🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
نے جملہ علوم و فنون کی تعلیم اپنے والد ماجد امام العلماء مولانا رضا علی خان سے حاصل کی ، آپ ایام طفلی سے ہی پرہیزگار ، متقی اور علم وعمل کے بحر ذخار تھے ، آپ کی ذات مرجع خلائق وعلماء تھی، کثیر علوم میں تصانیف مطبوعہ وغیر مطبوعہ آپ کے علم و فضل کی شاہد ہیں،آپ نے سیّدنا شاہ آلِ رسول قادری برکاتی مارہروی سے شرف بیعت و خلافت حاصل کی۔آپ نے 1297ھ تک فتویٰ نویسی کا گراں قدر فریضہ انجام دیا،آپ کا خونی اسہال کے عارضہ میں ذیقعدہ 1297ھ /1880ء کو وصال ہواجسے علماء نے شہادت سے تعبیر کیا۔

امام العلماء مولانا رضا علی خان 1224ھ میں بریلی میں پیدا ہوئے ، آپ نے جملہ علوم و فنون کی تکمیل 1347ھ میں مولانا خلیل الرحمٰن رامپوری سے حاصل کی ،آپ مولانا فضل الرحمٰن گنج مرآبادی سے بیعت تھے اور اجازت و خلافت مولانا خلیل الرحمن ولایتی رامپوری سے تھی ، فقہہ میں آپ کو دسترس خاص حاصل تھا ، 1816ءمیں آپ نے مسند افتاء کو رونق بخشی اور 1246ھ/ 1831ءمیں سرزمین بریلی پر مسند افتاء کی بنیاد رکھی اور چونتیس سال تک فتویٰ نویسی کا کام بحسن خوبی انجام دیا، آپ نہایت منکسر المزاج تھے، آپ کی تقریر انتہائی موثر ہوتی ، بڑے تقویٰ شعار،زہد وقناعت اور تجرید جیسے اوصاف حمیدہ میں بھی آپ ممتاز تھے، آپ کا وصال بعمر باسٹھ سال 6 جمادی الاول 1286ھ میں ہوا ، اوربریلی میں قبرستان بہاری پور سول لائن آپ کی آخری آرامگاہ ہے۔

حضرت قمر رضا صاحب﷫ کے متعلق ڈاکٹریٹ اور PHD کی ڈگری منسوب کی گئی ہے جو غلط فہمی کی وجہ سے شہرت پاگئی۔ لہٰذا یہاں اس غلط فہمی کا ازالہ کیا گیا ہے۔

مفتی اعظم ہند علامہ مفتی محمد مصطفے رضا خان بریلوی 22ذی الحجہ 1310ھ/7 جولائی 1893ء میں بریلی شریف میں پیدا ہوئے، 25 جمادی الثانی 1311ھ چھ 6ماہ تین یوم کی عمر میں حضرت شاہ سید ابوالحسن نوری قدس سرہٗ نے داخل سلسلہ فرمایا اور تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا، آپ نے 1328ھ/1910ء میں بعمر 18 سال جملہ علوم و فنون منقولات و معقولات پر عبور حاصل کر کے دارالعلوم منظر اسلام سے تکمیل و فراغت پائی ، اور فتویٰ نویسی کی مسند کو رونق بخشی، آپ 92سال کی عمر میں 14 محرم 1402/12نومبر 1981ء رات 1بجکر 40منٹ پر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

صدرالعلماء علامہ تحسین رضاخان بریلوی 4شعبان 1930ء میں پیدا ہوئے،آپ اعلیٰ حضرت کے برادر اصغر مولانا حسن رضا خان متوفی 1326ھ/1908ء کے پوتے ہیں، آپ شعبان 1375ھ میں جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد سے سند فراغت حاصل کر کے بریلی شریف واپس آئے۔ 1949ء میں مولوی ، 1950ء میں عالم ، 1951ءمیں منشی ، 1952ء میں فاضل ادب1954ء میں کامل کے امتحانات دیئے،آپ 1943ء میں حضور مفتی اعظم کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور 1980ھ میں حضور مفتی اعظم نے اجازت و خلافت سے نوازا،آپ کا وصال 1427ھ/ 2007ءمیں ہوا۔

ملازمت:

ابتداء سوداگران سے متصل ایک پرائمری اسکول میں بحیثیت اردو ٹیچر تقرر عمل میں آیا، اس کے بعد بھیم تال نینی تال میں تعلیم دی،پھر اہلسنّت کی کتابوں کو طبع کرنے کیلئے آفسیٹ پریس لگائی۔

بحوالہ :

ماہنامہ اعلیٰ حضرت، شمارہ 8، جلد 52، اگست2012ء، رمضان 1433ھ، صفحہ 58۔ ۱۲منہ

رہائش:

آپ کی رہائش حضور مفسر اعظم جیلانی میاں کی رہائش گاہ میں محلہ خواجہ قطب میں رہی اور یہیں پر پہلے حضور تاج الشریعہ بھی رہے، یہ محلہ سوداگران محلہ سے قریب ہی تقریباً ایک کلو میٹر(دس منٹ) کی مسافت پر ہے۔۱۲

آپ نے اپنی زندگی میں تین حج ادا فرمائے اور متعدد مرتبہ عمرہ کی بھی سعادت حاصل کی، بلکہ اس سال (1433ھ) ماہ رمضان میں بھی جانے والے تھے۔

سب سے پہلی مرتبہ 1990ء میں عمرہ کے لئے حاضر ہوئے، عمرہ کی دائیگی کے بعد عراق کا سفر کیا جس میں بغداد شریف اور دیگر مقامات مقدسہ کی زیارت کا شرف ملا، پہلا حج 1993ء میں ادا کیا، دوسرا حج 2001ء اور تیسرا حج 2002ء میں ادا کیا۔بروایت مولانا عمر رضا: ہندوستان کا کوئی ایسا صوبہ نہیں جہاں ابّا جی قبلہ نے تبلیغی سفر نہ کیا ہو۔۱۲

حضور قمر ملت نے متعدد بار جمعہ مبارک و عیدین ’’رضا مسجد‘‘ بریلی شریف میں پڑھایا۔۱۲

اعلیٰ حضرت نے اپنے شہزدۂ اکبر حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں کی پیدائش پر نام حامد رضا زبر بینہ کے تحت 1362ھ نکالا اور یہی آپ کا سن وصال ٹھہرا۔۱۲

بروایت جانشین و شہزادہ ٔ اکبر حضور قمر ملت ، مولاناعمر رضا خاں صاحب مدظلہٗ:

وصال سے چند ہی ماہ قبل کرناٹک میں حافظ قلندر صاحب گلشن رضوی رائے پور کی دعوت پر حضرت تشریف لائے ، میزبان کو اللہ عزوجل نے اولاد نرینہ عطا فرمائی سو حضرت کی علم الاعداد اور تاریخ گوئی کے فن پر مہارت کو مد نظر رکھتے ہوئے میزبان نے بچے کا نام تجویز کرنے کی درخواست کی جس پر حضرت نے مختصر غور کے برجستہ فرمایا کہ میرا ہی نام محمد قمر رضا 1433ھ سال پر ہے۔ سبحان اللہ۔۱۲

