🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-07-1445 ᴴ | 10-02-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-07-1445 ᴴ | 10-02-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ کیا عورتوں کے لئے مہندی لگانا جائز ہے ـ ❷ مرد حضرات کو پاؤں کے تلؤں پر مہندی لگانا ـ ❸ جم ہر جانا کیسا ہے ـ ❹ نفس اور اس کی اقسام سے متعلق وضاحت ـ ❺ مرد کے بال نہ کٹوانے کی منت ماننا ـ ❻ قرآن پاک حفظ کرتے ہوئے درمیان میں چھوڑنے کا حکم ـ ❼ قرآن کی آیات کا ترجمہ یاد کرکے بھول گئے تو کیا حکم ہے ـ ❽ ضرورت سے زائد قرآن پاک کے نسخے دوسری مسجد میں رکھنا ـ ❾ ہاتھ میں قرآن پاک لئے زمین پر بیٹھنے والوں کے پاس بیڈ پر بیٹھنا کیسا ہے ـ ❿ باپ کا لڑکی کے نکاح کے عوض کثیر رقم کا مطالبہ کرنا کیسا ہے ؟ ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#سوال  #جواب  #مسئلہ  #فتوی
#دار_الافتاء_اہلسنت دعوت اسلامی
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
پیکر عزم و استقامت، منبع رشد و ہدایت حضرت پیر عبد الرحیم بھرچونڈی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

پیکر عزم و استقامت ، منبع رشد و ہدایت حضرت مولانا پیر عبد الرحیم شہید ابن حضرت مولانا عبد الرحمن ابن حضرت مولانا حافظ محمد عبد اللہ (قدست اسرارہم) ۱۳۳۰ھ/۱۹۱۰ء میں بھر چونڈی شریف ، ضلع سکھر میں پیدا ہوئی ۔ ساتویں دن جد امجد نے عبد الرحیم نام تجویز کیا ۔

کسی نے پوچھا حضرت! صاحبزادے کا نام کیا تجویز کیا ہے؟ فرمایا ہم نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کو پورا کیا ہے، وہ اس طرح کہ اپنا نام عبد اللہ ، صاحبزادے کا نام عبد الرحمن اور پوتے کا نام عبد الرحیم ، تینوں ناموں سے لفظ ” عبد ‘‘ ہٹانے سے بسم اللہ شریف پوری ہو جاتی ہے ۔

جد امجد حضرت شیخ ثانی کو آپ سے بہت محبت تھی۔ اکثر آپ دادا جان کے سینے پر کھیلتے رہتے تھے ۔ آ پ ابتداء ہی سے غیر معمولی ذہین تھے، جو سبق دوسرے طالب علم گنٹوں میں یاد کرتے اسے ااپ منٹوں میں یاد کر لیتے ۔ قرآن مجید کی تعلیم شروع ہوئی ، پندرہ پارے حفظ اور پندرہ ناظر ہ پڑھے ۔ درسی کتابیں پہلے حضرت مولانا عبد الکریم ( ساکن میانوالی ) سے ، پھر سراج الفقہاء مولانا سراج احمد قدس سرہ (خانپوری )سے پڑھیں اور آخرمیں حضرت علامہ سید مغفور القادری رحمہ اللہ تعالیٰ ( شاہ آباد شریف ، ضلع رحیم یار خاں ) سے پڑھنا شروع کیا ، شرح جامی ، شرح و قایہ اور مشکوٰۃ شریف تک کتابیں کود سمجھ کر پڑھیں حتٰی کہ دوسری کتابوں کے سمجھنے کا خاصا ملکہ پیدا ہو گیا ۔

حضرت پیر صاحب نہایت بلند ہمت اور بے ہاک شخصیت کے مالک تھے، اسلام اور مسلمانون کے تحفظ اور سر بلندی کے لئے کسی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہ کرتے تھیکئی ایسے واقعات پیش آئے کہ ہندووں نے نو مسلم عورتوں کو قید کر کے ارتداد پر مجبور کیا پیر صاحب کسی خطرے کو دل میں نہ لاتے ہوئے میدان آگئے اور اس وقت تک چین سے نہ بیٹھے جب تک ان نو مسلم خواتین کو آزاد نہ کرا دیا ۔

اپنے والد ماجد مجاہد اعظم حضرت مولانا عبد الرحمن قدس سر لے زیر سایہ رہ کر انجمن احیاء الاسلام اور تنظیم المشائخ کی بے مثال خدمات انجام دیں اور اس دور میں جب کہ کانگر س پوری طرح صوبۂ سندھ پر چھائی ہوئی تھی ۔ آپ نے تحریک پاکستان اور دو قومی نظریہ کی بھر پور اشاعت و حمایت کی یہ انہی مشائخ کی قربانیوں کا نتیجہ تھا کہ صوبۂ سندھ کی رائے عامہ مسلم لیگ کے حق میں ہموار ہو گئی اور عوام الناس نے بڑے جوش و خروش سے نظریۂ پاکستان کو اپنایا ۔

۱۹۴۶ء میں والد ماجد کی قیادت میں ڈیڑھ سو افراد کی جماعت کے ساتھ آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس میں شریک ہوئے اور قیام پاکستان کی پر زور تائید کی۔ اہل سنت کی اس نمائندہ کانفرنس میں متحدہ پاک و ہند کے تقریباً پانچ ہزار علماء و مشائخ کا قیام پاکستان کی خاطر اپنی تمام کوششوں کو صرف کر دینے کا عہد ایک ضرب کلیمی تھی جس نے کانگر س کے سامریوں کا طلسم توڑ کر رکھ دیا تھا ۔ احیاء الاسلام اور تنظیم المشائخ کے بعد آپ جمیعۃ علماء پاکستان ، سندھ کے نائب صدر منتخب ہوئے اور جس جرأت و ہمت اور خلوص وایثار سے جمیعت کی سر گرمیوں میں حصہ لیا اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔

۱۹۶۰ء میں شیخ ثالث حضرت مولانا عبد الرحمن قدس سرہ کے وصال کے بعد سجادہ نشین ہوئے تو آپ کی مصروفیات ہیں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا لیکن جس حسن و خوبی سے آپ نے ذمہ داریوں کو نبھایا ، موجودہ دور میں اس کی مثال پیش کرنا مشکل ہے ۔ آپ کے دل میں دین و ملت کا بے پناہ درد تھا ۔ اگر چہ آپ پر قاتلانہ حملے کئے گئے ،طرح طرح سے آپ کو اذیتیں پہنچائی گئیں لیکن اس مرد خدا کے قدم پیچھے ہٹنے کے بجائے ہمیشہ آگے ہی بڑھتے رہے ۔

۱۹۶۵ء کی جنگ میں راجھستان سیکڑ میں عملی طور پر حصہ لیا، اپنے مریدین حر مجاہدین کے کئی دستے مسلح کر کے محاذ پر بھیجے اور دوع فعہ خود محاذ پر تشریف لے گئے ۔

حضرت پیر صاحب نظریۂ زبر دست حامی تھے ۔ ۱۹۷۱ء کے انتخابات میں جمیعۃ علماء پاکستان کے صوبۂ سند کے نائب صدر ہونے کی حیثیت سے علی الاعلان اسلامی قوتوں کا ساتھ دیا اور ہر ممکن کوشش کی کہ عوام کے اذہان میں صحیح اسلامی اقدار کو اس قدر راسخ کردیا جائے کہ وہ نظریۂ اسلام کے علاسہ کسی نظرئے اور ازم کو قبول نہ کریں ۔
2
اسلام دشمن عناصر حضرت پیر صاھب کی با اثر شخصیت کو اپنے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ یقین کرتے تھے ۔ ۰ ۱۹۷ء میں جب سندھ میں فتنۂ دہریت عروج پر تھا ، پیر صاحب اس فتنہ کے خلاف سینہ سپر ہو گئے اور لاہور میں یوم محمد بن قاسم کے اجلاس کی صدارت کی [1]

شہادت:
۳۰ رجب المرجب ۲۱ ستمبر ( ۱۳۹۱ھ/۱۹۷۱ء) کی شام کو جب کہ حضرت پیر صاحب چار غیر مسلح آدمیوں کے ساتھ کھڑے تھے ، مخالفین نے فائرنگ کر کے آپ کو شہید کر دیا آپ کے جنازہ میں ایک لاکھ افراد نے شرکت کی ،آ پ کی آخری آرانم گاہ بھر چونڈی شریف میں ہے ۔ آپ کی شہادت سے ملت اسلامہ ایک عظیم مجاہد سے محروم ہو گئی [2]

نوٹ:۔ ہفت روزہ زندگی کے حوالے کے علاوہ باقی تمام حالات ’’ عبد الرحمن ‘‘ سے لئے گئے ہیں ۔

[1] سجاد میر: ہفت روزہ زندگی ( ۲۵ اکتوبر ۱۹۷۱ئ) ص:۱۹

[2] مغفورالقادری ، سید مولانا : عبد الرحمن ، ص ۲۰۳۔ ۲۰۸۔

( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-peer-abdul-rahim-shaheed-bharchondi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👌1
حضرت مولانا مفتی عبد العزیز مزنگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
مولانا مفتی ابو رشید محمد عبد العزیز ابن میاں محمد فضل الدین (م یکم صفر ، ۶ نومبر ۱۳۳۷ھ/۱۹۱۸ء) ابن محمد عطاء اللہ ابن میر عبد الحکیم ابن میر قائم ابن میر شرف اللہ ابن میر زمان اللہ (یکے از خلفائے بابا نصیب الدین غازی) موضع چانگا نوالی (مضافات جلال پور جٹاں ضلع گجرات ) میں پیدا ہوئے ـ

تعلیم:
مدرسہ رحیمیہ نیلا گنبد لاہور میں مولانا محمد عالم سے استفادہ کیا ، کچھ عرصہ مدرسہ حمید یہ انجمن حمایت اسلام لاہور میں بھی تعلمی حاصل کی ۔

مولانا کریم بخش ( والد ماجد مولانا فضل میراں متوفی ۶ ربیع الاول، اپریل ۱۳۲۵ھ /۱۹۰۷ء ) سے فیضیاب ہوئے پھر ان کے صاحبزادے ادب عربی کے مایہ ناز فاضل مولانا فضل میراں کے قابل فخر شاگرد اور داما د تھے ، مزنگ میں مرزا محمد بیگ سے جلد سازی کا کام سیکھا ، تکمیل کے بعد مسجد چاہ جھنڈی والی میں امام مقر ر ہوئے ۔ یہاں آپ نے ایک مدرسہ قائم کیا جہاں سے مزنگ کے کئی علماء فیضیاب ہوئے ، اس کے بعد عرصۂ دارز تک مسجد قلعہ مادھو مزنگ اور جامع مسجد جناز گاہ میں ملا مشاہرہ خطیب رہے ۔

انجمن اسلامیہ مزنگ کی بنیاد رکھی اور مختلف مقامات پر تبلیغ کے لئے تشریف لیجاتے رہے ۔ حکومت بربانیہ کے عہد میں آپ سنٹرل جیل میں جاکر تبلیغ کیا کرتے تھے جس سے متاثر ہو کر کئی ہند واور سکھ مشرف بہ اسلام ہو گئے ، آپ حضرت پیر قربان علی شاہ (آدم پور دو ٓابہ ضلع جالندھر)کے مرید تھے ۔

آپ مرنجاں مرنج انسان تھے، والدئہ ماجدہ ی بیحد خدمت کی اور دعائیں لیں ۔آپ کا ذریعۂ معاش تصحیح کتب تھا ، ملک دین محمد اینڈ شنز لاہور اور متعد ناشرین کی اکثر و بیشتر مطبوعات کی تصحیح کتابت آپ ہی کرتے تھے چنانچہ بہار شریعت (۱۷حصے)، تجرید الا حادیث ، اور تجرید البخاری عغیرہ کتب پر بحیثیت مصحح آپ ہی کا نام ملتا ہے ۔

آپ ہر وقت مطالعۂ کتب ، تصحیح، فتویٰ نولیسی اور تصنیف و تالیف میں مصروف رہتے ، اس دوران اگر کوئی مسئلہ دریافت کرتا تو کتب معتبرہ کے حوالہ سے جوا ب دیتے اور کسی کو ما یوس نہ کرتے ، بچے سلام کرنے حاضر ہوتے تو انہیں شیر ینی عنایت فرماکر خوش کرد یتے آپ کثیر التصانیف عالم دین تھے ، چند کتابوں کے نام یہ ہیں :۔

۱۔ الافتاء فی جواب الاستفتاء اہل سنت کے عقائد اور معمولات کو دلائل کی روشنی میں ثابت کیا ہے ۔
۲۔ عزیز المعظم فی اکرام المکرم اس بارے میں کہ سیدہ کا نکاح غیر سید سے نہیں کرنا چاہئے۔
۳۔ آفتاب ہدایت رد وافض میں ، حج کی دعائیں۔
۴۔ عزیز البیان فری تفسیر القرآن یہ تفسیر مستند تفاسیر کا خلاصہ مولوی اشرد علی تھانوی کے ترجمہ کے ساتھ حاشہ پر چھپی ہ ، اس تفسری میں مفتی صاحب کے ساتھ مولانا ابو المظفر فضل الرحمن شریک تھے۔
۵۔ عہد نامہ مترجم (مطبوعہ ملک سراج دین لاہور)
۶۔ اربعین عزیزی المعروف بہ احسن الاقوال فی احوال الابدال اس میں بڑی عر قریزی سے کام لیا گیا ہے ، اس میں ستر کتب معتبر ہ سے استفادہ کیا گیا ہے ۔
۷۔ سیرۃ النبی الخلیل سلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم (سوانح عمری سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم)
۸۔ عزیز المجلّی ( ترجمہ و تشریح منیتہ المصلی المعروف بہ مکمل صلوٰۃ الرحمن)
۹۔ قربانی کے احکام،
۱۰۔ مسائل زکوٰۃ،
۱۱ـ نسب نامۂ نبی کریم سلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔
۱۲۔ زاد الآ خرہ فی مسائل الجنازہ ۔
۱۳ ۔ تصحیح و تحشیہ عزیز المرقاۃ الیٰ مطالب مشکوٰۃ ۔

آپ کی تصانیف دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ دینی اور فقہی معلومات کے دارئرۃ المعارف ( انسائکلو پیڈیا) تھے ۔ ذوالحجہ ، فروری (۱۳۵۶ھ/۱۹۳۸ئ) میں حج و زیارت سے مشرف ہوئے ۔ الحاج مولانا میاں محمد حسین نقشبندی مجددی (ف ۱۳۷۸ھ/۱۹۵۸ئ) ساکن جگیاں ناگرہ کلاں (مضافات لاہور) حضرت مفتی صاحب کے شاگرد اور صاحب دل بزرگ تھے۔

وصال:
مفتی صاحب نے ۳۰ رجب المرجب / ۱۶ دسمبر ( ۱۳۵۶ھ/۱۹۶۳ء) کو دار فانی سے انتقال فرمایا ۔ مکرمی حکیم محمد موسیٰ امر تسری مدظلہ نے یہ تاریخ وسال نکالی ہے :۔

آہ خوش سیر عبد العزیز[1]

[1] محمد موسیٰ امر تسری ، حکیم اہل سنت : قلمی یادداشت

( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-abdul-aziz-mazang
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌2
حضرت شیخ غلام نقشبند لکھنوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

شیخ [1] غلام نقشبند بن شیخ عطاء اللہ لکھنوی: عالمِ اجل، فاضل، اکمل، مفسر، فقیہ، حامی شریعت غراء حارس ملتِ بیضا تھے ۔

اوائل کتب درسیہ میر محمد شفیع دہلوی سے پڑھیں اور تحصیل کی دستار پیر محمد لکھنوی سے باندھی اور ان کے خلیفہ ہوئے ۔

آپ کی تدریس و تلقین سے بہت خلقت کو فیض پہنچا ۔ شاہ عالم سے آپ نے ملاقات کی اور اس نے آپ کی بڑی تعظیم و تکریم کی ۔ سید عبد الجلیل بلگرامی نے آپ سے علم حاصل کیا ۔ آپ کی تصنیفات سے تفسیر ربع قرآن المسمی بہ انوار القرآن اور اس کے حواشی اور تفسیر بعض سورہ قرآنیہ اور کتاب فرقان الانوار اور اللامعۃ العرشیہ مسئلۂ وحدتِ وجاد میں اور شرح قصیدہ خزر جیہ عروض میں وغیر ذالک یادگار ہیں ۔

وصال:
وفات آپ کی سلخ ماہِ رجب ۱۱۲۶ھ میں ہوئی اور لکھنؤ میں دفن کیے گئے ۔ ’’دار الفیض‘‘ تاریخ وفات ہے ۔

1۔ ولادت ۱۰۵۱ھ آپ کی تصنیف انوار الفرقان و ازہار القرآن کے قلمی نسخے رام پور، پٹنہ اور مدارس میں موجود ہیں ۔ ( مرتب )

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ghulam-naqshband-lakhnavi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👌1
حضرت عبد الکریم بن عبدالنور حلبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
عبد الکریم بن عبد النور بن منیر عبد الکریم حلبی: ۱۶ رجب ۶۶۳ھ میں پیدا ہوئے ۔

اپنے زمانہ کے امام اور فقیہ فاضل محدث کامل تھے ۔ قطب الدین لقب تھا، علم شمس الدین محمود بن ابی بکر کلا باذی فرضی سے اخذ کیا اور حدیث کو بکچرت سنا اور بیان کیا یہاں تک کہ حفاظ اور نقاد حدیث میں شمار ہوئے اور کئی دفوہ حج کیا۔ کتابوں کے عاریۃً دینے میں بڑے جوان مرد تھے ۔

کتاب اہتمام بہ تلخیص المام اور شرح صحیح بخاری دس مجلد میں ار شرح سیرت عبد الغنی تسنیف فرمائی اور مصر کی ایک تاریخ کچھ اوپر دس جلد میں لکھی، علاوہ ان کے اور بہت کتابیں تصنیف کیں ـ

وصال:
سلخ ماہِ رجب ۷۳۵ھ میں اس جہان فانی سے رحلت کی، ’’ محدث مقبولہ ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdul-karim-bin-abdul-noor-halbi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
حضرت محمد بن ادریس امام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

کنیت ابو عبد اللہ، لقب شافعی، نام محمد بن ادریس تھا ۔ آپ قبیلۂ قریش سے تعلق رکھتے تھے ۔

سلسلۂ نسب:
آپ کا نسب نامہ آٹھ واسطوں سے حضرت عبد المطلب سے ملتا ہے ۔

والدہ ماجدہ:
آپ کی والدہ کا نام حضرت ام الحسن بنت حمزہ بن قاسم بن زید بن حسن بن علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ ہے ۔

اسی لیے آپ کو قریشی، ہاشمی، علوی اور فاطمی کہا جاتا ہے ـ ائمہ اربعہ میں سے امام سوئم ہیں ۔

تعلیم:
جب تک مدینہ میں رہے حضرت امام مالک سے پڑھتے رہے ۔ جب عراق میں آئے امام محمد بن حسن شاگردِ حضرت امام اعظم سے استفادہ کیا ۔

ولادت:
آپ کی ولادت بمقام غرہ یا عسقلان یا بقول دیگر مناور ۱۵۰ھ میں ہوئی۔

امامِ شافعی رحمۃ اللہ علیہ تیرہ سال کی عمر میں حرم میں کہہ رہے تھے: سلونی بما شئتم ۔ جو چاہتے ہو مجھ سے پوچھو ۔ پندرہ سال کی عمر میں فتویٰ دینے لگے۔

امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ جنھیں تین ہزار احادیث یاد تھیں آپ کی شاگردی میں فخر محسوس کرتے تھے اور آپ کی حاشیہ برداری میں راحت محسوس کرتے تھے۔ لوگوں نے ایک بار آپ سے کہا: آپ بایں علم و فضیلت ایک بچے کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرتے ہیں اور مشائخ و اساتذہ کی صحبت ترک کر دی ہے ۔ آپ نے فرمایا: جو چیز ہمیں یاد ہے شافعی ان کے معنیٰ جانتا ہے ۔ فقہ کا دروازہ بند ہو گیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی برکت سے کھول دیا ۔

حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسالت مآب ﷺ کو خواب میں دیکھا۔ آپ نے دریافت فرمایا: بیٹا تمھارا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کی کہ میں آپ کے کمترین غلاموں میں سے ہوں۔ آپ نے مجھے اپنے پاس بلا کر اپنا لعاب دہن میرے منہ میں ڈالا اور فرمایا کہ اللہ کی برکات تجھے نصیب ہوں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنی انگشتری اتار کر مجھے پہنادی۔ اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے انوار اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے علوم مجھے نصیب ہوئے۔

حضرت امام شافعی کی والدہ زاہدہ، عابدہ اور امینہ تھیں۔ لوگ اپنی امانتیں آپ کے سپرد کر جاتے ایک دفعہ دو آدمی آئے۔ ایک صندوقچہ جو مال و سامان کا بھرا ہوا تھا آپ کے حوالے کردیا۔ کچھ عرصہ کے بعد ان میں سے ایک شخص آیا اور وہ صندوقچہ لے گیا۔ کچھ عرصہ کے بعد دوسرا بھی آیا اور صندوقچہ مانگا۔ تو حضرت بی بی نے بتایا کہ تمہارا ساتھی لے گیا ہے۔ اس نے کہا کہ دونوں کی حاضری کے بغیر آپ نے ایک شخص کو کیوں دے دیا۔ حضرت شافعی جن کی عمر پندرہ سال تھی آگئے۔ سارا واقعہ سننے کے بعد والدہ ماجدہ سے کہنے لگے آپ اس قدر پریشان کیوں ہیں۔ مدعی سے آپ نے پوچھا کہ صندوقچہ دیتے وقت آپ لوگوں نے یہ شرط رکھی تھی کہ ہم دونوں آئیں تو امانت دی جائے۔ اب تم جاؤ اور اپنے دوست کو ہمراہ لے آؤ تاکہ صندوقچہ دونوں کو دیا جائے۔ جب تک تم دونوں اکٹھے نہیں آؤ گے صندوقچہ واپس نہیں کیا جائے گا۔ مدعی متحیر ہوکر چلا گیا۔

ہارون الرشید ایک رات اپنی بیگم زبیدہ سے اُلجھ پڑا۔ زبیدہ نے ہارون کو دوزخی کہہ دیا۔ ہارون نے کہا: اگر میں دوزخی ہوں تو تمھیں طلاق ہو گئی۔

چنانچہ دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے ۔ زبیدہ ہارون کی محبوب بیوی تھی اور ہارون پر دل و جان سے فدا تھی۔ چنانچہ دونوں اس اتفاقیہ تلخ کلامی سے ایک جدائی میں مبتلا ہوئے۔ ہارون نے علماء بغداد کو جمع کرکے اس مسئلہ کا حل دریافت کیا اور فتویٰ چاہا کہ زبیدہ اس پر حلال ہو جائے۔ علماء کے لیے کوئی جواب نہ تھا اور کہا کہ خدائے عالم الغیب ہی جانتا ہے کہ ہارون دوزخی ہے یا جنتی!

اس مجلس سے ایک بارہ سالہ لڑکا اٹھا اور اس نے کہا: میں جواب دوں گا۔ علماء و امراء اس کی اس جرأت پر حیران رہ گئے۔ اور کہنے لگے تم دیوانے ہو۔

لیکن ہارون الرشید نے اسے اپنے پاس بلایا اور کہا اگر ہو سکتا ہے تو جواب دو۔ یہ لڑکے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔

حضرت امام شافعی نے خلیفہ کو کہا۔ چونکہ آپ سائل ہیں اس لیے تخت سے نیچے آ جائیں اور مجھے تخت پر بٹھا دیں۔ علماء وارث انبیاء ہوتے ہیں اور جانشین رسول ہیں ہارون تخت سے اتر آیا اور امام شافعی تخت نشین ہو گئے۔

ہارون نے ایک سائل کی حیثیت سے مسئلہ بیان کیا ۔ حضرت امام شافعی نے کہا: جو کچھ میں پوچھوں اس کا صحیح جواب دیا جائے اور جھوٹ قطعاً نہ ملایا جائے ۔ اب تم اپنی زندگی پر نظر دوڑا کر بتاؤ کبھی تم معصیت پر قادر ہو کر خوفِ خداوندی سے ڈر کر رُک گئے ہو ۔ ہارون نے کہا: ہاں ایک دفعہ بغداد کے ایک امیر کی ایک خوبصورت اور جواں سال لڑکی میری توجہ کا مرکز بنی، اسے میرا کچھ خیال نہ تھا ۔ ہزار ہا حیلہ و مکر کے بعد میں نے اسے طلب کر لیا اور تخلیہ میں لے جا کر اظہارِ مدعا کیا ۔ جب وہ بھی آمادۂ زنا ہو گئی تو میں خدا کے خوف سے کانپ اٹھا اور اس عورت سے علیحدہ ہو گیا ۔ حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ فرمانے لگے: اگر تم اس واقعے میں سچے ہو تو میں فتویٰ دیتا ہوں کہ تم دوزخی نہیں جنتی ہو ۔ اگر جھوٹ بول رہے ہو تو اس کا عذاب تمہاری گردن پر ہوگا ۔
1👍1
اس فتویٰ کو  سنتے ہی علماءِ مجلس نے شور برپا کر دیا کہ آپ کس دلیل سے یہ فیصلہ دے رہے ہیں ۔ آپ نے قرآن پاک کی یہ آیت تلاوت کی:

وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی ﴿ۙ۴۰﴾ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاۡوٰی ﴿ؕ۴۱﴾

ترجمۂ کنز الایمان:
اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا تو بے شک جنّت ہی ٹھکانا ہے (سورۃ النّٰزعت، ۴۰،۴۱)

لوگوں نے پوچھا کہ ہارون کے سچا ہونے کی کیا دلیل ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ اس نے یہ واقعی حلفاً بیان کیا ہے ۔ ہارون الرشید نے دوبارہ حلف اٹھایا اور اس واقعہ کی تصدیق کی ۔ علماء کرام نے فتویٰ دیا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی ۔

حضرت امام شافعی کے زمانے میں دیگر مذاہب کے بعض علماء نے علمائے اسلام سے مناظرہ شروع کر دیا ۔ بغداد میں بہت بڑا اجتماع ہوا۔ دریائے دجلہ پر بحث و مناظرہ شروع ہوا ۔ حضرت امام شافعی جو علمائے اسلام کی طرف سے آئے ہوئے تھے دریائے دجلہ کے پانی پر مصلی بچھا کر بیٹھ گئے اور کہا: غیر مذاہب کے جو علماء بحث کرنا چاہتے ہیں میرے سامنے آکر بیٹھ جائیں ۔ مگر کسی میں یہ جرأت نہ ہوئی ۔ تمام شرم سار ہو کر چلے گئے ۔

وفات:
آپ کی وفات بروز جمعہ ماہ رجب ۲۰۴ھ میں ہوئی۔ مزار پُر انوار قرانہ مصر میں ہے۔

سال ترخیلِ آں یگانہ بگو
حبیبِ اصفیا کر دم رقم ہم سال وصل او
۲۰۴ھ

سرورِ اصحابِ زمانہ بگو
کہ ذاتِ او امام و مقتداء مومناں آید

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhammad-bin-idrees-imam-shafi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1