’’اپولو۔اا‘‘ (Appolo:11) میں جانے والے خلانورد۱ اُس دراڑ سے مٹی کے ڈھیلے اُٹھا کر لائے تھے۔ جسے ’’عرب دراڑ‘‘ کہتے ہیں۔
جنوبی ہند میں متبرک مقام او رمبلغ اسلام:
راقم الحروف کے ممدوحِ محترم، مبلّغ اسلام حضرت محمد قمر رضا خاں کے تبلیغی اسفار کی پانچ اہم خصوصیات ہیں۔
اول:
یہ کہ آپ اصلاح و تبلیغ کے درس کے لیے جہاں بھی تشریف لے گئے، اس کی تاریخی اہمیت کا علم ضرور حاصل کرتے۔
دوم:
یہ کہ مقدس مقامات کی زیارات کے لیے اور اولیاء کرام کے مزارات پر ضرور حاضری دیا کرتے۔
سوم:
یہ کہ مطلوبہ شہر/ گاؤں، جدید سہولیات سے محروم ہے۔ یہ امر آپ کے سفر میں مانع نہیں ہوتا۔
چہارم:
یہ کہ آج کے متمدن دور میں، مبلّغ/ خطیب اور واعظ کے سفری ذرائع ہوائی جہاز/ بحری جہاز/ ٹرین/ بس/ کار/ موٹر سائیکل/ تانگہ.... جی ہاں....جی ہاں.... اس سے کم پر کوئی راضی نہیں ہوتا، مگر بریلی کے بوریہ نشین مجدد اعظم رضا کا قمر رضا، اس پر بھی راضی ہے کہ خدمت دین اور عشق مصطفےٰﷺ کی تعلیم کے لیے، ’’مجھے پیدل لے چلو.... سائیکل پر لے چلو.... بیل گاڑی پر لے چلو.... میں تیار ہوں۔
پنجم:
یہ کہ ایک سفر کے بعد یہ نہیں کہنا کہ پچھلے سال یا چھ ماہ پہلے بھی، ’’میں گیا تھا اب وہاں نہیں جانا، بھئی بڑی مشقت اُٹھائی تھی‘‘۔ کٹھن سے کٹھن سفر کے بعد بھی سفر کا اعادہ کرنا، آپ کا طرّۂ امتیاز تھا۔ اور یہی سادگی آپ کا حسن اور پہچان ہے۔
مبلغ اسلام، جنوبی ہند کے سفر میں اُن اہم مقدس و متبرک مقامات پر بھی حاضر ہوئے ہیں، جن کا تذکرہ ابھی گذشتہ صفحات میں گزرا ہے۔
صوبہ آندھرا پردیش:
صوبہ ’’آندھرا پردیش‘‘ کے اضلاع میں صدر مقام ’’حیدرآباد‘‘ کے علاوہ ’’سکندرآباد‘‘، ’’نظام آباد‘‘، ’’آصف آباد‘‘، ’’کریم نگر‘‘، ’’چتوڑ‘‘، ’’محبوب نگر‘‘، ’’آننت پور‘‘، ’’ورنگل‘‘، ’’کوٹاگوڈیم‘‘ (Kottagudem)، ’’کرنول‘‘ (Kurnool)، ’’نانڈیال‘‘ (Nandyal)۔ وغیرہ میں متعدد بار تشریف لائے۔
صوبہ کرناٹکہ:
اس صوبہ میں ماشاء اللہ مسلم آبادی 35فیصد سے زائد ہے۔ یہاں مسلمانوں کی لٹریری شرح 100 فیصد ہے۔ یہاں کے مقدس مقام اور دریائے کاویری بہت مشہور ہیں۔
منگلور اور اس کے قریب ’’کاسرگوڈ‘‘ (یہاں برصغیر کی سب سے پہلی مسجد ’’چیرامان پیرومل‘‘ نامی 5ھجری یا 8ھجری/ 629ء میں قائم ہوئی اور یہیں قریب ہی حضرت مالک بن دینار کی درگاہ شریف اور مسجد بھی واقع ہے)۔ حضرت قمر رضا اس تاریخی مقام پر بھی حاضر ہوئے اور صوبہ ’’کرناٹکہ‘‘ (Karnataka) کے صدر مقام ’’بنگلور‘‘ کے علاوہ ’’بیدر‘‘، ’’گلبرگہ‘‘، ’’بیجا پور‘‘، ’’میسور‘‘، ’’منڈیا‘‘، ’’سکالیشپورہ‘‘، ’’شیموگا‘‘، ’’ٹمکر‘‘، ’’ننجان گڑھ‘‘، ’’رائیچور‘‘، ’’چنچھولی‘‘، ’’چکوٹھی‘‘، ’’بیلگام‘‘، ’’بیلاری‘‘، ’’کولار‘‘، ’’ملاول‘‘، ’’کوشالنگر‘‘، ’’بھٹکل‘‘، ’’کونڈاپور‘‘، ’’منگلور‘‘، ’’ چکماگلور‘‘،’’ چنّٹپنہ‘‘، ’’جام کھنڈی‘‘۔ وغیرہ۔
صوبہ کیرالہ:
’’ کالی کٹ‘‘، ’’منجیری‘‘، ’’تریچھوڑ‘‘۔ وغیرہ۔
صوبہ تامل ناڈو:
اس صوبے کی نیلگری پہاڑیاں بہت مشہور ہیں جس کی سطح مرتفع سمندری سطح سے ایک ہزار تا تین ہزار فٹ بلند ہے۔ ان پہاڑیوں کے دونوں طرف مشرقی اور مغربی گھاٹ واقع ہیں۔
اس کے صدر مقام ’’مدراس‘‘(Chennai) کے علاوہ ’’کانچی پورم‘‘، ’’ویلور‘‘، ’’کڈالور‘‘ (Cuddalore)، ’’ڈنڈیگل‘‘ (Dindigul)، ’’کرشناگری‘‘، ’’نیٹم‘‘، ’’سیوا گنگا‘‘، ’’میڈورائے‘‘، ’’میلاپلوام‘‘، ’’تھنجاور‘‘، ’’پونڈیچرے‘‘۔ وغیرہ۔
درج بالا صوبوں کے متذکرہ شہروں میں حضرت قمر رضا تشریف لے جاتے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں درج ذیل اولیاء کرام کے مزارات پر بھی عقیدت و احترام سے حاضری دیتے رہے ہیں۔
حضرت سیّدنا محمد شریف المدنی،۱
حضرت خواجہ محبوب علی شاہ چشتی المعروف خواجہ لالو بھائی قیصر چشتی۔ (خواجۂ بنگلور) قطب بنگلور سید السادات حضرت سیّد احمد شاہ چشتی عرف پاچا میاں بابا اور حضرت خواجہ کثیر چشتی عرف عبدل بھائی، حضرت نذر علی شاہ چشتی مدراسی، حضرت صادق علی شاہ حسینی بیہا پیر بابا (میسور)۔
ہندوستان کے انتہائی مشرق کے شمالی جغرافیہ میں ’’سوشلسٹ جمہوریہ چین‘‘ سے متصل صوبے ’’اروناچل پردیش‘‘ (Arunachal Pardesh)، ’’سِکِّم‘‘ (Sikkim) اور ’’آسام‘‘ (Assam) کے مختلف علاقوں ’’پاسی گھاٹ‘‘، ’’نارتھ لکھیم پور‘‘ ’’ڈبروگڑھ‘‘، دریائے برہما پترا سے متصل ’’تنسوکیا‘‘، ’’ایٹانگر‘‘، ’’جُرھاٹ‘‘، ’’گولاچھٹ‘‘، ’’منگلڈے‘‘، ’’ناگاؤں‘‘، ’’لمڈنگ‘‘، ’’لنگٹنگ‘‘، ’’کالپنگ‘‘، ’’شیلیگڑھی‘‘، ’’گنگٹک‘‘ ’’جلپیگڑھی‘‘۔ وغیرہ میں بھی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیا۔
تبلیغ دین کے لیے مقبوضہ کشمیر اور ہماچل پردیش جانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ ’’سرینگر‘‘، ’’جموں‘‘، ’’بارہ مولا‘‘، ’’اننت ناگ‘‘، ’’باندی پورہ‘‘۔ وغیرہ میں مسلک امام احمد رضا کا خوب پرچار کیا۔ یہاں ’’درگاہ حضرت بل‘‘ بھی حاضری دی۔ ہماچل پردیش کے شہروں ’’پالم پور‘‘، ’’چمبا‘‘، ’’نورپور‘‘، ’’کنگرا‘‘، ’’
جنوبی ہند میں متبرک مقام او رمبلغ اسلام:
راقم الحروف کے ممدوحِ محترم، مبلّغ اسلام حضرت محمد قمر رضا خاں کے تبلیغی اسفار کی پانچ اہم خصوصیات ہیں۔
اول:
یہ کہ آپ اصلاح و تبلیغ کے درس کے لیے جہاں بھی تشریف لے گئے، اس کی تاریخی اہمیت کا علم ضرور حاصل کرتے۔
دوم:
یہ کہ مقدس مقامات کی زیارات کے لیے اور اولیاء کرام کے مزارات پر ضرور حاضری دیا کرتے۔
سوم:
یہ کہ مطلوبہ شہر/ گاؤں، جدید سہولیات سے محروم ہے۔ یہ امر آپ کے سفر میں مانع نہیں ہوتا۔
چہارم:
یہ کہ آج کے متمدن دور میں، مبلّغ/ خطیب اور واعظ کے سفری ذرائع ہوائی جہاز/ بحری جہاز/ ٹرین/ بس/ کار/ موٹر سائیکل/ تانگہ.... جی ہاں....جی ہاں.... اس سے کم پر کوئی راضی نہیں ہوتا، مگر بریلی کے بوریہ نشین مجدد اعظم رضا کا قمر رضا، اس پر بھی راضی ہے کہ خدمت دین اور عشق مصطفےٰﷺ کی تعلیم کے لیے، ’’مجھے پیدل لے چلو.... سائیکل پر لے چلو.... بیل گاڑی پر لے چلو.... میں تیار ہوں۔
پنجم:
یہ کہ ایک سفر کے بعد یہ نہیں کہنا کہ پچھلے سال یا چھ ماہ پہلے بھی، ’’میں گیا تھا اب وہاں نہیں جانا، بھئی بڑی مشقت اُٹھائی تھی‘‘۔ کٹھن سے کٹھن سفر کے بعد بھی سفر کا اعادہ کرنا، آپ کا طرّۂ امتیاز تھا۔ اور یہی سادگی آپ کا حسن اور پہچان ہے۔
مبلغ اسلام، جنوبی ہند کے سفر میں اُن اہم مقدس و متبرک مقامات پر بھی حاضر ہوئے ہیں، جن کا تذکرہ ابھی گذشتہ صفحات میں گزرا ہے۔
صوبہ آندھرا پردیش:
صوبہ ’’آندھرا پردیش‘‘ کے اضلاع میں صدر مقام ’’حیدرآباد‘‘ کے علاوہ ’’سکندرآباد‘‘، ’’نظام آباد‘‘، ’’آصف آباد‘‘، ’’کریم نگر‘‘، ’’چتوڑ‘‘، ’’محبوب نگر‘‘، ’’آننت پور‘‘، ’’ورنگل‘‘، ’’کوٹاگوڈیم‘‘ (Kottagudem)، ’’کرنول‘‘ (Kurnool)، ’’نانڈیال‘‘ (Nandyal)۔ وغیرہ میں متعدد بار تشریف لائے۔
صوبہ کرناٹکہ:
اس صوبہ میں ماشاء اللہ مسلم آبادی 35فیصد سے زائد ہے۔ یہاں مسلمانوں کی لٹریری شرح 100 فیصد ہے۔ یہاں کے مقدس مقام اور دریائے کاویری بہت مشہور ہیں۔
منگلور اور اس کے قریب ’’کاسرگوڈ‘‘ (یہاں برصغیر کی سب سے پہلی مسجد ’’چیرامان پیرومل‘‘ نامی 5ھجری یا 8ھجری/ 629ء میں قائم ہوئی اور یہیں قریب ہی حضرت مالک بن دینار کی درگاہ شریف اور مسجد بھی واقع ہے)۔ حضرت قمر رضا اس تاریخی مقام پر بھی حاضر ہوئے اور صوبہ ’’کرناٹکہ‘‘ (Karnataka) کے صدر مقام ’’بنگلور‘‘ کے علاوہ ’’بیدر‘‘، ’’گلبرگہ‘‘، ’’بیجا پور‘‘، ’’میسور‘‘، ’’منڈیا‘‘، ’’سکالیشپورہ‘‘، ’’شیموگا‘‘، ’’ٹمکر‘‘، ’’ننجان گڑھ‘‘، ’’رائیچور‘‘، ’’چنچھولی‘‘، ’’چکوٹھی‘‘، ’’بیلگام‘‘، ’’بیلاری‘‘، ’’کولار‘‘، ’’ملاول‘‘، ’’کوشالنگر‘‘، ’’بھٹکل‘‘، ’’کونڈاپور‘‘، ’’منگلور‘‘، ’’ چکماگلور‘‘،’’ چنّٹپنہ‘‘، ’’جام کھنڈی‘‘۔ وغیرہ۔
صوبہ کیرالہ:
’’ کالی کٹ‘‘، ’’منجیری‘‘، ’’تریچھوڑ‘‘۔ وغیرہ۔
صوبہ تامل ناڈو:
اس صوبے کی نیلگری پہاڑیاں بہت مشہور ہیں جس کی سطح مرتفع سمندری سطح سے ایک ہزار تا تین ہزار فٹ بلند ہے۔ ان پہاڑیوں کے دونوں طرف مشرقی اور مغربی گھاٹ واقع ہیں۔
اس کے صدر مقام ’’مدراس‘‘(Chennai) کے علاوہ ’’کانچی پورم‘‘، ’’ویلور‘‘، ’’کڈالور‘‘ (Cuddalore)، ’’ڈنڈیگل‘‘ (Dindigul)، ’’کرشناگری‘‘، ’’نیٹم‘‘، ’’سیوا گنگا‘‘، ’’میڈورائے‘‘، ’’میلاپلوام‘‘، ’’تھنجاور‘‘، ’’پونڈیچرے‘‘۔ وغیرہ۔
درج بالا صوبوں کے متذکرہ شہروں میں حضرت قمر رضا تشریف لے جاتے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں درج ذیل اولیاء کرام کے مزارات پر بھی عقیدت و احترام سے حاضری دیتے رہے ہیں۔
حضرت سیّدنا محمد شریف المدنی،۱
حضرت خواجہ محبوب علی شاہ چشتی المعروف خواجہ لالو بھائی قیصر چشتی۔ (خواجۂ بنگلور) قطب بنگلور سید السادات حضرت سیّد احمد شاہ چشتی عرف پاچا میاں بابا اور حضرت خواجہ کثیر چشتی عرف عبدل بھائی، حضرت نذر علی شاہ چشتی مدراسی، حضرت صادق علی شاہ حسینی بیہا پیر بابا (میسور)۔
ہندوستان کے انتہائی مشرق کے شمالی جغرافیہ میں ’’سوشلسٹ جمہوریہ چین‘‘ سے متصل صوبے ’’اروناچل پردیش‘‘ (Arunachal Pardesh)، ’’سِکِّم‘‘ (Sikkim) اور ’’آسام‘‘ (Assam) کے مختلف علاقوں ’’پاسی گھاٹ‘‘، ’’نارتھ لکھیم پور‘‘ ’’ڈبروگڑھ‘‘، دریائے برہما پترا سے متصل ’’تنسوکیا‘‘، ’’ایٹانگر‘‘، ’’جُرھاٹ‘‘، ’’گولاچھٹ‘‘، ’’منگلڈے‘‘، ’’ناگاؤں‘‘، ’’لمڈنگ‘‘، ’’لنگٹنگ‘‘، ’’کالپنگ‘‘، ’’شیلیگڑھی‘‘، ’’گنگٹک‘‘ ’’جلپیگڑھی‘‘۔ وغیرہ میں بھی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیا۔
تبلیغ دین کے لیے مقبوضہ کشمیر اور ہماچل پردیش جانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ ’’سرینگر‘‘، ’’جموں‘‘، ’’بارہ مولا‘‘، ’’اننت ناگ‘‘، ’’باندی پورہ‘‘۔ وغیرہ میں مسلک امام احمد رضا کا خوب پرچار کیا۔ یہاں ’’درگاہ حضرت بل‘‘ بھی حاضری دی۔ ہماچل پردیش کے شہروں ’’پالم پور‘‘، ’’چمبا‘‘، ’’نورپور‘‘، ’’کنگرا‘‘، ’’
❤1
بیلاسپور‘‘، ’’نارکنڈہ‘‘، ’’شملہ‘‘، ’’سولان‘‘، ’’کالپا‘‘، ’’کولو‘‘، ’’منڈی‘‘۔ وغیرہ میں بھی متعدد سفر بلاتکان کیے۔
مانی پور اور میگھالیا:
ہندوستان کے مشرق میں برما (Myanmar)، شمال میں بھوٹان (Bhutan) اور جنوب مشرق میں بنگلہ دیش (Bangladesh) کے درمیان صوبہ ’’مانی پور‘‘ (Manipur) اور صوبہ ’’میگھالیا‘‘ (Meghalaya) (میگھالیا، دریائے برہما پترا سے متصل ہے) کے بعض شہروں مثلاً: ’’اِمپھال‘‘، ’’ننگبا‘‘، ’’کرونگ‘‘، ..... ’’شیلونگ‘‘، ’’چیراپونچی‘‘، ’’جُوائی‘‘۔ وغیرہ میں بھی تبلیغ دین کے لیے تشریف لے گئے تھے۔
ہریانہ اور پنجاب:
صوبہ ہریانہ (Haryana) اور ’’پنجاب‘‘ کے شہروں، ’’دہلی‘‘، ’’گڑگاؤں‘‘، ’’بھیوانی‘‘، ’’روہتک‘‘، ’’پانی پت‘‘، ’’ہانسی‘‘، ’’کیتھل‘‘، ’’تھانیسر‘‘۔ وغیرہ..... پنجاب میں ’’پٹیالہ‘‘، ’’انبالہ‘‘، ’’چمکور‘‘، ’’چندی گڑھ‘‘، ’’لدھیانہ‘‘، ’’جالندھر‘‘، ’’امرتسر‘‘، ’’ہشیارپور‘‘ اور ’’بٹالہ‘‘۔ وغیرہ میں بھی دین متین کا بے لوث ابلاغ فرمایا۔
حضرت قمر رضا اور بیرونی ممالک:
حضرت قمر ملت ’’سری لنکا‘‘ اور ’’نیپال‘‘ بھی تشریف لے گئے تھے۔ سری لنکا میں جہاں جہاں مسلم آبادی ہے، بحمدہٖ تعالیٰ اہلسنت و جماعت سے وابستہ ہیں۔ دارالحکومت ’’کولمبو‘‘ میں مسلک اعلیٰ حضرت کے ماننے والوں کی اکثریت ہے، حضرت شیخ عثمان کا مزار پُرانوار مرجع خلائق ہے۔
پیٹا (PETTA) میمن مسجد میں مرکزی سطح پر اہلسنت و جماعت کے معمولات کا انعقاد ہوتا ہے۔ مثلاً محرم الحرام میں امام حسین اور دیگر شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے تقریب ہوتی ہے۔ صفرالمظفر کے مہینے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی کا عرس مقدس منعقد ہوتا ہے۔ ’’ربیع الاول شریف‘‘ میں جشن عید میلاد النبیﷺ، ربیع الثانی میں گیارہویں شریف کا انعقاد، یوم سیّدنا صدّیق اکبر، جشن معراج النبیﷺ، شب براءت، رمضان المبارک میں مختلف مذھبی ایام، معتکفین کی تربیت کا اہتمام، عازمین حج کی تربیت کے لیے تقریبات وغیرہ میں حضرت مبلغ اسلام محمد قمر رضا خان تشریف لے جاتے رہے ہیں۔
سری لنکا میں کولمبو سے تقریباً تیس کلومیٹر فاصلہ پر ’’بیورولہ‘‘ بحر ہند کے کنارے ایک مقام ہے، جہاں ہندوآبادی زیادہ ہے۔ بحر ہند کے اس ساحلی مقام پر ایک مزار شریف کا جغرافیہ کچھ اس طرح ہے کہ صرف ایک خشکی کا راستہ جانے اور آنے کے لیے مثل کوریڈور بنا ہوا ہے، جبکہ تین اطراف سے مزار شریف مکمل پانی میں ہے۔ ساتویں یا آٹھویں صدی ہجری کے ایک ولی حضرت شیخ محمد اشرف المعروف سلطان الاولیاء کا یہاں دربار گہربار واقع ہے۔ اس مزار شریف کا یہ فیض، مشاہدہ کیا گیا کہ ساحل سمندر سے دور کی آبادیاں ’’سونامی‘‘ (2004ء) میں تباہ ہوگئیں، لیکن مزار شریف اور اس سے متصل آبادی (جو کہ ساحل پر ہی موجود ہے) کو کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں پہنچا۔
سری لنکا میں ’’نور ایلیا‘‘ کے مقام پر حضرت آدم کا نقش قدم واقع ہے۔ مبلّغ اسلام حضرت محمد قمر رضا خاں نے سری لنکا کا دو مرتبہ دورہ کیا۔
سری لنکا میں مسلم آبادی میں زیادہ تر کُتیانہ میمن کے افراد اکثریت میں ہیں۔ ان کی تنظیم نے حضرت قمر رضا کے تبلیغی سفر کا اہتمام اور وعظ و ارشاد کی محافل کا انعقاد کیا تھا۔ جن میں حاجی الیاس ضیائی، حاجی اسمٰعیل، حاجی ادریس پٹیل، حاجی یٰسین نگریہ، حاجی ذکر چنا مرحوم وغیرہ پیش پیش تھے۔
بنگلہ دیش کے متعدد شہروں میں مسلک اعلیٰ حضرت کا پرچار کیا۔ بنگلہ دیش میں اہلسنت و جماعت کے متعدد مدارس قائم ہیں، جہاں حضرت مولانا محمد قمر رضا تشریف لے گئے تھے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے عرض ہے کہ ڈھاکہ میں عید میلادالنبیﷺ کا جلوس تاریخی اور دیدنی ہوتا ہے کہ بلا مبالغہ اس جلوس میں ایک کروڑ سے زائد عاشقان رسول شریک ہوتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں حضرت شاہ جلال بابا کا مزار پُرانوار سلہٹ میں واقع ہے اور مرجع خلائق ہے۔ حضرت قمر رضا نے بنگلہ دیش میں اس مزار شریف کے علاوہ دیگر مقامات مقدسہ پر بھی حاضری دی۔ علاوہ ازیں ’’راجشاہی‘‘، ’’رنگپور‘‘، ’’دیناجپور‘‘، ’’سیدپور‘‘، کشن گنج‘‘، ’’بوگرہ‘‘، ’’شیرپور‘‘، ’’کومیلہ‘‘، ’’سراج گنج‘‘، ’’نواب گنج‘‘، ’’بالوگھاٹ‘‘، ’’کھُلنا‘‘، ’’جیسور‘‘، ’’فریدپور‘‘، ’’جمالپور‘‘، چٹاگانگ میں ’’بردربن‘‘، ’’نواکھلی‘‘، ’’رنگامتی‘‘۔ وغیرہ میں بھی تبلیغی دورے فرمائے۔
سفرِ مقدس برائے حج و عمرہ:
قمر ملت حضرت محمد قمر رضا خاں صاحب نے فریضۂ حج ادا کرلینے کے بعد دو نفلی حج کے لیے حرمین طیبین کا سفر اختیار کیا۔ علاوہ ازیں عمرہ کرنے کے لیے بھی حجاز مقدس کا مبارک سفر بار بار کیا۔ حضرت قمر رضا کی عادت شریفہ تھی کہ قیام مکۃ المکرمہ میں حضرت ام ہانی کے گھر کی باقیات کے نشانات (جہاں سے حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام معراج شریف پر روانہ ہوئے تھے اور جہاں حضرت جبرئیل براق لے کر حاضر بارگاہ رسالت ہوئے تھے) سے برکت لینے کے لیے، بعد عشاء تین یا چار گھنٹے یہاں رونق افروز ہوتے تھے۔ فقیر راقم الحروف نے دیکھا کہ
مانی پور اور میگھالیا:
ہندوستان کے مشرق میں برما (Myanmar)، شمال میں بھوٹان (Bhutan) اور جنوب مشرق میں بنگلہ دیش (Bangladesh) کے درمیان صوبہ ’’مانی پور‘‘ (Manipur) اور صوبہ ’’میگھالیا‘‘ (Meghalaya) (میگھالیا، دریائے برہما پترا سے متصل ہے) کے بعض شہروں مثلاً: ’’اِمپھال‘‘، ’’ننگبا‘‘، ’’کرونگ‘‘، ..... ’’شیلونگ‘‘، ’’چیراپونچی‘‘، ’’جُوائی‘‘۔ وغیرہ میں بھی تبلیغ دین کے لیے تشریف لے گئے تھے۔
ہریانہ اور پنجاب:
صوبہ ہریانہ (Haryana) اور ’’پنجاب‘‘ کے شہروں، ’’دہلی‘‘، ’’گڑگاؤں‘‘، ’’بھیوانی‘‘، ’’روہتک‘‘، ’’پانی پت‘‘، ’’ہانسی‘‘، ’’کیتھل‘‘، ’’تھانیسر‘‘۔ وغیرہ..... پنجاب میں ’’پٹیالہ‘‘، ’’انبالہ‘‘، ’’چمکور‘‘، ’’چندی گڑھ‘‘، ’’لدھیانہ‘‘، ’’جالندھر‘‘، ’’امرتسر‘‘، ’’ہشیارپور‘‘ اور ’’بٹالہ‘‘۔ وغیرہ میں بھی دین متین کا بے لوث ابلاغ فرمایا۔
حضرت قمر رضا اور بیرونی ممالک:
