🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
خلیفۂ حضور مفتئ اعظم ہند ، حضور صدر العلماء ، سید الاتقیاء ، حضرت علامہ و مولانا تحسین رضا خان قادری ( نبیرۂ استاذ زمن علامہ حسن رضا خان قادری برکاتی بریلوی ) علیہم الرحمہ

ولادت:
ماہر علوم عقلیہ نقلیہ حضرت مولانا تحسین رضا خاں قادری رضوی بن حضرت مولانا حسنین رضا بن استاد زمن مولانا حسن رضا بن مولانا مفتی نقی علی خاں (والد ماجد امام احمد رضا بریلوی) کی ولادت ۴ شعبان المعظم ۱۹۳۰ء کومحلہ سوداگران رضا نگر بریلی شریف میں ہوئی ۔

خاندانی حالات:
حضرت علامہ تحسین رضا بریلوی کے ج امجد مولانا حسن رضا بریلوی ۱۳۷۶ھ میں پیدا ہوئے فضل وکمال اور فقر و تصوف کو آپ کے خاندانی خصوصیات میں سمجھنا چاہیے۔ مولانا حسن رضا بریلوی نے اپنے برادر اکبر امام احمد رضا فاضل بریلوی اور پدر بزرگوار مفتی نقی علی خاں علیہ الرحمۃ کے خزائن علم و عقل سے مستفیض تھے ۔ اور جواہر معافی وفضل سے بہرہ ور تھے ۔ علاوہ ازیں بریلی میں اپنے اخی معظم اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کی فیض صحبت سے فیض معنوی حاصل کیا ۔

استاد زمن مولانا حسن رضا کو شعر و شاعری کا شوق ابتداء ہی سے تھا۔ کچھ روز بطور خود مشق کرتے رہے، اس کے بعد مرز داغ دہلوی کو اپنا کلام سُنانا شروع کردیا اور ایک مدت تک رامپور میں رہ کر اُستاد کے گلشن سخن سے گلچیں ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ بجائے خود اُستاد مستند قرار پائے ۔ ۱۳۲۶ھ میں انتقال ہوا [1] ۔

علامہ تحسین رضا کے والد مولانا حسین رضا علیہ الرحمہ حضور مفتی اعظم سے صرف چھ ماہ بڑے تھے ۔ تقریباً اکیانوے برس کی عمر پائی ۔ تعلیم اسلام بریلی میں حاصل کی ۔ اور امام احمد رضا قادری بریلوی سے شرف تلمذ واجازت وخلافت حاصل تھی ۔ نیز معقولات کی کچھ کتابیں رامپور جاکر وہاں کے مشہور عالم مولانا ابو الوقت محمد ہدایت رسول نوری رضوی رام پوری سے پڑھیں، مولانا مفتی ارشاد حسین مجددی رامپوری کے حلقۂ درس میں بھی شامل ہوئے ۔ فراغت کے بعد کچھ عرصہ تک دار العلوم منظر اسلام میں درس بھی دیا ۔ آپ سے اکتساب فیض کرنے والوں میں مشاہیر علما اور فضلاء ہیں [2] ۔

جماعت رضائے مصطفیٰ کی شاندار خدمات میں مولانا حسنین رضا کا نمایاں حصہ ہے آپ نے جماعت انصار الاسلام بھی قائم کی ۔ حضور مفتی اعظم کے دوش بدوش رہ کر شدھی تحریک کا سد باب کیا اور سردھڑ کی بازی لگا دی ۔

تعلیم و تربیت:
حضرت علامہ تحسین رضا خاں کے والد ماجد نے اپنی خسرال محلہ کا نکرٹولہ پرانا شہر بریلی میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ آپ نے اپنی ننہال ہی میں بچپن اور جوانی کا زمانہ گزارا اور اب بھی وہیں قیام پذیر ہیں۔ علامہ تحسین رضا نے ابتداً سید شبیر علی بریلوی مرحوم سے قاعدہ بغدادی پڑھا پھر ایک مکتب میں قرآن کریم اور اردو حساب وغیرہ کی تعلیم حاصل کی۔ فارسی کی ابتدائی کتابیں پرانے شہر کےایک مدرسہ میں پڑھیں جو اکبری مسجد واقع محلہ گھیر جعفر خاں میں قائم تھا۔ عربی کی تعلیم کےلیے والد بزگوار نے دارالعلوم مظہر اسلام بریلی اور بعد منظر اسلام میں داخہ کرادیا، دورۂ حدیث شریف کے لیے والد ماجد کی خواہش کےمطابق علامہ تحسین رضا جامعہ رضویہ مظہریہ اسلام فیصل آباد (پاکستان) تشریف لے گئے۔ اور وہاں دورۂ حدیث کی کتابیں مولانا محمد سردار احمد رضوی علیہ الرحمہ سے پڑھیں۔

