Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-08-1445 ᴴ | 18-02-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-08-1445 ᴴ | 18-02-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ کاروبار میں جھوٹی یا سچی قسم کھانا کیسا ـ ❷ سیمپل والی ادویات کی خرید و فروخت کرنا کیسا ـ ❸ کیا خطبہ یا دعا کے بغیر نکاح ہو جائےگا ؟ ـ ❹ جہیز کے سامان کا حکم ـ ❺ حیض کی حالت میں تعویذ پہننے کا حکم ـ ❻ نمبر اور نقش والی تعویذ کا حکم ـ ❼ آن لائن خرید و فروخت کی ناجائز صورت ـ ❽ منی مذی اور ودی کی تعریف مع حکم ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#سوال #جواب #مسئلہ #فتوی
📇 #الرضا_قرآن_و_فقہ_اکیڈمی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ کاروبار میں جھوٹی یا سچی قسم کھانا کیسا ـ ❷ سیمپل والی ادویات کی خرید و فروخت کرنا کیسا ـ ❸ کیا خطبہ یا دعا کے بغیر نکاح ہو جائےگا ؟ ـ ❹ جہیز کے سامان کا حکم ـ ❺ حیض کی حالت میں تعویذ پہننے کا حکم ـ ❻ نمبر اور نقش والی تعویذ کا حکم ـ ❼ آن لائن خرید و فروخت کی ناجائز صورت ـ ❽ منی مذی اور ودی کی تعریف مع حکم ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#سوال #جواب #مسئلہ #فتوی
📇 #الرضا_قرآن_و_فقہ_اکیڈمی
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯1
مبلغ اسلام مولانا ڈاکٹر فضل الرحمن انصاری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا محمد فضل الرحمن انصاری ۔ لقب: مبلغِ اسلام، ضیغمِ اسلام، سفیرِ اسلام ۔ والد کا اسمِ گرامی: مولانا خلیل الرحمن انصاری علیہ الرحمہ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب صحابی و میزبان ِرسول ﷺ حضرت سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
آپ کے بزرگوں میں شیخ الاسلام حضرت خواجہ عبد اللہ انصاری ہروی رحمۃ اللہ علیہ (ہرات ۔ افغانستان) اور سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے حضرت مولانا کریم بخش انصاری المعروف میاں جی رحمۃ اللہ علیہ (مظفر نگر بھارت) اپنے دور کی مشہور شخصیات ہوئے ہیں ۔ (انوار علمائے اہلسنت سندھ، ص: 567) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعۃ المبارک، 14 شعبان المعظم 1333ھ / 25 جون 1915ء کو " مظفر نگر " انڈیا میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
مولانا فضل الرحمن انصاری نے نو عمری میں قرآن پاک حفظ کیا، پھر درس نظامی کی کتب پر عبور حاصل کیا ، 1933ء میں آپ نے میرٹھ کالج سے ایف ۔ ایس ۔ سی کا امتحان پاس کیا اور اسی سال مدرسہ اسلامیہ میرٹھ سے فارغ التحصیل ہو کر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں داخلہ لیا ۔
1935ء میں آپ نے بی ۔ ایس۔ سی کے امتحان میں گولڈ میڈل حاصل کیا، دوسراگولڈ میڈل فلسفہ میں 98 فی صد نمبر حاصل کرنے پر ملا ۔ بر صغیر میں فلسفہ میں اتنے نمبر حاصل کرنے کا نیا ریکارڈ قائم کیا جو اب تک بر قرار ہے ۔
آپ نے علامہ سید سلیمان اشرف بہاری صدر شعبہ علوم اسلامیہ مسلم یونیورسٹی علی گڑ ھ کی نگرانی میں قرآن و حدیث کے علاوہ علم الکلام اور تصوف کی کتابوں کا مطالعہ کیا ۔ 1941ء میں آپ نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے علوم دینیہ کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا ۔ (ایضاً)
