🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
نائے راہ میں جب بھی کوئی خطرہ پیدا ہوتا تو آپ فرماتے کہ باطن کی حفاظت کرنی چاہیے۔ ان حالات و واقعات کے مشاہدے سے آپ کی نسبت میر ایقین و اعتقاد بڑھتا گیا، راستے میں ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں آپ کا ایک محب و مخلص تھا، وہ بڑی بشاشت اور عاجزی سے پیش آیا، جب آپ اُس کے مکان میں جلوہ گر ہوئے تو آپ نے اُس کے اضطراب و بے قراری کو دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ ’’سچ سچ بتا، تمہارے اضطراب کا سبب کیا ہے؟ اُس نے عرض کیا کہ گھر میں دودھ کا پنیر تو حاضر ہے مگر روٹی موجود نہیں، آپ نے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ ’’وہ روٹی لاؤ، تم نے دیکھا کہ آخر کام آ ہی گئی‘‘۔

آپ کے چار خلفاء کامل و اکمل اور مشہور و معروف ہوئے۔

۱۔ خواجہ محمد صوفی رحمۃ اللہ علیہ جن کا مزار مقدس قصبہ سُو خار میں ہے۔
۲۔ خواجہ محمود سماسی رحمۃ اللہ علیہ جو کہ آپ کے فرزندِ ارجمند تھے۔
۳۔ خواجہ دانشمند رحمۃ اللہ علیہ
۴۔ خواجہ سیّد میر کلال رحمۃ اللہ علیہ

آپ کی رحلت ۱۰؍جمادی الآخر ۷۵۵ھ مطابق ۱۳۵۴ء کو ہوئی اور مرقد مقدس موضع سماس میں بنا۔


(تاریخِ مشائخ نقشبند)

خواجہ محمد بابا سماسی قدس سرہ

جائے ولادت:
طریقت میں آپ کا انتساب حضرت عزیزاں ﷫سے ہے۔ آپ کا مولد سماسی ہے جو بقول صاحب رشحات دیہات رامتین میں سے ہے۔ اور رامتین سے ایک فرسنگ کے فاصلہ پر واقع ہے۔ خواجہ محمد بابا کو اس کی طرف نسبت کر کے سماسی کہتے ہیں۔

جب حضرت عزیزاں کی وفات کا وقت نزدیک آیا تو آپ نے اپنے اصحاب میں سے خواجہ محمد بابا ﷫کو اپنی خلافت و نیابت کے لیے انتخاب کیا۔ اور تمام اصحاب کو ان کی متابعت و ملازمت کا حکم دیا۔

استغراق کی کیفیت:
آپ کی محویت و استغراق کا یہ عالم تھا کہ موضع سماسی میں آپ کا چھوٹا سا باغ تھا جہاں آپ کبھی کبھی تشریف لے جاتے اور وہاں کے انگوروں کی شاخوں کو اپنے دست مبارک سے تراشتے۔ مگر اس کام میں بہت دیر لگ جاتی۔ کیونکہ جب آپ انگور کی ایک شاخ کوکاٹتے تو غلبہ حال و استغراق کی وجہ سے آری آپ کے دست مبارک سے گرپڑتی۔ اور آپ بے خود ہوجاتے۔ یہ بے خودی دیر تک رہتی۔ جب ہوش میں آتے تو پھر شاخ انگور کو کاٹنے لگتے۔ پھر وہی کیفیت طاری ہوجاتی۔

مرد کامل کی خبر:
آپ خواجہ بہاء الدین نقشبن﷫د کو اپنی فرزندی میں قبول کیا۔ جس کی کیفیت اس طرح ہے کہ حضرت شاہ نقشبند ﷫کی ولادت سے پہلے آپ بار ہا ‘‘کوشک ہندواں’’ سے گزرتے اور فرماتے۔

ازیں خاک بوے مردے مے آید۔
زود باشد کہ کوشک ہندواں قصر

اس زمین سے ایک مرد کی خوشبو آتی ہے۔ جلدی ایسا ہوگا کہ کوشک ہندواں قصر عارفاں بن جائے گا۔

حضرت نقشبند کی ولاد ت کی خبر:

