فاضل شمسی فرماتے ہیں:
زیور طبع سے آراستہ ہو کر آیا
نغمہ صوفی صافی سخن شیخ و شباب
صوفی عبدالشکور آگئے کر وہ کلام
زاہدوں کے لئے اذکار ہے رندوں کی شراب
حافظ و جامی و خسرو نے جمائی محفل
مطرب رومی نے نے لی تو عراقی نے روباب
مختصر یہ ہے میرے سامنے صوفی کا کلام
ساغر حمد میں ہے نعت محمد کی شراب
اہل مشرق کے لئے ذوق تصوف تاریخ
اہل مغرب کو پسند آگیا ذکر مضراب
۱۳۸۲ھ ۱۳۸۲ھ
شعر گوئی سے تعلق نہیں مجھ کو ھاشم
چند اشعار لکھے وہ بھی عجلت بشتاب
تلامذہ:
آپ کے شاگردوں میں سے منشی سخی نیازی اکبر آبادی ( کراچی ) مشہور ہیں ۔
شادی و اولاد:
آپ کے دو صاحبزادوں کے نام یہ ہیں:
۱۔ سلطان محمد نظامی حیدر آباد
۲۔ غوث محمد نظامی گرو نگر حیدرآباد سندھ
وصال:
حضرت مولانا عبد الشکور ۱۳۹۵ھ ، ۲۶، اپریل ۱۹۷۵ء ۸۵ سال کی عمر میں حیدر آباد (سندھ) میں انتقال کیا۔ بروز جمعہ ۶، جون ۱۹۷۵ء کو آپ کا چہلم ہوا جس میں سید مختار علی اجمیری نے منقبت و قطعہ تاریخ پڑھا۔
حضرت صابر براری (کراچی ) نے قطعہ تاریخ وصال کہا:
آہ! رخصت ہو گئے ہیں عالم فانی سے آج
حضرت پیر طریقت بندہ رب غفور
زاہد کامل بھی تھے، وہ سالک و درویش بھی
بابا کمبل پوش کہلاتے تھے وہ نزدیک و دور
جو بھی ملتا آپ سے ہو جاتا شیدا آپ کا
جلوہ افشاں آپ کے چہرے پہ تھا کچھ ایسا نور
مرعہ تاریخ رحلت کہہ دواے صابر یہی
ہیں بتوفیق الہی خلد میں بابا شکور
۱۹۷۵ء
(تاریخ رفتگان جلد سوم )
[اکثر مواد حضرت کمبل پوش کے ’’دیوان ذوق تصوف ‘‘ سے لیا گیا ہے جو کہ آپ کے چہلم کے بعد کراچی سے شائع ہوا تھا اور یہ نسخہ نعتیہ محقق و اسکالر جناب شہزاد احمد نے برائے مطالعہ مہیا کیا]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-shakoor-nizami-kambal-posh
زیور طبع سے آراستہ ہو کر آیا
نغمہ صوفی صافی سخن شیخ و شباب
صوفی عبدالشکور آگئے کر وہ کلام
زاہدوں کے لئے اذکار ہے رندوں کی شراب
حافظ و جامی و خسرو نے جمائی محفل
مطرب رومی نے نے لی تو عراقی نے روباب
مختصر یہ ہے میرے سامنے صوفی کا کلام
ساغر حمد میں ہے نعت محمد کی شراب
اہل مشرق کے لئے ذوق تصوف تاریخ
اہل مغرب کو پسند آگیا ذکر مضراب
۱۳۸۲ھ ۱۳۸۲ھ
شعر گوئی سے تعلق نہیں مجھ کو ھاشم
چند اشعار لکھے وہ بھی عجلت بشتاب
تلامذہ:
آپ کے شاگردوں میں سے منشی سخی نیازی اکبر آبادی ( کراچی ) مشہور ہیں ۔
شادی و اولاد:
آپ کے دو صاحبزادوں کے نام یہ ہیں:
۱۔ سلطان محمد نظامی حیدر آباد
۲۔ غوث محمد نظامی گرو نگر حیدرآباد سندھ
وصال:
حضرت مولانا عبد الشکور ۱۳۹۵ھ ، ۲۶، اپریل ۱۹۷۵ء ۸۵ سال کی عمر میں حیدر آباد (سندھ) میں انتقال کیا۔ بروز جمعہ ۶، جون ۱۹۷۵ء کو آپ کا چہلم ہوا جس میں سید مختار علی اجمیری نے منقبت و قطعہ تاریخ پڑھا۔
حضرت صابر براری (کراچی ) نے قطعہ تاریخ وصال کہا:
آہ! رخصت ہو گئے ہیں عالم فانی سے آج
حضرت پیر طریقت بندہ رب غفور
زاہد کامل بھی تھے، وہ سالک و درویش بھی
بابا کمبل پوش کہلاتے تھے وہ نزدیک و دور
جو بھی ملتا آپ سے ہو جاتا شیدا آپ کا
جلوہ افشاں آپ کے چہرے پہ تھا کچھ ایسا نور
مرعہ تاریخ رحلت کہہ دواے صابر یہی
ہیں بتوفیق الہی خلد میں بابا شکور
۱۹۷۵ء
(تاریخ رفتگان جلد سوم )
[اکثر مواد حضرت کمبل پوش کے ’’دیوان ذوق تصوف ‘‘ سے لیا گیا ہے جو کہ آپ کے چہلم کے بعد کراچی سے شائع ہوا تھا اور یہ نسخہ نعتیہ محقق و اسکالر جناب شہزاد احمد نے برائے مطالعہ مہیا کیا]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-shakoor-nizami-kambal-posh
❤1
حضرت مولانا عزیز اللہ الحبوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مولانا محمد عزیز اللہ الحبوی ، لاڑکانہ اور خیر پور میرس کے نامور عالم ، اعلیٰ منتظم ، بیدار مغز استاد اور باصلاحیت سیاسی کارکن تھے ۔
گوٹھ مسوحب ( تحصیل و ضلع لاڑکانہ ) میں حبیب اللہ ڈیتھو کے گھر کے رجب المرجب 1370ھ کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت
پرائمری تعلیم آبائی گوٹھ مسوحب میں حاصل کی۔ اس کے بعد آپ کے والد نے گوٹھ آگانی (تحصیل لاڑکانہ ) کے مدرسہ نعیمیہ میں داخل کرایا۔
جہاں حضرت علامہ مفتی محمد صالح نعیمی کے ہاں تعلیم پائی درسی نصاب مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے ۔ جامعہ راشدیہ درگاہ شریف پیر جو گوٹھ میں رئیس العلماء حضرت علامہ تقدس علی خان بریلوی کے ہاں دورہ حدیث شریف پڑھا ۔
اس کے بعد جامعہ اویسیہ رضویہ بہاولپور میں شیخ القرآن علامہ مفتی محمد فیض احمد اویسی قادری رضوی مدظلہ العالی کے ہاں دورہ تفسیر القرآن پڑھا ۔ اور جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور سے شہادۃ العالمیہ کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی ، اس کے علاوہ محکمہ اوقاف پاکستان کی جانب سے علماء اکیڈمی (بادشاہی مسجد ) لاہور سے بھی سند حاصل کی۔
درس و تدریس
فارغ التحصیل ہونے کے بعد درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔
مدرسہ منظور الا سلام گوٹھ صدر جی بھٹیوں (تحصیل پیر جو گوٹھ ) میں مدرس رہے۔
طارق گوٹھ (نزد ٹھری میر واہ ) ۔
مدرسہ نعیمیہ گوٹھ آگانی (تحصیل لاڑکانہ ) ۔
مرکزی جامع مسجد قاسمیہ قدیم عید گاہ لاڑکانہ ۔
مسجد درگاہ حضرت قائم شاہ بخاری لاڑکانہ ۔
مدرسہ انوار مجتبیٰ پھول باغ خیر پو ر میرس ۔
مدرسہ مخزن البرکا ت لاڑکانہ میں درس و تدریس اور تنظیم سازی کے فرائض انجام دیتے رہے ۔
ڈسٹرکٹ خطیب
محکمہ اوقا ف کی جانب سے لاڑکانہ کے ڈسٹرکٹ خطیب او ر مسجد درگاہ قائم شاہ بخاری لاڑکانہ کے امام و خطیب مقرر ہوئے ۔ اس دور میں عوام الناس میں بیداری اور تنظیم سازی کے لئے کام کیا ۔ روزانہ بعد نماز فجر درس قرآن کا آغاز کیا۔ عوام اہل سنت میں بیداری کے لئے ملاقات اجلاس میٹنگ اور تنظیم سازی کا کام کیا۔
ائمہ مساجد کی تنظیم سازی اور ان کے حقوق کے لئے آواز بلند کیا۔ جماعت اہل سنت پاکستان لاڑکانہ اور جمعیت علمائے پاکستان میں کام کیا۔ ان کے پاس اہل سنت و جماعت کے لئے پروگرام تھا وہ مسلک کے لئے کچھ کرنا چاہتے تھے اسی لئے تڑپتے رہتے تھے ۔ وہ خود دار تھے اور خودداری کا سبق دیتے تھے۔ اہل سنت و جماعت کے انتشار اور تنظیم سے عدم دلچپسی سے بہت افسردہ رہتے تھے۔ اہل سنت کو مرکز دینے کے لئے مدرسہ مخزن البرکات قائم کیا ۔
شعبہ نشر و اشاعت قائم کر کے پمفلٹ شائع کئے ۔ معززین شہریوں کی میٹنگ بلواتے ۔ ائمہ مساجد کی تربیت کا پروگرام مرتب کیا۔ سالانہ عظمت خلفائے راشدین کانفرنس کی بنیاد رکھی ، جس میں ہر سال ملک کے نامور علماء و خطبا ء او ر شعلہ بیان مقررین کو مدعو فرما کر اصلاح عقائد کے حوالہ سے نئے انداز میں کام کیا ۔ یہ کانفرنس آج بھی جاری ہے اور ان کی نہ صرف یاد دلاتی ہے بلکہ ان کے لئے صدقہ جاریہ بھی ہے ۔
