🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#فیضان_امام_اعظم_ابو_حنیفہ ⓫ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہٗ🌹 ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یوم ولادت: ۷۰ھ❤️ عمر ⁸⁰ سال یو وصال: 2 شعبان المعظم ۱۵۰ھ امام اعظم کا مختصر تعارف 📜 تعدادِ اساتذہ ⁴,⁰⁰⁰ | شاگِرد ¹⁰,⁰⁰⁰
#فیضان_امام_اعظم_ابو_حنیفہ ⓬
امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہٗ🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت: ۷۰ھ❤️ عمر ⁸⁰ سال
یو وصال: 2 شعبان المعظم ۱۵۰ھ
امام اعظم کا مختصر تعارف 📜
تعدادِ اساتذہ ⁴,⁰⁰⁰ | شاگِرد ¹⁰,⁰⁰⁰
امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہٗ🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت: ۷۰ھ❤️ عمر ⁸⁰ سال
یو وصال: 2 شعبان المعظم ۱۵۰ھ
امام اعظم کا مختصر تعارف 📜
تعدادِ اساتذہ ⁴,⁰⁰⁰ | شاگِرد ¹⁰,⁰⁰⁰
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#فیضان_امام_اعظم_ابو_حنیفہ ⓬ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہٗ🌹 ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یوم ولادت: ۷۰ھ❤️ عمر ⁸⁰ سال یو وصال: 2 شعبان المعظم ۱۵۰ھ امام اعظم کا مختصر تعارف 📜 تعدادِ اساتذہ ⁴,⁰⁰⁰ | شاگِرد ¹⁰,⁰⁰⁰
#فیضان_امام_اعظم_ابو_حنیفہ ⓭
امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہٗ🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت: ۷۰ھ❤️ عمر ⁸⁰ سال
یو وصال: 2 شعبان المعظم ۱۵۰ھ
امام اعظم کا مختصر تعارف 📜
تعدادِ اساتذہ ⁴,⁰⁰⁰ | شاگِرد ¹⁰,⁰⁰⁰
امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہٗ🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت: ۷۰ھ❤️ عمر ⁸⁰ سال
یو وصال: 2 شعبان المعظم ۱۵۰ھ
امام اعظم کا مختصر تعارف 📜
تعدادِ اساتذہ ⁴,⁰⁰⁰ | شاگِرد ¹⁰,⁰⁰⁰
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت مولانا منظور احمد دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
فاضل جلیل حضرت مولانا محمد منطور احمد بن حضرت مفتی اعظم شاہ محمد مظہر اللہ قدس سرہ العزیز امام شاہی مسجد جامع دہلی فتح پوری تقرباً ۱۳۴۶ھ؍۱۹۲۷ء میں دہلی میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم:
ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاسل کی، ۱۹۳۹ء میں مدرسہ عالیہ جامع فتح پوری (دہلی) میں داخل ہو گئے ۔ بڑے ذہین اور طباع تھے، ہمیشہ اپنی جماعت میں اول رہے ۱۹۴۶ء میں دورۂ حدیث کی تکمیل کی اور پورے جامعہ میں اول آئے ـ
مولانا کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا، خطابت کی دل نشینی کا یہ عالم تھا کہ ان کا وعظ ہر خاص و عام کا دل موہ لیتا تھا، شیدید علالت کے دوران بھی نماز کو ترک نہیں کیا ۔
والد ماجد کی عقیدت و محبت اور اور ان کے پاس کاطر کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ حالت مرض میں ہایت نحیف ہونے کے باوجود انہیں اپنی صحت و عافتی ہی کی اطلاع دیتے رہے تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو ۔
آپ نے علم توقیت والد ماجد سے حاصل کیا تھا، انہیں اس فن میں کامل عبور حاصل تھا، آپ نے کراچی کے لئے دائمی تقویم مرتب کی جس میں پانچوں نمازوں کے اوقات اور طلوع و غروب آفتاب کے وقت کا بیان کیا، یہ دائمی تقویم آپ کے برادر گرامی مکرمی ڈاکٹر محمد مسعود احمد مد ظلہ مؤلف فاضل بریلوی قدس اور ترک مولالات کی ترتیبِ نو سے ۱۹۶۷ء میں کوئٹہ سے شائع ہو چکی ہے ۔
حضرت مولانا 1947ء کے اواخر میں پاکستان تشریف لے آئے لیکن کچھ عرسہ تک صحت خراب ہو گئی اس لئے بہاول پور سے حیدر آباد تشریف لے گئے، مرض کی مدت اس قدر بڑی کہ ڈاکٹر مایوس ہو گیا مگر قدرت نے صحت عطا فرمادی، ابھی چند دن ہی گزرے تیکہ بیماری پھر عود کر آئی اور تپ دق کا عارضہ لاحق ہو گیا ۔ مولانا نے تمام تکالیف کو کمال استقامت سے برداشت کیا ۔
آخر کار ۳ شعبان 1369ھ / مطابق یکم جون 1949ء بروز چہار شنبہ آپ نے داعئ اجل کو لبیک کہا حضرت بے خود دہلوی کے شاگرد یکتا دہلوی نے قطعۂ تاریخ وفات کہا جس کا تاریخی شعر درج ذیل ہے ؎
ملا کر الف یکتا اللہ کا لکھ
’’ خدا کا ہے محبوب منظور احمد ‘‘
جب آپ کے انتقال کی خبر آپ کے استاد مولانا ولایت احمد کو پہنچی تو انہوںنے با چشم پر نم فرمایا:
’’ اگر ان کی حیات ہوتی تو اپنے زمانہ کے شاہ ولی اللہ ہوتے ۔ ‘‘
مولانا مرحوم کا مزار حیدر آباد کے مشرقی جانب نہر پھیلی کے کنارے واقع ہے [1]
[1] ڈاکٹر محمد مسعود احمد ، مقدمہ دائمی تقویم، مطبوعہ گلڈ انجم کتاب گھر، کراچی، ص:۳۔۱۵
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-manzoor-ahmad-dehlvi
ولادت:
فاضل جلیل حضرت مولانا محمد منطور احمد بن حضرت مفتی اعظم شاہ محمد مظہر اللہ قدس سرہ العزیز امام شاہی مسجد جامع دہلی فتح پوری تقرباً ۱۳۴۶ھ؍۱۹۲۷ء میں دہلی میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم:
ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاسل کی، ۱۹۳۹ء میں مدرسہ عالیہ جامع فتح پوری (دہلی) میں داخل ہو گئے ۔ بڑے ذہین اور طباع تھے، ہمیشہ اپنی جماعت میں اول رہے ۱۹۴۶ء میں دورۂ حدیث کی تکمیل کی اور پورے جامعہ میں اول آئے ـ
مولانا کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا، خطابت کی دل نشینی کا یہ عالم تھا کہ ان کا وعظ ہر خاص و عام کا دل موہ لیتا تھا، شیدید علالت کے دوران بھی نماز کو ترک نہیں کیا ۔
والد ماجد کی عقیدت و محبت اور اور ان کے پاس کاطر کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ حالت مرض میں ہایت نحیف ہونے کے باوجود انہیں اپنی صحت و عافتی ہی کی اطلاع دیتے رہے تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو ۔
آپ نے علم توقیت والد ماجد سے حاصل کیا تھا، انہیں اس فن میں کامل عبور حاصل تھا، آپ نے کراچی کے لئے دائمی تقویم مرتب کی جس میں پانچوں نمازوں کے اوقات اور طلوع و غروب آفتاب کے وقت کا بیان کیا، یہ دائمی تقویم آپ کے برادر گرامی مکرمی ڈاکٹر محمد مسعود احمد مد ظلہ مؤلف فاضل بریلوی قدس اور ترک مولالات کی ترتیبِ نو سے ۱۹۶۷ء میں کوئٹہ سے شائع ہو چکی ہے ۔
حضرت مولانا 1947ء کے اواخر میں پاکستان تشریف لے آئے لیکن کچھ عرسہ تک صحت خراب ہو گئی اس لئے بہاول پور سے حیدر آباد تشریف لے گئے، مرض کی مدت اس قدر بڑی کہ ڈاکٹر مایوس ہو گیا مگر قدرت نے صحت عطا فرمادی، ابھی چند دن ہی گزرے تیکہ بیماری پھر عود کر آئی اور تپ دق کا عارضہ لاحق ہو گیا ۔ مولانا نے تمام تکالیف کو کمال استقامت سے برداشت کیا ۔
آخر کار ۳ شعبان 1369ھ / مطابق یکم جون 1949ء بروز چہار شنبہ آپ نے داعئ اجل کو لبیک کہا حضرت بے خود دہلوی کے شاگرد یکتا دہلوی نے قطعۂ تاریخ وفات کہا جس کا تاریخی شعر درج ذیل ہے ؎
ملا کر الف یکتا اللہ کا لکھ
’’ خدا کا ہے محبوب منظور احمد ‘‘
جب آپ کے انتقال کی خبر آپ کے استاد مولانا ولایت احمد کو پہنچی تو انہوںنے با چشم پر نم فرمایا:
’’ اگر ان کی حیات ہوتی تو اپنے زمانہ کے شاہ ولی اللہ ہوتے ۔ ‘‘
مولانا مرحوم کا مزار حیدر آباد کے مشرقی جانب نہر پھیلی کے کنارے واقع ہے [1]
[1] ڈاکٹر محمد مسعود احمد ، مقدمہ دائمی تقویم، مطبوعہ گلڈ انجم کتاب گھر، کراچی، ص:۳۔۱۵
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-manzoor-ahmad-dehlvi
❤1
حضرت مولانا حکیم عبد الماجد بدایونی رحمۃ اللہ علیہ
مولانا شاہ عبد الماجد قادری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ کی کیف بار اور ولولہ انگیز خوش خطابت سے معمور تقریری و موعظہ کی یاد دلوں میں اب بھی باقی ہے ـ
آپ بدایوں کے مشہور عثمانی خاندان کے گوہر شب چراغ تھے ـ
ولادت:
4؍ شعبان المکرم 1204ھ میں ولادت ہوئی، تاج الفحول مولانا شاہ محب رسول عبد القادر بدایونی قدس سرہٗ کے زیر سایہ تربیت اور پرورش پائی ـ
تعلیم:
حضرت مولانا الحاج شاہ عبدالمجید قادری مقتدری اور مولانا مفتی محمدی ابراہیم قادری بدایونی سے ابتدائی درسیات پڑھیں، اور شاہ محب احمد بدایونی قدس سرہٗ سے درس نظامی پڑھ کر 1320ھ میں سندِ فراغت حاصل کی 1321،22ھ میں دہلی میں قیام کر کے حکیم اجمل خاں دہلوی نے دستخط کر کے مہر لگائی ـ
تقاریر و مناظرہ:
دھلی کی اقامت کے دوران زینت محل وغیرہ میں آپ کی تقریریں ہوئیں، یہاں عیسائیوں آریوں، غیر مقلدوں اور قادیانیوں سے آپ کے مناظرے ہوئے ـ
دہلی سے واپس آکر والد بزرگوار کے قائم کردہ جامعہ شمسیہ کی ترقی کی اسکیم بنائی، چندہ کی فراہمی کے لیے اسفار کیے، نواب مزمل اللہ خاں رئیس بھیکم پور علی گڑھ، نواب سر حافظ احمد سعید خاں نواب چھتاری نے چندہ میں کافی رقم دی، اہلیان بمبئی و حیدر آباد نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، مسٹر نگرام کلکڑ بدایوں اور مسٹر لارڈ مسٹن گورنر مسٹن گورنر صوبہ یوپی نے وسط شہر میں خوش نما قطعہ آراضی مع عمارت دوامی پٹہ پر مدرسہ کے لیے دینا منظور کیا، مولوی ظہور حسین صاحب (ٹونک والا) نے علوہتمی سے شمس العلوم کا سری بقلک مینارہ اور دروازہ تعمیر کرایا، کتب خانہ کی خوشنما عمارت تیار ہوئی، دار الحدیث عثمانیہ کا نقشہ و تخمینہ تیار کر کے شاہ دکن کی خدمت میں پیش کر دیا گیا ـ
افسوس ہے کہ اسی زمانہ مسجد مچھلی بازار کان پور کا حادثہ اور خلافت کا مسئلہ پیش آ گیا اور مولانا عبد الماجد کی توجہ مدرسہ کی تعمیر و ترقی کی طرف سے ہٹ کر ملکی معاملات کی طرف مبذول ہو گئی ورنہ یہ مدرسہ باعتبار وسعت و عمدگی تعلیم ہند و پاک میں معیاری اور سب سے بڑا جامعہ ہوتا، مدرسہ کو ریاست رام پور سے مستقل ماہانہ امداد ملتی تھی ۔
مولانا کی ملکی و قومی خدمات تادیر دلوں کو رُلائےگی، مولانا شاہ محمد عبد الباری فرنگی محلی نے حفاظت کعبہ کے لیے جب ‘‘خدام کعبہ’’ کے نام سے مجلس قائم کی تو سب سے پہلے بدایوں حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر کی خدمت میں پہنچے اور تعاون و ہمدردی کی درخواست کی، مولانا عبد الماجد بحکم پیر و مرشد خُدام کعبہ کی خدمت پر مامور ہوئے۔
1919،22ھ میں لالہ لاج پت رائے اور شردھا نند کی کوششوں سے ملکانوں کی ارتداد کی مہم شروع ہوئی تو دیگر علمائے اہل سنت کے ساتھ آپ نے بھی رمضان المبارک میں جبکہ گرمی شباب پر ہوتی ملکانوں کو ارتداد سے بچانے کے لیے پیدل سفر کیے، عمر کا بیشتر حصہ سفر میں گذرا،
پیر ومرشد حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر بدایونی قدس سرہٗ کی معیت و ہمرکابی میں بغداد مقدس کا سفر کیا وفد خلافت کے ساتھ حجاز مقدس حاضر ہوئے، خلافت و کانگریس کے وفد میں موتی لعل نہر، حکیم اجمل خاں مولانا محمد علی جوہر اور مسٹر گاندھی کے ساتھ پورے ہندوستان کا دورہ کیا، آپ کے وعظ کا عجب حال تھا، نہایت ہی کیف بار اور وجد آگیں تقریر کرتے تھے، جوش تقریر میں عمامہ سر سے اُتر جاتا تھا ـ
کان پور کے پیرڈ میدان کے رحبی شریف کے جلسہ کا آپ ہی کے ہاتھوں قیام ہوا، جہاں بھی ہوتے اس جلسہ میں ضرور تشریف لاتے، مولانا کے مواعظ کا ابتدائی دور تھا، کہ مراد آباد میں حضرت صدر الافاضل بریلوی اور مولوی تھانوی کے درمیان مباحثہ تصفیہ کے لیے طے پایا، فاضل بریلوی نے حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر بدایونی رحمۃ اللہ علیہ نے شوکت مذہب اہلسنت کے لیے شرکت کی درخواست کی حضرت نے آپ کو اور حضرت مولانا شاہ محب احمد قدس سرہٗ کو شرکت کے لیے بھیجا، وہاں بڑے بڑے علمائے اہل سنت تشریف فرما تھے ـ
دس 10 بجے دن میں مولانا سید محمد فاخر کی تقریر کے بعد مولانا عبد الماجد صاحب کا وعظ شروع ہوا، پہلے دیر تک منبر پر دو زانو بیٹھ کر دعا مانگی پھر کھڑے ہو کر آہستہ آہستہ خطبہ شروع کیا، مجمع سے آواز بلند کرنے کی درخواست ہوئی، ابھی دو چار ہی جملے کہے تھے کہ بحر فصاحت موج آفریں ہوا، طبیعت روانی پر مائل ہوئی، جوش خطابت میں عبا کے دامن لہرانے لگے، تھوڑی دیر میں عمامہ کے بل کھل گئے، اتنا مؤثر اور دل نشین وعظ تھا، کہ ہر طرف سے مرحبا صل علی ، جزاک اللہ کی صدا آ رہی تھی، کوئی بے خودی میں اشک بار تھا، کسی طرف سے آہ و بکا کا شور تھا، مسئلہ علم غیب پر کلمہ الہی اور حدیث رسالت پناہی کے دلائل کے انبار پیش کرتے جا رہے تھے مجمع بے خود دو ساکت تھا، کہ مولانا نے ایک بجے دھوپ کی تمازت اور پسینے سے شرا بور ہونے کی وجہ سے دعا پر تقریر ختم کی، مجمع کے اصرار پر ظہر بعد پھر چار گھنٹہ تک تقریر فرمائی
مولانا شاہ عبد الماجد قادری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ کی کیف بار اور ولولہ انگیز خوش خطابت سے معمور تقریری و موعظہ کی یاد دلوں میں اب بھی باقی ہے ـ
آپ بدایوں کے مشہور عثمانی خاندان کے گوہر شب چراغ تھے ـ
ولادت:
4؍ شعبان المکرم 1204ھ میں ولادت ہوئی، تاج الفحول مولانا شاہ محب رسول عبد القادر بدایونی قدس سرہٗ کے زیر سایہ تربیت اور پرورش پائی ـ
تعلیم:
حضرت مولانا الحاج شاہ عبدالمجید قادری مقتدری اور مولانا مفتی محمدی ابراہیم قادری بدایونی سے ابتدائی درسیات پڑھیں، اور شاہ محب احمد بدایونی قدس سرہٗ سے درس نظامی پڑھ کر 1320ھ میں سندِ فراغت حاصل کی 1321،22ھ میں دہلی میں قیام کر کے حکیم اجمل خاں دہلوی نے دستخط کر کے مہر لگائی ـ
تقاریر و مناظرہ:
دھلی کی اقامت کے دوران زینت محل وغیرہ میں آپ کی تقریریں ہوئیں، یہاں عیسائیوں آریوں، غیر مقلدوں اور قادیانیوں سے آپ کے مناظرے ہوئے ـ
دہلی سے واپس آکر والد بزرگوار کے قائم کردہ جامعہ شمسیہ کی ترقی کی اسکیم بنائی، چندہ کی فراہمی کے لیے اسفار کیے، نواب مزمل اللہ خاں رئیس بھیکم پور علی گڑھ، نواب سر حافظ احمد سعید خاں نواب چھتاری نے چندہ میں کافی رقم دی، اہلیان بمبئی و حیدر آباد نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، مسٹر نگرام کلکڑ بدایوں اور مسٹر لارڈ مسٹن گورنر مسٹن گورنر صوبہ یوپی نے وسط شہر میں خوش نما قطعہ آراضی مع عمارت دوامی پٹہ پر مدرسہ کے لیے دینا منظور کیا، مولوی ظہور حسین صاحب (ٹونک والا) نے علوہتمی سے شمس العلوم کا سری بقلک مینارہ اور دروازہ تعمیر کرایا، کتب خانہ کی خوشنما عمارت تیار ہوئی، دار الحدیث عثمانیہ کا نقشہ و تخمینہ تیار کر کے شاہ دکن کی خدمت میں پیش کر دیا گیا ـ
افسوس ہے کہ اسی زمانہ مسجد مچھلی بازار کان پور کا حادثہ اور خلافت کا مسئلہ پیش آ گیا اور مولانا عبد الماجد کی توجہ مدرسہ کی تعمیر و ترقی کی طرف سے ہٹ کر ملکی معاملات کی طرف مبذول ہو گئی ورنہ یہ مدرسہ باعتبار وسعت و عمدگی تعلیم ہند و پاک میں معیاری اور سب سے بڑا جامعہ ہوتا، مدرسہ کو ریاست رام پور سے مستقل ماہانہ امداد ملتی تھی ۔
مولانا کی ملکی و قومی خدمات تادیر دلوں کو رُلائےگی، مولانا شاہ محمد عبد الباری فرنگی محلی نے حفاظت کعبہ کے لیے جب ‘‘خدام کعبہ’’ کے نام سے مجلس قائم کی تو سب سے پہلے بدایوں حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر کی خدمت میں پہنچے اور تعاون و ہمدردی کی درخواست کی، مولانا عبد الماجد بحکم پیر و مرشد خُدام کعبہ کی خدمت پر مامور ہوئے۔
1919،22ھ میں لالہ لاج پت رائے اور شردھا نند کی کوششوں سے ملکانوں کی ارتداد کی مہم شروع ہوئی تو دیگر علمائے اہل سنت کے ساتھ آپ نے بھی رمضان المبارک میں جبکہ گرمی شباب پر ہوتی ملکانوں کو ارتداد سے بچانے کے لیے پیدل سفر کیے، عمر کا بیشتر حصہ سفر میں گذرا،
پیر ومرشد حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر بدایونی قدس سرہٗ کی معیت و ہمرکابی میں بغداد مقدس کا سفر کیا وفد خلافت کے ساتھ حجاز مقدس حاضر ہوئے، خلافت و کانگریس کے وفد میں موتی لعل نہر، حکیم اجمل خاں مولانا محمد علی جوہر اور مسٹر گاندھی کے ساتھ پورے ہندوستان کا دورہ کیا، آپ کے وعظ کا عجب حال تھا، نہایت ہی کیف بار اور وجد آگیں تقریر کرتے تھے، جوش تقریر میں عمامہ سر سے اُتر جاتا تھا ـ
کان پور کے پیرڈ میدان کے رحبی شریف کے جلسہ کا آپ ہی کے ہاتھوں قیام ہوا، جہاں بھی ہوتے اس جلسہ میں ضرور تشریف لاتے، مولانا کے مواعظ کا ابتدائی دور تھا، کہ مراد آباد میں حضرت صدر الافاضل بریلوی اور مولوی تھانوی کے درمیان مباحثہ تصفیہ کے لیے طے پایا، فاضل بریلوی نے حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر بدایونی رحمۃ اللہ علیہ نے شوکت مذہب اہلسنت کے لیے شرکت کی درخواست کی حضرت نے آپ کو اور حضرت مولانا شاہ محب احمد قدس سرہٗ کو شرکت کے لیے بھیجا، وہاں بڑے بڑے علمائے اہل سنت تشریف فرما تھے ـ
دس 10 بجے دن میں مولانا سید محمد فاخر کی تقریر کے بعد مولانا عبد الماجد صاحب کا وعظ شروع ہوا، پہلے دیر تک منبر پر دو زانو بیٹھ کر دعا مانگی پھر کھڑے ہو کر آہستہ آہستہ خطبہ شروع کیا، مجمع سے آواز بلند کرنے کی درخواست ہوئی، ابھی دو چار ہی جملے کہے تھے کہ بحر فصاحت موج آفریں ہوا، طبیعت روانی پر مائل ہوئی، جوش خطابت میں عبا کے دامن لہرانے لگے، تھوڑی دیر میں عمامہ کے بل کھل گئے، اتنا مؤثر اور دل نشین وعظ تھا، کہ ہر طرف سے مرحبا صل علی ، جزاک اللہ کی صدا آ رہی تھی، کوئی بے خودی میں اشک بار تھا، کسی طرف سے آہ و بکا کا شور تھا، مسئلہ علم غیب پر کلمہ الہی اور حدیث رسالت پناہی کے دلائل کے انبار پیش کرتے جا رہے تھے مجمع بے خود دو ساکت تھا، کہ مولانا نے ایک بجے دھوپ کی تمازت اور پسینے سے شرا بور ہونے کی وجہ سے دعا پر تقریر ختم کی، مجمع کے اصرار پر ظہر بعد پھر چار گھنٹہ تک تقریر فرمائی
❤1
ـ1931ء میں بمقام لکھنؤ مسلم کانفرنس کا جلسہ تھا، اس میں شرکت کے لیے لکھنؤ گئے، راجہ صاحب سلیم پور کے مہمان ہوئے، نو 9 بجے شب رخصت ہوتے ہوئے مولانا حسرت موہانی مرحوم سے فرمایا ‘‘خدا حافظ’’
پھر اپنے ایک مُرید مولوی محمد نذیر صاحب کے یہاں جو صدر میں رہتے تھے اُن کے یہاں گئے، گیارہ بجے نماز عشاء پڑھی، اور دیر تک تلاوت قرآن پاک کی، اور اوراد و وظائف سے فارغ ہو کر فرزند ارجمند حضرت مولانا عبد الواحد صاحب سے فرمایا، تم تنہا ہو گھبرانا نہیں، یہ کہہ کر سینے سے لگایاا ور فرمایا، آج روح بے چین ہے، دست و قے بار بار ہو رہا ہے، تازہ وضو کرا دو، نقاہت و ناتوانی بے حد فزوں تھی، مولانا عبد الواحد صاحب کے کاندھے پر سر رکھ دیا اور یا غفور یا رحمان کہتے ہوئے ـ
تاریخِ وصال:
دو شنبہ کی رات میں 3 بجے 3؍ شعبان المعظم 1350ھ موافق 14؍دسمبر 1931ء کو واصل بحق ہوئے ـ
اور اس طرح عمر بھر کی بیقراری کو قرار آگیا، نو 9 بجے دن میں نعش بذریعہ موٹر روانہ ہو کر 5 بجے شام بدایونی پہنچی 9؍ بجے شب میں اسی جگہ پر غسل دیا گیا جہاں آپ کے مرشدان عظام کا غسل میت ہوتا تھا، ایک بجے شب میں مولانا قطب الدین عبد الوالی فرنگی محلی کے اصرار پر آخری زیارت کرائی ، صبح کے وقت جنازہ نانخانہ میں پہنچایا گیا توچند قطرے خون کے ناک سے جاری ہوئے، درگاہ قادری کی حاضری کے وقت تک بوقت رونمائی ناک سے تازہ خون اُپھن اُپھن کر بہہ رہا تھا، یہ مولانا کی اس دعا کا اثر تھا جو آپ اپنے والد ماجد کی طرح شہادت کی محافل میں شہید ہونے کے لیے مانگا کرتے تھے ۔
نمازِ جنازہ:
دس بجے دن میں عید گاہ شمسی میں حضرت شیخ الاسلام مولانا شاہ عبد القدیر بد ایونی کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا ہوئی،
مدفن:
درگاہ قادری میں اپنے مرشد حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر قدس سرہٗ کے پائیں دفن کیے گئے، شکیل بد ایونی مرحوم کے والد ماجد مولانا جمیل احمد سوختہ مرحوم نے قطعۂ تاریخ وفات کہا ؎
شیخ کل حضرت عبد الماجد
مقتدر عالم دیں، نیک مزاج
یک بیک ہوگئے واصل بخدا
ہوگئی علم کی دنیا تاراج
رہبر دین، شہ دیں تھے حضور
آپ تھے ملت حق کے سرتاج
کہیئے یہ آپ کی تاریخ جمیل
’’ گل ہوا ہائے چراغ دین ‘‘ آج
(حیات طیّبہ، اکمل التاریخ، معارف، صدق جدید)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-abdul-majid-badayuni
پھر اپنے ایک مُرید مولوی محمد نذیر صاحب کے یہاں جو صدر میں رہتے تھے اُن کے یہاں گئے، گیارہ بجے نماز عشاء پڑھی، اور دیر تک تلاوت قرآن پاک کی، اور اوراد و وظائف سے فارغ ہو کر فرزند ارجمند حضرت مولانا عبد الواحد صاحب سے فرمایا، تم تنہا ہو گھبرانا نہیں، یہ کہہ کر سینے سے لگایاا ور فرمایا، آج روح بے چین ہے، دست و قے بار بار ہو رہا ہے، تازہ وضو کرا دو، نقاہت و ناتوانی بے حد فزوں تھی، مولانا عبد الواحد صاحب کے کاندھے پر سر رکھ دیا اور یا غفور یا رحمان کہتے ہوئے ـ
تاریخِ وصال:
دو شنبہ کی رات میں 3 بجے 3؍ شعبان المعظم 1350ھ موافق 14؍دسمبر 1931ء کو واصل بحق ہوئے ـ
اور اس طرح عمر بھر کی بیقراری کو قرار آگیا، نو 9 بجے دن میں نعش بذریعہ موٹر روانہ ہو کر 5 بجے شام بدایونی پہنچی 9؍ بجے شب میں اسی جگہ پر غسل دیا گیا جہاں آپ کے مرشدان عظام کا غسل میت ہوتا تھا، ایک بجے شب میں مولانا قطب الدین عبد الوالی فرنگی محلی کے اصرار پر آخری زیارت کرائی ، صبح کے وقت جنازہ نانخانہ میں پہنچایا گیا توچند قطرے خون کے ناک سے جاری ہوئے، درگاہ قادری کی حاضری کے وقت تک بوقت رونمائی ناک سے تازہ خون اُپھن اُپھن کر بہہ رہا تھا، یہ مولانا کی اس دعا کا اثر تھا جو آپ اپنے والد ماجد کی طرح شہادت کی محافل میں شہید ہونے کے لیے مانگا کرتے تھے ۔
نمازِ جنازہ:
دس بجے دن میں عید گاہ شمسی میں حضرت شیخ الاسلام مولانا شاہ عبد القدیر بد ایونی کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا ہوئی،
مدفن:
درگاہ قادری میں اپنے مرشد حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر قدس سرہٗ کے پائیں دفن کیے گئے، شکیل بد ایونی مرحوم کے والد ماجد مولانا جمیل احمد سوختہ مرحوم نے قطعۂ تاریخ وفات کہا ؎
شیخ کل حضرت عبد الماجد
مقتدر عالم دیں، نیک مزاج
یک بیک ہوگئے واصل بخدا
ہوگئی علم کی دنیا تاراج
رہبر دین، شہ دیں تھے حضور
آپ تھے ملت حق کے سرتاج
کہیئے یہ آپ کی تاریخ جمیل
’’ گل ہوا ہائے چراغ دین ‘‘ آج
(حیات طیّبہ، اکمل التاریخ، معارف، صدق جدید)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-abdul-majid-badayuni
scholars.pk
Hazrat Molana Hakeem Abdul Majid Badayuni
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1