🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
بیٹوں کے نام یہ ہیں:
سید ابو علی صالح محمد رحمۃ اللہ علیہ
  سید عبد اللہ ۔ ماسٹر غلام نبی ساکن دَسّن پورہ لاہور نے اپنا نسب نامہ کتاب تذکرہ ہاشمیہ میں اس طرح ان کے ساتھ ملایا ہے، غلام نبی بن غلام قادر بن نتھے شاہ بن پیر شاہ بن حکیم ہاشم شاہ تھرپالوی بن حاجی محمد شریف جگدیوی بن محمد بن عبد اللہ بن عبد الرحمٰن بن موسیٰ بن محمد بن موسیٰ بن صالح بن عبد العزیز بن عبد اللہ بن سید محی الدین مسعود گیلانی رحمۃ اللہ علیہ ۔

مگر محققین کے نزدیک یہ نسب نامہ بالکل وضعی ہے کیونکہ بحر السرائر کے علاوہ نسب نامہ سادات پیر کوٹ سدھانہ ضلع جھَنگ میں بھی سید مسعود کے ایک ہی فرزند سید علی لکھے ہیں ۔ اور قاضی بر خوردار ملتانی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب غوث اعظم میں تبصریح لکھا ہے کہ آپ کو (سید محی الدین مسعود کو) صرف ایک صاحبزادہ مسمی سیّد علی قدس سرہٗ خلّاقِ عالم نے عطا کیا جو وارثِ خاندان ہوا اور انہیں سے یہ سلسلہ وہابیہ شروع ہوکر مزیّن عالم ہوا ۔ [۱] [ ۱۔ غوثِ اعظم ص ۳۰۵ شرافت] ـ

بلکہ ماسٹر غلام نبی کے مورث اعلیٰ حکیم میاں ہاشم شاہ شاعر کو پنجابی ادب و تاریخ فاضل پنجابی گائیڈ اور پنجابی صوفی پوئیٹس کے مصنفوں نے نَجّار (بڑھئی) لکھا ہے ۔

تاریخ وصال:
حضرت شیخ سید ابو البرکات محی الدین مسعود گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات بقول صاحب کتاب غوث اعظم (پنجم شعبان) 660ھ چھ سو ساٹھ ہجری مطابق یکشنبہ بست و پنجم (25) جون 1262ء ایک ہزار دو سو باسٹھ عیسوی میں بعہدِ خلافت المستنصر با للہ ثانی ابو القاسم بن الظاہر خلیفہ سی د ہشتم (38) عباسی مصری کے ہوئی ۔

مدفن پاک:
آپ کا مزار پُر انوار شہر حلب ملک شام میں ہے۔ رحمۃ اللہ علیہ ۔

قطعہ تاریخ:
از حضرت مولانا شاہ غلام مصطفےٰ نو شاھی دام برکاتہ

ز دنیا رفت شاہ مسعود ذاکر
بباغِ عدن شد معمور صابر
وصالش مصرعِ گفتم عجیبہ
حبیبِ حامد و محبوب (660) شاکر

از وصالِ سیّدِ مسعود داں
امجدِ ما سید السادات خواں

وصالِ حضرتِ مسعود عُمدہ
سرد شم گفت قمر قادرہ (660)

ز ما کرد تفریق چوں خوش نصیب
وصالش عجب گفت رحلت حبیب (660)

دیگر:
از اسماء الحسنٰے
حَنّان متعالی (660)
علی مقیت (660)
صمد شکور (660)
نعیم ممیت (660)
قدوس ممیت (660)
یقین ممیت (660)
منعم شفیع (660)
کریم رفیق (660)
مکرم رفیع (660)
منیر رفیع (660)
شاھد نصیر (660)
شہید ناصر (660)

( شریف التواریخ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-mohiuddin-masood-gilani
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت عمدۃ المدرسین مولانا محمد فرید رضوی گوجرانوالہ علیہ الرحمۃ

