حضرت علامہ مولانا محمد عالم آسی امرتسری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: علامہ مولانا محمد عالم آسی ۔ لقب: آسی ۔ امرتسر علاقے کی نسبت سے"امرتسری" کہلائے۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: حضرت علامہ محمد عالم امرتسری بن حضرت مولانا عبدا لحمید بن عارف باللہ مولانا غلام احمد علیہم الرحمہ والرضوان۔آپ کاخاندان علم وفضل اور زہدوتقویٰ کی بدولت مرجع الخلائق تھا۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 8 شعبان المعظم 1298ھ / مطابق ماہ جولائی 1881ء کو موضع راگھو سیدن ضلع گوجرانولہ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم کے بعد لاہور کے دار العلوم نعمانیہ کے اساتذہ حضرت مولانا غلام احمد صدر المدرسین،حضرت مولانا ابو الفیض محمد حسن فیضی، حضرت مولانا غلام محمد بگوی، مولانا مفتی عبید اللہ ٹونکی، مفتی اعظم پنجاب حضرت علامہ مولانا غلام قادر بھیروی سے علوم متعارفہ کی تحصیل کی۔ پنجاب یونیورسٹی کے امتحانات میں امتیازی نمبر حاصل کرکے وظیفہ کے مستحق قرار پائے۔ علم طب میں حکیم حاذق اور زبدۃ الحکماء کی سندیں حاصل کیں۔
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں حضرت شاہ عبد اللہ ابوالخیر مجددی سےبیعت ہوئے،اور کچھ عرصہ بعد شاہ صاحب نے آپ کو خلافت و اجازت سے مشرف فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
ادیب، اریب، فاضلِ جلیل، عالم نبیل، محقق، جامع علوم جدیدہ و قدیمہ، فاضل، حضرت علامہ مولانا محمد عالم آسی امرتسری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید اور کامل عالمِ دین تھے۔پورے ہندوستان میں آپ کا شہرہ تھا۔تحصیلِ علم سےفراغت کے بعد دار العلوم نعمانیہ کے صدر مدرس مقرر ہوئے، اس کے علاوہ لاہور کے چند مدارس میں پڑھایا،لاہور سے امر تسر پہنچے اور مدرسہ نصرۃ الحق میں ادب کے استاذ مقرر ہوئے۔مدرسہ نصرۃ الحق جب ایم ۔اے۔او۔کالج ہوا،توآپ عربی کے پروفیسر مقرر ہوگئے، اورپھر یہیں سے ریٹائرڈ ہوئے۔
اس وقت طلباء آپ سے شرف تلمذ کوسعادت خیال کرتے،اور اس پر فخر کرتےتھے۔آپ کےشاگردوں میں بڑی نامی گرامی شخصیات ہیں۔ تلامذہ میں حضرت صاحبزادہ محمد عمر صاحب پیربل شریف، ڈاکٹر محمد حسن،پی۔ایچ۔ڈی سابق شیخ الادب جامعہ اسلامیہ بہاول پور، علامہ غلام محمد ترنم،فخر الاطباء علامہ فقیر محمد چشتی نظامی امر تسری (والد حکیم محمد موسی امرتسری)، محقق عصر محسن اہل سنت مولانا حکیم محمد موسیٰ امرتسری علیہم الرحمہ۔مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری احراری،مفتی محمد حسن خلیفہ تھانوی ۔ آزادوں میں ڈاکٹر شیخ عنایت اللہ پروفیسر پنجاب یونیورسٹی،علامہ حکیم فیروز الدین طغرائی وغیرہ نامور ہوئے۔
تصنیفات:
آپ کی تصانیف میں "الکادیہ علی الغاویہ"(رد مرزائیت میں بزبان اردو مطبوع) (عربی غیر مطبوع) الجثجاث علی السلام فی الذب عن حریم الاسلام مرزائی مبلغ غلام رسول آف راجکی کے رد میں ،"المیلانی فی القرآن" اور رسائل صرف ونحو مشہور و معروف ہیں ۔
آپ کو اپنے مذہب ومسلک سے گہری وابستگی تھی،اخبار الفقیہ امرتسر کے خصوصی معاون تھے۔خطاطی میں بے مثل کمال حاصل تھا۔ خط نسخ میں آپ جیسا لکھنے والے لوگ کم ہوں گے۔عربی شعر ونثر کی تحریر پر آپ کو بے پناہ قدرت حاصل تھی۔علم وفن اور بالخصوص عربی ادب میں دور دور تک آپ کی نظیرنہ تھی۔ آپ نہایت نیک نفس، متقی، متورع وصوفی بزرگ تھے۔ سادگی، منکسر المزاجی، اور تواضع پسند تھے۔حسنِ اَخلاق کےمالک تھے۔پروفیسر تھے،لیکن اپنےطلباء کےذہن میں اسلامی تہذیب و ثقافت اور دین سےمحبت،اور اطاعتِ خدا و رسول ﷺ کا جذبہ بیدار کرتے تھے ۔
تاریخِ وصال:
28 شعبان المعظم 1363ھ / مطابق 18 اگست 1944ء بعد نماز جمعہ واصل باللہ ہوئے ۔ امرتسر کے مقامی قبرستان میں ابدی راحت فرما ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-muhammad-alam-aasi-amartasri
نام و نسب:
