🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-07-1445 ᴴ | 10-02-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-07-1445 ᴴ | 10-02-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ حرام پیسے سے خریدی چیز کھانے کا حکم ـ ❷ بغیر کسی عذر کے خلع مانگنا ـ ❸ نابالغ بچوں کا بے وضو قرآن کو چھونا اور نماز پڑھنا ـ ❹ وظائف میں صبح شام کی تعریف ـ ❺ نکاح کے بعد اولاد کا حصول ـ کیا اولاد پیدا کرنا ضروری ہے ـ کیا اولاد پیدا کرنا فرض یا واجب ہے ـ کیا بچے پیدا کرنا ضروری ہے ـ ❻ گاؤں میں جمعہ کا حکم ـ ❼ عورت کا کس سے پردہ ہے اور کس سے نہیں ـ ❽ ماہ محرم الحرام میں سرمہ لگانا ـ ❾ بچی کے بال کاٹنے اور مونڈنے کا حکم ـ ❿ شادی کے بعد اولاد کا حصول ـ کیا شادی کے بچے پیدا کرنا ضروری ہے ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#سوال #جواب #مسئلہ #فتوی
📇 #الرضا_قرآن_و_فقہ_اکیڈمی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ حرام پیسے سے خریدی چیز کھانے کا حکم ـ ❷ بغیر کسی عذر کے خلع مانگنا ـ ❸ نابالغ بچوں کا بے وضو قرآن کو چھونا اور نماز پڑھنا ـ ❹ وظائف میں صبح شام کی تعریف ـ ❺ نکاح کے بعد اولاد کا حصول ـ کیا اولاد پیدا کرنا ضروری ہے ـ کیا اولاد پیدا کرنا فرض یا واجب ہے ـ کیا بچے پیدا کرنا ضروری ہے ـ ❻ گاؤں میں جمعہ کا حکم ـ ❼ عورت کا کس سے پردہ ہے اور کس سے نہیں ـ ❽ ماہ محرم الحرام میں سرمہ لگانا ـ ❾ بچی کے بال کاٹنے اور مونڈنے کا حکم ـ ❿ شادی کے بعد اولاد کا حصول ـ کیا شادی کے بچے پیدا کرنا ضروری ہے ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#سوال #جواب #مسئلہ #فتوی
📇 #الرضا_قرآن_و_فقہ_اکیڈمی
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-07-1445 ᴴ | 10-02-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-07-1445 ᴴ | 10-02-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ کیا عورتوں کے لئے مہندی لگانا جائز ہے ـ ❷ مرد حضرات کو پاؤں کے تلؤں پر مہندی لگانا ـ ❸ جم ہر جانا کیسا ہے ـ ❹ نفس اور اس کی اقسام سے متعلق وضاحت ـ ❺ مرد کے بال نہ کٹوانے کی منت ماننا ـ ❻ قرآن پاک حفظ کرتے ہوئے درمیان میں چھوڑنے کا حکم ـ ❼ قرآن کی آیات کا ترجمہ یاد کرکے بھول گئے تو کیا حکم ہے ـ ❽ ضرورت سے زائد قرآن پاک کے نسخے دوسری مسجد میں رکھنا ـ ❾ ہاتھ میں قرآن پاک لئے زمین پر بیٹھنے والوں کے پاس بیڈ پر بیٹھنا کیسا ہے ـ ❿ باپ کا لڑکی کے نکاح کے عوض کثیر رقم کا مطالبہ کرنا کیسا ہے ؟ ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#سوال #جواب #مسئلہ #فتوی
#دار_الافتاء_اہلسنت دعوت اسلامی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ کیا عورتوں کے لئے مہندی لگانا جائز ہے ـ ❷ مرد حضرات کو پاؤں کے تلؤں پر مہندی لگانا ـ ❸ جم ہر جانا کیسا ہے ـ ❹ نفس اور اس کی اقسام سے متعلق وضاحت ـ ❺ مرد کے بال نہ کٹوانے کی منت ماننا ـ ❻ قرآن پاک حفظ کرتے ہوئے درمیان میں چھوڑنے کا حکم ـ ❼ قرآن کی آیات کا ترجمہ یاد کرکے بھول گئے تو کیا حکم ہے ـ ❽ ضرورت سے زائد قرآن پاک کے نسخے دوسری مسجد میں رکھنا ـ ❾ ہاتھ میں قرآن پاک لئے زمین پر بیٹھنے والوں کے پاس بیڈ پر بیٹھنا کیسا ہے ـ ❿ باپ کا لڑکی کے نکاح کے عوض کثیر رقم کا مطالبہ کرنا کیسا ہے ؟ ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#سوال #جواب #مسئلہ #فتوی