فاضل جلیل عمدۃ المدرسین حضرت ابو الریاض الحاج مولانا محمد فرید رضوی ہزاروی بن الحاج مولانا عبد الجلیل بن مولانا امیر غلام ۵؍شعبان ۱۳۵۶ھ / ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۳۷ء کو موضع جھاڑ مضافات تربیلہ (ہزارہ) میں پیدا ہوئے۔ مشہور پٹھان قوم عیسیٰ خیل کے مورثِ اعلیٰ عیسیٰ خان آپ کے جدِّ اعلیٰ تھے۔ ایک اور جدِّ اعلیٰ عبدالرشید خان قندھار کے حاکمِ اعلیٰ ہو گزرے ہیں۔

آپ عِلمی و رُوحانی خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ والد ماجد مولانا الحاج عبدالجلیل کے شب و روز تبلیغِ دین میں گزرتے ہیں۔ آپ کے جدِّ امجد کے حقیقی بھائی پیرِ طریقت علامہ امیر محمود اپنے علاقہ کے مرکزِ رشد و ہدایت ہیں، سینکڑوں طلباء نے ان سے اکتسابِ فیض کیا، نہایت سادہ منش اور پابندِ شریعت بزرگ ہیں۔ نہ صرف اپنی اولاد کو علومِ دینیہ سے بہرہ ور کیا، بلکہ دامادی کے لیے بھی اصحابِ علومِ اسلامیہ کا انتخاب کیا۔

حضرت مولانا محمد فرید رضوی مدظلہ نے ابتدائی تعلیم بعض مساجد میں حاصل کی۔پھر والد ماجد کی وساطت سے ہزارہ ڈویژن کے روحانی و علمی مرکزی دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ میں داخل ہوئے۔ مولانا قاضی حبیب الرحمٰن اور مولانا قاضی غلام محمود سے عِلمی استفادہ شروع کیا۔ اوّل الذکر حضرت علامہ قاضی عبدالسبحان کھلابٹی رحمہ اللہ کے داماد اور آخر الذکر آپ کے صاحبزادہ ہیں۔ جب حضرت قاضی رحمہ اللہ دار العلوم میں شیخ الحدیث کی حیثیت سے تشریف لائے تو ان سے بھی علمی اکتساب کیا۔ ایک نہایت ہی محنتی اور مشفق استاد مولانا حافظ محمد یوسف سے بھی ابتدائی اسباق پڑھے۔ چار سال بعد جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد میں داخلہ لیا۔ دو سال بعد حضرت محدّثِ اعظم رحمہ اللہ حج پر تشریف لے گئے تو مولانا محمد فرید رضوی جامعہ نعیمیہ لاہور آگئے۔ یہاں آپ نے تقریباً سات سال کے عرصہ میں حضرت مولانا مفتی محمد حسین نعیمی کے زیرِ سایہ درسِ نظامی کی آخری کتب میر زاہد، ملّا جلال، حمد اللہ، قاضی، شمس بازغہ وغیرہ حضرت مولانا حسین امام، مولانا قاضی حبیب الرحمٰن اور مولانا قاضی عزیز الرحمٰن مردانوی سے پڑھیں۔ ہدایہ حضرت فقیہ العصر مفتی اعجاز ولی خاں رحمہ اللہ سے پڑھا۔ بخاری شریف کا درس مولانا مفتی محمد حسین نعیمی سے لیا ان کے علاوہ کچھ اسباق حضرت مولانا مفتی عزیز احمد بدایونی سے بھی پڑھے۔

۱۹۵۹ء میں جامعہ نعیمیہ سے دستارِ فضیلت اور سندِ فراغت حاصل کی۔ ۱۹۶۰ء میں مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں حضرت غزالی زماں علامہ سیّد احمد سعید کاظمی مدظلہ سے علمِ حدیث پڑھ کر سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔

آپ نے تدریسی زندگی کا آغاز جامعہ گنج بخش لاہور سے کیا۔ یہ ادارہ حضرت مولانا مفتی اعجاز ولی خاں رحمہ اللہ کی سر پرستی میں قائم کیا گیا تھا۔ یہاں آپ نے ابتدائی اورمتوسّط کتب پڑھائیں۔ دو سال جامعہ امینیہ گوجر انوالہ میں اور دو سال دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور میں مسندِ تدریس پر فائز رہے۔

۱۹۶۶ء میں حضرت غزالی زماں علامہ احمد سعید کاظمی مدظلہ کے ارشاد پر مدرسہ جامع العلوم خانیوال میں صدر مدرس کی حیثیت سے تدریسی فرائض انجام دینے شروع کیے بندۂ نا چیز (محمد صدیق ہزاروی) نے ایک سال ہری پور اور دو سال خانیوال میں آپ سے علمی استفادہ کیا۔ آپ نہایت مشفق اور مہربان استاد ہیں طالب علم کی علمی ضرورت ہی نہیں، بلکہ ہر قسم کی ضروریات کو پورا کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ جس شفقت اور ہمدردی سے آپ نے بندہ کی تربیّت فرمائی، وہ نا قابلِ فراموش احسان ہے۔

دو سال (۷۲۔۱۹۷۱ء) جامعہ فضل العلوم ڈسکہ میں مدرس رہے اور اب عرصہ چھ سال سے جامعہ فاروقیہ رضویہ تعلیم القرآن گوجرانوالہ میں بطورِ صدر مدّرس علومِ اسلامیہ کی تدریس میں مصروف ہیں۔ دو دفعہ دورۂ حدیث بھی پڑھا چکے ہیں۔

دار العلوم کی مسجد، جامع مسجد فاروقیہ میں خطابت کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔ اس سے قبل شاہد رہ موڑ (لاہور) واہگہ موڑ، گوجرا نوالہ شہر، نوشہرہ درکاں، ہری پور ہزارہ، خانیوال، جہانیاں (ضلع ملتان) اور جامع عمر ڈسکہ میں خطیب رہ چکے ہیں۔

آپ کی سیاسی وابستگی، سوادِ اعظم کی نمائندہ جماعت جمعیت علماء پاکستان سے ہے۔ تحریکِ جمہوریت ۱۹۶۹ء میں آپ نے خانیوال میں بڑے برے جلوس کی قیادت کی، حالانکہ آپ جس دار العلوم سے متعلق تھے، وہ محکمہ اوقاف کے زیرِ اہتمام ایک مسجد میں قائم تھا، لیکن آپ نے خطرات کی پروا کیے بغیر تحریک میں حصہ لیا۔

تحریکِ ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں بھر پور حصہ لیا۔ گوجرانوالہ میں متعدّد جلسوں میں لوگوں کو فتنۂ مرزائیت سے آگاہ کیا۔ تحریک نظام مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ۱۹۷۷ء میں آپ کی کار کردگی پر گوجرانوالہ کی تاریخ شاہد ہے ایک دو کے علاوہ ہر جلوس کی قیادت میں شریک رہے اور بعض جلوسوں کی قیادت تو بلا شرکتِ غیرے کی۔

جمعۃ المبارک کی نماز کے بعد چوک گھنٹہ گھر سے مولانا الحاج ابوداؤد محمد صادق مدظلہ اور مولانا عبد العزیز چشتی کے ہمراہ گرفتاری پیش کی د
و دن اور راتیں صدر تھا نہ گوجرانوالہ میں رہے اور اس کے بعد رہائی ہوئی۔

خانیوال میں قیام کے دوران ’’انجمن اصلاح المسلمین‘‘سے وابستگی رہی اور انجمن کے زیرِ اہتمام بڑی سر گرمی سے تبلیغی واصلاحی کام کیے۔