بروایت جانشین و شہزادۂ اکبر حضور قمر مل
1
ت ، مولاناعمر رضا خاں صاحب مدظلہٗ:

ایک بار ’’بلیا‘‘گاؤں مظفر پور ضلع بہار سے حضرت کا گزر ہوا جہاں سے ایک دریا گزرتا تھا جس کا رخ مسلمانوں کے علاقے کی طرف تھا ، حضرت نے اپنی چھڑی مبارکہ سے اس دریا کی طرف اشارہ کیا اور زیر لب کچھ پڑھا جس پر دریا کا رخ تبدیل ہو کر غیر مسلموں کے علاقے کی طرف ہوگیا جو کہ اب تک اسی طرح موجود ہے، حضرت کی اس زندہ کرامت کو دیکھ کر بے شمار غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔۱۲

قریب تین سال سے سینے میں پانی بھی بھر گیا تھا ،ان تمام بیماریوں کے باوجود زندگی کا اکثر حصہ سفر فرمایااور وصال سے قبل بھی سفر ہی میں تھے کہ طبیعت خراب ہوئی اور بریلی شریف تشریف لے آئے۔۱۲

لہٰذا جس ڈاکٹر کے آپ زیر علاج تھے اس کے مطب میں لے جاکر دکھایا گیا۔۱۲

حضور تاج الشریعہ کی عادت مبارک کہ موبائل فون رات میں بند رکھتے اور بعد فجر بھی مگر اس دن فجر کے فوری بعد اپنا فون آن کرلیا اور فرمانے لگے کہ طبیعت کچھ بے چین سی ہورہی ہے اتنے میں فون پر اطلاع موصول ہوئی ۔۱۲

۱ سجادہ نشین درگاہ اعلیٰ حضرت علامہ مفتی سبحان رضا خان سبحانی میاں۔

ماہنامہ اعلیٰ حضرت، شمارہ 8، جلد 52، اگست2012 ، رمضان 1433ھ، صفحہ ۶۰۔

نماز جنازہ میں اجتماع کثیر تھا ، ایسا معلوم ہوتا جیسا کہ عرس اعلیٰ حضرت پر لوگوں کا ہجوم ہو ، دُور دَراز سے لوگ جنازے میں شریک ہوئے یہاں تک کہ بہار سے بریلی تک ٹرین کا سفر 18 گھنٹے ہے، لوگ موٹر سائیکل پر چلے آئے۔۱۲

جنازہ کے بعد تاج الشریعہ بڑے افسردہ تھے اور لیٹ گئے اور اپنے بھائی کی جدائی کا گہرا اثر آپ پر ہوا، حضور قمرِ ملّت ، حضور تاج الشریعہ کا خوب ادب فرماتے یہاں تک کہ اپنی اولاد کو بھی خوب تاکید فرماتے۔۱۲

آپ کے شہزادگان کی گزارش پر حضور صاحب سجادہ نے آپ کی تدفین کے لئے جس جگہ کا انتخاب فرمایا وہ یقیناً ایک فرزند کیلئے بے حد خوش نصیبی اور خوش بختی کی بات ہے کہ آپ کی آرام گاہ والد اور والدہ کے بالکل درمیان اور وسط میں ہے، داہنی اور مغربی جانب حضور مفسر اعظم ہند کی تُربت ہے اور بائیں اور مشرقی جانب آپ کی والدہ کی تُربت ہے۔

۱۲ بحوالہ : ماہنامہ اعلیٰ حضرت، شمارہ 8، جلد 52، اگست 2012ء ، رمضان 1433، صفحہ ۵۹۔

[1]۔ ماہنامہ رضائے مصطفی ، گوجرانوالہ، شوال المکرم1433ھ، اگست 2012ء

۱ حیات مفسر اعظم ہند:۱۳، مفتی عبدالواجد قادری بحوالہ: حضرت مولانا محمد ابراہم خوشتر صدیقی﷫، تذکرۂ جمیل صفحہ ۲۰۶۔

المرجع السابق۔ ۱ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، (ایٹمی سائنسدان) ’’سحر ہونے تک‘‘ روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی میں شائع ہونے والے کالم کا حوالہ۔

۱ شمائل الرسول صفحہ۱۴۴، بحوالہ ضیاء النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جلد:۵، صفحہ ۷۱۰۔

پارہ:۲۷، القمر: ۱ تا ۳۔

کنزالایمان۔

رانا محمد سرور خاں، سیرت سرور کونین، جلد:۱۰، صفحہ:۴۹۳۔

امام ابن جریر الطبری، تفسیر جامع البیان فی تاویل القرآن، جلد یاز دھم:۵۴۴ تا ۵۴۸ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت 1426ھ/ 2005ء۔

تفسیر روح البیان، جلد۹: ۳۱۳، مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت۔

مسلم شریف جلد دوم:۳۷۳، ترمذی، دوم: ۶۳۶۔

علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی﷫، نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری، جلد ہفتم، صفحہ۷۷۔

تفسیر روح المعانی، ۲۷: ۷۵۔

۱ ابی محمدحسین الفرأ البغوی﷫ (متوفی516ھ/ 1122ء) تفسیر معالم التنزیل، جلد:۶، صفحہ: ۲۲۶۔

حضرت صوفی علاء الدین علی بن محمد بغدادی المعروف خازن﷫ (متوفی 725ھ/ 1325ء) تفسیر لباب التأویل فی معانی التنزیل جلد:۶، صفحہ ۲۲۶۔

حضرت شاہ رؤف احمد رافت مجددی﷫ آل مجدد الف ثانی (متوفی 1249ھ/ 1833ء)

تفسیر رؤفی جلد دوم صفحہ ۳۱۹۔

۲ تفسیر رؤفی جلد دوم صفحہ ۳۱۹ میں ہے کہ ایک یہودی مسلمان ہوگیا تھا۔ نیز ایک عبارت میں علمی نکتہ یہ ہے کہ ’’جب خوب سب نے دیکھ لیا تو پھر سرکار علیہ السلام نے جب تک دوبارہ انگشت شہادت کا اشارہ نہیں دیا، اس وقت تک شگافتہ قمر کامل نہیں ہوا‘‘۔

۱ حضرت علامہ علی بن برہان الدین الحلبی شافعی﷫ (متوفی 1044ھ/ 1634ء) انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون، اول: ۳۰۷۔ اس کتاب کو ’’سیرۃ حلبی‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اسی کتاب میں ہے کہ، بابا رتن الھندی کے لیے بعض علماء کہتے ہیں: ’’یہ شخص طویل العمر یعنی 600 سال کے تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا، کہ میں نے رسول اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت بھی کی تھی اور آپﷺ کے دست حق پرست پر مشرف بہ اسلام بھی ہوا تھا‘‘۔ اگرچہ امام ذھبی، امام عسقلانی نے اپنی کتب اسماء الرجال بالترتیب، ’’میزان الاعتدال‘‘، ’’لسان المیزان‘‘ میں متذکرہ شخص کے لیے کذاب کا قول بیان کیا ہے۔