#دار_الافتاء_اہلسنت دعوت اسلامی
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
پیکر عزم و استقامت، منبع رشد و ہدایت حضرت پیر عبد الرحیم بھرچونڈی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
پیکر عزم و استقامت ، منبع رشد و ہدایت حضرت مولانا پیر عبد الرحیم شہید ابن حضرت مولانا عبد الرحمن ابن حضرت مولانا حافظ محمد عبد اللہ (قدست اسرارہم) ۱۳۳۰ھ/۱۹۱۰ء میں بھر چونڈی شریف ، ضلع سکھر میں پیدا ہوئی ۔ ساتویں دن جد امجد نے عبد الرحیم نام تجویز کیا ۔
کسی نے پوچھا حضرت! صاحبزادے کا نام کیا تجویز کیا ہے؟ فرمایا ہم نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کو پورا کیا ہے، وہ اس طرح کہ اپنا نام عبد اللہ ، صاحبزادے کا نام عبد الرحمن اور پوتے کا نام عبد الرحیم ، تینوں ناموں سے لفظ ” عبد ‘‘ ہٹانے سے بسم اللہ شریف پوری ہو جاتی ہے ۔
جد امجد حضرت شیخ ثانی کو آپ سے بہت محبت تھی۔ اکثر آپ دادا جان کے سینے پر کھیلتے رہتے تھے ۔ آ پ ابتداء ہی سے غیر معمولی ذہین تھے، جو سبق دوسرے طالب علم گنٹوں میں یاد کرتے اسے ااپ منٹوں میں یاد کر لیتے ۔ قرآن مجید کی تعلیم شروع ہوئی ، پندرہ پارے حفظ اور پندرہ ناظر ہ پڑھے ۔ درسی کتابیں پہلے حضرت مولانا عبد الکریم ( ساکن میانوالی ) سے ، پھر سراج الفقہاء مولانا سراج احمد قدس سرہ (خانپوری )سے پڑھیں اور آخرمیں حضرت علامہ سید مغفور القادری رحمہ اللہ تعالیٰ ( شاہ آباد شریف ، ضلع رحیم یار خاں ) سے پڑھنا شروع کیا ، شرح جامی ، شرح و قایہ اور مشکوٰۃ شریف تک کتابیں کود سمجھ کر پڑھیں حتٰی کہ دوسری کتابوں کے سمجھنے کا خاصا ملکہ پیدا ہو گیا ۔
حضرت پیر صاحب نہایت بلند ہمت اور بے ہاک شخصیت کے مالک تھے، اسلام اور مسلمانون کے تحفظ اور سر بلندی کے لئے کسی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہ کرتے تھیکئی ایسے واقعات پیش آئے کہ ہندووں نے نو مسلم عورتوں کو قید کر کے ارتداد پر مجبور کیا پیر صاحب کسی خطرے کو دل میں نہ لاتے ہوئے میدان آگئے اور اس وقت تک چین سے نہ بیٹھے جب تک ان نو مسلم خواتین کو آزاد نہ کرا دیا ۔
اپنے والد ماجد مجاہد اعظم حضرت مولانا عبد الرحمن قدس سر لے زیر سایہ رہ کر انجمن احیاء الاسلام اور تنظیم المشائخ کی بے مثال خدمات انجام دیں اور اس دور میں جب کہ کانگر س پوری طرح صوبۂ سندھ پر چھائی ہوئی تھی ۔ آپ نے تحریک پاکستان اور دو قومی نظریہ کی بھر پور اشاعت و حمایت کی یہ انہی مشائخ کی قربانیوں کا نتیجہ تھا کہ صوبۂ سندھ کی رائے عامہ مسلم لیگ کے حق میں ہموار ہو گئی اور عوام الناس نے بڑے جوش و خروش سے نظریۂ پاکستان کو اپنایا ۔
