🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-08-1445 ᴴ | 03-03-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-08-1445 ᴴ | 03-03-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-08-1445 ᴴ | 03-03-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-08-1445 ᴴ | 03-03-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ کرانہ اسٹور کی زکوۃ کس طرح ادا کریں ـ ❷ بزرگوں کا اپنے مرشد کے دیدار کو حج کے برابر کہنا اور مرشد کو خانۂ کعبہ کہنا کیسا ہے ـ ❸ نابالغ کے پیسے باقیوں میں تقسیم کرنا ـ ❹ احرام پر احرام باندھ کر عمرہ ـ ❺ سیاسی امید واروں کے پوسٹرز استعمال کرنا ـ ❻ جمعہ کی پہلی اذان کے بعد کاروبار ـ ❼ سری نماز میں جہری قراءت ـ ❽ رات میں عبادت نیکوں کا طریقہ ـ ❾ حضرت داؤد علیہ السلام آدھی رات سوتے اور تہائی رات عبادت کرتے ـ ❿ ہمیں ہر سنی عالم سے پیار ہے ـ محمد جمال الدین خان قادری
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#سوال  #جواب  #مسئلہ  #فتوی
📇 #الرضا_قرآن_و_فقہ_اکیڈمی
3
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯2
حضرت خواجہ محمد مقتدی امکنگی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ کا اسم مبارک محمد مقتدی ہے ۔ آپ موضع امکنہ کے رہنے والے ہیں جو بخارا کے دیہات میں سے ایک گاؤں ہے ۔ اس گاؤں کی نسبت سے آپ کو امکنگی کہتے ہیں۔ آپ کی تربیتِ ظاہری و باطنی اپنے پدر بزرگوار حضرت خواجہ درویش محمد قدس سرہ سے ہے اور اپن ہی سے آپ کو خلافت ہے ۔

آپ حضرت خواجۂ خواجگان خواجہ سید بہاء الدین نقشبند قدس سرہ کے اصل طریقہ نقشبندیہ کی بڑی سختی سے پابندی فرماتے تھے اور اس طریقہ میں جو نئی باتیں بعض نقشبندی بزرگوں کی وجہ سے پیدا ہوگئی تھیں مثلاً ذکر بالجہر اور جماعتِ نمازِ تہجد وغیرہ، ان سے پرہیز کرتے تھے ۔ حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ کے بالکل قدم بقدم چلتے تھے۔ نہایت عابد و زاہد و صاحب کرامات و خوارق بزرگ تھے۔ اپنے حالات کے اخفاء کی بہت کوشش کرتے تھے۔ اپنے وقت میں طالبانِ طریقت کے مرجع تھے۔ تصرفِ باطنی کا یہ عالم تھا کہ علماء و فضلاء اور امرا و فقراء مستفید و مستفیض ہونے کے لیے آپ کی خدمتِ اقدس میں حاضری دیا کرتے تھے بلکہ ملوک و سلاطینِ وقت آپ کے آستانہ عالیہ کی خاک کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بناتے تھے۔ چنانچہ عبداللہ خان والئی توران آپ کا بہت معتقد و مرید تھا ۔

آپ نے تیس برس تک مسندِ خلافت و شیخیت کو رونق بخشی، اگرچہ بڑھاپے کی وجہ سےد ست مبارک میں رعشہ آگیا تھا مگر مہمانوں کی خدمت خود کرتے تھے خود ہی مہمانوں کے لیے کھانا لاتے بلکہ بسا اوقات اُن کے خادموں اور سواریوں کی بھی خود خبر گیری فرماتے تھے۔ آپ کی کشف و کرامات سورج سے زیادہ روشن ہیں ۔