اسم گرامی: علامہ مولانا محمد عالم آسی ۔ لقب: آسی ۔ امرتسر علاقے کی نسبت سے"امرتسری" کہلائے۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: حضرت علامہ محمد عالم امرتسری بن حضرت مولانا عبدا لحمید بن عارف باللہ مولانا غلام احمد علیہم الرحمہ والرضوان۔آپ کاخاندان علم وفضل اور زہدوتقویٰ کی بدولت مرجع الخلائق تھا۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 8 شعبان المعظم 1298ھ / مطابق ماہ جولائی 1881ء کو موضع راگھو سیدن ضلع گوجرانولہ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم کے بعد لاہور کے دار العلوم نعمانیہ کے اساتذہ حضرت مولانا غلام احمد صدر المدرسین،حضرت مولانا ابو الفیض محمد حسن فیضی، حضرت مولانا غلام محمد بگوی، مولانا مفتی عبید اللہ ٹونکی، مفتی اعظم پنجاب حضرت علامہ مولانا غلام قادر بھیروی سے علوم متعارفہ کی تحصیل کی۔ پنجاب یونیورسٹی کے امتحانات میں امتیازی نمبر حاصل کرکے وظیفہ کے مستحق قرار پائے۔ علم طب میں حکیم حاذق اور زبدۃ الحکماء کی سندیں حاصل کیں۔
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں حضرت شاہ عبد اللہ ابوالخیر مجددی سےبیعت ہوئے،اور کچھ عرصہ بعد شاہ صاحب نے آپ کو خلافت و اجازت سے مشرف فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
ادیب، اریب، فاضلِ جلیل، عالم نبیل، محقق، جامع علوم جدیدہ و قدیمہ، فاضل، حضرت علامہ مولانا محمد عالم آسی امرتسری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید اور کامل عالمِ دین تھے۔پورے ہندوستان میں آپ کا شہرہ تھا۔تحصیلِ علم سےفراغت کے بعد دار العلوم نعمانیہ کے صدر مدرس مقرر ہوئے، اس کے علاوہ لاہور کے چند مدارس میں پڑھایا،لاہور سے امر تسر پہنچے اور مدرسہ نصرۃ الحق میں ادب کے استاذ مقرر ہوئے۔مدرسہ نصرۃ الحق جب ایم ۔اے۔او۔کالج ہوا،توآپ عربی کے پروفیسر مقرر ہوگئے، اورپھر یہیں سے ریٹائرڈ ہوئے۔
اس وقت طلباء آپ سے شرف تلمذ کوسعادت خیال کرتے،اور اس پر فخر کرتےتھے۔آپ کےشاگردوں میں بڑی نامی گرامی شخصیات ہیں۔ تلامذہ میں حضرت صاحبزادہ محمد عمر صاحب پیربل شریف، ڈاکٹر محمد حسن،پی۔ایچ۔ڈی سابق شیخ الادب جامعہ اسلامیہ بہاول پور، علامہ غلام محمد ترنم،فخر الاطباء علامہ فقیر محمد چشتی نظامی امر تسری (والد حکیم محمد موسی امرتسری)، محقق عصر محسن اہل سنت مولانا حکیم محمد موسیٰ امرتسری علیہم الرحمہ۔مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری احراری،مفتی محمد حسن خلیفہ تھانوی ۔ آزادوں میں ڈاکٹر شیخ عنایت اللہ پروفیسر پنجاب یونیورسٹی،علامہ حکیم فیروز الدین طغرائی وغیرہ نامور ہوئے۔
تصنیفات:
آپ کی تصانیف میں "الکادیہ علی الغاویہ"(رد مرزائیت میں بزبان اردو مطبوع) (عربی غیر مطبوع) الجثجاث علی السلام فی الذب عن حریم الاسلام مرزائی مبلغ غلام رسول آف راجکی کے رد میں ،"المیلانی فی القرآن" اور رسائل صرف ونحو مشہور و معروف ہیں ۔
آپ کو اپنے مذہب ومسلک سے گہری وابستگی تھی،اخبار الفقیہ امرتسر کے خصوصی معاون تھے۔خطاطی میں بے مثل کمال حاصل تھا۔ خط نسخ میں آپ جیسا لکھنے والے لوگ کم ہوں گے۔عربی شعر ونثر کی تحریر پر آپ کو بے پناہ قدرت حاصل تھی۔علم وفن اور بالخصوص عربی ادب میں دور دور تک آپ کی نظیرنہ تھی۔ آپ نہایت نیک نفس، متقی، متورع وصوفی بزرگ تھے۔ سادگی، منکسر المزاجی، اور تواضع پسند تھے۔حسنِ اَخلاق کےمالک تھے۔پروفیسر تھے،لیکن اپنےطلباء کےذہن میں اسلامی تہذیب و ثقافت اور دین سےمحبت،اور اطاعتِ خدا و رسول ﷺ کا جذبہ بیدار کرتے تھے ۔
تاریخِ وصال:
28 شعبان المعظم 1363ھ / مطابق 18 اگست 1944ء بعد نماز جمعہ واصل باللہ ہوئے ۔ امرتسر کے مقامی قبرستان میں ابدی راحت فرما ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-muhammad-alam-aasi-amartasri
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Muhammad Alam Aasi Amartasri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا رحیم بخش آروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آرہ، صوبہ بہار کے باشندے، جائے ولادت و سکونت ووفات س شہر آرہ میں ہے، علمائے رام پور، وسہارن پور سے درسیات پڑھی، حدیث کی چند کتابیں پھلواری شریف میں حضرت مولانا عبد الرحمٰن ناصری گنجی سےپڑھیں، یہیں مولانا سید سلیمان ندوی نے آپ سے درس لیا،اعلیٰ حضرت کا شہرہ سُن کر سہارن پور سے واپسی میں بریلی پہونچ کر مرید ہوئے، اور فاضل بریلوی کی فیض صحبت سے فیض یاب ہوکر وطن آئے اور مدرسہ حنفیہ میں مدرس ہوئے،مسائل واعتقاد میں