Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-08-1445 ᴴ | 18-02-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-08-1445 ᴴ | 18-02-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ کاروبار میں جھوٹی یا سچی قسم کھانا کیسا ـ ❷ سیمپل والی ادویات کی خرید و فروخت کرنا کیسا ـ ❸ کیا خطبہ یا دعا کے بغیر نکاح ہو جائےگا ؟ ـ ❹ جہیز کے سامان کا حکم ـ ❺ حیض کی حالت میں تعویذ پہننے کا حکم ـ ❻ نمبر اور نقش والی تعویذ کا حکم ـ ❼ آن لائن خرید و فروخت کی ناجائز صورت ـ ❽ منی مذی اور ودی کی تعریف مع حکم ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#سوال #جواب #مسئلہ #فتوی
📇 #الرضا_قرآن_و_فقہ_اکیڈمی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ کاروبار میں جھوٹی یا سچی قسم کھانا کیسا ـ ❷ سیمپل والی ادویات کی خرید و فروخت کرنا کیسا ـ ❸ کیا خطبہ یا دعا کے بغیر نکاح ہو جائےگا ؟ ـ ❹ جہیز کے سامان کا حکم ـ ❺ حیض کی حالت میں تعویذ پہننے کا حکم ـ ❻ نمبر اور نقش والی تعویذ کا حکم ـ ❼ آن لائن خرید و فروخت کی ناجائز صورت ـ ❽ منی مذی اور ودی کی تعریف مع حکم ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#سوال #جواب #مسئلہ #فتوی
📇 #الرضا_قرآن_و_فقہ_اکیڈمی
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯1
مبلغ اسلام مولانا ڈاکٹر فضل الرحمن انصاری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا محمد فضل الرحمن انصاری ۔ لقب: مبلغِ اسلام، ضیغمِ اسلام، سفیرِ اسلام ۔ والد کا اسمِ گرامی: مولانا خلیل الرحمن انصاری علیہ الرحمہ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب صحابی و میزبان ِرسول ﷺ حضرت سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
آپ کے بزرگوں میں شیخ الاسلام حضرت خواجہ عبد اللہ انصاری ہروی رحمۃ اللہ علیہ (ہرات ۔ افغانستان) اور سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے حضرت مولانا کریم بخش انصاری المعروف میاں جی رحمۃ اللہ علیہ (مظفر نگر بھارت) اپنے دور کی مشہور شخصیات ہوئے ہیں ۔ (انوار علمائے اہلسنت سندھ، ص: 567) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعۃ المبارک، 14 شعبان المعظم 1333ھ / 25 جون 1915ء کو " مظفر نگر " انڈیا میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
مولانا فضل الرحمن انصاری نے نو عمری میں قرآن پاک حفظ کیا، پھر درس نظامی کی کتب پر عبور حاصل کیا ، 1933ء میں آپ نے میرٹھ کالج سے ایف ۔ ایس ۔ سی کا امتحان پاس کیا اور اسی سال مدرسہ اسلامیہ میرٹھ سے فارغ التحصیل ہو کر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں داخلہ لیا ۔
1935ء میں آپ نے بی ۔ ایس۔ سی کے امتحان میں گولڈ میڈل حاصل کیا، دوسراگولڈ میڈل فلسفہ میں 98 فی صد نمبر حاصل کرنے پر ملا ۔ بر صغیر میں فلسفہ میں اتنے نمبر حاصل کرنے کا نیا ریکارڈ قائم کیا جو اب تک بر قرار ہے ۔
آپ نے علامہ سید سلیمان اشرف بہاری صدر شعبہ علوم اسلامیہ مسلم یونیورسٹی علی گڑ ھ کی نگرانی میں قرآن و حدیث کے علاوہ علم الکلام اور تصوف کی کتابوں کا مطالعہ کیا ۔ 1941ء میں آپ نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے علوم دینیہ کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا ۔ (ایضاً)
