🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#فیضان_امام_اعظم_ابو_حنیفہ ⓮ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہٗ🌹 ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یوم ولادت: ؁۷۰ھ❤️ عمر ⁸⁰ سال یو وصال: 2 شعبان المعظم ؁۱۵۰ھ امام اعظم کا مختصر تعارف  📜 تعدادِ اساتذہ ⁴,⁰⁰⁰ | شاگِرد ¹⁰,⁰⁰⁰
#فیضان_امام_اعظم_ابو_حنیفہ
امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہٗ🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت: ؁۷۰ھ❤️ عمر ⁸⁰ سال
یو وصال: 2 شعبان المعظم ؁۱۵۰ھ
امام اعظم کا مختصر تعارف  📜
تعدادِ اساتذہ ⁴,⁰⁰⁰ | شاگِرد ¹⁰,⁰⁰⁰
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯1
نبیرۂ اعلیٰ حضرت ، علامہ قمر رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اللہ ہی کا ہے جو اس نےدیا اور جو اس نے لیا اور ہر شے کی اس کے یہاں ایک مقدار مقرر ہے، دنیا میں جو آیا ہے اسے ایک نہ ایک دن فیصلہ کل نفس ذائقۃ الموت کے تحت جانا ہے، ہر دن ہزاروں آتے ہیں اور ہزاروں جاتے ہیں نہ ان کا آنا کوئی بڑی خوشی کی بات ،

نہ ان کا جانا کوئی بڑا صدمہ شمار، پر بندگانِ خُدا میں سے کوئی فرد ایسا ہوتا ہے کہ جس کے آنے سے اَن گنت لوگوں کو خوشی ہوتی ہے اور جانے پر بےشمار آنکھیں اشکبار، یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ چن لیتا ہے، ان کے دلوں میں اپنی اور اپنے محبوب منزہ عن العیوب علیہ الف الف صلوٰۃ والسلام کی الفت و محبت نقش فرمادیتا ہے، اور ان کا انتخاب دینِ مبین کی خدمت کے لئے فرماتا ہے، اب خواہ وہ خدمتِ دین بصورتِ خدمتِ خلق ہو جیسا کہ ابدالِ کرام انجام دیتے ہیں یا وہ خدمتِ دین بصورتِ استنباط مسائل شرعیہ ، تدریس و تصنیفات کتب دینیہ یا تقاریر بعنوان اصلاح عقائد و اعمال کے ہوں جیسے کہ فقہائے کرام و علماء اکرام انجام دیتے ہیں، مذکورہ ہر دو طریق پر خدمت اصلاً خدمت دین ہی ہے۔

انہی منتخب اور خوش بخت لوگوں میں سے ایک نبیرۂ اعلیٰ حضرت و حجۃ الاسلام ، نواسۂ حضور مفتی اعظم عالم اسلام، شہزادۂ مفسر اعظم ہند یعنی حضور قمر ملّت علامہ ڈاکٹر قمر رضا خاں صاحب﷫ کی ذات مسعود ہے، جن کے داغِ فراق نے جو زخم دیا ہے اس کا اندمال جلد ممکن نہیں۔

مقصد تحریر اینکہ چند سطور بطور مضمون حضور قمر ملت﷫ کے حوالے سے پیش کروں، یوں تو خانوادۂ اعلیٰ حضرت کا ہر فرد بذاتِ خود متعارف ہے اور پھر موصوف کے تو کیا کہنے؟… کیا بتاؤں کہ وہ کون تھے؟… کیا تھے؟… کیسے تھے؟ … بس شرافت نفس کا اعلیٰ کردار تھے… تواضع وانکسار کا مہکتا گلزار تھے… قرابت داروں کا مونس و غمخوار تھے…بس ایک مصرعے میں تو وہ ایسے تھے کہ

جو کچھ کہا تیرا حسن ہو گیا محدود

ان کی شخصیت کا مکمل تعارف تو اس مصرعے سے ہوگیا پر تقاضائے مضمون ہیں کچھ اور بھی… جس کے پیش نظر یہ حقیر مزید پر مجبور بھی۔