ایک روز آپ اپنے خلیفہ سید امیر کلال﷫ کے مکان سے قصر عارفاں کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور وہاں پہنچ کر فرمایا کہ وہ خوشبو اب زیادہ ہوگئی ہے۔ اور بے شک وہ مرد پیدا ہوگیا ہے۔ اس وقت حضرت نقشبند﷫ کی ولادت کو تین روز ہوچکے تھے۔ آپ کے جدِ امجد آپ کو لے کر خواجہ محمد بابا﷫ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت خواجہ ﷫نے فرمایا کہ یہ ہمارا فرزند ہے۔ ہم نے اس کو اپنی فرزندی میں قبول کیا۔ پھر اپنے اصحاب سے فرمایا کہ یہ وہی مرد خدا ہے جس کی خوشبو ہم نے سونگھی تھی۔ یہ لڑکا عنقریب اپنے وقت کا مقتدا ہوگا۔ بعد ازاں سید امیر کلال ﷫کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ تم میرے فرزند بہاء الدین کے حق میں شفقت و تربیت سے دریغ نہ کرنا۔ اگر تم اس میں کوتاہی کرو گے۔ تو میں تمہیں معاف نہ کروں گا۔ امیر موصوف نے کھڑے ہوکر اور ادب سے ہاتھ سینے پر رکھ کر عرض کیا کہ اگر کوتاہی کروں تو میں مرد نہیں۔

فراست و بصیرت:
حضرت خواجہ نقشبند ﷫سے منقول ہے کہ جب میری عمر اٹھارہ سال یا کچھ کم و بیش ہوئی تو میرے جد امجد کو میرے نکاح کی فکر ہوئی۔ انہوں نے مجھے خواجہ محمد بابا قدس سرہ کے بلانے کے لیے قصر عارفاں میں بھیجاتا کہ ان کے قدم کی برکت سے یہ کام انجام کو پہنچ پائے۔ جب میں آپ کی زیارت سے مشرف ہوا تو پہلی کرامت جو دیکھنے میں آئی یہ تھی کہ اس رات آپ کی صحبت و برکت سے مجھ میں بڑا تضرع و نیاز پیدا ہوا۔ رات کے اخیر حصے میں اٹھ کر میں نے وضو کیا اور آپ کی مسجد مبارک میں جاکر دو رکعت نماز پڑھی۔ اور سر سجدے میں رکھ کر دعا و تضرع بہت کیا۔ اسی اثنا میں میری زبان سے نکلا ’’خدایا! مجھے بلا(آزمائش) کا بوجھ اٹھانے اور اپنی محبت کی محنت برداشت کرنے کی قوت عطا فرما‘‘۔ صبح کو جو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ازروئے فراست و بصیرت میری رات کی سرگزشت سے آگاہ ہوکر فرمایا۔ اے فرزند! دعا میں یوں کہنا چاہیے۔ ’’خدایا! اس بندہ ضعیف کو اپنے فضل و کرم سے اسی پر قائم رکھ جس میں تیری رضا ہے۔‘‘ پھر فرمایا کہ بے شک خدا عزوجل کی رضا تو اس میں ہے کہ بندہ بلا میں مبتلا نہ ہو۔ اگر وہ بنابر حکمت اپنے کسی دوست پر بلا بھیجتا ہے۔ تو اپنی عنایت سے اس دوست کو اس بلا کے برداشت کرنے کی قوت عطا فرماتا ہے اور اس کی حکمت اس پر ظاہر کردیتا ہے۔ اپنے اختیار سے بلا طلب کرنا دشوار ہے۔ گستاخی نہ کرنی چاہیے۔ بعد ازاں کھانا
1
لایا گیا۔ جب کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے دستر خوان پر سے ایک روٹی مجھے دی۔ میں لینا نہ چاہتا تھا۔ آپ نے فرمایا۔ لے لو۔ کام آئے گی۔ میں نے وہ روٹی لے لی اور آپ کے ہمراہ قصرِ عارفاں کی طرف روانہ ہوا۔ اثنائے راہ میں میرے باطن میں جب کوئی خطرہ پیدا ہوتا تو آپ فرماتے کہ باطن کی حفاظت چاہیے۔ ان حالات کے مشاہدے سے حضرت کی نسبت میرا یقین و اعتقاد زیادہ ہوتا جاتا تھا۔ راستے میں ایک جگہ پہنچے جہاں حضرت کا ایک محبّ و مخلص تھا۔ وہ بڑی بشاشت اور عاجزی سے پیش آیا۔ جب آپ اس کے مکان میں اترے تو آپ نے اس کے اضطراب و بے قراری کو دیکھ کر فرمایا۔ کہ سچ بتاؤ۔ اس اضطراب کی سبب کیا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ گھر میں دودھ کا پنیر تو حاضر ہے مگر روٹی موجود نہیں۔ حضرت خواجہ نے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا وہ روٹی لاؤ۔ تم نے دیکھا کہ آخر کام آگئی۔یہ پہلے حالات ہیں جو میں نے حضرت بابا سے مشاہدہ کیے۔