۲ راجہ بھوجپال یا بھوج پانڈے اپنے محل کی چھت پر تھا، جب اُس نے چودھویں شب میں ’’معجزہ شق القمر‘‘ دیکھا تھا، یہ راجہ مشرف بہ اسلام ہوا۔ اس نے اپنے بیٹے کو عرب بھیجا تھا، جس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں اپنے باپ کی جانب سے تحائف پیش
1
کیے۔ اس کا اسلامی نام حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے محی الدین یا کمال الدین رکھا اور بطور معلم حضرت عبداللہ کو بھیجا تھا۔ ان سب کے مزارات دھار /دحار میں ہے، جو مراٹھی راجاؤں (Marhathia Princely State) کا دارالخلافہ تھا اور دریائے چنبل کے کنارے آباد تھا۔ یہیں حضرت عبداللہ چنگال﷜ اور شیخ کمال الدین مالوی﷫ کے مزارات ہیں۔ حوالہ کے لیے: ’’تاریخ فرشتہ‘‘ بک ٹاک، چہارم:۱۳۹۔ وکی پیڈیا عنوان راجہ بھوج۔ دحار۔ صفحہ ۳، ۴۔ نواب شاہجہاں بیگم شیریں: تاج الاقبال، تاریخ ریاست بھوپال بحوالہ: اردو دائرۃ المعارف اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی لاہور، جلد:۵، صفحہ ۳۴۴۔ یہ حوالہ محض بیگم بھوپال کی لکھی ہوئی کتاب کے لیے لکھا گیا ہے جس کی نشاندہی ڈاکٹر عبدالقدیر نے اپنے مضمون شائع شدہ جنگ کراچی میں کی تھی۔

سوانح الحرمین کے حوالہ سے ’’سیرت سرور کونین‘‘ جلد دہم صفحہ۴۹۶ اور ’’سوانح الحرمین‘‘ ہی کے حوالہ سے حضرت علامہ عبدالحلیم حنفی لکھنوی﷫ (متوفی1285ھ/ 1868ء) نے ’’نظم الدرر فی سلک شق القمر‘‘ کے صفحہ ۶۹ پر مدھیہ پردیش یعنی وسط ہندوستان میں مالوہ کی ریاست (بھوپال) کے راجہ کے اسلام لانےا ور اسلامی نام عبداللہ رکھنے کا ذکر کیا ہے۔

جنوبی ہند کی ریاست پلاوا (مالا بار) کے راجہ چیرومان پیرومل نے چودھویں شب 617ء بمطابق 8 نبوی، ’’معجزہ شق القمر‘‘ اپنے محل کے اندر تالاب میں نہاتے ہوئے تالاب کے پانی میں دیکھا کہ چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ ہندو مت اور بدھ مت میں چودھویں شب (بدر کامل کی رات) ’’پویاڈے‘‘ مناتے ہیں۔ یہ فقیر نسیم صدیقی کی تحقیق اور مشاہدہ بھی ہے۔ اس ضمن میں کولمبو، کیرالہ اور مدراس کے اہل علم نے راہنمائی کی۔

کیرالہ کے حضرت علامہ محمد فاضل قادری مدظلہ العالی نے خصوصاً راہنمائی فرمائی۔ راجہ چیرومان پیرومل کا اسلامی نام رسول اکرمﷺ نے عبدالرحمٰن رکھا تھا۔ انھوں نے کرناٹکہ کے صدر مقام منگلور کے قریب ’’کڈنگلور‘‘ اور ’’کاسرگوڈ‘‘ پر (بیرون عرب) دنیا کی پہلی مسجد 629ء/ 8ھجری میں قائم کی۔ پھر اس کے بعد اسی مقام کے قریب ہند کی دوسری مسجد ’’مالک بن دینار‘‘ قائم ہوئی۔

یہ راجہ چیرومان پہلے مسلمان ہوگئے تھے۔ پھر نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی بارگاہ عظمت پناہ میں حاضر ہوئے تھے، صحابیت کا شرف حاصل ہوا۔ اپنی ریاست واپسی کے لیے آقائے دو جہاں علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم سے ہندوستان آ رہے تھے کہ اثنائے راہ ’’یمن‘‘ کی بندرگاہ (اب ’’عمّان‘‘ کی بندرگاہ) ’’ظفار یا ضفار‘‘ کے مقام پر وصال بہ کمال فرمایا اور یہیں تدفین عمل میں آئی، اب بھی راجہ عبدالرحمان کا مزار پر انوار ’’ظفار/ ضفار‘‘ میں موجود اور مرجع خلائق بھی ہے۔ مالابار (جنوبی ہند کے پلاوا شاہی خاندان) کے تمام حکمران اپنے راجہ (چیرومان) کے مسلمان ہونے کے بعد اس کے انتظار میں ’’راجہ عبدالرحمٰن‘‘ کے نائب السلطنت کے منصب کا حلف 1947ء تقسیم ہند تک اُٹھاتے رہے ہیں۔ اور یہ اقرار لازمی کرتے تھے کہ ہم راجہ عبدالرحمٰن کے نائب ہیں، راجہ صاحب کے عرب سے واپس آتے ہی ہم حکمرانی ان کے سپرد کردیں گے۔ رانا سرور خاں صاحب نے ’’مذاہب عالم‘‘ کے حوالہ سے ’’سیرت سرور کونین‘‘ کی جلد دہم صفحہ ۴۹۳ پر لکھا ہے۔ مزید ’’کیرالہ میگزین 1948ء‘‘ اور ’’تاریخ ازبکستان‘‘ مؤلف سیّد کمال الدین احمد سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے۔

۲ محمد قاسم فرشتہ مؤرخ، تاریخ فرشتہ مترجم عبدالحئی خواجہ، ڈاکٹر عبدالرحمٰن دوست ایسوسی ایٹس پبلشرز فقیر راقم الحروف کے زیر استعمال ’’ضیائی ریسرچ لائبریری‘‘ میں ’’تاریخ فرشتہ‘‘ کے دو نسخے موجود ہیں، ایک نسخہ دو جلدوں میں شیخ غلام علی اینڈ سنز کا شائع کردہ ہے جبکہ دوسرا نسخہ بک ٹاک لاہور نے چار جلدوں میں شائع کیا ہوا ہے۔ دونوں نسخوں میں اجمالاً واقعہ کا ذکر ہے۔ قیاس ہے کہ جدید نسخوں میں تحریف کی گئی ہے۔ ہم نے جو تفصیل رقم کی ہے وہ محترم فاضل جلیل حضرت حامد علی علیمی زید مجدہٗ نے اپنے تحقیقی و علمی مواد میں پیش کی ہے، یہ تفصیل، علامہ عبدالحلیم بن امین اللہ لکھنوی﷫ کی تصنیف ’’نظم الدرر فی سلک شق القمر‘‘ کے ترجمہ و تخریج و حواشی کے تحت درج کی ہے۔ البتہ تاریخ فرشتہ جلد چہارم (بک ٹاک) کے صفحہ ۵۶۲ پر راجہ سراندیپ کے مشرف بہ اسلام ہونے کا ذکر ہے۔

۱ واضح رہے کہ ہم کسی شخصیت کو نامزد کرکے تکفیر نہیں کر رہے بلکہ اجماع اُمت بیان کر رہے ہیں کہ نص قرآنی کا انکار کرنے والا ’’ کافر‘‘ ہوتا ہے۔