خانیوال اور گوجر انوالہ میں متعدد بار بد عقیدہ لوگوں سے مناطرے ہوئے اور بفضلہٖ تعالیٰ کامیابی حاصل ہوئی۔ مولوی غلام اللہ (راولپنڈی) سے بحث ہوئی اور دیوبندی مکتبۂ فکر کے نور الحسن شاہ بخاری کو میدانِ مناظرہ سے بھگایا۔ خانیوال کے ایک مناظرہ میں دیو بندی عالم بے شمار کتابیں لے کر آئے، جبکہ حضرت استاذِ محترم کے پاس صرف قصیدہ بُردہ شریف تھا، لیکن آپ نے ابتدائی گفتگو میں ہی مخالفین کو میدان چھوڑنے پر مجبور کردیا۔

فیّاضِ مطلق نے آپ کو تدریسی اور تقریری خوبیوں کے علاوہ جوہر قلم سے سر فراز فرمایا ہے؟ چنانچہ آپ نے گونا گوں مصروفیات کے باوجود درجِ ذیل کتب تصنیف فرمائیں۔

۱۔ صداقتِ میلاد بجواب حقیقتِ میلاد مطبوعہ

۲۔ ’’حاضر و ناظر اور علم غیب‘‘ ملّا علی قاری کی نظر میں مطبوعہ

۳۔ اثبات الدعا بعد الجنازہ بجواب دعا بعد الجنازہ غیر مطبوعہ

۴۔ رسالہ علمِ غیب غیر مطبوعہ

۵۔ ملّا علی قاری اور سر فراز گکھڑوی

حضرت غزالیٔ زماں علامہ سیّد احمد سعید کاظمی مدظلہ سے شرفِ تلّمذ آپ کو پہلے ہی تھا۔ ۱۹۶۶ء میں آپ نے جامعہ اسلامیہ بہاول پور حاضر ہوکر سلسلۂ چشت میں شرف بیعت بھی حاصل کیا اور حضرت کی جانب سے بیعت کی اجازت (خلافت بھی مرحمت ہوئی)

۱۳۹۶ھ /۱۹۷۶ء میں آپ کو جناب والد ماجد کی معیّت میں حج بیت اللہ شریف اور گنبدِ خضریٰ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسّلام کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔

کثیر التعداد طلباء نے آپ سے علمی استفادہ کیا۔ چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:

۱۔ مولانا سیّد بشیر حسین شاہ، گوجرانوالہ

۲۔ مولانا خالد حسن مجدّدی، گوجر انوالہ

۳۔ مولانا سعید احمد مجددی، گوجر انوالہ

۴۔ مولانا گل احمد عتیقی، فیصل آباد

۵۔ مولانا صداقت علی

۶۔ مولانا قاضی محمد یوسف

۷۔ مولانا حافظ محمد علی

۸۔ مولانا قاری عبد الرزاق

۹۔ مولانا محمد حنیف اختر، خانیوال

۱۰۔ محمد صدیق ہزاروی، لاہور (مرتب)

روحانی اولاد کے علاوہ آپ کی چار صاحبزادیاں اور ایک صاحبزادہ مسمّی محمد ریاض الرحمان ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی اولاد کو صالح اور پابندِ شریعت بنائے اور علم دین سے بہرہ ور فرمائے۔[۱]

[۱۔ مکتوب حضرت استاذ محترم مولانا محمد غلام فرید رضوی، بنام مرتب مؤرخہ ۱۳؍ اپریل ۱۹۷۸ء۔]

( تعارف علماءِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-farid-rizvi
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شہزادۂ خواجہ غریب نواز ، حضرت خواجہ فخر الدین ابو الخیر چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

خاندانی حالات:
والد ماجد کی طرف سے آپ حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کی اولاد میں سے ہیں، پس آپ حسینی ہیں۔

والد ماجد:
خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی کے آپ بڑے صاحب زادے ہیں۔

والدہ ماجدہ:
آپ بی بی امتہ اللہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔

۱؎ پیدائش:
آپ کی ولادت باسعادت591ھ میں ہوئی۔

بھائی:
آپ کے دو بھائی تھے ۔ ایک حقیقی اور دوسرے سوتیلے، حقیقی بھائی کانام خواجہ حسام الدین ابو صالح ہے، خواجہ ضیاء الدین ابو سعید آپ کے سوتیلے بھائی ہیں۔