وہ اپنے وجود میں ایک بزم سجائے ہوئے تھے افسوس ! کہ زندگی نے وفا نہیں کی ۔ وہ حقوق اہل سنت کے حصول کے لئے ہمیشہ سر گرم رہے ۔ اور اہل سنت و جماعت کو جگاتے رہے ۔ وہ اہل سنت و جماعت کا تنظیمی سر مایہ تھے۔ وہ فقیر راشدی کے دوست تھے، تنظیمی ساتھی تھے ہر موڑ پر ساتھ تھے آج ان کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
مدرسہ مخزن البرکات کا قیام
اپنے پروگرام کو وسعت دینے کے لئے انہیں ایک مرکز کی ضرورت محسوس ہوئی ، اس لئے 1980ء میں اپنی خاندانی زمین فروخت کر کے ، لاڑکانہ شہر مین گلشن مصطفی ہاوٗسنگ سوسائٹی میں 6000 ہزار فٹ اراضی پر مشتمل پلاٹ خرید کر جامعہ رضویہ مخزن البرکات کی بنیاد رکھی ۔
اس کے بعد تعمیر و ترقی کے کٹھن مراحل سے گذر کے تین کمرے اور ایک کچن تعمیر کرواکے درس و تدریس کا آغاز کر دیا۔ علامہ الحبوی کے انتقال سے ان کا پروگرام متاثر ہوا۔ لاڑکانہ شہر میں یہ پہلا مدرسہ تھا جس کا اپنا باورچی خانہ تھا۔
جس نے مدارس کے منتظمین کو نمونہ فراہم کیا کہ مدارس میں اپنا کچن قائم کریں او ر طلباء کو گھر گھر روٹی پانی کے لئے بھیج کر ان کی عزت نفس کو مجروح نہ کریں۔ اپنے پیر حاجی الہ آندل شیخ نقشبندی صاحب کو ترغیب دلا کر تیار کیا اور ان سے خیر پور میرس شہر میں دارالعلوم انوار مجتبیٰ قائم کروایا ۔
یہ مدرسہ خیر پور شہر میں اہل سنت و جماعت کا اولین مدرسہ ہے ۔ مدرسہ اور متصل جامع مسجد مدینہ کو آج بھی خیر پور شہر میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ خیر پور میرس میں اہل سنت اور دیوبندی وہابی دونوں اکٹھے 12 ربیع الاول کو جلوس میلاد النبی ﷺ نکالتے تھے۔ اہل سنت والے محبت رسول میں اور دیو بندی بغض شیعہ میں یہ جلوس نکالا کرتے تھے ۔آپ نے مدرسہ قائم فرمانے کے بعد سب سے پہلے یہ کام کیا کہ جلوس میلادالنبی ﷺ کے لئے تمام تنظیموں کااجلا س بلایا اور انہیں سمجھا یا کہ ہمارا جلوس، وہابیوں کے
مولانا محمد عزیز اللہ الحبوی ، لاڑکانہ اور خیر پور میرس کے نامور عالم ، اعلیٰ منتظم ، بیدار مغز استاد اور باصلاحیت سیاسی کارکن تھے ۔
گوٹھ مسوحب ( تحصیل و ضلع لاڑکانہ ) میں حبیب اللہ ڈیتھو کے گھر کے رجب المرجب 1370ھ کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت
پرائمری تعلیم آبائی گوٹھ مسوحب میں حاصل کی۔ اس کے بعد آپ کے والد نے گوٹھ آگانی (تحصیل لاڑکانہ ) کے مدرسہ نعیمیہ میں داخل کرایا۔
جہاں حضرت علامہ مفتی محمد صالح نعیمی کے ہاں تعلیم پائی درسی نصاب مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے ۔ جامعہ راشدیہ درگاہ شریف پیر جو گوٹھ میں رئیس العلماء حضرت علامہ تقدس علی خان بریلوی کے ہاں دورہ حدیث شریف پڑھا ۔
اس کے بعد جامعہ اویسیہ رضویہ بہاولپور میں شیخ القرآن علامہ مفتی محمد فیض احمد اویسی قادری رضوی مدظلہ العالی کے ہاں دورہ تفسیر القرآن پڑھا ۔ اور جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور سے شہادۃ العالمیہ کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی ، اس کے علاوہ محکمہ اوقاف پاکستان کی جانب سے علماء اکیڈمی (بادشاہی مسجد ) لاہور سے بھی سند حاصل کی۔
درس و تدریس
فارغ التحصیل ہونے کے بعد درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔
مدرسہ منظور الا سلام گوٹھ صدر جی بھٹیوں (تحصیل پیر جو گوٹھ ) میں مدرس رہے۔
طارق گوٹھ (نزد ٹھری میر واہ ) ۔
مدرسہ نعیمیہ گوٹھ آگانی (تحصیل لاڑکانہ ) ۔
مرکزی جامع مسجد قاسمیہ قدیم عید گاہ لاڑکانہ ۔
مسجد درگاہ حضرت قائم شاہ بخاری لاڑکانہ ۔
مدرسہ انوار مجتبیٰ پھول باغ خیر پو ر میرس ۔
مدرسہ مخزن البرکا ت لاڑکانہ میں درس و تدریس اور تنظیم سازی کے فرائض انجام دیتے رہے ۔
ڈسٹرکٹ خطیب
محکمہ اوقا ف کی جانب سے لاڑکانہ کے ڈسٹرکٹ خطیب او ر مسجد درگاہ قائم شاہ بخاری لاڑکانہ کے امام و خطیب مقرر ہوئے ۔ اس دور میں عوام الناس میں بیداری اور تنظیم سازی کے لئے کام کیا ۔ روزانہ بعد نماز فجر درس قرآن کا آغاز کیا۔ عوام اہل سنت میں بیداری کے لئے ملاقات اجلاس میٹنگ اور تنظیم سازی کا کام کیا۔
ائمہ مساجد کی تنظیم سازی اور ان کے حقوق کے لئے آواز بلند کیا۔ جماعت اہل سنت پاکستان لاڑکانہ اور جمعیت علمائے پاکستان میں کام کیا۔ ان کے پاس اہل سنت و جماعت کے لئے پروگرام تھا وہ مسلک کے لئے کچھ کرنا چاہتے تھے اسی لئے تڑپتے رہتے تھے ۔ وہ خود دار تھے اور خودداری کا سبق دیتے تھے۔ اہل سنت و جماعت کے انتشار اور تنظیم سے عدم دلچپسی سے بہت افسردہ رہتے تھے۔ اہل سنت کو مرکز دینے کے لئے مدرسہ مخزن البرکات قائم کیا ۔
شعبہ نشر و اشاعت قائم کر کے پمفلٹ شائع کئے ۔ معززین شہریوں کی میٹنگ بلواتے ۔ ائمہ مساجد کی تربیت کا پروگرام مرتب کیا۔ سالانہ عظمت خلفائے راشدین کانفرنس کی بنیاد رکھی ، جس میں ہر سال ملک کے نامور علماء و خطبا ء او ر شعلہ بیان مقررین کو مدعو فرما کر اصلاح عقائد کے حوالہ سے نئے انداز میں کام کیا ۔ یہ کانفرنس آج بھی جاری ہے اور ان کی نہ صرف یاد دلاتی ہے بلکہ ان کے لئے صدقہ جاریہ بھی ہے ۔
وہ اپنے وجود میں ایک بزم سجائے ہوئے تھے افسوس ! کہ زندگی نے وفا نہیں کی ۔ وہ حقوق اہل سنت کے حصول کے لئے ہمیشہ سر گرم رہے ۔ اور اہل سنت و جماعت کو جگاتے رہے ۔ وہ اہل سنت و جماعت کا تنظیمی سر مایہ تھے۔ وہ فقیر راشدی کے دوست تھے، تنظیمی ساتھی تھے ہر موڑ پر ساتھ تھے آج ان کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
مدرسہ مخزن البرکات کا قیام
اپنے پروگرام کو وسعت دینے کے لئے انہیں ایک مرکز کی ضرورت محسوس ہوئی ، اس لئے 1980ء میں اپنی خاندانی زمین فروخت کر کے ، لاڑکانہ شہر مین گلشن مصطفی ہاوٗسنگ سوسائٹی میں 6000 ہزار فٹ اراضی پر مشتمل پلاٹ خرید کر جامعہ رضویہ مخزن البرکات کی بنیاد رکھی ۔
اس کے بعد تعمیر و ترقی کے کٹھن مراحل سے گذر کے تین کمرے اور ایک کچن تعمیر کرواکے درس و تدریس کا آغاز کر دیا۔ علامہ الحبوی کے انتقال سے ان کا پروگرام متاثر ہوا۔ لاڑکانہ شہر میں یہ پہلا مدرسہ تھا جس کا اپنا باورچی خانہ تھا۔
جس نے مدارس کے منتظمین کو نمونہ فراہم کیا کہ مدارس میں اپنا کچن قائم کریں او ر طلباء کو گھر گھر روٹی پانی کے لئے بھیج کر ان کی عزت نفس کو مجروح نہ کریں۔ اپنے پیر حاجی الہ آندل شیخ نقشبندی صاحب کو ترغیب دلا کر تیار کیا اور ان سے خیر پور میرس شہر میں دارالعلوم انوار مجتبیٰ قائم کروایا ۔