۱ امام شیخ محمد طاہر بن عاشور (المتوفی1393ھ/ 1973ء)، تفسیر التحریر والتنویر، جز۲۷: ۱۶۸/ ۱۷۰، مطبوعہ تیونس۔

۲ المرجع السابق۔

نابغۂ فلسطین علامہ محمد یوسف بن اسمٰعیل نبہانی﷫، حجۃ اللہ علی العالمین فی معجزات سیّد المرسلین ص۶۵۵۔

۱ سلیمان ندوی، خطبات مدراس۔

سیّد محمد قاسم محمود، اسلامی انسائیکلوپیڈیا جلد دوم صفحہ۱۰۶۸، مطبوعہ لاہور۔

خالد عرفان، نعتیہ مجموعہ ’’الہام‘‘۔

جس میں ’’نیل آرمسٹرانگ‘‘ بھی شامل تھا۔ جو قاہرہ، مصر میں مسلمان ہوگیا
1
تھا، کہ اُس نے چاند پر ایک آواز سنی تھی ’’اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً الرَّسُوْلَ اللہِ‘‘... اور ’’اَللہُ اَکْبَر‘‘ اور جب یہی آواز قاہرہ میں مسجد سے ہونے والی اذان میں سنی، تو وہ مسلمان ہوگیا۔

حضرت سیّدنامحمد شریف المدنی﷫ مدینۃ المنورہ کے مشائخ میں تھے، ۴۰۰ سال قبل رسول اکرمﷺ نے خواب میں حکم فرمایا کہ جنوبی ہند جاؤ، حضرت سیّدنا محمد شریف المدنی﷫ سمندر کے قریب آئے اور اپنا ’’مصلی‘‘ پانی میں ڈال کر بیٹھ گئے، اور پھر منگلور انڈیا پہنچ گئے۔ حضرت کے فیوضات و کرامات کا چرچا زبان زدِ عام ہے۔ آپ کے عرس میں دس لاکھ افراد شریک ہوتے ہیں، اجمیر شریف کے بعد ہندوستان کا سب سے بڑا عرس کا اجتماع ہوتا ہے۔ منگلور کے قریب ’’اُللّال شریف‘‘ (Ullal)، میں حضرت شریف المدنی﷫ کا مزار پُر انوار ہے۔ بحر عرب کے کنارے جنوبی ہند کے مشرقی گھاٹ (Eastern Ghots) مزار شریف سے متصل پانی کا کنواں ہے، جس کا پانی شفاف اور میٹھا ہے، بلکہ مختلف امراض میں باعث شفا بھی ہے، گونگے اور بہرے آتے ہیں شفایاب ہوکر واپس لوٹتے ہیں۔ دور دراز سے معتقدین بکریاں (دیگر حلال مویشی) لنگر شریف کے لیے کسی محافظ و راہبر کے بغیر بھیجتے ہیں، اور چوری اور نقصان سے محفوظ رہتے ہوئے بکرے، بکریاں، مزار شریف پہنچ جاتے ہیں۔ راقم الحروف کے کرم فرما دوست فاضل جلیل حضرت علامہ محمد فاضل اختری مدظلہ العالی (جو کیرالہ میں مقیم ہیں) نے فرمایا، کہ حضرت محمد قمر رضا﷫ یہاں عرس کے اجتماع میں حاضر ہوئے اور خطاب بھی فرمایا تھا۔ حضرت محمد شریف المدنی﷫ کا عرس مبارک پانچ سال میں ایک مرتبہ منعقد ہوتا ہے۔

۱ یہ بزرگ، اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ کی خواہر نسبتی کے نبیرہ ہیں۔

محترم شہید اللہ خان صاحب مدظلہ العالی، برادر طریقت حضرت نعیم اللہ نوری مدظلہ العالی کے والد محترم ہیں۔ شہید اللہ صاحب اور سعید اللہ صاحب دونوں برادران، ڈاکٹر قمر رضا﷫ کے چچا (والد کی جانب سے) اور ماموں (والدہ کی جانب سے) ہوتے ہیں۔

حضرت تحسین رضا﷫ بن حضرت مولاناحسنین رضا بن استاذ زمن مولانا حسن رضا بن مولانا نقی علی خاں (والد گرامی اعلیٰ حضرت) جامعہ نوریہ رضویہ باقر گنج بریلی شریف میں محدث کے منصب پر فائز تھے۔ علامہ تحسین رضا﷫ کی ولادت 14 شعبان 1349ھ/ 5 جنوری 1930ء یکشنبہ ہوئی، وصال بعمر 78سال 1427ھ/ 2007ء میں ہوا۔ آپ علمی حلقوں میں سیّد الاتقیا اور صدر العلماء سے معروف تھے۔

عفت مآب، نہایت صالحہ، زاہدہ و عابدہ خاتون تھی۔ امام المجاہدین و امیر المہاجرین سیّد السادات، منبع البرکات حضرت سیّدنا عبداللہ شاہ غازی بابا (جن کی شہادت 89ھ میں ہوئی) کے مزار پر انوار کے سایۂ بابرکت و احاطہ رحمت میں زوجہ حضرت شوکت حسن خان ابدی نیند آرام فرما رہی ہیں۔

۱ بشکریہ :ماہنامہ اعلیٰ حضرت، شمارہ 8، جلد 52، اگست 2012ء ، رمضان 1433ھ، صفحہ ۵۷۔

(تجلیاتِ قمر، انجمن ضیاء طیبہ)

https://scholars.pk/ur/scholar/gotodate?bd=2&day=05&month=08&year=&page=2
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
حضرت سید محی الدین مسعود گیلانی رضی اللہ عنہ

اوصافِ جمیلہ:
آپ سید الاولیا، سلطان الاصفیا، غوث المحققین، قطب المدققین، سراج العابدین، زَین العارفین، پیشوائے اہلِ طریقت، مقتدائے اصحابِ حقیقت، جمال المشائخ و العلماء تھے ۔ حضرت سید ابو العباس ابو المسعود احمد گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند یگانہ و مرید و خلیفہ اعظم اور سجادہ نشین تھے ۔

نام و لقب:
آپ کا نامِ نامی اسم گرامی مسعود ہے ـ

[۱] [۱۔ رسالہ الامجاز قلمی نسخہ الف ص ۶۔ بحر السرائر قلمی۔ شجرۃ الانوار قلمی۔ کنزالرحمت ص ۸]

کنیت:
سامی ابو علی ابو البرکات ـ

لقب:
محی الدین ، نور الدین ، شیخ الشیوخ اور سید السادات تھا ۔

ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 620ھ چھ سو بیس ہجری، [۱] [ ۱۔ باغ سادات قلمی] مطابق 1223ء ایک ہزار دو سو تیئیس عیسوی میں بعہدِ خلافت الناصر الدین اللہ ابو العباس احمد بن المستضیئی بن المستنجد عباسی بغداد شریف میں ہوئی ۔

