🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-07-1445 ᴴ | 11-02-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
30-07-1445 ᴴ | 11-02-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-07-1445 ᴴ | 11-02-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
30-07-1445 ᴴ | 11-02-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
قاضی سعید الدین فاروقی نظامی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا قاضی سعید الدین احمد۔ لقب: فاروقی، نظامی ۔ قاضی سعید الدین فاروقی نظامی بن قاضی امین الدین بن قاضی نادر علی فاروقی ـ
آپ کے اجداد میں قاضی سراج الدین کو سلسلہ عالیہ قادریہ میں بلا واسطہ خلافت حضرت غوث الاعظم ، اور سلسلہ سہروردیہ میں حضرت شیخ ابو نجیب سہروردی قدس سرہ سے حاصل تھی ۔اسی طرح شیخ حسن زنجانی بھی آپ کے اجداد میں سے ہیں، جن کامزار ِمقدس آج بھی لاہور میں مرجعِ خلائق ہے ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔
آپ کاسلسلۂ نسب 32 واسطوں سے امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔
تاریخِ ولادت:
یکم شعبان المعظم 1292ھ بمطابق 2 / ستمبر 1875ء بروز جمعرات گھاٹم پور ضلع کانپور یو پی (انڈیا) میں تولد ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
وقت کے مشاہیر علماء کی زیر سر پرستی میں حصول علم کی جدو جہد جاری رکھی بالآخر فارغ التحصیل ہوئے ۔ دینی علوم میں کا مل دستگاہ رکھتے تھے ۔
بیعت و خلافت:
سلاسلِ عالیہ قادریہ ، چشتیہ نظامیہ، فخریہ صابر یہ و نقشبندیہ میں آپ نے جن مشائخ سے اکتساب فیض کیا اور خرقہ و خلافت سے مشرف ہوئے ان میں سے (1) حضرت نور محمد قادری فتح پوری ۔ (2) مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی ۔ (3) حضر ت مولانا نور محمد محبوب قلندر دہلوی ثم نیاولی ۔ (4) حضرت مولانا شر ف الدین فاروقی صابری ۔ (5) اور حضرت مولانا کریم الدین قادری وغیرہ مشہور ہیں ۔
سیرت و خصائص:
خاندانِ فاروقِ اعظم کے سپوتِ جلیل، عالمِ نبیل، قاضیِ اسلام حضرت علامہ مولانا قاضی سعید الدین فاروقی نظامی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ جامع شریعت و طریقت تھے ۔ شریعت پر سختی سے عمل پیرا تھے ۔کانپور میں آپ کے آباء و اجداد کرام ہمیشہ عہدہ قضا پرنسل درنسل فائز رہے ، چنانچہ آپ بھی پاکستان نقل مکانی تک اس خدمت پر مامور رہے ۔ شریعتِ اسلامیہ کے مطابق فیصلے کرتے رہے ۔ شہر کی جامع مسجد میں جمعہ و عیدین کے موقع پر تعلیماتِ اسلامی پر خطبے ارشاد فرماتے تھے ۔
اپنے اکابرین کی طرح ہمیشہ تبلیغ و اشاعت دین اور شکستہ دلوں کی دستگیری کو اپنا فرض منصبی سمجھتے تھے ۔ مگر اس کے بدلے مالی مفادات کا حصول عار جانتے ۔ ابتداً سرکاری ملازمت سے منسلک ہوئے اور کورٹ آف وارڈز میں بحیثیت ضلع دار فرائض منصبی ادا کرتے رہے ۔ لیکن بعض خوارق کے ظہور کی وجہ سے ملازت کو خیر باد کہہ کر موروثی اراضی کی کاشت پر قانع ہو گئے اور اسی سے اپنی اور اہل و عیال کی کفالت کا فریضہ سر انجام دیتے رہے ۔تمول پسندی کبھی مزاج نہیں رہا ۔ نہ کبھی اہل تمول کی صحبت پسند فرمائی ۔ اہل ثرو ت و اقتدار کی آمد سے کبھی خوش نہ ہوئے بلکہ بادل ناخواستہ ان سے ملتے یا اجازت دے دیتے ۔