حضرت قمر ملت ’’سری لنکا‘‘ اور ’’نیپال‘‘ بھی تشریف لے گئے تھے۔ سری لنکا میں جہاں جہاں مسلم آبادی ہے، بحمدہٖ تعالیٰ اہلسنت و جماعت سے وابستہ ہیں۔ دارالحکومت ’’کولمبو‘‘ میں مسلک اعلیٰ حضرت کے ماننے والوں کی اکثریت ہے، حضرت شیخ عثمان کا مزار پُرانوار مرجع خلائق ہے۔
پیٹا (PETTA) میمن مسجد میں مرکزی سطح پر اہلسنت و جماعت کے معمولات کا انعقاد ہوتا ہے۔ مثلاً محرم الحرام میں امام حسین اور دیگر شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے تقریب ہوتی ہے۔ صفرالمظفر کے مہینے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی کا عرس مقدس منعقد ہوتا ہے۔ ’’ربیع الاول شریف‘‘ میں جشن عید میلاد النبیﷺ، ربیع الثانی میں گیارہویں شریف کا انعقاد، یوم سیّدنا صدّیق اکبر، جشن معراج النبیﷺ، شب براءت، رمضان المبارک میں مختلف مذھبی ایام، معتکفین کی تربیت کا اہتمام، عازمین حج کی تربیت کے لیے تقریبات وغیرہ میں حضرت مبلغ اسلام محمد قمر رضا خان تشریف لے جاتے رہے ہیں۔
سری لنکا میں کولمبو سے تقریباً تیس کلومیٹر فاصلہ پر ’’بیورولہ‘‘ بحر ہند کے کنارے ایک مقام ہے، جہاں ہندوآبادی زیادہ ہے۔ بحر ہند کے اس ساحلی مقام پر ایک مزار شریف کا جغرافیہ کچھ اس طرح ہے کہ صرف ایک خشکی کا راستہ جانے اور آنے کے لیے مثل کوریڈور بنا ہوا ہے، جبکہ تین اطراف سے مزار شریف مکمل پانی میں ہے۔ ساتویں یا آٹھویں صدی ہجری کے ایک ولی حضرت شیخ محمد اشرف المعروف سلطان الاولیاء کا یہاں دربار گہربار واقع ہے۔ اس مزار شریف کا یہ فیض، مشاہدہ کیا گیا کہ ساحل سمندر سے دور کی آبادیاں ’’سونامی‘‘ (2004ء) میں تباہ ہوگئیں، لیکن مزار شریف اور اس سے متصل آبادی (جو کہ ساحل پر ہی موجود ہے) کو کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں پہنچا۔
سری لنکا میں ’’نور ایلیا‘‘ کے مقام پر حضرت آدم کا نقش قدم واقع ہے۔ مبلّغ اسلام حضرت محمد قمر رضا خاں نے سری لنکا کا دو مرتبہ دورہ کیا۔
سری لنکا میں مسلم آبادی میں زیادہ تر کُتیانہ میمن کے افراد اکثریت میں ہیں۔ ان کی تنظیم نے حضرت قمر رضا کے تبلیغی سفر کا اہتمام اور وعظ و ارشاد کی محافل کا انعقاد کیا تھا۔ جن میں حاجی الیاس ضیائی، حاجی اسمٰعیل، حاجی ادریس پٹیل، حاجی یٰسین نگریہ، حاجی ذکر چنا مرحوم وغیرہ پیش پیش تھے۔
بنگلہ دیش کے متعدد شہروں میں مسلک اعلیٰ حضرت کا پرچار کیا۔ بنگلہ دیش میں اہلسنت و جماعت کے متعدد مدارس قائم ہیں، جہاں حضرت مولانا محمد قمر رضا تشریف لے گئے تھے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے عرض ہے کہ ڈھاکہ میں عید میلادالنبیﷺ کا جلوس تاریخی اور دیدنی ہوتا ہے کہ بلا مبالغہ اس جلوس میں ایک کروڑ سے زائد عاشقان رسول شریک ہوتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں حضرت شاہ جلال بابا کا مزار پُرانوار سلہٹ میں واقع ہے اور مرجع خلائق ہے۔ حضرت قمر رضا نے بنگلہ دیش میں اس مزار شریف کے علاوہ دیگر مقامات مقدسہ پر بھی حاضری دی۔ علاوہ ازیں ’’راجشاہی‘‘، ’’رنگپور‘‘، ’’دیناجپور‘‘، ’’سیدپور‘‘، کشن گنج‘‘، ’’بوگرہ‘‘، ’’شیرپور‘‘، ’’کومیلہ‘‘، ’’سراج گنج‘‘، ’’نواب گنج‘‘، ’’بالوگھاٹ‘‘، ’’کھُلنا‘‘، ’’جیسور‘‘، ’’فریدپور‘‘، ’’جمالپور‘‘، چٹاگانگ میں ’’بردربن‘‘، ’’نواکھلی‘‘، ’’رنگامتی‘‘۔ وغیرہ میں بھی تبلیغی دورے فرمائے۔
سفرِ مقدس برائے حج و عمرہ:
قمر ملت حضرت محمد قمر رضا خاں صاحب نے فریضۂ حج ادا کرلینے کے بعد دو نفلی حج کے لیے حرمین طیبین کا سفر اختیار کیا۔ علاوہ ازیں عمرہ کرنے کے لیے بھی حجاز مقدس کا مبارک سفر بار بار کیا۔ حضرت قمر رضا کی عادت شریفہ تھی کہ قیام مکۃ المکرمہ میں حضرت ام ہانی کے گھر کی باقیات کے نشانات (جہاں سے حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام معراج شریف پر روانہ ہوئے تھے اور جہاں حضرت جبرئیل براق لے کر حاضر بارگاہ رسالت ہوئے تھے) سے برکت لینے کے لیے، بعد عشاء تین یا چار گھنٹے یہاں رونق افروز ہوتے تھے۔ فقیر راقم الحروف نے دیکھا کہ
❤1
یہاں سے گزرنے والا کوئی بھی ہو، خواہ مصری ہو یا مغربی، افریقی ہو یا نجدی سعودی۔ ایک بار زیارت کرلینے کے بعد بار بار دیکھتا ہے، گزرتے گزرتے بھی، آگے بڑھ جانے کے بعد پلٹ پلٹ کر بھی زیارت کرتا ہے۔ ایشیائی باشندے تو قریب آکر پوچھتے تھے، کہ حضرت کا تعارف کیا ہے؟ دراصل حضرت کی شخصیت کی جاذبیت لوگوں کو اپنی طرف ملتفت کرتی تھی۔ مدینۃ المنورہ میں حضرت اکثر مسجد نبوی شریف کے اندر واقع ترکوں کے بنائے ہوئے اور کھلے صحن میں تشریف رکھتے تھے، جہاں سے ’’گنبد خضریٰ‘‘ خوب واضح اور نور برساتا محسوس ہوتا ہے۔ اسی مقام کو T.T.S. یعنی ٹناٹن سُنّی ’’قادری چوک‘‘ کہتے ہیں۔
پاکستان میں جب چمکا بریلی کا چاند:
1985ء میں جب پاکستان آنے کا قصد فرمایا تو پہلے حضرت علامہ تحسین رضا صاحب سے اجازت طلب فرمائی اورازاں بعد برادر اکبر حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں الازہری کثر اللہ مجدہ و دام اقبالہ سے بھی سفر پاکستان کی اجازت لی، جو کہ دونوں بزرگوں نے بخوشی اجازت مرحمت فرمائی۔
مونس اہلسنّت، قمر ملت، حضرت محمد قمر رضا خاں تقریباً 25 سال قبل پاکستان تشریف لائے تھے۔ کراچی میں آپ کا قیام اپنی ہمشیرہ اور برادر نسبتی محترم شوکت حسن خان کے یہاں تھا۔ آپ سے ملاقات کے لیے علماء و مشائخ بڑی تعداد میں حاضر ہوتے تھے، وابستگان اہلسنّت و معتقدین و متبعین امام احمد رضا محمد قمر رضا کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے کثیر تعداد میں حاضر ہوتے رہے۔ حضرت صاحب اپنی ملاقات کا شرف عطا فرماتے وقت منکسرانہ انداز رکھتے ۔ ملاقات کے لیے وقت کا تعین بھی نہ فرماتے، یعنی جو بھی اور جب بھی آجائے اس سے ملاقات فرماتے، نہایت محبت اور شفقت سے ملاقات فرماتے۔ فاضل جلیل اور عالم نبیل کے باوصف عالمانہ وقار اور نسبی وجاہت پر مشفقانہ رویہ غالب رہتا۔ کراچی میں چند مقامات پر میلاد النبی ﷺ کے بڑے بڑے جلسے منعقد ہوئے، ان جلسوں سے حضرت صاحب نے خطاب فرمایا ۔ دوران خطاب قرآن و احادیث اور اقوال آئمہ سے دلائل و براہین کے انبار لگا دیتے جبکہ عقلی دلائل بھی پیش فرماتے۔
حضور تاج الشریعۃ مدظلہ العالی سے شباہت کے باوصف اکثر افراد یہی سمجھتے کہ شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد اختر رضا الازھری صاحب تشریف لائے ہیں۔ اس ضمن میں ایک واقعہ درج ذیل ہے۔
حاجی محمد حنیف طیب کو مغالطہ:
قمر ملت حضرت ڈاکٹر محمد قمر رضا اپنے ماموں زاد بھائی محترم سیّد عبدالرشید صاحب۱ کے یہاں ایک محفل میلادمیں تشریف فرماتھے، لب سڑک واقع مکان کی چھت پر کھڑے ہو کر خطاب فرما رہے تھے، دریں اثنا سڑک پر سے نظام مصطفی گروپ کے پارلیمانی قائد حاجی محمد حنیف طیب صاحب ( جو کہ اس وقت وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت و اورسیز تھے) کی نظر اتفاقیہ حضرت صاحب پر پڑ گئی، تو ٹھہر گئے وفاقی وزیر ہونے کے باوصف سیکیورٹی کے حوالے سے پولیس موبائلز اور دیگر وی آئی پی شخصیات کی قیمتی کاروں کا ایک کاروان ساتھ تھا، منسٹر صاحب کے رکتے ہی سب رُک گئے۔ حاجی محمد حنیف طیب صاحب، محض شباہت کی وجہ سے قمر رضا خاں صاحب کی ذات پر حضور تاج الشریعہ ازہری میاں مدظلہ العالی کو قیاس کرکے محفل میں شریک ہو کر یہ گمان کر رہے تھے کہ حضور تاج الشریعہ جب تشریف لاتے ہیں تو پولیس ہیڈ آفس سے آمد و روانگی (Exit & Entry) کے لیے پاسپورٹ اپنے بہنوئی جناب شوکت حسن خاں زید مجدہٗ کے ذریعے مجھے بھجواتے ہیں، اب کیا ہوا؟ کہ حضرت نے اپنی تشریف آوری کی کوئی اطلاع نہیں دی، کیا حضرت مجھ سے ناراض ہیں؟
ازاں بعد معلوم ہو اکہ یہ بھی بریلی سے تشریف لائے ہیں اور حضرت مفتی محمد اختر رضا خاں الازھری مد فیوضہم کے برادر اصغرہیں، لیکن قامت، جسامت اور وجاہت میں یکساں ہیں۔ اس یکسانیت و مساوات سے بالا علمی وقار اور کمال حضور فیض گنجور، تاج شریعت، کثیر البرکت حضرت عالی مرتبت علامہ و فہامہ مفتی اعظم کل عالم محمد اختر رضا خاں الازھری دامت اقبالھم و کثر برکاتہم میں فی زمانہ سب سے زیادہ، نمایاں اور تاباں ہے۔
ڈاکٹر محمد قمر رضا سے حاجی محمد حنیف طیب صاحب کی پہلی ملاقات اس انداز میں ہوئی۔ اس کے بعد وقتاً فوقتاً ملاقات ہوتی رہی۔
وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات:
وفاقی وزیر محنت وافرادی قوت محترم حاجی محمد حنیف طیب نے ایک دن حضرت شوکت حسن خان کے گھر حاضر ہوکر حضرت قمر رضا صاحب سے ملاقات کی، او رانھیں عرض کیا کہ وزیر اعظم پاکستان محمد خان جونیجو آپ سے ملاقات کے مشتاق ہیں، آپ حکم فرمائیں تو یہاں حاضر ہوجائیں لیکن سیکوریٹی کے باعث آپ کے لیے اور شوکت حسن خان کے لیے کچھ پرابلمز ہوں گی، لہٰذا ناگوار خاطر نہ ہو تو آپ میرے ساتھ چلیں۔ حضرت کی سادگی کا یہ عالم تھا، کہ فرمایا: چلو بھئی ہم اُن سے ضرور ملیں گے۔
چنانچہ اس وقت کے وزیر اعظم محترم محمد خان جونیجو (مرحوم و مغفور) کی کراچی میں موجودگی کے وقت دعا کے لیے حضرت قمر ملت کو حنیف بھائی اپنے ساتھ لے کر گئے۔ اس طرح وزیر اعظم پاکستان سے حضرت ڈاکٹر محمد قمر رضا کی
پاکستان میں جب چمکا بریلی کا چاند:
1985ء میں جب پاکستان آنے کا قصد فرمایا تو پہلے حضرت علامہ تحسین رضا صاحب سے اجازت طلب فرمائی اورازاں بعد برادر اکبر حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں الازہری کثر اللہ مجدہ و دام اقبالہ سے بھی سفر پاکستان کی اجازت لی، جو کہ دونوں بزرگوں نے بخوشی اجازت مرحمت فرمائی۔
مونس اہلسنّت، قمر ملت، حضرت محمد قمر رضا خاں تقریباً 25 سال قبل پاکستان تشریف لائے تھے۔ کراچی میں آپ کا قیام اپنی ہمشیرہ اور برادر نسبتی محترم شوکت حسن خان کے یہاں تھا۔ آپ سے ملاقات کے لیے علماء و مشائخ بڑی تعداد میں حاضر ہوتے تھے، وابستگان اہلسنّت و معتقدین و متبعین امام احمد رضا محمد قمر رضا کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے کثیر تعداد میں حاضر ہوتے رہے۔ حضرت صاحب اپنی ملاقات کا شرف عطا فرماتے وقت منکسرانہ انداز رکھتے ۔ ملاقات کے لیے وقت کا تعین بھی نہ فرماتے، یعنی جو بھی اور جب بھی آجائے اس سے ملاقات فرماتے، نہایت محبت اور شفقت سے ملاقات فرماتے۔ فاضل جلیل اور عالم نبیل کے باوصف عالمانہ وقار اور نسبی وجاہت پر مشفقانہ رویہ غالب رہتا۔ کراچی میں چند مقامات پر میلاد النبی ﷺ کے بڑے بڑے جلسے منعقد ہوئے، ان جلسوں سے حضرت صاحب نے خطاب فرمایا ۔ دوران خطاب قرآن و احادیث اور اقوال آئمہ سے دلائل و براہین کے انبار لگا دیتے جبکہ عقلی دلائل بھی پیش فرماتے۔
حضور تاج الشریعۃ مدظلہ العالی سے شباہت کے باوصف اکثر افراد یہی سمجھتے کہ شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد اختر رضا الازھری صاحب تشریف لائے ہیں۔ اس ضمن میں ایک واقعہ درج ذیل ہے۔
حاجی محمد حنیف طیب کو مغالطہ:
قمر ملت حضرت ڈاکٹر محمد قمر رضا اپنے ماموں زاد بھائی محترم سیّد عبدالرشید صاحب۱ کے یہاں ایک محفل میلادمیں تشریف فرماتھے، لب سڑک واقع مکان کی چھت پر کھڑے ہو کر خطاب فرما رہے تھے، دریں اثنا سڑک پر سے نظام مصطفی گروپ کے پارلیمانی قائد حاجی محمد حنیف طیب صاحب ( جو کہ اس وقت وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت و اورسیز تھے) کی نظر اتفاقیہ حضرت صاحب پر پڑ گئی، تو ٹھہر گئے وفاقی وزیر ہونے کے باوصف سیکیورٹی کے حوالے سے پولیس موبائلز اور دیگر وی آئی پی شخصیات کی قیمتی کاروں کا ایک کاروان ساتھ تھا، منسٹر صاحب کے رکتے ہی سب رُک گئے۔ حاجی محمد حنیف طیب صاحب، محض شباہت کی وجہ سے قمر رضا خاں صاحب کی ذات پر حضور تاج الشریعہ ازہری میاں مدظلہ العالی کو قیاس کرکے محفل میں شریک ہو کر یہ گمان کر رہے تھے کہ حضور تاج الشریعہ جب تشریف لاتے ہیں تو پولیس ہیڈ آفس سے آمد و روانگی (Exit & Entry) کے لیے پاسپورٹ اپنے بہنوئی جناب شوکت حسن خاں زید مجدہٗ کے ذریعے مجھے بھجواتے ہیں، اب کیا ہوا؟ کہ حضرت نے اپنی تشریف آوری کی کوئی اطلاع نہیں دی، کیا حضرت مجھ سے ناراض ہیں؟
ازاں بعد معلوم ہو اکہ یہ بھی بریلی سے تشریف لائے ہیں اور حضرت مفتی محمد اختر رضا خاں الازھری مد فیوضہم کے برادر اصغرہیں، لیکن قامت، جسامت اور وجاہت میں یکساں ہیں۔ اس یکسانیت و مساوات سے بالا علمی وقار اور کمال حضور فیض گنجور، تاج شریعت، کثیر البرکت حضرت عالی مرتبت علامہ و فہامہ مفتی اعظم کل عالم محمد اختر رضا خاں الازھری دامت اقبالھم و کثر برکاتہم میں فی زمانہ سب سے زیادہ، نمایاں اور تاباں ہے۔
ڈاکٹر محمد قمر رضا سے حاجی محمد حنیف طیب صاحب کی پہلی ملاقات اس انداز میں ہوئی۔ اس کے بعد وقتاً فوقتاً ملاقات ہوتی رہی۔
وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات:
وفاقی وزیر محنت وافرادی قوت محترم حاجی محمد حنیف طیب نے ایک دن حضرت شوکت حسن خان کے گھر حاضر ہوکر حضرت قمر رضا صاحب سے ملاقات کی، او رانھیں عرض کیا کہ وزیر اعظم پاکستان محمد خان جونیجو آپ سے ملاقات کے مشتاق ہیں، آپ حکم فرمائیں تو یہاں حاضر ہوجائیں لیکن سیکوریٹی کے باعث آپ کے لیے اور شوکت حسن خان کے لیے کچھ پرابلمز ہوں گی، لہٰذا ناگوار خاطر نہ ہو تو آپ میرے ساتھ چلیں۔ حضرت کی سادگی کا یہ عالم تھا، کہ فرمایا: چلو بھئی ہم اُن سے ضرور ملیں گے۔
چنانچہ اس وقت کے وزیر اعظم محترم محمد خان جونیجو (مرحوم و مغفور) کی کراچی میں موجودگی کے وقت دعا کے لیے حضرت قمر ملت کو حنیف بھائی اپنے ساتھ لے کر گئے۔ اس طرح وزیر اعظم پاکستان سے حضرت ڈاکٹر محمد قمر رضا کی
❤1
ملاقات ہوئی ۔ حضرت قمر ملت کی اعلیٰ حضرت قدس السرہ سے نسبی تعلق کے باعث، وزیر اعظم محمد خان جونیجو نہایت عقیدتمندی و نیاز مندی سے ملے۔
پاکستان میں حضرت کا کارنامہ:
کراچی ڈالمیا کی اسٹریٹ سے متصل پاکستان نیوی کا طویل رقبہ و احاطہ ہے جس میں اسٹاف کالج، لائبیری، مساجد، افسران کی قیام گاہیں، سپاہیوں کی رہائشی بیرکس، اسٹاف کالج کے اسٹوڈنٹس کے لیے ہاسٹلز، میرینز میوزیم، تاریخی قبرستان، شہریوں کے لیے انٹرٹینمنٹ کے انتظامات کے علاوہ حساس نوعیت کی تنصیبات بھی ہیں۔ ڈالمیا کی سڑک کے ایک جانب نصف حصہ تک عوامی آبادی ہے اور یہیں محترم سیّد عبدالرشید صاحب کی رہائش ہے۔ عوامی آبادی کے سامنے نیوی تنصیبات کے احاطے کے اندر ایک مسجد ابو بکر صدیق رجسٹرڈ ٹرسٹ اہلسنت و جماعت واقع ہے۔ پاکستان نیوی کے ایڈمرل اکبر حسین جو شیعہ تھے نیز نہایت متکبر اور رعونت کے حامل شخص تھے۔ انہوں نے مسلکی تعصب کی بنا پر مسجد کو بند کرادیا، تالے ڈلوادیئے۔ پاکستان نیوی کے احاطہ میں مسجد واقع تھی، نیوی کی زمین کے اطراف کی چہار دیواری (Baundry Wall)کے اند رمسجد تک جانے کا باہر سے راستہ تھا، تاکہ باہر سے آنے والے با ٓسانی مسجد تک نماز کی ادائیگی کے لیے حاضر ہو سکیں۔ جب ایڈمرل اکبر حسین (شیعہ) نے جامع مسجد ابو بکر صدیق کو تالے ڈلوادیئے، تو نیوی کے ملازمین بھی نمازوں کی ادائیگی کے لیے پریشان ہوئے۔ جبکہ اہل علاقہ بھی متاثر ہوئے۔ اثر و رسوخ رکھنے والے متعدد افراد نے کوشش کی، کہ مسجد کا تالہ کھلوایا جاسکے۔ لیکن کامیابی نہیں ہو ئی اسی اثناء میں جمعۃ المبارک کا دن آگیا۔ مسجد میں جمعۃ المبارک کی نماز میں کثیر تعداد میں لوگ آتے تھے، مصلیان مسجد تمام انتہائی مضطرب تھے۔ محترم المقام سیّد عبدالرشید صاحب نے ایمانی جرأت و حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مین روڈ پر نماز جمعہ کے اہتمام کے لیے اعلان کردیا۔ نیز اعلان میں یہ بھی کہا گیا کہ بریلی شریف سے تشریف لائے ہوئے اعلیٰ حضرت محدث بریلوی کے نبیرۂ محترم محمد قمر رضا خان مدظلہ العالی اجتماع جمعہ سے خطاب بھی فرمائیں گے، نیز نماز جمعہ کی امامت بھی فرمائیں گے۔ اعلان کے مطابق دریاں، چٹائیاں صفیں بچھا دی گئیں، مین روڈ بند کردیا گیا۔ سڑک پر نماز ادا کرنے کے نتیجہ میں جمعۃ المبارک کا اجتماع بہت بڑا ہوگیا۔ نماز کے لیے راستے سے گزرنے والے حضرات کہیں دوسری جگہ جانے کی بجائے یہیں رک گئے۔ اس زمانہ میں نماز جمعہ کے لیے باقاعدہ حکومتی سطح پر تعطیل ہوا کرتی تھی۔ اگرچہ یہ تعطیل پہلے اتوار کے لیے مختص تھی، لیکن یکم جولائی 1977ء بروز جمعہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے چند اسلامی اصلاحات کے نفاذ کے موقع پر’’جمعہ‘‘ کے دن ہفتہ وار تعطیل کا اعلان کیا تھا۔ اس تعطیل سے یہ فائدہ ضرور ہوا تھا کہ اکثر لوگ تعطیل کی وجہ سے صبح گیارہ بجے اٹھ کر غسل وغیرہ کرکے پاکیزہ لباس زیب تن کرکے اپنے بچوں کو ساتھ لے کر نماز جمعہ کے لیے گھر سے نکلتے تھے۔ ایسے حضرات ڈالمیا کی سڑک پر نماز جمعہ کا انعقاد دیکھ کر اس میں شامل ہوگئے۔ قمر ملت حضرت محمد قمر رضا خان نور اللہ مرقدہٗ نے اجتماع جمعہ میں خطاب بھی فرمایا اور خطبۂ جمعہ ارشاد فرماکر نماز جمعہ کی امامت فرمائی۔ نماز کے بعد جامع مسجد صدیق اکبر کی بحالی و برقراری کے لیے اور ایڈمرل اکبر حسین کے خائب و خاسر رہنے کے لیے دعا فرمائی۔ نماز جمعہ کے اس اجتماع کے نتیجہ میں ایڈمرل صاحب کی ایسی مذمت ہوئی، کہ اربابِ اختیار تک یہ معاملہ پہنچا اور بحمدہٖ تعالیٰ اسی دن سے مسجد کو کھول دیا گیا اور آج بھی مسجد قائم ہے۔