مولد و مسکن:
حضرت محلہ سوداگران رضا نگر سے متصل محلہ خواجہ قطب بریلی شریف میں بتاریخ 14جولائی 1946ء اور ہجری کے اعتبار سے 14 شعبان 1365ھ پیدا ہوئے۔

نام و نسب شریف:
محمد قمر رضا بن محمد ابراہیم رضا ۲ بن محمد حامد رضا ۳ بن امام احمد رضا خاں۱ بن علامہ نقی علی خان۲ بن علامہ رضا علی خان۱ علیہم الرحمۃ الرضوان۔

تعلیم و تربیت:
خاندانی دستور کے مطابق چار سال چار ماہ چار دن کی عمر مبارک میں حضرت کی رسم بسم اللہ خوانی ہوئی، اس کے بعد ابتدائی تعلیم والد ماجد مفسر اعظم ہند علیہ الرحمۃ المنان سے ہی حاصل کی، بعد ازیں عربی فارسی اور دینیات کی تعلیم یاد گار اعلیٰ حضرت جامعہ رضویہ منظر اسلام سے حاصل کی۔

علی گڑھ روانگی:
دینی تعلیم کے بعد تقریباً 1966ءمیں عصری تعلیم کیلئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تشریف لےگئے۔۲

بیعت و خلافت:
شعور کی منزل پر پہنچ کر تقریباً 1960ء میں سرکار مفتیٔ اعظم عالم اسلام علیہ الرحمۃ الرضوانسے بیعت ہوئے، 1984ء میں اہلِ سلسلہ حضرات کے پُرزَور اصرار پر بیعت و ارشاد کی طرف مائل ہوئے اور حضرت صدر العلماء بدر العرفاء نے سلسلہ رضویہ کے فروغ کیلئے خلافت و اجازت سے نوازا اور تعویذات کی مشق بھی کرائی، علاوہ ازیں علوم دینیات کی تکمیل بھی ان سے ہی کی۔

عقد نکاح:
حضور قمر ملت اعلیٰ حضرت سے نسباً نجیب الطرفین ہیں، ایک تو خود عالم دین بھی ہوئے اور اعلیٰ حضرت سے ایسی قربت، ان دو فضیلتوں کا اجتماع اس بات کا متقاضی تھا کہ حضرت کا ہمسفر اور ہم راز بھی اسی شان کا مالک ہو، چنانچہ یہ تقاضہ بھی پورا ہوا اور حضرت کا نکاح 12 جنوری 1975ءمیں نواسئ حضور مفتی اعظم عالم اسلام سے ہوا، جنہوں نے اپنی پوری زندگی حضرت کے ساتھ نہایت ذمہ داری اور پاسداری سے گزاردی، خود حضرت بھی اس کا اظہار اکثر فرمایا کرتے تھے اس طور پر کہ کوئی بھی کام مثلاً بچوں کی تعلیم و تربیت ، شادی بیاہ اور جملہ خانگی معاملات جو حسن انجام کو پہنچتے اور اس پر کوئی انہیں مبارکباد پیش کرتا تو بطور چاہت و محبت یوں فرماتے کہ ’’یہ سب میری بیوی کی کرامت ہے‘‘، اور کیوں نہ فرماتے کہ یہ وہی نواسی ہیں کہ جنہیں ایک دفعہ حضور مفتی اعظم ہند نے گود میں اٹھا کر فرمایا ’’یہ بہت خوش نصیب بچی ہے‘‘، سونے پہ سہاگہ یہ رہا کہ یہ نکاح خود حضور مفتی اعظم ہند نے پڑھایا۔

