🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-07-1445 ᴴ | 07-02-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-07-1445 ᴴ | 07-02-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-07-1445 ᴴ | 07-02-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-07-1445 ᴴ | 07-02-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مولانا ابو الشاہ محمد عبد القادر شہید رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
مولانا محمد عبد القادر شہید رحمۃ اللہ علیہ ۔ کنیت: ابو الشاہ ـ

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا الحاج ابو الشاہ محمد عبد القادر بن مولانا علامہ حکیم غلام محی الدین بن حضرت علامہ مولانا مفتی عبد الرحیم (تلمیذ ارشد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی ) ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔

تاریخِ ولادت:
27 رجب المرجب 1340ھ / مطابق 27 مارچ 1922ء کو مدینۃ الاولیاء احمد آباد شریف میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی اس کے بعد انجمن اسلامیہ ہائی سکول احمد سکول احمد آباد میں داخل ہوئے اور میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔ 1946ء میں گجرات کالج احمد آباد سے ایف ۔ اے کا امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کیا ۔انہیں دنوں محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد آباد چشتی قادری، بریلی شریف سے مولوی سلطان حسن سنبھلی سے مناظرہ کرنے کے لئے احمد آباد تشریف لائے، مناظرہ میں کامیابی کے بعد وعظ و تقریرکا سلسلہ شروع ہوا ۔

چونکہ حضرت شیخ الحدیث کا قیام مولانا عبد القادر کے جد امجد کے ہاں تھا اس لئے انہیں حاضری اور خدمت کے زیادہ مواقع مہیا ہوئے ۔ نگاہِ حضرت شیخ الحدیث کا اثر یہ ہوا کہ مولانا عبد القادر دنیاوی تعلیم کو خیر باد کہہ کر سر چشمہ علم و حکمت بریلی شریف چلے گئے ۔

حضرت شیخ الحدیث نے ان کی تعلیم کا معقول انتظام کر دیا ۔ رمضان المبارک کی تعطیلات میں اپنے استاذ حضرت مولانا عبد الرشید جھنگوی (علیہ الرحمہ) کے ساتھ جھنگ چلے آئے اور جب مولانا عبد الرشید جھنگوی جامعہ نقشبندیہ علی پور سیداں تشریف لے گئے تو بھی مولانا ان کے ہمراہ تھے، دو سال بعد مولانا عبد القادر پھر بریلی تشریف لے گئے تو بھی مولانا ان کے ہمراہ تھے، دو سال بعد مولانا عبد القادر پھر بریلی تشریف لے گئے اور مولانا علامہ وقار الدین اور حضرت محدث اعظم سے معقول و منقول کی کتابوں کا درس لیا ۔ قیام پاکستان کے بعد حضرت محدث اعظم کے ہمراہ پاکستان چلے آئے اور تحصیل علم کے لئے کچھ عرصہ سر گودھا اور شر قپور رہے ۔ جب حضرت محدث اعظم پاکستان نے محلہ سنت پورہ لائل پور (فیصل آباد) میں دورۂ حدیث کا اجراء فرمایا تو مولانا عبد القادر بھی درس حدیث میں شریک ہوئے اور شعبان المعظم 1369ھ/1950ء میں سند فراغت حاصل فرمائی ۔

بیعت و خلافت:
حضرت محدث اعظم پاکستان شیخ الحدیث مولانا سردار احمد قادری علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
استاذ العلماء، سند الاصفیاء، فیض یافتہ حضور محدث اعظم پاکستان علیہ الرحمہ، محسن اہل سنت، مجاہد اہل سنت، حضرت علامہ مولانا ابو الشاہ محمد عبد القادر شہید رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ نے ابتداءً دنیاوی تعلیم حاصل کی اور حضرت محدث اعظم پاکستان علیہ الرحمہ کی نگاہِ فیض اثر سے متأثر ہو کرعلوم دینیہ کی طرف متوجہ ہوئے ۔ بریلی شریف کےمنظر اسلام میں چشمۂ صافی سےسیراب ہونے کاقدرت نےموقع عطا کیا۔فیضانِ اعلیٰ حضرت سےخوب مستفیض ہوئے،منظر اسلام کا روح پرور ماحول اورمحدث اعظم پاکستان کی تربیت نےایسا دینی جذبہ عطا کیاکہ پھر تادم زیست دین متین کےکاموں میں ایسے مصروف ہوئےجس کی فی زمانہ نظیرملنامشکل ہے۔ حضرت محدث اعظم نے جامعہ رضویہ کی بنیاد رکھی تو آپ کے مخلص احباب کی جماعت میں مولانا عبد القادر بھی تھے شاہی مسجد کی امامت اور جامعہ رضویہ کی نظامت کو اس خوبی سے نبھایا کہ باید و شاید سنی رضوی جامع مسجد کا لینٹر ڈالا گیا تو دوسرے علماء کے ساتھ مولانا عبد القادر بھی سیمنٹ سر پر اٹھا کر شریک کار رہے۔