شائقین ملاقات کا ہجوم:
سطور بالا میں مرقومہ واقعہ کی شہرت ہوئی لہٰذا، اکثر لوگ عقیدت سے آئے اور آپ کے حلقہ ارادتمند وں میں شامل ہوگئے۔ نماز جمعہ کے بعد اسی سڑک پر کئی افراد مرید ہوئے۔ پاکستان نیوی کے ایک کمانڈر ظفر جٹ صاحب نے آپ سے بیعت کی اور حضرت نے مطالعہ کے لیے چند کتب اعلیٰ حضرت پیش کیں۔ جو ظفر صاحب نے کمپیوٹر کتابت کرواکر ہزاروں کی تعداد میں شائع کروائیں، اور مفت تقسیم کا اہتمام کیا، اس زمانہ میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی متعارف نہیں ہوئی تھی، اسی لیے کمپیوٹر سے کتابت کا رجحان نہ تھا، حکومتی اداروں خصوصاً افواج پاکستان کے عسکری اداروں میں کمپیوٹر کا استعمال شروع ہوگیا تھا۔ کمانڈر ظفر جٹ صاحب اکثر آتے اور اپنے ہمراہ احباب کو بھی لاتے۔ مشکلات میں حاجت روائی کے لیے طالب دعا ہوتے۔ حضرت صاحب ہمیشہ شفقت فرماتے۔ حضرت کی دعاؤں سے ظفر جٹ صاحب کی ترقی بھی ہوئی اور حضرت نے جٹ صاحب کے اصرار پر انہیں ’’اسم اعظم‘‘ بھی تعلیم فرمایا۔ حضرت قمر رضا صاحب نور اللہ مرقدہ پاکستان میں اپنے قیام کے دوران کراچی میں اپنے برادر نسبتی حضرت شوکت حسن خاں مدظلہ العالی کے یہاں مقیم رہے۔ تاہم اپنے والد محترم (مفسر اعظم حضرت علامہ ابراہیم رضا جیلانی میاں قدس سرہٗ) اور والدۂ محترمہ دونوں کے پھوپھی زاد بھائیوں یعنی محترم شہید اللہ خان صاحب۱ طول اللہ عمرہ
پاکستان میں حضرت کا کارنامہ:
کراچی ڈالمیا کی اسٹریٹ سے متصل پاکستان نیوی کا طویل رقبہ و احاطہ ہے جس میں اسٹاف کالج، لائبیری، مساجد، افسران کی قیام گاہیں، سپاہیوں کی رہائشی بیرکس، اسٹاف کالج کے اسٹوڈنٹس کے لیے ہاسٹلز، میرینز میوزیم، تاریخی قبرستان، شہریوں کے لیے انٹرٹینمنٹ کے انتظامات کے علاوہ حساس نوعیت کی تنصیبات بھی ہیں۔ ڈالمیا کی سڑک کے ایک جانب نصف حصہ تک عوامی آبادی ہے اور یہیں محترم سیّد عبدالرشید صاحب کی رہائش ہے۔ عوامی آبادی کے سامنے نیوی تنصیبات کے احاطے کے اندر ایک مسجد ابو بکر صدیق رجسٹرڈ ٹرسٹ اہلسنت و جماعت واقع ہے۔ پاکستان نیوی کے ایڈمرل اکبر حسین جو شیعہ تھے نیز نہایت متکبر اور رعونت کے حامل شخص تھے۔ انہوں نے مسلکی تعصب کی بنا پر مسجد کو بند کرادیا، تالے ڈلوادیئے۔ پاکستان نیوی کے احاطہ میں مسجد واقع تھی، نیوی کی زمین کے اطراف کی چہار دیواری (Baundry Wall)کے اند رمسجد تک جانے کا باہر سے راستہ تھا، تاکہ باہر سے آنے والے با ٓسانی مسجد تک نماز کی ادائیگی کے لیے حاضر ہو سکیں۔ جب ایڈمرل اکبر حسین (شیعہ) نے جامع مسجد ابو بکر صدیق کو تالے ڈلوادیئے، تو نیوی کے ملازمین بھی نمازوں کی ادائیگی کے لیے پریشان ہوئے۔ جبکہ اہل علاقہ بھی متاثر ہوئے۔ اثر و رسوخ رکھنے والے متعدد افراد نے کوشش کی، کہ مسجد کا تالہ کھلوایا جاسکے۔ لیکن کامیابی نہیں ہو ئی اسی اثناء میں جمعۃ المبارک کا دن آگیا۔ مسجد میں جمعۃ المبارک کی نماز میں کثیر تعداد میں لوگ آتے تھے، مصلیان مسجد تمام انتہائی مضطرب تھے۔ محترم المقام سیّد عبدالرشید صاحب نے ایمانی جرأت و حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مین روڈ پر نماز جمعہ کے اہتمام کے لیے اعلان کردیا۔ نیز اعلان میں یہ بھی کہا گیا کہ بریلی شریف سے تشریف لائے ہوئے اعلیٰ حضرت محدث بریلوی کے نبیرۂ محترم محمد قمر رضا خان مدظلہ العالی اجتماع جمعہ سے خطاب بھی فرمائیں گے، نیز نماز جمعہ کی امامت بھی فرمائیں گے۔ اعلان کے مطابق دریاں، چٹائیاں صفیں بچھا دی گئیں، مین روڈ بند کردیا گیا۔ سڑک پر نماز ادا کرنے کے نتیجہ میں جمعۃ المبارک کا اجتماع بہت بڑا ہوگیا۔ نماز کے لیے راستے سے گزرنے والے حضرات کہیں دوسری جگہ جانے کی بجائے یہیں رک گئے۔ اس زمانہ میں نماز جمعہ کے لیے باقاعدہ حکومتی سطح پر تعطیل ہوا کرتی تھی۔ اگرچہ یہ تعطیل پہلے اتوار کے لیے مختص تھی، لیکن یکم جولائی 1977ء بروز جمعہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے چند اسلامی اصلاحات کے نفاذ کے موقع پر’’جمعہ‘‘ کے دن ہفتہ وار تعطیل کا اعلان کیا تھا۔ اس تعطیل سے یہ فائدہ ضرور ہوا تھا کہ اکثر لوگ تعطیل کی وجہ سے صبح گیارہ بجے اٹھ کر غسل وغیرہ کرکے پاکیزہ لباس زیب تن کرکے اپنے بچوں کو ساتھ لے کر نماز جمعہ کے لیے گھر سے نکلتے تھے۔ ایسے حضرات ڈالمیا کی سڑک پر نماز جمعہ کا انعقاد دیکھ کر اس میں شامل ہوگئے۔ قمر ملت حضرت محمد قمر رضا خان نور اللہ مرقدہٗ نے اجتماع جمعہ میں خطاب بھی فرمایا اور خطبۂ جمعہ ارشاد فرماکر نماز جمعہ کی امامت فرمائی۔ نماز کے بعد جامع مسجد صدیق اکبر کی بحالی و برقراری کے لیے اور ایڈمرل اکبر حسین کے خائب و خاسر رہنے کے لیے دعا فرمائی۔ نماز جمعہ کے اس اجتماع کے نتیجہ میں ایڈمرل صاحب کی ایسی مذمت ہوئی، کہ اربابِ اختیار تک یہ معاملہ پہنچا اور بحمدہٖ تعالیٰ اسی دن سے مسجد کو کھول دیا گیا اور آج بھی مسجد قائم ہے۔
شائقین ملاقات کا ہجوم:
سطور بالا میں مرقومہ واقعہ کی شہرت ہوئی لہٰذا، اکثر لوگ عقیدت سے آئے اور آپ کے حلقہ ارادتمند وں میں شامل ہوگئے۔ نماز جمعہ کے بعد اسی سڑک پر کئی افراد مرید ہوئے۔ پاکستان نیوی کے ایک کمانڈر ظفر جٹ صاحب نے آپ سے بیعت کی اور حضرت نے مطالعہ کے لیے چند کتب اعلیٰ حضرت پیش کیں۔ جو ظفر صاحب نے کمپیوٹر کتابت کرواکر ہزاروں کی تعداد میں شائع کروائیں، اور مفت تقسیم کا اہتمام کیا، اس زمانہ میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی متعارف نہیں ہوئی تھی، اسی لیے کمپیوٹر سے کتابت کا رجحان نہ تھا، حکومتی اداروں خصوصاً افواج پاکستان کے عسکری اداروں میں کمپیوٹر کا استعمال شروع ہوگیا تھا۔ کمانڈر ظفر جٹ صاحب اکثر آتے اور اپنے ہمراہ احباب کو بھی لاتے۔ مشکلات میں حاجت روائی کے لیے طالب دعا ہوتے۔ حضرت صاحب ہمیشہ شفقت فرماتے۔ حضرت کی دعاؤں سے ظفر جٹ صاحب کی ترقی بھی ہوئی اور حضرت نے جٹ صاحب کے اصرار پر انہیں ’’اسم اعظم‘‘ بھی تعلیم فرمایا۔ حضرت قمر رضا صاحب نور اللہ مرقدہ پاکستان میں اپنے قیام کے دوران کراچی میں اپنے برادر نسبتی حضرت شوکت حسن خاں مدظلہ العالی کے یہاں مقیم رہے۔ تاہم اپنے والد محترم (مفسر اعظم حضرت علامہ ابراہیم رضا جیلانی میاں قدس سرہٗ) اور والدۂ محترمہ دونوں کے پھوپھی زاد بھائیوں یعنی محترم شہید اللہ خان صاحب۱ طول اللہ عمرہ
❤1
اور سعید اللہ خان صاحب دام برکاتہم سے ملاقات کے لیے ملیر اور شاہ فیصل کالونی تشریف لے جاتے تھے۔
علاوہ ازیں دارالعلوم امجدیہ، میمن مسجد کھوڑی گارڈن، دارالعلوم نعیمیہ، شمس العلوم جامعہ رضویہ کے علاوہ دیگر اداروں میں علماء و عوام سے ملاقات کے لیے تشریف لے جاتے رہے ہیں۔ بعض مقامات پر بڑے بڑے جلسۂ عام سے خطاب فرمایا۔ مخدوم اہلسنّت حضرت علامہ سیّد شاہ تراب الحق قادری مدفیوضہم وبرکاتہم کی درخواست پر میمن مسجد مصلح الدین گارڈن میں بھی خطاب فرمایا۔
برادر طریقت محترم ڈاکٹر معین نوری کے یہاں شاہراہ فیصل پر بہت بڑا جلسۂ عام منعقد ہوا تھا، اس سے حضرت قمر رضا نے والہانہ خطاب فرمایا تھا۔ علاوہ ازیں میمن مسجد بولٹن مارکیٹ، جامع مسجد گلزار حبیب سولجر بازار(حضرت مولانا کوکب نورانی اوکاڑوی صاحب) کے یہاں بھی حضرت اجتماع جمعہ میں تشریف لے گئے تھے۔ خطیب پاکستان حضرت علامہ محمد شفیع صاحب اوکاڑوی کے مزار پر انوار کی حاضری اور جمعۃ المبارک کے اجتماع میں تقریر دلپذیر فرمائی۔ نیز نماز جمعہ کی امامت بھی آپ نے فرمائی، مگر لاؤڈ اسپیکر استعمال نہیں فرمایا۔ فراغت نماز اور صلوٰۃو سلام کے بعد رخصت ہوتے وقت مولانا کی خدمت میں نذرانہ پیش کرنا چاہا، تو حضرت علامہ قمر رضا خان نے قبول نہیں فرمایا۔ کراچی میں چند مزارات اولیاء اللہ مثلاً حضرت عبداللہ شاہ غازی بابا، حضرت سیّد یوسف المعروف قطب عالم شاہ بخاری کے دربار میں حاضری کا شرف حاصل کیا۔
دارالعلوم قادریہ سبحانیہ شاہ فیصل کالونی میں ایک بہت بڑا جلسہ منعقد کیا گیا، جس میں طلباء کی دستار بندی کی تقریب بھی ترتیب دی گئی تھی۔ دارالعلوم کے مہتمم شیخ الحدیث والتفسیر حضرت علامہ مفتی عبدالسبحان قادری اور نائب مہتمم حضرت علامہ مفتی عبدالعلیم قادری صاحب مدظلہ العالی نے حضرت علامہ قمر رضا صاحب کا زبردست خیر مقدم کیا اور حضرت صاحب نے عشق رسول ﷺ اور اعلیٰ حضرت قدس السرہ پر نہایت جذباتی تقریر فرمائی۔
درالعلوم میں بھی اکثر طلباء حلقۂ ارادتمندی میں داخل ہوئے، جبکہ بعض اساتذہ کرام، آپ سے طالب ہوئے۔ بعض علماء آپ کے ذریعے اعلیٰ حضرت قدس السرہ سے نسبت استوار کرنے کے لیے حصول خلافت کے لیے خواستگار ہوئے تو آپ نے منع نہیں فرمایا لیکن جسے اہل سمجھا اسے خلافت عطا کی۔ مفتی عبدالسبحان قادری نے چند ملبوسات تیار کروارکر نذر کیے۔ ایک بڑی کمپنی جو کمبل بناتی تھی، اس کے مالک نے بھی آپ سے بیعت کی۔ آپ سے خاصی بڑی تعداد تقریباً ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ پاکستان میں مرید ہوئے۔ یہ وقت رشد وہدایت کے آغاز کا تھا کیونکہ 1984ء میں تحسین العلماء استاذ الاساتذہ شیخ الحدیث والتفسیر حضرت تحسین رضا خان۱ نے سلسلہ رضویہ برکاتیہ کے فروغ کے لیے اسی انداز میں خلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا، جیسا کہ خانوادہ اعلیٰ حضرت قدس السرہ کی روایت رہی ہے۔ حضرت قمررضا نے علامہ تحسین رضا قدس السرہ العزیز سے نقش مربع و مثلث لکھنے و بھرنے کے طریقے سیکھے علاوہ ازیں خانوادۂ اعلیٰ حضرت میں مروّجہ و مجرب نقوش و تعویزات لکھنے کی خصوصی تعلیم حاصل کی۔
قیام پاکستان کے دوران آپ کی سادگی اور بھولپن کا عالم یہ تھا، کہ ہمشیرہ۱ محترمہ یعنی اپنے برادر نسبتی حضرت شوکت حسن خان کے دولت خانہ واقع فیڈرل بی ایریا بلاک ۱۲ میں قیام فرما تھے۔ گھر میں مہمانوں کی آمد و رفت، آپ ہی کی وجہ سے بڑھی ہوئی تھی، چائے وغیرہ کی تیاری میں دودھ جلد ہی ختم ہو جاتا تھا آپ اپنے برادر نسبتی کو دودھ لانے کی زحمت نہ دیتے بلکہ آپ خود بھینس کے باڑے پر جاکر دودھ لے آیا کرتے تھے۔
آپ اپنی پرمزاح گفتگو اور بذلہ سنجی کے حوالہ سے بھی معروف تھے۔ یوں آپ کی شخصیت کے گوناگوں پہلو پر اُسے قلم اُٹھانا چاہیے جو قیام میں اور سفر میں آپ کے ساتھ رہا ہو۔ کیا ہی اچھا ہو ؟ کہ حضرت مولانا محمد عمر رضا صاحب سلمہٗ و زید مجدہٗ، اپنے والد گرامی مرحوم پر جامع انداز میں سوانح عمری ترتیب دیں۔ فقیر راقم الحروف نے اپنی کم علمی اور بے بضاعتی کے باوصف جو لکھا ہے، اسے پذیرائی حاصل ہو تو، فقیر کے لیے صلۂ عظیم ہوگا۔
شہر خموشاں کے مسافر
وہ چمکتا دمکتا رضا کا قمر
یعنی حضرت ریحان ملت اور حضرت تاج الشریعہ کے برادر صغیر حضور صاحب سجادہ کے عم محترم
افق رضویت کے قمر منیر ، شہزادۂ مفسر اعظم ہند
از : حضرت مفتی محمد سلیم بریلوی مدظلہ العالی۱
استاذ جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف
مجدد اعظم ، امام اہلسنّت، سیدی سرکار اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ جیسے عاشق صادق اور صاحب کشف و کرامت بزرگ نے نہ جانے کون سی مقبولیّت کی گھڑی میں فرمایا تھا کہ
حامد منی و انا من حامد
حمد سے ہمد کماتے یہ ہیں
کیونکہ اس شعر کے ہر ہر لفظ کی معنویت و واقعیت کو آج ہم خانوادۂ رضویہ اور نسل حجۃ الالسلام کے ہر ہر فرد کے اند رمحسوس پیکر میں دیکھ رہے ہیں اس وقت افق رضویت پر اسلام و سنّیت کے حجت قاہرہ بن کر چمکنے والے سارے ماہ و نجوم کا تعلق شہزا
علاوہ ازیں دارالعلوم امجدیہ، میمن مسجد کھوڑی گارڈن، دارالعلوم نعیمیہ، شمس العلوم جامعہ رضویہ کے علاوہ دیگر اداروں میں علماء و عوام سے ملاقات کے لیے تشریف لے جاتے رہے ہیں۔ بعض مقامات پر بڑے بڑے جلسۂ عام سے خطاب فرمایا۔ مخدوم اہلسنّت حضرت علامہ سیّد شاہ تراب الحق قادری مدفیوضہم وبرکاتہم کی درخواست پر میمن مسجد مصلح الدین گارڈن میں بھی خطاب فرمایا۔
برادر طریقت محترم ڈاکٹر معین نوری کے یہاں شاہراہ فیصل پر بہت بڑا جلسۂ عام منعقد ہوا تھا، اس سے حضرت قمر رضا نے والہانہ خطاب فرمایا تھا۔ علاوہ ازیں میمن مسجد بولٹن مارکیٹ، جامع مسجد گلزار حبیب سولجر بازار(حضرت مولانا کوکب نورانی اوکاڑوی صاحب) کے یہاں بھی حضرت اجتماع جمعہ میں تشریف لے گئے تھے۔ خطیب پاکستان حضرت علامہ محمد شفیع صاحب اوکاڑوی کے مزار پر انوار کی حاضری اور جمعۃ المبارک کے اجتماع میں تقریر دلپذیر فرمائی۔ نیز نماز جمعہ کی امامت بھی آپ نے فرمائی، مگر لاؤڈ اسپیکر استعمال نہیں فرمایا۔ فراغت نماز اور صلوٰۃو سلام کے بعد رخصت ہوتے وقت مولانا کی خدمت میں نذرانہ پیش کرنا چاہا، تو حضرت علامہ قمر رضا خان نے قبول نہیں فرمایا۔ کراچی میں چند مزارات اولیاء اللہ مثلاً حضرت عبداللہ شاہ غازی بابا، حضرت سیّد یوسف المعروف قطب عالم شاہ بخاری کے دربار میں حاضری کا شرف حاصل کیا۔
دارالعلوم قادریہ سبحانیہ شاہ فیصل کالونی میں ایک بہت بڑا جلسہ منعقد کیا گیا، جس میں طلباء کی دستار بندی کی تقریب بھی ترتیب دی گئی تھی۔ دارالعلوم کے مہتمم شیخ الحدیث والتفسیر حضرت علامہ مفتی عبدالسبحان قادری اور نائب مہتمم حضرت علامہ مفتی عبدالعلیم قادری صاحب مدظلہ العالی نے حضرت علامہ قمر رضا صاحب کا زبردست خیر مقدم کیا اور حضرت صاحب نے عشق رسول ﷺ اور اعلیٰ حضرت قدس السرہ پر نہایت جذباتی تقریر فرمائی۔
درالعلوم میں بھی اکثر طلباء حلقۂ ارادتمندی میں داخل ہوئے، جبکہ بعض اساتذہ کرام، آپ سے طالب ہوئے۔ بعض علماء آپ کے ذریعے اعلیٰ حضرت قدس السرہ سے نسبت استوار کرنے کے لیے حصول خلافت کے لیے خواستگار ہوئے تو آپ نے منع نہیں فرمایا لیکن جسے اہل سمجھا اسے خلافت عطا کی۔ مفتی عبدالسبحان قادری نے چند ملبوسات تیار کروارکر نذر کیے۔ ایک بڑی کمپنی جو کمبل بناتی تھی، اس کے مالک نے بھی آپ سے بیعت کی۔ آپ سے خاصی بڑی تعداد تقریباً ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ پاکستان میں مرید ہوئے۔ یہ وقت رشد وہدایت کے آغاز کا تھا کیونکہ 1984ء میں تحسین العلماء استاذ الاساتذہ شیخ الحدیث والتفسیر حضرت تحسین رضا خان۱ نے سلسلہ رضویہ برکاتیہ کے فروغ کے لیے اسی انداز میں خلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا، جیسا کہ خانوادہ اعلیٰ حضرت قدس السرہ کی روایت رہی ہے۔ حضرت قمررضا نے علامہ تحسین رضا قدس السرہ العزیز سے نقش مربع و مثلث لکھنے و بھرنے کے طریقے سیکھے علاوہ ازیں خانوادۂ اعلیٰ حضرت میں مروّجہ و مجرب نقوش و تعویزات لکھنے کی خصوصی تعلیم حاصل کی۔
قیام پاکستان کے دوران آپ کی سادگی اور بھولپن کا عالم یہ تھا، کہ ہمشیرہ۱ محترمہ یعنی اپنے برادر نسبتی حضرت شوکت حسن خان کے دولت خانہ واقع فیڈرل بی ایریا بلاک ۱۲ میں قیام فرما تھے۔ گھر میں مہمانوں کی آمد و رفت، آپ ہی کی وجہ سے بڑھی ہوئی تھی، چائے وغیرہ کی تیاری میں دودھ جلد ہی ختم ہو جاتا تھا آپ اپنے برادر نسبتی کو دودھ لانے کی زحمت نہ دیتے بلکہ آپ خود بھینس کے باڑے پر جاکر دودھ لے آیا کرتے تھے۔