اختلاف کے باعث جدید مدرسہ قائم کیا، فیض الغربا منام رکھا،آرہ کے مشہور شیخ طریقت حضرت شاہ محمد فرید الدین نے آپ سے تعاون فرمایا، تاحینِ حیات آپ اس کے صدر مدرس اور مہتمم رہے، آپ کو فاضلِ بریلوی سے اجازت وخلافت بھی حاصل تھی، مدرسہ فیض الغرباء کے طلبل کی دستار بندی کی، اکثر مجلسوں میں آپ کی دعوت پر فاضل بریلوی نے آرہ تشریف لےجاکر دستار باندھی، حضرت مولانا شاہ عبد الغفور علیہ الرحمۃ اور علامہ محمد ابراہیم آروی، اور حضرت مولانا ولی الرحمٰن پوکھریروی آپ کے مشہور تلامذہ ہیں، فقیہہ ومناظر بھی تھے، آپ کے شیخ کو آپ پر بے حد فخر تھا ـ
وصال:
۸ شعبان المعظم ۴۳، ۱۳۴۴ھ میں فوت ہوئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-rahim-bakhsh-arvi
آرہ، صوبہ بہار کے باشندے، جائے ولادت و سکونت ووفات س شہر آرہ میں ہے، علمائے رام پور، وسہارن پور سے درسیات پڑھی، حدیث کی چند کتابیں پھلواری شریف میں حضرت مولانا عبد الرحمٰن ناصری گنجی سےپڑھیں، یہیں مولانا سید سلیمان ندوی نے آپ سے درس لیا،اعلیٰ حضرت کا شہرہ سُن کر سہارن پور سے واپسی میں بریلی پہونچ کر مرید ہوئے، اور فاضل بریلوی کی فیض صحبت سے فیض یاب ہوکر وطن آئے اور مدرسہ حنفیہ میں مدرس ہوئے،مسائل واعتقاد میں اختلاف کے باعث جدید مدرسہ قائم کیا، فیض الغربا منام رکھا،آرہ کے مشہور شیخ طریقت حضرت شاہ محمد فرید الدین نے آپ سے تعاون فرمایا، تاحینِ حیات آپ اس کے صدر مدرس اور مہتمم رہے، آپ کو فاضلِ بریلوی سے اجازت وخلافت بھی حاصل تھی، مدرسہ فیض الغرباء کے طلبل کی دستار بندی کی، اکثر مجلسوں میں آپ کی دعوت پر فاضل بریلوی نے آرہ تشریف لےجاکر دستار باندھی، حضرت مولانا شاہ عبد الغفور علیہ الرحمۃ اور علامہ محمد ابراہیم آروی، اور حضرت مولانا ولی الرحمٰن پوکھریروی آپ کے مشہور تلامذہ ہیں، فقیہہ ومناظر بھی تھے، آپ کے شیخ کو آپ پر بے حد فخر تھا ـ
وصال:
۸ شعبان المعظم ۴۳، ۱۳۴۴ھ میں فوت ہوئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-rahim-bakhsh-arvi
scholars.pk
Hazrat Molana Rahim Bakhsh Arvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا رفعت علی قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
مولانا محمد رفعت علی قادری بن نظر علی قادری علی گڑھ (یو ۔ پی ، انڈیا) کو ۱۹۱۴ء میں تولد ہوئے ۔ (آپ کے پاسپورٹ میں اسی طرح نام لکھا ہوا ہے ) ـ
تعلیم و تربیت:
مدرسہ حافظیہ سعیدیہ دادوں ، علی گڑھ میں ابتدائی تعلیم اور قرآن مجید حفظ کی دولت حاصل کی ۔ اس کے بعد کہاں تعلیم حاصل کی ؟ یا پھر اسی مادر علمی میں تحصیل کی تفصیل کا پتہ نہیں چل سکا ۔
پاکستان میں قیام:
۱۹۵۰ کو علی گڑھ سے کراچی نقل مکانی کی اور ڈرگ کالونی میں رہائش اختیار کی اور تاحیات اسی گھر میں قیام رہا ۔
بیعت:
۱۹۶۰کو انڈیا تشریف لے گئے اور بریلی شریف میں حضرت مولانا مصطفی رضا خان نوری سے سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں بیعت ہوئے اور اسی وقت خلافت سے بھی نواز ے گئے ۔
سفر حرمین شریفین:
۱۹۷۱ء کو حج بیت اللہ او ر روضہ رسول مقبول ﷺ کی حاضری کی سعادت حاصل کی اور اسی مبارک سفر میں اپنے پیرو مرشد مولانا مفتی مصطفی رضابریلوی سے بھی شر ف ملاقات حاصل کی ۔
اولاد:
آپ نے عزیزہ بیگم سے علی گڑھ مین شادی کی جس سے ایک بیٹا سید حشمت علی قادری (n.t.c سے ریٹائر ڈ) اور ایک بیٹی نفیس فاطمہ تولد ہوئیں ۔ دونوں بہن بھائی کراچی میںرہائش پذیر ہیں اور صاحب اولاد ہیں ۔
خطابت:
مولانا رفعت علی قادری مرحوم اپنے علاقہ میں خطابت تعویذات اور تعلیم قرآن کے حوالہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ ۱۹۵۰ء کو ملیر کینٹ بازار کی جامع مسجد میں امام و خطیب کا تقرر ہوا۔ ۱۹۵۱ء تا ۱۹۵۳ء تک ۸/۲ پانجاب ریجمنٹ آرمی میں امام و خطیب کے فرائض انجام دیئے۔ اس کے بعد استعفیٰ دے کر ڈرک کالونی واپس آگئے اور اس کے بعد مقامی طور پر چھوٹے پیمانے پر تجارت کرتے رہے۔
