’فروتنی’ ترک ریا’نفس کشی اور خلوص عقیدت آپ کے حرکات و سکنات اور قول و فعل سے نمایاں تھا ـ
آپ شریعت کے احکام کی بجا آوری میں اکمل تھے اور ان فضائل و اصاف سے آراستہ تھے’ جو مشائخ صوفیہ کے لیے اپنے پیروؤں کو تعلیم دینے کے لیے ضروری ہے’ مگر آپ میں ظاہر داری اور نمود و ریا کی آلائش بالکل نہیں تھی۔ آپ کے پاس جو آکر بیٹھتا’ آپ اس کے ساتھ برابر بیٹھے رہتے اور نہ اٹھتے جب تک وہ خود نہ اٹھ جاتا۔ طویل نشست سے آپ بیمار بھی ہوگئے مگر اپنی اس شریفانہ عادت کو ترک نہ فرمایا ۔
آپ کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ سب سے نیچے بیٹھیں’ اور ممکن ہوتا تو دہلیز پر بیٹھتے اور کم درجے کے آدمیوں کے ساتھ کھانے میں شریک ہوجاتے۔ زیادہ رغبت آپ کو بے تکلف کھانوں کی تھی ۔
آپ کی عادت زیادہ بولنےکی نہ تھی ۔ حاضرین سے کہتے کہ دوستو! کوئی بات کرو۔میرے پاس تو کرنے کو کوئی بات نہیں۔ مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ ضعیفوں کے دستگیر اور مظلموں کے مددگار تھے اگر واقعی کسی کو محتاج کو پاتے تو خفیہ طور سے اس کی مدد کرتے ۔ آپ نے شہر ہرات میں ایک مدرسہ، خیابان میں مدرسہ اور خانقاہ ،اور "جام" میں مسجد تعمیر کی اور کئی املاک مدرسہ خیابان پر وقف کیے ۔
آپ یہ کہنا اخلاص سے بعید جانتے تھے کہ میں نے یہ کام فی سبیل اللہ کیا ہے۔ آپ بڑے لوگوں اور بالخصوص بادشاہوں کی خوشامد اور چاپلوسی سے متنفر تھے، بلکہ انہیں ہمیشہ نیکو کار رہنے کی تلقین بذریعہ مکتوبات کرتے رہتے تھے چنانچہ ایک خط میں بادشاہ وقت کی مخاطت کر کے لکھتے ہیں کہ:
اے بادشاہ! تو جس تاج و تخت کا دلدادہ ہے وہ ناپائدار ہے۔ یہ زندگی فنا ہونے والی ہے ۔ نہ یہ زمانہ رہے گانہ یہ زمین جہاں تک ہوسکے دنیا میں نیکی کرلے ’کیونکہ یہی کام آنے والی شے ہے ۔
وصال:
مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ اس دنیائے فانی میں 81 برس گزار کر 18 محرم 898 ھ ، بمطابق 14 نومبر 1492ءکو بروز جمعہ وقت اذان راہی عالم بقا ہوئے ۔
مزار شریف:
آپ کا مزار ہرات افغانستان میں ہے ۔
ماخذ و مراجع: مقدمہ نفحات الانس ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdur-rehman-jami
scholars.pk
Hazrat Abdur Rehman Jami
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
مشہور عاشق رسول ﷺ، عماد الدین و نور الدین، حضرت سیدنا ملا عبد الرحمن جامی نقشبندی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 23 شعبان 817ھ کو موضع خرجرد، علاقہ جام، صوبہ غور، افغانستان میں ہوئی۔ آپ امام اعظم کے شاگرد رشید امام محمد بن حسن شیبانی کی اولاد سے ہیں۔ آپ محب صحابۂ کرام و اہلبیت عظام، حافظ قرآن، عالم دین، خاتم الشعراء، مؤرخ، مصنف کتب اور سلسلہ نقشبندیہ کے شیخ طریقت ہیں۔ بہارستان و رسائل جامی، نفحات الانس، شرح ملا جامی اور شواہد النبوۃ وغیرہ آپ کی بہترین کتب ہیں۔ 18 محرم الحرام 898ھ بوقت آذان جمعہ وصال فرمایا۔ مزار مبارک ہرات، افغانستان میں دعاؤں کی قبولیت کا مقام ہے۔ (نفحات الانس)
Ardent devotee of the Beloved Prophet ﷺ, Imad al-Deen, Noor al-Deen, Mulla Abdur Rahman Jaami Naqshbandi (Alayhir Rahmah) was born on 23 Sha’ban 817 AH in Kharjerd, the area of Jaam, Ghor province, Afghanistan. He is the offspring of Imam Muhammad bin Hasan al-Shaybani, the famous disciple of Imam al-Azam Abu Hanifah. He was a Hafiz of Qur’an, Islamic scholar, leader of poets, historian, author of books, and spiritual guide of the Naqshbandiyah Sufi order. Baharestan wa Rasa’il Jami, Nafhaat al-Uns, Sharh Mulla Jaami, Shawahid an-Nubuwwah, etc., are among his remarkable books. He passed away on Friday, 18th Muharram-ul-Haraam 898 AH at the time of the Adhan of Jumu’ah. His blessed resting place situated in Herat, Afghanistan, is a place of the acceptance of prayers. [Nafhaat al-Uns]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0fk76xnPCjr5cikJkGgPHviANVSQ34LDwZFn1LFBNwJEW7VTcTogEVc8k6vAriWpgl&id=100050689590519