آپ اعلیٰ تعلیم کے لئے جرمنی جانا چاہتے تھے کہ دوسری عالمی جنگ چھڑ جانے کی وجہ سے نہ جا سکے ۔ مولانا فرماتے تھے:"جامعہ علی گڑھ سے سائنس میں فیکلٹی سے انٹر پاس کرنے کے بعد اسلامی عقائد کے بارے میں عجیب و غریب شکوک و شبہات دل میں پیدا ہونے لگے تھے بلکہ ایک وقت تو دماغ انکار پر مائل ہو گیا تھا " ۔
لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ، عالمِ اسلام کے عظیم مبلغ خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ محمد عبد العلیم صدیقی قدس سرہ سے ملاقات ہوئی ۔ ان کی نگاہِ کیمیا اثر نے دل و دماغ کی کایا پلٹ دی اور فکر و نظر کا دھارا صحیح سمت کو موڑ دیا، جو دل انکار اسلام پر مائل تھا، دین فطرت کی محبت اور عظمتِ مصطفیٰ ﷺ کا گہوارہ بن گیا ۔ (تذکرہ اکابرِ اہلسنت، ص:380) ـ
بیعت و خلافت:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری کے خلیفہ، سفیرِ اسلام، شیخِ طریقت حضرت علامہ شاہ عبد العلیم صدیقی علیہ الرحمہ نے حطیمِ کعبہ میں آپ کو سلسلۂ عالیہ قادریہ نقشبندیہ چشتیہ اور شاذلیہ میں بیعت کیا اور خلافت سے سر فراز فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
سیاحِ عالم، مبلغ، مفکر، محقق، مصنف، جامع علومِ شرقیہ و غربیہ، عالمِ شریعت، سالکِ راہِ طریقت، فاضلِ فلسفہ جدیدہ و قدیمہ، عالمی مبلغِ اسلام، ضیغمِ اسلام، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد فضل الرحمٰن انصاری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دنیائے اسلام کے مایۂ ناز مبلغ اور بین الاقوامی شخصیت کے حامل تھے ۔ انہوں نے اپنی ساٹھ سالہ زندگی کا اکثر حصہ تبلیغ اسلام میں صرف کیا ۔ پاکستان کے علاوہ افریقہ، امریکہ، ایشیا اور یورپ کے مختلف ممالک میں تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کیا ۔ مولانا انصاری اپنی دینی خدمات کی بنا پر عالم اسلام میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ۔
مولانا فضل الرحمن انصاری انگریزی میں سحر انگیز تقریر فرماتے تھے ۔ یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں ممتاز اہل علم کے سامنے آپ نے بارہا تقریریں کیں، اور بے شمار اہلِ علم آپ کی تقریر سے متاثر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے ۔
قدرت نے آپ کو تحریر و تقریر میں یکساں کمال عطا فرمایا تھا ۔ آپ نے تقریباً 25 کتابیں دعوت اسلام کی تشریح اور افکار باطلہ کی تردید میں انگریزی زبان میں لکھیں اور اہل علم سے خراج تحسین حاصل کیا ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا محمد فضل الرحمن انصاری ۔ لقب: مبلغِ اسلام، ضیغمِ اسلام، سفیرِ اسلام ۔ والد کا اسمِ گرامی: مولانا خلیل الرحمن انصاری علیہ الرحمہ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب صحابی و میزبان ِرسول ﷺ حضرت سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