۱۹۵۳ء کے آخر میں انہیں مسجد الفلاح پی اینڈ ٹی کالونی گزری کراچی میں خطابت و امامت کی پیشکش ہوئی جو کہ انہوں نے قبول فرمائی۔ اسی سال آپ نے ڈرگ کالونی میں نوجوانان اہلسنّت پر مشتمل ’’انجمن غوثیہ‘‘ کی داغ بیل ڈالی۔ ۱۹۷۵ء تک وہیں رہے۔ پھر وہاں سے فراغت حاسل کر کے ڈرک کالونی واپس آگئے اور یہیں پر مسجد عباسیہ بلاک نمبر ۵ میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیئے۔ ۱۹۷۶ء تا ۱۹۷۸ء تک جامع مسجد حنفیہ ناظم آباد بڑا میدان میں رہے۔ اسی سال ان کی بیگم عزیزہ کا انتقال ہوا اس سبب سے وہاں سے فارغ ہو کر واپس گھر آئے اور یہیں پر جامع مسجد عثمانیہ سبزی گلی، شاہ فیصل کالونی نمبر۱ میں ۲۰۰۱ء کے آخر تک خدمات انجام دیں ۔
وصال:
مولانا محمد رفعت علی قادری نے ۸ شوال المعظم ۱۴۲۲ھ / بمطابق ۲۳ دسمبر ۲۰۰۱ء بروز اتوار بعد نماز مغرب ۷۷ سال کی عمر میں اپنے گھر میں انتقال کیا۔
دوسرے روز بعد نماز ظہر نماز جنازہ مین روڈ شاہ فیصل کالونی بالمقابل عثمانیہ مسجد پڑھی گئی جس میں مولانا کے ہزاروں عقیدت مندوں نے شرکت کی ، نماز جنازہ کی امامت کے فرائض مولانا شاہ تراب الحق قادری صاحب نے انجام دیئے۔ اس کے بعد اشکبار آنکھوں سے کالونی گیٹ قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ آپ کے پوتے نصرت علی نے ساتویں روز آپ کی مزار پر فاتحہ کی تو دوران فاتحہ غلطی پر قبر سے مولانا نے لقمہ دے کر پوتے کی اصلاح کی ۔
ایک فاتحہ آپ کی دار العلوم قمر الاسلام سلیمانیہ پنجاب کالونی کراچی نمبر۶ میں بھی ہوئی تھی ۔
[فقیر راشدی، جناب خالد لودھی کی نشاندہی پر ۱۵، اگست ۲۰۰۴ء کو مولانا کے گھر ڈرک کالونی پہنچا جہاں پر موصوف کے صاحبزادے حشمت علی صاحب قادری سے ان کے والد مرحوم کے حالات سے متعلق فقیر نے انٹرویو لیا، جس سے یہ مضمون ترتیب دیا گیا] ـ
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-riffat-ali-qadri
ولادت:
مولانا محمد رفعت علی قادری بن نظر علی قادری علی گڑھ (یو ۔ پی ، انڈیا) کو ۱۹۱۴ء میں تولد ہوئے ۔ (آپ کے پاسپورٹ میں اسی طرح نام لکھا ہوا ہے ) ـ
تعلیم و تربیت:
مدرسہ حافظیہ سعیدیہ دادوں ، علی گڑھ میں ابتدائی تعلیم اور قرآن مجید حفظ کی دولت حاصل کی ۔ اس کے بعد کہاں تعلیم حاصل کی ؟ یا پھر اسی مادر علمی میں تحصیل کی تفصیل کا پتہ نہیں چل سکا ۔
پاکستان میں قیام:
۱۹۵۰ کو علی گڑھ سے کراچی نقل مکانی کی اور ڈرگ کالونی میں رہائش اختیار کی اور تاحیات اسی گھر میں قیام رہا ۔
بیعت:
۱۹۶۰کو انڈیا تشریف لے گئے اور بریلی شریف میں حضرت مولانا مصطفی رضا خان نوری سے سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں بیعت ہوئے اور اسی وقت خلافت سے بھی نواز ے گئے ۔
سفر حرمین شریفین:
۱۹۷۱ء کو حج بیت اللہ او ر روضہ رسول مقبول ﷺ کی حاضری کی سعادت حاصل کی اور اسی مبارک سفر میں اپنے پیرو مرشد مولانا مفتی مصطفی رضابریلوی سے بھی شر ف ملاقات حاصل کی ۔
اولاد:
آپ نے عزیزہ بیگم سے علی گڑھ مین شادی کی جس سے ایک بیٹا سید حشمت علی قادری (n.t.c سے ریٹائر ڈ) اور ایک بیٹی نفیس فاطمہ تولد ہوئیں ۔ دونوں بہن بھائی کراچی میںرہائش پذیر ہیں اور صاحب اولاد ہیں ۔
خطابت:
مولانا رفعت علی قادری مرحوم اپنے علاقہ میں خطابت تعویذات اور تعلیم قرآن کے حوالہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ ۱۹۵۰ء کو ملیر کینٹ بازار کی جامع مسجد میں امام و خطیب کا تقرر ہوا۔ ۱۹۵۱ء تا ۱۹۵۳ء تک ۸/۲ پانجاب ریجمنٹ آرمی میں امام و خطیب کے فرائض انجام دیئے۔ اس کے بعد استعفیٰ دے کر ڈرک کالونی واپس آگئے اور اس کے بعد مقامی طور پر چھوٹے پیمانے پر تجارت کرتے رہے۔
۱۹۵۳ء کے آخر میں انہیں مسجد الفلاح پی اینڈ ٹی کالونی گزری کراچی میں خطابت و امامت کی پیشکش ہوئی جو کہ انہوں نے قبول فرمائی۔ اسی سال آپ نے ڈرگ کالونی میں نوجوانان اہلسنّت پر مشتمل ’’انجمن غوثیہ‘‘ کی داغ بیل ڈالی۔ ۱۹۷۵ء تک وہیں رہے۔ پھر وہاں سے فراغت حاسل کر کے ڈرک کالونی واپس آگئے اور یہیں پر مسجد عباسیہ بلاک نمبر ۵ میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیئے۔ ۱۹۷۶ء تا ۱۹۷۸ء تک جامع مسجد حنفیہ ناظم آباد بڑا میدان میں رہے۔ اسی سال ان کی بیگم عزیزہ کا انتقال ہوا اس سبب سے وہاں سے فارغ ہو کر واپس گھر آئے اور یہیں پر جامع مسجد عثمانیہ سبزی گلی، شاہ فیصل کالونی نمبر۱ میں ۲۰۰۱ء کے آخر تک خدمات انجام دیں ۔
وصال:
مولانا محمد رفعت علی قادری نے ۸ شوال المعظم ۱۴۲۲ھ / بمطابق ۲۳ دسمبر ۲۰۰۱ء بروز اتوار بعد نماز مغرب ۷۷ سال کی عمر میں اپنے گھر میں انتقال کیا۔