بہن:
بی بی حافظہ جمال آپ کی حقیقی بہن ہیں۔

تعلیم وتربیت:
آپ نے اپنے والد ماجد کے سایہ عاطفت میں تعلیم و تربیت پائی۔

ذریعۂ معاش:
آپ موضع مانڈل میں کاشت کرتے تھے، ایک مرتبہ حاکم وقت نے کچھ مزاحمت کرناچاہی ۔ ۲؎ آپ نے اپنے والد خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی سے عرض کیا ۔ حضرت خواجہ غریب نواز ایک کسان کی سفارش کے لئے دہلی تشریف لے جا رہے تھے ۔ حضرت خواجہ غریب نواز کے دہلی پہنچنے پر موضوع ماندن (ماندل) کی معافی کا فرمان آپ (حضرت خواجہ فخرالدین) کے حق مل گیا ہے ۔ ۳؎

وفات شریف:
آپ 5 شعبان661ھ کو رحمت حق میں پیوست ہوئے،بوقت وفات آپ کی عمر (70) ستر سال کی تھی، یہ بھی کہا جاتا ہےکہ آپ کا وصال حضرت خواجہ غریب نواز کی وفات کے بیس سال بعد ہوا ۔ ۴؎ مزار پر انوار سردار میں فیوض و برکات کا سر چشمہ ہے، آپ کا عرس مبارک بڑے تزک و احتشام سے ہر سال ہوتا ہے۔

سیرت پاک:
آپ صاحب نسبت اور صاحب عظمت بزرگ ہیں ۔ علوم ظاہری و باطنی اور کمالات صوری و معنوی سے آراستہ تھے، آپ دنیا سے بے نیاز تھے، عشق الٰہی میں سرشار تھے۔

حواشی:
۱؎ " معین الہند " از ڈاکڑ ظہور الحسن شارب ص۱۹۱،۱۱۱

۲؎ اخبار الاخیار (اُردوترجمہ)ص۱۰۵

۳؎سیرالاولیاءص۵۳،جامع الکلام ص۲۰۷

۴؎اخبارالاخیار(اُردوترجمہ)ص۱۰۵

( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-fakhruddin-abul-khair-chishti
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شمس العرفاء ، سراج الکملا ، حضرت سید شاہ غلام محی الدین امیر عالم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

تاریخ پیدائش:
حضرت سید شاہ امیر عالم قدس سرہٗ کا سنِ پیدائش 1223ھ ہے ۔

والد ماجد کا نام:
حضرت سید شاہ آل برکات ستھرے میاں صاحب قدس سرہٗ ۔

والد ماجد کی آپ سے انسیت:
آپ کے نام ’’ غلام محی الدین ‘‘ کو سر کار بغداد سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے لقب سے مناسبت تھی جس کی وجہ سے اس درجہ والد ماجد کو آپ سے محبت تھی کہ ذرا دیر بھی جدائی گوارا نہیں فرماتے تھے ۔

زوجہ کا نام:
سیدہ صیانت فاطمہ قدس سرہا بنت حضرت سید سعادت علی صاحب بلگرامی ۔

اولادِ امجاد:
تین صاحبزادے:
(۱) حضرت سید شاہ نور الحسین
(۲) حضرت سید شاہ نور الحسن
(۳) حضرت سید شاہ نور المصطفیٰ ۔

مشہور خلیفہ:
(۱) حضرت سید محمد صادق اور (۲) حضرت سید محمد اسمٰعیل حسن (صاحبِ عرسِ قاسمی) قدس سرہما ۔

اہم کارنامہ:
آپ کا سب سے اہم کارنامہ یہ تھا کہ نواب وزیر والی اودھ کی سرکارمیں ایک مدت تک نائب وزارت کے عہدہ پر فائز رہے لیکن منصبی مشغولیات کے باوجود اوراد و وظائف میں کوئی کمی نہ ہوئی اور عدل و انصاف کا دامن ہاتھ سے کبھی نہ چھوٹا ۔