اولاد و امجاد:
حضرت کے تین شہزادے اور ایک شہزادی ہے چاروں ہی شادی شدہ ہیں۔

شہزادۂ اکبر:
حضرت مولانا عمر رضا خاں صاحب قبلہ دامت برکاتہم، اردو ادب اور انگلش میں ڈبل MAہیں، حال ہی میں B.Edبھی کیا ہے، علم ریاضی میں ملکہ انہیں موروثی ہے، اس حقیر نے ان سے اس فن کو پڑھا ہے اگر مستقل پڑھتا تو یقینا ماہر ہوجاتا پر عدم معیت کی وجہ عدم مہارت بنی، علاوہ ازیں مُروّجہ درسِ نظامی میں آپ نے مشکوٰۃ المصابیح تک پڑھا ہے جو مدارس میں چھٹے
1
درجے میں پڑھائی جاتی ہے، بقیہ تعلیم وبوجہ علالت رہ گئی لیکن مولانا اسے تکمیل کے مراحل میں لانے کا عزم رکھتے ہیں، دعا ہے کہ مولا تعالیٰ انہیں اس میں کامیابی عطا فرمائے، آپ کے دو شہزادے بنام محمد انور رضا، محمد رضا اور ایک شہزادی بنام رداء فاطمہ ہے۔

شہزادہ متوسط و اصغر:
مولانا عامر رضا خان صاحب اور جناب مولاناعاصم رضا خان صاحب یہ دونوں صاحبزادگان کمپیوٹر فیلڈ میں خاص مہارت رکھتے ہیں، عامر رضا خان صاحب خوش گلو ثناء خواں ہیں آپ کا ایک شہزادہ بنام محمد مصطفی رضا ہے، اور عاصم رضا خان صاحب

قرأت بہت اچھی کرتے ہیں آپ کا نکاح ہو چکا ہے رخصتی عمل میں نہیں آئی ہے۔

دختر نیک اختر:
حضرت کی ایک شہزادی ہے جو چندر پور مہاراشٹر میں سید حمیر حسن صاحب سے منسوب ہے آپ کی دوسری شہزادی بنام صوفیہ ہے۔

رشد و ہدایت و تبلیغی اسفار:
مذہب مہذب اہلسنت و جماعت کی ترویج اور نشر و اشاعت کیلئے آپ نے ملک و بیرون ملک کے سفر 1984ءسے تادم زیست فرمائے، جن میں قابل ذکر عراق، عرب، پاکستان، یوپی، سری لنکا کے علاوہ بہار، بنگال، جھارکھنڈ، آسام، گجرات، راجھستان، مہاراشٹر، ایم پی آندھرا پردیش اور کشمیر وغیرہ صوبائی اور ملکی سطح پر آپ نے بیشمار سفر کرکے سلسلہ رضویہ کو بے پناہ فروغ بخشا۔ آپ اکثر دَورے دیہاتوں اور نواحی بستیوں میں فرماتے تھے، چنانچہ آج آپ کے مریدین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔۲

فضائل و کمالات:
حضرت نہایت ذہین تھے، ذکاوت تو انہیں اپنے جَدِّ اعلیٰ امام اہلسنت﷜ سے ورثے میں ملی تھی، عربی، فارسی، اردو، ہندی اور انگریزی زبانوں کے علاوہ آپ کوسائنس، ریاضی ، علم الاعداد اور تاریخ گوئی وغیرہ علوم پر یدطولی حاصل تھا، حتیٰ کہ حضور تاج الشریعہ سے بھی اگر کسی نے کہا کہ حضور کسی کتاب کا یا ادارے کا تاریخی نام تجویز فرمائیں تو حضرت بھی یہی فرماتے کہ یہ کام قمر میاں سے لو، شمسی تاریخ سے قمری تاریخ بلا تردد نکال دیا کرتے تھے۔۱

اپنے آپ میں ایک فعال اور متحرک تنظیم کی حیثیت رکھتے تھے، ہزاروں غیر مسلم آپ کے نورانی چہرے کو دیکھ کر مسلمان ہوگئے،۲