آپ اپنی پرمزاح گفتگو اور بذلہ سنجی کے حوالہ سے بھی معروف تھے۔ یوں آپ کی شخصیت کے گوناگوں پہلو پر اُسے قلم اُٹھانا چاہیے جو قیام میں اور سفر میں آپ کے ساتھ رہا ہو۔ کیا ہی اچھا ہو ؟ کہ حضرت مولانا محمد عمر رضا صاحب سلمہٗ و زید مجدہٗ، اپنے والد گرامی مرحوم پر جامع انداز میں سوانح عمری ترتیب دیں۔ فقیر راقم الحروف نے اپنی کم علمی اور بے بضاعتی کے باوصف جو لکھا ہے، اسے پذیرائی حاصل ہو تو، فقیر کے لیے صلۂ عظیم ہوگا۔
شہر خموشاں کے مسافر
وہ چمکتا دمکتا رضا کا قمر
یعنی حضرت ریحان ملت اور حضرت تاج الشریعہ کے برادر صغیر حضور صاحب سجادہ کے عم محترم
افق رضویت کے قمر منیر ، شہزادۂ مفسر اعظم ہند
از : حضرت مفتی محمد سلیم بریلوی مدظلہ العالی۱
استاذ جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف
مجدد اعظم ، امام اہلسنّت، سیدی سرکار اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ جیسے عاشق صادق اور صاحب کشف و کرامت بزرگ نے نہ جانے کون سی مقبولیّت کی گھڑی میں فرمایا تھا کہ
حامد منی و انا من حامد
حمد سے ہمد کماتے یہ ہیں
کیونکہ اس شعر کے ہر ہر لفظ کی معنویت و واقعیت کو آج ہم خانوادۂ رضویہ اور نسل حجۃ الالسلام کے ہر ہر فرد کے اند رمحسوس پیکر میں دیکھ رہے ہیں اس وقت افق رضویت پر اسلام و سنّیت کے حجت قاہرہ بن کر چمکنے والے سارے ماہ و نجوم کا تعلق شہزا
❤1
دۂ حجۃ الاسلام حضرت مفسر اعظم ہند علامہ محمد ابراہیم رضا خاں جیلانی میاں کی ذات والا تبار سے ہے۔
موجودہ دور میں سرکار اعلیٰ حضرت کی جو نسل مبارک پائی جاتی ہے وہ حضور مفسر اعظم ہند کی اولاد ہی کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔ سرکار مفسر اعظم ہند کی سب سے عظیم کرامت اور سب سے بڑی خاصیّت یہی ہے کہ آپ نے اپنی اولاد اور اپنے تمام فرزندان کی علمی و روحانی ایسی مثالی تربیت فرمائی کہ ان کا ہر فرزند سرکار اعلیٰ حضرت کے مشن ’’مشن تحفظِ ناموس رسالت‘‘ اور سرکار اعلیٰ حضرت کی تحریک ’’تحریک تحفظ عظمت اولیاء‘‘ کا عظیم علم بردار اور بہادر نڈر جرنیل بن کر مذہب اہلسنّت اور مسلک اعلیٰ حضرت کا محافظ و پاسبان بن کر ’’حامد منی انا من حامد‘‘ کی عملی تفسیر بن گیا۔ چنانچہ کسی نے اسلام اہلسنّت کا مسحور کن ’’ریحان ‘‘ بن کر جماعت اہلسنت کے مشام جاں کو معطر کیا تو کوئی ’’اختر‘‘ بن کر آج اہلسنّت کے ہر عام و خاص پر اپنی علمی و روحانی چمک دمک کے ساتھ سایہ فگن ہے، کسی نے افق رضویت کا درخشاں ’’قمر‘‘ بن کر ضلالت و گمراہی کی گھٹاٹوپ تاریکیوں میں ’’مصباح راہب‘‘ اور مینارۂ نور کی صورت میں رشد و ہدایت کا عظیم کارنامہ انجام دیا تو کوئی ’’منان‘‘ بن کر بریلی و دہلی میں علوم و فنون کی قندیلوں کو روشن کر رہا ہے۔
سرکار اعلیٰ حضرت کے اسی مشن تحفظ ناموس رسالت کے ایک عظیم قائد کا نام تھا شہزادہ مفسر اعظم ہند حضرت مولانا محمد قمر رضا خاں جو جماعت اہلسنّت کو روتا، بلکتا چھوڑ کر مورخہ ۵ شعبان المعظم ۱۴۳۳ھ مطابق ۲۶ جون ۲۰۱۲ء بروز منگل بوقت تقریباً ۵ بجے صبح اپنے مالک حقیقی سے جاملے ۔
اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُونَ
۱آپ حضور مفسر اعظم جیلانی میاں کی اولاد نرینہ میں چوتھے نمبر کے فرزندہیں، حضور مفسراعظم جیلانی میاں کے فرزند اکبر ریحان ملت حضرت محمد ریحان رضا خاں (المعروف رحمانی میاں) منجھلے فرزند حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں (المعروف ازہری میاں مدظلہ العالی ) تیسرے نمبر پر حضور قمر ملت ڈاکٹر محمد قمر رضا خاں چوتھے نمبر پر مولانا منان رضا خاں (المعروف منانی میاں)۔
آپ حضور تاج الشریعہ سے عمر میں چھ برس چھوٹے تھے،آپ تاج الشریعہ کی طرح نجیب الطرفین (یعنی باپ اور ماں دونوں کی طرف سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا سے نسب ) ہیں۔۱۲
۲ آپ کی ولادت 10ربیع الآخر 1325ھ /1907ء میں رضا نگر محلہ سوداگراں بریلی شریف میں ہوئی، حضرت حجۃ الاسلام کے گھر میں یہ پہلی ولادت ہوئی ،اس لیے خاندان کے ہر فرد کو بےحد خوشی ہوئی، ابتدائی تعلیم کا آغاز دارلعلوم منظر اسلام کی آغوش میں کیا، آپ کو بیعت و خلافت اعلیٰ حضرت سے حاصل ہے۔ آپ کا وصال بعمر 60 سال صبح 11 صفر المظفر 1385ھ/12جون 1965ء کو ہوا۔
۳ حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا 1292ھ/ 1892ء بریلی میں پیدا ہوئے، آپ نے جملہ علوم و فنون اپنے والد اعلیٰ حضرت سے حاصل کیے۔ 1323ھ/ 1905ء میں اپنے والد ماجد کے ہمراہ زیارت حرمین شریفین اور حج کی سعادت سے مشرف ہوئے اور شیخ محمد سعید بالبصیل اور شیخ محمد برزنجی کے حلقہ درس میں شریک ہوئے اور اسناد سے نوازے گئے۔ حضرت علامہ خلیل خربوطی نے سند فقہ حنفی عطا فرمائی جو علامہ سید طحطاوی سے انھیں صرف دو واسطوں سے حاصل تھی۔
دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف میں صدرالمدرسین اور شیخ الحدیث کا منصب سنبھالا۔ بیعت و خلافت حضرت سیّدنا ابوالحسین احمد نوری قدس سرہٗ سے حاصل ہے۔ درجنوں کتابیں آپ کی یادگار ہیں۔ 17 جمادی الاولیٰ1362ھ/ 1943ء دوران نماز آپ کا وصال ہوا۔ روضۂ اعلیٰ حضرت کے مغربی جانب گنبد رضا میں مدفون ہوئے۔
معروف محقق عبدالحق انصاری لکھتے ہیں:
اعلیٰ حضرت ہندوستان کے شہر بریلی میں 1272ھ/ 1856ء میں پیدا ہوئے۔ اور 1340ھ/ 1921ء کو وہیں وفات پائی۔ فقیہ حنفی، مسند، نعت گو شاعر، قادری مرشد، کثیر التصانیف تھے۔
آپ کے پانچ اوصاف و خدمات قابل ذکر ہیں:
پہلی:
قرآن مجید کا اردو ترجمہ کیا جسے مقبولیت ملی اور کسی حکومت کی مالی معاونت و سرپرستی کے بغیر وسیع اشاعت ہوئی۔
دوسری:
اپنے دور کی اسلامی دنیا میں عالی الاسناد شخصیت تھے۔
تیسری:
اردو کی نعتیہ شاعری میں گراں قدر اور بے مثل اضافہ کیا۔
چوتھی:
فقہ حنفی کی مشہور کتاب درمختار کے محشی دمشق کے علامہ سیّد محمد امین بن عمر ابن عابدین (وفات1252ھ/ 1836ء) کے بعد آج تک کی اسلامی دنیا میں ان کے درجہ کا کوئی فقیہ حنفی ہمارے علم میں نہیں۔
پانچویں:
بارہویں صدی ہجری میں جنم لینے والی وہابی تحریک کے تعاقب میں فعال پوری اسلامی دنیا کی اہم و نمایاں شخصیت میں سے تھے۔
آپ کے حالات اردو وغیرہ زبانوں میں بآسانی دستیاب ہیں، علاوہ ازیں فتاویٰ رضویہ 33ضخیم مجلدات میں فقہ حنفی کا انسائیکلوپیڈیا بھی آپ کا عظیم کارنامہ ہے۔
رئیس المتکلمین علامہ نقی علی خان کی ولادت مسلح جمادی الآخر یا غرہ رجب 1246ھ مطابق 1830ء کو بریلی کے محلہ ذخیرہ میں ہوئی،آپ
موجودہ دور میں سرکار اعلیٰ حضرت کی جو نسل مبارک پائی جاتی ہے وہ حضور مفسر اعظم ہند کی اولاد ہی کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔ سرکار مفسر اعظم ہند کی سب سے عظیم کرامت اور سب سے بڑی خاصیّت یہی ہے کہ آپ نے اپنی اولاد اور اپنے تمام فرزندان کی علمی و روحانی ایسی مثالی تربیت فرمائی کہ ان کا ہر فرزند سرکار اعلیٰ حضرت کے مشن ’’مشن تحفظِ ناموس رسالت‘‘ اور سرکار اعلیٰ حضرت کی تحریک ’’تحریک تحفظ عظمت اولیاء‘‘ کا عظیم علم بردار اور بہادر نڈر جرنیل بن کر مذہب اہلسنّت اور مسلک اعلیٰ حضرت کا محافظ و پاسبان بن کر ’’حامد منی انا من حامد‘‘ کی عملی تفسیر بن گیا۔ چنانچہ کسی نے اسلام اہلسنّت کا مسحور کن ’’ریحان ‘‘ بن کر جماعت اہلسنت کے مشام جاں کو معطر کیا تو کوئی ’’اختر‘‘ بن کر آج اہلسنّت کے ہر عام و خاص پر اپنی علمی و روحانی چمک دمک کے ساتھ سایہ فگن ہے، کسی نے افق رضویت کا درخشاں ’’قمر‘‘ بن کر ضلالت و گمراہی کی گھٹاٹوپ تاریکیوں میں ’’مصباح راہب‘‘ اور مینارۂ نور کی صورت میں رشد و ہدایت کا عظیم کارنامہ انجام دیا تو کوئی ’’منان‘‘ بن کر بریلی و دہلی میں علوم و فنون کی قندیلوں کو روشن کر رہا ہے۔
سرکار اعلیٰ حضرت کے اسی مشن تحفظ ناموس رسالت کے ایک عظیم قائد کا نام تھا شہزادہ مفسر اعظم ہند حضرت مولانا محمد قمر رضا خاں جو جماعت اہلسنّت کو روتا، بلکتا چھوڑ کر مورخہ ۵ شعبان المعظم ۱۴۳۳ھ مطابق ۲۶ جون ۲۰۱۲ء بروز منگل بوقت تقریباً ۵ بجے صبح اپنے مالک حقیقی سے جاملے ۔
اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُونَ
۱آپ حضور مفسر اعظم جیلانی میاں کی اولاد نرینہ میں چوتھے نمبر کے فرزندہیں، حضور مفسراعظم جیلانی میاں کے فرزند اکبر ریحان ملت حضرت محمد ریحان رضا خاں (المعروف رحمانی میاں) منجھلے فرزند حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں (المعروف ازہری میاں مدظلہ العالی ) تیسرے نمبر پر حضور قمر ملت ڈاکٹر محمد قمر رضا خاں چوتھے نمبر پر مولانا منان رضا خاں (المعروف منانی میاں)۔
آپ حضور تاج الشریعہ سے عمر میں چھ برس چھوٹے تھے،آپ تاج الشریعہ کی طرح نجیب الطرفین (یعنی باپ اور ماں دونوں کی طرف سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا سے نسب ) ہیں۔۱۲
۲ آپ کی ولادت 10ربیع الآخر 1325ھ /1907ء میں رضا نگر محلہ سوداگراں بریلی شریف میں ہوئی، حضرت حجۃ الاسلام کے گھر میں یہ پہلی ولادت ہوئی ،اس لیے خاندان کے ہر فرد کو بےحد خوشی ہوئی، ابتدائی تعلیم کا آغاز دارلعلوم منظر اسلام کی آغوش میں کیا، آپ کو بیعت و خلافت اعلیٰ حضرت سے حاصل ہے۔ آپ کا وصال بعمر 60 سال صبح 11 صفر المظفر 1385ھ/12جون 1965ء کو ہوا۔
۳ حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا 1292ھ/ 1892ء بریلی میں پیدا ہوئے، آپ نے جملہ علوم و فنون اپنے والد اعلیٰ حضرت سے حاصل کیے۔ 1323ھ/ 1905ء میں اپنے والد ماجد کے ہمراہ زیارت حرمین شریفین اور حج کی سعادت سے مشرف ہوئے اور شیخ محمد سعید بالبصیل اور شیخ محمد برزنجی کے حلقہ درس میں شریک ہوئے اور اسناد سے نوازے گئے۔ حضرت علامہ خلیل خربوطی نے سند فقہ حنفی عطا فرمائی جو علامہ سید طحطاوی سے انھیں صرف دو واسطوں سے حاصل تھی۔
دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف میں صدرالمدرسین اور شیخ الحدیث کا منصب سنبھالا۔ بیعت و خلافت حضرت سیّدنا ابوالحسین احمد نوری قدس سرہٗ سے حاصل ہے۔ درجنوں کتابیں آپ کی یادگار ہیں۔ 17 جمادی الاولیٰ1362ھ/ 1943ء دوران نماز آپ کا وصال ہوا۔ روضۂ اعلیٰ حضرت کے مغربی جانب گنبد رضا میں مدفون ہوئے۔
معروف محقق عبدالحق انصاری لکھتے ہیں:
اعلیٰ حضرت ہندوستان کے شہر بریلی میں 1272ھ/ 1856ء میں پیدا ہوئے۔ اور 1340ھ/ 1921ء کو وہیں وفات پائی۔ فقیہ حنفی، مسند، نعت گو شاعر، قادری مرشد، کثیر التصانیف تھے۔
آپ کے پانچ اوصاف و خدمات قابل ذکر ہیں:
پہلی:
قرآن مجید کا اردو ترجمہ کیا جسے مقبولیت ملی اور کسی حکومت کی مالی معاونت و سرپرستی کے بغیر وسیع اشاعت ہوئی۔
دوسری:
اپنے دور کی اسلامی دنیا میں عالی الاسناد شخصیت تھے۔
تیسری:
اردو کی نعتیہ شاعری میں گراں قدر اور بے مثل اضافہ کیا۔
چوتھی:
فقہ حنفی کی مشہور کتاب درمختار کے محشی دمشق کے علامہ سیّد محمد امین بن عمر ابن عابدین (وفات1252ھ/ 1836ء) کے بعد آج تک کی اسلامی دنیا میں ان کے درجہ کا کوئی فقیہ حنفی ہمارے علم میں نہیں۔
پانچویں:
بارہویں صدی ہجری میں جنم لینے والی وہابی تحریک کے تعاقب میں فعال پوری اسلامی دنیا کی اہم و نمایاں شخصیت میں سے تھے۔
آپ کے حالات اردو وغیرہ زبانوں میں بآسانی دستیاب ہیں، علاوہ ازیں فتاویٰ رضویہ 33ضخیم مجلدات میں فقہ حنفی کا انسائیکلوپیڈیا بھی آپ کا عظیم کارنامہ ہے۔
رئیس المتکلمین علامہ نقی علی خان کی ولادت مسلح جمادی الآخر یا غرہ رجب 1246ھ مطابق 1830ء کو بریلی کے محلہ ذخیرہ میں ہوئی،آپ
❤1
نے جملہ علوم و فنون کی تعلیم اپنے والد ماجد امام العلماء مولانا رضا علی خان سے حاصل کی ، آپ ایام طفلی سے ہی پرہیزگار ، متقی اور علم وعمل کے بحر ذخار تھے ، آپ کی ذات مرجع خلائق وعلماء تھی، کثیر علوم میں تصانیف مطبوعہ وغیر مطبوعہ آپ کے علم و فضل کی شاہد ہیں،آپ نے سیّدنا شاہ آلِ رسول قادری برکاتی مارہروی سے شرف بیعت و خلافت حاصل کی۔آپ نے 1297ھ تک فتویٰ نویسی کا گراں قدر فریضہ انجام دیا،آپ کا خونی اسہال کے عارضہ میں ذیقعدہ 1297ھ /1880ء کو وصال ہواجسے علماء نے شہادت سے تعبیر کیا۔
امام العلماء مولانا رضا علی خان 1224ھ میں بریلی میں پیدا ہوئے ، آپ نے جملہ علوم و فنون کی تکمیل 1347ھ میں مولانا خلیل الرحمٰن رامپوری سے حاصل کی ،آپ مولانا فضل الرحمٰن گنج مرآبادی سے بیعت تھے اور اجازت و خلافت مولانا خلیل الرحمن ولایتی رامپوری سے تھی ، فقہہ میں آپ کو دسترس خاص حاصل تھا ، 1816ءمیں آپ نے مسند افتاء کو رونق بخشی اور 1246ھ/ 1831ءمیں سرزمین بریلی پر مسند افتاء کی بنیاد رکھی اور چونتیس سال تک فتویٰ نویسی کا کام بحسن خوبی انجام دیا، آپ نہایت منکسر المزاج تھے، آپ کی تقریر انتہائی موثر ہوتی ، بڑے تقویٰ شعار،زہد وقناعت اور تجرید جیسے اوصاف حمیدہ میں بھی آپ ممتاز تھے، آپ کا وصال بعمر باسٹھ سال 6 جمادی الاول 1286ھ میں ہوا ، اوربریلی میں قبرستان بہاری پور سول لائن آپ کی آخری آرامگاہ ہے۔
حضرت قمر رضا صاحب کے متعلق ڈاکٹریٹ اور PHD کی ڈگری منسوب کی گئی ہے جو غلط فہمی کی وجہ سے شہرت پاگئی۔ لہٰذا یہاں اس غلط فہمی کا ازالہ کیا گیا ہے۔
مفتی اعظم ہند علامہ مفتی محمد مصطفے رضا خان بریلوی 22ذی الحجہ 1310ھ/7 جولائی 1893ء میں بریلی شریف میں پیدا ہوئے، 25 جمادی الثانی 1311ھ چھ 6ماہ تین یوم کی عمر میں حضرت شاہ سید ابوالحسن نوری قدس سرہٗ نے داخل سلسلہ فرمایا اور تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا، آپ نے 1328ھ/1910ء میں بعمر 18 سال جملہ علوم و فنون منقولات و معقولات پر عبور حاصل کر کے دارالعلوم منظر اسلام سے تکمیل و فراغت پائی ، اور فتویٰ نویسی کی مسند کو رونق بخشی، آپ 92سال کی عمر میں 14 محرم 1402/12نومبر 1981ء رات 1بجکر 40منٹ پر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
صدرالعلماء علامہ تحسین رضاخان بریلوی 4شعبان 1930ء میں پیدا ہوئے،آپ اعلیٰ حضرت کے برادر اصغر مولانا حسن رضا خان متوفی 1326ھ/1908ء کے پوتے ہیں، آپ شعبان 1375ھ میں جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد سے سند فراغت حاصل کر کے بریلی شریف واپس آئے۔ 1949ء میں مولوی ، 1950ء میں عالم ، 1951ءمیں منشی ، 1952ء میں فاضل ادب1954ء میں کامل کے امتحانات دیئے،آپ 1943ء میں حضور مفتی اعظم کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور 1980ھ میں حضور مفتی اعظم نے اجازت و خلافت سے نوازا،آپ کا وصال 1427ھ/ 2007ءمیں ہوا۔
ملازمت:
ابتداء سوداگران سے متصل ایک پرائمری اسکول میں بحیثیت اردو ٹیچر تقرر عمل میں آیا، اس کے بعد بھیم تال نینی تال میں تعلیم دی،پھر اہلسنّت کی کتابوں کو طبع کرنے کیلئے آفسیٹ پریس لگائی۔
بحوالہ :
ماہنامہ اعلیٰ حضرت، شمارہ 8، جلد 52، اگست2012ء، رمضان 1433ھ، صفحہ 58۔ ۱۲منہ
رہائش:
آپ کی رہائش حضور مفسر اعظم جیلانی میاں کی رہائش گاہ میں محلہ خواجہ قطب میں رہی اور یہیں پر پہلے حضور تاج الشریعہ بھی رہے، یہ محلہ سوداگران محلہ سے قریب ہی تقریباً ایک کلو میٹر(دس منٹ) کی مسافت پر ہے۔۱۲
آپ نے اپنی زندگی میں تین حج ادا فرمائے اور متعدد مرتبہ عمرہ کی بھی سعادت حاصل کی، بلکہ اس سال (1433ھ) ماہ رمضان میں بھی جانے والے تھے۔
سب سے پہلی مرتبہ 1990ء میں عمرہ کے لئے حاضر ہوئے، عمرہ کی دائیگی کے بعد عراق کا سفر کیا جس میں بغداد شریف اور دیگر مقامات مقدسہ کی زیارت کا شرف ملا، پہلا حج 1993ء میں ادا کیا، دوسرا حج 2001ء اور تیسرا حج 2002ء میں ادا کیا۔بروایت مولانا عمر رضا: ہندوستان کا کوئی ایسا صوبہ نہیں جہاں ابّا جی قبلہ نے تبلیغی سفر نہ کیا ہو۔۱۲
حضور قمر ملت نے متعدد بار جمعہ مبارک و عیدین ’’رضا مسجد‘‘ بریلی شریف میں پڑھایا۔۱۲
اعلیٰ حضرت نے اپنے شہزدۂ اکبر حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں کی پیدائش پر نام حامد رضا زبر بینہ کے تحت 1362ھ نکالا اور یہی آپ کا سن وصال ٹھہرا۔۱۲