۱۹۴۶ء میں والد ماجد کی قیادت میں ڈیڑھ سو افراد کی جماعت کے ساتھ آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس میں شریک ہوئے اور قیام پاکستان کی پر زور تائید کی۔ اہل سنت کی اس نمائندہ کانفرنس میں متحدہ پاک و ہند کے تقریباً پانچ ہزار علماء و مشائخ کا قیام پاکستان کی خاطر اپنی تمام کوششوں کو صرف کر دینے کا عہد ایک ضرب کلیمی تھی جس نے کانگر س کے سامریوں کا طلسم توڑ کر رکھ دیا تھا ۔ احیاء الاسلام اور تنظیم المشائخ کے بعد آپ جمیعۃ علماء پاکستان ، سندھ کے نائب صدر منتخب ہوئے اور جس جرأت و ہمت اور خلوص وایثار سے جمیعت کی سر گرمیوں میں حصہ لیا اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔
۱۹۶۰ء میں شیخ ثالث حضرت مولانا عبد الرحمن قدس سرہ کے وصال کے بعد سجادہ نشین ہوئے تو آپ کی مصروفیات ہیں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا لیکن جس حسن و خوبی سے آپ نے ذمہ داریوں کو نبھایا ، موجودہ دور میں اس کی مثال پیش کرنا مشکل ہے ۔ آپ کے دل میں دین و ملت کا بے پناہ درد تھا ۔ اگر چہ آپ پر قاتلانہ حملے کئے گئے ،طرح طرح سے آپ کو اذیتیں پہنچائی گئیں لیکن اس مرد خدا کے قدم پیچھے ہٹنے کے بجائے ہمیشہ آگے ہی بڑھتے رہے ۔
۱۹۶۵ء کی جنگ میں راجھستان سیکڑ میں عملی طور پر حصہ لیا، اپنے مریدین حر مجاہدین کے کئی دستے مسلح کر کے محاذ پر بھیجے اور دوع فعہ خود محاذ پر تشریف لے گئے ۔
حضرت پیر صاحب نظریۂ زبر دست حامی تھے ۔ ۱۹۷۱ء کے انتخابات میں جمیعۃ علماء پاکستان کے صوبۂ سند کے نائب صدر ہونے کی حیثیت سے علی الاعلان اسلامی قوتوں کا ساتھ دیا اور ہر ممکن کوشش کی کہ عوام کے اذہان میں صحیح اسلامی اقدار کو اس قدر راسخ کردیا جائے کہ وہ نظریۂ اسلام کے علاسہ کسی نظرئے اور ازم کو قبول نہ کریں ۔
پیکر عزم و استقامت ، منبع رشد و ہدایت حضرت مولانا پیر عبد الرحیم شہید ابن حضرت مولانا عبد الرحمن ابن حضرت مولانا حافظ محمد عبد اللہ (قدست اسرارہم) ۱۳۳۰ھ/۱۹۱۰ء میں بھر چونڈی شریف ، ضلع سکھر میں پیدا ہوئی ۔ ساتویں دن جد امجد نے عبد الرحیم نام تجویز کیا ۔
کسی نے پوچھا حضرت! صاحبزادے کا نام کیا تجویز کیا ہے؟ فرمایا ہم نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کو پورا کیا ہے، وہ اس طرح کہ اپنا نام عبد اللہ ، صاحبزادے کا نام عبد الرحمن اور پوتے کا نام عبد الرحیم ، تینوں ناموں سے لفظ ” عبد ‘‘ ہٹانے سے بسم اللہ شریف پوری ہو جاتی ہے ۔
جد امجد حضرت شیخ ثانی کو آپ سے بہت محبت تھی۔ اکثر آپ دادا جان کے سینے پر کھیلتے رہتے تھے ۔ آ پ ابتداء ہی سے غیر معمولی ذہین تھے، جو سبق دوسرے طالب علم گنٹوں میں یاد کرتے اسے ااپ منٹوں میں یاد کر لیتے ۔ قرآن مجید کی تعلیم شروع ہوئی ، پندرہ پارے حفظ اور پندرہ ناظر ہ پڑھے ۔ درسی کتابیں پہلے حضرت مولانا عبد الکریم ( ساکن میانوالی ) سے ، پھر سراج الفقہاء مولانا سراج احمد قدس سرہ (خانپوری )سے پڑھیں اور آخرمیں حضرت علامہ سید مغفور القادری رحمہ اللہ تعالیٰ ( شاہ آباد شریف ، ضلع رحیم یار خاں ) سے پڑھنا شروع کیا ، شرح جامی ، شرح و قایہ اور مشکوٰۃ شریف تک کتابیں کود سمجھ کر پڑھیں حتٰی کہ دوسری کتابوں کے سمجھنے کا خاصا ملکہ پیدا ہو گیا ۔