وصالِ پُر ملال:
5 شعبان بروز بدھ 1286ھ میں لکھنؤ میں ہوا ۔

مزار شریف:
مارہرہ شریف میں ۔

بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ،علی گڑھ

دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی

https://scholars.pk/ur/scholar/shams-ul-urafa-hazrat-syed-shah-ghulam-muhiyuddin-ameer-alam
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سید الشہدا، نواسۂ رسول، حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ۔ کنیت: ابو عبد اللہ ۔ القاب: ولی، زکی، طیب، مبارک، ریحانۃ الرسول ﷺ، سبط الرسول ﷺ ۔ شہید، سید، التابع المرضات اللہ ۔

سلسلہ نسب:
امام حسین بن امیر المؤمنین علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم ۔

والدہ کی طرف سے امام حسین بن سیدۃ النساء حضرت فاطمۃ الزہراء رضی الله تعالیٰ عنہا بنت سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت پانچ شعبان المعظم /5 ھ، بمطابق 8/جنوری 626ء کو مدینۃ المنورہ میں ہوئی۔

سیرتِ مبارکہ:
علم و عمل، زہدو تقوٰے، جود و سخا، شجاعت و قوت، اخلاق و مروّت، صبر و شکر، حلم و حیا وغیرہ صفات کمال میں بوجہ اکمل اور مہمان نوازی، غرباء پروری اعانتِ مظلوم، صلۂ رحم، محبتِ فقراء و مساکین میں شہرہ آفاق تھے ۔ پچیس حج پا پیادہ کیے، دن رات میں تین ہزار رکعت پڑھا کرتے تھے، اور کثرت سے قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے تھے ۔

آپ اتنے با جمال تھے کہ جب تاریکی میں بیٹھتے تو آپ کی پیشانی اور رخساروں کی روشنی سے راستے منور ہو جاتے تھے۔ آپ سینہ سے لے کر پاؤں تک مشابہ بہ جسم رسول پاک ﷺ تھے ۔ (خزینۃ الاصفیاء ص:73)

فضائل و مناقب:
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "حسین منی وانا من الحسین احب اللہ من احب حسینا، حسین سبط من الاسباط" ۔ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ تعالیٰ اس شخص کو محبوب رکھتا ہے، جو حسین سے محبت رکھے، حسین (میری) اولاد میں سے ایک فرزند ارجمند ہے ۔ (جامع ترمذی:3774)

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اللہم انی احبہ فاحبہ یعنی الحسین"۔اے اللہ میں اس حسین سے محبت کرتا ہوں، تو بھی حسین سے محبت فرما ۔ (مسند امام احمد بن حنبل ج:5:105)

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "من احب الحسین فقداحبنی" جس نے حسین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی ۔(مسند امام احمد بن حنبل)

کون حسین:
سیدالشہداء، راکب دوشِ مصطفٰی ﷺ، شہسوارِ کرب و بلا، شہزادہ گلگوں قبا، نواسہ امام الانبیاء ، نورِ جانِ خیر النساء۔پر تو ِشجاعت مرتضیٰ برادرحسنِ مجتبٰی امام عالی مقام حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ۔

آپ بلا شبہ سرخیل عابداں ہیں، اور ایسے عبادت گزار اور شب زندہ دار تھے ۔ جو انتہائی بے کسی کے عالم میں بھی شبِ عاشورہ اپنے خیمہ میں خدائے لا یزال کی عبادت میں اس طرح گزاردی کہ دل میں خیال سو دو زیاں نہ تھا۔

حسین ۔۔۔ وہ عابد باکمال ہے
جو اپنے جسم پر تیروں ، تلواروں اور نیزوں کے ان گنت زخم کھانے کے باوجود بارگاہِ ایزدی میں تپتی ہوئی ریت پر اپنی جبین کو سجدے میں رکھ کر نہایت پر سکوں دکھائی دے رہا تھا۔