آپ اعلیٰ تعلیم کے لئے جرمنی جانا چاہتے تھے کہ دوسری عالمی جنگ چھڑ جانے کی وجہ سے نہ جا سکے ۔ مولانا فرماتے تھے:"جامعہ علی گڑھ سے سائنس میں فیکلٹی سے انٹر پاس کرنے کے بعد اسلامی عقائد کے بارے میں عجیب و غریب شکوک و شبہات دل میں پیدا ہونے لگے تھے بلکہ ایک وقت تو دماغ انکار پر مائل ہو گیا تھا " ۔
لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ، عالمِ اسلام کے عظیم مبلغ خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ محمد عبد العلیم صدیقی قدس سرہ سے ملاقات ہوئی ۔ ان کی نگاہِ کیمیا اثر نے دل و دماغ کی کایا پلٹ دی اور فکر و نظر کا دھارا صحیح سمت کو موڑ دیا، جو دل انکار اسلام پر مائل تھا، دین فطرت کی محبت اور عظمتِ مصطفیٰ ﷺ کا گہوارہ بن گیا ۔ (تذکرہ اکابرِ اہلسنت، ص:380) ـ
بیعت و خلافت:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری کے خلیفہ، سفیرِ اسلام، شیخِ طریقت حضرت علامہ شاہ عبد العلیم صدیقی علیہ الرحمہ نے حطیمِ کعبہ میں آپ کو سلسلۂ عالیہ قادریہ نقشبندیہ چشتیہ اور شاذلیہ میں بیعت کیا اور خلافت سے سر فراز فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
سیاحِ عالم، مبلغ، مفکر، محقق، مصنف، جامع علومِ شرقیہ و غربیہ، عالمِ شریعت، سالکِ راہِ طریقت، فاضلِ فلسفہ جدیدہ و قدیمہ، عالمی مبلغِ اسلام، ضیغمِ اسلام، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد فضل الرحمٰن انصاری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دنیائے اسلام کے مایۂ ناز مبلغ اور بین الاقوامی شخصیت کے حامل تھے ۔ انہوں نے اپنی ساٹھ سالہ زندگی کا اکثر حصہ تبلیغ اسلام میں صرف کیا ۔ پاکستان کے علاوہ افریقہ، امریکہ، ایشیا اور یورپ کے مختلف ممالک میں تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کیا ۔ مولانا انصاری اپنی دینی خدمات کی بنا پر عالم اسلام میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ۔
مولانا فضل الرحمن انصاری انگریزی میں سحر انگیز تقریر فرماتے تھے ۔ یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں ممتاز اہل علم کے سامنے آپ نے بارہا تقریریں کیں، اور بے شمار اہلِ علم آپ کی تقریر سے متاثر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے ۔
قدرت نے آپ کو تحریر و تقریر میں یکساں کمال عطا فرمایا تھا ۔ آپ نے تقریباً 25 کتابیں دعوت اسلام کی تشریح اور افکار باطلہ کی تردید میں انگریزی زبان میں لکھیں اور اہل علم سے خراج تحسین حاصل کیا ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا محمد فضل الرحمن انصاری ۔ لقب: مبلغِ اسلام، ضیغمِ اسلام، سفیرِ اسلام ۔ والد کا اسمِ گرامی: مولانا خلیل الرحمن انصاری علیہ الرحمہ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب صحابی و میزبان ِرسول ﷺ حضرت سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
آپ کے بزرگوں میں شیخ الاسلام حضرت خواجہ عبد اللہ انصاری ہروی رحمۃ اللہ علیہ (ہرات ۔ افغانستان) اور سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے حضرت مولانا کریم بخش انصاری المعروف میاں جی رحمۃ اللہ علیہ (مظفر نگر بھارت) اپنے دور کی مشہور شخصیات ہوئے ہیں ۔ (انوار علمائے اہلسنت سندھ، ص: 567) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعۃ المبارک، 14 شعبان المعظم 1333ھ / 25 جون 1915ء کو " مظفر نگر " انڈیا میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