آپ کے بزرگوں میں شیخ الاسلام حضرت خواجہ عبد اللہ انصاری ہروی رحمۃ اللہ علیہ (ہرات ۔ افغانستان) اور سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے حضرت مولانا کریم بخش انصاری المعروف میاں جی رحمۃ اللہ علیہ (مظفر نگر بھارت) اپنے دور کی مشہور شخصیات ہوئے ہیں ۔ (انوار علمائے اہلسنت سندھ، ص: 567) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعۃ المبارک، 14 شعبان المعظم 1333ھ / 25 جون 1915ء کو " مظفر نگر " انڈیا میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
مولانا فضل الرحمن انصاری نے نو عمری میں قرآن پاک حفظ کیا، پھر درس نظامی کی کتب پر عبور حاصل کیا ، 1933ء میں آپ نے میرٹھ کالج سے ایف ۔ ایس ۔ سی کا امتحان پاس کیا اور اسی سال مدرسہ اسلامیہ میرٹھ سے فارغ التحصیل ہو کر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں داخلہ لیا ۔
1935ء میں آپ نے بی ۔ ایس۔ سی کے امتحان میں گولڈ میڈل حاصل کیا، دوسراگولڈ میڈل فلسفہ میں 98 فی صد نمبر حاصل کرنے پر ملا ۔ بر صغیر میں فلسفہ میں اتنے نمبر حاصل کرنے کا نیا ریکارڈ قائم کیا جو اب تک بر قرار ہے ۔
آپ نے علامہ سید سلیمان اشرف بہاری صدر شعبہ علوم اسلامیہ مسلم یونیورسٹی علی گڑ ھ کی نگرانی میں قرآن و حدیث کے علاوہ علم الکلام اور تصوف کی کتابوں کا مطالعہ کیا ۔ 1941ء میں آپ نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے علوم دینیہ کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا ۔ (ایضاً)
آپ اعلیٰ تعلیم کے لئے جرمنی جانا چاہتے تھے کہ دوسری عالمی جنگ چھڑ جانے کی وجہ سے نہ جا سکے ۔ مولانا فرماتے تھے:"جامعہ علی گڑھ سے سائنس میں فیکلٹی سے انٹر پاس کرنے کے بعد اسلامی عقائد کے بارے میں عجیب و غریب شکوک و شبہات دل میں پیدا ہونے لگے تھے بلکہ ایک وقت تو دماغ انکار پر مائل ہو گیا تھا " ۔
لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ، عالمِ اسلام کے عظیم مبلغ خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ محمد عبد العلیم صدیقی قدس سرہ سے ملاقات ہوئی ۔ ان کی نگاہِ کیمیا اثر نے دل و دماغ کی کایا پلٹ دی اور فکر و نظر کا دھارا صحیح سمت کو موڑ دیا، جو دل انکار اسلام پر مائل تھا، دین فطرت کی محبت اور عظمتِ مصطفیٰ ﷺ کا گہوارہ بن گیا ۔ (تذکرہ اکابرِ اہلسنت، ص:380) ـ
بیعت و خلافت:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری کے خلیفہ، سفیرِ اسلام، شیخِ طریقت حضرت علامہ شاہ عبد العلیم صدیقی علیہ الرحمہ نے حطیمِ کعبہ میں آپ کو سلسلۂ عالیہ قادریہ نقشبندیہ چشتیہ اور شاذلیہ میں بیعت کیا اور خلافت سے سر فراز فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
سیاحِ عالم، مبلغ، مفکر، محقق، مصنف، جامع علومِ شرقیہ و غربیہ، عالمِ شریعت، سالکِ راہِ طریقت، فاضلِ فلسفہ جدیدہ و قدیمہ، عالمی مبلغِ اسلام، ضیغمِ اسلام، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد فضل الرحمٰن انصاری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دنیائے اسلام کے مایۂ ناز مبلغ اور بین الاقوامی شخصیت کے حامل تھے ۔ انہوں نے اپنی ساٹھ سالہ زندگی کا اکثر حصہ تبلیغ اسلام میں صرف کیا ۔ پاکستان کے علاوہ افریقہ، امریکہ، ایشیا اور یورپ کے مختلف ممالک میں تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کیا ۔ مولانا انصاری اپنی دینی خدمات کی بنا پر عالم اسلام میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ۔