کرامات:
۱۔ عبداللہ خان والئی توران نے خواب میں دیکھا کہ ایک عظیم الشان خیمہ کھڑا ہے ۔ جس میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں ۔ ایک بزرگ بارگاہ اقدس کے دروازے پر ہاتھ میں عصا لیے عرض بیگی (وہ شخص جو لوگوں کی درخواستیں بادشاہ یا کسی امیر کے حضور پیش کرے) کی خدمت بجا لا رہے ہیں اور خلائق کے معروضات حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہِ بیکس پناہ میں پیش کرکے جواب لا رہے ہیں چنانچہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس بزرگ کے ہاتھ ایک تلوار مجھے ارسال فرمائی اور انہوں نے آکر میری کمر میں لٹکا دی، اس کے بعد عبد اللہ خان کی آنکھ کھل گئی اور لوگوں کو اُس بزرگ کا حلیہ بتاکر تلاش شروع کر دی، اُس کے ایک مصاحب نے عرض کیا کہ اس حلیہ کے بزرگ حضرت خواجہ امکنگی رحمۃ اللہ علیہ ہیں ۔ بادشاہ یہ سن کر بہت خوش ہوا، اور بڑے شوق سے ہدایا و تحائف لے کر حاضر خدمت ہوا ۔ آپ کا حلیہ مبارک بعینہ ٖ وہی پایا جو خواب میں دیکھا تھا ۔ نہایت تواضع اور نیاز مندی سے نذرانہ قبول کرنے کی التماس کی مگر حضرت خواجہ قدس سرہ نے قبول نہ کیا اور فرمایا کہ فقر کی حلاوت و شیرینی، نامرادی اور قناعت میں ہے ۔ بادشاہ نے آیہ شریفہ اَطِیْعُو اللہَ وَاَطِیْعُو الرَّسُوْلَ وَ اُوْلِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ (سورۂ نساء ع۸) ـ

’’ حکم مانو اللہ اور اُس کے رسول کا اور اُن کا جو تم میں اختیار والے ہیں ‘‘ ۔

پیش کی، تب آپ نے مجبوراً قبول فرما لیا ۔ اس کے بادشاہ ہر روز صبح کے وقت نہایت عاجزی و انکساری کے ساتھ آپ کی قدمبوسی کے لیے حاضر ہوا کرتا تھا ۔

۲۔ پیر محمد خاں والئی ماوراء النہر نے پچاس ہزار سواروں کے ساتھ سمر قند پر چڑھائی کی حاکمِ سمر قند، باقی محمد خاں کے پاس صرف چودہ ہزار سوار و پیادہ تھے ۔ وہ بغرضِ استمداد حضرت خواجہ قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اس پر آپ نے پیر محمد خاں کے پاس تشریف لے جاکر اُسے نصیحت کی مگر وہ صلح و آشتی پر رضا مند نہ ہوا اور آپ خفا ہوکر واپس آگئے، پھر باقی محمد خاں سے فرمایا کہ اگر تو دل سے تائب ہوجائے کہ آئندہ خلقِ خدا پر کبھی ظلم و تشدد نہیں کرے گا اور عدل و انصاف سے حکومت کرے گا تو فتح و نصرت تیرے قدم چومےگی، باقی محمد خاں نے عہد کیا کہ میں آئندہ ظلم و تعدی نہ کروں گا ۔ اس پر آپ نے حکم دیا کہ جاؤ! جاکر حملہ کرو، ماوراء النہر کی سلطنت تجھے مبارک ہو ۔ یہ فرما کر دستِ شفقت اُس کی پیٹھ پر رکھا او راپنی تلوار مبارک اس کی کمر پر باندھ کر روانہ کیا ۔ اُس کے پیچھے پیچھے آپ بھی درویشوں کی ایک جماعت کے ساتھ روانہ ہوئے اور شہر کے کنارے پر ایک پرانی مسجد میں رو بقبلہ مراقب ہو بیٹھے ۔ اور بار بار سر اقدس اُٹھا کر پوچھتے تھے کہ کیا خبر ہے؟ دریں اثنا یہ خبر آئی کہ باقی محمد خاں نے فتح پائی اور پیر محمد خاں مارا گیا ہے ۔ اس پر آپ مراقبہ سے اُٹھ کر اپنی قیامگاہ پر تشریف لے آئے ۔

۳۔ آپ کا ایک مرید درویش بیان کرتا ہے کہ ایک رات آپ کہیں تشریف لے جا رہے تھے میں بھی دیگر خدام کے ساتھ ہمرکاب تھا ۔ میرے پاؤں ننگے تھے ۔ اتفاقاً ایک کانٹا چبھا جس سے میں بے قرار ہو گیا ۔ مجھے خیال آیا کہ اگر حضرت مجھ کو جوتا عنایت فرماتے تو کیا اچھا ہوتا، آپ نے اس خیال سے آگاہ ہوکر فرمایا:

’’اے بھائی! جب تک پاؤں میں کانٹا نہیں چبھتا، پھول ہاتھ نہیں آتا‘‘۔
1👍1👌1