وصال مُبارک:
بعض رسائل میں آپ کا سنہ وصال ۱۰ جمادی الاخریٰ ۷۵۵ھ لکھا ہے۔ مزار مبارک موضع سماسی میں ہے ۔ (رشحات ۔ انیس الطالبین) ۔

( مشائخِ نقشبندیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-baba-samasi-bukhara
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا محمد شریف ہزاروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مجاہدِ تحریک نفاذ نظام مصطفےٰ (صلی اللہ علیہ وسلم) حضرت علامہ مولانا محمد شریف ہزاروی، سعیدی ولد مولانا عبد الجلیل ۲۵؍ رجب المرجب، ۱۲؍ اگست ۱۳۵۷ھ/ ۱۹۳۹ء میں بمقام کھبل علاقہ تربیلا (ہزارہ ڈویژن) پیدا ہوئے۔ آپ ایک علمی و روحانی خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ آپ کے والد ماجد عالم با عمل ہیں اور فقہ کی جزئیات میں خصوصی دسترس رکھتے ہیں اور چچا مولانا عبد الباقی اور مولانا حبیب الرحمٰن علم و عمل کے زیور سے آراستہ ہیں۔ آپ کے دادا جان کے حقیقی بھائی حضرت علامہ مولانا میر محمود عرف خان مولانا علوم ظاہری و باطنی کے بحرِ ذخّار اور زہد و تقویٰ کے مجسمہ ہیں۔

علامہ مولانا محمد شریف ہزاروی نے علومِ اسلامیہ کی کتب متداولہ دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور ہزارہ جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد اور جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور سے پڑھیں۔ سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان اور جامعہ نعیمیہ لاہور سے حاصل کی۔ آپ نے جن اساتذہ کے سامنے زانوئے تلّمذ طے کیا، وہ یہ ہیں:
۱۔ حضرت غزالی زماں علامہ سیّد احمد سعید کاظمی، ملتان۔
۲۔ استاذ العلماء مولانا مہر الدین جماعتی، لاہور۔
۳۔ فقیہ العصر حضرت مفتی اعجاز ولی خان رحمہ اللہ، لاہور۔
۴۔ حضرت مولانا عبد القادر شہید رحمہ اللہ۔
۵۔ حضرت علامہ مولانا غلام رسول شیخ الحدیث جامعہ رضویہ فیصل آباد۔
۶۔ حضرت مولانا مفتی نواب الدین، فیصل آباد۔
۷۔ حضرت مولانا حافظ احسان الحق، فیصل آباد۔
۸۔ حضرت مولانا مفتی محمد حسین نعیمی، لاہور۔
۹۔ حضرت مولانا قاضی غلام محمود ہزاروی لاہور۔
۱۰۔ حضرت مولانا مفتی محمد عبد القیوم ہزاروی، لاہور۔

۱۱۔ حضرت مولانا اللہ بخش رحمۃ اللہ علیہ، داں بھپھراں۔

۱۹۶۰ء میں آپ نے علومِ اسلامیہ کی تحصیل سے فراغت حاصل کی اور اس وقت سے آج تک مسلسل تدریس فر ما رہے ہیں۔

تدریس کا آغاز احسن المدارس واہگہ باڈر سے کیا اور پھر جامعہ امینیہ گوجرانوالہ، دار العلوم چشتیہ قلعہ دیدار سنگھ (گوجرانوالہ) جامعہ نعمانیہ اور جامعہ فاروقیہ رضویہ گوجرانوالہ میں پڑھانے کے بعد آج کل دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور ہزارہ میں مسندِ تدریس پر فائز ہیں۔

آپ واہگہ باڈر کی مسجد، سراج المساجد گوجرانوالہ، جامع مسجد قلعہ دیدار سنگھ اور جامع مسجد صدیقیہ گوجرا نوالہ میں خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے رہے اور آج کل جامع مسجد رحمانیہ ہری پور میں خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

حضرت مولانا محمد شریف ہزاروی نہ صرف ماہرِ تدریس ہیں، بلکہ بے باک اور نڈر مقرر بھی ہیں۔ تحریکِ ختم نبوت میں آپ نے بھر پور حصہ لیا۔ جہلم سے لے کر لاہور تک جگہ جگہ تقریروں کے ذریعے ختمِ نبوت کی اہمیت کو واضح کیا۔