حضرت پیر صاحب نہایت بلند ہمت اور بے ہاک شخصیت کے مالک تھے، اسلام اور مسلمانون کے تحفظ اور سر بلندی کے لئے کسی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہ کرتے تھیکئی ایسے واقعات پیش آئے کہ ہندووں نے نو مسلم عورتوں کو قید کر کے ارتداد پر مجبور کیا پیر صاحب کسی خطرے کو دل میں نہ لاتے ہوئے میدان آگئے اور اس وقت تک چین سے نہ بیٹھے جب تک ان نو مسلم خواتین کو آزاد نہ کرا دیا ۔
اپنے والد ماجد مجاہد اعظم حضرت مولانا عبد الرحمن قدس سر لے زیر سایہ رہ کر انجمن احیاء الاسلام اور تنظیم المشائخ کی بے مثال خدمات انجام دیں اور اس دور میں جب کہ کانگر س پوری طرح صوبۂ سندھ پر چھائی ہوئی تھی ۔ آپ نے تحریک پاکستان اور دو قومی نظریہ کی بھر پور اشاعت و حمایت کی یہ انہی مشائخ کی قربانیوں کا نتیجہ تھا کہ صوبۂ سندھ کی رائے عامہ مسلم لیگ کے حق میں ہموار ہو گئی اور عوام الناس نے بڑے جوش و خروش سے نظریۂ پاکستان کو اپنایا ۔
۱۹۴۶ء میں والد ماجد کی قیادت میں ڈیڑھ سو افراد کی جماعت کے ساتھ آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس میں شریک ہوئے اور قیام پاکستان کی پر زور تائید کی۔ اہل سنت کی اس نمائندہ کانفرنس میں متحدہ پاک و ہند کے تقریباً پانچ ہزار علماء و مشائخ کا قیام پاکستان کی خاطر اپنی تمام کوششوں کو صرف کر دینے کا عہد ایک ضرب کلیمی تھی جس نے کانگر س کے سامریوں کا طلسم توڑ کر رکھ دیا تھا ۔ احیاء الاسلام اور تنظیم المشائخ کے بعد آپ جمیعۃ علماء پاکستان ، سندھ کے نائب صدر منتخب ہوئے اور جس جرأت و ہمت اور خلوص وایثار سے جمیعت کی سر گرمیوں میں حصہ لیا اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔
۱۹۶۰ء میں شیخ ثالث حضرت مولانا عبد الرحمن قدس سرہ کے وصال کے بعد سجادہ نشین ہوئے تو آپ کی مصروفیات ہیں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا لیکن جس حسن و خوبی سے آپ نے ذمہ داریوں کو نبھایا ، موجودہ دور میں اس کی مثال پیش کرنا مشکل ہے ۔ آپ کے دل میں دین و ملت کا بے پناہ درد تھا ۔ اگر چہ آپ پر قاتلانہ حملے کئے گئے ،طرح طرح سے آپ کو اذیتیں پہنچائی گئیں لیکن اس مرد خدا کے قدم پیچھے ہٹنے کے بجائے ہمیشہ آگے ہی بڑھتے رہے ۔
۱۹۶۵ء کی جنگ میں راجھستان سیکڑ میں عملی طور پر حصہ لیا، اپنے مریدین حر مجاہدین کے کئی دستے مسلح کر کے محاذ پر بھیجے اور دوع فعہ خود محاذ پر تشریف لے گئے ۔
حضرت پیر صاحب نظریۂ زبر دست حامی تھے ۔ ۱۹۷۱ء کے انتخابات میں جمیعۃ علماء پاکستان کے صوبۂ سند کے نائب صدر ہونے کی حیثیت سے علی الاعلان اسلامی قوتوں کا ساتھ دیا اور ہر ممکن کوشش کی کہ عوام کے اذہان میں صحیح اسلامی اقدار کو اس قدر راسخ کردیا جائے کہ وہ نظریۂ اسلام کے علاسہ کسی نظرئے اور ازم کو قبول نہ کریں ۔
❤2
اسلام دشمن عناصر حضرت پیر صاھب کی با اثر شخصیت کو اپنے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ یقین کرتے تھے ۔ ۰ ۱۹۷ء میں جب سندھ میں فتنۂ دہریت عروج پر تھا ، پیر صاحب اس فتنہ کے خلاف سینہ سپر ہو گئے اور لاہور میں یوم محمد بن قاسم کے اجلاس کی صدارت کی [1]
شہادت:
۳۰ رجب المرجب ۲۱ ستمبر ( ۱۳۹۱ھ/۱۹۷۱ء) کی شام کو جب کہ حضرت پیر صاحب چار غیر مسلح آدمیوں کے ساتھ کھڑے تھے ، مخالفین نے فائرنگ کر کے آپ کو شہید کر دیا آپ کے جنازہ میں ایک لاکھ افراد نے شرکت کی ،آ پ کی آخری آرانم گاہ بھر چونڈی شریف میں ہے ۔ آپ کی شہادت سے ملت اسلامہ ایک عظیم مجاہد سے محروم ہو گئی [2]
نوٹ:۔ ہفت روزہ زندگی کے حوالے کے علاوہ باقی تمام حالات ’’ عبد الرحمن ‘‘ سے لئے گئے ہیں ۔
[1] سجاد میر: ہفت روزہ زندگی ( ۲۵ اکتوبر ۱۹۷۱ئ) ص:۱۹
[2] مغفورالقادری ، سید مولانا : عبد الرحمن ، ص ۲۰۳۔ ۲۰۸۔
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-peer-abdul-rahim-shaheed-bharchondi
شہادت:
۳۰ رجب المرجب ۲۱ ستمبر ( ۱۳۹۱ھ/۱۹۷۱ء) کی شام کو جب کہ حضرت پیر صاحب چار غیر مسلح آدمیوں کے ساتھ کھڑے تھے ، مخالفین نے فائرنگ کر کے آپ کو شہید کر دیا آپ کے جنازہ میں ایک لاکھ افراد نے شرکت کی ،آ پ کی آخری آرانم گاہ بھر چونڈی شریف میں ہے ۔ آپ کی شہادت سے ملت اسلامہ ایک عظیم مجاہد سے محروم ہو گئی [2]
نوٹ:۔ ہفت روزہ زندگی کے حوالے کے علاوہ باقی تمام حالات ’’ عبد الرحمن ‘‘ سے لئے گئے ہیں ۔
[1] سجاد میر: ہفت روزہ زندگی ( ۲۵ اکتوبر ۱۹۷۱ئ) ص:۱۹
[2] مغفورالقادری ، سید مولانا : عبد الرحمن ، ص ۲۰۳۔ ۲۰۸۔
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-peer-abdul-rahim-shaheed-bharchondi
❤2
حضرت مولانا مفتی عبد العزیز مزنگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
مولانا مفتی ابو رشید محمد عبد العزیز ابن میاں محمد فضل الدین (م یکم صفر ، ۶ نومبر ۱۳۳۷ھ/۱۹۱۸ء) ابن محمد عطاء اللہ ابن میر عبد الحکیم ابن میر قائم ابن میر شرف اللہ ابن میر زمان اللہ (یکے از خلفائے بابا نصیب الدین غازی) موضع چانگا نوالی (مضافات جلال پور جٹاں ضلع گجرات ) میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
مدرسہ رحیمیہ نیلا گنبد لاہور میں مولانا محمد عالم سے استفادہ کیا ، کچھ عرصہ مدرسہ حمید یہ انجمن حمایت اسلام لاہور میں بھی تعلمی حاصل کی ۔
مولانا کریم بخش ( والد ماجد مولانا فضل میراں متوفی ۶ ربیع الاول، اپریل ۱۳۲۵ھ /۱۹۰۷ء ) سے فیضیاب ہوئے پھر ان کے صاحبزادے ادب عربی کے مایہ ناز فاضل مولانا فضل میراں کے قابل فخر شاگرد اور داما د تھے ، مزنگ میں مرزا محمد بیگ سے جلد سازی کا کام سیکھا ، تکمیل کے بعد مسجد چاہ جھنڈی والی میں امام مقر ر ہوئے ۔ یہاں آپ نے ایک مدرسہ قائم کیا جہاں سے مزنگ کے کئی علماء فیضیاب ہوئے ، اس کے بعد عرصۂ دارز تک مسجد قلعہ مادھو مزنگ اور جامع مسجد جناز گاہ میں ملا مشاہرہ خطیب رہے ۔
انجمن اسلامیہ مزنگ کی بنیاد رکھی اور مختلف مقامات پر تبلیغ کے لئے تشریف لیجاتے رہے ۔ حکومت بربانیہ کے عہد میں آپ سنٹرل جیل میں جاکر تبلیغ کیا کرتے تھے جس سے متاثر ہو کر کئی ہند واور سکھ مشرف بہ اسلام ہو گئے ، آپ حضرت پیر قربان علی شاہ (آدم پور دو ٓابہ ضلع جالندھر)کے مرید تھے ۔