تحصیلِ علوم:
آپ بچپن میں ہی اپنے والد صاحب کے ساتھ بغداد سے رُوم چلے گئے ۔ وہیں ظاہری علوم معقول و منقول کی تحصیل اپنے والد ماجد اور دیگر شیوخ سے کی ۔ فقہ و حدیث میں یکتا ہوئے ۔ جامع ظاہری و باطنی تھے آپ نہایت فہیم اور صاحبِ اوصافِ جمیلہ تھے ۔

بیعت و خلافت:
آپ نے بیعتِ طریقت اپنے والد بزرگوار شیخ المشائخ حضرت سید ابو العباس حمید الدین احمد یعنی ابو المسعود علم الدین احمد گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پر کی ۔ اور سلوک قادریہ پورا کر کے خرقہ خلافت و ارشاد حاصِل کیا ۔

مشائخ صحبت:
آپ نے شیخ نور محمد قادری رحمۃ اللہ علیہ اور سید علی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت سے بھی فیض پایا ۔

تدریس:
آپ بھی اپنے آبا و اجداد کی طرح درس و تدریس کا مشغلہ رکھتے تھے تمام عمر تبلیغِ اسلام میں صَرف کردی ہزاروں کی تعداد میں مخلوقِ خدا آپ کے فیض سے سیراب ہوئی ۔

ذکر و فکر:
آپ اکثر حلقہ ذکر کیا کرتے اور خالی اوقات میں بحکمِ حدیث شریف تفکر ساعۃ خیر من عبادۃ الثقلین فکر میں محو و مستغرق رہتے ۔

ذکرِ مولاش بود دِردِ زباں
خالی از فکرِ حق نبود ز ماں

اخلاق و عادات:
آپ عشقِ ذاتِ حق میں ہمیشہ محو و مستغرق رہتے ۔ جس پر نگاہ رحمت ڈالتے دونو جہان کے غم سے نجات پاتا اور ابدی راحت اُس کے نصیب ہوتی ۔

کلماتِ طیّبات:
نصائح آپ نے سالکانِ طریقت کو فرمایا ہے۔ ہمیشہ خوش رہو ۔ خاموشی زیادہ رکھو، تفکر میں رہنا اختیار کرو ۔ اخوانِ طریقت کو تلاش کر کے ملو ،مسکینوں پر رحم کرو جودو سخا کے اوصاف سے موصوف ہو، بخل سے اجتناب کرو ۔ امورِ شریعت کی پابندی میں کوشش کیا کرو۔ ہزلیات سے احتراز کرو، ہر ایک کام میں اعتدال کو ملحوظ رکھو، حُب فی اللہ اور بُغض فی اللہ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اپنا شعار بناؤ ۔ اگر کسی سے تنازعہ ہوجائے تو اچھا طریقہ پکڑو، دین میں پختہ ہوجاؤ، نزاع کو ترک کرو ۔ اپنی طبیعت کو شگفتہ بناؤ ۔ نیک اخلاق سے برتاؤ کرو ۔ اپنے احوالِ باطن کو پوشیدہ رکھو، حقائق و اسرار کو افشاں نہ کرو۔ نیک کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو ۔

اولادِ کرام:
صاحب بحر السرائر نے لکھا ہے کہ آپ کے تین بیٹے تھے ۔

شیخ ابو الحسن ضیاء الدین سید علی رحمۃ اللہ علیہ ان کا ذکر آگے لکھا جائےگا ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ باقی دونو ں بیٹوں کے اُس نے نام نہیں لکھے صرف اسی قدر لکھ دیا ہے کہ ’’اگرچہ دو پسر دیگر داشتند ان ازالنا اولاد و احفا د نیست‘‘ یعنی اگرچہ دو بیٹے اور بھی تھے مگر اُن سے کوئی اولاد نہیں ہے ۔

بعض تحریروں سے آپ کی اہلیہ و بیٹوں کے یہ نام بھی ظاہر ہوئے ہیں ۔

اہلیہ کا نام سیدہ عایشہ بی بی بنت شاہ حیدر لاہوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
بیٹوں کے نام یہ ہیں:
سید ابو علی صالح محمد رحمۃ اللہ علیہ
  سید عبد اللہ ۔ ماسٹر غلام نبی ساکن دَسّن پورہ لاہور نے اپنا نسب نامہ کتاب تذکرہ ہاشمیہ میں اس طرح ان کے ساتھ ملایا ہے، غلام نبی بن غلام قادر بن نتھے شاہ بن پیر شاہ بن حکیم ہاشم شاہ تھرپالوی بن حاجی محمد شریف جگدیوی بن محمد بن عبد اللہ بن عبد الرحمٰن بن موسیٰ بن محمد بن موسیٰ بن صالح بن عبد العزیز بن عبد اللہ بن سید محی الدین مسعود گیلانی رحمۃ اللہ علیہ ۔

مگر محققین کے نزدیک یہ نسب نامہ بالکل وضعی ہے کیونکہ بحر السرائر کے علاوہ نسب نامہ سادات پیر کوٹ سدھانہ ضلع جھَنگ میں بھی سید مسعود کے ایک ہی فرزند سید علی لکھے ہیں ۔ اور قاضی بر خوردار ملتانی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب غوث اعظم میں تبصریح لکھا ہے کہ آپ کو (سید محی الدین مسعود کو) صرف ایک صاحبزادہ مسمی سیّد علی قدس سرہٗ خلّاقِ عالم نے عطا کیا جو وارثِ خاندان ہوا اور انہیں سے یہ سلسلہ وہابیہ شروع ہوکر مزیّن عالم ہوا ۔ [۱] [ ۱۔ غوثِ اعظم ص ۳۰۵ شرافت] ـ

بلکہ ماسٹر غلام نبی کے مورث اعلیٰ حکیم میاں ہاشم شاہ شاعر کو پنجابی ادب و تاریخ فاضل پنجابی گائیڈ اور پنجابی صوفی پوئیٹس کے مصنفوں نے نَجّار (بڑھئی) لکھا ہے ۔

تاریخ وصال:
حضرت شیخ سید ابو البرکات محی الدین مسعود گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات بقول صاحب کتاب غوث اعظم (پنجم شعبان) 660ھ چھ سو ساٹھ ہجری مطابق یکشنبہ بست و پنجم (25) جون 1262ء ایک ہزار دو سو باسٹھ عیسوی میں بعہدِ خلافت المستنصر با للہ ثانی ابو القاسم بن الظاہر خلیفہ سی د ہشتم (38) عباسی مصری کے ہوئی ۔

مدفن پاک:
آپ کا مزار پُر انوار شہر حلب ملک شام میں ہے۔ رحمۃ اللہ علیہ ۔

قطعہ تاریخ:
از حضرت مولانا شاہ غلام مصطفےٰ نو شاھی دام برکاتہ

ز دنیا رفت شاہ مسعود ذاکر
بباغِ عدن شد معمور صابر
وصالش مصرعِ گفتم عجیبہ
حبیبِ حامد و محبوب (660) شاکر

از وصالِ سیّدِ مسعود داں
امجدِ ما سید السادات خواں

وصالِ حضرتِ مسعود عُمدہ
سرد شم گفت قمر قادرہ (660)

ز ما کرد تفریق چوں خوش نصیب
وصالش عجب گفت رحلت حبیب (660)