دوسرے روز بعد نماز ظہر نماز جنازہ مین روڈ شاہ فیصل کالونی بالمقابل عثمانیہ مسجد پڑھی گئی جس میں مولانا کے ہزاروں عقیدت مندوں نے شرکت کی ، نماز جنازہ کی امامت کے فرائض مولانا شاہ تراب الحق قادری صاحب نے انجام دیئے۔ اس کے بعد اشکبار آنکھوں سے کالونی گیٹ قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ آپ کے پوتے نصرت علی نے ساتویں روز آپ کی مزار پر فاتحہ کی تو دوران فاتحہ غلطی پر قبر سے مولانا نے لقمہ دے کر پوتے کی اصلاح کی ۔
ایک فاتحہ آپ کی دار العلوم قمر الاسلام سلیمانیہ پنجاب کالونی کراچی نمبر۶ میں بھی ہوئی تھی ۔
[فقیر راشدی، جناب خالد لودھی کی نشاندہی پر ۱۵، اگست ۲۰۰۴ء کو مولانا کے گھر ڈرک کالونی پہنچا جہاں پر موصوف کے صاحبزادے حشمت علی صاحب قادری سے ان کے والد مرحوم کے حالات سے متعلق فقیر نے انٹرویو لیا، جس سے یہ مضمون ترتیب دیا گیا] ـ
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-riffat-ali-qadri
scholars.pk
Hazrat Molana Riffat Ali Qadri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ القرآن ابو الحقائق ، حضرت علامہ مولانا عبد الغفور ہزاروی رحمۃ اللہ تعالی علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبدالغفور ۔ کنیت: ابو الحقائق ۔ لقب: شیخ القرآن ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ القرآن علامہ عبد الغفور ہزاروی بن مولانا عبد الحمید بن مولانا محمد عالم بن فقیر غلام محمد علیہم الرحمہ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب والد کی طرف سے حضرت محمد بن حنفیہ کے ذریعے حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔ آپ کانام اخوند عبد الغفور المعروف بابا سیدو شریف علیہ الرحمہ کے نام کی نسبت سے عبد الغفور تجویز کیا گیا ۔
تاریخِ ولادت:
9 ذوالحج 1329ھ / یکم دسمبر 1911ء جمعۃ المبارک، حج اکبر کے دن، بوقتِ صبح، موضع چنبہ پنڈ، نزد کوٹ نجیب اللہ ضلع ایبٹ آباد ہزارہ میں ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ناظرہ قرآنِ پاک اور کافیہ تک کتب والد ماجد سے پڑھیں ،بقیہ تمام علوم و فنون استاذ الاساتذہ مولانا احمد دین ،استاذ العلماء مولانا محب النبی ، بحر العلوم مولانا یار محمد بند یالوی ، استاذ شہیر مولانا قطب الدین غور غشتوی، مولانا میاں عبد الحق غور غشتوی، اور علامہ مشتاق احمد کانپوری علیہم الرحمہ سے حاصل کیے ۔مہرِ عالم پیر سید مہر علی شاہ علیہ الرحمہ سے حمد اللہ اور ملا حسن کا درس لیا ۔دورۂ حدیث کے لئے حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دار العلوم منظر اسلام سے سند ِفراغت حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
آپ شیخ الاسلام حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے تھے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ القرآن ابو الحقائق حضرت علامہ مولانا عبد الغفور ہزاروی علیہ الرحمہ بیک وقت مدرس، محقق، مقرر، مفسر، محدث ،عظیم مناظر، شیخِ طریقت و رہبرِ شریعت، شاعر اور مدبر سیاستدان تھے ۔
ساری زندگی خلوص کے ساتھ درسِ نظامی کی تمام کتابوں کی تدریس کرتے رہے۔دینی مدارس کی سالانہ تعطیلات میں "دورۂ قرآن ِحکیم" شروع کیا جس میں پورے پاکستان سے ہزاروں طلبہ آپ سے کسبِ فیض کیاکرتے تھے۔ آپ نے قرآن ِ مجید فرقانِ حمید کی تعلیمات کو پورے پاکستان میں عام کیا۔اسی سے آپ "شیخ القرآن" کے لقب سے زمانہ میں مشہور ہوئے ۔ عبادت وریاضت، وعظ و نصیحت، زہد و تقویٰ قائم الیل اور صائم النہار ،اور اخلاقِ حسنہ کی دولت سے متصف تھے۔
تحریک پاکستان کے حوالے سے جو نابغۂ روز شخصیات فرنگیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرتی دکھائی دیتی ہیں ان میں حضرت شیخ القرآن کا نام سر فہرست نظر آتاہے ۔اسی جرم میں ضلع گوجرانوالہ میں داخلِ زنداں بھی ہوئے۔اور اس سلسلہ میں ضلع گوجرانوالہ میں آپ کو شرفِ اولیت حاصل ہے۔آپ کا شمار ان علماء میں ہوتا ہے کہ جنہوں نے سوشلزم کو کفر قرار دیتے ہوئے فتویٰ پر دستخط کئے تھے۔غیر اسلامی قوانین کی بھرپور مخالفت کی علماء سو اور عقائد مسلمین کی اصلاح فرمائی ،اور بدعقیدہ مولویوں کو مناظروں میں زبر دست شکست دی۔ جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی صدر کی حیثیت سے اہل سنت کو سیاسی میدان میں عروج بخشا۔تحریکِ پاکستان میں آپ کا کردار آبِ زر سے تحریر کرنے کے قابل ہے۔