یہ مدرسہ خیر پور شہر میں اہل سنت و جماعت کا اولین مدرسہ ہے ۔ مدرسہ اور متصل جامع مسجد مدینہ کو آج بھی خیر پور شہر میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ خیر پور میرس میں اہل سنت اور دیوبندی وہابی دونوں اکٹھے 12 ربیع الاول کو جلوس میلاد النبی ﷺ نکالتے تھے۔ اہل سنت والے محبت رسول میں اور دیو بندی بغض شیعہ میں یہ جلوس نکالا کرتے تھے ۔آپ نے مدرسہ قائم فرمانے کے بعد سب سے پہلے یہ کام کیا کہ جلوس میلادالنبی ﷺ کے لئے تمام تنظیموں کااجلا س بلایا اور انہیں سمجھا یا کہ ہمارا جلوس، وہابیوں کے
❤1
جلوس کے ساتھ نہیں بلکہ جدا اپنے علماء و مشائخ کی قیادت میں نکلے گا اور اختتام پر پھول باغ میں جلسہ کا انعقاد ہو گا ۔ اس طرح اہل سنت کے تشخص کو اجاگر کیا۔
بیعت
حضرت منظور حسین مدنی خاصخیلی (خیر پور میرس ) کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت تھے اور ان کے خلیفہ حاجی الہ آندل شیخ سے خلافت ملی ہوئی تھی۔
تصنیف و تالیف
وہ تصنیف و تالیف کی اہمیت سے غافل نہ تھے ، وقت بوقت چھوٹے چھوٹے رسائل پمفلٹ اور طغر ے وغیرہ لکھتے اور شائع کرتے رہتے تھے۔
کنز الایمان فی ترجمۃ القرآن مع خزائن العرفان (امام احمد رضا خان بریلوی ) کا سندھی ترجمہ (قلمی ) پہلا پارہ آپ نے چھپوایا تھا۔
علم غیب ، نورانیت ، حاضر و ناظر وغیرہ موضوعات پر چارٹر ؍طغر ے لکھ کر شائع کئے ۔
عرصہ بعد وہ طغر ے نایاب ہو گئے اس لئے ادارہ پیغام رضا حیدرآباد ؍کراچی نے کثیر تعداد میں چھپوا کر سندھ بھر میں مفت تقسیم کئے اورمساجد میں آویزاں کئے ۔
رحمت عالم
سوانح امام ربانی
نشری تقریری
اذان میں صلوٰۃ و سلام پڑھنے کا حکم (سندھی )
تلبیس الاحوال فی عمل ابوجھل بجواب حاجی ابو جھل (مولوی اللہ بخش غیر مقلد کے پمفلٹ کارد ) (سندھی )
تلامذہ
آپ کے نامور شاگرد درج ذیل ہیں :
مولانا عبدالقادر سہتو امام مدینہ مسجد لاڑکانہ
مولانا علی حسن مہیسر امام خیر شاہ مسجد لاڑکانہ
مولانا نثار احمد الحبوی عربی ٹیچر ہائی اسکول لاڑکانہ
اولاد
آپ کو ۴ بیٹیاں اور تین بیٹے تولد ہوئے :
محمد جمیل
محمد سلیم
زین العابدین ڈیتھو
وصال
مولانا کی انقلابی زندگی پر ان کے استاد ، ادیب اہل سنت شیخ الحدیث علامہ عبدالحکیم شرف قادری مدظلہ العالی (لاہور ) کا گہرا اثر تھا ۔ شکار پور میں شب معراج 27، رجب المرجب کو جلسہ عید معرا ج النبی ﷺ منعقد تھا۔ مولانا الحبوی کا خصوصی خطاب تھا ۔ آپ 26 ، رجب کو شام کو مدرسہ سے نکلے کہ ایک گھنٹہ میں وہاں پہنچ کر خطاب کروں گا ۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، آپ نے سفر وین کے ذریعے کیا راستہ میں وین کا ایکسیڈنٹ ہوا اور مولانا اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے ۔ لاش ایمبولینس کے ذریعے معراج میں مدرسہ پہنچائی گئی ۔ دوسرے روز نماز جنازہ ہوئی ۔ آپ کا مزار مدرسہ مخزن البرکات لاڑکانہ میں واقع ہے۔ بتاریخ 27، رجب 1407ھ؍ 28، مارچ 1987ء کو 37سال کی عمر میں انتقال کیا۔
[مرحوم کے برادر اصغر مولانا نثار احمد سے موصول شدہ مواد اور اپنی یا داشت ]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-azizullah-alhabvi
بیعت
حضرت منظور حسین مدنی خاصخیلی (خیر پور میرس ) کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت تھے اور ان کے خلیفہ حاجی الہ آندل شیخ سے خلافت ملی ہوئی تھی۔
تصنیف و تالیف
وہ تصنیف و تالیف کی اہمیت سے غافل نہ تھے ، وقت بوقت چھوٹے چھوٹے رسائل پمفلٹ اور طغر ے وغیرہ لکھتے اور شائع کرتے رہتے تھے۔
کنز الایمان فی ترجمۃ القرآن مع خزائن العرفان (امام احمد رضا خان بریلوی ) کا سندھی ترجمہ (قلمی ) پہلا پارہ آپ نے چھپوایا تھا۔
علم غیب ، نورانیت ، حاضر و ناظر وغیرہ موضوعات پر چارٹر ؍طغر ے لکھ کر شائع کئے ۔
عرصہ بعد وہ طغر ے نایاب ہو گئے اس لئے ادارہ پیغام رضا حیدرآباد ؍کراچی نے کثیر تعداد میں چھپوا کر سندھ بھر میں مفت تقسیم کئے اورمساجد میں آویزاں کئے ۔
رحمت عالم
سوانح امام ربانی
نشری تقریری
اذان میں صلوٰۃ و سلام پڑھنے کا حکم (سندھی )
تلبیس الاحوال فی عمل ابوجھل بجواب حاجی ابو جھل (مولوی اللہ بخش غیر مقلد کے پمفلٹ کارد ) (سندھی )
تلامذہ
آپ کے نامور شاگرد درج ذیل ہیں :
مولانا عبدالقادر سہتو امام مدینہ مسجد لاڑکانہ
مولانا علی حسن مہیسر امام خیر شاہ مسجد لاڑکانہ
مولانا نثار احمد الحبوی عربی ٹیچر ہائی اسکول لاڑکانہ
اولاد
آپ کو ۴ بیٹیاں اور تین بیٹے تولد ہوئے :
محمد جمیل
محمد سلیم
زین العابدین ڈیتھو
وصال
مولانا کی انقلابی زندگی پر ان کے استاد ، ادیب اہل سنت شیخ الحدیث علامہ عبدالحکیم شرف قادری مدظلہ العالی (لاہور ) کا گہرا اثر تھا ۔ شکار پور میں شب معراج 27، رجب المرجب کو جلسہ عید معرا ج النبی ﷺ منعقد تھا۔ مولانا الحبوی کا خصوصی خطاب تھا ۔ آپ 26 ، رجب کو شام کو مدرسہ سے نکلے کہ ایک گھنٹہ میں وہاں پہنچ کر خطاب کروں گا ۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، آپ نے سفر وین کے ذریعے کیا راستہ میں وین کا ایکسیڈنٹ ہوا اور مولانا اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے ۔ لاش ایمبولینس کے ذریعے معراج میں مدرسہ پہنچائی گئی ۔ دوسرے روز نماز جنازہ ہوئی ۔ آپ کا مزار مدرسہ مخزن البرکات لاڑکانہ میں واقع ہے۔ بتاریخ 27، رجب 1407ھ؍ 28، مارچ 1987ء کو 37سال کی عمر میں انتقال کیا۔
[مرحوم کے برادر اصغر مولانا نثار احمد سے موصول شدہ مواد اور اپنی یا داشت ]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-azizullah-alhabvi
❤1
حضرت مولانا حکیم فقیر محمد امرتسری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
فخر الاطباء عارف باللہ مولانا حکیم فقیر محمد چشتی نظامی قریباً 1864ء میں حکیم میاں نبی بخش کےگھر پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
والد بزرگوار، و مولانا ہاشم علی، مولوی حکیم محمد ابراہیم امر تسری المتوفی 1342ھ مولانا نور احمد المتوفی 1348ھ محشی مکتوبات مجدد الف ثانی سے درسیات نظامی پڑھیں، فاضل اجل علامہ محمد عالم آسی امر تسری سے خصوصی استفادہ کیا، طب کی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی ـ
بیعت:
سلسلہ چشتیہ میں حضرت مولانا الحاج میاں علی محمد صاحب مدظلہٗ العالی کے مُرید تھے ـ
درس نظامی میں مہارت تامہ کے باوجود طبعی مناسبت طب سے تھی، اس لیے اس طرف توجہ مبذول کی، تشخیص میں آپ کو حیرت انگیز مہارت تھی، مضرو دوا سے علاج کرتے تھے، اور اس میں کافی شہرت حاصل کی، آپ کی زندگانی کے اصل پہلو پر فن طب کی مہارت نے پردہ ڈاق رکھا تھا، در اصل آپ صاحب عرفان و مقام بزرگ تھے ـ
وصال:
27 رجب 1371ھ میں لاہور میں وفات پائی، حضرت میاں میر قدس سرہٗ کے احاطہ میں مزار کی جنوبی دیوار کے زیر سایہ بیرونی جانب آرام فرما ہیں ۔ مشہور اہل علم و قلم حکیم محمد موسیٰ امر تسری مدظلہ آپ کے نامور فرزند ہیں ـ تاریخ وفات: اہل عرفان فقیر محمد قرین محمد’’ ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-faqeer-muhammad-amartasri
ولادت:
فخر الاطباء عارف باللہ مولانا حکیم فقیر محمد چشتی نظامی قریباً 1864ء میں حکیم میاں نبی بخش کےگھر پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
والد بزرگوار، و مولانا ہاشم علی، مولوی حکیم محمد ابراہیم امر تسری المتوفی 1342ھ مولانا نور احمد المتوفی 1348ھ محشی مکتوبات مجدد الف ثانی سے درسیات نظامی پڑھیں، فاضل اجل علامہ محمد عالم آسی امر تسری سے خصوصی استفادہ کیا، طب کی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی ـ
بیعت:
سلسلہ چشتیہ میں حضرت مولانا الحاج میاں علی محمد صاحب مدظلہٗ العالی کے مُرید تھے ـ
درس نظامی میں مہارت تامہ کے باوجود طبعی مناسبت طب سے تھی، اس لیے اس طرف توجہ مبذول کی، تشخیص میں آپ کو حیرت انگیز مہارت تھی، مضرو دوا سے علاج کرتے تھے، اور اس میں کافی شہرت حاصل کی، آپ کی زندگانی کے اصل پہلو پر فن طب کی مہارت نے پردہ ڈاق رکھا تھا، در اصل آپ صاحب عرفان و مقام بزرگ تھے ـ
وصال:
27 رجب 1371ھ میں لاہور میں وفات پائی، حضرت میاں میر قدس سرہٗ کے احاطہ میں مزار کی جنوبی دیوار کے زیر سایہ بیرونی جانب آرام فرما ہیں ۔ مشہور اہل علم و قلم حکیم محمد موسیٰ امر تسری مدظلہ آپ کے نامور فرزند ہیں ـ تاریخ وفات: اہل عرفان فقیر محمد قرین محمد’’ ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-faqeer-muhammad-amartasri
❤1
حضرت مولانا خواجہ احمد حسین امرو ہوی رحمۃ ا للہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا خواجہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: شیخ المشائخ، امام العلماء ۔ والد کا اسم گرامی: شیخ المشائخ حضرت خواجہ حافظ محمد عباس علی خان علیہ الرحمہ ۔
سلسلۂ نسب:
آپ کا سلسلۂ نسب بہ واسطہ حضرت مولانا سید شاہ فخر الدین احمد، حضرت حکیم بادشاہ الہ آبادی، و مولانا سید محمد عاشق ، ومولانا شاہ ابو الحسن نصیر آبادی، و مولانا مراد اللہ تھانیسری ، ومولانا نعیم اللہ بہرائچی ،حضرت مرزا جان جاناں تک پہنچتا ہے ۔ یہ وہی مولانا نعیم اللہ ہیں جن کو حضرت مرزا صاحب نے مکتوبات شریف دے کر فرمایا تھا: "لو امانت حضرت مجدد علیہ الرحمہ آپ کو تفویض کر دی گئی ہے، یہ تمام خزانوں سے بڑا خزانہ ہے" ۔ (جواہر مجددیہ:7) ۔
اسی طرح آپ کے خاندان کےایک اور بزرگ حضرت شیخ جان محمد خان قادری بلخی علیہ الرحمہ حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کے خلیفہ تھے ۔ یہ خاندان صاحب تقویٰ و طہارت، علمی و روحانی دولت سے مالا مال، اور بالخصوص حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کی روحانی و علمی امانتوں کا حامل خاندان ہے ۔ اس خاندان میں بڑے بڑے صوفیاء کرام گزرے ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 24 شعبان المعظم 1289ھ / مطابق آخر ماہ اکتوبر 1872ء کو "امروہہ" ضلع مراد آباد میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت علمی و روحانی ماحول میں ہوئی ۔ آپ بے حد ذہین تھے، آپ کے چہرے سے ہی ذہانت و فطانت کے آثار نظر آتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ مولوی احمد حسن امروہوی شاگرد خاص مولوی قاسم نانوتوی نے آپ کی ذہانت سے متاثر ہو کر از خود آپ کو اپنے مدرسہ میں داخل کر لیا ۔ تذکرۃ الکرام میں مرقوم ہے کہ مولوی احمد حسن آپ کو "علامہ بایزید" کے لقب سے پکارتے تھے، اور آپ کی شاگردی پر فخر کرتے ۔ مگر آپ اپنے استاذ کے عقائد سے قطعی متاثر نہ ہوئے، بلکہ علی الاعلان استاد کے عقائد و نظریات کی تردید کرتے تھے ۔ یہ آپ کے جد اعلیٰ حضرت شیخ جان محمد خاں قادری بلخی خلیفہ امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہما کا فیض واثر تھا، کہ وہابیہ میں رہ کر چھوٹی سی عمر میں ان سے متأثر نہ ہوئے، اور اپنے عقائد و نظریات پر نہ صرف قائم رہے بلکہ ان کے باطل عقائد کا رد بھی کرتے رہے ۔ جامع المعقولات حضرت مولانا لطف اللہ علی گڑھی اور حضرت مولانا انوار اللہ حیدر آبادی (مصنف انوار احمدی) سے بھی استفادہ کیا ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت، ص:47) ـ
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد گرامی حضرت شیخ المشائخ خواجہ محمد عباس علی خان علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت سے سرفراز کیے گئے، حضرت سید محمد معروف علی شاہ قادری حیدر آبادی نے بھی اجازت دی تھی ۔ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت نےآپ کو خلافت و جازت کاشرف عطا فرمایا ۔ آپ کی رفعتِ شان کی بدولت متعدد مشائخ نےآپ کواجازت وخلافت کے شرف سے مشرف فرمایا ۔ (خلفائے اعلیٰ حضرت ص:127) ـ
سیرت و خصائص:
صاحبِ جودوسخا،مجمع السلاسل،جامع فضائل وخصائص،بحرِ طریقت،حبر ِشریعت،امام العلماء،سیدالاتقیاء،سندالاصفیاء،رئیس الحکماء،حامیِ دین مصطفیٰﷺ،ماحیِ اہل بدع والہواء،صاحبِ تصانیفِ کثیرہ،محبوبِ ربِ کونین حضرت مولانا خواجہ شاہ احمد حسین نقشبندی قادری امروہوی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کےایک جید عالم دین اور شیخِ طریقت تھے،اپنے خاندان کی علمی وروحانی امانتوں کےوارث اور اہل ِ حق اہل سنت وجماعت کےسچے نقیب تھے۔بچپن میں ہی چہرے سےبزرگی وفطانت کے آثار نمایاں تھے۔مدرسے میں ہمیشہ نمایاں نمبروں سےکامیاب ہوتےرہے،بہت جلد علوم نقلیہ وعقلیہ میں مہارت حاصل کرلی،اوردینِ متین کے فروغ وترقی کےلئے کوشاں ہوگئے۔
حضرت مولانا شاہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ علم تقویٰ کی بدولت بہت جلد عوام وخواص میں بہت مقبول ہوگئے۔آپ قابل رشک شخصیت کےمالک تھے۔احقاق حق اور ابطال باطل آپ کی زندگی کاایک اہم مقصد تھا۔اس کےلئے کسی کی رو رعایت کے قائل نہیں تھے۔اسی وجہ سے علماء ومشائخِ اہل سنت کی عقیدتوں کا محور تھے۔ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت سےخصوصی محبت تھی۔مجددوقت کی زیارت کےلئے 24/رمضان المبارک 1331ھ،مطابق اگست/1913ء کوبارگاہ اعلی حضرت میں پہنچے۔مغرب کا وقت تھا،اعلیٰ حضرت کی اقتداء میں نماز اداکی،امام اہلسنت کی نگاہ لطف وعنایت سلام پھیرتےہی آپ پر پڑی، اعلیٰ حضرت نے سلام پھیرتے ہی اپنے سرکا عمامہ اتار کر آپ کو مرحمت فرمایا،اور" تاج الفیوض "کےنام سےفی البدیہہ تاریخ فرماکرعزت بخشی۔