آپ مرنجاں مرنج انسان تھے، والدئہ ماجدہ ی بیحد خدمت کی اور دعائیں لیں ۔آپ کا ذریعۂ معاش تصحیح کتب تھا ، ملک دین محمد اینڈ شنز لاہور اور متعد ناشرین کی اکثر و بیشتر مطبوعات کی تصحیح کتابت آپ ہی کرتے تھے چنانچہ بہار شریعت (۱۷حصے)، تجرید الا حادیث ، اور تجرید البخاری عغیرہ کتب پر بحیثیت مصحح آپ ہی کا نام ملتا ہے ۔
آپ ہر وقت مطالعۂ کتب ، تصحیح، فتویٰ نولیسی اور تصنیف و تالیف میں مصروف رہتے ، اس دوران اگر کوئی مسئلہ دریافت کرتا تو کتب معتبرہ کے حوالہ سے جوا ب دیتے اور کسی کو ما یوس نہ کرتے ، بچے سلام کرنے حاضر ہوتے تو انہیں شیر ینی عنایت فرماکر خوش کرد یتے آپ کثیر التصانیف عالم دین تھے ، چند کتابوں کے نام یہ ہیں :۔
۱۔ الافتاء فی جواب الاستفتاء اہل سنت کے عقائد اور معمولات کو دلائل کی روشنی میں ثابت کیا ہے ۔
۲۔ عزیز المعظم فی اکرام المکرم اس بارے میں کہ سیدہ کا نکاح غیر سید سے نہیں کرنا چاہئے۔
۳۔ آفتاب ہدایت رد وافض میں ، حج کی دعائیں۔
۴۔ عزیز البیان فری تفسیر القرآن یہ تفسیر مستند تفاسیر کا خلاصہ مولوی اشرد علی تھانوی کے ترجمہ کے ساتھ حاشہ پر چھپی ہ ، اس تفسری میں مفتی صاحب کے ساتھ مولانا ابو المظفر فضل الرحمن شریک تھے۔
۵۔ عہد نامہ مترجم (مطبوعہ ملک سراج دین لاہور)
۶۔ اربعین عزیزی المعروف بہ احسن الاقوال فی احوال الابدال اس میں بڑی عر قریزی سے کام لیا گیا ہے ، اس میں ستر کتب معتبر ہ سے استفادہ کیا گیا ہے ۔
۷۔ سیرۃ النبی الخلیل سلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم (سوانح عمری سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم)
۸۔ عزیز المجلّی ( ترجمہ و تشریح منیتہ المصلی المعروف بہ مکمل صلوٰۃ الرحمن)
۹۔ قربانی کے احکام،
۱۰۔ مسائل زکوٰۃ،
۱۱ـ نسب نامۂ نبی کریم سلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔
۱۲۔ زاد الآ خرہ فی مسائل الجنازہ ۔
۱۳ ۔ تصحیح و تحشیہ عزیز المرقاۃ الیٰ مطالب مشکوٰۃ ۔
آپ کی تصانیف دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ دینی اور فقہی معلومات کے دارئرۃ المعارف ( انسائکلو پیڈیا) تھے ۔ ذوالحجہ ، فروری (۱۳۵۶ھ/۱۹۳۸ئ) میں حج و زیارت سے مشرف ہوئے ۔ الحاج مولانا میاں محمد حسین نقشبندی مجددی (ف ۱۳۷۸ھ/۱۹۵۸ئ) ساکن جگیاں ناگرہ کلاں (مضافات لاہور) حضرت مفتی صاحب کے شاگرد اور صاحب دل بزرگ تھے۔
وصال:
مفتی صاحب نے ۳۰ رجب المرجب / ۱۶ دسمبر ( ۱۳۵۶ھ/۱۹۶۳ء) کو دار فانی سے انتقال فرمایا ۔ مکرمی حکیم محمد موسیٰ امر تسری مدظلہ نے یہ تاریخ وسال نکالی ہے :۔
آہ خوش سیر عبد العزیز[1]
[1] محمد موسیٰ امر تسری ، حکیم اہل سنت : قلمی یادداشت
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-abdul-aziz-mazang
ولادت:
مولانا مفتی ابو رشید محمد عبد العزیز ابن میاں محمد فضل الدین (م یکم صفر ، ۶ نومبر ۱۳۳۷ھ/۱۹۱۸ء) ابن محمد عطاء اللہ ابن میر عبد الحکیم ابن میر قائم ابن میر شرف اللہ ابن میر زمان اللہ (یکے از خلفائے بابا نصیب الدین غازی) موضع چانگا نوالی (مضافات جلال پور جٹاں ضلع گجرات ) میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
مدرسہ رحیمیہ نیلا گنبد لاہور میں مولانا محمد عالم سے استفادہ کیا ، کچھ عرصہ مدرسہ حمید یہ انجمن حمایت اسلام لاہور میں بھی تعلمی حاصل کی ۔