دیگر:
از اسماء الحسنٰے
حَنّان متعالی (660)
علی مقیت (660)
صمد شکور (660)
نعیم ممیت (660)
قدوس ممیت (660)
یقین ممیت (660)
منعم شفیع (660)
کریم رفیق (660)
مکرم رفیع (660)
منیر رفیع (660)
شاھد نصیر (660)
شہید ناصر (660)

( شریف التواریخ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-mohiuddin-masood-gilani
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت عمدۃ المدرسین مولانا محمد فرید رضوی گوجرانوالہ علیہ الرحمۃ

فاضل جلیل عمدۃ المدرسین حضرت ابو الریاض الحاج مولانا محمد فرید رضوی ہزاروی بن الحاج مولانا عبد الجلیل بن مولانا امیر غلام ۵؍شعبان ۱۳۵۶ھ / ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۳۷ء کو موضع جھاڑ مضافات تربیلہ (ہزارہ) میں پیدا ہوئے۔ مشہور پٹھان قوم عیسیٰ خیل کے مورثِ اعلیٰ عیسیٰ خان آپ کے جدِّ اعلیٰ تھے۔ ایک اور جدِّ اعلیٰ عبدالرشید خان قندھار کے حاکمِ اعلیٰ ہو گزرے ہیں۔

آپ عِلمی و رُوحانی خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ والد ماجد مولانا الحاج عبدالجلیل کے شب و روز تبلیغِ دین میں گزرتے ہیں۔ آپ کے جدِّ امجد کے حقیقی بھائی پیرِ طریقت علامہ امیر محمود اپنے علاقہ کے مرکزِ رشد و ہدایت ہیں، سینکڑوں طلباء نے ان سے اکتسابِ فیض کیا، نہایت سادہ منش اور پابندِ شریعت بزرگ ہیں۔ نہ صرف اپنی اولاد کو علومِ دینیہ سے بہرہ ور کیا، بلکہ دامادی کے لیے بھی اصحابِ علومِ اسلامیہ کا انتخاب کیا۔

حضرت مولانا محمد فرید رضوی مدظلہ نے ابتدائی تعلیم بعض مساجد میں حاصل کی۔پھر والد ماجد کی وساطت سے ہزارہ ڈویژن کے روحانی و علمی مرکزی دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ میں داخل ہوئے۔ مولانا قاضی حبیب الرحمٰن اور مولانا قاضی غلام محمود سے عِلمی استفادہ شروع کیا۔ اوّل الذکر حضرت علامہ قاضی عبدالسبحان کھلابٹی رحمہ اللہ کے داماد اور آخر الذکر آپ کے صاحبزادہ ہیں۔ جب حضرت قاضی رحمہ اللہ دار العلوم میں شیخ الحدیث کی حیثیت سے تشریف لائے تو ان سے بھی علمی اکتساب کیا۔ ایک نہایت ہی محنتی اور مشفق استاد مولانا حافظ محمد یوسف سے بھی ابتدائی اسباق پڑھے۔ چار سال بعد جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد میں داخلہ لیا۔ دو سال بعد حضرت محدّثِ اعظم رحمہ اللہ حج پر تشریف لے گئے تو مولانا محمد فرید رضوی جامعہ نعیمیہ لاہور آگئے۔ یہاں آپ نے تقریباً سات سال کے عرصہ میں حضرت مولانا مفتی محمد حسین نعیمی کے زیرِ سایہ درسِ نظامی کی آخری کتب میر زاہد، ملّا جلال، حمد اللہ، قاضی، شمس بازغہ وغیرہ حضرت مولانا حسین امام، مولانا قاضی حبیب الرحمٰن اور مولانا قاضی عزیز الرحمٰن مردانوی سے پڑھیں۔ ہدایہ حضرت فقیہ العصر مفتی اعجاز ولی خاں رحمہ اللہ سے پڑھا۔ بخاری شریف کا درس مولانا مفتی محمد حسین نعیمی سے لیا ان کے علاوہ کچھ اسباق حضرت مولانا مفتی عزیز احمد بدایونی سے بھی پڑھے۔

۱۹۵۹ء میں جامعہ نعیمیہ سے دستارِ فضیلت اور سندِ فراغت حاصل کی۔ ۱۹۶۰ء میں مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں حضرت غزالی زماں علامہ سیّد احمد سعید کاظمی مدظلہ سے علمِ حدیث پڑھ کر سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔

آپ نے تدریسی زندگی کا آغاز جامعہ گنج بخش لاہور سے کیا۔ یہ ادارہ حضرت مولانا مفتی اعجاز ولی خاں رحمہ اللہ کی سر پرستی میں قائم کیا گیا تھا۔ یہاں آپ نے ابتدائی اورمتوسّط کتب پڑھائیں۔ دو سال جامعہ امینیہ گوجر انوالہ میں اور دو سال دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور میں مسندِ تدریس پر فائز رہے۔

۱۹۶۶ء میں حضرت غزالی زماں علامہ احمد سعید کاظمی مدظلہ کے ارشاد پر مدرسہ جامع العلوم خانیوال میں صدر مدرس کی حیثیت سے تدریسی فرائض انجام دینے شروع کیے بندۂ نا چیز (محمد صدیق ہزاروی) نے ایک سال ہری پور اور دو سال خانیوال میں آپ سے علمی استفادہ کیا۔ آپ نہایت مشفق اور مہربان استاد ہیں طالب علم کی علمی ضرورت ہی نہیں، بلکہ ہر قسم کی ضروریات کو پورا کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ جس شفقت اور ہمدردی سے آپ نے بندہ کی تربیّت فرمائی، وہ نا قابلِ فراموش احسان ہے۔

دو سال (۷۲۔۱۹۷۱ء) جامعہ فضل العلوم ڈسکہ میں مدرس رہے اور اب عرصہ چھ سال سے جامعہ فاروقیہ رضویہ تعلیم القرآن گوجرانوالہ میں بطورِ صدر مدّرس علومِ اسلامیہ کی تدریس میں مصروف ہیں۔ دو دفعہ دورۂ حدیث بھی پڑھا چکے ہیں۔

دار العلوم کی مسجد، جامع مسجد فاروقیہ میں خطابت کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔ اس سے قبل شاہد رہ موڑ (لاہور) واہگہ موڑ، گوجرا نوالہ شہر، نوشہرہ درکاں، ہری پور ہزارہ، خانیوال، جہانیاں (ضلع ملتان) اور جامع عمر ڈسکہ میں خطیب رہ چکے ہیں۔

آپ کی سیاسی وابستگی، سوادِ اعظم کی نمائندہ جماعت جمعیت علماء پاکستان سے ہے۔ تحریکِ جمہوریت ۱۹۶۹ء میں آپ نے خانیوال میں بڑے برے جلوس کی قیادت کی، حالانکہ آپ جس دار العلوم سے متعلق تھے، وہ محکمہ اوقاف کے زیرِ اہتمام ایک مسجد میں قائم تھا، لیکن آپ نے خطرات کی پروا کیے بغیر تحریک میں حصہ لیا۔

تحریکِ ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں بھر پور حصہ لیا۔ گوجرانوالہ میں متعدّد جلسوں میں لوگوں کو فتنۂ مرزائیت سے آگاہ کیا۔ تحریک نظام مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ۱۹۷۷ء میں آپ کی کار کردگی پر گوجرانوالہ کی تاریخ شاہد ہے ایک دو کے علاوہ ہر جلوس کی قیادت میں شریک رہے اور بعض جلوسوں کی قیادت تو بلا شرکتِ غیرے کی۔