1940کو منٹو پارک(اقبال پارک) لاہور میں" قرار داد ِپاکستان"منظور ہوئی تواس میں شیخ القرآن نے شرکت فرمائی اور خطاب بھی کیا۔1941میں وزیرآباد میں "پاکستان کانفرنس" منعقد کروائی اور یہ کانفرنس پنجاب میں پہلی کانفرنس تھی جس میں نظریہ پاکستان کی وضاحت کی گئی ،اور اس کانفرنس میں بانیِ پاکستان مہمانِ خصوصی تھے ۔
تحریک پاکستان کے سلسلے میں ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں میں جلسہ ہورہا تھا جس میں بابائے صحافت مولانا ظفرعلی خان اور حضرت شیخ القرآن وزیر آباد سے خصوصی طور پر شریک ہوئے ،اسی علاقہ میں احراریوں کا معرکۃ الاراء جلسہ بھی ہورہا تھا احراری مقررین اپنی لچھے دار تقاریر سے عوام کو نظریہ پاکستان سے دور کرنے میں مصروف تھے، کہ اہل سنت کے اسٹیج پر حضرت شیخ القرآن فوراً مائیک پر آئے اور ایسا فصیح و بلیغ خطبہ دیا کہ لوگ احراریوں کے پنڈال سے آپ کی طرف آنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے احراریوں کا پنڈال خالی ہوگیااور مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری تنہا رہ گیا۔یہ منظر دیکھ کر بطلِ حریت مولانا ظفر علی خاں وفورِ جذبات سےبے قابو ہوگئے اور فی البدیہ ایک نظم پڑھی جس کا ایک مشہور شعریہ ہے ۔
؎میں آج سے مرید ہوں عبدالغفور کا،
چشمہ اُبل رہا ہے محمد ﷺ کے نورکا
بند اس کے سامنے ہے بخاری کا ناطقہ
کیا ان سے ہو مقابلہ اس بے شعور کا
وصال:
7 شعبان المعظم 1390ھ / بمطابق 9 اکتوبر 1970بروز جمعۃ المبارک ، 60 سال،7 ماہ 28 دن کی عمر میں شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوئے آپ وزیر آباد میں مدفون ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-abdul-ghafoor-hazarvi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبدالغفور ۔ کنیت: ابو الحقائق ۔ لقب: شیخ القرآن ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ القرآن علامہ عبد الغفور ہزاروی بن مولانا عبد الحمید بن مولانا محمد عالم بن فقیر غلام محمد علیہم الرحمہ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب والد کی طرف سے حضرت محمد بن حنفیہ کے ذریعے حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔ آپ کانام اخوند عبد الغفور المعروف بابا سیدو شریف علیہ الرحمہ کے نام کی نسبت سے عبد الغفور تجویز کیا گیا ۔
تاریخِ ولادت:
9 ذوالحج 1329ھ / یکم دسمبر 1911ء جمعۃ المبارک، حج اکبر کے دن، بوقتِ صبح، موضع چنبہ پنڈ، نزد کوٹ نجیب اللہ ضلع ایبٹ آباد ہزارہ میں ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ناظرہ قرآنِ پاک اور کافیہ تک کتب والد ماجد سے پڑھیں ،بقیہ تمام علوم و فنون استاذ الاساتذہ مولانا احمد دین ،استاذ العلماء مولانا محب النبی ، بحر العلوم مولانا یار محمد بند یالوی ، استاذ شہیر مولانا قطب الدین غور غشتوی، مولانا میاں عبد الحق غور غشتوی، اور علامہ مشتاق احمد کانپوری علیہم الرحمہ سے حاصل کیے ۔مہرِ عالم پیر سید مہر علی شاہ علیہ الرحمہ سے حمد اللہ اور ملا حسن کا درس لیا ۔دورۂ حدیث کے لئے حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دار العلوم منظر اسلام سے سند ِفراغت حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
آپ شیخ الاسلام حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے تھے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ القرآن ابو الحقائق حضرت علامہ مولانا عبد الغفور ہزاروی علیہ الرحمہ بیک وقت مدرس، محقق، مقرر، مفسر، محدث ،عظیم مناظر، شیخِ طریقت و رہبرِ شریعت، شاعر اور مدبر سیاستدان تھے ۔
ساری زندگی خلوص کے ساتھ درسِ نظامی کی تمام کتابوں کی تدریس کرتے رہے۔دینی مدارس کی سالانہ تعطیلات میں "دورۂ قرآن ِحکیم" شروع کیا جس میں پورے پاکستان سے ہزاروں طلبہ آپ سے کسبِ فیض کیاکرتے تھے۔ آپ نے قرآن ِ مجید فرقانِ حمید کی تعلیمات کو پورے پاکستان میں عام کیا۔اسی سے آپ "شیخ القرآن" کے لقب سے زمانہ میں مشہور ہوئے ۔ عبادت وریاضت، وعظ و نصیحت، زہد و تقویٰ قائم الیل اور صائم النہار ،اور اخلاقِ حسنہ کی دولت سے متصف تھے۔