فراغت:
حضرت مولانا تحسین رضا خاں شعبان المعظم ۱۳۷۵ھ میں جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد سے سند فراغت حاصل کر کے بریلی شریف واپس ہوئے۔ ۱۹۴۹ء میں مولوی، ۱۹۵۰ء میں عالم، ۱۹۵۱ء میں منشی، ۱۹۵۲ء میں فاضل ادب، ۱۹۵۴ء میں کامل کے امتحانات دیئے ۔

اساتذۂ کرام:
۱۔ صدر الشریعہ مولانا امجد علی رضوی اعظمی [3]
۲۔ حضور مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضانوری بریلوی
۳۔ محدث اعظم پاکستا مولانا محمد سردار احمد رضوی فیصل آباد
۴۔ شمس العلماء مفتی قاضی شمس الدین احمد رضوی جعفری جونپوری
۵۔ شیخ المعقولات مولانا سردار علی خاں رضوی بریلوی
۶۔ حضرت مولانا غلام یٰسین رضوی بریلوی
۷۔ حضرت مولانا مفتی وقار الدین رضوی، دار العلوم امجدیہ کراچی
۸۔ شیخ العلماء مولانا غلام جیلانی رضوی اعظمی

تدریسی زندگی کا آغاز:
حضرت علامہ تحسین رضا نے حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ کے حکم پر فراغت سے قبل ۱۹۵۲ء میں دارالعلوم مظہر اسلام بریلی میں تدریسی سلسلہ کا آغاز کر دیا ۔ پھر اگست ۱۹۵۶ء مین فیصل آبا (پاکستان) چلےگئے اور تقریباً آٹھ ماہ رہکر دورۂ حدیث کی تکمیل کی ۔ فیصل آباد سےآنے کے بعد دار العلوم مظہر اسلام بریلی میں درس دینا شروع کیا۔ علامہ تحسین رضا نے مظہر اسلام میں ۱۹۷۲ء تک درس نظامیہ کی تعلیم دی۔ پھر و سال اسی مظہر اسلام بریلی میں صدر المدرسین کے فرائض انجام دیئے۔

علامہ تحسین رضا بعض حالات کی بناء پر ۱۹۷۵ء میں مظہر اسلام سے ملازمت ترک کرکے دار العلوم منظر اسلام میں بحیثیت صدر مدرس مقرر ہوئے۔ منظر اسلام میں سات سال تدریسی فرائض انجام دیئے ۔ ہزاروں طلبہ نے علمی استفادہ کیا ۔
1
بعض ان میں لائق وفائق عالم وفاضل، محدث وفقیہہ اور مفتی ہوئے جن سے لک و بیرون ملک کی علمی دانش گاہیں اور درس گاہیں آج بھی آباد اور فیض بار ہیں ۔

۱۹۸۲ء میں جامعہ نوریہ رضویہ بریلی کا قیام عمل میں آیا تو اس کے چلانے کی ساری ذمہ داری علامہ تحسین رضا کے سپرد کردی گئی ۔ تادم تحریر جامعہ نوریہ رضویہ بریلی شریف میں شیخ الحدیث کے عہدے پر فائز ہیں۔

حج و زیارت:
حضرت علامہ تحسین رضا رضوی نوری بریلوی ۱۹۸۶ء میں زیارت حرمین شریفین سے مشرف ہوئے ۔

عقد مسنون:
علامہ تحسین رضا کا عقد مسنون جناب سعید اللہ خاں بریلوی کی صاحبزادی سے ۱۵؍ذی قعدہ ۱۳۸۶ھ / ۲۶ فروری ۱۹۶۷ء بروز اتوار ہوا ۔ اولاد امجاد کے نام مندرجہ ذیل ہیں ۔

۱۔ مولانا حسان رضا خاں رضوی
۲۔ رضوان رضا خاں رضوی
۳۔ حبیب رضا خاں رضوی
۴۔ عارفہ بیگم رضویہ