جمعۃ المبارک کی نماز کے بعد چوک گھنٹہ گھر سے مولانا الحاج ابوداؤد محمد صادق مدظلہ اور مولانا عبد العزیز چشتی کے ہمراہ گرفتاری پیش کی د
و دن اور راتیں صدر تھا نہ گوجرانوالہ میں رہے اور اس کے بعد رہائی ہوئی۔

خانیوال میں قیام کے دوران ’’انجمن اصلاح المسلمین‘‘سے وابستگی رہی اور انجمن کے زیرِ اہتمام بڑی سر گرمی سے تبلیغی واصلاحی کام کیے۔

خانیوال اور گوجر انوالہ میں متعدد بار بد عقیدہ لوگوں سے مناطرے ہوئے اور بفضلہٖ تعالیٰ کامیابی حاصل ہوئی۔ مولوی غلام اللہ (راولپنڈی) سے بحث ہوئی اور دیوبندی مکتبۂ فکر کے نور الحسن شاہ بخاری کو میدانِ مناظرہ سے بھگایا۔ خانیوال کے ایک مناظرہ میں دیو بندی عالم بے شمار کتابیں لے کر آئے، جبکہ حضرت استاذِ محترم کے پاس صرف قصیدہ بُردہ شریف تھا، لیکن آپ نے ابتدائی گفتگو میں ہی مخالفین کو میدان چھوڑنے پر مجبور کردیا۔

فیّاضِ مطلق نے آپ کو تدریسی اور تقریری خوبیوں کے علاوہ جوہر قلم سے سر فراز فرمایا ہے؟ چنانچہ آپ نے گونا گوں مصروفیات کے باوجود درجِ ذیل کتب تصنیف فرمائیں۔

۱۔ صداقتِ میلاد بجواب حقیقتِ میلاد مطبوعہ

۲۔ ’’حاضر و ناظر اور علم غیب‘‘ ملّا علی قاری کی نظر میں مطبوعہ

۳۔ اثبات الدعا بعد الجنازہ بجواب دعا بعد الجنازہ غیر مطبوعہ

۴۔ رسالہ علمِ غیب غیر مطبوعہ

۵۔ ملّا علی قاری اور سر فراز گکھڑوی

حضرت غزالیٔ زماں علامہ سیّد احمد سعید کاظمی مدظلہ سے شرفِ تلّمذ آپ کو پہلے ہی تھا۔ ۱۹۶۶ء میں آپ نے جامعہ اسلامیہ بہاول پور حاضر ہوکر سلسلۂ چشت میں شرف بیعت بھی حاصل کیا اور حضرت کی جانب سے بیعت کی اجازت (خلافت بھی مرحمت ہوئی)

۱۳۹۶ھ /۱۹۷۶ء میں آپ کو جناب والد ماجد کی معیّت میں حج بیت اللہ شریف اور گنبدِ خضریٰ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسّلام کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔

کثیر التعداد طلباء نے آپ سے علمی استفادہ کیا۔ چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:

۱۔ مولانا سیّد بشیر حسین شاہ، گوجرانوالہ

۲۔ مولانا خالد حسن مجدّدی، گوجر انوالہ

۳۔ مولانا سعید احمد مجددی، گوجر انوالہ

۴۔ مولانا گل احمد عتیقی، فیصل آباد

۵۔ مولانا صداقت علی

۶۔ مولانا قاضی محمد یوسف

۷۔ مولانا حافظ محمد علی

۸۔ مولانا قاری عبد الرزاق

۹۔ مولانا محمد حنیف اختر، خانیوال

۱۰۔ محمد صدیق ہزاروی، لاہور (مرتب)

روحانی اولاد کے علاوہ آپ کی چار صاحبزادیاں اور ایک صاحبزادہ مسمّی محمد ریاض الرحمان ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی اولاد کو صالح اور پابندِ شریعت بنائے اور علم دین سے بہرہ ور فرمائے۔[۱]

[۱۔ مکتوب حضرت استاذ محترم مولانا محمد غلام فرید رضوی، بنام مرتب مؤرخہ ۱۳؍ اپریل ۱۹۷۸ء۔]

( تعارف علماءِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-farid-rizvi
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شہزادۂ خواجہ غریب نواز ، حضرت خواجہ فخر الدین ابو الخیر چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

خاندانی حالات:
والد ماجد کی طرف سے آپ حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کی اولاد میں سے ہیں، پس آپ حسینی ہیں۔

والد ماجد:
خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی کے آپ بڑے صاحب زادے ہیں۔

والدہ ماجدہ:
آپ بی بی امتہ اللہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔

۱؎ پیدائش:
آپ کی ولادت باسعادت591ھ میں ہوئی۔

بھائی:
آپ کے دو بھائی تھے ۔ ایک حقیقی اور دوسرے سوتیلے، حقیقی بھائی کانام خواجہ حسام الدین ابو صالح ہے، خواجہ ضیاء الدین ابو سعید آپ کے سوتیلے بھائی ہیں۔

بہن:
بی بی حافظہ جمال آپ کی حقیقی بہن ہیں۔

تعلیم وتربیت:
آپ نے اپنے والد ماجد کے سایہ عاطفت میں تعلیم و تربیت پائی۔

ذریعۂ معاش:
آپ موضع مانڈل میں کاشت کرتے تھے، ایک مرتبہ حاکم وقت نے کچھ مزاحمت کرناچاہی ۔ ۲؎ آپ نے اپنے والد خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی سے عرض کیا ۔ حضرت خواجہ غریب نواز ایک کسان کی سفارش کے لئے دہلی تشریف لے جا رہے تھے ۔ حضرت خواجہ غریب نواز کے دہلی پہنچنے پر موضوع ماندن (ماندل) کی معافی کا فرمان آپ (حضرت خواجہ فخرالدین) کے حق مل گیا ہے ۔ ۳؎

وفات شریف:
آپ 5 شعبان661ھ کو رحمت حق میں پیوست ہوئے،بوقت وفات آپ کی عمر (70) ستر سال کی تھی، یہ بھی کہا جاتا ہےکہ آپ کا وصال حضرت خواجہ غریب نواز کی وفات کے بیس سال بعد ہوا ۔ ۴؎ مزار پر انوار سردار میں فیوض و برکات کا سر چشمہ ہے، آپ کا عرس مبارک بڑے تزک و احتشام سے ہر سال ہوتا ہے۔

سیرت پاک:
آپ صاحب نسبت اور صاحب عظمت بزرگ ہیں ۔ علوم ظاہری و باطنی اور کمالات صوری و معنوی سے آراستہ تھے، آپ دنیا سے بے نیاز تھے، عشق الٰہی میں سرشار تھے۔