مولانا فضل الرحمن انصاری انگریزی میں سحر انگیز تقریر فرماتے تھے ۔ یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں ممتاز اہل علم کے سامنے آپ نے بارہا تقریریں کیں، اور بے شمار اہلِ علم آپ کی تقریر سے متاثر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے ۔
قدرت نے آپ کو تحریر و تقریر میں یکساں کمال عطا فرمایا تھا ۔ آپ نے تقریباً 25 کتابیں دعوت اسلام کی تشریح اور افکار باطلہ کی تردید میں انگریزی زبان میں لکھیں اور اہل علم سے خراج تحسین حاصل کیا ۔
❤1
پروفیسر ڈاکٹر محمود حسین صدیقی فرماتے ہیں: مولانا کی ذات وہ مرکز تھی جہاں عشق و عقل دونوں آکر ملتے ہیں ، سیاح عالم مولانا حافظ شاہ محمد عبد العلیم صدیقی قادری کی چشم کرم نے مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے قلب و دماغ کو حضور اکرم ﷺ کی محبت کے نور سے منور کر دیا تھا ـ
ایک مبلغ اسلام کی خصوصیات میں بنیادی چیز حضور اکرم ﷺ سے والہانہ محبت ہے اور یہ محبت کی چنگاری کسی محبت میں فنا ہونے والی نظر سے ہی منتقل ہوتی ہے اور پھر شعلہ بن کر جسد خاکی کو جلا کر خاکستر کر دیتی ہے ۔ تب ہی تو حضور ﷺ کے کام سے وابستگی اور اس میں ہمہ تن انہماک پیدا ہوتا ہے ۔
غیر مسلم ان کی علمی بصیرت کے اس قدر مداح تھے کہ ان کو " Great Thinker " ( عظیم مفکر ) کا خطاب دیا گیا ۔ وہ کوئی سیاسی شخصیت یا سرمایہ دار نہیں تھے ۔ لیکن عالم اسلام میں لاکھوں افراد کے دلوں میں ان کا ایک مقام ہے ۔ (ڈاکٹر فضل الرحمٰن انصاری، ص:285) ـ
مولان انصاری کا یہ کار نامہ نا قابل فراموش ہے کہ آپ نے شمالی ناظم آباد، کراچی میں ایک ادارہ " المرکز الاسلای " قائم کیا جہاں سے زیادہ تر غیر ملکی طلباء حالات حاضرہ کی ضروریات کے مطابق تبلیغ اسلام کی تربیت حاصل کر کے اپنے اپنے علاقوں میں فرائض تبلیغ انجام دیتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو مزید ترقی عطاء فرمائے ۔ (آمین)
تاریخِ وصال:
بروز پیر 11 جمادی الاول 1394ھ، مطابق 3 جون 1974ء کو " اسم اللہ ذات " کا ورد کرتے ہوئے منزلِ مقصود کو پہنچے ۔ آپ کا مزار پر انوار " المرکز الاسلامی " بلاک، بی، ناظم آباد کراچی میں ہے ۔
جناب حافظ عبد الغفار حافظؔ فرماتے ہیں:
جان ریاضت، شانِ فصاحت، فضل الرحمن انصاری ۔۔۔ پیرِ طریقت، شیخِ شریعت، فضل الرحمن انصاری ـ
دنیا کا ہر برِ اعظم اس کی گواہی دیتا ہے ۔۔۔ کی ہے جو اسلام کی خدمت فضل الرحمن انصاری ـ
فلسفہ ہو یا علمِ تقابل، منطق ہو، یا علمِ کلام ۔۔۔۔۔ ہر اک فن میں صاحبِ عظمت، فضل الرحمن انصاری ـ
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔ انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔ ڈاکٹر محمد فضل الرحمٰن انصاری کی حیات و خدمات ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-doctor-fazal-ur-rehman-ansari
ایک مبلغ اسلام کی خصوصیات میں بنیادی چیز حضور اکرم ﷺ سے والہانہ محبت ہے اور یہ محبت کی چنگاری کسی محبت میں فنا ہونے والی نظر سے ہی منتقل ہوتی ہے اور پھر شعلہ بن کر جسد خاکی کو جلا کر خاکستر کر دیتی ہے ۔ تب ہی تو حضور ﷺ کے کام سے وابستگی اور اس میں ہمہ تن انہماک پیدا ہوتا ہے ۔