مولانا فضل الرحمن انصاری نے نو عمری میں قرآن پاک حفظ کیا، پھر درس نظامی کی کتب پر عبور حاصل کیا ، 1933ء میں آپ نے میرٹھ کالج سے ایف ۔ ایس ۔ سی کا امتحان پاس کیا اور اسی سال مدرسہ اسلامیہ میرٹھ سے فارغ التحصیل ہو کر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں داخلہ لیا ۔
1935ء میں آپ نے بی ۔ ایس۔ سی کے امتحان میں گولڈ میڈل حاصل کیا، دوسراگولڈ میڈل فلسفہ میں 98 فی صد نمبر حاصل کرنے پر ملا ۔ بر صغیر میں فلسفہ میں اتنے نمبر حاصل کرنے کا نیا ریکارڈ قائم کیا جو اب تک بر قرار ہے ۔
آپ نے علامہ سید سلیمان اشرف بہاری صدر شعبہ علوم اسلامیہ مسلم یونیورسٹی علی گڑ ھ کی نگرانی میں قرآن و حدیث کے علاوہ علم الکلام اور تصوف کی کتابوں کا مطالعہ کیا ۔ 1941ء میں آپ نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے علوم دینیہ کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا ۔ (ایضاً)
آپ اعلیٰ تعلیم کے لئے جرمنی جانا چاہتے تھے کہ دوسری عالمی جنگ چھڑ جانے کی وجہ سے نہ جا سکے ۔ مولانا فرماتے تھے:"جامعہ علی گڑھ سے سائنس میں فیکلٹی سے انٹر پاس کرنے کے بعد اسلامی عقائد کے بارے میں عجیب و غریب شکوک و شبہات دل میں پیدا ہونے لگے تھے بلکہ ایک وقت تو دماغ انکار پر مائل ہو گیا تھا " ۔
لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ، عالمِ اسلام کے عظیم مبلغ خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ محمد عبد العلیم صدیقی قدس سرہ سے ملاقات ہوئی ۔ ان کی نگاہِ کیمیا اثر نے دل و دماغ کی کایا پلٹ دی اور فکر و نظر کا دھارا صحیح سمت کو موڑ دیا، جو دل انکار اسلام پر مائل تھا، دین فطرت کی محبت اور عظمتِ مصطفیٰ ﷺ کا گہوارہ بن گیا ۔ (تذکرہ اکابرِ اہلسنت، ص:380) ـ
بیعت و خلافت:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری کے خلیفہ، سفیرِ اسلام، شیخِ طریقت حضرت علامہ شاہ عبد العلیم صدیقی علیہ الرحمہ نے حطیمِ کعبہ میں آپ کو سلسلۂ عالیہ قادریہ نقشبندیہ چشتیہ اور شاذلیہ میں بیعت کیا اور خلافت سے سر فراز فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
سیاحِ عالم، مبلغ، مفکر، محقق، مصنف، جامع علومِ شرقیہ و غربیہ، عالمِ شریعت، سالکِ راہِ طریقت، فاضلِ فلسفہ جدیدہ و قدیمہ، عالمی مبلغِ اسلام، ضیغمِ اسلام، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد فضل الرحمٰن انصاری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دنیائے اسلام کے مایۂ ناز مبلغ اور بین الاقوامی شخصیت کے حامل تھے ۔ انہوں نے اپنی ساٹھ سالہ زندگی کا اکثر حصہ تبلیغ اسلام میں صرف کیا ۔ پاکستان کے علاوہ افریقہ، امریکہ، ایشیا اور یورپ کے مختلف ممالک میں تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کیا ۔ مولانا انصاری اپنی دینی خدمات کی بنا پر عالم اسلام میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ۔
مولانا فضل الرحمن انصاری انگریزی میں سحر انگیز تقریر فرماتے تھے ۔ یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں ممتاز اہل علم کے سامنے آپ نے بارہا تقریریں کیں، اور بے شمار اہلِ علم آپ کی تقریر سے متاثر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے ۔
قدرت نے آپ کو تحریر و تقریر میں یکساں کمال عطا فرمایا تھا ۔ آپ نے تقریباً 25 کتابیں دعوت اسلام کی تشریح اور افکار باطلہ کی تردید میں انگریزی زبان میں لکھیں اور اہل علم سے خراج تحسین حاصل کیا ۔
❤1