حواشی:
۱؎ " معین الہند " از ڈاکڑ ظہور الحسن شارب ص۱۹۱،۱۱۱

۲؎ اخبار الاخیار (اُردوترجمہ)ص۱۰۵

۳؎سیرالاولیاءص۵۳،جامع الکلام ص۲۰۷

۴؎اخبارالاخیار(اُردوترجمہ)ص۱۰۵

( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-fakhruddin-abul-khair-chishti
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شمس العرفاء ، سراج الکملا ، حضرت سید شاہ غلام محی الدین امیر عالم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

تاریخ پیدائش:
حضرت سید شاہ امیر عالم قدس سرہٗ کا سنِ پیدائش 1223ھ ہے ۔

والد ماجد کا نام:
حضرت سید شاہ آل برکات ستھرے میاں صاحب قدس سرہٗ ۔

والد ماجد کی آپ سے انسیت:
آپ کے نام ’’ غلام محی الدین ‘‘ کو سر کار بغداد سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے لقب سے مناسبت تھی جس کی وجہ سے اس درجہ والد ماجد کو آپ سے محبت تھی کہ ذرا دیر بھی جدائی گوارا نہیں فرماتے تھے ۔

زوجہ کا نام:
سیدہ صیانت فاطمہ قدس سرہا بنت حضرت سید سعادت علی صاحب بلگرامی ۔

اولادِ امجاد:
تین صاحبزادے:
(۱) حضرت سید شاہ نور الحسین
(۲) حضرت سید شاہ نور الحسن
(۳) حضرت سید شاہ نور المصطفیٰ ۔

مشہور خلیفہ:
(۱) حضرت سید محمد صادق اور (۲) حضرت سید محمد اسمٰعیل حسن (صاحبِ عرسِ قاسمی) قدس سرہما ۔

اہم کارنامہ:
آپ کا سب سے اہم کارنامہ یہ تھا کہ نواب وزیر والی اودھ کی سرکارمیں ایک مدت تک نائب وزارت کے عہدہ پر فائز رہے لیکن منصبی مشغولیات کے باوجود اوراد و وظائف میں کوئی کمی نہ ہوئی اور عدل و انصاف کا دامن ہاتھ سے کبھی نہ چھوٹا ۔

وصالِ پُر ملال:
5 شعبان بروز بدھ 1286ھ میں لکھنؤ میں ہوا ۔

مزار شریف:
مارہرہ شریف میں ۔

بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ،علی گڑھ

دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی

https://scholars.pk/ur/scholar/shams-ul-urafa-hazrat-syed-shah-ghulam-muhiyuddin-ameer-alam
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سید الشہدا، نواسۂ رسول، حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ۔ کنیت: ابو عبد اللہ ۔ القاب: ولی، زکی، طیب، مبارک، ریحانۃ الرسول ﷺ، سبط الرسول ﷺ ۔ شہید، سید، التابع المرضات اللہ ۔

سلسلہ نسب:
امام حسین بن امیر المؤمنین علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم ۔

والدہ کی طرف سے امام حسین بن سیدۃ النساء حضرت فاطمۃ الزہراء رضی الله تعالیٰ عنہا بنت سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت پانچ شعبان المعظم /5 ھ، بمطابق 8/جنوری 626ء کو مدینۃ المنورہ میں ہوئی۔

سیرتِ مبارکہ:
علم و عمل، زہدو تقوٰے، جود و سخا، شجاعت و قوت، اخلاق و مروّت، صبر و شکر، حلم و حیا وغیرہ صفات کمال میں بوجہ اکمل اور مہمان نوازی، غرباء پروری اعانتِ مظلوم، صلۂ رحم، محبتِ فقراء و مساکین میں شہرہ آفاق تھے ۔ پچیس حج پا پیادہ کیے، دن رات میں تین ہزار رکعت پڑھا کرتے تھے، اور کثرت سے قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے تھے ۔

آپ اتنے با جمال تھے کہ جب تاریکی میں بیٹھتے تو آپ کی پیشانی اور رخساروں کی روشنی سے راستے منور ہو جاتے تھے۔ آپ سینہ سے لے کر پاؤں تک مشابہ بہ جسم رسول پاک ﷺ تھے ۔ (خزینۃ الاصفیاء ص:73)

فضائل و مناقب:
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "حسین منی وانا من الحسین احب اللہ من احب حسینا، حسین سبط من الاسباط" ۔ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ تعالیٰ اس شخص کو محبوب رکھتا ہے، جو حسین سے محبت رکھے، حسین (میری) اولاد میں سے ایک فرزند ارجمند ہے ۔ (جامع ترمذی:3774)

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اللہم انی احبہ فاحبہ یعنی الحسین"۔اے اللہ میں اس حسین سے محبت کرتا ہوں، تو بھی حسین سے محبت فرما ۔ (مسند امام احمد بن حنبل ج:5:105)

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "من احب الحسین فقداحبنی" جس نے حسین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی ۔(مسند امام احمد بن حنبل)

کون حسین:
سیدالشہداء، راکب دوشِ مصطفٰی ﷺ، شہسوارِ کرب و بلا، شہزادہ گلگوں قبا، نواسہ امام الانبیاء ، نورِ جانِ خیر النساء۔پر تو ِشجاعت مرتضیٰ برادرحسنِ مجتبٰی امام عالی مقام حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ۔

آپ بلا شبہ سرخیل عابداں ہیں، اور ایسے عبادت گزار اور شب زندہ دار تھے ۔ جو انتہائی بے کسی کے عالم میں بھی شبِ عاشورہ اپنے خیمہ میں خدائے لا یزال کی عبادت میں اس طرح گزاردی کہ دل میں خیال سو دو زیاں نہ تھا۔

حسین ۔۔۔ وہ عابد باکمال ہے
جو اپنے جسم پر تیروں ، تلواروں اور نیزوں کے ان گنت زخم کھانے کے باوجود بارگاہِ ایزدی میں تپتی ہوئی ریت پر اپنی جبین کو سجدے میں رکھ کر نہایت پر سکوں دکھائی دے رہا تھا۔

ابن زہراء ۔۔۔ وہ محسن اسلام و انسانیت ہے جو بے سر و سامانی کے عالم میں کئی دن کی بھوک اور پیاس کے باوجود ہزاروں دشمنوں کے مقابلے میں تن تنہا ڈٹ گیا ۔ اور تیروں کی بارش، تلواروں کے طوفانی وار اور نیزوں کی چمکتی ہوئی ہزاروں نوکیں، جس کے پائے استقامت میں لغزش نہ لا سکیں ۔ نواسۂ رسول ﷺ، وہ قاری قرآن ہے، جس نے کوفے کے ستم کیش بازاروں میں ، جفا کاروں کے جھر مٹ میں، اسلام کی شان و شوکت اور عظمت و وقار کا علم بلند کرتے ہوئے، جاں نثاروں کی طمانیت کی خاطر قرآن کی بڑائی اور آبرو کے لیے خون سے وضو کئے ہوئے، قرآن مجید کی اس طرح تلاوت فرمائی کہ مذہب کے چہرے پر نکھار آ گیا، شیطانوں کے دل بجھ گئے، بے ایمانوں کی دنیا اجڑ گئی، دنیاوی سلطانوں کے منصوبے خاک میں مل گئے ۔۔۔۔

سرترا نیزے پہ، جاری لب پہ قرآں واہ حسین
رو پڑے نوری یہ اندازِ تلاوت دیکھ کر
1