مولانا عبد القادر کے خلوص کا اندازہ اس بات سے لگایاجا سکتا ہے کہ دو سال تک پتو کی منڈی ضلع لاہورجمعہ پڑھانے کے لئےتشریف لے جاتے رہے لیکن کبھی اپنی ذات کے لئےکرائے تک کا مطالبہ نہ کیا ۔ مولانا بہترین مدرس،سلجھے ہوئے مقرر اور بلند مرتبہ منتظم تھے،جلد سازی کے فن سے بھی نجوبی آگاہ تھے،حضرت محدث اعظم کی قابل قدر خدمات انجام دی تھیں، حضرت محدث اعظم کی وصیت کے مطابق فیصل آباد میں آپ کی نماز جنازہ مولانا عبد القادر نے ہی پڑھائی تھی۔فیصل آباد میں عارضی طور پر کار خانہ بازار میں کرائے کے مکان میں جامعہ قادریہ کے نام سے 30اگست 1963ء کو ایک درس گاہ کا اجراء کیا گیا بعد ازاں مصطفی آباد سر گودھا روڈ فیصل آباد میں 77 مرلے زمین لے کر جامعہ قادریہ اور جامع طیبہ کاسنگ بنیاد رکھا گیا۔
1
14رمضان المبارک ( 1383ھ/1963ء) کو آپ کارخانہ بازار جامعہ قادریہ میں نماز ظہر پڑھانے تشریف لائے۔ آپ نے جامعہ کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا ہی تھا کہ ایک شقی القلب نے پیچھے سے آکر چاقو کے پے در پے وار کر کے شدید زخمی کردیا ۔ ڈاکٹروں نے بہت کوشش کی مگر آپ جانبر نہ ہو سکے اور جام شہادت نوش کر گئے ، دھوبی گھاٹ میں قریباً ایک لاکھ مسلمانوں نے نماز جنازہ ادا کی اور آپ کو جامع مسجد طیبہ کے پہلو میں دفن کردیا گیا۔ مزار پر گنبد تعمیر ہو چکا ہے اور آپ کی عظیم الشان دینی یادگار جامعہ قادریہ راہ ترقی پر گامزن ہے ۔

تاریخِ وصال:
14 رمضان المبارک 1383ھ / مطابق جنوری 1964ء کووصال فرمایا ۔ آپ کا مزار فیصل آباد میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-alhaj-muhammad-abdul-qadir-qadri-shaheed
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا عبد الشکور نظامی کمبل پوش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
درویش بزرگ حضرت صوفی عبدالشکور اکبر آبادی بن آگرہ (یوپی ۔ بھارت) میں ۲۷ رجب المرجب ۱۳۱۱ھ ؍ ۱۸۹۴ء دو شنبہ کو صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
ان کے حقیقی نانا حضرت مولانا الحاج سید محبوب علی عطاء ، قادری سلسلے سے وابستہ تھے۔ مولانا عبدالشکور نے انہی کے دامن فیض میں تربیت پائی اور اس زمانے کے رواج کے مطابق عربی اور فارسی کی تعلیم انہی سے حاصل کی ۔

(بروایت پروفیسر مرزا سلیم بیگ بحوالہ ماہنامہ نعت لاہور ’’سندھ کے نعت گو ‘‘ دسمبر ۲۰۰۰ئ)

حضرت قبلہ سید نواب محمد خادم حسن صاحب زبیری اجمیری مرحوم کی صحبت نے آپ کو ایک اچھا خاصہ شاعر بنا دیا ۔ آپ نے استاد محترم کے متعلق قطعہ کہا ہے:

خادم خادمان چشت گئے
نیک سیرت تھے خود سرشت گئے

آج خادم حسن زبیری بھی
کیا کہوں خازن بہشت گئے

بیعت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت محبوب الہی خواجہ نظام الدین اولیاء دہلوی کے سجادہ نشین سالک نما مجذوب معارف دستگار حضرت مولانا سید احمد علی جمال شاہ نظامی کمبل کمبل پوش کے دست بیعت ہوئے ۔

حسن جمال مصطفی شاہ جمال احمد علی
شان جلال مرتضی شاہ جمال احمد علی

شاعری )تقسیم ہند پر والدہ اور بچوں سمیت ۲۷، رجب المرجب ۱۳۶۶ھ بطابق ۱۹۴۷ء کو حیدر آباد (سندھ ) آگئے ۔ وہ خوش بیان واعظ کے علاوہ شیخ طریقت بھی تھے۔ مولانا عبدالشکور ایک صوفی شاعر تھے ۔ ان کی شاعر ی میں اخلاقیات حمد و نعت اور منقبت کے مضامین نظم غزل اور قطعات کی صورت میں نمایاں ہیں ۔ حسان الہند مولانا ضیاء القادری بدایونی (کراچی) سے مشورہ سخن کرتے تھے۔ حضور اکرم نور مجسم ﷺ سے انہیں جو والہانہ محبت تھی اس کا اظہار جابجا ان کے تعتیہ اشعار میں ملتا ہے۔ (ایضا)

تاجداروں سے سوا ہے وہ فقیر بے نوا
زیب سر جس کے رہے نعل کف پائے رسول

ان کی سرمستی کا عالم حشر کے دن دیکھنا
مے کشوں کے ہاتھ میں ہے جام صہبائے رسول

دل ہے وہ د جو خدا کی یاد سے غافل نہ ہو
سر وہی سر ہے کہ جس سر میں ہو سودائے رسول

حکم خلاق دو عالم تھا شب معراج میں
ہاں یونہی نعلین پہنے عرش پر آئے رسول

حق تعالیٰ نے کیا وعدہ ہے یہ معراج میں
میں اسی کو بخش دوں گا، جس کا فرمائے رسول

سجدہ گاہ عاشقاں ہے سجدہ گاہ عارفاں
کیا کشش تجھ میں ہے اے نقش کف پائے رسول

کفر غارت ہو گیا، عالم منور ہو گیا
عالم امکان میں جب تشریف لے آئے رسول

دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:
چاند بھی شرما گیا، جب آگیا بطحی کا چاند
حق تو یہ ہے نور دکھلا کیا بطحی کا چاند

بدلیاں رحمت کی اٹھیں، بارشیں ہونے لگیں
دونوں عالم کی دولت مجھے، صد شکر ہے

کملی والا میرے دل میں آگیا بطحی کا چاند
ذکر الا اللہ کرتے کرتے جب سویا’’شکور‘‘

روئے روشن خواب میں دکھلا گیا بطحی کا چاند

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نماز عشق یوں ہوتی ہے زاہد
کہ ان کا نقش پا میری جبیں ہے

نہیں بھاتا ہے جنت کا گلستان
تصور میں مدینہ کی زمین ہے

جسے الفت میسر ہو نہ ان کی
وہ مومن کیا مسلماں بھی نہیں ہے

شب معراج میں چون و چرا کی کس کو گنجائش
ہے سبحان الذی اسریٰ سے اظہار شب اسرار

تصنیف و تالیف:
آپ کی درج ذیل تصنیفات یاد گار ہیں:

۱۔ عثمانیہ مئے خانہ الموسوم دیوان شکور

یہ منقبت کا دیوان ہے۔ حضرت نواب خادم حسن زبیری کی زیر نگرانی میں عثمانی معینی کمیٹی آگرہ کی جانب سے ماہ اپریل ۱۹۴۳ء کو غالب پریس کھاری کنواں اجمیر شریف سے شائع ہوا ۔ دوسرا ایڈیشن آپ کو صاحبزادوں نے حیدر آباد سندھ ۱۳۷۹ھ؍ کو شائع کیا۔

۲۔ دیوان ذوق تصوف (۱۳۸۲ھ) نعت و منقبت پر مشتمل کلام ہے ۔ اپنے دور کے نامور شعراء کرام نے قطعہ تاریخ اشاعت کہے ہیں جو کہ کتاب کے آخرمیں شامل اشاعت کئے گئے ہیں ان میں اکثر شعراء اس وقت اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو چکے ہیں ۔ مولانا سید محمد علی ارم (حیدرآباد، سندھ ) علامہ سید محمد ہاشم فاضل شمسی ، علامہ سید عبدالسلام باندوی ، استاد الشعراء مولانا ضیاء القادری، سید خورشید علی مہر نقوی کراچی ، سید صادق علی صادق حیدرآباد مولانا میر نذر علی درد کا کوری عزیز آباد کراچی ، مولانا ظہور الحسن خان ماہر ضیائی کراچی ، رئیس احمد رئیس ضیائی بدایونی سابق خطیب لال مسجد ملیر کراچی، سید مختار علی مختار ضیائی اجمیری کراچی ، ہاشم رضا خان ہاشم ضیائی بدایونی ، حضرت صابر براری ضیائی کراچی ، محمد حمید خان مائل پیلی بھیتی حال لاڑکانہ ، حکیم سید اکرام حسین سیکری حیدرآباد سندھ ، آرزو تبریزی اکبر آبادی سعود آباد ملیر کراچی وغیرہ ۔

یہ دیوان آپ کے خلیفہ صوفی محمد یعقوب نظامی کورنگی کراچی کی کوشش سے ۱۳۹۵ھ ؍۱۹۷۵ء کے بعد شائع ہوا۔
1
فاضل شمسی فرماتے ہیں:
زیور طبع سے آراستہ ہو کر آیا
نغمہ صوفی صافی سخن شیخ و شباب

صوفی عبدالشکور آگئے کر وہ کلام
زاہدوں کے لئے اذکار ہے رندوں کی شراب

حافظ و جامی و خسرو نے جمائی محفل
مطرب رومی نے نے لی تو عراقی نے روباب

مختصر یہ ہے میرے سامنے صوفی کا کلام
ساغر حمد میں ہے نعت محمد کی شراب

اہل مشرق کے لئے ذوق تصوف تاریخ
اہل مغرب کو پسند آگیا ذکر مضراب

۱۳۸۲ھ ۱۳۸۲ھ

شعر گوئی سے تعلق نہیں مجھ کو ھاشم
چند اشعار لکھے وہ بھی عجلت بشتاب

تلامذہ:
آپ کے شاگردوں میں سے منشی سخی نیازی اکبر آبادی ( کراچی ) مشہور ہیں ۔

شادی و اولاد:
آپ کے دو صاحبزادوں کے نام یہ ہیں:

۱۔ سلطان محمد نظامی حیدر آباد
۲۔ غوث محمد نظامی گرو نگر حیدرآباد سندھ

وصال:
حضرت مولانا عبد الشکور ۱۳۹۵ھ ، ۲۶، اپریل ۱۹۷۵ء ۸۵ سال کی عمر میں حیدر آباد (سندھ) میں انتقال کیا۔ بروز جمعہ ۶، جون ۱۹۷۵ء کو آپ کا چہلم ہوا جس میں سید مختار علی اجمیری نے منقبت و قطعہ تاریخ پڑھا۔

حضرت صابر براری (کراچی ) نے قطعہ تاریخ وصال کہا:

آہ! رخصت ہو گئے ہیں عالم فانی سے آج
حضرت پیر طریقت بندہ رب غفور

زاہد کامل بھی تھے، وہ سالک و درویش بھی
بابا کمبل پوش کہلاتے تھے وہ نزدیک و دور

جو بھی ملتا آپ سے ہو جاتا شیدا آپ کا
جلوہ افشاں آپ کے چہرے پہ تھا کچھ ایسا نور

مرعہ تاریخ رحلت کہہ دواے صابر یہی
ہیں بتوفیق الہی خلد میں بابا شکور

۱۹۷۵ء

(تاریخ رفتگان جلد سوم )

[اکثر مواد حضرت کمبل پوش کے ’’دیوان ذوق تصوف ‘‘ سے لیا گیا ہے جو کہ آپ کے چہلم کے بعد کراچی سے شائع ہوا تھا اور یہ نسخہ نعتیہ محقق و اسکالر جناب شہزاد احمد نے برائے مطالعہ مہیا کیا]

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-shakoor-nizami-kambal-posh
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1