اس اعزاز واکرام کاسبب یہ ہوا کہ دوران جماعت اعلی ٰ حضرت علیہ الرحمہ کوحضرت غوث الثقلین رضی اللہ عنہ نےمولانا کی رفعت ِ مرتبت کےباعث اجازت وخلافت عطاء کرنےکاارشاد فرمایاتھا۔(تذکرہ علماء اہل سنت:47/خلفائے اعلی حضرت:127)
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا خواجہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: شیخ المشائخ، امام العلماء ۔ والد کا اسم گرامی: شیخ المشائخ حضرت خواجہ حافظ محمد عباس علی خان علیہ الرحمہ ۔
سلسلۂ نسب:
آپ کا سلسلۂ نسب بہ واسطہ حضرت مولانا سید شاہ فخر الدین احمد، حضرت حکیم بادشاہ الہ آبادی، و مولانا سید محمد عاشق ، ومولانا شاہ ابو الحسن نصیر آبادی، و مولانا مراد اللہ تھانیسری ، ومولانا نعیم اللہ بہرائچی ،حضرت مرزا جان جاناں تک پہنچتا ہے ۔ یہ وہی مولانا نعیم اللہ ہیں جن کو حضرت مرزا صاحب نے مکتوبات شریف دے کر فرمایا تھا: "لو امانت حضرت مجدد علیہ الرحمہ آپ کو تفویض کر دی گئی ہے، یہ تمام خزانوں سے بڑا خزانہ ہے" ۔ (جواہر مجددیہ:7) ۔
اسی طرح آپ کے خاندان کےایک اور بزرگ حضرت شیخ جان محمد خان قادری بلخی علیہ الرحمہ حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کے خلیفہ تھے ۔ یہ خاندان صاحب تقویٰ و طہارت، علمی و روحانی دولت سے مالا مال، اور بالخصوص حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کی روحانی و علمی امانتوں کا حامل خاندان ہے ۔ اس خاندان میں بڑے بڑے صوفیاء کرام گزرے ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 24 شعبان المعظم 1289ھ / مطابق آخر ماہ اکتوبر 1872ء کو "امروہہ" ضلع مراد آباد میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت علمی و روحانی ماحول میں ہوئی ۔ آپ بے حد ذہین تھے، آپ کے چہرے سے ہی ذہانت و فطانت کے آثار نظر آتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ مولوی احمد حسن امروہوی شاگرد خاص مولوی قاسم نانوتوی نے آپ کی ذہانت سے متاثر ہو کر از خود آپ کو اپنے مدرسہ میں داخل کر لیا ۔ تذکرۃ الکرام میں مرقوم ہے کہ مولوی احمد حسن آپ کو "علامہ بایزید" کے لقب سے پکارتے تھے، اور آپ کی شاگردی پر فخر کرتے ۔ مگر آپ اپنے استاذ کے عقائد سے قطعی متاثر نہ ہوئے، بلکہ علی الاعلان استاد کے عقائد و نظریات کی تردید کرتے تھے ۔ یہ آپ کے جد اعلیٰ حضرت شیخ جان محمد خاں قادری بلخی خلیفہ امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہما کا فیض واثر تھا، کہ وہابیہ میں رہ کر چھوٹی سی عمر میں ان سے متأثر نہ ہوئے، اور اپنے عقائد و نظریات پر نہ صرف قائم رہے بلکہ ان کے باطل عقائد کا رد بھی کرتے رہے ۔ جامع المعقولات حضرت مولانا لطف اللہ علی گڑھی اور حضرت مولانا انوار اللہ حیدر آبادی (مصنف انوار احمدی) سے بھی استفادہ کیا ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت، ص:47) ـ
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد گرامی حضرت شیخ المشائخ خواجہ محمد عباس علی خان علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت سے سرفراز کیے گئے، حضرت سید محمد معروف علی شاہ قادری حیدر آبادی نے بھی اجازت دی تھی ۔ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت نےآپ کو خلافت و جازت کاشرف عطا فرمایا ۔ آپ کی رفعتِ شان کی بدولت متعدد مشائخ نےآپ کواجازت وخلافت کے شرف سے مشرف فرمایا ۔ (خلفائے اعلیٰ حضرت ص:127) ـ
سیرت و خصائص:
صاحبِ جودوسخا،مجمع السلاسل،جامع فضائل وخصائص،بحرِ طریقت،حبر ِشریعت،امام العلماء،سیدالاتقیاء،سندالاصفیاء،رئیس الحکماء،حامیِ دین مصطفیٰﷺ،ماحیِ اہل بدع والہواء،صاحبِ تصانیفِ کثیرہ،محبوبِ ربِ کونین حضرت مولانا خواجہ شاہ احمد حسین نقشبندی قادری امروہوی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کےایک جید عالم دین اور شیخِ طریقت تھے،اپنے خاندان کی علمی وروحانی امانتوں کےوارث اور اہل ِ حق اہل سنت وجماعت کےسچے نقیب تھے۔بچپن میں ہی چہرے سےبزرگی وفطانت کے آثار نمایاں تھے۔مدرسے میں ہمیشہ نمایاں نمبروں سےکامیاب ہوتےرہے،بہت جلد علوم نقلیہ وعقلیہ میں مہارت حاصل کرلی،اوردینِ متین کے فروغ وترقی کےلئے کوشاں ہوگئے۔
حضرت مولانا شاہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ علم تقویٰ کی بدولت بہت جلد عوام وخواص میں بہت مقبول ہوگئے۔آپ قابل رشک شخصیت کےمالک تھے۔احقاق حق اور ابطال باطل آپ کی زندگی کاایک اہم مقصد تھا۔اس کےلئے کسی کی رو رعایت کے قائل نہیں تھے۔اسی وجہ سے علماء ومشائخِ اہل سنت کی عقیدتوں کا محور تھے۔ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت سےخصوصی محبت تھی۔مجددوقت کی زیارت کےلئے 24/رمضان المبارک 1331ھ،مطابق اگست/1913ء کوبارگاہ اعلی حضرت میں پہنچے۔مغرب کا وقت تھا،اعلیٰ حضرت کی اقتداء میں نماز اداکی،امام اہلسنت کی نگاہ لطف وعنایت سلام پھیرتےہی آپ پر پڑی، اعلیٰ حضرت نے سلام پھیرتے ہی اپنے سرکا عمامہ اتار کر آپ کو مرحمت فرمایا،اور" تاج الفیوض "کےنام سےفی البدیہہ تاریخ فرماکرعزت بخشی۔
اس اعزاز واکرام کاسبب یہ ہوا کہ دوران جماعت اعلی ٰ حضرت علیہ الرحمہ کوحضرت غوث الثقلین رضی اللہ عنہ نےمولانا کی رفعت ِ مرتبت کےباعث اجازت وخلافت عطاء کرنےکاارشاد فرمایاتھا۔(تذکرہ علماء اہل سنت:47/خلفائے اعلی حضرت:127)
❤1
آپ نے1894ء کو"مطبع انتظامی" کےنام سے امروہہ میں ایک پرنٹنگ پریس کی بنیاد ڈالی اور"گلدستۂ نسیم چمن" کےنام سےایک ماہنامہ بھی جاری کیا۔اسی طرح حیدرآباددکن میں بسلسلہ ملازمت ایک عرصے تک مقیم رہے،اورتبلیغِ دین کی خدمت بھی انجام دیتے رہے۔شیخ طریقت اورجید عالم دین کے ساتھ بلندپایہ سخن گوبھی تھے۔اردو کےعلاوہ عربی اورفارسی شعروادب میں خاصا عبور حاصل تھا۔"احمد"تخلص فرماتے۔آپ نےمختلف موضوعات تقریباً تیرہ بہترین اورضخیم کتب تصنیف فرمائی ہیں ۔
آپ کی ایک کتاب "جواہر مجددیہ" ادارہ مسعودیہ کراچی نےشائع کی ہے۔ آپ کی تمام کتب ایک ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں، اوران کی اشاعت اہل سنت پراحسان ِعظیم ہوگا ۔کیونکہ بعد میں آنے والے ان کی کتب سے ہی مستفید ہو سکتے ہیں ۔
تاریخِ وصال:
27 رجب المرجب 1361ھ / مطابق 11 اگست 1942ء، بروز منگل داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ آپ کے محب صادق حضرت مولانا شاہ مفتی محمد مظہر اللہ دہلوی نے نماز جنازہ کی امامت کی ۔ والد ماجد کے پہلو میں مدفون ہوئے، آپ کامزار دہلی میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ خلفائے اعلیٰ حضرت ۔ جواہر مجددیہ ۔ تذکرۃ الکرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-khawaja-ahmed-hussain-amrohi