آخری تہائی رات سے فجر تک مصروف ِعبادت رہتے ۔ جس میں طویل مراقبہ بھی شامل ہوتا ۔ بعد نماز بھی اور ادواشغال کا سلسلہ جاری رہتا ۔ البتہ طلوع آفتاب کے بعد اگر موقعہ میسر آتا تو قدرے آرام کر لیتے ۔ تقسیم ہند کے بعد 1950ء میں آپ نے سفر حج سے واپس آکر ترک وطن کرکے باب الا سلام سندھ (پاکستان) میں تشریف لائے اور کراچی میں مقیم ہو گئے ۔ اس طرح آپ نے پاک سر زمین پر فقط نو سال کا مختصر عرصہ مقیم رہ کر انتقال کیا ۔ قدرت کی طرف سے ذوقِ شاعری ودیعت تھا۔شاعری کی تمام اصناف پر مہارت رکھتے تھے۔اس لئے آپ کی کتب زیادہ تر منظوم شکل میں ہیں۔
آپ کے ملفوظات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں: (1)" بندگی یہ ہے کہ جو اس کا آقا کھلائے کھائے ، جو پہنائے پہن لے، تاکہ آقا راضی رہے۔ یہ بھی کوئی بندگی ہے ؟ کہ ہم چاہیں کہ سب کام ہماری مرضی سے سر انجام پائیں ۔ (2) وصال سے قبل دونوں ہاتھ اٹھا کر پوچھا میرے ہاتھوں میں کیا ہے ۔کہا گیا کہ کچھ نہیں فرمایا: دنیا سے جو بھی جاتا ہے خالی ہاتھ جاتا ہے ۔ نہ کوئی کچھ لے کے آتا ہے اور نہ دنیا سے کچھ لے کر جاتا ہے ۔ یہاں کا سب یہیں رہ جاتا ہے ، جو ساتھ جاتا ہے وہ نیک عمل ہے مگرشرط یہ کہ خالص ہو ۔
تاریخِ وصال:
بروز جمعۃ المبارک ، بوقت اذانِ مغرب 12 ربیع الثانی 1379ھ / مطابق 16 اکتوبر 1959ء کو داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ پاپوش نگر قبرستان ناظم آباد کراچی میں گلزار سعید مسجد میں آپ کی خانقاہ مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت (سندھ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qazi-saeeduddin-farooqi-nizami
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا قاضی سعید الدین احمد۔ لقب: فاروقی، نظامی ۔ قاضی سعید الدین فاروقی نظامی بن قاضی امین الدین بن قاضی نادر علی فاروقی ـ
آپ کے اجداد میں قاضی سراج الدین کو سلسلہ عالیہ قادریہ میں بلا واسطہ خلافت حضرت غوث الاعظم ، اور سلسلہ سہروردیہ میں حضرت شیخ ابو نجیب سہروردی قدس سرہ سے حاصل تھی ۔اسی طرح شیخ حسن زنجانی بھی آپ کے اجداد میں سے ہیں، جن کامزار ِمقدس آج بھی لاہور میں مرجعِ خلائق ہے ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔
آپ کاسلسلۂ نسب 32 واسطوں سے امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔
تاریخِ ولادت:
یکم شعبان المعظم 1292ھ بمطابق 2 / ستمبر 1875ء بروز جمعرات گھاٹم پور ضلع کانپور یو پی (انڈیا) میں تولد ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
وقت کے مشاہیر علماء کی زیر سر پرستی میں حصول علم کی جدو جہد جاری رکھی بالآخر فارغ التحصیل ہوئے ۔ دینی علوم میں کا مل دستگاہ رکھتے تھے ۔
بیعت و خلافت:
سلاسلِ عالیہ قادریہ ، چشتیہ نظامیہ، فخریہ صابر یہ و نقشبندیہ میں آپ نے جن مشائخ سے اکتساب فیض کیا اور خرقہ و خلافت سے مشرف ہوئے ان میں سے (1) حضرت نور محمد قادری فتح پوری ۔ (2) مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی ۔ (3) حضر ت مولانا نور محمد محبوب قلندر دہلوی ثم نیاولی ۔ (4) حضرت مولانا شر ف الدین فاروقی صابری ۔ (5) اور حضرت مولانا کریم الدین قادری وغیرہ مشہور ہیں ۔
سیرت و خصائص:
خاندانِ فاروقِ اعظم کے سپوتِ جلیل، عالمِ نبیل، قاضیِ اسلام حضرت علامہ مولانا قاضی سعید الدین فاروقی نظامی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ جامع شریعت و طریقت تھے ۔ شریعت پر سختی سے عمل پیرا تھے ۔کانپور میں آپ کے آباء و اجداد کرام ہمیشہ عہدہ قضا پرنسل درنسل فائز رہے ، چنانچہ آپ بھی پاکستان نقل مکانی تک اس خدمت پر مامور رہے ۔ شریعتِ اسلامیہ کے مطابق فیصلے کرتے رہے ۔ شہر کی جامع مسجد میں جمعہ و عیدین کے موقع پر تعلیماتِ اسلامی پر خطبے ارشاد فرماتے تھے ۔
اپنے اکابرین کی طرح ہمیشہ تبلیغ و اشاعت دین اور شکستہ دلوں کی دستگیری کو اپنا فرض منصبی سمجھتے تھے ۔ مگر اس کے بدلے مالی مفادات کا حصول عار جانتے ۔ ابتداً سرکاری ملازمت سے منسلک ہوئے اور کورٹ آف وارڈز میں بحیثیت ضلع دار فرائض منصبی ادا کرتے رہے ۔ لیکن بعض خوارق کے ظہور کی وجہ سے ملازت کو خیر باد کہہ کر موروثی اراضی کی کاشت پر قانع ہو گئے اور اسی سے اپنی اور اہل و عیال کی کفالت کا فریضہ سر انجام دیتے رہے ۔تمول پسندی کبھی مزاج نہیں رہا ۔ نہ کبھی اہل تمول کی صحبت پسند فرمائی ۔ اہل ثرو ت و اقتدار کی آمد سے کبھی خوش نہ ہوئے بلکہ بادل ناخواستہ ان سے ملتے یا اجازت دے دیتے ۔
آخری تہائی رات سے فجر تک مصروف ِعبادت رہتے ۔ جس میں طویل مراقبہ بھی شامل ہوتا ۔ بعد نماز بھی اور ادواشغال کا سلسلہ جاری رہتا ۔ البتہ طلوع آفتاب کے بعد اگر موقعہ میسر آتا تو قدرے آرام کر لیتے ۔ تقسیم ہند کے بعد 1950ء میں آپ نے سفر حج سے واپس آکر ترک وطن کرکے باب الا سلام سندھ (پاکستان) میں تشریف لائے اور کراچی میں مقیم ہو گئے ۔ اس طرح آپ نے پاک سر زمین پر فقط نو سال کا مختصر عرصہ مقیم رہ کر انتقال کیا ۔ قدرت کی طرف سے ذوقِ شاعری ودیعت تھا۔شاعری کی تمام اصناف پر مہارت رکھتے تھے۔اس لئے آپ کی کتب زیادہ تر منظوم شکل میں ہیں۔
آپ کے ملفوظات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں: (1)" بندگی یہ ہے کہ جو اس کا آقا کھلائے کھائے ، جو پہنائے پہن لے، تاکہ آقا راضی رہے۔ یہ بھی کوئی بندگی ہے ؟ کہ ہم چاہیں کہ سب کام ہماری مرضی سے سر انجام پائیں ۔ (2) وصال سے قبل دونوں ہاتھ اٹھا کر پوچھا میرے ہاتھوں میں کیا ہے ۔کہا گیا کہ کچھ نہیں فرمایا: دنیا سے جو بھی جاتا ہے خالی ہاتھ جاتا ہے ۔ نہ کوئی کچھ لے کے آتا ہے اور نہ دنیا سے کچھ لے کر جاتا ہے ۔ یہاں کا سب یہیں رہ جاتا ہے ، جو ساتھ جاتا ہے وہ نیک عمل ہے مگرشرط یہ کہ خالص ہو ۔
تاریخِ وصال:
بروز جمعۃ المبارک ، بوقت اذانِ مغرب 12 ربیع الثانی 1379ھ / مطابق 16 اکتوبر 1959ء کو داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ پاپوش نگر قبرستان ناظم آباد کراچی میں گلزار سعید مسجد میں آپ کی خانقاہ مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت (سندھ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qazi-saeeduddin-farooqi-nizami
scholars.pk
Hazrat Molana Qazi Saeeduddin Farooqi Nizami
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضور محدث اعظم پاکستان، حضرت علامہ مفتی سردار احمد قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا محمد سردار احمد چشتی قادری رضوی ۔ کنیت: ابو الفضل ۔لقب: محدثِ اعظم پاکستان ۔ والد کا اسمِ گرامی: چودھری میراں بخش چشتی علیہ الرحمہ ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ قصبہ دیال گڑھ ضلع گورداس پور (مشرقى پنجاب، انڈیا) میں پیدا ہوئے، آپ کى تاریخ ولادت 29 جمادی الاخریٰ 1321ھ بمطابق 22 ستمبر 1903ء ہے ۔
تحصیلِ علم:
محدث اعظم پاکستان نے ابتدائی تعلیم پرائمری تک موضع دیال گڑھ میں حاصل کی 1343ھ؍ 1942ء میں اسلامی ہائی اسکول بٹالہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ ایف اے کی تیاری کے لیے لاہور تشریف لائے۔ انہی دنوں مرکزی انجمن حزب الاحناف لاہور کے زیر اہتمام مسجد وزیر خاں میں ایک عظیم الشان اجلاس ہوا۔ جس میں پاک وہند کے کثیر التعداد علماء و مشائخ کے علاوہ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ بھی شریک ہوئے ۔
حضور محدث اعظم پاکستان ـ حضرت حجۃ الاسلام کی شخصیت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انگریزی تعلیم، کو خیر آباد کہہ کر مرکز علوم و معارف بریلی شریف چلے گئے۔ حضور مفتی اعظم ہند ،حضور حجۃ الاسلام اور صدر الشریعہ اور مولانا محمد حسین وغیرہ (علیہم الرحمہ) سے علمی استفادہ کیا ۔ فیضِ رضا سے ایک وقت ایسا آیا کہ دنیا میں محدثِ اعظم پاکستان کے نام معروف ہو گئے۔
بیعت و خلافت:
حضرت محدث اعظم پاکستان سلسلہ عالیہ چشتیہ میں حضرت شاہ محمد سراج الحق چشتی کے دست اقدس پر بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے، اور سلسلہ قادریہ رضویہ میں شہزادۂ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں علیہ الرحمہ سے فیض یاب ہوئے ۔ اور حضور مفتی اعظم الشاہ مولانا مصطفیٰ رضا نوری علیہ الرحمہ اور حضور صدر الشریعہ نے جمیع سلاسل کی اجازت و خلافت عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
آپ کی والدہ ماجدہ فرمایا کرتیں:
تمہارا نام سردار ہے ، اللہ تعالیٰ تمہیں دین و دنیا کا سردار بنائے ۔ بالآخر وہ وقت بھی آیا اور دنیا نے دیکھ لیا کہ والدہ محترمہ کی دعا کس طرح قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسم با مسمّٰی بنا دیا ۔ محدثِ اعظم پاکستان، شیخ الحدیث والتفسیر، جامع المعقولات والمنقولات، رہبر شریعت و طریقت، آفتابِ رضویت ،محبوبِ خانوادۂِ اعلی ٰحضرت ،حضرت علامہ ابو الفضل محمد سردار احمد چشتى قادرى رضوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ بیک وقت بلند پایہ مدرس، بے مثال محدث ، خوش بیان مقرر، عظیم محقق اور متدین (دیانت دار) مفتى تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ علیہ الرحمہ عاشقِ رسول ﷺ اور متبع شریعت تھے ۔ حدیث پڑھتے پڑھاتے ہوئے جھومتے جاتے اور عشقِ مصطفےٰ ﷺ میں آنکھوں سے آنسو بہتے رہتے اس غایت درجہ کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگائیے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: جب لوگ بیمار ہوتے ہیں ، بخار یا سر درد ہوتا ہے تو وہ دوائى کھاتے ہیں، لیکن مجھے تکلیف ہوتى ہے تو میں ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کرتا ہوں اور حدیثِ مصطفےٰ ﷺٰ پڑھاتا ہوں جس سے مجھے آرام آجاتا ہے ۔ یہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ کا جذبہ تھا کہ آپ نے کبھی بھی کسی بدمذہب سے ہاتھ نہیں ملایا ۔ اگر کوئی بدمذہب ہاتھ ملانے کی کوشش بھی کرتا تو محبتِ مصطفیٰ ﷺ کے نور کی بدولت آپ کو اسکی بد عقیدگی معلوم ہو جاتی ، آپ اپنا ہاتھ کھینچ لیتے تھے ۔ آپ ان ہاتھوں پر فخر کیا کرتے تھے ،کہ انہوں نے حضور ﷺ کی محبت میں کبھی کسی گستاخ کے ہاتھ کو چھوا تک نہیں ۔
؎ خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را۔
حافظِ ملت مولانا عبد العزیز مبارک پوری علیہ الرحمہ دورانِ تعلیم آپ کے تقویٰ و طہارت اور اتباعِ سنّت کو نہایت شاندار الفاظ میں یوں بیان فرماتے ہیں: خوفِ الٰہی و خشیتِ ربانی ، زہدو تقویٰ ،اتباعِ سنّت آپ کی طبیعت بن چکی تھی ہر قول و فعل تمام حرکات و سکنات نشست و برخاست میں اتباعِ سنّت ملحوظ رکھتے ۔ بلا ناغہ اسباق کے مطالعہ میں انہماک، کم کھانا، کم سونا اور شب و روز تحصیلِ علم میں مصروف رہنا آپ کا معمول تھا۔
وصال:
یکم شعبان 1382ھ بمطابق 29 دسمبر 1962ء ہفتہ کى درمیانى رات ایک بج کر چالیس منٹ پر عالم اسلام کى فضاؤں کو اپنى نورانى کرنوں سے منور کرنے والا رشد و ہدایت کا مہرِ منیر "اللہ ھو" کى آواز کے ساتھ اپنے پیارے حبیب ﷺ کے دربار میں پہنچ گیا ۔
اسٹیشن سے جامعہ رضویہ تک راستہ میں ہزاروں افراد نے دیکھا کہ جنازہ پر نور کی پھوار پڑ رہی ہے، حالانکہ بادل کا کہیں نام و نشان تک نہ تھا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/muhaddith-e-azam-pakistan-allama-sardar-ahmed
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا محمد سردار احمد چشتی قادری رضوی ۔ کنیت: ابو الفضل ۔لقب: محدثِ اعظم پاکستان ۔ والد کا اسمِ گرامی: چودھری میراں بخش چشتی علیہ الرحمہ ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ قصبہ دیال گڑھ ضلع گورداس پور (مشرقى پنجاب، انڈیا) میں پیدا ہوئے، آپ کى تاریخ ولادت 29 جمادی الاخریٰ 1321ھ بمطابق 22 ستمبر 1903ء ہے ۔
تحصیلِ علم:
محدث اعظم پاکستان نے ابتدائی تعلیم پرائمری تک موضع دیال گڑھ میں حاصل کی 1343ھ؍ 1942ء میں اسلامی ہائی اسکول بٹالہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ ایف اے کی تیاری کے لیے لاہور تشریف لائے۔ انہی دنوں مرکزی انجمن حزب الاحناف لاہور کے زیر اہتمام مسجد وزیر خاں میں ایک عظیم الشان اجلاس ہوا۔ جس میں پاک وہند کے کثیر التعداد علماء و مشائخ کے علاوہ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ بھی شریک ہوئے ۔
حضور محدث اعظم پاکستان ـ حضرت حجۃ الاسلام کی شخصیت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انگریزی تعلیم، کو خیر آباد کہہ کر مرکز علوم و معارف بریلی شریف چلے گئے۔ حضور مفتی اعظم ہند ،حضور حجۃ الاسلام اور صدر الشریعہ اور مولانا محمد حسین وغیرہ (علیہم الرحمہ) سے علمی استفادہ کیا ۔ فیضِ رضا سے ایک وقت ایسا آیا کہ دنیا میں محدثِ اعظم پاکستان کے نام معروف ہو گئے۔
بیعت و خلافت:
حضرت محدث اعظم پاکستان سلسلہ عالیہ چشتیہ میں حضرت شاہ محمد سراج الحق چشتی کے دست اقدس پر بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے، اور سلسلہ قادریہ رضویہ میں شہزادۂ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں علیہ الرحمہ سے فیض یاب ہوئے ۔ اور حضور مفتی اعظم الشاہ مولانا مصطفیٰ رضا نوری علیہ الرحمہ اور حضور صدر الشریعہ نے جمیع سلاسل کی اجازت و خلافت عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
آپ کی والدہ ماجدہ فرمایا کرتیں:
تمہارا نام سردار ہے ، اللہ تعالیٰ تمہیں دین و دنیا کا سردار بنائے ۔ بالآخر وہ وقت بھی آیا اور دنیا نے دیکھ لیا کہ والدہ محترمہ کی دعا کس طرح قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسم با مسمّٰی بنا دیا ۔ محدثِ اعظم پاکستان، شیخ الحدیث والتفسیر، جامع المعقولات والمنقولات، رہبر شریعت و طریقت، آفتابِ رضویت ،محبوبِ خانوادۂِ اعلی ٰحضرت ،حضرت علامہ ابو الفضل محمد سردار احمد چشتى قادرى رضوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ بیک وقت بلند پایہ مدرس، بے مثال محدث ، خوش بیان مقرر، عظیم محقق اور متدین (دیانت دار) مفتى تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ علیہ الرحمہ عاشقِ رسول ﷺ اور متبع شریعت تھے ۔ حدیث پڑھتے پڑھاتے ہوئے جھومتے جاتے اور عشقِ مصطفےٰ ﷺ میں آنکھوں سے آنسو بہتے رہتے اس غایت درجہ کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگائیے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: جب لوگ بیمار ہوتے ہیں ، بخار یا سر درد ہوتا ہے تو وہ دوائى کھاتے ہیں، لیکن مجھے تکلیف ہوتى ہے تو میں ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کرتا ہوں اور حدیثِ مصطفےٰ ﷺٰ پڑھاتا ہوں جس سے مجھے آرام آجاتا ہے ۔ یہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ کا جذبہ تھا کہ آپ نے کبھی بھی کسی بدمذہب سے ہاتھ نہیں ملایا ۔ اگر کوئی بدمذہب ہاتھ ملانے کی کوشش بھی کرتا تو محبتِ مصطفیٰ ﷺ کے نور کی بدولت آپ کو اسکی بد عقیدگی معلوم ہو جاتی ، آپ اپنا ہاتھ کھینچ لیتے تھے ۔ آپ ان ہاتھوں پر فخر کیا کرتے تھے ،کہ انہوں نے حضور ﷺ کی محبت میں کبھی کسی گستاخ کے ہاتھ کو چھوا تک نہیں ۔
؎ خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را۔
حافظِ ملت مولانا عبد العزیز مبارک پوری علیہ الرحمہ دورانِ تعلیم آپ کے تقویٰ و طہارت اور اتباعِ سنّت کو نہایت شاندار الفاظ میں یوں بیان فرماتے ہیں: خوفِ الٰہی و خشیتِ ربانی ، زہدو تقویٰ ،اتباعِ سنّت آپ کی طبیعت بن چکی تھی ہر قول و فعل تمام حرکات و سکنات نشست و برخاست میں اتباعِ سنّت ملحوظ رکھتے ۔ بلا ناغہ اسباق کے مطالعہ میں انہماک، کم کھانا، کم سونا اور شب و روز تحصیلِ علم میں مصروف رہنا آپ کا معمول تھا۔
وصال:
یکم شعبان 1382ھ بمطابق 29 دسمبر 1962ء ہفتہ کى درمیانى رات ایک بج کر چالیس منٹ پر عالم اسلام کى فضاؤں کو اپنى نورانى کرنوں سے منور کرنے والا رشد و ہدایت کا مہرِ منیر "اللہ ھو" کى آواز کے ساتھ اپنے پیارے حبیب ﷺ کے دربار میں پہنچ گیا ۔
اسٹیشن سے جامعہ رضویہ تک راستہ میں ہزاروں افراد نے دیکھا کہ جنازہ پر نور کی پھوار پڑ رہی ہے، حالانکہ بادل کا کہیں نام و نشان تک نہ تھا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/muhaddith-e-azam-pakistan-allama-sardar-ahmed
scholars.pk
Muhaddith-e-Azam Pakistan Allama Sardar Ahmed
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-07-1445 ᴴ | 11-02-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-08-1445 ᴴ | 12-02-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1