بروایت جانشین و شہزادہ ٔ اکبر حضور قمر ملت ، مولاناعمر رضا خاں صاحب مدظلہٗ:
وصال سے چند ہی ماہ قبل کرناٹک میں حافظ قلندر صاحب گلشن رضوی رائے پور کی دعوت پر حضرت تشریف لائے ، میزبان کو اللہ عزوجل نے اولاد نرینہ عطا فرمائی سو حضرت کی علم الاعداد اور تاریخ گوئی کے فن پر مہارت کو مد نظر رکھتے ہوئے میزبان نے بچے کا نام تجویز کرنے کی درخواست کی جس پر حضرت نے مختصر غور کے برجستہ فرمایا کہ میرا ہی نام محمد قمر رضا 1433ھ سال پر ہے۔ سبحان اللہ۔۱۲
بروایت جانشین و شہزادۂ اکبر حضور قمر مل
امام العلماء مولانا رضا علی خان 1224ھ میں بریلی میں پیدا ہوئے ، آپ نے جملہ علوم و فنون کی تکمیل 1347ھ میں مولانا خلیل الرحمٰن رامپوری سے حاصل کی ،آپ مولانا فضل الرحمٰن گنج مرآبادی سے بیعت تھے اور اجازت و خلافت مولانا خلیل الرحمن ولایتی رامپوری سے تھی ، فقہہ میں آپ کو دسترس خاص حاصل تھا ، 1816ءمیں آپ نے مسند افتاء کو رونق بخشی اور 1246ھ/ 1831ءمیں سرزمین بریلی پر مسند افتاء کی بنیاد رکھی اور چونتیس سال تک فتویٰ نویسی کا کام بحسن خوبی انجام دیا، آپ نہایت منکسر المزاج تھے، آپ کی تقریر انتہائی موثر ہوتی ، بڑے تقویٰ شعار،زہد وقناعت اور تجرید جیسے اوصاف حمیدہ میں بھی آپ ممتاز تھے، آپ کا وصال بعمر باسٹھ سال 6 جمادی الاول 1286ھ میں ہوا ، اوربریلی میں قبرستان بہاری پور سول لائن آپ کی آخری آرامگاہ ہے۔
حضرت قمر رضا صاحب کے متعلق ڈاکٹریٹ اور PHD کی ڈگری منسوب کی گئی ہے جو غلط فہمی کی وجہ سے شہرت پاگئی۔ لہٰذا یہاں اس غلط فہمی کا ازالہ کیا گیا ہے۔
مفتی اعظم ہند علامہ مفتی محمد مصطفے رضا خان بریلوی 22ذی الحجہ 1310ھ/7 جولائی 1893ء میں بریلی شریف میں پیدا ہوئے، 25 جمادی الثانی 1311ھ چھ 6ماہ تین یوم کی عمر میں حضرت شاہ سید ابوالحسن نوری قدس سرہٗ نے داخل سلسلہ فرمایا اور تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا، آپ نے 1328ھ/1910ء میں بعمر 18 سال جملہ علوم و فنون منقولات و معقولات پر عبور حاصل کر کے دارالعلوم منظر اسلام سے تکمیل و فراغت پائی ، اور فتویٰ نویسی کی مسند کو رونق بخشی، آپ 92سال کی عمر میں 14 محرم 1402/12نومبر 1981ء رات 1بجکر 40منٹ پر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
صدرالعلماء علامہ تحسین رضاخان بریلوی 4شعبان 1930ء میں پیدا ہوئے،آپ اعلیٰ حضرت کے برادر اصغر مولانا حسن رضا خان متوفی 1326ھ/1908ء کے پوتے ہیں، آپ شعبان 1375ھ میں جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد سے سند فراغت حاصل کر کے بریلی شریف واپس آئے۔ 1949ء میں مولوی ، 1950ء میں عالم ، 1951ءمیں منشی ، 1952ء میں فاضل ادب1954ء میں کامل کے امتحانات دیئے،آپ 1943ء میں حضور مفتی اعظم کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور 1980ھ میں حضور مفتی اعظم نے اجازت و خلافت سے نوازا،آپ کا وصال 1427ھ/ 2007ءمیں ہوا۔
ملازمت:
ابتداء سوداگران سے متصل ایک پرائمری اسکول میں بحیثیت اردو ٹیچر تقرر عمل میں آیا، اس کے بعد بھیم تال نینی تال میں تعلیم دی،پھر اہلسنّت کی کتابوں کو طبع کرنے کیلئے آفسیٹ پریس لگائی۔
بحوالہ :
ماہنامہ اعلیٰ حضرت، شمارہ 8، جلد 52، اگست2012ء، رمضان 1433ھ، صفحہ 58۔ ۱۲منہ
رہائش:
آپ کی رہائش حضور مفسر اعظم جیلانی میاں کی رہائش گاہ میں محلہ خواجہ قطب میں رہی اور یہیں پر پہلے حضور تاج الشریعہ بھی رہے، یہ محلہ سوداگران محلہ سے قریب ہی تقریباً ایک کلو میٹر(دس منٹ) کی مسافت پر ہے۔۱۲
آپ نے اپنی زندگی میں تین حج ادا فرمائے اور متعدد مرتبہ عمرہ کی بھی سعادت حاصل کی، بلکہ اس سال (1433ھ) ماہ رمضان میں بھی جانے والے تھے۔
سب سے پہلی مرتبہ 1990ء میں عمرہ کے لئے حاضر ہوئے، عمرہ کی دائیگی کے بعد عراق کا سفر کیا جس میں بغداد شریف اور دیگر مقامات مقدسہ کی زیارت کا شرف ملا، پہلا حج 1993ء میں ادا کیا، دوسرا حج 2001ء اور تیسرا حج 2002ء میں ادا کیا۔بروایت مولانا عمر رضا: ہندوستان کا کوئی ایسا صوبہ نہیں جہاں ابّا جی قبلہ نے تبلیغی سفر نہ کیا ہو۔۱۲
حضور قمر ملت نے متعدد بار جمعہ مبارک و عیدین ’’رضا مسجد‘‘ بریلی شریف میں پڑھایا۔۱۲
اعلیٰ حضرت نے اپنے شہزدۂ اکبر حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں کی پیدائش پر نام حامد رضا زبر بینہ کے تحت 1362ھ نکالا اور یہی آپ کا سن وصال ٹھہرا۔۱۲
بروایت جانشین و شہزادہ ٔ اکبر حضور قمر ملت ، مولاناعمر رضا خاں صاحب مدظلہٗ:
وصال سے چند ہی ماہ قبل کرناٹک میں حافظ قلندر صاحب گلشن رضوی رائے پور کی دعوت پر حضرت تشریف لائے ، میزبان کو اللہ عزوجل نے اولاد نرینہ عطا فرمائی سو حضرت کی علم الاعداد اور تاریخ گوئی کے فن پر مہارت کو مد نظر رکھتے ہوئے میزبان نے بچے کا نام تجویز کرنے کی درخواست کی جس پر حضرت نے مختصر غور کے برجستہ فرمایا کہ میرا ہی نام محمد قمر رضا 1433ھ سال پر ہے۔ سبحان اللہ۔۱۲
بروایت جانشین و شہزادۂ اکبر حضور قمر مل
❤1
ت ، مولاناعمر رضا خاں صاحب مدظلہٗ:
ایک بار ’’بلیا‘‘گاؤں مظفر پور ضلع بہار سے حضرت کا گزر ہوا جہاں سے ایک دریا گزرتا تھا جس کا رخ مسلمانوں کے علاقے کی طرف تھا ، حضرت نے اپنی چھڑی مبارکہ سے اس دریا کی طرف اشارہ کیا اور زیر لب کچھ پڑھا جس پر دریا کا رخ تبدیل ہو کر غیر مسلموں کے علاقے کی طرف ہوگیا جو کہ اب تک اسی طرح موجود ہے، حضرت کی اس زندہ کرامت کو دیکھ کر بے شمار غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔۱۲
قریب تین سال سے سینے میں پانی بھی بھر گیا تھا ،ان تمام بیماریوں کے باوجود زندگی کا اکثر حصہ سفر فرمایااور وصال سے قبل بھی سفر ہی میں تھے کہ طبیعت خراب ہوئی اور بریلی شریف تشریف لے آئے۔۱۲
لہٰذا جس ڈاکٹر کے آپ زیر علاج تھے اس کے مطب میں لے جاکر دکھایا گیا۔۱۲
حضور تاج الشریعہ کی عادت مبارک کہ موبائل فون رات میں بند رکھتے اور بعد فجر بھی مگر اس دن فجر کے فوری بعد اپنا فون آن کرلیا اور فرمانے لگے کہ طبیعت کچھ بے چین سی ہورہی ہے اتنے میں فون پر اطلاع موصول ہوئی ۔۱۲
۱ سجادہ نشین درگاہ اعلیٰ حضرت علامہ مفتی سبحان رضا خان سبحانی میاں۔
ماہنامہ اعلیٰ حضرت، شمارہ 8، جلد 52، اگست2012 ، رمضان 1433ھ، صفحہ ۶۰۔
نماز جنازہ میں اجتماع کثیر تھا ، ایسا معلوم ہوتا جیسا کہ عرس اعلیٰ حضرت پر لوگوں کا ہجوم ہو ، دُور دَراز سے لوگ جنازے میں شریک ہوئے یہاں تک کہ بہار سے بریلی تک ٹرین کا سفر 18 گھنٹے ہے، لوگ موٹر سائیکل پر چلے آئے۔۱۲
جنازہ کے بعد تاج الشریعہ بڑے افسردہ تھے اور لیٹ گئے اور اپنے بھائی کی جدائی کا گہرا اثر آپ پر ہوا، حضور قمرِ ملّت ، حضور تاج الشریعہ کا خوب ادب فرماتے یہاں تک کہ اپنی اولاد کو بھی خوب تاکید فرماتے۔۱۲
آپ کے شہزادگان کی گزارش پر حضور صاحب سجادہ نے آپ کی تدفین کے لئے جس جگہ کا انتخاب فرمایا وہ یقیناً ایک فرزند کیلئے بے حد خوش نصیبی اور خوش بختی کی بات ہے کہ آپ کی آرام گاہ والد اور والدہ کے بالکل درمیان اور وسط میں ہے، داہنی اور مغربی جانب حضور مفسر اعظم ہند کی تُربت ہے اور بائیں اور مشرقی جانب آپ کی والدہ کی تُربت ہے۔
۱۲ بحوالہ : ماہنامہ اعلیٰ حضرت، شمارہ 8، جلد 52، اگست 2012ء ، رمضان 1433، صفحہ ۵۹۔
[1]۔ ماہنامہ رضائے مصطفی ، گوجرانوالہ، شوال المکرم1433ھ، اگست 2012ء
۱ حیات مفسر اعظم ہند:۱۳، مفتی عبدالواجد قادری بحوالہ: حضرت مولانا محمد ابراہم خوشتر صدیقی، تذکرۂ جمیل صفحہ ۲۰۶۔
المرجع السابق۔ ۱ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، (ایٹمی سائنسدان) ’’سحر ہونے تک‘‘ روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی میں شائع ہونے والے کالم کا حوالہ۔
۱ شمائل الرسول صفحہ۱۴۴، بحوالہ ضیاء النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جلد:۵، صفحہ ۷۱۰۔
پارہ:۲۷، القمر: ۱ تا ۳۔
کنزالایمان۔
رانا محمد سرور خاں، سیرت سرور کونین، جلد:۱۰، صفحہ:۴۹۳۔
امام ابن جریر الطبری، تفسیر جامع البیان فی تاویل القرآن، جلد یاز دھم:۵۴۴ تا ۵۴۸ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت 1426ھ/ 2005ء۔
تفسیر روح البیان، جلد۹: ۳۱۳، مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت۔
مسلم شریف جلد دوم:۳۷۳، ترمذی، دوم: ۶۳۶۔
علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی، نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری، جلد ہفتم، صفحہ۷۷۔
تفسیر روح المعانی، ۲۷: ۷۵۔
۱ ابی محمدحسین الفرأ البغوی (متوفی516ھ/ 1122ء) تفسیر معالم التنزیل، جلد:۶، صفحہ: ۲۲۶۔
حضرت صوفی علاء الدین علی بن محمد بغدادی المعروف خازن (متوفی 725ھ/ 1325ء) تفسیر لباب التأویل فی معانی التنزیل جلد:۶، صفحہ ۲۲۶۔
حضرت شاہ رؤف احمد رافت مجددی آل مجدد الف ثانی (متوفی 1249ھ/ 1833ء)
تفسیر رؤفی جلد دوم صفحہ ۳۱۹۔
۲ تفسیر رؤفی جلد دوم صفحہ ۳۱۹ میں ہے کہ ایک یہودی مسلمان ہوگیا تھا۔ نیز ایک عبارت میں علمی نکتہ یہ ہے کہ ’’جب خوب سب نے دیکھ لیا تو پھر سرکار علیہ السلام نے جب تک دوبارہ انگشت شہادت کا اشارہ نہیں دیا، اس وقت تک شگافتہ قمر کامل نہیں ہوا‘‘۔
۱ حضرت علامہ علی بن برہان الدین الحلبی شافعی (متوفی 1044ھ/ 1634ء) انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون، اول: ۳۰۷۔ اس کتاب کو ’’سیرۃ حلبی‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اسی کتاب میں ہے کہ، بابا رتن الھندی کے لیے بعض علماء کہتے ہیں: ’’یہ شخص طویل العمر یعنی 600 سال کے تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا، کہ میں نے رسول اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت بھی کی تھی اور آپﷺ کے دست حق پرست پر مشرف بہ اسلام بھی ہوا تھا‘‘۔ اگرچہ امام ذھبی، امام عسقلانی نے اپنی کتب اسماء الرجال بالترتیب، ’’میزان الاعتدال‘‘، ’’لسان المیزان‘‘ میں متذکرہ شخص کے لیے کذاب کا قول بیان کیا ہے۔
۲ راجہ بھوجپال یا بھوج پانڈے اپنے محل کی چھت پر تھا، جب اُس نے چودھویں شب میں ’’معجزہ شق القمر‘‘ دیکھا تھا، یہ راجہ مشرف بہ اسلام ہوا۔ اس نے اپنے بیٹے کو عرب بھیجا تھا، جس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں اپنے باپ کی جانب سے تحائف پیش
ایک بار ’’بلیا‘‘گاؤں مظفر پور ضلع بہار سے حضرت کا گزر ہوا جہاں سے ایک دریا گزرتا تھا جس کا رخ مسلمانوں کے علاقے کی طرف تھا ، حضرت نے اپنی چھڑی مبارکہ سے اس دریا کی طرف اشارہ کیا اور زیر لب کچھ پڑھا جس پر دریا کا رخ تبدیل ہو کر غیر مسلموں کے علاقے کی طرف ہوگیا جو کہ اب تک اسی طرح موجود ہے، حضرت کی اس زندہ کرامت کو دیکھ کر بے شمار غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔۱۲
قریب تین سال سے سینے میں پانی بھی بھر گیا تھا ،ان تمام بیماریوں کے باوجود زندگی کا اکثر حصہ سفر فرمایااور وصال سے قبل بھی سفر ہی میں تھے کہ طبیعت خراب ہوئی اور بریلی شریف تشریف لے آئے۔۱۲
لہٰذا جس ڈاکٹر کے آپ زیر علاج تھے اس کے مطب میں لے جاکر دکھایا گیا۔۱۲
حضور تاج الشریعہ کی عادت مبارک کہ موبائل فون رات میں بند رکھتے اور بعد فجر بھی مگر اس دن فجر کے فوری بعد اپنا فون آن کرلیا اور فرمانے لگے کہ طبیعت کچھ بے چین سی ہورہی ہے اتنے میں فون پر اطلاع موصول ہوئی ۔۱۲
۱ سجادہ نشین درگاہ اعلیٰ حضرت علامہ مفتی سبحان رضا خان سبحانی میاں۔
ماہنامہ اعلیٰ حضرت، شمارہ 8، جلد 52، اگست2012 ، رمضان 1433ھ، صفحہ ۶۰۔
نماز جنازہ میں اجتماع کثیر تھا ، ایسا معلوم ہوتا جیسا کہ عرس اعلیٰ حضرت پر لوگوں کا ہجوم ہو ، دُور دَراز سے لوگ جنازے میں شریک ہوئے یہاں تک کہ بہار سے بریلی تک ٹرین کا سفر 18 گھنٹے ہے، لوگ موٹر سائیکل پر چلے آئے۔۱۲
جنازہ کے بعد تاج الشریعہ بڑے افسردہ تھے اور لیٹ گئے اور اپنے بھائی کی جدائی کا گہرا اثر آپ پر ہوا، حضور قمرِ ملّت ، حضور تاج الشریعہ کا خوب ادب فرماتے یہاں تک کہ اپنی اولاد کو بھی خوب تاکید فرماتے۔۱۲
آپ کے شہزادگان کی گزارش پر حضور صاحب سجادہ نے آپ کی تدفین کے لئے جس جگہ کا انتخاب فرمایا وہ یقیناً ایک فرزند کیلئے بے حد خوش نصیبی اور خوش بختی کی بات ہے کہ آپ کی آرام گاہ والد اور والدہ کے بالکل درمیان اور وسط میں ہے، داہنی اور مغربی جانب حضور مفسر اعظم ہند کی تُربت ہے اور بائیں اور مشرقی جانب آپ کی والدہ کی تُربت ہے۔
۱۲ بحوالہ : ماہنامہ اعلیٰ حضرت، شمارہ 8، جلد 52، اگست 2012ء ، رمضان 1433، صفحہ ۵۹۔
[1]۔ ماہنامہ رضائے مصطفی ، گوجرانوالہ، شوال المکرم1433ھ، اگست 2012ء
۱ حیات مفسر اعظم ہند:۱۳، مفتی عبدالواجد قادری بحوالہ: حضرت مولانا محمد ابراہم خوشتر صدیقی، تذکرۂ جمیل صفحہ ۲۰۶۔
المرجع السابق۔ ۱ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، (ایٹمی سائنسدان) ’’سحر ہونے تک‘‘ روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی میں شائع ہونے والے کالم کا حوالہ۔
۱ شمائل الرسول صفحہ۱۴۴، بحوالہ ضیاء النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جلد:۵، صفحہ ۷۱۰۔
پارہ:۲۷، القمر: ۱ تا ۳۔
کنزالایمان۔
رانا محمد سرور خاں، سیرت سرور کونین، جلد:۱۰، صفحہ:۴۹۳۔
امام ابن جریر الطبری، تفسیر جامع البیان فی تاویل القرآن، جلد یاز دھم:۵۴۴ تا ۵۴۸ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت 1426ھ/ 2005ء۔
تفسیر روح البیان، جلد۹: ۳۱۳، مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت۔
مسلم شریف جلد دوم:۳۷۳، ترمذی، دوم: ۶۳۶۔
علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی، نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری، جلد ہفتم، صفحہ۷۷۔
تفسیر روح المعانی، ۲۷: ۷۵۔
۱ ابی محمدحسین الفرأ البغوی (متوفی516ھ/ 1122ء) تفسیر معالم التنزیل، جلد:۶، صفحہ: ۲۲۶۔
حضرت صوفی علاء الدین علی بن محمد بغدادی المعروف خازن (متوفی 725ھ/ 1325ء) تفسیر لباب التأویل فی معانی التنزیل جلد:۶، صفحہ ۲۲۶۔
حضرت شاہ رؤف احمد رافت مجددی آل مجدد الف ثانی (متوفی 1249ھ/ 1833ء)
تفسیر رؤفی جلد دوم صفحہ ۳۱۹۔
۲ تفسیر رؤفی جلد دوم صفحہ ۳۱۹ میں ہے کہ ایک یہودی مسلمان ہوگیا تھا۔ نیز ایک عبارت میں علمی نکتہ یہ ہے کہ ’’جب خوب سب نے دیکھ لیا تو پھر سرکار علیہ السلام نے جب تک دوبارہ انگشت شہادت کا اشارہ نہیں دیا، اس وقت تک شگافتہ قمر کامل نہیں ہوا‘‘۔
۱ حضرت علامہ علی بن برہان الدین الحلبی شافعی (متوفی 1044ھ/ 1634ء) انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون، اول: ۳۰۷۔ اس کتاب کو ’’سیرۃ حلبی‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اسی کتاب میں ہے کہ، بابا رتن الھندی کے لیے بعض علماء کہتے ہیں: ’’یہ شخص طویل العمر یعنی 600 سال کے تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا، کہ میں نے رسول اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت بھی کی تھی اور آپﷺ کے دست حق پرست پر مشرف بہ اسلام بھی ہوا تھا‘‘۔ اگرچہ امام ذھبی، امام عسقلانی نے اپنی کتب اسماء الرجال بالترتیب، ’’میزان الاعتدال‘‘، ’’لسان المیزان‘‘ میں متذکرہ شخص کے لیے کذاب کا قول بیان کیا ہے۔
۲ راجہ بھوجپال یا بھوج پانڈے اپنے محل کی چھت پر تھا، جب اُس نے چودھویں شب میں ’’معجزہ شق القمر‘‘ دیکھا تھا، یہ راجہ مشرف بہ اسلام ہوا۔ اس نے اپنے بیٹے کو عرب بھیجا تھا، جس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں اپنے باپ کی جانب سے تحائف پیش
❤1
کیے۔ اس کا اسلامی نام حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے محی الدین یا کمال الدین رکھا اور بطور معلم حضرت عبداللہ کو بھیجا تھا۔ ان سب کے مزارات دھار /دحار میں ہے، جو مراٹھی راجاؤں (Marhathia Princely State) کا دارالخلافہ تھا اور دریائے چنبل کے کنارے آباد تھا۔ یہیں حضرت عبداللہ چنگال اور شیخ کمال الدین مالوی کے مزارات ہیں۔ حوالہ کے لیے: ’’تاریخ فرشتہ‘‘ بک ٹاک، چہارم:۱۳۹۔ وکی پیڈیا عنوان راجہ بھوج۔ دحار۔ صفحہ ۳، ۴۔ نواب شاہجہاں بیگم شیریں: تاج الاقبال، تاریخ ریاست بھوپال بحوالہ: اردو دائرۃ المعارف اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی لاہور، جلد:۵، صفحہ ۳۴۴۔ یہ حوالہ محض بیگم بھوپال کی لکھی ہوئی کتاب کے لیے لکھا گیا ہے جس کی نشاندہی ڈاکٹر عبدالقدیر نے اپنے مضمون شائع شدہ جنگ کراچی میں کی تھی۔