غیر مسلم ان کی علمی بصیرت کے اس قدر مداح تھے کہ ان کو " Great Thinker " ( عظیم مفکر ) کا خطاب دیا گیا ۔ وہ کوئی سیاسی شخصیت یا سرمایہ دار نہیں تھے ۔ لیکن عالم اسلام میں لاکھوں افراد کے دلوں میں ان کا ایک مقام ہے ۔ (ڈاکٹر فضل الرحمٰن انصاری، ص:285) ـ
مولان انصاری کا یہ کار نامہ نا قابل فراموش ہے کہ آپ نے شمالی ناظم آباد، کراچی میں ایک ادارہ " المرکز الاسلای " قائم کیا جہاں سے زیادہ تر غیر ملکی طلباء حالات حاضرہ کی ضروریات کے مطابق تبلیغ اسلام کی تربیت حاصل کر کے اپنے اپنے علاقوں میں فرائض تبلیغ انجام دیتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو مزید ترقی عطاء فرمائے ۔ (آمین)
تاریخِ وصال:
بروز پیر 11 جمادی الاول 1394ھ، مطابق 3 جون 1974ء کو " اسم اللہ ذات " کا ورد کرتے ہوئے منزلِ مقصود کو پہنچے ۔ آپ کا مزار پر انوار " المرکز الاسلامی " بلاک، بی، ناظم آباد کراچی میں ہے ۔
جناب حافظ عبد الغفار حافظؔ فرماتے ہیں:
جان ریاضت، شانِ فصاحت، فضل الرحمن انصاری ۔۔۔ پیرِ طریقت، شیخِ شریعت، فضل الرحمن انصاری ـ
دنیا کا ہر برِ اعظم اس کی گواہی دیتا ہے ۔۔۔ کی ہے جو اسلام کی خدمت فضل الرحمن انصاری ـ
فلسفہ ہو یا علمِ تقابل، منطق ہو، یا علمِ کلام ۔۔۔۔۔ ہر اک فن میں صاحبِ عظمت، فضل الرحمن انصاری ـ
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔ انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔ ڈاکٹر محمد فضل الرحمٰن انصاری کی حیات و خدمات ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-doctor-fazal-ur-rehman-ansari
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
مبلغ اسلام مولانا ڈاکٹر فضل الرحمن انصاری رحمۃ اللہ علیہ نام و نسب: اسمِ گرامی: مولانا محمد فضل الرحمن انصاری ۔ لقب: مبلغِ اسلام، ضیغمِ اسلام، سفیرِ اسلام ۔ والد کا اسمِ گرامی: مولانا خلیل الرحمن انصاری علیہ الرحمہ ۔ آپ کا سلسلۂ نسب صحابی و میزبان ِرسول…
#یوم_ولادت_ماہ_شعبان_المعظم
#یوم_وصال_ماہ_جمادی_الاولی
https://t.me/islaamic_Knowledge/63987
خلیفۂ علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی، حضرت علامہ ڈاکٹر فضل الرحمٰن انصاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
#یوم_وصال_ماہ_جمادی_الاولی
https://t.me/islaamic_Knowledge/63987
خلیفۂ علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی، حضرت علامہ ڈاکٹر فضل الرحمٰن انصاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
❤1
حضرت علامہ مولانا محمد عالم آسی امرتسری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: علامہ مولانا محمد عالم آسی ۔ لقب: آسی ۔ امرتسر علاقے کی نسبت سے"امرتسری" کہلائے۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: حضرت علامہ محمد عالم امرتسری بن حضرت مولانا عبدا لحمید بن عارف باللہ مولانا غلام احمد علیہم الرحمہ والرضوان۔آپ کاخاندان علم وفضل اور زہدوتقویٰ کی بدولت مرجع الخلائق تھا۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 8 شعبان المعظم 1298ھ / مطابق ماہ جولائی 1881ء کو موضع راگھو سیدن ضلع گوجرانولہ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم کے بعد لاہور کے دار العلوم نعمانیہ کے اساتذہ حضرت مولانا غلام احمد صدر المدرسین،حضرت مولانا ابو الفیض محمد حسن فیضی، حضرت مولانا غلام محمد بگوی، مولانا مفتی عبید اللہ ٹونکی، مفتی اعظم پنجاب حضرت علامہ مولانا غلام قادر بھیروی سے علوم متعارفہ کی تحصیل کی۔ پنجاب یونیورسٹی کے امتحانات میں امتیازی نمبر حاصل کرکے وظیفہ کے مستحق قرار پائے۔ علم طب میں حکیم حاذق اور زبدۃ الحکماء کی سندیں حاصل کیں۔