ابن زہراء ۔۔۔ وہ محسن اسلام و انسانیت ہے جو بے سر و سامانی کے عالم میں کئی دن کی بھوک اور پیاس کے باوجود ہزاروں دشمنوں کے مقابلے میں تن تنہا ڈٹ گیا ۔ اور تیروں کی بارش، تلواروں کے طوفانی وار اور نیزوں کی چمکتی ہوئی ہزاروں نوکیں، جس کے پائے استقامت میں لغزش نہ لا سکیں ۔ نواسۂ رسول ﷺ، وہ قاری قرآن ہے، جس نے کوفے کے ستم کیش بازاروں میں ، جفا کاروں کے جھر مٹ میں، اسلام کی شان و شوکت اور عظمت و وقار کا علم بلند کرتے ہوئے، جاں نثاروں کی طمانیت کی خاطر قرآن کی بڑائی اور آبرو کے لیے خون سے وضو کئے ہوئے، قرآن مجید کی اس طرح تلاوت فرمائی کہ مذہب کے چہرے پر نکھار آ گیا، شیطانوں کے دل بجھ گئے، بے ایمانوں کی دنیا اجڑ گئی، دنیاوی سلطانوں کے منصوبے خاک میں مل گئے ۔۔۔۔

سرترا نیزے پہ، جاری لب پہ قرآں واہ حسین
رو پڑے نوری یہ اندازِ تلاوت دیکھ کر
1
حسینیت و یزیدیت:
حضرت امام عالی مقام کی شہادت کا پہلا پیغام عملی جد و جہد کا پیغام ہے۔ محبت حسین رضی اللہ عنہ کو فقط رسمی نہ رہنے دیا جائے بلکہ اسے اپنے عمل و حال و قال میں شامل کر لیا جائے اور اپنی زندگی کا مقصد بنایا جائے، یعنی معلوم کیا جائے کہ یزیدی کردار کیا ہے اور حسینی کردار کیا ہے ۔

یزید نے کھلم کھلا اسلام کا انکار نہیں کیا تھا اور نہ ہی بتوں کی پوجا کی تھی، مسجدیں بھی مسمار نہیں کی تھیں ۔ وہ بھی اسلام کا نام لیتا تھا ۔

یزیدی کردار یہ ہے کہ مسلمان بھی ہو اور اسلام سے دھوکہ بھی کرے۔ نام اسلام کا لے اور عمل کافروں والا ہو ۔ اسلام اور مسلمانوں سے دھوکہ و فریب یزیدیت کا نام ہے ۔ یزید ہر دور میں  میں ہوتا ہے۔صرف چہرے بدلتے ہیں، کردار ایک ہی ہوتا ہے۔

حقیقتِ ابدی ہے مقام شبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی

پہلے حسینی کردار کی تجلی اپنے اندر پیدا کرو، سیرت حسین کو اپنے سینے پہ سجا لو، پھر اس قوت حسینی سے یزیدی کردار کی مخالفت اور اس کا مقابلہ کرو ۔ یزیدیت کے بتوں کو پاش پاش کر دو ۔ اس کے لیے اگرچہ تمہیں مال، جان، اور اپنی اولاد کی قربانی ہی کیوں دینا پڑے ۔  یزیدیت کا مقدر شکست ہے، اس کے لئے  صرف جذبۂ صادق چاہیے ۔

قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

تاریخِ شہادت:
بروز جمعۃ المبارکہ 10 محرم الحرام 60ھ / بمطابق اکتوبر 679ء کو مقامِ کربلا پر سجدے کی حالت میں جامِ شہادت نوش کیا ۔ آپ کا مزار پُر انوار "کربلا" عراق میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تاریخ الخلفاء ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ آل رسول ﷺ ۔ مسندِ امام احمد ۔ جامع ترمذی ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-hussain-bin-ali-al-murtaza
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-08-1445 ᴴ | 15-02-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-08-1445 ᴴ | 16-02-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1