بیعت و خلافت:
مولانا حسنین رضا علیہ الرحمہ نے آپ کو ۱۹۴۳ء میں عرس رضوی کے موقع پر حضور مفتی اعظم کے دستِ حق پرست پر بیعت کرا دیا تھا ۔ ۲۵ صفر المظفر ۱۳۸۰ھ کو جلسہ عام میں مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفی رضا نوری بریلوی نے اجازت و خلافت عطا فرمائی ۔ اسٹیچ پر سید العلماء سید آل مصطفیٰ برکاتی مارہروی، برہان الملت مفتی برہان الحق رضوی جبل پوری اور مجاہد ملت مولانا حبیب الرحمٰن رضوی اڑیسوی وغیرہ اکابر علماء و مشائخ نے خرقہ پوشی کرائی ۔ اور حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ نے عمامہ باندھا ۔

مفتی اعظم کے متعلق:
حضرت مولانا تحسین رضا راقم کے نام ایک مکتوب میں مفتی اعطم الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:

” حضور مفتی اعظم کا زہد و تقویٰ، بزرگانہ شفقت میرے لیے سب سے زیادہ باعث کشش ہوئی ـ “

مفتی اعظم کی بزرگانہ:
علامہ تحسین رضا کے والد ماجد کو خاندان رضا کے افراد ‘‘صاحب’’ کہتے، اسی وجہ سے کبھی کبھی صاحبزادگان بھی صاحب کہتے۔ نیز حضور مفتی اعظم کو بھی صاحب کہتے، آپ تین بھائی ہیں اور سبھی بحمد تعالیٰ اپنے اپنے مقام پر مایۂ ناز افتخار علماء میں سے ہیں۔ مفتی اعظم قدس سرہے فرماتے تھے کہ:

‘‘صاحب کے جتنے لڑکے ہیں سب ہی خوب ہیں ۔ با صلاحیات و بالیاقت ہیں ۔ مگر ان میں تحسین رضا کا جواب نہیں [4] ۔’’

حضرت مولانا حسنین رجا علیہ الرحمہ مفتی اعظم الشاہ مصطفیٰ رضا نوری کا بہت ادب کرتے تھے ۔

نمونۂ کلام:
علامہ تحسین رضا ایک باکمال مفسر، محدث اور کہنہ مشق اُستاد ہونے کے ساتھ ساتھ کہنہ مشق شاعر بھی ہیں۔ آپ تحسین تخلص فرماتے ہیں۔ نمونہ کے طور پر چند اشعار ملاحظہ ہوں ۔

جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
در حقیقت تیرے دیوانوں کا جشن عام ہے

عظمت فرق شہہ کونین کیا جانے کوئی
جس نے چومے پائے اقدس عرش اُس کا نام ہے

آرہے ہیں وہ سر محشر شفاعت کے لیے
اب مجھے معلوم ہے جو کچھ مرا انجام ہے

روئے انور کا تصوف زلفیں مشکیں کا خیال
کیسی پاکیزہ سحر ہے کیا مبارک شام ہے

تو اگر چاہے تو بھر جائیں سیہ کاروں کے دل
ہاتھ میں تیرے عنانِ گردش، ایام ہے

ساقئ کوثر کا نام پاک ہے ورد زباں
کون کہتا ہےکہ تحسینؔ آج تشنہ کام ہے

قطعہ:
علم غیب رسول کے منکر
ایک حقیقت کو بھول جاتے ہیں
غیب مانان کہ راز ہے لیکن
راز اپنے سب کب چھپاتے ہیں

چند تلامذہ:
حضرت مولانا تحسین رضا سے اکتساب فیض کرنے والوں کے چند اسماء مندرجہ ذیل ہیں [5] ۔

۱۔ ملک اللہ ریس مولانا محمد انور علی رضوی بہرائچی شیخ الادب دارالعلوم منظر اسلام بریلی
۲۔ مولانا مفتی محمد مطیع الرحمٰن رضوی مدیر عام الادارۃ الحنفیہ کشن گنج بہار
۳۔ مولانا صغیر احمد رضوی جوکھن پوری ناظم اعلیٰ الجامعۃ القادریہ رچھابہیڑی
۴۔ مولانا محمد حنیف خاں رضوی مدیر ماہنامہ رضائےمصطفیٰ بہڑی
۵۔ مولانا تطہیر احمد رضوی مدرس الجامعۃ القادریہ بہیڑی
۶۔ مولانا محمد ہاشم نعیمی مدرس جامعہ نعیمیہ
۷۔ مولانا محمد حسین رضوی ابو الحقانی بہاری
۸۔ مولانا عبدالرشید رضوی ابو الحقانی بہاری
۹۔ مولانا جید القادری مظفر پوری
۱۰۔ مولانا سعید اختر نعیمی بھوجپور مراد آباد
۱۱۔ مولانا ایوب عالم مظہری پور نوی
۱۲۔ مولانا امام الدین دیوریاوی
۱۳۔ مولانا امام الدین دیوریاوی
۱۴۔ مولانا ایوب عالم رضوی پور نوی مدرس منظر اسلام
۱۵۔ مولانا شرف عالم رضوی سیتا مڑھی۔۔۔ بہار
۱۶۔ مولانامحمد یامین مراد آبادی مدرس جامعہ حمیدیہ بنارس