ایک موقع پر آپ کسی انجان بستی یا گاؤں سے گزر رہے تھے اسی اثناء میں آپ نے گاڑی رکوائی اور فرمایا کہ یہاں کوئی تکلیف زدہ ہے، اور اتر کر خود ہی بغیر کسی رہنمائی کے اس گھر کو پہنچ گئے، اس گھر کے رہائشی بد مذہب تھے ان کا اکلوتا بچہ جو بسببِ عَلالت حالت مرگ کو جا پہنچا تھا، حضرت نے اس پر دم فرمایا وہ اسی وقت ٹھیک ہوگیا، یہ کرامت دیکھ کر سب اسی وقت سُنّی صحیح العقیدہ مسلمان ہوگئے اور حضرت سے بیعت بھی ہوگئے، آپ مُستجابُ الدعوات تھے اور آپ کی دعا نہایت سَریعُ الاثر ہوا کرتی تھی، جس بیمار پر بھی آپ دم فرماتے اگر مشیتِ ایزدی میں اس کی زندگی بصحت و عافیت ہے تو اسی وقت ٹھیک ہوجاتا ، خود اس حقیر کے والدمحترم جو بلڈ پریشر کے شکار تھے ایک دفعہ حضرت نے بذریعہ ٹیلی فون کان میں دعا پڑھی تب سے اب تک بفضلہ تعالیٰ و بحمدہٖ تعالی و بعونہ تعالیٰ بلڈ پریشر کی شکایت نہیں ہوئی، الحمد للہ! خود اس حقیر کے کئی کام انہی کی دعا سے بنے ایسے کام جو بظاہر نا ممکن نظر آتے تھے حضرت کا یہ فرمانا ہوتا تھا کہ ’’ہوجائے گا‘‘ ہو کر ہی رہتا تھا، ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ایک سائل حاضرِ خدمت ہوا اور کہنا ہی چاہتا تھا کہ حضرت نے فوراً فرمایا تیرا یہ مسئلہ ہے اور اس کا حل یہ ہے، اس واقعہ کا یہ حقیر عینی شاہد ہے۔

وصال کی پیشن گوئی:
آپ اپنے وصال کی خبر یں بھی کئی بار دے چکے تھے، مثلاً جب ڈھائی تین سال قبل ہم بریلی شریف میں تھے تو واپسی پر حضرت ہمیں دہلی تک چھوڑنے آئے یہ کہہ کر کہ میں تم لوگوں کو آخری بار چھوڑ آؤں، اور پاکستان میں جب فون پر بات ہوتی تھی تو عاصم رضا خان صاحب کی شادی کے حوالے سے فرماتے تھے کہ اس کی شادی تو تم لوگ کرو گے میں تو نہیں ہونگا، ہم کبھی ان کی بات سمجھ ہی نہ سکے، ایک حافظ صاحب نے حضرت سے مُصَلّیٰ سنانے کے لئے مسجد میں جگہ مانگی حضرت نے انہیں اپنا موبائل نمبر دے دیا اور فرمایا تم بریلی آجانا میرے بچے تمہارا کام کرادیں گے میرے پاس اب وقت نہیں ہے، قبل از وصال جہاں دَور ے پرسے آئے تھے وہاں اپنے مریدین ، معتقدین اور متوسلین کو بھی اس بات سے آگاہ فرما دیا تھا کہ یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔

آپ نہایت شفیق اور مہربان تھے، اپنے مریدین پر بھی اتنے شفیق تھے جیسے کوئی باپ اپنے حقیقی بچوں پر ہوتا ہے، کئی لوگوں کی شادیاں آپ نے اپنے خرچے پر کرائیں، خدمت خلق کو اپنی حیات کا نصب العین بنا لیا تھا، آپ ایک دارالعلوم بھی اپنی جیب خاص سے چلا رہے تھے، آپ نہایت منکسر المزاج اور شہرت سے دور رہنے والے تھے، یہی وجہ ہے کہ آپ کے ان معاملا ت کا علم آپ کے اہل خانہ کو بعد از وصال ہوا، المختصر آپ گوناگوں خوبیوں کے مالک تھے جن کا احاطہ اس مختصر سی تحریر میں ممکن نہیں، چند الفاظ میں آپ ’’اشد اء علی الکفار رحماء بینھم‘‘ اور ’’الحب فی اللہ والبغض فی الله“
1