آپ کی ایک کتاب "جواہر مجددیہ" ادارہ مسعودیہ کراچی نےشائع کی ہے۔ آپ کی تمام کتب ایک ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں، اوران کی اشاعت اہل سنت پراحسان ِعظیم ہوگا ۔کیونکہ بعد میں آنے والے ان کی کتب سے ہی مستفید ہو سکتے ہیں ۔
تاریخِ وصال:
27 رجب المرجب 1361ھ / مطابق 11 اگست 1942ء، بروز منگل داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ آپ کے محب صادق حضرت مولانا شاہ مفتی محمد مظہر اللہ دہلوی نے نماز جنازہ کی امامت کی ۔ والد ماجد کے پہلو میں مدفون ہوئے، آپ کامزار دہلی میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ خلفائے اعلیٰ حضرت ۔ جواہر مجددیہ ۔ تذکرۃ الکرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-khawaja-ahmed-hussain-amrohi
❤1
حضرت شیخ عبد الواحد بن علی سیاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ حضرت ابو العباس سیاری رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد مرید اور خواہر زادہ تھے آپ کی توبہ کا واقعہ یہ ہے کہ ایک دن آپ نے صوفیہ کرام کو دعوت سماع دی سماع کے دوران ایک صوفی کو وجد آ گیا، اور اس عالم وجد میں وہ ہوا میں اڑنے لگا، اور گم ہو گیا اور پھر اسے کسی نے نہیں دیکھا، اس حیرت انگیز واقعہ کو دیکھتے ہی آپ کے دل میں جذبۂ عشق الٰہی ظاہر ہونے لگا اپنا گھر صوفیہ کے لیے وقف کردیا، اپنے مال و دولت کو اللہ کی راہ میں تقسیم کر دیا، اور توکل زہد و تقویٰ کو اختیار کر لیا ۔
وصال:
آپ کی وفات ۳۰۵ھ میں ہوئی ۔
عبد واحد پیر یکتا شیخ دین
سید کونین اقدس سالِ او ۳۷۵ھ
رفت چوں در روضہ دارالسلام
ہم عیاں آمد مقدس نیک نام ۳۷۵ھ
سیاری عزیز (۳۷۵) سالک پارسا (۳۷۵) عبد واحد سید اہل یقین (۳۷۵)، بھی تواریخ وفات ہیں ۔
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdul-wahid-bin-ali-sayari
آپ حضرت ابو العباس سیاری رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد مرید اور خواہر زادہ تھے آپ کی توبہ کا واقعہ یہ ہے کہ ایک دن آپ نے صوفیہ کرام کو دعوت سماع دی سماع کے دوران ایک صوفی کو وجد آ گیا، اور اس عالم وجد میں وہ ہوا میں اڑنے لگا، اور گم ہو گیا اور پھر اسے کسی نے نہیں دیکھا، اس حیرت انگیز واقعہ کو دیکھتے ہی آپ کے دل میں جذبۂ عشق الٰہی ظاہر ہونے لگا اپنا گھر صوفیہ کے لیے وقف کردیا، اپنے مال و دولت کو اللہ کی راہ میں تقسیم کر دیا، اور توکل زہد و تقویٰ کو اختیار کر لیا ۔
وصال:
آپ کی وفات ۳۰۵ھ میں ہوئی ۔
عبد واحد پیر یکتا شیخ دین
سید کونین اقدس سالِ او ۳۷۵ھ
رفت چوں در روضہ دارالسلام
ہم عیاں آمد مقدس نیک نام ۳۷۵ھ
سیاری عزیز (۳۷۵) سالک پارسا (۳۷۵) عبد واحد سید اہل یقین (۳۷۵)، بھی تواریخ وفات ہیں ۔
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdul-wahid-bin-ali-sayari
❤1
حسانِ پاکستان، حضرت مولانا ضیاء القادری بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت مولانا کا تاریخی نام ’’محمد فضل الرحمن ‘‘ عرفی نام ’’ محمد یعقوب حسین ‘‘ قلمی نام ضیاء القادری تخلص ’’ ضیاء ‘‘ اور خطابات لسان الحسان ، شاعر اہل سنت ، حسان پاکستا ن اور مورخ اہل سنت ملے ہوئے تھے ۔
ولادت:
۲۶ رجب المرجب شب معراج نبوی ۱۳۰۰ھ بمطابق ۲ جون ۱۸۸۳ء کو بعد نماز عشاء مدینۃ العلم بدایون ( بھارت) میں تولد ہوئے ۔
آپ کے مورث اعلی مولانا خواجہ عبد اللہ چشتی بدایوں کے مایہ ناز عالم اور مشہور محدث و مفسر تھے ۔ چار سال کی عمر میں والدین کا سایہ عاطف سر سے اٹھ گیا اس لئے تربیت کا انتظام غالب و مومن کے شاگرد مولانا علی احمد خان نے کیا۔
تعلیم و تربیت:
جب مولانا کی عمر سات سال ہوئی تو انہیں افاضل اساتذہ نے پڑ ھانا شروع کیا۔ پہلے قرآن مجید پڑھایا پھر فقہ ، تفسیر اور حدیث کی کتابیں پڑھائیں ۔ تقریبا چودہ سال کی عمر میں آپ نے عالمانہ استعداد حاصل کر لی ۔
سفر حرمین شریفین:
آپ ہندوستان سے پاکستان مستقل منتقل ہوئے اور ۱۳۲ھ؍ ۱۹۴۸ء میں آپ کو حج و زیارت روضہ رسولﷺ کی سعادت حاصل ہوئی اور آپ کو یہ امتیازی کے مزار پر انوار ( بغداد شریف ) پر حاضری بھی نصیب ہوئی ۔
عادات و خصائل:
مولانا ضیاء القادری نہایت خلیق اور سراپا درد بزرگ تھے ، ایثار و خلوص کی جیتی جاگتی تصویر تھے ، انکسار پسند ، اور شگفتہ مزاج تھے ، ظاہری شان و شوکت سے آپ کو کوئی لگاوٗ نہ تھا ، تقویٰ و پرہیز گاری میں سلف صالحین کا بہتری نمونہ تھے ۔
۱۹۱۷ء سے ایک عرصہ تک آپ کے زیر اہتمام بدایون میں رجبی شریف کے عظیم الشان جلسے منعقد ہوتے رہے ۔ تقریبا ۳۵ سال تک سرکاری ملازمت سے وابستہ رہے اس کے باوجود علم و ادب کی وہ گراں قدر خدمات انجام دیں جنہیں تاریخ فراموش نہیں کر سکتی ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نظم و نثر پر یکساں قدرت عطا فرمائی تھی ۔
تلامذہ:
پاک و ہند کے مشہور شعرائے کرام مثلا شکیل بدایونی ، اختر الحامدی ، مضطر صابری ، ماہر القادری طالب انصاری ، محشر بدایونی، سحر اکبر آبادی ، تابش قصوری ، صابر براری اور رضا قریشی آپ کے ممتاز شاگرد ہیں ۔
شاعری:
دہلی میں حضر ت شاہ کلیم اللہ جہا ں آبادی ؒ کے دربار سے شائع ہونے والے مشہو ر مجلہ ماہنامہ ’’ آستانہ ‘‘ کے آ پ شاعر خصوصی تھے ۔ آپ کلام طویل عرصہ تک آستانہ دہلی میں’’ شاعر آستانہ ‘‘ کے نام سے شائع ہوتا رہا ہے ۔
خواجہ حسن نظامی آپ کے کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ مولانا ضیاء القادری کے کلام میں ایسی مذہبی زندگی ہے جو ایک دفعہ کے لئے ان مردہ دلوں کو بھی گر مادے گی جو مذہبی تا ثرات کے معاملہ میں بالکل ٹھنڈے ہو چکے ہیں ‘‘۔
ناصر اسلام خطیب اہل سنت مولانا پیر سید عبدالسلام قادری باندویؒ (سن وصال ۱۹۶۸ئ) آپ کی شاعر ی و شخصیت پر یوں تبصرہ فرماتے ہیں ‘‘۔
’’ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذوق شعر و ادب قدرت نے کمسنی ہی سے آپ کی فطرت میں و دیعت فرمایا تھا ۔ دس سال کی عمر میں آپ بے ساختہ شعر کہنے لگے تھے چونکہ ہوش سنبھالتے ہی حضرت زبدۃ العرفاء مولانا علی احمد خان صاحب اسیر قادری نقشبندی بدایونی شہید مدینہ کی تعلیمی برکات نے آپ کو اعلی حضرت ، قطب ربانی محب یزدانی ، تاج العلما ء ، سراج الاولیاء ، تاج الفحول ، محب الرسول، مظہر حق ، مولانا عبد القادر الثانی العثمانی فقیر نواز فقیر قادری بدایونی جیسے خدا رسیدہ قطب وقت کی خدمت میں پیش کر کے ان کی مقبول دعاؤں کا مستحق بنا دیا تھا ۔ اس لئے آپ کی طبع رسانے کسی وقت بھی مجازی شاعری کی طرف رغبت نہ کی اور نعت و مناقب ہی کے لئے آپ کی زندگی وقف ہو گئی ۔