تحریک پاکستان کے حوالے سے جو نابغۂ روز شخصیات فرنگیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرتی دکھائی دیتی ہیں ان میں حضرت شیخ القرآن کا نام سر فہرست نظر آتاہے ۔اسی جرم میں ضلع گوجرانوالہ میں داخلِ زنداں بھی ہوئے۔اور اس سلسلہ میں ضلع گوجرانوالہ میں آپ کو شرفِ اولیت حاصل ہے۔آپ کا شمار ان علماء میں ہوتا ہے کہ جنہوں نے سوشلزم کو کفر قرار دیتے ہوئے فتویٰ پر دستخط کئے تھے۔غیر اسلامی قوانین کی بھرپور مخالفت کی علماء سو اور عقائد مسلمین کی اصلاح فرمائی ،اور بدعقیدہ مولویوں کو مناظروں میں زبر دست شکست دی۔ جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی صدر کی حیثیت سے اہل سنت کو سیاسی میدان میں عروج بخشا۔تحریکِ پاکستان میں آپ کا کردار آبِ زر سے تحریر کرنے کے قابل ہے۔
1940کو منٹو پارک(اقبال پارک) لاہور میں" قرار داد ِپاکستان"منظور ہوئی تواس میں شیخ القرآن نے شرکت فرمائی اور خطاب بھی کیا۔1941میں وزیرآباد میں "پاکستان کانفرنس" منعقد کروائی اور یہ کانفرنس پنجاب میں پہلی کانفرنس تھی جس میں نظریہ پاکستان کی وضاحت کی گئی ،اور اس کانفرنس میں بانیِ پاکستان مہمانِ خصوصی تھے ۔
تحریک پاکستان کے سلسلے میں ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں میں جلسہ ہورہا تھا جس میں بابائے صحافت مولانا ظفرعلی خان اور حضرت شیخ القرآن وزیر آباد سے خصوصی طور پر شریک ہوئے ،اسی علاقہ میں احراریوں کا معرکۃ الاراء جلسہ بھی ہورہا تھا احراری مقررین اپنی لچھے دار تقاریر سے عوام کو نظریہ پاکستان سے دور کرنے میں مصروف تھے، کہ اہل سنت کے اسٹیج پر حضرت شیخ القرآن فوراً مائیک پر آئے اور ایسا فصیح و بلیغ خطبہ دیا کہ لوگ احراریوں کے پنڈال سے آپ کی طرف آنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے احراریوں کا پنڈال خالی ہوگیااور مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری تنہا رہ گیا۔یہ منظر دیکھ کر بطلِ حریت مولانا ظفر علی خاں وفورِ جذبات سےبے قابو ہوگئے اور فی البدیہ ایک نظم پڑھی جس کا ایک مشہور شعریہ ہے ۔
؎میں آج سے مرید ہوں عبدالغفور کا،
چشمہ اُبل رہا ہے محمد ﷺ کے نورکا
بند اس کے سامنے ہے بخاری کا ناطقہ
کیا ان سے ہو مقابلہ اس بے شعور کا
وصال:
7 شعبان المعظم 1390ھ / بمطابق 9 اکتوبر 1970بروز جمعۃ المبارک ، 60 سال،7 ماہ 28 دن کی عمر میں شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوئے آپ وزیر آباد میں مدفون ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-abdul-ghafoor-hazarvi
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Abdul Ghafoor Hazarvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا امام الدین سیالکوٹی نقشبندی رائے پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
یہ طریقت حضرت مولانا امام الدین ابن مولانا کرم الٰہی ( قدس سرہما غالباً ۳۰۴ ، ۱۲۸۳ھ/۱۸۶۷ میں چک عادل ، ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم:
ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی پر مختلف افاضل سے استفا دہ کرتے ہوئے فقیہ اعظم مولانا محمد شریف خلیفۂ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہما کی خدمت میں کوٹلی لوہارں حاضر ہو کر جملہ علوم و فنون کی تعلیم حاسل کی ۔ تکمین علوم کے بعد رائے پورا عواناں ، ضلع سیالکوٹ کو مرکز بنا کر تبلیغ دین کا سلسلہ شروع کردیا ، سلسلۂ نقشبندیہ میں امیر ملت حضرت پیر سید جماعت علی شال محدث علی پوری قدس سرہ سے بیعت ہوئے اور پھر کچھ عرصہ کے بعد اجازت و خلافت سے نواز ے گئے ۔
حضرت امیر ملت قدس سرہ کے ارشاد کے مطابق آپ نے سلسلۂ تبلیغ کو تیز کردیا اور قریہ قریہ پہنچکر عوام کو دین متین سے روشنا س کراتے رہے۔اس سلسلے میں متحدہ پنجاب کے علاوہ بنگولر ، میسور،بنبئی،احمد آباد اور مدراس تک دورے فرماتے رہے ، پھر مرشد کامل حضرت پیر سید جماعت علی شاہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے فرمانے پر آپ نے ماہنامہ انوار الصوفیہ (سیالکوٹ)کی ادارات اور جامع مسجد متسل گھنٹہ گھر سیالکوٹ چھائونی کی خطابت کے فرائض سنبھال لئے جنہیں تمام عمر بحسن و خوبی انجام دیتے رہے۔