حواشی:
[1] ۔ اردوئے معلی علی گڑھ، بابت جون ۱۹۱۴ء، مضمون مولانا حسرت موہانی
[2] ۔ حسین رضا بریلوی، مولانا: سیر اعلیٰ حضرت ص ۱۹، ۲۰، بحوالہ ماہنامہ اشرفیہ مبارکپور ص ۴۰تا ۴۲ ملخصاً بابت اپریل ۱۹۸۱ء ، مضمون از مولانا سبطین رضا خاں قادری بریلوی مدظلہٗ
[3] ۔ حضرت علامہ تحسین رضا بریلوی نے صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ سے تفسیر جلالین پڑھی، ۱۲رضوی غفرلہٗ
[4] ۔ حضرت مولانا تحسین رضا بریلوی سے راقم کی گفتگو ۱۲رضوی غفرلہٗ
[5] ۔ مکتوب حضرت مولانا تحسین رضا بریلوی بنام راقم ۱۲غفرلہٗ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-tehseen-raza-khan
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
حضرت علامہ سید امیر اجمیری خوشاب سرگودھا علیہ الرحمہ

علوی النسب آبائی گاؤں چیٹرہ شریف تحصیل خوشابہ ضلع سرگودھا میں آپ کی ولادت ہوئی،علامہ جمال الدین گھوٹوی سے صرف ونحو پڑھی،انہوں نے آپ کو امام النحو کا خطاب مرحمت فرمایا۔

چند دنوں لاہور میں ایک نابینا عالم سے تحصیل علم کیا،انہیں کے مشورے سے دار الخیر اجمیر شریف حاضر ہوئے اور درگاہ شریف کے مدرسہ سے سند فراغت حاصل کی،بعدہٗ وہیں مدرس ہوگئے۔

3سال اولیاء مسجد کے حجرہ میں معتکف رہ کر عبادت وریاضت کی، تقسیم ہندوستان کے بعد حج کے لیے گئے،اس کے بعد اپنے آبائی گاؤں میں مقیم ہوگئے، پیکر علم و فضل،زبدۃ الحکماء حکیم محمد موسیٰ امر تسری لاہوری نے آپ کی ایک خصوصیت کا ذکر کیا ہے کہ مولانا اجمیری جنوری 1962ء میں بعارضۂ فالج مریض ہوگئے،نومبر 1962ءمیں مولانا لاہور تشریف لائے اور میرے مطب میں وارد ہوئے،میں نے انہیں بغور دیکھا،مگر بظاہر وہ اچھے بھلے تھے،فالج کا کوئی اثر نہ تھا،مولانا مجھ سے اشاروں میں باتیں کرنے لگے،مگر میری سمجھ میں نہ آیا،بولنے کی کوشش کی تو ایک لفظ بھی صحیح ادا نہ ہوا،قلم کاغذ پیش کیا جو کہنا چاہتے ہیں لکھ دیں،گرفت کے باوجود کچھ نہ لکھ سکے، اس کے بعد میں نے عرض کیا، حضرت کوئی لفظ زبان سے ادا بھی ہوتا ہے یانہیں؟ اس کے جواب میں آپ نے با آواز بلند قُرّاء کی مانند پڑھا الصَّلوٰۃ وَلسّلام علیک یا رسول اللہ علیک یا حبیب اللہ پھر درود شریف پڑھا، خفیفی سی بھی لکنت تھی،یہ کیفیت آپ پر آخری دم تک طاری رہی، یہاں تک کہ بوقت سہ پہر بروز چہار شنبہ چہارم شعبان المعطم 1390ھ مطابق 6؍اکتوبر 1970ء کو اپنے وطن میں فوت ہوئے، حکیم محمد موسیٰ مدظلہٗ نے ‘‘شمع ہدیٰ خموش ہے’’ ہجری تاریخ نکالی، احقر مولف کے استاذ علامہ امام غلام جیلانی میرٹھی شارح بخاری نے حاشیہ عبد الغفور اور اس کا تکملہ آپ سے اجمیر شریف میں پڑھا۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-ameer-ajmeri-khoshab-sargodha
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
حضرت شیخ ابو سعید بن ابوالخیر فضل اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ


آپ کا اسم گرامی فضل اللہ تھا اور خراسان کے رہنے والے تھے آپ مقتدائے اہل طریقت اور پیشوائے اہل حقیقت تھے صاحب علوم ظاہر و باطن اور مشرف القلوب تھے دنیا آپ کی گفتگو سے مسخر ہوجاتی تھی حضرت شیخ ابوالفضل بن حسن سرخسی﷫ تھے چند واسطوں سے سیّد الطائفہ جنید بغدادی کے مرید تھے آپ شیخ ابوالفضل حسن اور وہ ابوالنصر سراج اور وہ ابو محمد مرتعش اور وہ حضرت جنید بغدادی کے مرید تھے شیخ ابوالفضل کی وفات کے بعد آپ نے شیخ عبدالرحمٰن سلمی﷫ سے فرقہِ خلافت حاصل کیا اور بعض مشکلات کے حل کے لیے ایک سال تک شیخ ابوالعباس کی صحبت میں رہے۔

کہتے ہیں ایک رات شیخ ابوالعباس اپنے صومعہ سے باہر نکلے آپ نے کسی وقت فصد کرایا تھا اتفاقاً زخم کھل گیا اور خون جاری ہوگیا حضرت ابوسعید کو خبر ہوئی تو آپ کے پاس پہنچے اور زخم دھو کر دوبارہ باندھ دیا اور شیخ کے خون آلودہ کپڑے اتار دئیے اور انہیں دھو کر حضرت کی خدمت میں پیش کیے حضرت شیخ نے فرمایا کہ ان کپڑوں کو میرے سامنے خود پہن لو آپ نے حسب الحکم حضرت شیخ کا لباس پہن لیا یہ کپڑے پہنتے ہی آپ کی قلبی مشکلات دور ہوگئیں اور مراتب میں عروج حاصل ہوا علی الصباح احباب مجلس نے آپ کو لباس شیخ میں دیکھا تو بڑے متعجب ہوئے حضرت شیخ نے فرمایا رات ایک کیفیت طاری ہوئی تھی ابوسعید اپنا نصیب اور حصہ لے گئے۔

ایک دن آپ کے پاس دو شخص آئے آپ کے پاس بیٹھ گئے اور باتیں کرنے لگے اور کہنے لگے حضرت ہمیں ایک مسئلہ میں راہنمائی فرمائیں ایک نے کہا ازل وَابد کا اندوہ ہی تمام ہے دوسرے نے کہا ازل و ابد کی خوشی ہی سب کچھ ہے آپ کا کیا خیال ہے آپ نے فرمایا۔ قصاب کے بیٹے کا گھر اندوہ سے پُر ہے اور خوشی وہاں نہیں آتی۔ لَیسُ عِند رَبْکَمُ صَباحٌ ومسَاع تمہارے اللہ کے نزدیک نہ صبح ہے نہ شام جب یہ دونوں حضرات چلے گئے تو لوگوں نے آپ سے پوچھا حضرت یہ کون تھے آپ نے فرمایا ایک تو حضرت ابوالحسن خرقانی تھے اور دوسرے اَبُو عبداللہ داستانی تھے﷫۔

حضرت شیخ ابو سعید ابوالخیر نے علوم تصوّف میں بہت سے اشعار کہے ہیں۔ ایک رباعی میں فرماتے ہیں۔

چشم ہمہ اَشک شدہ چو از غم بگر یست
ازمن اثرے نماند این عشق ازچیست

در عشق تو بے چشم ہمی باید زیست
چوں من ہمہ معشوق شدم عاشق کیست

رغم دوست میں میری آنکھیں رُو رُو کر آنسو بن گئی ہیں تیرے عشق میں تو بے چشم ہی جیا جاسکتا ہے یہ عشق کیا ہے؟ مجھ سے تو کچھ اثر نہیں رہا چونکہ میں تمام تر معشوق ہوچکا ہوں آخر عاشق کون ہے؟

بزرگانِ دین نے ایک رباعی ایسی یاد کی ہے جو حضرت کے منہ سے نکلی اور پھر اسے لوگ بخار کی حالت میں مریض کے گلے میں باندھ دیتے ہیں۔ جس سے شفا ہوجاتی ہے وہ رباعی یوں ہے۔

اے درصفتِ ذات تو حیران کہہ دمہ
علّت توستانی وشفاء ہم تو دہی

و ز جملہ جہاں خدمت درگاہ توبہ
یارب توبہ فضل خویش بستاں دبدہ

اے ذات اقدس تیری صفتِ ذات میں چھوٹے بڑے سب حیران ہیں تمام جہاں سے تیرے ہی دروازے کی خدمت بہتر ہے تو ہی بیماری دیتا ہے اور توہی شفا بخشتا ہے، اے اللہ! تو اپنے فضل و کرم سے لے اور عطاکر۔

ایک شخص نے حضرت ابو سعید کو بتایا کہ فلاں ولی اللہ تو پانی پر چلنا جانتا ہے آپ نے فرمایا یہ بڑا آسان کام ہے ہمارے ہاں تو مینڈک بھی پانی میں تیرتے پھیرتے ہیں پھر اس نے کہا ’’فلاں ولی اللہ ہوا میں اڑتے ہیں‘‘ آپ نے فرمایا ’’یہ بھی آسان کام ہے زاغ و زغن ہوا میں اڑتے پھرتے ہیں‘‘ اس نے کہا کہ ’’فلاں ولی اللہ ایک قدم ایک شہر میں اور دوسرا قدم دوسرے شہر تک اٹھاتا ہے‘‘ آپ نے فرمایا ’’یہ کمال تو شیطان میں بھی پایا جاتا ہے‘‘ آپ نے فرمایا ’’ان چیزوں کی بارگاہ الٰہی میں کوئی عزت و منزلت نہیں ہے اصل مقام عظمت یہ ہے کہ وہ خلق خدا میں رہے امور دنیا میں حصہ لے زن و فرزند میں زندگی گزارے مخلوق خدا سے ملے جلے مگر ایک لحظہ کے لیے یاد خداوندی سے غافل نہ رہے اور ذکر خداوندی کو فراموش نہ کرے۔‘‘

شیخ ابو سعید﷫ کی تاریخ ولادت بروز اتوار یکم ماہ محرم ۳۵۷ھ ہے مگر تاریخ وفات بروز جمعہ چہارم ماہ شعبان ۴۰۴ھ ہے آپ نے وصیّت فرمائی تھی کہ یہ رباعی آپ کے جنازے کے ساتھ بآوازبلند پڑھی جائے۔

خوبتر حپسیت زین بعالَم کار
باشد اندوہ او سراپا فرح

دوست با دوست رفت یار بیار
گررَود نزد دوست عاشق زار

آپ کی تاریخ وفات ان اشعار سے بھی برآمد ہوتی ہے۔

بو سعید آں خیر دین فضل جہاں
سالک معصوم شد تولید او
۳۵۷ھ

بہر عالم در دوعالم مقتدا
رحلتش آمد سعید راہنما
۴۴۰ھ

سعید راہنما
سعید نامدار
محرم بوسعید
سلطان سعید
۴۴۰ھ

ولی زمان بوسعید
۴۴۰ھ

(خزینۃ الاصفیاء)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abu-saeed-fazlullah
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
حضرت مولانا حکیم عبد الماجد بدایونی رحمۃ اللہ علیہ

مولانا شاہ عبد الماجد قادری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ کی کیف بار اور ولولہ انگیز خوش خطابت سے معمور تقریری و موعظہ کی یاد دلوں میں اب بھی باقی ہے ـ

آپ بدایوں کے مشہور عثمانی خاندان کے گوہر شب چراغ تھے ـ

ولادت:
4؍ شعبان المکرم 1204ھ میں ولادت ہوئی، تاج الفحول مولانا شاہ محب رسول عبد القادر بدایونی قدس سرہٗ کے زیر سایہ تربیت اور پرورش پائی ـ

تعلیم:
حضرت مولانا الحاج شاہ عبدالمجید قادری مقتدری اور مولانا مفتی محمدی ابراہیم قادری بدایونی سے ابتدائی درسیات پڑھیں، اور شاہ محب احمد بدایونی قدس سرہٗ سے درس نظامی پڑھ کر 1320ھ میں سندِ فراغت حاصل کی 1321،22ھ میں دہلی میں قیام کر کے حکیم اجمل خاں دہلوی نے دستخط کر کے مہر لگائی ـ

تقاریر و مناظرہ:
دھلی کی اقامت کے دوران زینت محل وغیرہ میں آپ کی تقریریں ہوئیں، یہاں عیسائیوں آریوں، غیر مقلدوں اور قادیانیوں سے آپ کے مناظرے ہوئے ـ

دہلی سے واپس آکر والد بزرگوار کے قائم کردہ جامعہ شمسیہ کی ترقی کی اسکیم بنائی، چندہ کی فراہمی کے لیے اسفار کیے، نواب مزمل اللہ خاں رئیس بھیکم پور علی گڑھ، نواب سر حافظ احمد سعید خاں نواب چھتاری نے چندہ میں کافی رقم دی، اہلیان بمبئی و حیدر آباد نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، مسٹر نگرام کلکڑ بدایوں اور مسٹر لارڈ مسٹن گورنر مسٹن گورنر صوبہ یوپی نے وسط شہر میں خوش نما قطعہ آراضی مع عمارت دوامی پٹہ پر مدرسہ کے لیے دینا منظور کیا، مولوی ظہور حسین صاحب (ٹونک والا) نے علوہتمی سے شمس العلوم کا سری بقلک مینارہ اور دروازہ تعمیر کرایا، کتب خانہ کی خوشنما عمارت تیار ہوئی، دار الحدیث عثمانیہ کا نقشہ و تخمینہ تیار کر کے شاہ دکن کی خدمت میں پیش کر دیا گیا ـ

افسوس ہے کہ اسی زمانہ مسجد مچھلی بازار کان پور کا حادثہ اور خلافت کا مسئلہ پیش آ گیا اور مولانا عبد الماجد کی توجہ مدرسہ کی تعمیر و ترقی کی طرف سے ہٹ کر ملکی معاملات کی طرف مبذول ہو گئی ورنہ یہ مدرسہ باعتبار وسعت و عمدگی تعلیم ہند و پاک میں معیاری اور سب سے بڑا جامعہ ہوتا، مدرسہ کو ریاست رام پور سے مستقل ماہانہ امداد ملتی تھی ۔

مولانا کی ملکی و قومی خدمات تادیر دلوں کو رُلائےگی، مولانا شاہ محمد عبد الباری فرنگی محلی نے حفاظت کعبہ کے لیے جب ‘‘خدام کعبہ’’ کے نام سے مجلس قائم کی تو سب سے پہلے بدایوں حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر کی خدمت میں پہنچے اور تعاون و ہمدردی کی درخواست کی، مولانا عبد الماجد بحکم پیر و مرشد خُدام کعبہ کی خدمت پر مامور ہوئے۔

1919،22ھ میں لالہ لاج پت رائے اور شردھا نند کی کوششوں سے ملکانوں کی ارتداد کی مہم شروع ہوئی تو دیگر علمائے اہل سنت کے ساتھ آپ نے بھی رمضان المبارک میں جبکہ گرمی شباب پر ہوتی ملکانوں کو ارتداد سے بچانے کے لیے پیدل سفر کیے، عمر کا بیشتر حصہ سفر میں گذرا،

پیر ومرشد حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر بدایونی قدس سرہٗ کی معیت و ہمرکابی میں بغداد مقدس کا سفر کیا وفد خلافت کے ساتھ حجاز مقدس حاضر ہوئے، خلافت و کانگریس کے وفد میں موتی لعل نہر، حکیم اجمل خاں مولانا محمد علی جوہر اور مسٹر گاندھی کے ساتھ پورے ہندوستان کا دورہ کیا، آپ کے وعظ کا عجب حال تھا، نہایت ہی کیف بار اور وجد آگیں تقریر کرتے تھے، جوش تقریر میں عمامہ سر سے اُتر جاتا تھا ـ

کان پور کے پیرڈ میدان کے رحبی شریف کے جلسہ کا آپ ہی کے ہاتھوں قیام ہوا، جہاں بھی ہوتے اس جلسہ میں ضرور تشریف لاتے، مولانا کے مواعظ کا ابتدائی دور تھا، کہ مراد آباد میں حضرت صدر الافاضل بریلوی اور مولوی تھانوی کے درمیان مباحثہ تصفیہ کے لیے طے پایا، فاضل بریلوی نے حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر بدایونی رحمۃ اللہ علیہ نے شوکت مذہب اہلسنت کے لیے شرکت کی درخواست کی حضرت نے آپ کو اور حضرت مولانا شاہ محب احمد قدس سرہٗ کو شرکت کے لیے بھیجا، وہاں بڑے بڑے علمائے اہل سنت تشریف فرما تھے ـ