حضرت محسن کاکوری ، حضرت امیر مینائی ، حضرت حافظ پیلی بھیتی ، حضر ت حسن بریلوی ، حضرت رضوان مراد آبادی کے بعد ہندوستان میں آپ کو جو انفرادیت اور مقبو لیت حاصل ہوئی اس سے تمام علماء و مشائخ اور دنیائے شعرو ادب واقف ہے ۔ لسان الحسان ، شاعر اعظم اہل سنت ، حسان پاکستان آپ کے وہ خطابات ہیں جوا کا بر علماء و مشائخ نے آپ کو عظیم الشان اجتماعات میں دیئے ہیں ۔ آپ کا مشغلہ حیات مستقل طور پر تبلیغ و ترویج محبت و عظمت حضور خاتم المرسلین و رحمتہ للعالمین ہے ۔ آپ کے مضامین نظم و نثر نصف صدی پیشتر سے اخبارات و رسائل میں شائع ہو رہے ہیں ۔ بکثرت تصانیف آپ کی منظر عام پر آچکی ہیں آج بھی رسالہ آستانہ دہلی آپ کے رشحات قلم سے سیراب ہورہا ہے ۔ مشاہیر اساتذہ اہل سخن کو آپ سے شرف تلمذ حاصل ہے ۔ ’’ مرقع شہادت ‘‘ آپ کے مخزن تصانیف کا وہ پیش بہا سرمایہ ہے جو دس سال پیشتر چھپ کر اپنی مقبولیت عامہ کے باعث بالکل نایاب ہو چکا تھا ۔
آج ارباب نظر کے سامنے میں فخر و مباہات کے ساتھ ’’ مرقع شہادت ‘‘ پیش کرنے کی عزت حاصل کر رہا ہوں ، علماء اہل سنت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ نظم میں مرقع شہادت تمام اصناف سخن اور صحت واقعات کے اعتبار سے بے مثل کتاب ہے اور ہر گھر میں اس کتاب کا ہونا چاہئے ۔
حضرت مولانا کا تاریخی نام ’’محمد فضل الرحمن ‘‘ عرفی نام ’’ محمد یعقوب حسین ‘‘ قلمی نام ضیاء القادری تخلص ’’ ضیاء ‘‘ اور خطابات لسان الحسان ، شاعر اہل سنت ، حسان پاکستا ن اور مورخ اہل سنت ملے ہوئے تھے ۔
ولادت:
۲۶ رجب المرجب شب معراج نبوی ۱۳۰۰ھ بمطابق ۲ جون ۱۸۸۳ء کو بعد نماز عشاء مدینۃ العلم بدایون ( بھارت) میں تولد ہوئے ۔
آپ کے مورث اعلی مولانا خواجہ عبد اللہ چشتی بدایوں کے مایہ ناز عالم اور مشہور محدث و مفسر تھے ۔ چار سال کی عمر میں والدین کا سایہ عاطف سر سے اٹھ گیا اس لئے تربیت کا انتظام غالب و مومن کے شاگرد مولانا علی احمد خان نے کیا۔
تعلیم و تربیت:
جب مولانا کی عمر سات سال ہوئی تو انہیں افاضل اساتذہ نے پڑ ھانا شروع کیا۔ پہلے قرآن مجید پڑھایا پھر فقہ ، تفسیر اور حدیث کی کتابیں پڑھائیں ۔ تقریبا چودہ سال کی عمر میں آپ نے عالمانہ استعداد حاصل کر لی ۔
سفر حرمین شریفین:
آپ ہندوستان سے پاکستان مستقل منتقل ہوئے اور ۱۳۲ھ؍ ۱۹۴۸ء میں آپ کو حج و زیارت روضہ رسولﷺ کی سعادت حاصل ہوئی اور آپ کو یہ امتیازی کے مزار پر انوار ( بغداد شریف ) پر حاضری بھی نصیب ہوئی ۔
عادات و خصائل:
مولانا ضیاء القادری نہایت خلیق اور سراپا درد بزرگ تھے ، ایثار و خلوص کی جیتی جاگتی تصویر تھے ، انکسار پسند ، اور شگفتہ مزاج تھے ، ظاہری شان و شوکت سے آپ کو کوئی لگاوٗ نہ تھا ، تقویٰ و پرہیز گاری میں سلف صالحین کا بہتری نمونہ تھے ۔
۱۹۱۷ء سے ایک عرصہ تک آپ کے زیر اہتمام بدایون میں رجبی شریف کے عظیم الشان جلسے منعقد ہوتے رہے ۔ تقریبا ۳۵ سال تک سرکاری ملازمت سے وابستہ رہے اس کے باوجود علم و ادب کی وہ گراں قدر خدمات انجام دیں جنہیں تاریخ فراموش نہیں کر سکتی ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نظم و نثر پر یکساں قدرت عطا فرمائی تھی ۔
تلامذہ:
پاک و ہند کے مشہور شعرائے کرام مثلا شکیل بدایونی ، اختر الحامدی ، مضطر صابری ، ماہر القادری طالب انصاری ، محشر بدایونی، سحر اکبر آبادی ، تابش قصوری ، صابر براری اور رضا قریشی آپ کے ممتاز شاگرد ہیں ۔
شاعری:
دہلی میں حضر ت شاہ کلیم اللہ جہا ں آبادی ؒ کے دربار سے شائع ہونے والے مشہو ر مجلہ ماہنامہ ’’ آستانہ ‘‘ کے آ پ شاعر خصوصی تھے ۔ آپ کلام طویل عرصہ تک آستانہ دہلی میں’’ شاعر آستانہ ‘‘ کے نام سے شائع ہوتا رہا ہے ۔
خواجہ حسن نظامی آپ کے کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ مولانا ضیاء القادری کے کلام میں ایسی مذہبی زندگی ہے جو ایک دفعہ کے لئے ان مردہ دلوں کو بھی گر مادے گی جو مذہبی تا ثرات کے معاملہ میں بالکل ٹھنڈے ہو چکے ہیں ‘‘۔
ناصر اسلام خطیب اہل سنت مولانا پیر سید عبدالسلام قادری باندویؒ (سن وصال ۱۹۶۸ئ) آپ کی شاعر ی و شخصیت پر یوں تبصرہ فرماتے ہیں ‘‘۔
’’ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذوق شعر و ادب قدرت نے کمسنی ہی سے آپ کی فطرت میں و دیعت فرمایا تھا ۔ دس سال کی عمر میں آپ بے ساختہ شعر کہنے لگے تھے چونکہ ہوش سنبھالتے ہی حضرت زبدۃ العرفاء مولانا علی احمد خان صاحب اسیر قادری نقشبندی بدایونی شہید مدینہ کی تعلیمی برکات نے آپ کو اعلی حضرت ، قطب ربانی محب یزدانی ، تاج العلما ء ، سراج الاولیاء ، تاج الفحول ، محب الرسول، مظہر حق ، مولانا عبد القادر الثانی العثمانی فقیر نواز فقیر قادری بدایونی جیسے خدا رسیدہ قطب وقت کی خدمت میں پیش کر کے ان کی مقبول دعاؤں کا مستحق بنا دیا تھا ۔ اس لئے آپ کی طبع رسانے کسی وقت بھی مجازی شاعری کی طرف رغبت نہ کی اور نعت و مناقب ہی کے لئے آپ کی زندگی وقف ہو گئی ۔
حضرت محسن کاکوری ، حضرت امیر مینائی ، حضرت حافظ پیلی بھیتی ، حضر ت حسن بریلوی ، حضرت رضوان مراد آبادی کے بعد ہندوستان میں آپ کو جو انفرادیت اور مقبو لیت حاصل ہوئی اس سے تمام علماء و مشائخ اور دنیائے شعرو ادب واقف ہے ۔ لسان الحسان ، شاعر اعظم اہل سنت ، حسان پاکستان آپ کے وہ خطابات ہیں جوا کا بر علماء و مشائخ نے آپ کو عظیم الشان اجتماعات میں دیئے ہیں ۔ آپ کا مشغلہ حیات مستقل طور پر تبلیغ و ترویج محبت و عظمت حضور خاتم المرسلین و رحمتہ للعالمین ہے ۔ آپ کے مضامین نظم و نثر نصف صدی پیشتر سے اخبارات و رسائل میں شائع ہو رہے ہیں ۔ بکثرت تصانیف آپ کی منظر عام پر آچکی ہیں آج بھی رسالہ آستانہ دہلی آپ کے رشحات قلم سے سیراب ہورہا ہے ۔ مشاہیر اساتذہ اہل سخن کو آپ سے شرف تلمذ حاصل ہے ۔ ’’ مرقع شہادت ‘‘ آپ کے مخزن تصانیف کا وہ پیش بہا سرمایہ ہے جو دس سال پیشتر چھپ کر اپنی مقبولیت عامہ کے باعث بالکل نایاب ہو چکا تھا ۔
آج ارباب نظر کے سامنے میں فخر و مباہات کے ساتھ ’’ مرقع شہادت ‘‘ پیش کرنے کی عزت حاصل کر رہا ہوں ، علماء اہل سنت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ نظم میں مرقع شہادت تمام اصناف سخن اور صحت واقعات کے اعتبار سے بے مثل کتاب ہے اور ہر گھر میں اس کتاب کا ہونا چاہئے ۔
❤2
اس کو دربار رسالت کا عطیہ کہیں کہ حضرت مولانا ضیاء القادری مد ظلہم کو باوجود ان کمالات عظیمیہ کے شہرت نام و نمود سے ہمیشہ اجتنا ب ہی نہیں بلکہ قطعا بے تعلقی رہی ، یہی وجہ ہے کہ ااپ کے سات دیوان موجود ہوتے ہوئے صرف دو دیوان تاج مضامین منقبت میں ’’ تجلیات نعت ‘‘ نعت شریف میں مطبوع ہو کر مفقود ہو گئے ہیں ۔ باقی منظومات کا دفتر ہنوز غیر مطبوعہ موجود ہے۔