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں حضرت شاہ عبد اللہ ابوالخیر مجددی سےبیعت ہوئے،اور کچھ عرصہ بعد شاہ صاحب نے آپ کو خلافت و اجازت سے مشرف فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
ادیب، اریب، فاضلِ جلیل، عالم نبیل، محقق، جامع علوم جدیدہ و قدیمہ، فاضل، حضرت علامہ مولانا محمد عالم آسی امرتسری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید اور کامل عالمِ دین تھے۔پورے ہندوستان میں آپ کا شہرہ تھا۔تحصیلِ علم سےفراغت کے بعد دار العلوم نعمانیہ کے صدر مدرس مقرر ہوئے، اس کے علاوہ لاہور کے چند مدارس میں پڑھایا،لاہور سے امر تسر پہنچے اور مدرسہ نصرۃ الحق میں ادب کے استاذ مقرر ہوئے۔مدرسہ نصرۃ الحق جب ایم ۔اے۔او۔کالج ہوا،توآپ عربی کے پروفیسر مقرر ہوگئے، اورپھر یہیں سے ریٹائرڈ ہوئے۔
اس وقت طلباء آپ سے شرف تلمذ کوسعادت خیال کرتے،اور اس پر فخر کرتےتھے۔آپ کےشاگردوں میں بڑی نامی گرامی شخصیات ہیں۔ تلامذہ میں حضرت صاحبزادہ محمد عمر صاحب پیربل شریف، ڈاکٹر محمد حسن،پی۔ایچ۔ڈی سابق شیخ الادب جامعہ اسلامیہ بہاول پور، علامہ غلام محمد ترنم،فخر الاطباء علامہ فقیر محمد چشتی نظامی امر تسری (والد حکیم محمد موسی امرتسری)، محقق عصر محسن اہل سنت مولانا حکیم محمد موسیٰ امرتسری علیہم الرحمہ۔مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری احراری،مفتی محمد حسن خلیفہ تھانوی ۔ آزادوں میں ڈاکٹر شیخ عنایت اللہ پروفیسر پنجاب یونیورسٹی،علامہ حکیم فیروز الدین طغرائی وغیرہ نامور ہوئے۔
تصنیفات:
آپ کی تصانیف میں "الکادیہ علی الغاویہ"(رد مرزائیت میں بزبان اردو مطبوع) (عربی غیر مطبوع) الجثجاث علی السلام فی الذب عن حریم الاسلام مرزائی مبلغ غلام رسول آف راجکی کے رد میں ،"المیلانی فی القرآن" اور رسائل صرف ونحو مشہور و معروف ہیں ۔
آپ کو اپنے مذہب ومسلک سے گہری وابستگی تھی،اخبار الفقیہ امرتسر کے خصوصی معاون تھے۔خطاطی میں بے مثل کمال حاصل تھا۔ خط نسخ میں آپ جیسا لکھنے والے لوگ کم ہوں گے۔عربی شعر ونثر کی تحریر پر آپ کو بے پناہ قدرت حاصل تھی۔علم وفن اور بالخصوص عربی ادب میں دور دور تک آپ کی نظیرنہ تھی۔ آپ نہایت نیک نفس، متقی، متورع وصوفی بزرگ تھے۔ سادگی، منکسر المزاجی، اور تواضع پسند تھے۔حسنِ اَخلاق کےمالک تھے۔پروفیسر تھے،لیکن اپنےطلباء کےذہن میں اسلامی تہذیب و ثقافت اور دین سےمحبت،اور اطاعتِ خدا و رسول ﷺ کا جذبہ بیدار کرتے تھے ۔
تاریخِ وصال:
28 شعبان المعظم 1363ھ / مطابق 18 اگست 1944ء بعد نماز جمعہ واصل باللہ ہوئے ۔ امرتسر کے مقامی قبرستان میں ابدی راحت فرما ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-muhammad-alam-aasi-amartasri
نام و نسب:
اسم گرامی: علامہ مولانا محمد عالم آسی ۔ لقب: آسی ۔ امرتسر علاقے کی نسبت سے"امرتسری" کہلائے۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: حضرت علامہ محمد عالم امرتسری بن حضرت مولانا عبدا لحمید بن عارف باللہ مولانا غلام احمد علیہم الرحمہ والرضوان۔آپ کاخاندان علم وفضل اور زہدوتقویٰ کی بدولت مرجع الخلائق تھا۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 8 شعبان المعظم 1298ھ / مطابق ماہ جولائی 1881ء کو موضع راگھو سیدن ضلع گوجرانولہ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم کے بعد لاہور کے دار العلوم نعمانیہ کے اساتذہ حضرت مولانا غلام احمد صدر المدرسین،حضرت مولانا ابو الفیض محمد حسن فیضی، حضرت مولانا غلام محمد بگوی، مولانا مفتی عبید اللہ ٹونکی، مفتی اعظم پنجاب حضرت علامہ مولانا غلام قادر بھیروی سے علوم متعارفہ کی تحصیل کی۔ پنجاب یونیورسٹی کے امتحانات میں امتیازی نمبر حاصل کرکے وظیفہ کے مستحق قرار پائے۔ علم طب میں حکیم حاذق اور زبدۃ الحکماء کی سندیں حاصل کیں۔
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں حضرت شاہ عبد اللہ ابوالخیر مجددی سےبیعت ہوئے،اور کچھ عرصہ بعد شاہ صاحب نے آپ کو خلافت و اجازت سے مشرف فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
ادیب، اریب، فاضلِ جلیل، عالم نبیل، محقق، جامع علوم جدیدہ و قدیمہ، فاضل، حضرت علامہ مولانا محمد عالم آسی امرتسری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید اور کامل عالمِ دین تھے۔پورے ہندوستان میں آپ کا شہرہ تھا۔تحصیلِ علم سےفراغت کے بعد دار العلوم نعمانیہ کے صدر مدرس مقرر ہوئے، اس کے علاوہ لاہور کے چند مدارس میں پڑھایا،لاہور سے امر تسر پہنچے اور مدرسہ نصرۃ الحق میں ادب کے استاذ مقرر ہوئے۔مدرسہ نصرۃ الحق جب ایم ۔اے۔او۔کالج ہوا،توآپ عربی کے پروفیسر مقرر ہوگئے، اورپھر یہیں سے ریٹائرڈ ہوئے۔
اس وقت طلباء آپ سے شرف تلمذ کوسعادت خیال کرتے،اور اس پر فخر کرتےتھے۔آپ کےشاگردوں میں بڑی نامی گرامی شخصیات ہیں۔ تلامذہ میں حضرت صاحبزادہ محمد عمر صاحب پیربل شریف، ڈاکٹر محمد حسن،پی۔ایچ۔ڈی سابق شیخ الادب جامعہ اسلامیہ بہاول پور، علامہ غلام محمد ترنم،فخر الاطباء علامہ فقیر محمد چشتی نظامی امر تسری (والد حکیم محمد موسی امرتسری)، محقق عصر محسن اہل سنت مولانا حکیم محمد موسیٰ امرتسری علیہم الرحمہ۔مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری احراری،مفتی محمد حسن خلیفہ تھانوی ۔ آزادوں میں ڈاکٹر شیخ عنایت اللہ پروفیسر پنجاب یونیورسٹی،علامہ حکیم فیروز الدین طغرائی وغیرہ نامور ہوئے۔
تصنیفات:
آپ کی تصانیف میں "الکادیہ علی الغاویہ"(رد مرزائیت میں بزبان اردو مطبوع) (عربی غیر مطبوع) الجثجاث علی السلام فی الذب عن حریم الاسلام مرزائی مبلغ غلام رسول آف راجکی کے رد میں ،"المیلانی فی القرآن" اور رسائل صرف ونحو مشہور و معروف ہیں ۔
آپ کو اپنے مذہب ومسلک سے گہری وابستگی تھی،اخبار الفقیہ امرتسر کے خصوصی معاون تھے۔خطاطی میں بے مثل کمال حاصل تھا۔ خط نسخ میں آپ جیسا لکھنے والے لوگ کم ہوں گے۔عربی شعر ونثر کی تحریر پر آپ کو بے پناہ قدرت حاصل تھی۔علم وفن اور بالخصوص عربی ادب میں دور دور تک آپ کی نظیرنہ تھی۔ آپ نہایت نیک نفس، متقی، متورع وصوفی بزرگ تھے۔ سادگی، منکسر المزاجی، اور تواضع پسند تھے۔حسنِ اَخلاق کےمالک تھے۔پروفیسر تھے،لیکن اپنےطلباء کےذہن میں اسلامی تہذیب و ثقافت اور دین سےمحبت،اور اطاعتِ خدا و رسول ﷺ کا جذبہ بیدار کرتے تھے ۔