سوانح الحرمین کے حوالہ سے ’’سیرت سرور کونین‘‘ جلد دہم صفحہ۴۹۶ اور ’’سوانح الحرمین‘‘ ہی کے حوالہ سے حضرت علامہ عبدالحلیم حنفی لکھنوی (متوفی1285ھ/ 1868ء) نے ’’نظم الدرر فی سلک شق القمر‘‘ کے صفحہ ۶۹ پر مدھیہ پردیش یعنی وسط ہندوستان میں مالوہ کی ریاست (بھوپال) کے راجہ کے اسلام لانےا ور اسلامی نام عبداللہ رکھنے کا ذکر کیا ہے۔
جنوبی ہند کی ریاست پلاوا (مالا بار) کے راجہ چیرومان پیرومل نے چودھویں شب 617ء بمطابق 8 نبوی، ’’معجزہ شق القمر‘‘ اپنے محل کے اندر تالاب میں نہاتے ہوئے تالاب کے پانی میں دیکھا کہ چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ ہندو مت اور بدھ مت میں چودھویں شب (بدر کامل کی رات) ’’پویاڈے‘‘ مناتے ہیں۔ یہ فقیر نسیم صدیقی کی تحقیق اور مشاہدہ بھی ہے۔ اس ضمن میں کولمبو، کیرالہ اور مدراس کے اہل علم نے راہنمائی کی۔
کیرالہ کے حضرت علامہ محمد فاضل قادری مدظلہ العالی نے خصوصاً راہنمائی فرمائی۔ راجہ چیرومان پیرومل کا اسلامی نام رسول اکرمﷺ نے عبدالرحمٰن رکھا تھا۔ انھوں نے کرناٹکہ کے صدر مقام منگلور کے قریب ’’کڈنگلور‘‘ اور ’’کاسرگوڈ‘‘ پر (بیرون عرب) دنیا کی پہلی مسجد 629ء/ 8ھجری میں قائم کی۔ پھر اس کے بعد اسی مقام کے قریب ہند کی دوسری مسجد ’’مالک بن دینار‘‘ قائم ہوئی۔
یہ راجہ چیرومان پہلے مسلمان ہوگئے تھے۔ پھر نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی بارگاہ عظمت پناہ میں حاضر ہوئے تھے، صحابیت کا شرف حاصل ہوا۔ اپنی ریاست واپسی کے لیے آقائے دو جہاں علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم سے ہندوستان آ رہے تھے کہ اثنائے راہ ’’یمن‘‘ کی بندرگاہ (اب ’’عمّان‘‘ کی بندرگاہ) ’’ظفار یا ضفار‘‘ کے مقام پر وصال بہ کمال فرمایا اور یہیں تدفین عمل میں آئی، اب بھی راجہ عبدالرحمان کا مزار پر انوار ’’ظفار/ ضفار‘‘ میں موجود اور مرجع خلائق بھی ہے۔ مالابار (جنوبی ہند کے پلاوا شاہی خاندان) کے تمام حکمران اپنے راجہ (چیرومان) کے مسلمان ہونے کے بعد اس کے انتظار میں ’’راجہ عبدالرحمٰن‘‘ کے نائب السلطنت کے منصب کا حلف 1947ء تقسیم ہند تک اُٹھاتے رہے ہیں۔ اور یہ اقرار لازمی کرتے تھے کہ ہم راجہ عبدالرحمٰن کے نائب ہیں، راجہ صاحب کے عرب سے واپس آتے ہی ہم حکمرانی ان کے سپرد کردیں گے۔ رانا سرور خاں صاحب نے ’’مذاہب عالم‘‘ کے حوالہ سے ’’سیرت سرور کونین‘‘ کی جلد دہم صفحہ ۴۹۳ پر لکھا ہے۔ مزید ’’کیرالہ میگزین 1948ء‘‘ اور ’’تاریخ ازبکستان‘‘ مؤلف سیّد کمال الدین احمد سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے۔
۲ محمد قاسم فرشتہ مؤرخ، تاریخ فرشتہ مترجم عبدالحئی خواجہ، ڈاکٹر عبدالرحمٰن دوست ایسوسی ایٹس پبلشرز فقیر راقم الحروف کے زیر استعمال ’’ضیائی ریسرچ لائبریری‘‘ میں ’’تاریخ فرشتہ‘‘ کے دو نسخے موجود ہیں، ایک نسخہ دو جلدوں میں شیخ غلام علی اینڈ سنز کا شائع کردہ ہے جبکہ دوسرا نسخہ بک ٹاک لاہور نے چار جلدوں میں شائع کیا ہوا ہے۔ دونوں نسخوں میں اجمالاً واقعہ کا ذکر ہے۔ قیاس ہے کہ جدید نسخوں میں تحریف کی گئی ہے۔ ہم نے جو تفصیل رقم کی ہے وہ محترم فاضل جلیل حضرت حامد علی علیمی زید مجدہٗ نے اپنے تحقیقی و علمی مواد میں پیش کی ہے، یہ تفصیل، علامہ عبدالحلیم بن امین اللہ لکھنوی کی تصنیف ’’نظم الدرر فی سلک شق القمر‘‘ کے ترجمہ و تخریج و حواشی کے تحت درج کی ہے۔ البتہ تاریخ فرشتہ جلد چہارم (بک ٹاک) کے صفحہ ۵۶۲ پر راجہ سراندیپ کے مشرف بہ اسلام ہونے کا ذکر ہے۔
۱ واضح رہے کہ ہم کسی شخصیت کو نامزد کرکے تکفیر نہیں کر رہے بلکہ اجماع اُمت بیان کر رہے ہیں کہ نص قرآنی کا انکار کرنے والا ’’ کافر‘‘ ہوتا ہے۔
۱ امام شیخ محمد طاہر بن عاشور (المتوفی1393ھ/ 1973ء)، تفسیر التحریر والتنویر، جز۲۷: ۱۶۸/ ۱۷۰، مطبوعہ تیونس۔
۲ المرجع السابق۔
نابغۂ فلسطین علامہ محمد یوسف بن اسمٰعیل نبہانی، حجۃ اللہ علی العالمین فی معجزات سیّد المرسلین ص۶۵۵۔
۱ سلیمان ندوی، خطبات مدراس۔
سیّد محمد قاسم محمود، اسلامی انسائیکلوپیڈیا جلد دوم صفحہ۱۰۶۸، مطبوعہ لاہور۔
خالد عرفان، نعتیہ مجموعہ ’’الہام‘‘۔
جس میں ’’نیل آرمسٹرانگ‘‘ بھی شامل تھا۔ جو قاہرہ، مصر میں مسلمان ہوگیا
سوانح الحرمین کے حوالہ سے ’’سیرت سرور کونین‘‘ جلد دہم صفحہ۴۹۶ اور ’’سوانح الحرمین‘‘ ہی کے حوالہ سے حضرت علامہ عبدالحلیم حنفی لکھنوی (متوفی1285ھ/ 1868ء) نے ’’نظم الدرر فی سلک شق القمر‘‘ کے صفحہ ۶۹ پر مدھیہ پردیش یعنی وسط ہندوستان میں مالوہ کی ریاست (بھوپال) کے راجہ کے اسلام لانےا ور اسلامی نام عبداللہ رکھنے کا ذکر کیا ہے۔
جنوبی ہند کی ریاست پلاوا (مالا بار) کے راجہ چیرومان پیرومل نے چودھویں شب 617ء بمطابق 8 نبوی، ’’معجزہ شق القمر‘‘ اپنے محل کے اندر تالاب میں نہاتے ہوئے تالاب کے پانی میں دیکھا کہ چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ ہندو مت اور بدھ مت میں چودھویں شب (بدر کامل کی رات) ’’پویاڈے‘‘ مناتے ہیں۔ یہ فقیر نسیم صدیقی کی تحقیق اور مشاہدہ بھی ہے۔ اس ضمن میں کولمبو، کیرالہ اور مدراس کے اہل علم نے راہنمائی کی۔
کیرالہ کے حضرت علامہ محمد فاضل قادری مدظلہ العالی نے خصوصاً راہنمائی فرمائی۔ راجہ چیرومان پیرومل کا اسلامی نام رسول اکرمﷺ نے عبدالرحمٰن رکھا تھا۔ انھوں نے کرناٹکہ کے صدر مقام منگلور کے قریب ’’کڈنگلور‘‘ اور ’’کاسرگوڈ‘‘ پر (بیرون عرب) دنیا کی پہلی مسجد 629ء/ 8ھجری میں قائم کی۔ پھر اس کے بعد اسی مقام کے قریب ہند کی دوسری مسجد ’’مالک بن دینار‘‘ قائم ہوئی۔
یہ راجہ چیرومان پہلے مسلمان ہوگئے تھے۔ پھر نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی بارگاہ عظمت پناہ میں حاضر ہوئے تھے، صحابیت کا شرف حاصل ہوا۔ اپنی ریاست واپسی کے لیے آقائے دو جہاں علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم سے ہندوستان آ رہے تھے کہ اثنائے راہ ’’یمن‘‘ کی بندرگاہ (اب ’’عمّان‘‘ کی بندرگاہ) ’’ظفار یا ضفار‘‘ کے مقام پر وصال بہ کمال فرمایا اور یہیں تدفین عمل میں آئی، اب بھی راجہ عبدالرحمان کا مزار پر انوار ’’ظفار/ ضفار‘‘ میں موجود اور مرجع خلائق بھی ہے۔ مالابار (جنوبی ہند کے پلاوا شاہی خاندان) کے تمام حکمران اپنے راجہ (چیرومان) کے مسلمان ہونے کے بعد اس کے انتظار میں ’’راجہ عبدالرحمٰن‘‘ کے نائب السلطنت کے منصب کا حلف 1947ء تقسیم ہند تک اُٹھاتے رہے ہیں۔ اور یہ اقرار لازمی کرتے تھے کہ ہم راجہ عبدالرحمٰن کے نائب ہیں، راجہ صاحب کے عرب سے واپس آتے ہی ہم حکمرانی ان کے سپرد کردیں گے۔ رانا سرور خاں صاحب نے ’’مذاہب عالم‘‘ کے حوالہ سے ’’سیرت سرور کونین‘‘ کی جلد دہم صفحہ ۴۹۳ پر لکھا ہے۔ مزید ’’کیرالہ میگزین 1948ء‘‘ اور ’’تاریخ ازبکستان‘‘ مؤلف سیّد کمال الدین احمد سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے۔
۲ محمد قاسم فرشتہ مؤرخ، تاریخ فرشتہ مترجم عبدالحئی خواجہ، ڈاکٹر عبدالرحمٰن دوست ایسوسی ایٹس پبلشرز فقیر راقم الحروف کے زیر استعمال ’’ضیائی ریسرچ لائبریری‘‘ میں ’’تاریخ فرشتہ‘‘ کے دو نسخے موجود ہیں، ایک نسخہ دو جلدوں میں شیخ غلام علی اینڈ سنز کا شائع کردہ ہے جبکہ دوسرا نسخہ بک ٹاک لاہور نے چار جلدوں میں شائع کیا ہوا ہے۔ دونوں نسخوں میں اجمالاً واقعہ کا ذکر ہے۔ قیاس ہے کہ جدید نسخوں میں تحریف کی گئی ہے۔ ہم نے جو تفصیل رقم کی ہے وہ محترم فاضل جلیل حضرت حامد علی علیمی زید مجدہٗ نے اپنے تحقیقی و علمی مواد میں پیش کی ہے، یہ تفصیل، علامہ عبدالحلیم بن امین اللہ لکھنوی کی تصنیف ’’نظم الدرر فی سلک شق القمر‘‘ کے ترجمہ و تخریج و حواشی کے تحت درج کی ہے۔ البتہ تاریخ فرشتہ جلد چہارم (بک ٹاک) کے صفحہ ۵۶۲ پر راجہ سراندیپ کے مشرف بہ اسلام ہونے کا ذکر ہے۔
۱ واضح رہے کہ ہم کسی شخصیت کو نامزد کرکے تکفیر نہیں کر رہے بلکہ اجماع اُمت بیان کر رہے ہیں کہ نص قرآنی کا انکار کرنے والا ’’ کافر‘‘ ہوتا ہے۔
۱ امام شیخ محمد طاہر بن عاشور (المتوفی1393ھ/ 1973ء)، تفسیر التحریر والتنویر، جز۲۷: ۱۶۸/ ۱۷۰، مطبوعہ تیونس۔
۲ المرجع السابق۔
نابغۂ فلسطین علامہ محمد یوسف بن اسمٰعیل نبہانی، حجۃ اللہ علی العالمین فی معجزات سیّد المرسلین ص۶۵۵۔
۱ سلیمان ندوی، خطبات مدراس۔
سیّد محمد قاسم محمود، اسلامی انسائیکلوپیڈیا جلد دوم صفحہ۱۰۶۸، مطبوعہ لاہور۔
خالد عرفان، نعتیہ مجموعہ ’’الہام‘‘۔
جس میں ’’نیل آرمسٹرانگ‘‘ بھی شامل تھا۔ جو قاہرہ، مصر میں مسلمان ہوگیا
❤1
تھا، کہ اُس نے چاند پر ایک آواز سنی تھی ’’اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً الرَّسُوْلَ اللہِ‘‘... اور ’’اَللہُ اَکْبَر‘‘ اور جب یہی آواز قاہرہ میں مسجد سے ہونے والی اذان میں سنی، تو وہ مسلمان ہوگیا۔
حضرت سیّدنامحمد شریف المدنی مدینۃ المنورہ کے مشائخ میں تھے، ۴۰۰ سال قبل رسول اکرمﷺ نے خواب میں حکم فرمایا کہ جنوبی ہند جاؤ، حضرت سیّدنا محمد شریف المدنی سمندر کے قریب آئے اور اپنا ’’مصلی‘‘ پانی میں ڈال کر بیٹھ گئے، اور پھر منگلور انڈیا پہنچ گئے۔ حضرت کے فیوضات و کرامات کا چرچا زبان زدِ عام ہے۔ آپ کے عرس میں دس لاکھ افراد شریک ہوتے ہیں، اجمیر شریف کے بعد ہندوستان کا سب سے بڑا عرس کا اجتماع ہوتا ہے۔ منگلور کے قریب ’’اُللّال شریف‘‘ (Ullal)، میں حضرت شریف المدنی کا مزار پُر انوار ہے۔ بحر عرب کے کنارے جنوبی ہند کے مشرقی گھاٹ (Eastern Ghots) مزار شریف سے متصل پانی کا کنواں ہے، جس کا پانی شفاف اور میٹھا ہے، بلکہ مختلف امراض میں باعث شفا بھی ہے، گونگے اور بہرے آتے ہیں شفایاب ہوکر واپس لوٹتے ہیں۔ دور دراز سے معتقدین بکریاں (دیگر حلال مویشی) لنگر شریف کے لیے کسی محافظ و راہبر کے بغیر بھیجتے ہیں، اور چوری اور نقصان سے محفوظ رہتے ہوئے بکرے، بکریاں، مزار شریف پہنچ جاتے ہیں۔ راقم الحروف کے کرم فرما دوست فاضل جلیل حضرت علامہ محمد فاضل اختری مدظلہ العالی (جو کیرالہ میں مقیم ہیں) نے فرمایا، کہ حضرت محمد قمر رضا یہاں عرس کے اجتماع میں حاضر ہوئے اور خطاب بھی فرمایا تھا۔ حضرت محمد شریف المدنی کا عرس مبارک پانچ سال میں ایک مرتبہ منعقد ہوتا ہے۔
۱ یہ بزرگ، اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ کی خواہر نسبتی کے نبیرہ ہیں۔
محترم شہید اللہ خان صاحب مدظلہ العالی، برادر طریقت حضرت نعیم اللہ نوری مدظلہ العالی کے والد محترم ہیں۔ شہید اللہ صاحب اور سعید اللہ صاحب دونوں برادران، ڈاکٹر قمر رضا کے چچا (والد کی جانب سے) اور ماموں (والدہ کی جانب سے) ہوتے ہیں۔
حضرت تحسین رضا بن حضرت مولاناحسنین رضا بن استاذ زمن مولانا حسن رضا بن مولانا نقی علی خاں (والد گرامی اعلیٰ حضرت) جامعہ نوریہ رضویہ باقر گنج بریلی شریف میں محدث کے منصب پر فائز تھے۔ علامہ تحسین رضا کی ولادت 14 شعبان 1349ھ/ 5 جنوری 1930ء یکشنبہ ہوئی، وصال بعمر 78سال 1427ھ/ 2007ء میں ہوا۔ آپ علمی حلقوں میں سیّد الاتقیا اور صدر العلماء سے معروف تھے۔
عفت مآب، نہایت صالحہ، زاہدہ و عابدہ خاتون تھی۔ امام المجاہدین و امیر المہاجرین سیّد السادات، منبع البرکات حضرت سیّدنا عبداللہ شاہ غازی بابا (جن کی شہادت 89ھ میں ہوئی) کے مزار پر انوار کے سایۂ بابرکت و احاطہ رحمت میں زوجہ حضرت شوکت حسن خان ابدی نیند آرام فرما رہی ہیں۔
۱ بشکریہ :ماہنامہ اعلیٰ حضرت، شمارہ 8، جلد 52، اگست 2012ء ، رمضان 1433ھ، صفحہ ۵۷۔
(تجلیاتِ قمر، انجمن ضیاء طیبہ)
https://scholars.pk/ur/scholar/gotodate?bd=2&day=05&month=08&year=&page=2
حضرت سیّدنامحمد شریف المدنی مدینۃ المنورہ کے مشائخ میں تھے، ۴۰۰ سال قبل رسول اکرمﷺ نے خواب میں حکم فرمایا کہ جنوبی ہند جاؤ، حضرت سیّدنا محمد شریف المدنی سمندر کے قریب آئے اور اپنا ’’مصلی‘‘ پانی میں ڈال کر بیٹھ گئے، اور پھر منگلور انڈیا پہنچ گئے۔ حضرت کے فیوضات و کرامات کا چرچا زبان زدِ عام ہے۔ آپ کے عرس میں دس لاکھ افراد شریک ہوتے ہیں، اجمیر شریف کے بعد ہندوستان کا سب سے بڑا عرس کا اجتماع ہوتا ہے۔ منگلور کے قریب ’’اُللّال شریف‘‘ (Ullal)، میں حضرت شریف المدنی کا مزار پُر انوار ہے۔ بحر عرب کے کنارے جنوبی ہند کے مشرقی گھاٹ (Eastern Ghots) مزار شریف سے متصل پانی کا کنواں ہے، جس کا پانی شفاف اور میٹھا ہے، بلکہ مختلف امراض میں باعث شفا بھی ہے، گونگے اور بہرے آتے ہیں شفایاب ہوکر واپس لوٹتے ہیں۔ دور دراز سے معتقدین بکریاں (دیگر حلال مویشی) لنگر شریف کے لیے کسی محافظ و راہبر کے بغیر بھیجتے ہیں، اور چوری اور نقصان سے محفوظ رہتے ہوئے بکرے، بکریاں، مزار شریف پہنچ جاتے ہیں۔ راقم الحروف کے کرم فرما دوست فاضل جلیل حضرت علامہ محمد فاضل اختری مدظلہ العالی (جو کیرالہ میں مقیم ہیں) نے فرمایا، کہ حضرت محمد قمر رضا یہاں عرس کے اجتماع میں حاضر ہوئے اور خطاب بھی فرمایا تھا۔ حضرت محمد شریف المدنی کا عرس مبارک پانچ سال میں ایک مرتبہ منعقد ہوتا ہے۔
۱ یہ بزرگ، اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ کی خواہر نسبتی کے نبیرہ ہیں۔
محترم شہید اللہ خان صاحب مدظلہ العالی، برادر طریقت حضرت نعیم اللہ نوری مدظلہ العالی کے والد محترم ہیں۔ شہید اللہ صاحب اور سعید اللہ صاحب دونوں برادران، ڈاکٹر قمر رضا کے چچا (والد کی جانب سے) اور ماموں (والدہ کی جانب سے) ہوتے ہیں۔
حضرت تحسین رضا بن حضرت مولاناحسنین رضا بن استاذ زمن مولانا حسن رضا بن مولانا نقی علی خاں (والد گرامی اعلیٰ حضرت) جامعہ نوریہ رضویہ باقر گنج بریلی شریف میں محدث کے منصب پر فائز تھے۔ علامہ تحسین رضا کی ولادت 14 شعبان 1349ھ/ 5 جنوری 1930ء یکشنبہ ہوئی، وصال بعمر 78سال 1427ھ/ 2007ء میں ہوا۔ آپ علمی حلقوں میں سیّد الاتقیا اور صدر العلماء سے معروف تھے۔
عفت مآب، نہایت صالحہ، زاہدہ و عابدہ خاتون تھی۔ امام المجاہدین و امیر المہاجرین سیّد السادات، منبع البرکات حضرت سیّدنا عبداللہ شاہ غازی بابا (جن کی شہادت 89ھ میں ہوئی) کے مزار پر انوار کے سایۂ بابرکت و احاطہ رحمت میں زوجہ حضرت شوکت حسن خان ابدی نیند آرام فرما رہی ہیں۔
۱ بشکریہ :ماہنامہ اعلیٰ حضرت، شمارہ 8، جلد 52، اگست 2012ء ، رمضان 1433ھ، صفحہ ۵۷۔
(تجلیاتِ قمر، انجمن ضیاء طیبہ)
https://scholars.pk/ur/scholar/gotodate?bd=2&day=05&month=08&year=&page=2
❤1
حضرت سید محی الدین مسعود گیلانی رضی اللہ عنہ
اوصافِ جمیلہ:
آپ سید الاولیا، سلطان الاصفیا، غوث المحققین، قطب المدققین، سراج العابدین، زَین العارفین، پیشوائے اہلِ طریقت، مقتدائے اصحابِ حقیقت، جمال المشائخ و العلماء تھے ۔ حضرت سید ابو العباس ابو المسعود احمد گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند یگانہ و مرید و خلیفہ اعظم اور سجادہ نشین تھے ۔
نام و لقب:
آپ کا نامِ نامی اسم گرامی مسعود ہے ـ
[۱] [۱۔ رسالہ الامجاز قلمی نسخہ الف ص ۶۔ بحر السرائر قلمی۔ شجرۃ الانوار قلمی۔ کنزالرحمت ص ۸]
کنیت:
سامی ابو علی ابو البرکات ـ
لقب:
محی الدین ، نور الدین ، شیخ الشیوخ اور سید السادات تھا ۔
ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 620ھ چھ سو بیس ہجری، [۱] [ ۱۔ باغ سادات قلمی] مطابق 1223ء ایک ہزار دو سو تیئیس عیسوی میں بعہدِ خلافت الناصر الدین اللہ ابو العباس احمد بن المستضیئی بن المستنجد عباسی بغداد شریف میں ہوئی ۔
تحصیلِ علوم:
آپ بچپن میں ہی اپنے والد صاحب کے ساتھ بغداد سے رُوم چلے گئے ۔ وہیں ظاہری علوم معقول و منقول کی تحصیل اپنے والد ماجد اور دیگر شیوخ سے کی ۔ فقہ و حدیث میں یکتا ہوئے ۔ جامع ظاہری و باطنی تھے آپ نہایت فہیم اور صاحبِ اوصافِ جمیلہ تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ نے بیعتِ طریقت اپنے والد بزرگوار شیخ المشائخ حضرت سید ابو العباس حمید الدین احمد یعنی ابو المسعود علم الدین احمد گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پر کی ۔ اور سلوک قادریہ پورا کر کے خرقہ خلافت و ارشاد حاصِل کیا ۔