Ardent devotee of the Beloved Prophet ﷺ, Imad al-Deen, Noor al-Deen, Mulla Abdur Rahman Jaami Naqshbandi (Alayhir Rahmah) was born on 23 Sha’ban 817 AH in Kharjerd, the area of Jaam, Ghor province, Afghanistan. He is the offspring of Imam Muhammad bin Hasan al-Shaybani, the famous disciple of Imam al-Azam Abu Hanifah. He was a Hafiz of Qur’an, Islamic scholar, leader of poets, historian, author of books, and spiritual guide of the Naqshbandiyah Sufi order. Baharestan wa Rasa’il Jami, Nafhaat al-Uns, Sharh Mulla Jaami, Shawahid an-Nubuwwah, etc., are among his remarkable books. He passed away on Friday, 18th Muharram-ul-Haraam 898 AH at the time of the Adhan of Jumu’ah. His blessed resting place situated in Herat, Afghanistan, is a place of the acceptance of prayers. [Nafhaat al-Uns]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0fk76xnPCjr5cikJkGgPHviANVSQ34LDwZFn1LFBNwJEW7VTcTogEVc8k6vAriWpgl&id=100050689590519
❤1
حضرت سیدنا قاسم بن محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہما
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت قاسم رضی اللہ عنہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاسم بن محمد بن سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہم ۔ آپ امیر المؤمنین خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پوتے تھے ۔
حضرت زین العابدین، حضرت سالم اور حضرت قاسم تینوں خالہ زاد بھائی ہیں:
خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد مبارک میں شاہِ فارس " یزد جرد " کی تین بیٹیاں مالِ غنیمت میں آئیں ۔ جن میں سے شہر بانو، حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عقد میں آئیں، جن سے حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے ۔ دوسری حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجیت میں آئیں، جن سے حضرت سالم رضی اللہ عنہ متولد ہوئے ۔ اور تیسری حضرت محمد بن ابو بکر صدیق کے نکاح میں آئیں، جن سے حضرت قاسم نے جنم لیا ۔ اس طرح حضرت زین العابدین، حضرت سالم اور حضرت قاسم تینوں خالہ زاد بھائی ہیں ۔
ولادت:
حضرت قاسم کی ولادت 23 شعبان 24ھ کو ہوئی۔
سیرت و خصائص:
حضرت قاسم اپنے وقت کی بے نظیر ہستی اور امام الوقت تھے ۔ فقیہ بے مثل، عالم بے بدل اور کثیر الحدیث تھے ۔چھوٹی عمر میں ہی داغِ یتیمی لے کر اپنی پھوپھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آغوشِ شفقت میں آ گئے ۔ آپ نے علمِ باطن کا اکتساب حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا اور یوں اپنے جدّ امجد حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی باطنی نعمت اُن کے وسیلہ سے حاصل کی ۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پرورش اور حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت نے سونے پر سہاگے کا کام کیا ۔ نتیجتاً آپ تابعین کبار اور فقہائے سبعہ میں سے ہوئے ۔ زہد و عبادت، تقویٰ و طہارت میں اپنی مثل آپ تھے ۔
یحییٰ بن سعید انصاری فرماتے ہیں:
" کہ ہم نے مدینہ منورہ میں کسی شخص کو بھی ایسا نہیں پایا جسے حضرت قاسم پر فضیلت دے سکیں " ۔
ایوب سختیانی کا بیان ہے:
"کہ میں نے کسی کو بھی حضرت قاسم سے افضل نہیں دیکھا " ۔
حضرت امام بخاری کا قول ہے:
" آپ اپنے زمانہ میں سب سے افضل تھے"۔
ابو الزناد کا قول ہے:
کہ " اُن سے بڑھ کر کسی کو سنّت کا عالمِ باعمل نہیں پایا اور نہ کسی فقیہ کو آپ سے زیادہ اعلم دیکھا " ۔
حضرت عمر بن عبد العزیز فرماتے ہیں:
" کہ اگر امرِ خلافت میرے اختیار میں ہوتا تو میں حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیتا " ۔
ابنِ اسحاق کا بیان ہے:
کہ " میں نے حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے دیکھا ۔ ایک اعرابی آیا، اُس نے آپ سے پوچھا کہ آپ اور سالم میں کون زیادہ عالم ہے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا: سبحان اللہ! اعرابی (صحرانشین) نے پھر وہی سوال کیا، آپ نے فرمایا: سالم وہ ہیں اُن سے پوچھ لے ۔ ابن اسحاق نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ حضرت قاسم نے اپنے آپ کو اَعلم (زیادہ علم والا) کہنا پسند نہ کیا کیونکہ یہ تزکیۂ نفس ہے اور یہ بھی نہ کہا کہ سالم ۔ اعلم ہیں کیونکہ یہ جھوٹ ہے ۔
خاندانِ نبوت سے رشتے داری:
حضرت سیدنا قاسم بن محمد بن صدیق اکبر رضی اللہ عنہم کی خاندانِ اہلِ بیت سے قریبی رشتے داری ہے ۔ حضرت قاسم کے والد محمد بن صدیق اکبر اور حضرت سید الشہداء امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ ہم زلف ہیں ۔
اس لحاظ سے حضرت سیدنا قاسم اور حضرت سیدنا امام زین العابدین خالہ زاد بھائی ہوئے ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت قاسم رضی اللہ عنہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاسم بن محمد بن سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہم ۔ آپ امیر المؤمنین خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پوتے تھے ۔
حضرت زین العابدین، حضرت سالم اور حضرت قاسم تینوں خالہ زاد بھائی ہیں:
خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد مبارک میں شاہِ فارس " یزد جرد " کی تین بیٹیاں مالِ غنیمت میں آئیں ۔ جن میں سے شہر بانو، حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عقد میں آئیں، جن سے حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے ۔ دوسری حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجیت میں آئیں، جن سے حضرت سالم رضی اللہ عنہ متولد ہوئے ۔ اور تیسری حضرت محمد بن ابو بکر صدیق کے نکاح میں آئیں، جن سے حضرت قاسم نے جنم لیا ۔ اس طرح حضرت زین العابدین، حضرت سالم اور حضرت قاسم تینوں خالہ زاد بھائی ہیں ۔
ولادت:
حضرت قاسم کی ولادت 23 شعبان 24ھ کو ہوئی۔
سیرت و خصائص:
حضرت قاسم اپنے وقت کی بے نظیر ہستی اور امام الوقت تھے ۔ فقیہ بے مثل، عالم بے بدل اور کثیر الحدیث تھے ۔چھوٹی عمر میں ہی داغِ یتیمی لے کر اپنی پھوپھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آغوشِ شفقت میں آ گئے ۔ آپ نے علمِ باطن کا اکتساب حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا اور یوں اپنے جدّ امجد حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی باطنی نعمت اُن کے وسیلہ سے حاصل کی ۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پرورش اور حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت نے سونے پر سہاگے کا کام کیا ۔ نتیجتاً آپ تابعین کبار اور فقہائے سبعہ میں سے ہوئے ۔ زہد و عبادت، تقویٰ و طہارت میں اپنی مثل آپ تھے ۔
یحییٰ بن سعید انصاری فرماتے ہیں:
" کہ ہم نے مدینہ منورہ میں کسی شخص کو بھی ایسا نہیں پایا جسے حضرت قاسم پر فضیلت دے سکیں " ۔
ایوب سختیانی کا بیان ہے:
"کہ میں نے کسی کو بھی حضرت قاسم سے افضل نہیں دیکھا " ۔
حضرت امام بخاری کا قول ہے:
" آپ اپنے زمانہ میں سب سے افضل تھے"۔
ابو الزناد کا قول ہے:
کہ " اُن سے بڑھ کر کسی کو سنّت کا عالمِ باعمل نہیں پایا اور نہ کسی فقیہ کو آپ سے زیادہ اعلم دیکھا " ۔
حضرت عمر بن عبد العزیز فرماتے ہیں:
" کہ اگر امرِ خلافت میرے اختیار میں ہوتا تو میں حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیتا " ۔
ابنِ اسحاق کا بیان ہے:
کہ " میں نے حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے دیکھا ۔ ایک اعرابی آیا، اُس نے آپ سے پوچھا کہ آپ اور سالم میں کون زیادہ عالم ہے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا: سبحان اللہ! اعرابی (صحرانشین) نے پھر وہی سوال کیا، آپ نے فرمایا: سالم وہ ہیں اُن سے پوچھ لے ۔ ابن اسحاق نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ حضرت قاسم نے اپنے آپ کو اَعلم (زیادہ علم والا) کہنا پسند نہ کیا کیونکہ یہ تزکیۂ نفس ہے اور یہ بھی نہ کہا کہ سالم ۔ اعلم ہیں کیونکہ یہ جھوٹ ہے ۔
خاندانِ نبوت سے رشتے داری:
حضرت سیدنا قاسم بن محمد بن صدیق اکبر رضی اللہ عنہم کی خاندانِ اہلِ بیت سے قریبی رشتے داری ہے ۔ حضرت قاسم کے والد محمد بن صدیق اکبر اور حضرت سید الشہداء امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ ہم زلف ہیں ۔
اس لحاظ سے حضرت سیدنا قاسم اور حضرت سیدنا امام زین العابدین خالہ زاد بھائی ہوئے ۔
❤1