تاریخِ وصال:
28 شعبان المعظم 1363ھ / مطابق 18 اگست 1944ء بعد نماز جمعہ واصل باللہ ہوئے ۔ امرتسر کے مقامی قبرستان میں ابدی راحت فرما ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-muhammad-alam-aasi-amartasri
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Muhammad Alam Aasi Amartasri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا رحیم بخش آروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آرہ، صوبہ بہار کے باشندے، جائے ولادت و سکونت ووفات س شہر آرہ میں ہے، علمائے رام پور، وسہارن پور سے درسیات پڑھی، حدیث کی چند کتابیں پھلواری شریف میں حضرت مولانا عبد الرحمٰن ناصری گنجی سےپڑھیں، یہیں مولانا سید سلیمان ندوی نے آپ سے درس لیا،اعلیٰ حضرت کا شہرہ سُن کر سہارن پور سے واپسی میں بریلی پہونچ کر مرید ہوئے، اور فاضل بریلوی کی فیض صحبت سے فیض یاب ہوکر وطن آئے اور مدرسہ حنفیہ میں مدرس ہوئے،مسائل واعتقاد میں اختلاف کے باعث جدید مدرسہ قائم کیا، فیض الغربا منام رکھا،آرہ کے مشہور شیخ طریقت حضرت شاہ محمد فرید الدین نے آپ سے تعاون فرمایا، تاحینِ حیات آپ اس کے صدر مدرس اور مہتمم رہے، آپ کو فاضلِ بریلوی سے اجازت وخلافت بھی حاصل تھی، مدرسہ فیض الغرباء کے طلبل کی دستار بندی کی، اکثر مجلسوں میں آپ کی دعوت پر فاضل بریلوی نے آرہ تشریف لےجاکر دستار باندھی، حضرت مولانا شاہ عبد الغفور علیہ الرحمۃ اور علامہ محمد ابراہیم آروی، اور حضرت مولانا ولی الرحمٰن پوکھریروی آپ کے مشہور تلامذہ ہیں، فقیہہ ومناظر بھی تھے، آپ کے شیخ کو آپ پر بے حد فخر تھا ـ
وصال:
۸ شعبان المعظم ۴۳، ۱۳۴۴ھ میں فوت ہوئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-rahim-bakhsh-arvi
آرہ، صوبہ بہار کے باشندے، جائے ولادت و سکونت ووفات س شہر آرہ میں ہے، علمائے رام پور، وسہارن پور سے درسیات پڑھی، حدیث کی چند کتابیں پھلواری شریف میں حضرت مولانا عبد الرحمٰن ناصری گنجی سےپڑھیں، یہیں مولانا سید سلیمان ندوی نے آپ سے درس لیا،اعلیٰ حضرت کا شہرہ سُن کر سہارن پور سے واپسی میں بریلی پہونچ کر مرید ہوئے، اور فاضل بریلوی کی فیض صحبت سے فیض یاب ہوکر وطن آئے اور مدرسہ حنفیہ میں مدرس ہوئے،مسائل واعتقاد میں اختلاف کے باعث جدید مدرسہ قائم کیا، فیض الغربا منام رکھا،آرہ کے مشہور شیخ طریقت حضرت شاہ محمد فرید الدین نے آپ سے تعاون فرمایا، تاحینِ حیات آپ اس کے صدر مدرس اور مہتمم رہے، آپ کو فاضلِ بریلوی سے اجازت وخلافت بھی حاصل تھی، مدرسہ فیض الغرباء کے طلبل کی دستار بندی کی، اکثر مجلسوں میں آپ کی دعوت پر فاضل بریلوی نے آرہ تشریف لےجاکر دستار باندھی، حضرت مولانا شاہ عبد الغفور علیہ الرحمۃ اور علامہ محمد ابراہیم آروی، اور حضرت مولانا ولی الرحمٰن پوکھریروی آپ کے مشہور تلامذہ ہیں، فقیہہ ومناظر بھی تھے، آپ کے شیخ کو آپ پر بے حد فخر تھا ـ
وصال:
۸ شعبان المعظم ۴۳، ۱۳۴۴ھ میں فوت ہوئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-rahim-bakhsh-arvi
scholars.pk
Hazrat Molana Rahim Bakhsh Arvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1