مشائخ صحبت:
آپ نے شیخ نور محمد قادری رحمۃ اللہ علیہ اور سید علی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت سے بھی فیض پایا ۔
تدریس:
آپ بھی اپنے آبا و اجداد کی طرح درس و تدریس کا مشغلہ رکھتے تھے تمام عمر تبلیغِ اسلام میں صَرف کردی ہزاروں کی تعداد میں مخلوقِ خدا آپ کے فیض سے سیراب ہوئی ۔
ذکر و فکر:
آپ اکثر حلقہ ذکر کیا کرتے اور خالی اوقات میں بحکمِ حدیث شریف تفکر ساعۃ خیر من عبادۃ الثقلین فکر میں محو و مستغرق رہتے ۔
ذکرِ مولاش بود دِردِ زباں
خالی از فکرِ حق نبود ز ماں
اخلاق و عادات:
آپ عشقِ ذاتِ حق میں ہمیشہ محو و مستغرق رہتے ۔ جس پر نگاہ رحمت ڈالتے دونو جہان کے غم سے نجات پاتا اور ابدی راحت اُس کے نصیب ہوتی ۔
کلماتِ طیّبات:
نصائح آپ نے سالکانِ طریقت کو فرمایا ہے۔ ہمیشہ خوش رہو ۔ خاموشی زیادہ رکھو، تفکر میں رہنا اختیار کرو ۔ اخوانِ طریقت کو تلاش کر کے ملو ،مسکینوں پر رحم کرو جودو سخا کے اوصاف سے موصوف ہو، بخل سے اجتناب کرو ۔ امورِ شریعت کی پابندی میں کوشش کیا کرو۔ ہزلیات سے احتراز کرو، ہر ایک کام میں اعتدال کو ملحوظ رکھو، حُب فی اللہ اور بُغض فی اللہ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اپنا شعار بناؤ ۔ اگر کسی سے تنازعہ ہوجائے تو اچھا طریقہ پکڑو، دین میں پختہ ہوجاؤ، نزاع کو ترک کرو ۔ اپنی طبیعت کو شگفتہ بناؤ ۔ نیک اخلاق سے برتاؤ کرو ۔ اپنے احوالِ باطن کو پوشیدہ رکھو، حقائق و اسرار کو افشاں نہ کرو۔ نیک کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو ۔
اولادِ کرام:
صاحب بحر السرائر نے لکھا ہے کہ آپ کے تین بیٹے تھے ۔
شیخ ابو الحسن ضیاء الدین سید علی رحمۃ اللہ علیہ ان کا ذکر آگے لکھا جائےگا ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ باقی دونو ں بیٹوں کے اُس نے نام نہیں لکھے صرف اسی قدر لکھ دیا ہے کہ ’’اگرچہ دو پسر دیگر داشتند ان ازالنا اولاد و احفا د نیست‘‘ یعنی اگرچہ دو بیٹے اور بھی تھے مگر اُن سے کوئی اولاد نہیں ہے ۔
بعض تحریروں سے آپ کی اہلیہ و بیٹوں کے یہ نام بھی ظاہر ہوئے ہیں ۔
اہلیہ کا نام سیدہ عایشہ بی بی بنت شاہ حیدر لاہوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
اوصافِ جمیلہ:
آپ سید الاولیا، سلطان الاصفیا، غوث المحققین، قطب المدققین، سراج العابدین، زَین العارفین، پیشوائے اہلِ طریقت، مقتدائے اصحابِ حقیقت، جمال المشائخ و العلماء تھے ۔ حضرت سید ابو العباس ابو المسعود احمد گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند یگانہ و مرید و خلیفہ اعظم اور سجادہ نشین تھے ۔
نام و لقب:
آپ کا نامِ نامی اسم گرامی مسعود ہے ـ
[۱] [۱۔ رسالہ الامجاز قلمی نسخہ الف ص ۶۔ بحر السرائر قلمی۔ شجرۃ الانوار قلمی۔ کنزالرحمت ص ۸]
کنیت:
سامی ابو علی ابو البرکات ـ
لقب:
محی الدین ، نور الدین ، شیخ الشیوخ اور سید السادات تھا ۔
ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 620ھ چھ سو بیس ہجری، [۱] [ ۱۔ باغ سادات قلمی] مطابق 1223ء ایک ہزار دو سو تیئیس عیسوی میں بعہدِ خلافت الناصر الدین اللہ ابو العباس احمد بن المستضیئی بن المستنجد عباسی بغداد شریف میں ہوئی ۔
تحصیلِ علوم:
آپ بچپن میں ہی اپنے والد صاحب کے ساتھ بغداد سے رُوم چلے گئے ۔ وہیں ظاہری علوم معقول و منقول کی تحصیل اپنے والد ماجد اور دیگر شیوخ سے کی ۔ فقہ و حدیث میں یکتا ہوئے ۔ جامع ظاہری و باطنی تھے آپ نہایت فہیم اور صاحبِ اوصافِ جمیلہ تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ نے بیعتِ طریقت اپنے والد بزرگوار شیخ المشائخ حضرت سید ابو العباس حمید الدین احمد یعنی ابو المسعود علم الدین احمد گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پر کی ۔ اور سلوک قادریہ پورا کر کے خرقہ خلافت و ارشاد حاصِل کیا ۔
مشائخ صحبت:
آپ نے شیخ نور محمد قادری رحمۃ اللہ علیہ اور سید علی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت سے بھی فیض پایا ۔
تدریس:
آپ بھی اپنے آبا و اجداد کی طرح درس و تدریس کا مشغلہ رکھتے تھے تمام عمر تبلیغِ اسلام میں صَرف کردی ہزاروں کی تعداد میں مخلوقِ خدا آپ کے فیض سے سیراب ہوئی ۔
ذکر و فکر:
آپ اکثر حلقہ ذکر کیا کرتے اور خالی اوقات میں بحکمِ حدیث شریف تفکر ساعۃ خیر من عبادۃ الثقلین فکر میں محو و مستغرق رہتے ۔
ذکرِ مولاش بود دِردِ زباں
خالی از فکرِ حق نبود ز ماں
اخلاق و عادات:
آپ عشقِ ذاتِ حق میں ہمیشہ محو و مستغرق رہتے ۔ جس پر نگاہ رحمت ڈالتے دونو جہان کے غم سے نجات پاتا اور ابدی راحت اُس کے نصیب ہوتی ۔
کلماتِ طیّبات:
نصائح آپ نے سالکانِ طریقت کو فرمایا ہے۔ ہمیشہ خوش رہو ۔ خاموشی زیادہ رکھو، تفکر میں رہنا اختیار کرو ۔ اخوانِ طریقت کو تلاش کر کے ملو ،مسکینوں پر رحم کرو جودو سخا کے اوصاف سے موصوف ہو، بخل سے اجتناب کرو ۔ امورِ شریعت کی پابندی میں کوشش کیا کرو۔ ہزلیات سے احتراز کرو، ہر ایک کام میں اعتدال کو ملحوظ رکھو، حُب فی اللہ اور بُغض فی اللہ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اپنا شعار بناؤ ۔ اگر کسی سے تنازعہ ہوجائے تو اچھا طریقہ پکڑو، دین میں پختہ ہوجاؤ، نزاع کو ترک کرو ۔ اپنی طبیعت کو شگفتہ بناؤ ۔ نیک اخلاق سے برتاؤ کرو ۔ اپنے احوالِ باطن کو پوشیدہ رکھو، حقائق و اسرار کو افشاں نہ کرو۔ نیک کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو ۔
اولادِ کرام:
صاحب بحر السرائر نے لکھا ہے کہ آپ کے تین بیٹے تھے ۔
شیخ ابو الحسن ضیاء الدین سید علی رحمۃ اللہ علیہ ان کا ذکر آگے لکھا جائےگا ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ باقی دونو ں بیٹوں کے اُس نے نام نہیں لکھے صرف اسی قدر لکھ دیا ہے کہ ’’اگرچہ دو پسر دیگر داشتند ان ازالنا اولاد و احفا د نیست‘‘ یعنی اگرچہ دو بیٹے اور بھی تھے مگر اُن سے کوئی اولاد نہیں ہے ۔
بعض تحریروں سے آپ کی اہلیہ و بیٹوں کے یہ نام بھی ظاہر ہوئے ہیں ۔
اہلیہ کا نام سیدہ عایشہ بی بی بنت شاہ حیدر لاہوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
بیٹوں کے نام یہ ہیں:
سید ابو علی صالح محمد رحمۃ اللہ علیہ
سید عبد اللہ ۔ ماسٹر غلام نبی ساکن دَسّن پورہ لاہور نے اپنا نسب نامہ کتاب تذکرہ ہاشمیہ میں اس طرح ان کے ساتھ ملایا ہے، غلام نبی بن غلام قادر بن نتھے شاہ بن پیر شاہ بن حکیم ہاشم شاہ تھرپالوی بن حاجی محمد شریف جگدیوی بن محمد بن عبد اللہ بن عبد الرحمٰن بن موسیٰ بن محمد بن موسیٰ بن صالح بن عبد العزیز بن عبد اللہ بن سید محی الدین مسعود گیلانی رحمۃ اللہ علیہ ۔
مگر محققین کے نزدیک یہ نسب نامہ بالکل وضعی ہے کیونکہ بحر السرائر کے علاوہ نسب نامہ سادات پیر کوٹ سدھانہ ضلع جھَنگ میں بھی سید مسعود کے ایک ہی فرزند سید علی لکھے ہیں ۔ اور قاضی بر خوردار ملتانی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب غوث اعظم میں تبصریح لکھا ہے کہ آپ کو (سید محی الدین مسعود کو) صرف ایک صاحبزادہ مسمی سیّد علی قدس سرہٗ خلّاقِ عالم نے عطا کیا جو وارثِ خاندان ہوا اور انہیں سے یہ سلسلہ وہابیہ شروع ہوکر مزیّن عالم ہوا ۔ [۱] [ ۱۔ غوثِ اعظم ص ۳۰۵ شرافت] ـ
بلکہ ماسٹر غلام نبی کے مورث اعلیٰ حکیم میاں ہاشم شاہ شاعر کو پنجابی ادب و تاریخ فاضل پنجابی گائیڈ اور پنجابی صوفی پوئیٹس کے مصنفوں نے نَجّار (بڑھئی) لکھا ہے ۔
تاریخ وصال:
حضرت شیخ سید ابو البرکات محی الدین مسعود گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات بقول صاحب کتاب غوث اعظم (پنجم شعبان) 660ھ چھ سو ساٹھ ہجری مطابق یکشنبہ بست و پنجم (25) جون 1262ء ایک ہزار دو سو باسٹھ عیسوی میں بعہدِ خلافت المستنصر با للہ ثانی ابو القاسم بن الظاہر خلیفہ سی د ہشتم (38) عباسی مصری کے ہوئی ۔
مدفن پاک:
آپ کا مزار پُر انوار شہر حلب ملک شام میں ہے۔ رحمۃ اللہ علیہ ۔
قطعہ تاریخ:
از حضرت مولانا شاہ غلام مصطفےٰ نو شاھی دام برکاتہ
ز دنیا رفت شاہ مسعود ذاکر
بباغِ عدن شد معمور صابر
وصالش مصرعِ گفتم عجیبہ
حبیبِ حامد و محبوب (660) شاکر
از وصالِ سیّدِ مسعود داں
امجدِ ما سید السادات خواں
وصالِ حضرتِ مسعود عُمدہ
سرد شم گفت قمر قادرہ (660)
ز ما کرد تفریق چوں خوش نصیب
وصالش عجب گفت رحلت حبیب (660)
دیگر:
از اسماء الحسنٰے
حَنّان متعالی (660)
علی مقیت (660)
صمد شکور (660)
نعیم ممیت (660)
قدوس ممیت (660)
یقین ممیت (660)
منعم شفیع (660)
کریم رفیق (660)
مکرم رفیع (660)
منیر رفیع (660)
شاھد نصیر (660)
شہید ناصر (660)
( شریف التواریخ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-mohiuddin-masood-gilani
سید ابو علی صالح محمد رحمۃ اللہ علیہ
سید عبد اللہ ۔ ماسٹر غلام نبی ساکن دَسّن پورہ لاہور نے اپنا نسب نامہ کتاب تذکرہ ہاشمیہ میں اس طرح ان کے ساتھ ملایا ہے، غلام نبی بن غلام قادر بن نتھے شاہ بن پیر شاہ بن حکیم ہاشم شاہ تھرپالوی بن حاجی محمد شریف جگدیوی بن محمد بن عبد اللہ بن عبد الرحمٰن بن موسیٰ بن محمد بن موسیٰ بن صالح بن عبد العزیز بن عبد اللہ بن سید محی الدین مسعود گیلانی رحمۃ اللہ علیہ ۔
مگر محققین کے نزدیک یہ نسب نامہ بالکل وضعی ہے کیونکہ بحر السرائر کے علاوہ نسب نامہ سادات پیر کوٹ سدھانہ ضلع جھَنگ میں بھی سید مسعود کے ایک ہی فرزند سید علی لکھے ہیں ۔ اور قاضی بر خوردار ملتانی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب غوث اعظم میں تبصریح لکھا ہے کہ آپ کو (سید محی الدین مسعود کو) صرف ایک صاحبزادہ مسمی سیّد علی قدس سرہٗ خلّاقِ عالم نے عطا کیا جو وارثِ خاندان ہوا اور انہیں سے یہ سلسلہ وہابیہ شروع ہوکر مزیّن عالم ہوا ۔ [۱] [ ۱۔ غوثِ اعظم ص ۳۰۵ شرافت] ـ
بلکہ ماسٹر غلام نبی کے مورث اعلیٰ حکیم میاں ہاشم شاہ شاعر کو پنجابی ادب و تاریخ فاضل پنجابی گائیڈ اور پنجابی صوفی پوئیٹس کے مصنفوں نے نَجّار (بڑھئی) لکھا ہے ۔
تاریخ وصال:
حضرت شیخ سید ابو البرکات محی الدین مسعود گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات بقول صاحب کتاب غوث اعظم (پنجم شعبان) 660ھ چھ سو ساٹھ ہجری مطابق یکشنبہ بست و پنجم (25) جون 1262ء ایک ہزار دو سو باسٹھ عیسوی میں بعہدِ خلافت المستنصر با للہ ثانی ابو القاسم بن الظاہر خلیفہ سی د ہشتم (38) عباسی مصری کے ہوئی ۔
مدفن پاک:
آپ کا مزار پُر انوار شہر حلب ملک شام میں ہے۔ رحمۃ اللہ علیہ ۔
قطعہ تاریخ:
از حضرت مولانا شاہ غلام مصطفےٰ نو شاھی دام برکاتہ
ز دنیا رفت شاہ مسعود ذاکر
بباغِ عدن شد معمور صابر
وصالش مصرعِ گفتم عجیبہ
حبیبِ حامد و محبوب (660) شاکر
از وصالِ سیّدِ مسعود داں
امجدِ ما سید السادات خواں
وصالِ حضرتِ مسعود عُمدہ
سرد شم گفت قمر قادرہ (660)
ز ما کرد تفریق چوں خوش نصیب
وصالش عجب گفت رحلت حبیب (660)
دیگر:
از اسماء الحسنٰے
حَنّان متعالی (660)
علی مقیت (660)
صمد شکور (660)
نعیم ممیت (660)
قدوس ممیت (660)
یقین ممیت (660)
منعم شفیع (660)
کریم رفیق (660)
مکرم رفیع (660)
منیر رفیع (660)
شاھد نصیر (660)
شہید ناصر (660)
( شریف التواریخ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-mohiuddin-masood-gilani
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت عمدۃ المدرسین مولانا محمد فرید رضوی گوجرانوالہ علیہ الرحمۃ
فاضل جلیل عمدۃ المدرسین حضرت ابو الریاض الحاج مولانا محمد فرید رضوی ہزاروی بن الحاج مولانا عبد الجلیل بن مولانا امیر غلام ۵؍شعبان ۱۳۵۶ھ / ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۳۷ء کو موضع جھاڑ مضافات تربیلہ (ہزارہ) میں پیدا ہوئے۔ مشہور پٹھان قوم عیسیٰ خیل کے مورثِ اعلیٰ عیسیٰ خان آپ کے جدِّ اعلیٰ تھے۔ ایک اور جدِّ اعلیٰ عبدالرشید خان قندھار کے حاکمِ اعلیٰ ہو گزرے ہیں۔
آپ عِلمی و رُوحانی خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ والد ماجد مولانا الحاج عبدالجلیل کے شب و روز تبلیغِ دین میں گزرتے ہیں۔ آپ کے جدِّ امجد کے حقیقی بھائی پیرِ طریقت علامہ امیر محمود اپنے علاقہ کے مرکزِ رشد و ہدایت ہیں، سینکڑوں طلباء نے ان سے اکتسابِ فیض کیا، نہایت سادہ منش اور پابندِ شریعت بزرگ ہیں۔ نہ صرف اپنی اولاد کو علومِ دینیہ سے بہرہ ور کیا، بلکہ دامادی کے لیے بھی اصحابِ علومِ اسلامیہ کا انتخاب کیا۔
حضرت مولانا محمد فرید رضوی مدظلہ نے ابتدائی تعلیم بعض مساجد میں حاصل کی۔پھر والد ماجد کی وساطت سے ہزارہ ڈویژن کے روحانی و علمی مرکزی دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ میں داخل ہوئے۔ مولانا قاضی حبیب الرحمٰن اور مولانا قاضی غلام محمود سے عِلمی استفادہ شروع کیا۔ اوّل الذکر حضرت علامہ قاضی عبدالسبحان کھلابٹی رحمہ اللہ کے داماد اور آخر الذکر آپ کے صاحبزادہ ہیں۔ جب حضرت قاضی رحمہ اللہ دار العلوم میں شیخ الحدیث کی حیثیت سے تشریف لائے تو ان سے بھی علمی اکتساب کیا۔ ایک نہایت ہی محنتی اور مشفق استاد مولانا حافظ محمد یوسف سے بھی ابتدائی اسباق پڑھے۔ چار سال بعد جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد میں داخلہ لیا۔ دو سال بعد حضرت محدّثِ اعظم رحمہ اللہ حج پر تشریف لے گئے تو مولانا محمد فرید رضوی جامعہ نعیمیہ لاہور آگئے۔ یہاں آپ نے تقریباً سات سال کے عرصہ میں حضرت مولانا مفتی محمد حسین نعیمی کے زیرِ سایہ درسِ نظامی کی آخری کتب میر زاہد، ملّا جلال، حمد اللہ، قاضی، شمس بازغہ وغیرہ حضرت مولانا حسین امام، مولانا قاضی حبیب الرحمٰن اور مولانا قاضی عزیز الرحمٰن مردانوی سے پڑھیں۔ ہدایہ حضرت فقیہ العصر مفتی اعجاز ولی خاں رحمہ اللہ سے پڑھا۔ بخاری شریف کا درس مولانا مفتی محمد حسین نعیمی سے لیا ان کے علاوہ کچھ اسباق حضرت مولانا مفتی عزیز احمد بدایونی سے بھی پڑھے۔
۱۹۵۹ء میں جامعہ نعیمیہ سے دستارِ فضیلت اور سندِ فراغت حاصل کی۔ ۱۹۶۰ء میں مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں حضرت غزالی زماں علامہ سیّد احمد سعید کاظمی مدظلہ سے علمِ حدیث پڑھ کر سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔
آپ نے تدریسی زندگی کا آغاز جامعہ گنج بخش لاہور سے کیا۔ یہ ادارہ حضرت مولانا مفتی اعجاز ولی خاں رحمہ اللہ کی سر پرستی میں قائم کیا گیا تھا۔ یہاں آپ نے ابتدائی اورمتوسّط کتب پڑھائیں۔ دو سال جامعہ امینیہ گوجر انوالہ میں اور دو سال دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور میں مسندِ تدریس پر فائز رہے۔
۱۹۶۶ء میں حضرت غزالی زماں علامہ احمد سعید کاظمی مدظلہ کے ارشاد پر مدرسہ جامع العلوم خانیوال میں صدر مدرس کی حیثیت سے تدریسی فرائض انجام دینے شروع کیے بندۂ نا چیز (محمد صدیق ہزاروی) نے ایک سال ہری پور اور دو سال خانیوال میں آپ سے علمی استفادہ کیا۔ آپ نہایت مشفق اور مہربان استاد ہیں طالب علم کی علمی ضرورت ہی نہیں، بلکہ ہر قسم کی ضروریات کو پورا کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ جس شفقت اور ہمدردی سے آپ نے بندہ کی تربیّت فرمائی، وہ نا قابلِ فراموش احسان ہے۔
دو سال (۷۲۔۱۹۷۱ء) جامعہ فضل العلوم ڈسکہ میں مدرس رہے اور اب عرصہ چھ سال سے جامعہ فاروقیہ رضویہ تعلیم القرآن گوجرانوالہ میں بطورِ صدر مدّرس علومِ اسلامیہ کی تدریس میں مصروف ہیں۔ دو دفعہ دورۂ حدیث بھی پڑھا چکے ہیں۔
دار العلوم کی مسجد، جامع مسجد فاروقیہ میں خطابت کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔ اس سے قبل شاہد رہ موڑ (لاہور) واہگہ موڑ، گوجرا نوالہ شہر، نوشہرہ درکاں، ہری پور ہزارہ، خانیوال، جہانیاں (ضلع ملتان) اور جامع عمر ڈسکہ میں خطیب رہ چکے ہیں۔
