🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#فیضان_امام_اعظم_ابو_حنیفہ ⓫ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہٗ🌹 ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یوم ولادت: ۷۰ھ❤️ عمر ⁸⁰ سال یو وصال: 2 شعبان المعظم ۱۵۰ھ امام اعظم کا مختصر تعارف 📜 تعدادِ اساتذہ ⁴,⁰⁰⁰ | شاگِرد ¹⁰,⁰⁰⁰
#فیضان_امام_اعظم_ابو_حنیفہ ⓬
امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہٗ🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت: ۷۰ھ❤️ عمر ⁸⁰ سال
یو وصال: 2 شعبان المعظم ۱۵۰ھ
امام اعظم کا مختصر تعارف 📜
تعدادِ اساتذہ ⁴,⁰⁰⁰ | شاگِرد ¹⁰,⁰⁰⁰
امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہٗ🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت: ۷۰ھ❤️ عمر ⁸⁰ سال
یو وصال: 2 شعبان المعظم ۱۵۰ھ
امام اعظم کا مختصر تعارف 📜
تعدادِ اساتذہ ⁴,⁰⁰⁰ | شاگِرد ¹⁰,⁰⁰⁰
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#فیضان_امام_اعظم_ابو_حنیفہ ⓬ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہٗ🌹 ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یوم ولادت: ۷۰ھ❤️ عمر ⁸⁰ سال یو وصال: 2 شعبان المعظم ۱۵۰ھ امام اعظم کا مختصر تعارف 📜 تعدادِ اساتذہ ⁴,⁰⁰⁰ | شاگِرد ¹⁰,⁰⁰⁰
#فیضان_امام_اعظم_ابو_حنیفہ ⓭
امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہٗ🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت: ۷۰ھ❤️ عمر ⁸⁰ سال
یو وصال: 2 شعبان المعظم ۱۵۰ھ
امام اعظم کا مختصر تعارف 📜
تعدادِ اساتذہ ⁴,⁰⁰⁰ | شاگِرد ¹⁰,⁰⁰⁰
امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہٗ🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت: ۷۰ھ❤️ عمر ⁸⁰ سال
یو وصال: 2 شعبان المعظم ۱۵۰ھ
امام اعظم کا مختصر تعارف 📜
تعدادِ اساتذہ ⁴,⁰⁰⁰ | شاگِرد ¹⁰,⁰⁰⁰
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت مولانا منظور احمد دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
فاضل جلیل حضرت مولانا محمد منطور احمد بن حضرت مفتی اعظم شاہ محمد مظہر اللہ قدس سرہ العزیز امام شاہی مسجد جامع دہلی فتح پوری تقرباً ۱۳۴۶ھ؍۱۹۲۷ء میں دہلی میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم:
ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاسل کی، ۱۹۳۹ء میں مدرسہ عالیہ جامع فتح پوری (دہلی) میں داخل ہو گئے ۔ بڑے ذہین اور طباع تھے، ہمیشہ اپنی جماعت میں اول رہے ۱۹۴۶ء میں دورۂ حدیث کی تکمیل کی اور پورے جامعہ میں اول آئے ـ
مولانا کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا، خطابت کی دل نشینی کا یہ عالم تھا کہ ان کا وعظ ہر خاص و عام کا دل موہ لیتا تھا، شیدید علالت کے دوران بھی نماز کو ترک نہیں کیا ۔
والد ماجد کی عقیدت و محبت اور اور ان کے پاس کاطر کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ حالت مرض میں ہایت نحیف ہونے کے باوجود انہیں اپنی صحت و عافتی ہی کی اطلاع دیتے رہے تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو ۔
آپ نے علم توقیت والد ماجد سے حاصل کیا تھا، انہیں اس فن میں کامل عبور حاصل تھا، آپ نے کراچی کے لئے دائمی تقویم مرتب کی جس میں پانچوں نمازوں کے اوقات اور طلوع و غروب آفتاب کے وقت کا بیان کیا، یہ دائمی تقویم آپ کے برادر گرامی مکرمی ڈاکٹر محمد مسعود احمد مد ظلہ مؤلف فاضل بریلوی قدس اور ترک مولالات کی ترتیبِ نو سے ۱۹۶۷ء میں کوئٹہ سے شائع ہو چکی ہے ۔
حضرت مولانا 1947ء کے اواخر میں پاکستان تشریف لے آئے لیکن کچھ عرسہ تک صحت خراب ہو گئی اس لئے بہاول پور سے حیدر آباد تشریف لے گئے، مرض کی مدت اس قدر بڑی کہ ڈاکٹر مایوس ہو گیا مگر قدرت نے صحت عطا فرمادی، ابھی چند دن ہی گزرے تیکہ بیماری پھر عود کر آئی اور تپ دق کا عارضہ لاحق ہو گیا ۔ مولانا نے تمام تکالیف کو کمال استقامت سے برداشت کیا ۔
آخر کار ۳ شعبان 1369ھ / مطابق یکم جون 1949ء بروز چہار شنبہ آپ نے داعئ اجل کو لبیک کہا حضرت بے خود دہلوی کے شاگرد یکتا دہلوی نے قطعۂ تاریخ وفات کہا جس کا تاریخی شعر درج ذیل ہے ؎
ملا کر الف یکتا اللہ کا لکھ
’’ خدا کا ہے محبوب منظور احمد ‘‘
جب آپ کے انتقال کی خبر آپ کے استاد مولانا ولایت احمد کو پہنچی تو انہوںنے با چشم پر نم فرمایا:
’’ اگر ان کی حیات ہوتی تو اپنے زمانہ کے شاہ ولی اللہ ہوتے ۔ ‘‘
مولانا مرحوم کا مزار حیدر آباد کے مشرقی جانب نہر پھیلی کے کنارے واقع ہے [1]
[1] ڈاکٹر محمد مسعود احمد ، مقدمہ دائمی تقویم، مطبوعہ گلڈ انجم کتاب گھر، کراچی، ص:۳۔۱۵
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-manzoor-ahmad-dehlvi
ولادت:
فاضل جلیل حضرت مولانا محمد منطور احمد بن حضرت مفتی اعظم شاہ محمد مظہر اللہ قدس سرہ العزیز امام شاہی مسجد جامع دہلی فتح پوری تقرباً ۱۳۴۶ھ؍۱۹۲۷ء میں دہلی میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم:
ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاسل کی، ۱۹۳۹ء میں مدرسہ عالیہ جامع فتح پوری (دہلی) میں داخل ہو گئے ۔ بڑے ذہین اور طباع تھے، ہمیشہ اپنی جماعت میں اول رہے ۱۹۴۶ء میں دورۂ حدیث کی تکمیل کی اور پورے جامعہ میں اول آئے ـ
مولانا کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا، خطابت کی دل نشینی کا یہ عالم تھا کہ ان کا وعظ ہر خاص و عام کا دل موہ لیتا تھا، شیدید علالت کے دوران بھی نماز کو ترک نہیں کیا ۔
والد ماجد کی عقیدت و محبت اور اور ان کے پاس کاطر کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ حالت مرض میں ہایت نحیف ہونے کے باوجود انہیں اپنی صحت و عافتی ہی کی اطلاع دیتے رہے تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو ۔
آپ نے علم توقیت والد ماجد سے حاصل کیا تھا، انہیں اس فن میں کامل عبور حاصل تھا، آپ نے کراچی کے لئے دائمی تقویم مرتب کی جس میں پانچوں نمازوں کے اوقات اور طلوع و غروب آفتاب کے وقت کا بیان کیا، یہ دائمی تقویم آپ کے برادر گرامی مکرمی ڈاکٹر محمد مسعود احمد مد ظلہ مؤلف فاضل بریلوی قدس اور ترک مولالات کی ترتیبِ نو سے ۱۹۶۷ء میں کوئٹہ سے شائع ہو چکی ہے ۔
حضرت مولانا 1947ء کے اواخر میں پاکستان تشریف لے آئے لیکن کچھ عرسہ تک صحت خراب ہو گئی اس لئے بہاول پور سے حیدر آباد تشریف لے گئے، مرض کی مدت اس قدر بڑی کہ ڈاکٹر مایوس ہو گیا مگر قدرت نے صحت عطا فرمادی، ابھی چند دن ہی گزرے تیکہ بیماری پھر عود کر آئی اور تپ دق کا عارضہ لاحق ہو گیا ۔ مولانا نے تمام تکالیف کو کمال استقامت سے برداشت کیا ۔
آخر کار ۳ شعبان 1369ھ / مطابق یکم جون 1949ء بروز چہار شنبہ آپ نے داعئ اجل کو لبیک کہا حضرت بے خود دہلوی کے شاگرد یکتا دہلوی نے قطعۂ تاریخ وفات کہا جس کا تاریخی شعر درج ذیل ہے ؎
ملا کر الف یکتا اللہ کا لکھ
’’ خدا کا ہے محبوب منظور احمد ‘‘
جب آپ کے انتقال کی خبر آپ کے استاد مولانا ولایت احمد کو پہنچی تو انہوںنے با چشم پر نم فرمایا:
’’ اگر ان کی حیات ہوتی تو اپنے زمانہ کے شاہ ولی اللہ ہوتے ۔ ‘‘
مولانا مرحوم کا مزار حیدر آباد کے مشرقی جانب نہر پھیلی کے کنارے واقع ہے [1]
[1] ڈاکٹر محمد مسعود احمد ، مقدمہ دائمی تقویم، مطبوعہ گلڈ انجم کتاب گھر، کراچی، ص:۳۔۱۵
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-manzoor-ahmad-dehlvi
❤1