مولانا کریم بخش ( والد ماجد مولانا فضل میراں متوفی ۶ ربیع الاول، اپریل ۱۳۲۵ھ /۱۹۰۷ء ) سے فیضیاب ہوئے پھر ان کے صاحبزادے ادب عربی کے مایہ ناز فاضل مولانا فضل میراں کے قابل فخر شاگرد اور داما د تھے ، مزنگ میں مرزا محمد بیگ سے جلد سازی کا کام سیکھا ، تکمیل کے بعد مسجد چاہ جھنڈی والی میں امام مقر ر ہوئے ۔ یہاں آپ نے ایک مدرسہ قائم کیا جہاں سے مزنگ کے کئی علماء فیضیاب ہوئے ، اس کے بعد عرصۂ دارز تک مسجد قلعہ مادھو مزنگ اور جامع مسجد جناز گاہ میں ملا مشاہرہ خطیب رہے ۔
انجمن اسلامیہ مزنگ کی بنیاد رکھی اور مختلف مقامات پر تبلیغ کے لئے تشریف لیجاتے رہے ۔ حکومت بربانیہ کے عہد میں آپ سنٹرل جیل میں جاکر تبلیغ کیا کرتے تھے جس سے متاثر ہو کر کئی ہند واور سکھ مشرف بہ اسلام ہو گئے ، آپ حضرت پیر قربان علی شاہ (آدم پور دو ٓابہ ضلع جالندھر)کے مرید تھے ۔
آپ مرنجاں مرنج انسان تھے، والدئہ ماجدہ ی بیحد خدمت کی اور دعائیں لیں ۔آپ کا ذریعۂ معاش تصحیح کتب تھا ، ملک دین محمد اینڈ شنز لاہور اور متعد ناشرین کی اکثر و بیشتر مطبوعات کی تصحیح کتابت آپ ہی کرتے تھے چنانچہ بہار شریعت (۱۷حصے)، تجرید الا حادیث ، اور تجرید البخاری عغیرہ کتب پر بحیثیت مصحح آپ ہی کا نام ملتا ہے ۔
آپ ہر وقت مطالعۂ کتب ، تصحیح، فتویٰ نولیسی اور تصنیف و تالیف میں مصروف رہتے ، اس دوران اگر کوئی مسئلہ دریافت کرتا تو کتب معتبرہ کے حوالہ سے جوا ب دیتے اور کسی کو ما یوس نہ کرتے ، بچے سلام کرنے حاضر ہوتے تو انہیں شیر ینی عنایت فرماکر خوش کرد یتے آپ کثیر التصانیف عالم دین تھے ، چند کتابوں کے نام یہ ہیں :۔
۱۔ الافتاء فی جواب الاستفتاء اہل سنت کے عقائد اور معمولات کو دلائل کی روشنی میں ثابت کیا ہے ۔
۲۔ عزیز المعظم فی اکرام المکرم اس بارے میں کہ سیدہ کا نکاح غیر سید سے نہیں کرنا چاہئے۔
۳۔ آفتاب ہدایت رد وافض میں ، حج کی دعائیں۔
۴۔ عزیز البیان فری تفسیر القرآن یہ تفسیر مستند تفاسیر کا خلاصہ مولوی اشرد علی تھانوی کے ترجمہ کے ساتھ حاشہ پر چھپی ہ ، اس تفسری میں مفتی صاحب کے ساتھ مولانا ابو المظفر فضل الرحمن شریک تھے۔
۵۔ عہد نامہ مترجم (مطبوعہ ملک سراج دین لاہور)
۶۔ اربعین عزیزی المعروف بہ احسن الاقوال فی احوال الابدال اس میں بڑی عر قریزی سے کام لیا گیا ہے ، اس میں ستر کتب معتبر ہ سے استفادہ کیا گیا ہے ۔
۷۔ سیرۃ النبی الخلیل سلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم (سوانح عمری سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم)
۸۔ عزیز المجلّی ( ترجمہ و تشریح منیتہ المصلی المعروف بہ مکمل صلوٰۃ الرحمن)
۹۔ قربانی کے احکام،
۱۰۔ مسائل زکوٰۃ،
۱۱ـ نسب نامۂ نبی کریم سلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔
۱۲۔ زاد الآ خرہ فی مسائل الجنازہ ۔
۱۳ ۔ تصحیح و تحشیہ عزیز المرقاۃ الیٰ مطالب مشکوٰۃ ۔
آپ کی تصانیف دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ دینی اور فقہی معلومات کے دارئرۃ المعارف ( انسائکلو پیڈیا) تھے ۔ ذوالحجہ ، فروری (۱۳۵۶ھ/۱۹۳۸ئ) میں حج و زیارت سے مشرف ہوئے ۔ الحاج مولانا میاں محمد حسین نقشبندی مجددی (ف ۱۳۷۸ھ/۱۹۵۸ئ) ساکن جگیاں ناگرہ کلاں (مضافات لاہور) حضرت مفتی صاحب کے شاگرد اور صاحب دل بزرگ تھے۔
وصال:
مفتی صاحب نے ۳۰ رجب المرجب / ۱۶ دسمبر ( ۱۳۵۶ھ/۱۹۶۳ء) کو دار فانی سے انتقال فرمایا ۔ مکرمی حکیم محمد موسیٰ امر تسری مدظلہ نے یہ تاریخ وسال نکالی ہے :۔
آہ خوش سیر عبد العزیز[1]
[1] محمد موسیٰ امر تسری ، حکیم اہل سنت : قلمی یادداشت
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-abdul-aziz-mazang
scholars.pk
Hazrat Molana Mufti Abdul Aziz Mazang
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2👍1
حضرت شیخ غلام نقشبند لکھنوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
شیخ [1] غلام نقشبند بن شیخ عطاء اللہ لکھنوی: عالمِ اجل، فاضل، اکمل، مفسر، فقیہ، حامی شریعت غراء حارس ملتِ بیضا تھے ۔
اوائل کتب درسیہ میر محمد شفیع دہلوی سے پڑھیں اور تحصیل کی دستار پیر محمد لکھنوی سے باندھی اور ان کے خلیفہ ہوئے ۔
آپ کی تدریس و تلقین سے بہت خلقت کو فیض پہنچا ۔ شاہ عالم سے آپ نے ملاقات کی اور اس نے آپ کی بڑی تعظیم و تکریم کی ۔ سید عبد الجلیل بلگرامی نے آپ سے علم حاصل کیا ۔ آپ کی تصنیفات سے تفسیر ربع قرآن المسمی بہ انوار القرآن اور اس کے حواشی اور تفسیر بعض سورہ قرآنیہ اور کتاب فرقان الانوار اور اللامعۃ العرشیہ مسئلۂ وحدتِ وجاد میں اور شرح قصیدہ خزر جیہ عروض میں وغیر ذالک یادگار ہیں ۔
وصال:
وفات آپ کی سلخ ماہِ رجب ۱۱۲۶ھ میں ہوئی اور لکھنؤ میں دفن کیے گئے ۔ ’’دار الفیض‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
1۔ ولادت ۱۰۵۱ھ آپ کی تصنیف انوار الفرقان و ازہار القرآن کے قلمی نسخے رام پور، پٹنہ اور مدارس میں موجود ہیں ۔ ( مرتب )
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ghulam-naqshband-lakhnavi
شیخ [1] غلام نقشبند بن شیخ عطاء اللہ لکھنوی: عالمِ اجل، فاضل، اکمل، مفسر، فقیہ، حامی شریعت غراء حارس ملتِ بیضا تھے ۔
اوائل کتب درسیہ میر محمد شفیع دہلوی سے پڑھیں اور تحصیل کی دستار پیر محمد لکھنوی سے باندھی اور ان کے خلیفہ ہوئے ۔
آپ کی تدریس و تلقین سے بہت خلقت کو فیض پہنچا ۔ شاہ عالم سے آپ نے ملاقات کی اور اس نے آپ کی بڑی تعظیم و تکریم کی ۔ سید عبد الجلیل بلگرامی نے آپ سے علم حاصل کیا ۔ آپ کی تصنیفات سے تفسیر ربع قرآن المسمی بہ انوار القرآن اور اس کے حواشی اور تفسیر بعض سورہ قرآنیہ اور کتاب فرقان الانوار اور اللامعۃ العرشیہ مسئلۂ وحدتِ وجاد میں اور شرح قصیدہ خزر جیہ عروض میں وغیر ذالک یادگار ہیں ۔
وصال:
وفات آپ کی سلخ ماہِ رجب ۱۱۲۶ھ میں ہوئی اور لکھنؤ میں دفن کیے گئے ۔ ’’دار الفیض‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
1۔ ولادت ۱۰۵۱ھ آپ کی تصنیف انوار الفرقان و ازہار القرآن کے قلمی نسخے رام پور، پٹنہ اور مدارس میں موجود ہیں ۔ ( مرتب )
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ghulam-naqshband-lakhnavi
❤2