آپ کی سیاسی وابستگی، سوادِ اعظم کی نمائندہ جماعت جمعیت علماء پاکستان سے ہے۔ تحریکِ جمہوریت ۱۹۶۹ء میں آپ نے خانیوال میں بڑے برے جلوس کی قیادت کی، حالانکہ آپ جس دار العلوم سے متعلق تھے، وہ محکمہ اوقاف کے زیرِ اہتمام ایک مسجد میں قائم تھا، لیکن آپ نے خطرات کی پروا کیے بغیر تحریک میں حصہ لیا۔
تحریکِ ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں بھر پور حصہ لیا۔ گوجرانوالہ میں متعدّد جلسوں میں لوگوں کو فتنۂ مرزائیت سے آگاہ کیا۔ تحریک نظام مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ۱۹۷۷ء میں آپ کی کار کردگی پر گوجرانوالہ کی تاریخ شاہد ہے ایک دو کے علاوہ ہر جلوس کی قیادت میں شریک رہے اور بعض جلوسوں کی قیادت تو بلا شرکتِ غیرے کی۔
جمعۃ المبارک کی نماز کے بعد چوک گھنٹہ گھر سے مولانا الحاج ابوداؤد محمد صادق مدظلہ اور مولانا عبد العزیز چشتی کے ہمراہ گرفتاری پیش کی د
فاضل جلیل عمدۃ المدرسین حضرت ابو الریاض الحاج مولانا محمد فرید رضوی ہزاروی بن الحاج مولانا عبد الجلیل بن مولانا امیر غلام ۵؍شعبان ۱۳۵۶ھ / ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۳۷ء کو موضع جھاڑ مضافات تربیلہ (ہزارہ) میں پیدا ہوئے۔ مشہور پٹھان قوم عیسیٰ خیل کے مورثِ اعلیٰ عیسیٰ خان آپ کے جدِّ اعلیٰ تھے۔ ایک اور جدِّ اعلیٰ عبدالرشید خان قندھار کے حاکمِ اعلیٰ ہو گزرے ہیں۔
آپ عِلمی و رُوحانی خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ والد ماجد مولانا الحاج عبدالجلیل کے شب و روز تبلیغِ دین میں گزرتے ہیں۔ آپ کے جدِّ امجد کے حقیقی بھائی پیرِ طریقت علامہ امیر محمود اپنے علاقہ کے مرکزِ رشد و ہدایت ہیں، سینکڑوں طلباء نے ان سے اکتسابِ فیض کیا، نہایت سادہ منش اور پابندِ شریعت بزرگ ہیں۔ نہ صرف اپنی اولاد کو علومِ دینیہ سے بہرہ ور کیا، بلکہ دامادی کے لیے بھی اصحابِ علومِ اسلامیہ کا انتخاب کیا۔
حضرت مولانا محمد فرید رضوی مدظلہ نے ابتدائی تعلیم بعض مساجد میں حاصل کی۔پھر والد ماجد کی وساطت سے ہزارہ ڈویژن کے روحانی و علمی مرکزی دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ میں داخل ہوئے۔ مولانا قاضی حبیب الرحمٰن اور مولانا قاضی غلام محمود سے عِلمی استفادہ شروع کیا۔ اوّل الذکر حضرت علامہ قاضی عبدالسبحان کھلابٹی رحمہ اللہ کے داماد اور آخر الذکر آپ کے صاحبزادہ ہیں۔ جب حضرت قاضی رحمہ اللہ دار العلوم میں شیخ الحدیث کی حیثیت سے تشریف لائے تو ان سے بھی علمی اکتساب کیا۔ ایک نہایت ہی محنتی اور مشفق استاد مولانا حافظ محمد یوسف سے بھی ابتدائی اسباق پڑھے۔ چار سال بعد جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد میں داخلہ لیا۔ دو سال بعد حضرت محدّثِ اعظم رحمہ اللہ حج پر تشریف لے گئے تو مولانا محمد فرید رضوی جامعہ نعیمیہ لاہور آگئے۔ یہاں آپ نے تقریباً سات سال کے عرصہ میں حضرت مولانا مفتی محمد حسین نعیمی کے زیرِ سایہ درسِ نظامی کی آخری کتب میر زاہد، ملّا جلال، حمد اللہ، قاضی، شمس بازغہ وغیرہ حضرت مولانا حسین امام، مولانا قاضی حبیب الرحمٰن اور مولانا قاضی عزیز الرحمٰن مردانوی سے پڑھیں۔ ہدایہ حضرت فقیہ العصر مفتی اعجاز ولی خاں رحمہ اللہ سے پڑھا۔ بخاری شریف کا درس مولانا مفتی محمد حسین نعیمی سے لیا ان کے علاوہ کچھ اسباق حضرت مولانا مفتی عزیز احمد بدایونی سے بھی پڑھے۔
۱۹۵۹ء میں جامعہ نعیمیہ سے دستارِ فضیلت اور سندِ فراغت حاصل کی۔ ۱۹۶۰ء میں مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں حضرت غزالی زماں علامہ سیّد احمد سعید کاظمی مدظلہ سے علمِ حدیث پڑھ کر سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔
آپ نے تدریسی زندگی کا آغاز جامعہ گنج بخش لاہور سے کیا۔ یہ ادارہ حضرت مولانا مفتی اعجاز ولی خاں رحمہ اللہ کی سر پرستی میں قائم کیا گیا تھا۔ یہاں آپ نے ابتدائی اورمتوسّط کتب پڑھائیں۔ دو سال جامعہ امینیہ گوجر انوالہ میں اور دو سال دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور میں مسندِ تدریس پر فائز رہے۔
۱۹۶۶ء میں حضرت غزالی زماں علامہ احمد سعید کاظمی مدظلہ کے ارشاد پر مدرسہ جامع العلوم خانیوال میں صدر مدرس کی حیثیت سے تدریسی فرائض انجام دینے شروع کیے بندۂ نا چیز (محمد صدیق ہزاروی) نے ایک سال ہری پور اور دو سال خانیوال میں آپ سے علمی استفادہ کیا۔ آپ نہایت مشفق اور مہربان استاد ہیں طالب علم کی علمی ضرورت ہی نہیں، بلکہ ہر قسم کی ضروریات کو پورا کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ جس شفقت اور ہمدردی سے آپ نے بندہ کی تربیّت فرمائی، وہ نا قابلِ فراموش احسان ہے۔
دو سال (۷۲۔۱۹۷۱ء) جامعہ فضل العلوم ڈسکہ میں مدرس رہے اور اب عرصہ چھ سال سے جامعہ فاروقیہ رضویہ تعلیم القرآن گوجرانوالہ میں بطورِ صدر مدّرس علومِ اسلامیہ کی تدریس میں مصروف ہیں۔ دو دفعہ دورۂ حدیث بھی پڑھا چکے ہیں۔
دار العلوم کی مسجد، جامع مسجد فاروقیہ میں خطابت کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔ اس سے قبل شاہد رہ موڑ (لاہور) واہگہ موڑ، گوجرا نوالہ شہر، نوشہرہ درکاں، ہری پور ہزارہ، خانیوال، جہانیاں (ضلع ملتان) اور جامع عمر ڈسکہ میں خطیب رہ چکے ہیں۔
آپ کی سیاسی وابستگی، سوادِ اعظم کی نمائندہ جماعت جمعیت علماء پاکستان سے ہے۔ تحریکِ جمہوریت ۱۹۶۹ء میں آپ نے خانیوال میں بڑے برے جلوس کی قیادت کی، حالانکہ آپ جس دار العلوم سے متعلق تھے، وہ محکمہ اوقاف کے زیرِ اہتمام ایک مسجد میں قائم تھا، لیکن آپ نے خطرات کی پروا کیے بغیر تحریک میں حصہ لیا۔
تحریکِ ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں بھر پور حصہ لیا۔ گوجرانوالہ میں متعدّد جلسوں میں لوگوں کو فتنۂ مرزائیت سے آگاہ کیا۔ تحریک نظام مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ۱۹۷۷ء میں آپ کی کار کردگی پر گوجرانوالہ کی تاریخ شاہد ہے ایک دو کے علاوہ ہر جلوس کی قیادت میں شریک رہے اور بعض جلوسوں کی قیادت تو بلا شرکتِ غیرے کی۔
جمعۃ المبارک کی نماز کے بعد چوک گھنٹہ گھر سے مولانا الحاج ابوداؤد محمد صادق مدظلہ اور مولانا عبد العزیز چشتی کے ہمراہ گرفتاری پیش کی د
و دن اور راتیں صدر تھا نہ گوجرانوالہ میں رہے اور اس کے بعد رہائی ہوئی۔
خانیوال میں قیام کے دوران ’’انجمن اصلاح المسلمین‘‘سے وابستگی رہی اور انجمن کے زیرِ اہتمام بڑی سر گرمی سے تبلیغی واصلاحی کام کیے۔
خانیوال اور گوجر انوالہ میں متعدد بار بد عقیدہ لوگوں سے مناطرے ہوئے اور بفضلہٖ تعالیٰ کامیابی حاصل ہوئی۔ مولوی غلام اللہ (راولپنڈی) سے بحث ہوئی اور دیوبندی مکتبۂ فکر کے نور الحسن شاہ بخاری کو میدانِ مناظرہ سے بھگایا۔ خانیوال کے ایک مناظرہ میں دیو بندی عالم بے شمار کتابیں لے کر آئے، جبکہ حضرت استاذِ محترم کے پاس صرف قصیدہ بُردہ شریف تھا، لیکن آپ نے ابتدائی گفتگو میں ہی مخالفین کو میدان چھوڑنے پر مجبور کردیا۔
فیّاضِ مطلق نے آپ کو تدریسی اور تقریری خوبیوں کے علاوہ جوہر قلم سے سر فراز فرمایا ہے؟ چنانچہ آپ نے گونا گوں مصروفیات کے باوجود درجِ ذیل کتب تصنیف فرمائیں۔
۱۔ صداقتِ میلاد بجواب حقیقتِ میلاد مطبوعہ
۲۔ ’’حاضر و ناظر اور علم غیب‘‘ ملّا علی قاری کی نظر میں مطبوعہ
۳۔ اثبات الدعا بعد الجنازہ بجواب دعا بعد الجنازہ غیر مطبوعہ
۴۔ رسالہ علمِ غیب غیر مطبوعہ
۵۔ ملّا علی قاری اور سر فراز گکھڑوی
حضرت غزالیٔ زماں علامہ سیّد احمد سعید کاظمی مدظلہ سے شرفِ تلّمذ آپ کو پہلے ہی تھا۔ ۱۹۶۶ء میں آپ نے جامعہ اسلامیہ بہاول پور حاضر ہوکر سلسلۂ چشت میں شرف بیعت بھی حاصل کیا اور حضرت کی جانب سے بیعت کی اجازت (خلافت بھی مرحمت ہوئی)
۱۳۹۶ھ /۱۹۷۶ء میں آپ کو جناب والد ماجد کی معیّت میں حج بیت اللہ شریف اور گنبدِ خضریٰ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسّلام کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔
کثیر التعداد طلباء نے آپ سے علمی استفادہ کیا۔ چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:
۱۔ مولانا سیّد بشیر حسین شاہ، گوجرانوالہ
۲۔ مولانا خالد حسن مجدّدی، گوجر انوالہ
۳۔ مولانا سعید احمد مجددی، گوجر انوالہ
۴۔ مولانا گل احمد عتیقی، فیصل آباد
۵۔ مولانا صداقت علی
۶۔ مولانا قاضی محمد یوسف
۷۔ مولانا حافظ محمد علی
۸۔ مولانا قاری عبد الرزاق
۹۔ مولانا محمد حنیف اختر، خانیوال
۱۰۔ محمد صدیق ہزاروی، لاہور (مرتب)
روحانی اولاد کے علاوہ آپ کی چار صاحبزادیاں اور ایک صاحبزادہ مسمّی محمد ریاض الرحمان ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی اولاد کو صالح اور پابندِ شریعت بنائے اور علم دین سے بہرہ ور فرمائے۔[۱]
[۱۔ مکتوب حضرت استاذ محترم مولانا محمد غلام فرید رضوی، بنام مرتب مؤرخہ ۱۳؍ اپریل ۱۹۷۸ء۔]
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-farid-rizvi
خانیوال میں قیام کے دوران ’’انجمن اصلاح المسلمین‘‘سے وابستگی رہی اور انجمن کے زیرِ اہتمام بڑی سر گرمی سے تبلیغی واصلاحی کام کیے۔
خانیوال اور گوجر انوالہ میں متعدد بار بد عقیدہ لوگوں سے مناطرے ہوئے اور بفضلہٖ تعالیٰ کامیابی حاصل ہوئی۔ مولوی غلام اللہ (راولپنڈی) سے بحث ہوئی اور دیوبندی مکتبۂ فکر کے نور الحسن شاہ بخاری کو میدانِ مناظرہ سے بھگایا۔ خانیوال کے ایک مناظرہ میں دیو بندی عالم بے شمار کتابیں لے کر آئے، جبکہ حضرت استاذِ محترم کے پاس صرف قصیدہ بُردہ شریف تھا، لیکن آپ نے ابتدائی گفتگو میں ہی مخالفین کو میدان چھوڑنے پر مجبور کردیا۔
فیّاضِ مطلق نے آپ کو تدریسی اور تقریری خوبیوں کے علاوہ جوہر قلم سے سر فراز فرمایا ہے؟ چنانچہ آپ نے گونا گوں مصروفیات کے باوجود درجِ ذیل کتب تصنیف فرمائیں۔
۱۔ صداقتِ میلاد بجواب حقیقتِ میلاد مطبوعہ
۲۔ ’’حاضر و ناظر اور علم غیب‘‘ ملّا علی قاری کی نظر میں مطبوعہ
۳۔ اثبات الدعا بعد الجنازہ بجواب دعا بعد الجنازہ غیر مطبوعہ
۴۔ رسالہ علمِ غیب غیر مطبوعہ
۵۔ ملّا علی قاری اور سر فراز گکھڑوی
حضرت غزالیٔ زماں علامہ سیّد احمد سعید کاظمی مدظلہ سے شرفِ تلّمذ آپ کو پہلے ہی تھا۔ ۱۹۶۶ء میں آپ نے جامعہ اسلامیہ بہاول پور حاضر ہوکر سلسلۂ چشت میں شرف بیعت بھی حاصل کیا اور حضرت کی جانب سے بیعت کی اجازت (خلافت بھی مرحمت ہوئی)
۱۳۹۶ھ /۱۹۷۶ء میں آپ کو جناب والد ماجد کی معیّت میں حج بیت اللہ شریف اور گنبدِ خضریٰ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسّلام کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔
کثیر التعداد طلباء نے آپ سے علمی استفادہ کیا۔ چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:
۱۔ مولانا سیّد بشیر حسین شاہ، گوجرانوالہ
۲۔ مولانا خالد حسن مجدّدی، گوجر انوالہ
۳۔ مولانا سعید احمد مجددی، گوجر انوالہ
۴۔ مولانا گل احمد عتیقی، فیصل آباد
۵۔ مولانا صداقت علی
۶۔ مولانا قاضی محمد یوسف
۷۔ مولانا حافظ محمد علی
۸۔ مولانا قاری عبد الرزاق
۹۔ مولانا محمد حنیف اختر، خانیوال
۱۰۔ محمد صدیق ہزاروی، لاہور (مرتب)
روحانی اولاد کے علاوہ آپ کی چار صاحبزادیاں اور ایک صاحبزادہ مسمّی محمد ریاض الرحمان ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی اولاد کو صالح اور پابندِ شریعت بنائے اور علم دین سے بہرہ ور فرمائے۔[۱]
[۱۔ مکتوب حضرت استاذ محترم مولانا محمد غلام فرید رضوی، بنام مرتب مؤرخہ ۱۳؍ اپریل ۱۹۷۸ء۔]
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-farid-rizvi
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Farid Rizvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شہزادۂ خواجہ غریب نواز ، حضرت خواجہ فخر الدین ابو الخیر چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
خاندانی حالات:
والد ماجد کی طرف سے آپ حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کی اولاد میں سے ہیں، پس آپ حسینی ہیں۔
والد ماجد:
خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی کے آپ بڑے صاحب زادے ہیں۔
والدہ ماجدہ:
آپ بی بی امتہ اللہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔
۱؎ پیدائش:
آپ کی ولادت باسعادت591ھ میں ہوئی۔
بھائی:
آپ کے دو بھائی تھے ۔ ایک حقیقی اور دوسرے سوتیلے، حقیقی بھائی کانام خواجہ حسام الدین ابو صالح ہے، خواجہ ضیاء الدین ابو سعید آپ کے سوتیلے بھائی ہیں۔
بہن:
بی بی حافظہ جمال آپ کی حقیقی بہن ہیں۔
تعلیم وتربیت:
آپ نے اپنے والد ماجد کے سایہ عاطفت میں تعلیم و تربیت پائی۔
ذریعۂ معاش:
آپ موضع مانڈل میں کاشت کرتے تھے، ایک مرتبہ حاکم وقت نے کچھ مزاحمت کرناچاہی ۔ ۲؎ آپ نے اپنے والد خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی سے عرض کیا ۔ حضرت خواجہ غریب نواز ایک کسان کی سفارش کے لئے دہلی تشریف لے جا رہے تھے ۔ حضرت خواجہ غریب نواز کے دہلی پہنچنے پر موضوع ماندن (ماندل) کی معافی کا فرمان آپ (حضرت خواجہ فخرالدین) کے حق مل گیا ہے ۔ ۳؎
وفات شریف:
آپ 5 شعبان661ھ کو رحمت حق میں پیوست ہوئے،بوقت وفات آپ کی عمر (70) ستر سال کی تھی، یہ بھی کہا جاتا ہےکہ آپ کا وصال حضرت خواجہ غریب نواز کی وفات کے بیس سال بعد ہوا ۔ ۴؎ مزار پر انوار سردار میں فیوض و برکات کا سر چشمہ ہے، آپ کا عرس مبارک بڑے تزک و احتشام سے ہر سال ہوتا ہے۔
سیرت پاک:
آپ صاحب نسبت اور صاحب عظمت بزرگ ہیں ۔ علوم ظاہری و باطنی اور کمالات صوری و معنوی سے آراستہ تھے، آپ دنیا سے بے نیاز تھے، عشق الٰہی میں سرشار تھے۔
حواشی:
۱؎ " معین الہند " از ڈاکڑ ظہور الحسن شارب ص۱۹۱،۱۱۱
۲؎ اخبار الاخیار (اُردوترجمہ)ص۱۰۵
۳؎سیرالاولیاءص۵۳،جامع الکلام ص۲۰۷
۴؎اخبارالاخیار(اُردوترجمہ)ص۱۰۵
( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-fakhruddin-abul-khair-chishti
خاندانی حالات:
والد ماجد کی طرف سے آپ حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کی اولاد میں سے ہیں، پس آپ حسینی ہیں۔
والد ماجد:
خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی کے آپ بڑے صاحب زادے ہیں۔
والدہ ماجدہ:
آپ بی بی امتہ اللہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔
۱؎ پیدائش:
آپ کی ولادت باسعادت591ھ میں ہوئی۔
بھائی:
آپ کے دو بھائی تھے ۔ ایک حقیقی اور دوسرے سوتیلے، حقیقی بھائی کانام خواجہ حسام الدین ابو صالح ہے، خواجہ ضیاء الدین ابو سعید آپ کے سوتیلے بھائی ہیں۔
بہن:
بی بی حافظہ جمال آپ کی حقیقی بہن ہیں۔
تعلیم وتربیت:
آپ نے اپنے والد ماجد کے سایہ عاطفت میں تعلیم و تربیت پائی۔
ذریعۂ معاش:
آپ موضع مانڈل میں کاشت کرتے تھے، ایک مرتبہ حاکم وقت نے کچھ مزاحمت کرناچاہی ۔ ۲؎ آپ نے اپنے والد خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی سے عرض کیا ۔ حضرت خواجہ غریب نواز ایک کسان کی سفارش کے لئے دہلی تشریف لے جا رہے تھے ۔ حضرت خواجہ غریب نواز کے دہلی پہنچنے پر موضوع ماندن (ماندل) کی معافی کا فرمان آپ (حضرت خواجہ فخرالدین) کے حق مل گیا ہے ۔ ۳؎
وفات شریف:
آپ 5 شعبان661ھ کو رحمت حق میں پیوست ہوئے،بوقت وفات آپ کی عمر (70) ستر سال کی تھی، یہ بھی کہا جاتا ہےکہ آپ کا وصال حضرت خواجہ غریب نواز کی وفات کے بیس سال بعد ہوا ۔ ۴؎ مزار پر انوار سردار میں فیوض و برکات کا سر چشمہ ہے، آپ کا عرس مبارک بڑے تزک و احتشام سے ہر سال ہوتا ہے۔
سیرت پاک:
آپ صاحب نسبت اور صاحب عظمت بزرگ ہیں ۔ علوم ظاہری و باطنی اور کمالات صوری و معنوی سے آراستہ تھے، آپ دنیا سے بے نیاز تھے، عشق الٰہی میں سرشار تھے۔
حواشی:
۱؎ " معین الہند " از ڈاکڑ ظہور الحسن شارب ص۱۹۱،۱۱۱
۲؎ اخبار الاخیار (اُردوترجمہ)ص۱۰۵
۳؎سیرالاولیاءص۵۳،جامع الکلام ص۲۰۷
۴؎اخبارالاخیار(اُردوترجمہ)ص۱۰۵
( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-fakhruddin-abul-khair-chishti
scholars.pk
Hazrat Khawaja Fakhruddin Abul Khair Chishti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs