🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-07-1445 ᴴ | 07-02-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-07-1445 ᴴ | 07-02-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
مولانا ابو الشاہ محمد عبد القادر شہید رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا محمد عبد القادر شہید رحمۃ اللہ علیہ ۔ کنیت: ابو الشاہ ـ
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا الحاج ابو الشاہ محمد عبد القادر بن مولانا علامہ حکیم غلام محی الدین بن حضرت علامہ مولانا مفتی عبد الرحیم (تلمیذ ارشد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی ) ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔
تاریخِ ولادت:
27 رجب المرجب 1340ھ / مطابق 27 مارچ 1922ء کو مدینۃ الاولیاء احمد آباد شریف میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی اس کے بعد انجمن اسلامیہ ہائی سکول احمد سکول احمد آباد میں داخل ہوئے اور میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔ 1946ء میں گجرات کالج احمد آباد سے ایف ۔ اے کا امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کیا ۔انہیں دنوں محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد آباد چشتی قادری، بریلی شریف سے مولوی سلطان حسن سنبھلی سے مناظرہ کرنے کے لئے احمد آباد تشریف لائے، مناظرہ میں کامیابی کے بعد وعظ و تقریرکا سلسلہ شروع ہوا ۔
چونکہ حضرت شیخ الحدیث کا قیام مولانا عبد القادر کے جد امجد کے ہاں تھا اس لئے انہیں حاضری اور خدمت کے زیادہ مواقع مہیا ہوئے ۔ نگاہِ حضرت شیخ الحدیث کا اثر یہ ہوا کہ مولانا عبد القادر دنیاوی تعلیم کو خیر باد کہہ کر سر چشمہ علم و حکمت بریلی شریف چلے گئے ۔
حضرت شیخ الحدیث نے ان کی تعلیم کا معقول انتظام کر دیا ۔ رمضان المبارک کی تعطیلات میں اپنے استاذ حضرت مولانا عبد الرشید جھنگوی (علیہ الرحمہ) کے ساتھ جھنگ چلے آئے اور جب مولانا عبد الرشید جھنگوی جامعہ نقشبندیہ علی پور سیداں تشریف لے گئے تو بھی مولانا ان کے ہمراہ تھے، دو سال بعد مولانا عبد القادر پھر بریلی تشریف لے گئے تو بھی مولانا ان کے ہمراہ تھے، دو سال بعد مولانا عبد القادر پھر بریلی تشریف لے گئے اور مولانا علامہ وقار الدین اور حضرت محدث اعظم سے معقول و منقول کی کتابوں کا درس لیا ۔ قیام پاکستان کے بعد حضرت محدث اعظم کے ہمراہ پاکستان چلے آئے اور تحصیل علم کے لئے کچھ عرصہ سر گودھا اور شر قپور رہے ۔ جب حضرت محدث اعظم پاکستان نے محلہ سنت پورہ لائل پور (فیصل آباد) میں دورۂ حدیث کا اجراء فرمایا تو مولانا عبد القادر بھی درس حدیث میں شریک ہوئے اور شعبان المعظم 1369ھ/1950ء میں سند فراغت حاصل فرمائی ۔
بیعت و خلافت:
حضرت محدث اعظم پاکستان شیخ الحدیث مولانا سردار احمد قادری علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
استاذ العلماء، سند الاصفیاء، فیض یافتہ حضور محدث اعظم پاکستان علیہ الرحمہ، محسن اہل سنت، مجاہد اہل سنت، حضرت علامہ مولانا ابو الشاہ محمد عبد القادر شہید رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ نے ابتداءً دنیاوی تعلیم حاصل کی اور حضرت محدث اعظم پاکستان علیہ الرحمہ کی نگاہِ فیض اثر سے متأثر ہو کرعلوم دینیہ کی طرف متوجہ ہوئے ۔ بریلی شریف کےمنظر اسلام میں چشمۂ صافی سےسیراب ہونے کاقدرت نےموقع عطا کیا۔فیضانِ اعلیٰ حضرت سےخوب مستفیض ہوئے،منظر اسلام کا روح پرور ماحول اورمحدث اعظم پاکستان کی تربیت نےایسا دینی جذبہ عطا کیاکہ پھر تادم زیست دین متین کےکاموں میں ایسے مصروف ہوئےجس کی فی زمانہ نظیرملنامشکل ہے۔ حضرت محدث اعظم نے جامعہ رضویہ کی بنیاد رکھی تو آپ کے مخلص احباب کی جماعت میں مولانا عبد القادر بھی تھے شاہی مسجد کی امامت اور جامعہ رضویہ کی نظامت کو اس خوبی سے نبھایا کہ باید و شاید سنی رضوی جامع مسجد کا لینٹر ڈالا گیا تو دوسرے علماء کے ساتھ مولانا عبد القادر بھی سیمنٹ سر پر اٹھا کر شریک کار رہے۔
مولانا عبد القادر کے خلوص کا اندازہ اس بات سے لگایاجا سکتا ہے کہ دو سال تک پتو کی منڈی ضلع لاہورجمعہ پڑھانے کے لئےتشریف لے جاتے رہے لیکن کبھی اپنی ذات کے لئےکرائے تک کا مطالبہ نہ کیا ۔ مولانا بہترین مدرس،سلجھے ہوئے مقرر اور بلند مرتبہ منتظم تھے،جلد سازی کے فن سے بھی نجوبی آگاہ تھے،حضرت محدث اعظم کی قابل قدر خدمات انجام دی تھیں، حضرت محدث اعظم کی وصیت کے مطابق فیصل آباد میں آپ کی نماز جنازہ مولانا عبد القادر نے ہی پڑھائی تھی۔فیصل آباد میں عارضی طور پر کار خانہ بازار میں کرائے کے مکان میں جامعہ قادریہ کے نام سے 30اگست 1963ء کو ایک درس گاہ کا اجراء کیا گیا بعد ازاں مصطفی آباد سر گودھا روڈ فیصل آباد میں 77 مرلے زمین لے کر جامعہ قادریہ اور جامع طیبہ کاسنگ بنیاد رکھا گیا۔
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا محمد عبد القادر شہید رحمۃ اللہ علیہ ۔ کنیت: ابو الشاہ ـ
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا الحاج ابو الشاہ محمد عبد القادر بن مولانا علامہ حکیم غلام محی الدین بن حضرت علامہ مولانا مفتی عبد الرحیم (تلمیذ ارشد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی ) ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔
تاریخِ ولادت:
27 رجب المرجب 1340ھ / مطابق 27 مارچ 1922ء کو مدینۃ الاولیاء احمد آباد شریف میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی اس کے بعد انجمن اسلامیہ ہائی سکول احمد سکول احمد آباد میں داخل ہوئے اور میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔ 1946ء میں گجرات کالج احمد آباد سے ایف ۔ اے کا امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کیا ۔انہیں دنوں محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد آباد چشتی قادری، بریلی شریف سے مولوی سلطان حسن سنبھلی سے مناظرہ کرنے کے لئے احمد آباد تشریف لائے، مناظرہ میں کامیابی کے بعد وعظ و تقریرکا سلسلہ شروع ہوا ۔
چونکہ حضرت شیخ الحدیث کا قیام مولانا عبد القادر کے جد امجد کے ہاں تھا اس لئے انہیں حاضری اور خدمت کے زیادہ مواقع مہیا ہوئے ۔ نگاہِ حضرت شیخ الحدیث کا اثر یہ ہوا کہ مولانا عبد القادر دنیاوی تعلیم کو خیر باد کہہ کر سر چشمہ علم و حکمت بریلی شریف چلے گئے ۔
حضرت شیخ الحدیث نے ان کی تعلیم کا معقول انتظام کر دیا ۔ رمضان المبارک کی تعطیلات میں اپنے استاذ حضرت مولانا عبد الرشید جھنگوی (علیہ الرحمہ) کے ساتھ جھنگ چلے آئے اور جب مولانا عبد الرشید جھنگوی جامعہ نقشبندیہ علی پور سیداں تشریف لے گئے تو بھی مولانا ان کے ہمراہ تھے، دو سال بعد مولانا عبد القادر پھر بریلی تشریف لے گئے تو بھی مولانا ان کے ہمراہ تھے، دو سال بعد مولانا عبد القادر پھر بریلی تشریف لے گئے اور مولانا علامہ وقار الدین اور حضرت محدث اعظم سے معقول و منقول کی کتابوں کا درس لیا ۔ قیام پاکستان کے بعد حضرت محدث اعظم کے ہمراہ پاکستان چلے آئے اور تحصیل علم کے لئے کچھ عرصہ سر گودھا اور شر قپور رہے ۔ جب حضرت محدث اعظم پاکستان نے محلہ سنت پورہ لائل پور (فیصل آباد) میں دورۂ حدیث کا اجراء فرمایا تو مولانا عبد القادر بھی درس حدیث میں شریک ہوئے اور شعبان المعظم 1369ھ/1950ء میں سند فراغت حاصل فرمائی ۔
بیعت و خلافت:
حضرت محدث اعظم پاکستان شیخ الحدیث مولانا سردار احمد قادری علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
استاذ العلماء، سند الاصفیاء، فیض یافتہ حضور محدث اعظم پاکستان علیہ الرحمہ، محسن اہل سنت، مجاہد اہل سنت، حضرت علامہ مولانا ابو الشاہ محمد عبد القادر شہید رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ نے ابتداءً دنیاوی تعلیم حاصل کی اور حضرت محدث اعظم پاکستان علیہ الرحمہ کی نگاہِ فیض اثر سے متأثر ہو کرعلوم دینیہ کی طرف متوجہ ہوئے ۔ بریلی شریف کےمنظر اسلام میں چشمۂ صافی سےسیراب ہونے کاقدرت نےموقع عطا کیا۔فیضانِ اعلیٰ حضرت سےخوب مستفیض ہوئے،منظر اسلام کا روح پرور ماحول اورمحدث اعظم پاکستان کی تربیت نےایسا دینی جذبہ عطا کیاکہ پھر تادم زیست دین متین کےکاموں میں ایسے مصروف ہوئےجس کی فی زمانہ نظیرملنامشکل ہے۔ حضرت محدث اعظم نے جامعہ رضویہ کی بنیاد رکھی تو آپ کے مخلص احباب کی جماعت میں مولانا عبد القادر بھی تھے شاہی مسجد کی امامت اور جامعہ رضویہ کی نظامت کو اس خوبی سے نبھایا کہ باید و شاید سنی رضوی جامع مسجد کا لینٹر ڈالا گیا تو دوسرے علماء کے ساتھ مولانا عبد القادر بھی سیمنٹ سر پر اٹھا کر شریک کار رہے۔
مولانا عبد القادر کے خلوص کا اندازہ اس بات سے لگایاجا سکتا ہے کہ دو سال تک پتو کی منڈی ضلع لاہورجمعہ پڑھانے کے لئےتشریف لے جاتے رہے لیکن کبھی اپنی ذات کے لئےکرائے تک کا مطالبہ نہ کیا ۔ مولانا بہترین مدرس،سلجھے ہوئے مقرر اور بلند مرتبہ منتظم تھے،جلد سازی کے فن سے بھی نجوبی آگاہ تھے،حضرت محدث اعظم کی قابل قدر خدمات انجام دی تھیں، حضرت محدث اعظم کی وصیت کے مطابق فیصل آباد میں آپ کی نماز جنازہ مولانا عبد القادر نے ہی پڑھائی تھی۔فیصل آباد میں عارضی طور پر کار خانہ بازار میں کرائے کے مکان میں جامعہ قادریہ کے نام سے 30اگست 1963ء کو ایک درس گاہ کا اجراء کیا گیا بعد ازاں مصطفی آباد سر گودھا روڈ فیصل آباد میں 77 مرلے زمین لے کر جامعہ قادریہ اور جامع طیبہ کاسنگ بنیاد رکھا گیا۔
❤1
14رمضان المبارک ( 1383ھ/1963ء) کو آپ کارخانہ بازار جامعہ قادریہ میں نماز ظہر پڑھانے تشریف لائے۔ آپ نے جامعہ کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا ہی تھا کہ ایک شقی القلب نے پیچھے سے آکر چاقو کے پے در پے وار کر کے شدید زخمی کردیا ۔ ڈاکٹروں نے بہت کوشش کی مگر آپ جانبر نہ ہو سکے اور جام شہادت نوش کر گئے ، دھوبی گھاٹ میں قریباً ایک لاکھ مسلمانوں نے نماز جنازہ ادا کی اور آپ کو جامع مسجد طیبہ کے پہلو میں دفن کردیا گیا۔ مزار پر گنبد تعمیر ہو چکا ہے اور آپ کی عظیم الشان دینی یادگار جامعہ قادریہ راہ ترقی پر گامزن ہے ۔
تاریخِ وصال:
14 رمضان المبارک 1383ھ / مطابق جنوری 1964ء کووصال فرمایا ۔ آپ کا مزار فیصل آباد میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-alhaj-muhammad-abdul-qadir-qadri-shaheed
تاریخِ وصال:
14 رمضان المبارک 1383ھ / مطابق جنوری 1964ء کووصال فرمایا ۔ آپ کا مزار فیصل آباد میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-alhaj-muhammad-abdul-qadir-qadri-shaheed
❤1
حضرت مولانا عبد الشکور نظامی کمبل پوش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
درویش بزرگ حضرت صوفی عبدالشکور اکبر آبادی بن آگرہ (یوپی ۔ بھارت) میں ۲۷ رجب المرجب ۱۳۱۱ھ ؍ ۱۸۹۴ء دو شنبہ کو صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
ان کے حقیقی نانا حضرت مولانا الحاج سید محبوب علی عطاء ، قادری سلسلے سے وابستہ تھے۔ مولانا عبدالشکور نے انہی کے دامن فیض میں تربیت پائی اور اس زمانے کے رواج کے مطابق عربی اور فارسی کی تعلیم انہی سے حاصل کی ۔
(بروایت پروفیسر مرزا سلیم بیگ بحوالہ ماہنامہ نعت لاہور ’’سندھ کے نعت گو ‘‘ دسمبر ۲۰۰۰ئ)
حضرت قبلہ سید نواب محمد خادم حسن صاحب زبیری اجمیری مرحوم کی صحبت نے آپ کو ایک اچھا خاصہ شاعر بنا دیا ۔ آپ نے استاد محترم کے متعلق قطعہ کہا ہے:
خادم خادمان چشت گئے
نیک سیرت تھے خود سرشت گئے
آج خادم حسن زبیری بھی
کیا کہوں خازن بہشت گئے
بیعت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت محبوب الہی خواجہ نظام الدین اولیاء دہلوی کے سجادہ نشین سالک نما مجذوب معارف دستگار حضرت مولانا سید احمد علی جمال شاہ نظامی کمبل کمبل پوش کے دست بیعت ہوئے ۔
حسن جمال مصطفی شاہ جمال احمد علی
شان جلال مرتضی شاہ جمال احمد علی
شاعری )تقسیم ہند پر والدہ اور بچوں سمیت ۲۷، رجب المرجب ۱۳۶۶ھ بطابق ۱۹۴۷ء کو حیدر آباد (سندھ ) آگئے ۔ وہ خوش بیان واعظ کے علاوہ شیخ طریقت بھی تھے۔ مولانا عبدالشکور ایک صوفی شاعر تھے ۔ ان کی شاعر ی میں اخلاقیات حمد و نعت اور منقبت کے مضامین نظم غزل اور قطعات کی صورت میں نمایاں ہیں ۔ حسان الہند مولانا ضیاء القادری بدایونی (کراچی) سے مشورہ سخن کرتے تھے۔ حضور اکرم نور مجسم ﷺ سے انہیں جو والہانہ محبت تھی اس کا اظہار جابجا ان کے تعتیہ اشعار میں ملتا ہے۔ (ایضا)
تاجداروں سے سوا ہے وہ فقیر بے نوا
زیب سر جس کے رہے نعل کف پائے رسول
ان کی سرمستی کا عالم حشر کے دن دیکھنا
مے کشوں کے ہاتھ میں ہے جام صہبائے رسول
دل ہے وہ د جو خدا کی یاد سے غافل نہ ہو
سر وہی سر ہے کہ جس سر میں ہو سودائے رسول
حکم خلاق دو عالم تھا شب معراج میں
ہاں یونہی نعلین پہنے عرش پر آئے رسول
حق تعالیٰ نے کیا وعدہ ہے یہ معراج میں
میں اسی کو بخش دوں گا، جس کا فرمائے رسول
سجدہ گاہ عاشقاں ہے سجدہ گاہ عارفاں
کیا کشش تجھ میں ہے اے نقش کف پائے رسول
کفر غارت ہو گیا، عالم منور ہو گیا
عالم امکان میں جب تشریف لے آئے رسول
دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:
چاند بھی شرما گیا، جب آگیا بطحی کا چاند
حق تو یہ ہے نور دکھلا کیا بطحی کا چاند
بدلیاں رحمت کی اٹھیں، بارشیں ہونے لگیں
دونوں عالم کی دولت مجھے، صد شکر ہے
کملی والا میرے دل میں آگیا بطحی کا چاند
ذکر الا اللہ کرتے کرتے جب سویا’’شکور‘‘
روئے روشن خواب میں دکھلا گیا بطحی کا چاند
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نماز عشق یوں ہوتی ہے زاہد
کہ ان کا نقش پا میری جبیں ہے
نہیں بھاتا ہے جنت کا گلستان
تصور میں مدینہ کی زمین ہے
جسے الفت میسر ہو نہ ان کی
وہ مومن کیا مسلماں بھی نہیں ہے
شب معراج میں چون و چرا کی کس کو گنجائش
ہے سبحان الذی اسریٰ سے اظہار شب اسرار
تصنیف و تالیف:
آپ کی درج ذیل تصنیفات یاد گار ہیں:
۱۔ عثمانیہ مئے خانہ الموسوم دیوان شکور
یہ منقبت کا دیوان ہے۔ حضرت نواب خادم حسن زبیری کی زیر نگرانی میں عثمانی معینی کمیٹی آگرہ کی جانب سے ماہ اپریل ۱۹۴۳ء کو غالب پریس کھاری کنواں اجمیر شریف سے شائع ہوا ۔ دوسرا ایڈیشن آپ کو صاحبزادوں نے حیدر آباد سندھ ۱۳۷۹ھ؍ کو شائع کیا۔
۲۔ دیوان ذوق تصوف (۱۳۸۲ھ) نعت و منقبت پر مشتمل کلام ہے ۔ اپنے دور کے نامور شعراء کرام نے قطعہ تاریخ اشاعت کہے ہیں جو کہ کتاب کے آخرمیں شامل اشاعت کئے گئے ہیں ان میں اکثر شعراء اس وقت اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو چکے ہیں ۔ مولانا سید محمد علی ارم (حیدرآباد، سندھ ) علامہ سید محمد ہاشم فاضل شمسی ، علامہ سید عبدالسلام باندوی ، استاد الشعراء مولانا ضیاء القادری، سید خورشید علی مہر نقوی کراچی ، سید صادق علی صادق حیدرآباد مولانا میر نذر علی درد کا کوری عزیز آباد کراچی ، مولانا ظہور الحسن خان ماہر ضیائی کراچی ، رئیس احمد رئیس ضیائی بدایونی سابق خطیب لال مسجد ملیر کراچی، سید مختار علی مختار ضیائی اجمیری کراچی ، ہاشم رضا خان ہاشم ضیائی بدایونی ، حضرت صابر براری ضیائی کراچی ، محمد حمید خان مائل پیلی بھیتی حال لاڑکانہ ، حکیم سید اکرام حسین سیکری حیدرآباد سندھ ، آرزو تبریزی اکبر آبادی سعود آباد ملیر کراچی وغیرہ ۔
یہ دیوان آپ کے خلیفہ صوفی محمد یعقوب نظامی کورنگی کراچی کی کوشش سے ۱۳۹۵ھ ؍۱۹۷۵ء کے بعد شائع ہوا۔
ولادت:
درویش بزرگ حضرت صوفی عبدالشکور اکبر آبادی بن آگرہ (یوپی ۔ بھارت) میں ۲۷ رجب المرجب ۱۳۱۱ھ ؍ ۱۸۹۴ء دو شنبہ کو صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
ان کے حقیقی نانا حضرت مولانا الحاج سید محبوب علی عطاء ، قادری سلسلے سے وابستہ تھے۔ مولانا عبدالشکور نے انہی کے دامن فیض میں تربیت پائی اور اس زمانے کے رواج کے مطابق عربی اور فارسی کی تعلیم انہی سے حاصل کی ۔
(بروایت پروفیسر مرزا سلیم بیگ بحوالہ ماہنامہ نعت لاہور ’’سندھ کے نعت گو ‘‘ دسمبر ۲۰۰۰ئ)
حضرت قبلہ سید نواب محمد خادم حسن صاحب زبیری اجمیری مرحوم کی صحبت نے آپ کو ایک اچھا خاصہ شاعر بنا دیا ۔ آپ نے استاد محترم کے متعلق قطعہ کہا ہے:
خادم خادمان چشت گئے
نیک سیرت تھے خود سرشت گئے
آج خادم حسن زبیری بھی
کیا کہوں خازن بہشت گئے
بیعت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت محبوب الہی خواجہ نظام الدین اولیاء دہلوی کے سجادہ نشین سالک نما مجذوب معارف دستگار حضرت مولانا سید احمد علی جمال شاہ نظامی کمبل کمبل پوش کے دست بیعت ہوئے ۔
حسن جمال مصطفی شاہ جمال احمد علی
شان جلال مرتضی شاہ جمال احمد علی
شاعری )تقسیم ہند پر والدہ اور بچوں سمیت ۲۷، رجب المرجب ۱۳۶۶ھ بطابق ۱۹۴۷ء کو حیدر آباد (سندھ ) آگئے ۔ وہ خوش بیان واعظ کے علاوہ شیخ طریقت بھی تھے۔ مولانا عبدالشکور ایک صوفی شاعر تھے ۔ ان کی شاعر ی میں اخلاقیات حمد و نعت اور منقبت کے مضامین نظم غزل اور قطعات کی صورت میں نمایاں ہیں ۔ حسان الہند مولانا ضیاء القادری بدایونی (کراچی) سے مشورہ سخن کرتے تھے۔ حضور اکرم نور مجسم ﷺ سے انہیں جو والہانہ محبت تھی اس کا اظہار جابجا ان کے تعتیہ اشعار میں ملتا ہے۔ (ایضا)
تاجداروں سے سوا ہے وہ فقیر بے نوا
زیب سر جس کے رہے نعل کف پائے رسول
ان کی سرمستی کا عالم حشر کے دن دیکھنا
مے کشوں کے ہاتھ میں ہے جام صہبائے رسول
دل ہے وہ د جو خدا کی یاد سے غافل نہ ہو
سر وہی سر ہے کہ جس سر میں ہو سودائے رسول
حکم خلاق دو عالم تھا شب معراج میں
ہاں یونہی نعلین پہنے عرش پر آئے رسول
حق تعالیٰ نے کیا وعدہ ہے یہ معراج میں
میں اسی کو بخش دوں گا، جس کا فرمائے رسول
سجدہ گاہ عاشقاں ہے سجدہ گاہ عارفاں
کیا کشش تجھ میں ہے اے نقش کف پائے رسول
کفر غارت ہو گیا، عالم منور ہو گیا
عالم امکان میں جب تشریف لے آئے رسول
دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:
چاند بھی شرما گیا، جب آگیا بطحی کا چاند
حق تو یہ ہے نور دکھلا کیا بطحی کا چاند
بدلیاں رحمت کی اٹھیں، بارشیں ہونے لگیں
دونوں عالم کی دولت مجھے، صد شکر ہے
کملی والا میرے دل میں آگیا بطحی کا چاند
ذکر الا اللہ کرتے کرتے جب سویا’’شکور‘‘
روئے روشن خواب میں دکھلا گیا بطحی کا چاند
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نماز عشق یوں ہوتی ہے زاہد
کہ ان کا نقش پا میری جبیں ہے
نہیں بھاتا ہے جنت کا گلستان
تصور میں مدینہ کی زمین ہے
جسے الفت میسر ہو نہ ان کی
وہ مومن کیا مسلماں بھی نہیں ہے
شب معراج میں چون و چرا کی کس کو گنجائش
ہے سبحان الذی اسریٰ سے اظہار شب اسرار
تصنیف و تالیف:
آپ کی درج ذیل تصنیفات یاد گار ہیں:
۱۔ عثمانیہ مئے خانہ الموسوم دیوان شکور
یہ منقبت کا دیوان ہے۔ حضرت نواب خادم حسن زبیری کی زیر نگرانی میں عثمانی معینی کمیٹی آگرہ کی جانب سے ماہ اپریل ۱۹۴۳ء کو غالب پریس کھاری کنواں اجمیر شریف سے شائع ہوا ۔ دوسرا ایڈیشن آپ کو صاحبزادوں نے حیدر آباد سندھ ۱۳۷۹ھ؍ کو شائع کیا۔
۲۔ دیوان ذوق تصوف (۱۳۸۲ھ) نعت و منقبت پر مشتمل کلام ہے ۔ اپنے دور کے نامور شعراء کرام نے قطعہ تاریخ اشاعت کہے ہیں جو کہ کتاب کے آخرمیں شامل اشاعت کئے گئے ہیں ان میں اکثر شعراء اس وقت اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو چکے ہیں ۔ مولانا سید محمد علی ارم (حیدرآباد، سندھ ) علامہ سید محمد ہاشم فاضل شمسی ، علامہ سید عبدالسلام باندوی ، استاد الشعراء مولانا ضیاء القادری، سید خورشید علی مہر نقوی کراچی ، سید صادق علی صادق حیدرآباد مولانا میر نذر علی درد کا کوری عزیز آباد کراچی ، مولانا ظہور الحسن خان ماہر ضیائی کراچی ، رئیس احمد رئیس ضیائی بدایونی سابق خطیب لال مسجد ملیر کراچی، سید مختار علی مختار ضیائی اجمیری کراچی ، ہاشم رضا خان ہاشم ضیائی بدایونی ، حضرت صابر براری ضیائی کراچی ، محمد حمید خان مائل پیلی بھیتی حال لاڑکانہ ، حکیم سید اکرام حسین سیکری حیدرآباد سندھ ، آرزو تبریزی اکبر آبادی سعود آباد ملیر کراچی وغیرہ ۔
یہ دیوان آپ کے خلیفہ صوفی محمد یعقوب نظامی کورنگی کراچی کی کوشش سے ۱۳۹۵ھ ؍۱۹۷۵ء کے بعد شائع ہوا۔
❤1
فاضل شمسی فرماتے ہیں:
زیور طبع سے آراستہ ہو کر آیا
نغمہ صوفی صافی سخن شیخ و شباب
صوفی عبدالشکور آگئے کر وہ کلام
زاہدوں کے لئے اذکار ہے رندوں کی شراب
حافظ و جامی و خسرو نے جمائی محفل
مطرب رومی نے نے لی تو عراقی نے روباب
مختصر یہ ہے میرے سامنے صوفی کا کلام
ساغر حمد میں ہے نعت محمد کی شراب
اہل مشرق کے لئے ذوق تصوف تاریخ
اہل مغرب کو پسند آگیا ذکر مضراب
۱۳۸۲ھ ۱۳۸۲ھ
شعر گوئی سے تعلق نہیں مجھ کو ھاشم
چند اشعار لکھے وہ بھی عجلت بشتاب
تلامذہ:
آپ کے شاگردوں میں سے منشی سخی نیازی اکبر آبادی ( کراچی ) مشہور ہیں ۔
شادی و اولاد:
آپ کے دو صاحبزادوں کے نام یہ ہیں:
۱۔ سلطان محمد نظامی حیدر آباد
۲۔ غوث محمد نظامی گرو نگر حیدرآباد سندھ
وصال:
حضرت مولانا عبد الشکور ۱۳۹۵ھ ، ۲۶، اپریل ۱۹۷۵ء ۸۵ سال کی عمر میں حیدر آباد (سندھ) میں انتقال کیا۔ بروز جمعہ ۶، جون ۱۹۷۵ء کو آپ کا چہلم ہوا جس میں سید مختار علی اجمیری نے منقبت و قطعہ تاریخ پڑھا۔
حضرت صابر براری (کراچی ) نے قطعہ تاریخ وصال کہا:
آہ! رخصت ہو گئے ہیں عالم فانی سے آج
حضرت پیر طریقت بندہ رب غفور
زاہد کامل بھی تھے، وہ سالک و درویش بھی
بابا کمبل پوش کہلاتے تھے وہ نزدیک و دور
جو بھی ملتا آپ سے ہو جاتا شیدا آپ کا
جلوہ افشاں آپ کے چہرے پہ تھا کچھ ایسا نور
مرعہ تاریخ رحلت کہہ دواے صابر یہی
ہیں بتوفیق الہی خلد میں بابا شکور
۱۹۷۵ء
(تاریخ رفتگان جلد سوم )
[اکثر مواد حضرت کمبل پوش کے ’’دیوان ذوق تصوف ‘‘ سے لیا گیا ہے جو کہ آپ کے چہلم کے بعد کراچی سے شائع ہوا تھا اور یہ نسخہ نعتیہ محقق و اسکالر جناب شہزاد احمد نے برائے مطالعہ مہیا کیا]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-shakoor-nizami-kambal-posh
زیور طبع سے آراستہ ہو کر آیا
نغمہ صوفی صافی سخن شیخ و شباب
صوفی عبدالشکور آگئے کر وہ کلام
زاہدوں کے لئے اذکار ہے رندوں کی شراب
حافظ و جامی و خسرو نے جمائی محفل
مطرب رومی نے نے لی تو عراقی نے روباب
مختصر یہ ہے میرے سامنے صوفی کا کلام
ساغر حمد میں ہے نعت محمد کی شراب
اہل مشرق کے لئے ذوق تصوف تاریخ
اہل مغرب کو پسند آگیا ذکر مضراب
۱۳۸۲ھ ۱۳۸۲ھ
شعر گوئی سے تعلق نہیں مجھ کو ھاشم
چند اشعار لکھے وہ بھی عجلت بشتاب
تلامذہ:
آپ کے شاگردوں میں سے منشی سخی نیازی اکبر آبادی ( کراچی ) مشہور ہیں ۔
شادی و اولاد:
آپ کے دو صاحبزادوں کے نام یہ ہیں:
۱۔ سلطان محمد نظامی حیدر آباد
۲۔ غوث محمد نظامی گرو نگر حیدرآباد سندھ
وصال:
حضرت مولانا عبد الشکور ۱۳۹۵ھ ، ۲۶، اپریل ۱۹۷۵ء ۸۵ سال کی عمر میں حیدر آباد (سندھ) میں انتقال کیا۔ بروز جمعہ ۶، جون ۱۹۷۵ء کو آپ کا چہلم ہوا جس میں سید مختار علی اجمیری نے منقبت و قطعہ تاریخ پڑھا۔
حضرت صابر براری (کراچی ) نے قطعہ تاریخ وصال کہا:
آہ! رخصت ہو گئے ہیں عالم فانی سے آج
حضرت پیر طریقت بندہ رب غفور
زاہد کامل بھی تھے، وہ سالک و درویش بھی
بابا کمبل پوش کہلاتے تھے وہ نزدیک و دور
جو بھی ملتا آپ سے ہو جاتا شیدا آپ کا
جلوہ افشاں آپ کے چہرے پہ تھا کچھ ایسا نور
مرعہ تاریخ رحلت کہہ دواے صابر یہی
ہیں بتوفیق الہی خلد میں بابا شکور
۱۹۷۵ء
(تاریخ رفتگان جلد سوم )
[اکثر مواد حضرت کمبل پوش کے ’’دیوان ذوق تصوف ‘‘ سے لیا گیا ہے جو کہ آپ کے چہلم کے بعد کراچی سے شائع ہوا تھا اور یہ نسخہ نعتیہ محقق و اسکالر جناب شہزاد احمد نے برائے مطالعہ مہیا کیا]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-shakoor-nizami-kambal-posh
❤1
حضرت مولانا عزیز اللہ الحبوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مولانا محمد عزیز اللہ الحبوی ، لاڑکانہ اور خیر پور میرس کے نامور عالم ، اعلیٰ منتظم ، بیدار مغز استاد اور باصلاحیت سیاسی کارکن تھے ۔
گوٹھ مسوحب ( تحصیل و ضلع لاڑکانہ ) میں حبیب اللہ ڈیتھو کے گھر کے رجب المرجب 1370ھ کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت
پرائمری تعلیم آبائی گوٹھ مسوحب میں حاصل کی۔ اس کے بعد آپ کے والد نے گوٹھ آگانی (تحصیل لاڑکانہ ) کے مدرسہ نعیمیہ میں داخل کرایا۔
جہاں حضرت علامہ مفتی محمد صالح نعیمی کے ہاں تعلیم پائی درسی نصاب مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے ۔ جامعہ راشدیہ درگاہ شریف پیر جو گوٹھ میں رئیس العلماء حضرت علامہ تقدس علی خان بریلوی کے ہاں دورہ حدیث شریف پڑھا ۔
اس کے بعد جامعہ اویسیہ رضویہ بہاولپور میں شیخ القرآن علامہ مفتی محمد فیض احمد اویسی قادری رضوی مدظلہ العالی کے ہاں دورہ تفسیر القرآن پڑھا ۔ اور جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور سے شہادۃ العالمیہ کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی ، اس کے علاوہ محکمہ اوقاف پاکستان کی جانب سے علماء اکیڈمی (بادشاہی مسجد ) لاہور سے بھی سند حاصل کی۔
درس و تدریس
فارغ التحصیل ہونے کے بعد درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔
مدرسہ منظور الا سلام گوٹھ صدر جی بھٹیوں (تحصیل پیر جو گوٹھ ) میں مدرس رہے۔
طارق گوٹھ (نزد ٹھری میر واہ ) ۔
مدرسہ نعیمیہ گوٹھ آگانی (تحصیل لاڑکانہ ) ۔
مرکزی جامع مسجد قاسمیہ قدیم عید گاہ لاڑکانہ ۔
مسجد درگاہ حضرت قائم شاہ بخاری لاڑکانہ ۔
مدرسہ انوار مجتبیٰ پھول باغ خیر پو ر میرس ۔
مدرسہ مخزن البرکا ت لاڑکانہ میں درس و تدریس اور تنظیم سازی کے فرائض انجام دیتے رہے ۔
ڈسٹرکٹ خطیب
محکمہ اوقا ف کی جانب سے لاڑکانہ کے ڈسٹرکٹ خطیب او ر مسجد درگاہ قائم شاہ بخاری لاڑکانہ کے امام و خطیب مقرر ہوئے ۔ اس دور میں عوام الناس میں بیداری اور تنظیم سازی کے لئے کام کیا ۔ روزانہ بعد نماز فجر درس قرآن کا آغاز کیا۔ عوام اہل سنت میں بیداری کے لئے ملاقات اجلاس میٹنگ اور تنظیم سازی کا کام کیا۔
ائمہ مساجد کی تنظیم سازی اور ان کے حقوق کے لئے آواز بلند کیا۔ جماعت اہل سنت پاکستان لاڑکانہ اور جمعیت علمائے پاکستان میں کام کیا۔ ان کے پاس اہل سنت و جماعت کے لئے پروگرام تھا وہ مسلک کے لئے کچھ کرنا چاہتے تھے اسی لئے تڑپتے رہتے تھے ۔ وہ خود دار تھے اور خودداری کا سبق دیتے تھے۔ اہل سنت و جماعت کے انتشار اور تنظیم سے عدم دلچپسی سے بہت افسردہ رہتے تھے۔ اہل سنت کو مرکز دینے کے لئے مدرسہ مخزن البرکات قائم کیا ۔
شعبہ نشر و اشاعت قائم کر کے پمفلٹ شائع کئے ۔ معززین شہریوں کی میٹنگ بلواتے ۔ ائمہ مساجد کی تربیت کا پروگرام مرتب کیا۔ سالانہ عظمت خلفائے راشدین کانفرنس کی بنیاد رکھی ، جس میں ہر سال ملک کے نامور علماء و خطبا ء او ر شعلہ بیان مقررین کو مدعو فرما کر اصلاح عقائد کے حوالہ سے نئے انداز میں کام کیا ۔ یہ کانفرنس آج بھی جاری ہے اور ان کی نہ صرف یاد دلاتی ہے بلکہ ان کے لئے صدقہ جاریہ بھی ہے ۔
وہ اپنے وجود میں ایک بزم سجائے ہوئے تھے افسوس ! کہ زندگی نے وفا نہیں کی ۔ وہ حقوق اہل سنت کے حصول کے لئے ہمیشہ سر گرم رہے ۔ اور اہل سنت و جماعت کو جگاتے رہے ۔ وہ اہل سنت و جماعت کا تنظیمی سر مایہ تھے۔ وہ فقیر راشدی کے دوست تھے، تنظیمی ساتھی تھے ہر موڑ پر ساتھ تھے آج ان کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
مدرسہ مخزن البرکات کا قیام
اپنے پروگرام کو وسعت دینے کے لئے انہیں ایک مرکز کی ضرورت محسوس ہوئی ، اس لئے 1980ء میں اپنی خاندانی زمین فروخت کر کے ، لاڑکانہ شہر مین گلشن مصطفی ہاوٗسنگ سوسائٹی میں 6000 ہزار فٹ اراضی پر مشتمل پلاٹ خرید کر جامعہ رضویہ مخزن البرکات کی بنیاد رکھی ۔
اس کے بعد تعمیر و ترقی کے کٹھن مراحل سے گذر کے تین کمرے اور ایک کچن تعمیر کرواکے درس و تدریس کا آغاز کر دیا۔ علامہ الحبوی کے انتقال سے ان کا پروگرام متاثر ہوا۔ لاڑکانہ شہر میں یہ پہلا مدرسہ تھا جس کا اپنا باورچی خانہ تھا۔
جس نے مدارس کے منتظمین کو نمونہ فراہم کیا کہ مدارس میں اپنا کچن قائم کریں او ر طلباء کو گھر گھر روٹی پانی کے لئے بھیج کر ان کی عزت نفس کو مجروح نہ کریں۔ اپنے پیر حاجی الہ آندل شیخ نقشبندی صاحب کو ترغیب دلا کر تیار کیا اور ان سے خیر پور میرس شہر میں دارالعلوم انوار مجتبیٰ قائم کروایا ۔
یہ مدرسہ خیر پور شہر میں اہل سنت و جماعت کا اولین مدرسہ ہے ۔ مدرسہ اور متصل جامع مسجد مدینہ کو آج بھی خیر پور شہر میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ خیر پور میرس میں اہل سنت اور دیوبندی وہابی دونوں اکٹھے 12 ربیع الاول کو جلوس میلاد النبی ﷺ نکالتے تھے۔ اہل سنت والے محبت رسول میں اور دیو بندی بغض شیعہ میں یہ جلوس نکالا کرتے تھے ۔آپ نے مدرسہ قائم فرمانے کے بعد سب سے پہلے یہ کام کیا کہ جلوس میلادالنبی ﷺ کے لئے تمام تنظیموں کااجلا س بلایا اور انہیں سمجھا یا کہ ہمارا جلوس، وہابیوں کے
مولانا محمد عزیز اللہ الحبوی ، لاڑکانہ اور خیر پور میرس کے نامور عالم ، اعلیٰ منتظم ، بیدار مغز استاد اور باصلاحیت سیاسی کارکن تھے ۔
گوٹھ مسوحب ( تحصیل و ضلع لاڑکانہ ) میں حبیب اللہ ڈیتھو کے گھر کے رجب المرجب 1370ھ کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت
پرائمری تعلیم آبائی گوٹھ مسوحب میں حاصل کی۔ اس کے بعد آپ کے والد نے گوٹھ آگانی (تحصیل لاڑکانہ ) کے مدرسہ نعیمیہ میں داخل کرایا۔
جہاں حضرت علامہ مفتی محمد صالح نعیمی کے ہاں تعلیم پائی درسی نصاب مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے ۔ جامعہ راشدیہ درگاہ شریف پیر جو گوٹھ میں رئیس العلماء حضرت علامہ تقدس علی خان بریلوی کے ہاں دورہ حدیث شریف پڑھا ۔
اس کے بعد جامعہ اویسیہ رضویہ بہاولپور میں شیخ القرآن علامہ مفتی محمد فیض احمد اویسی قادری رضوی مدظلہ العالی کے ہاں دورہ تفسیر القرآن پڑھا ۔ اور جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور سے شہادۃ العالمیہ کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی ، اس کے علاوہ محکمہ اوقاف پاکستان کی جانب سے علماء اکیڈمی (بادشاہی مسجد ) لاہور سے بھی سند حاصل کی۔
درس و تدریس
فارغ التحصیل ہونے کے بعد درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔
مدرسہ منظور الا سلام گوٹھ صدر جی بھٹیوں (تحصیل پیر جو گوٹھ ) میں مدرس رہے۔
طارق گوٹھ (نزد ٹھری میر واہ ) ۔
مدرسہ نعیمیہ گوٹھ آگانی (تحصیل لاڑکانہ ) ۔
مرکزی جامع مسجد قاسمیہ قدیم عید گاہ لاڑکانہ ۔
مسجد درگاہ حضرت قائم شاہ بخاری لاڑکانہ ۔
مدرسہ انوار مجتبیٰ پھول باغ خیر پو ر میرس ۔
مدرسہ مخزن البرکا ت لاڑکانہ میں درس و تدریس اور تنظیم سازی کے فرائض انجام دیتے رہے ۔
ڈسٹرکٹ خطیب
محکمہ اوقا ف کی جانب سے لاڑکانہ کے ڈسٹرکٹ خطیب او ر مسجد درگاہ قائم شاہ بخاری لاڑکانہ کے امام و خطیب مقرر ہوئے ۔ اس دور میں عوام الناس میں بیداری اور تنظیم سازی کے لئے کام کیا ۔ روزانہ بعد نماز فجر درس قرآن کا آغاز کیا۔ عوام اہل سنت میں بیداری کے لئے ملاقات اجلاس میٹنگ اور تنظیم سازی کا کام کیا۔
ائمہ مساجد کی تنظیم سازی اور ان کے حقوق کے لئے آواز بلند کیا۔ جماعت اہل سنت پاکستان لاڑکانہ اور جمعیت علمائے پاکستان میں کام کیا۔ ان کے پاس اہل سنت و جماعت کے لئے پروگرام تھا وہ مسلک کے لئے کچھ کرنا چاہتے تھے اسی لئے تڑپتے رہتے تھے ۔ وہ خود دار تھے اور خودداری کا سبق دیتے تھے۔ اہل سنت و جماعت کے انتشار اور تنظیم سے عدم دلچپسی سے بہت افسردہ رہتے تھے۔ اہل سنت کو مرکز دینے کے لئے مدرسہ مخزن البرکات قائم کیا ۔
شعبہ نشر و اشاعت قائم کر کے پمفلٹ شائع کئے ۔ معززین شہریوں کی میٹنگ بلواتے ۔ ائمہ مساجد کی تربیت کا پروگرام مرتب کیا۔ سالانہ عظمت خلفائے راشدین کانفرنس کی بنیاد رکھی ، جس میں ہر سال ملک کے نامور علماء و خطبا ء او ر شعلہ بیان مقررین کو مدعو فرما کر اصلاح عقائد کے حوالہ سے نئے انداز میں کام کیا ۔ یہ کانفرنس آج بھی جاری ہے اور ان کی نہ صرف یاد دلاتی ہے بلکہ ان کے لئے صدقہ جاریہ بھی ہے ۔
وہ اپنے وجود میں ایک بزم سجائے ہوئے تھے افسوس ! کہ زندگی نے وفا نہیں کی ۔ وہ حقوق اہل سنت کے حصول کے لئے ہمیشہ سر گرم رہے ۔ اور اہل سنت و جماعت کو جگاتے رہے ۔ وہ اہل سنت و جماعت کا تنظیمی سر مایہ تھے۔ وہ فقیر راشدی کے دوست تھے، تنظیمی ساتھی تھے ہر موڑ پر ساتھ تھے آج ان کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
مدرسہ مخزن البرکات کا قیام
اپنے پروگرام کو وسعت دینے کے لئے انہیں ایک مرکز کی ضرورت محسوس ہوئی ، اس لئے 1980ء میں اپنی خاندانی زمین فروخت کر کے ، لاڑکانہ شہر مین گلشن مصطفی ہاوٗسنگ سوسائٹی میں 6000 ہزار فٹ اراضی پر مشتمل پلاٹ خرید کر جامعہ رضویہ مخزن البرکات کی بنیاد رکھی ۔
اس کے بعد تعمیر و ترقی کے کٹھن مراحل سے گذر کے تین کمرے اور ایک کچن تعمیر کرواکے درس و تدریس کا آغاز کر دیا۔ علامہ الحبوی کے انتقال سے ان کا پروگرام متاثر ہوا۔ لاڑکانہ شہر میں یہ پہلا مدرسہ تھا جس کا اپنا باورچی خانہ تھا۔
جس نے مدارس کے منتظمین کو نمونہ فراہم کیا کہ مدارس میں اپنا کچن قائم کریں او ر طلباء کو گھر گھر روٹی پانی کے لئے بھیج کر ان کی عزت نفس کو مجروح نہ کریں۔ اپنے پیر حاجی الہ آندل شیخ نقشبندی صاحب کو ترغیب دلا کر تیار کیا اور ان سے خیر پور میرس شہر میں دارالعلوم انوار مجتبیٰ قائم کروایا ۔
یہ مدرسہ خیر پور شہر میں اہل سنت و جماعت کا اولین مدرسہ ہے ۔ مدرسہ اور متصل جامع مسجد مدینہ کو آج بھی خیر پور شہر میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ خیر پور میرس میں اہل سنت اور دیوبندی وہابی دونوں اکٹھے 12 ربیع الاول کو جلوس میلاد النبی ﷺ نکالتے تھے۔ اہل سنت والے محبت رسول میں اور دیو بندی بغض شیعہ میں یہ جلوس نکالا کرتے تھے ۔آپ نے مدرسہ قائم فرمانے کے بعد سب سے پہلے یہ کام کیا کہ جلوس میلادالنبی ﷺ کے لئے تمام تنظیموں کااجلا س بلایا اور انہیں سمجھا یا کہ ہمارا جلوس، وہابیوں کے
❤1
جلوس کے ساتھ نہیں بلکہ جدا اپنے علماء و مشائخ کی قیادت میں نکلے گا اور اختتام پر پھول باغ میں جلسہ کا انعقاد ہو گا ۔ اس طرح اہل سنت کے تشخص کو اجاگر کیا۔
بیعت
حضرت منظور حسین مدنی خاصخیلی (خیر پور میرس ) کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت تھے اور ان کے خلیفہ حاجی الہ آندل شیخ سے خلافت ملی ہوئی تھی۔
تصنیف و تالیف
وہ تصنیف و تالیف کی اہمیت سے غافل نہ تھے ، وقت بوقت چھوٹے چھوٹے رسائل پمفلٹ اور طغر ے وغیرہ لکھتے اور شائع کرتے رہتے تھے۔
کنز الایمان فی ترجمۃ القرآن مع خزائن العرفان (امام احمد رضا خان بریلوی ) کا سندھی ترجمہ (قلمی ) پہلا پارہ آپ نے چھپوایا تھا۔
علم غیب ، نورانیت ، حاضر و ناظر وغیرہ موضوعات پر چارٹر ؍طغر ے لکھ کر شائع کئے ۔
عرصہ بعد وہ طغر ے نایاب ہو گئے اس لئے ادارہ پیغام رضا حیدرآباد ؍کراچی نے کثیر تعداد میں چھپوا کر سندھ بھر میں مفت تقسیم کئے اورمساجد میں آویزاں کئے ۔
رحمت عالم
سوانح امام ربانی
نشری تقریری
اذان میں صلوٰۃ و سلام پڑھنے کا حکم (سندھی )
تلبیس الاحوال فی عمل ابوجھل بجواب حاجی ابو جھل (مولوی اللہ بخش غیر مقلد کے پمفلٹ کارد ) (سندھی )
تلامذہ
آپ کے نامور شاگرد درج ذیل ہیں :
مولانا عبدالقادر سہتو امام مدینہ مسجد لاڑکانہ
مولانا علی حسن مہیسر امام خیر شاہ مسجد لاڑکانہ
مولانا نثار احمد الحبوی عربی ٹیچر ہائی اسکول لاڑکانہ
اولاد
آپ کو ۴ بیٹیاں اور تین بیٹے تولد ہوئے :
محمد جمیل
محمد سلیم
زین العابدین ڈیتھو
وصال
مولانا کی انقلابی زندگی پر ان کے استاد ، ادیب اہل سنت شیخ الحدیث علامہ عبدالحکیم شرف قادری مدظلہ العالی (لاہور ) کا گہرا اثر تھا ۔ شکار پور میں شب معراج 27، رجب المرجب کو جلسہ عید معرا ج النبی ﷺ منعقد تھا۔ مولانا الحبوی کا خصوصی خطاب تھا ۔ آپ 26 ، رجب کو شام کو مدرسہ سے نکلے کہ ایک گھنٹہ میں وہاں پہنچ کر خطاب کروں گا ۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، آپ نے سفر وین کے ذریعے کیا راستہ میں وین کا ایکسیڈنٹ ہوا اور مولانا اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے ۔ لاش ایمبولینس کے ذریعے معراج میں مدرسہ پہنچائی گئی ۔ دوسرے روز نماز جنازہ ہوئی ۔ آپ کا مزار مدرسہ مخزن البرکات لاڑکانہ میں واقع ہے۔ بتاریخ 27، رجب 1407ھ؍ 28، مارچ 1987ء کو 37سال کی عمر میں انتقال کیا۔
[مرحوم کے برادر اصغر مولانا نثار احمد سے موصول شدہ مواد اور اپنی یا داشت ]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-azizullah-alhabvi
بیعت
حضرت منظور حسین مدنی خاصخیلی (خیر پور میرس ) کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت تھے اور ان کے خلیفہ حاجی الہ آندل شیخ سے خلافت ملی ہوئی تھی۔
تصنیف و تالیف
وہ تصنیف و تالیف کی اہمیت سے غافل نہ تھے ، وقت بوقت چھوٹے چھوٹے رسائل پمفلٹ اور طغر ے وغیرہ لکھتے اور شائع کرتے رہتے تھے۔
کنز الایمان فی ترجمۃ القرآن مع خزائن العرفان (امام احمد رضا خان بریلوی ) کا سندھی ترجمہ (قلمی ) پہلا پارہ آپ نے چھپوایا تھا۔
علم غیب ، نورانیت ، حاضر و ناظر وغیرہ موضوعات پر چارٹر ؍طغر ے لکھ کر شائع کئے ۔
عرصہ بعد وہ طغر ے نایاب ہو گئے اس لئے ادارہ پیغام رضا حیدرآباد ؍کراچی نے کثیر تعداد میں چھپوا کر سندھ بھر میں مفت تقسیم کئے اورمساجد میں آویزاں کئے ۔
رحمت عالم
سوانح امام ربانی
نشری تقریری
اذان میں صلوٰۃ و سلام پڑھنے کا حکم (سندھی )
تلبیس الاحوال فی عمل ابوجھل بجواب حاجی ابو جھل (مولوی اللہ بخش غیر مقلد کے پمفلٹ کارد ) (سندھی )
تلامذہ
آپ کے نامور شاگرد درج ذیل ہیں :
مولانا عبدالقادر سہتو امام مدینہ مسجد لاڑکانہ
مولانا علی حسن مہیسر امام خیر شاہ مسجد لاڑکانہ
مولانا نثار احمد الحبوی عربی ٹیچر ہائی اسکول لاڑکانہ
اولاد
آپ کو ۴ بیٹیاں اور تین بیٹے تولد ہوئے :
محمد جمیل
محمد سلیم
زین العابدین ڈیتھو
وصال
مولانا کی انقلابی زندگی پر ان کے استاد ، ادیب اہل سنت شیخ الحدیث علامہ عبدالحکیم شرف قادری مدظلہ العالی (لاہور ) کا گہرا اثر تھا ۔ شکار پور میں شب معراج 27، رجب المرجب کو جلسہ عید معرا ج النبی ﷺ منعقد تھا۔ مولانا الحبوی کا خصوصی خطاب تھا ۔ آپ 26 ، رجب کو شام کو مدرسہ سے نکلے کہ ایک گھنٹہ میں وہاں پہنچ کر خطاب کروں گا ۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، آپ نے سفر وین کے ذریعے کیا راستہ میں وین کا ایکسیڈنٹ ہوا اور مولانا اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے ۔ لاش ایمبولینس کے ذریعے معراج میں مدرسہ پہنچائی گئی ۔ دوسرے روز نماز جنازہ ہوئی ۔ آپ کا مزار مدرسہ مخزن البرکات لاڑکانہ میں واقع ہے۔ بتاریخ 27، رجب 1407ھ؍ 28، مارچ 1987ء کو 37سال کی عمر میں انتقال کیا۔
[مرحوم کے برادر اصغر مولانا نثار احمد سے موصول شدہ مواد اور اپنی یا داشت ]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-azizullah-alhabvi
❤1
حضرت مولانا حکیم فقیر محمد امرتسری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
فخر الاطباء عارف باللہ مولانا حکیم فقیر محمد چشتی نظامی قریباً 1864ء میں حکیم میاں نبی بخش کےگھر پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
والد بزرگوار، و مولانا ہاشم علی، مولوی حکیم محمد ابراہیم امر تسری المتوفی 1342ھ مولانا نور احمد المتوفی 1348ھ محشی مکتوبات مجدد الف ثانی سے درسیات نظامی پڑھیں، فاضل اجل علامہ محمد عالم آسی امر تسری سے خصوصی استفادہ کیا، طب کی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی ـ
بیعت:
سلسلہ چشتیہ میں حضرت مولانا الحاج میاں علی محمد صاحب مدظلہٗ العالی کے مُرید تھے ـ
درس نظامی میں مہارت تامہ کے باوجود طبعی مناسبت طب سے تھی، اس لیے اس طرف توجہ مبذول کی، تشخیص میں آپ کو حیرت انگیز مہارت تھی، مضرو دوا سے علاج کرتے تھے، اور اس میں کافی شہرت حاصل کی، آپ کی زندگانی کے اصل پہلو پر فن طب کی مہارت نے پردہ ڈاق رکھا تھا، در اصل آپ صاحب عرفان و مقام بزرگ تھے ـ
وصال:
27 رجب 1371ھ میں لاہور میں وفات پائی، حضرت میاں میر قدس سرہٗ کے احاطہ میں مزار کی جنوبی دیوار کے زیر سایہ بیرونی جانب آرام فرما ہیں ۔ مشہور اہل علم و قلم حکیم محمد موسیٰ امر تسری مدظلہ آپ کے نامور فرزند ہیں ـ تاریخ وفات: اہل عرفان فقیر محمد قرین محمد’’ ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-faqeer-muhammad-amartasri
ولادت:
فخر الاطباء عارف باللہ مولانا حکیم فقیر محمد چشتی نظامی قریباً 1864ء میں حکیم میاں نبی بخش کےگھر پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
والد بزرگوار، و مولانا ہاشم علی، مولوی حکیم محمد ابراہیم امر تسری المتوفی 1342ھ مولانا نور احمد المتوفی 1348ھ محشی مکتوبات مجدد الف ثانی سے درسیات نظامی پڑھیں، فاضل اجل علامہ محمد عالم آسی امر تسری سے خصوصی استفادہ کیا، طب کی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی ـ
بیعت:
سلسلہ چشتیہ میں حضرت مولانا الحاج میاں علی محمد صاحب مدظلہٗ العالی کے مُرید تھے ـ
درس نظامی میں مہارت تامہ کے باوجود طبعی مناسبت طب سے تھی، اس لیے اس طرف توجہ مبذول کی، تشخیص میں آپ کو حیرت انگیز مہارت تھی، مضرو دوا سے علاج کرتے تھے، اور اس میں کافی شہرت حاصل کی، آپ کی زندگانی کے اصل پہلو پر فن طب کی مہارت نے پردہ ڈاق رکھا تھا، در اصل آپ صاحب عرفان و مقام بزرگ تھے ـ
وصال:
27 رجب 1371ھ میں لاہور میں وفات پائی، حضرت میاں میر قدس سرہٗ کے احاطہ میں مزار کی جنوبی دیوار کے زیر سایہ بیرونی جانب آرام فرما ہیں ۔ مشہور اہل علم و قلم حکیم محمد موسیٰ امر تسری مدظلہ آپ کے نامور فرزند ہیں ـ تاریخ وفات: اہل عرفان فقیر محمد قرین محمد’’ ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-faqeer-muhammad-amartasri
❤1