آپ ہمیشہ نماز با جماعت ادا کرتے ، آنے والے مہمانوں اور طلبہ پر حد درجہ شفقت فرماتے ، علماء وصوفیاء اور سادات کرام کی دل و جان سے تعظیم و توقیر کیا کرتے بزرگان دین کے مزارات پر حاضری اور عر اس میں شمولیت کو ترقی ٔ درجات کا ذریعہ سمجتے بد مذہبوں سے سخت نفرت رکھتے تھے ، تین دفعہ حج و زیارت کی سعادت سے مشرف ہوئے ، پیر و مرشد حضرت امیر ملت قدس سرہ کی پیوی میں ضلع سیالکوٹ کے چپے چپے کا دورہ کر کے قیام پاکستان کیلئے راہ ہموار کی اور عوام و خواص کو مسلم لیگ کی تائید و حمایت پر آمادہ کیا ۔ قیام پاکستان کے بعد مہاجرین کی آباد کاری کے لئے شب و روز کام کرتے رہے ۔
نصف صدی سے زیادہ عرصہ شد و ہدایت میں گزار کر حضرت مولانا امام الدین رائے پوری قدس سرہ ۸ شعبان ، ۱۲ اپریل ( ۱۳۷۳ھ/۱۹۵۴ئ) کو عازم خلد بریں ہوئے نماز جنازہ حضرت سید حافظ محمد حسین شاہ سجادہ نشین علی پور شریف نے پرھائی۔ آپ کا مزار رائے پور اعواناں کی مسجد کے صحن میں ہے[1]
[1] محمد رضا ، المصطفیٰ چشتی : روز ناما مسادات ، لاہور ، ۱۷ اگست ۱۹۷۵ء۔
(تذکرہ اکابرِ اہلسنت)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-imamuddin-sialkoti-naqshbandi-raipuri
ولادت:
یہ طریقت حضرت مولانا امام الدین ابن مولانا کرم الٰہی ( قدس سرہما غالباً ۳۰۴ ، ۱۲۸۳ھ/۱۸۶۷ میں چک عادل ، ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم:
ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی پر مختلف افاضل سے استفا دہ کرتے ہوئے فقیہ اعظم مولانا محمد شریف خلیفۂ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہما کی خدمت میں کوٹلی لوہارں حاضر ہو کر جملہ علوم و فنون کی تعلیم حاسل کی ۔ تکمین علوم کے بعد رائے پورا عواناں ، ضلع سیالکوٹ کو مرکز بنا کر تبلیغ دین کا سلسلہ شروع کردیا ، سلسلۂ نقشبندیہ میں امیر ملت حضرت پیر سید جماعت علی شال محدث علی پوری قدس سرہ سے بیعت ہوئے اور پھر کچھ عرصہ کے بعد اجازت و خلافت سے نواز ے گئے ۔
حضرت امیر ملت قدس سرہ کے ارشاد کے مطابق آپ نے سلسلۂ تبلیغ کو تیز کردیا اور قریہ قریہ پہنچکر عوام کو دین متین سے روشنا س کراتے رہے۔اس سلسلے میں متحدہ پنجاب کے علاوہ بنگولر ، میسور،بنبئی،احمد آباد اور مدراس تک دورے فرماتے رہے ، پھر مرشد کامل حضرت پیر سید جماعت علی شاہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے فرمانے پر آپ نے ماہنامہ انوار الصوفیہ (سیالکوٹ)کی ادارات اور جامع مسجد متسل گھنٹہ گھر سیالکوٹ چھائونی کی خطابت کے فرائض سنبھال لئے جنہیں تمام عمر بحسن و خوبی انجام دیتے رہے۔
آپ ہمیشہ نماز با جماعت ادا کرتے ، آنے والے مہمانوں اور طلبہ پر حد درجہ شفقت فرماتے ، علماء وصوفیاء اور سادات کرام کی دل و جان سے تعظیم و توقیر کیا کرتے بزرگان دین کے مزارات پر حاضری اور عر اس میں شمولیت کو ترقی ٔ درجات کا ذریعہ سمجتے بد مذہبوں سے سخت نفرت رکھتے تھے ، تین دفعہ حج و زیارت کی سعادت سے مشرف ہوئے ، پیر و مرشد حضرت امیر ملت قدس سرہ کی پیوی میں ضلع سیالکوٹ کے چپے چپے کا دورہ کر کے قیام پاکستان کیلئے راہ ہموار کی اور عوام و خواص کو مسلم لیگ کی تائید و حمایت پر آمادہ کیا ۔ قیام پاکستان کے بعد مہاجرین کی آباد کاری کے لئے شب و روز کام کرتے رہے ۔
نصف صدی سے زیادہ عرصہ شد و ہدایت میں گزار کر حضرت مولانا امام الدین رائے پوری قدس سرہ ۸ شعبان ، ۱۲ اپریل ( ۱۳۷۳ھ/۱۹۵۴ئ) کو عازم خلد بریں ہوئے نماز جنازہ حضرت سید حافظ محمد حسین شاہ سجادہ نشین علی پور شریف نے پرھائی۔ آپ کا مزار رائے پور اعواناں کی مسجد کے صحن میں ہے[1]
[1] محمد رضا ، المصطفیٰ چشتی : روز ناما مسادات ، لاہور ، ۱۷ اگست ۱۹۷۵ء۔
(تذکرہ اکابرِ اہلسنت)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-imamuddin-sialkoti-naqshbandi-raipuri
scholars.pk
Hazrat Molana Imamuddin Sialkoti Naqshbandi Raipuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-08-1445 ᴴ | 18-02-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-08-1445 ᴴ | 19-02-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1