دس 10 بجے دن میں مولانا سید محمد فاخر کی تقریر کے بعد مولانا عبد الماجد صاحب کا وعظ شروع ہوا، پہلے دیر تک منبر پر دو زانو بیٹھ کر دعا مانگی پھر کھڑے ہو کر آہستہ آہستہ خطبہ شروع کیا، مجمع سے آواز بلند کرنے کی درخواست ہوئی، ابھی دو چار ہی جملے کہے تھے کہ بحر فصاحت موج آفریں ہوا، طبیعت روانی پر مائل ہوئی، جوش خطابت میں عبا کے دامن لہرانے لگے، تھوڑی دیر میں عمامہ کے بل کھل گئے، اتنا مؤثر اور دل نشین وعظ تھا، کہ ہر طرف سے مرحبا صل علی ، جزاک اللہ کی صدا آ رہی تھی، کوئی بے خودی میں اشک بار تھا، کسی طرف سے آہ و بکا کا شور تھا، مسئلہ علم غیب پر کلمہ الہی اور حدیث رسالت پناہی کے دلائل کے انبار پیش کرتے جا رہے تھے مجمع بے خود دو ساکت تھا، کہ مولانا نے ایک بجے دھوپ کی تمازت اور پسینے سے شرا بور ہونے کی وجہ سے دعا پر تقریر ختم کی، مجمع کے اصرار پر ظہر بعد پھر چار گھنٹہ تک تقریر فرمائی
1
ـ1931ء میں بمقام لکھنؤ مسلم کانفرنس کا جلسہ تھا، اس میں شرکت کے لیے لکھنؤ گئے، راجہ صاحب سلیم پور کے مہمان ہوئے، نو 9 بجے شب رخصت ہوتے ہوئے مولانا حسرت موہانی مرحوم سے فرمایا ‘‘خدا حافظ’’

پھر اپنے ایک مُرید مولوی محمد نذیر صاحب کے یہاں جو صدر میں رہتے تھے اُن کے یہاں گئے، گیارہ بجے نماز عشاء پڑھی، اور دیر تک تلاوت قرآن پاک کی، اور اوراد و وظائف سے فارغ ہو کر فرزند ارجمند حضرت مولانا عبد الواحد صاحب سے فرمایا، تم تنہا ہو گھبرانا نہیں، یہ کہہ کر سینے سے لگایاا ور فرمایا، آج روح بے چین ہے، دست و قے بار بار ہو رہا ہے، تازہ وضو کرا دو، نقاہت و ناتوانی بے حد فزوں تھی، مولانا عبد الواحد صاحب کے کاندھے پر سر رکھ دیا اور یا غفور یا رحمان کہتے ہوئے ـ

تاریخِ وصال:
دو شنبہ کی رات میں 3 بجے 3؍ شعبان المعظم 1350ھ موافق 14؍دسمبر 1931ء کو واصل بحق ہوئے ـ

اور اس طرح عمر بھر کی بیقراری کو قرار آگیا، نو 9 بجے دن میں نعش بذریعہ موٹر روانہ ہو کر 5 بجے شام بدایونی پہنچی 9؍ بجے شب میں اسی جگہ پر غسل دیا گیا جہاں آپ کے مرشدان عظام کا غسل میت ہوتا تھا، ایک بجے شب میں مولانا قطب الدین عبد الوالی فرنگی محلی کے اصرار پر آخری زیارت کرائی ، صبح کے وقت جنازہ نانخانہ میں پہنچایا گیا توچند قطرے خون کے ناک سے جاری ہوئے، درگاہ قادری کی حاضری کے وقت تک بوقت رونمائی ناک سے تازہ خون اُپھن اُپھن کر بہہ رہا تھا، یہ مولانا کی اس دعا کا اثر تھا جو آپ اپنے والد ماجد کی طرح شہادت کی محافل میں شہید ہونے کے لیے مانگا کرتے تھے ۔

نمازِ جنازہ:
دس بجے دن میں عید گاہ شمسی میں حضرت شیخ الاسلام مولانا شاہ عبد القدیر بد ایونی کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا ہوئی،

مدفن:
درگاہ قادری میں اپنے مرشد حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر قدس سرہٗ کے پائیں دفن کیے گئے، شکیل بد ایونی مرحوم کے والد ماجد مولانا جمیل احمد سوختہ مرحوم نے قطعۂ تاریخ وفات کہا ؎

شیخ کل حضرت عبد الماجد
مقتدر عالم دیں، نیک مزاج

یک بیک ہوگئے واصل بخدا
ہوگئی علم کی دنیا تاراج

رہبر دین، شہ دیں تھے حضور
آپ تھے ملت حق کے سرتاج

کہیئے یہ آپ کی تاریخ جمیل
’’ گل ہوا ہائے چراغ دین ‘‘ آج

(حیات طیّبہ، اکمل التاریخ، معارف، صدق جدید)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-abdul-majid-badayuni
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-08-1445 ᴴ | 14-02-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-08-1445 ᴴ | 15-02-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1