( مرقع شہادت ، طبع دوئم، انجمن امانت الا سلام )
علامہ عبد الحامد بدایونی علیہ الرحمۃ رقمطراز ہیں: علماء و مشائخین ارباب علم و ادب یکساں طور پر ضیاء کی نظموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ مولانا ضیاء القادر محض ایک کامیاب شاعر ہی نہیں بلکہ علم و اد ب اور ’’فن تاریخ‘‘ میں بھی خاص ادراک اور مہارت رکھتے ہیں اور کثیر تصانیف ملک کے سامنے پیش فرما چکے ہیں‘‘ (مرقع شہادت ، تقریظ)
تصنیف و تالیف:
مولانا نے نظم و نثر میں تصانیف کا گراں قدر ذخیرہ یادگار چھوڑا ہے آپ کی چند تصانیف کے نام یہ ہیں:
٭ اکمل التاریخ (۲ جلدیں) حضرت مولانا فضل رسول قادری علیہ الرحمۃ کا مفصل خاندانی تذکرہ مطبوعہ نظامی پریس بدایون ۱۹۱۵ء
٭ تاریخ اولیائے بدایوں مطبوعہ کراچی ۱۳۷۷ء
٭ تجلیات نعت ۔ تاج مضامین (مناقت) ستارہ چشت ۔ دیار نبی۔ جوار غوث الوریٰ
٭ ہفت احمد۔ قصائد صبح نورانی۔ مجموعہ سلام۔ کلام ضیائ۔ خزینہ بہشت۔ نغمہ ربانی۔ بہار چشت۔ چراغ صبح جمال
٭ مرقع شہادت (نظم) طبع اول بدایون ۱۳۶۰ھ ؍ ۱۹۴۱ء ، طبع دوم انجمن امانت الا سلام کراچی ۱۹۵۱ء
٭ قصائد نورانی
٭ ماہنامہ نعت لاہور نے جولائی ۱۹۸۹ء کے خصوصی شمارہ میں ’’ کلام ضیاء ‘‘ شائع کیا ۔
حضرت مولانا ضیاء القادری نے الحاج علی ھسین آباد ( سابق استاد کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کو ئٹہ ) کی کتاب ’’ مصباح الاخرت ‘‘ پر تقریظ میں لکھتے ہیں :
غیر منقسم ہندو ستان میں ایک ہزار سال تک اسلامی سلطنت قائم رہی ۔ تمام اسلامیان ہند کا ایک ہی مذہب و مسلک رہا ۔ انگریز کے قدم آنے سے قبل مسلمانان ہند واعتصمو ا بحبل اللہ جمیعا الا تفرقو ا پر پورے استحکام کے ساتھ عامل تھے۔ عاملین برطانیہ نے اپنے جبلی فریب سیاست سے سواد الا عظم اسلام میں اخنہ اندازی شروع کی اور نئے نئے مذاہب جاری کر ا کے ان کو پروان چڑھا یا اور اللہ تعالی کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے والوں میں تفرقہ اندازی کی داغ بیل ڈالی ۔
دور آخر میں مسلمانوں کی شیرازہ بندی اور سیاسی و ملکی حقوق کے حصول کیلئے مسلم لیگ ایک نصب العین لے کر میدان عمل میں آئی ۔ دنیانے دیکھ لیا کہ انگریز کے بنائے مذاہب اور فرنگی کے مرغان دست پرور نے مسلم لیگ اور ان کے نصب العین پاکستان کی شدید مخالفت کی مگر سواد الاعظم اسلام یعنی مذہب اہل سنت والجماعت اور اس کے علماء و مشائخ نے سر دھڑ کی بازی لگا کر پاکستان حاصل کر لیا ‘‘۔
( مصباح الآخرت مطبوعہ کراچی ۱۹۵۴ء)
بیعت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت مولانا عبد الرسول محب احمد قادری سے دست بیعت تھے اور حضرت علامہ عبدالمقتدد بدایونی قادریؒ کے خلیفہ مجاز تھے ۔ (بزرگان قادریہ ص:۲۲۹) ـ
شادی و اولاد:
آپ نے ایک شادی کی جس سے نرینہ اولاد میں سے محمد یوسف قادری تولد ہوئے لیکن آج وہ بھی ہم میں موجود نہیں ہے ۔
وصال:
مولانا ضیاء القادری نے ۱۲ جمادی الآخر ۱۳۹۰ ھ بمطابق ۱۵ اگست ۱۹۷۰ء بروز ہفتہ ۸۷ سال کی عمر میں وصال فرمایا ۔ مزار شریف فیدرل بی ایریا کے قبرستان (کراچی) میں واقع ہے ۔
( تذکرہ اکابر اہل سنت مطبوعہ لاہور )
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-zia-ul-qadri-badayuni
( مرقع شہادت ، طبع دوئم، انجمن امانت الا سلام )
علامہ عبد الحامد بدایونی علیہ الرحمۃ رقمطراز ہیں: علماء و مشائخین ارباب علم و ادب یکساں طور پر ضیاء کی نظموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ مولانا ضیاء القادر محض ایک کامیاب شاعر ہی نہیں بلکہ علم و اد ب اور ’’فن تاریخ‘‘ میں بھی خاص ادراک اور مہارت رکھتے ہیں اور کثیر تصانیف ملک کے سامنے پیش فرما چکے ہیں‘‘ (مرقع شہادت ، تقریظ)
تصنیف و تالیف:
مولانا نے نظم و نثر میں تصانیف کا گراں قدر ذخیرہ یادگار چھوڑا ہے آپ کی چند تصانیف کے نام یہ ہیں:
٭ اکمل التاریخ (۲ جلدیں) حضرت مولانا فضل رسول قادری علیہ الرحمۃ کا مفصل خاندانی تذکرہ مطبوعہ نظامی پریس بدایون ۱۹۱۵ء
٭ تاریخ اولیائے بدایوں مطبوعہ کراچی ۱۳۷۷ء
٭ تجلیات نعت ۔ تاج مضامین (مناقت) ستارہ چشت ۔ دیار نبی۔ جوار غوث الوریٰ
٭ ہفت احمد۔ قصائد صبح نورانی۔ مجموعہ سلام۔ کلام ضیائ۔ خزینہ بہشت۔ نغمہ ربانی۔ بہار چشت۔ چراغ صبح جمال
٭ مرقع شہادت (نظم) طبع اول بدایون ۱۳۶۰ھ ؍ ۱۹۴۱ء ، طبع دوم انجمن امانت الا سلام کراچی ۱۹۵۱ء
٭ قصائد نورانی
٭ ماہنامہ نعت لاہور نے جولائی ۱۹۸۹ء کے خصوصی شمارہ میں ’’ کلام ضیاء ‘‘ شائع کیا ۔
حضرت مولانا ضیاء القادری نے الحاج علی ھسین آباد ( سابق استاد کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کو ئٹہ ) کی کتاب ’’ مصباح الاخرت ‘‘ پر تقریظ میں لکھتے ہیں :
غیر منقسم ہندو ستان میں ایک ہزار سال تک اسلامی سلطنت قائم رہی ۔ تمام اسلامیان ہند کا ایک ہی مذہب و مسلک رہا ۔ انگریز کے قدم آنے سے قبل مسلمانان ہند واعتصمو ا بحبل اللہ جمیعا الا تفرقو ا پر پورے استحکام کے ساتھ عامل تھے۔ عاملین برطانیہ نے اپنے جبلی فریب سیاست سے سواد الا عظم اسلام میں اخنہ اندازی شروع کی اور نئے نئے مذاہب جاری کر ا کے ان کو پروان چڑھا یا اور اللہ تعالی کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے والوں میں تفرقہ اندازی کی داغ بیل ڈالی ۔
دور آخر میں مسلمانوں کی شیرازہ بندی اور سیاسی و ملکی حقوق کے حصول کیلئے مسلم لیگ ایک نصب العین لے کر میدان عمل میں آئی ۔ دنیانے دیکھ لیا کہ انگریز کے بنائے مذاہب اور فرنگی کے مرغان دست پرور نے مسلم لیگ اور ان کے نصب العین پاکستان کی شدید مخالفت کی مگر سواد الاعظم اسلام یعنی مذہب اہل سنت والجماعت اور اس کے علماء و مشائخ نے سر دھڑ کی بازی لگا کر پاکستان حاصل کر لیا ‘‘۔
( مصباح الآخرت مطبوعہ کراچی ۱۹۵۴ء)
بیعت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت مولانا عبد الرسول محب احمد قادری سے دست بیعت تھے اور حضرت علامہ عبدالمقتدد بدایونی قادریؒ کے خلیفہ مجاز تھے ۔ (بزرگان قادریہ ص:۲۲۹) ـ
شادی و اولاد:
آپ نے ایک شادی کی جس سے نرینہ اولاد میں سے محمد یوسف قادری تولد ہوئے لیکن آج وہ بھی ہم میں موجود نہیں ہے ۔
وصال:
مولانا ضیاء القادری نے ۱۲ جمادی الآخر ۱۳۹۰ ھ بمطابق ۱۵ اگست ۱۹۷۰ء بروز ہفتہ ۸۷ سال کی عمر میں وصال فرمایا ۔ مزار شریف فیدرل بی ایریا کے قبرستان (کراچی) میں واقع ہے ۔
( تذکرہ اکابر اہل سنت مطبوعہ لاہور )
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-zia-ul-qadri-badayuni
scholars.pk
Hazrat Molana Zia-ul-Qadri Badayuni
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1