تحریکِ نظامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ نے صوبہ سرحد کے مجاہدین کے سالارِ قافلہ کی حیثیت سے کام کیا۔ صوبہ سرحد بالخصوص ہزارہ ڈویژن میں آپ کو تحریکِ نظامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عظیم مجاہد کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے۔ تمام مکاتبِ فکر کے علما اور عوام نے آپ کی قیادت میں تحریک میں حصہ لیا اور آپ نے نہایت جرأت اور پامردی سے تحریک کو آگے بڑھایا۔

سیاسی طور پر آپ کا تعلق جمعیت العلماء پاکستان (سوادِ اعظم اہل سنّت کی نمائندہ سیاسی تنظیم) سے ہے۔ آپ جمعیّت العلمائے پاکستان ہزارہ ڈویژن کے صدر ہیں۔

آپ کو اپنے دادا جان کے بھائی حضرت مولانا غلام میر محمود عرف خان مولانا صاحب سے بیعت کا شرف حاصل ہے۔

آپ نے علمِ غیب اور ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کے عنوان سے ایک رسالہ اور ایک کتابچہ غیر مقلّدوں کے رد میں ’’قربانی، عید اور دو دن بعد ہے‘‘ کے عنوان سے تحریر کیے جو زیورِ طبع سے آراستہ ہوچکے ہیں۔

حضرت مولانا محمد شریف ہزاروی کے ہاں تین صاحبزادے محمد سعید، مظہر سعید، اعجاز احمد اور پانچ صاحبزادیاں تولد ہوئیں۔[۱] اللہ تعالیٰ تمام صاحبزادوں کو آپ کا صحیح جانشین بنائے۔

[۱۔ مکتوب حضرت استاذِ محترم بنامِ مرتّب: اکتوبر ۱۹۷۸ء۔]

نوٹ:
مرتب کو حضرت استاذِ محترم مولانا محمد شریف ہزاروی سے شاگردی کا شرف حاصل ہے۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-sharif-hazarvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
سید العلماء حضرت علامہ مفتی شاہ آل مصطفی سید میاں مارہروی علیہ الرحمہ

نام و نسب:
سید العلماء ، سید آلِ مصطفیٰ بن سید آل عباء ،بن سید شاہ حسین، بن سید شاہ محمد حیدر۔الیٰ آخرہ (علیہم الرحمہ)

تاریخِ ولادت:
25 رجب المرجب 1333ھ / 9 جون 1915ء بروز بدھ، مارہرہ مطہرہ، (انڈیا) میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
آپ جب چار سال چار ماہ چار دن کےہوئے تو سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دستِ مبارک کی تحریر کی ہوئی بسم اللہ شریف سے تسمیہ خوانی کا آغاز کیا جو کہ مارہرہ خاندان میں موجود ہے ـ

حفظ قرآن سات آٹھ برس کی چھوٹی سی عمر میں والدہ ماجدہ اور حافظ عاشق علی صاحب برکاتی اور حافظ سلیم الدین صاحب علیہ الرحمۃ سے مکمل کیا ۔

فارسی کی پہلی کتاب اپنی والدہ ماجدہ سے پڑھی ۔ نانا جان اور خالو محترم سید شاہ اولاد رسول محمد میاں صاحب علیہ الرحمۃ سے علوم درسیہ مروجہ کا اکتساب کیا ۔

بقیہ جمیع علوم کی تکمیل اجمیر مقدس میں حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ سے کی ۔

آپ دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم سے بھی بہرہ ور ہوئے ۔ طبیہ کالج ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ادویہ ہندی و یونانی وغیرہ اور عمل جراحی میں ڈی آئی ایم ایس میں ڈپلومہ حاصل کیا ۔

بیعت و خلافت:
نانا جان حضور سید شاہ ابو القاسم اسماعیل حسن شاہ جی میاں قدس سرہ

سیرت و خصائص:
جلیل القدر، دوربین، دور اندیش، نکتہ داں، حق گو، حق آگاہ، حق بیں، حق شناس، حقیقت بیان، صداقت شعار، سراپا ایثار، پرتوِ حیدر کرار ،حق بیانی، شیریں مقالی یہ تمام صفات جن کی ذات کا جزو لاینفک تھیں وہ ہیں حضرت سید العلماء شاہ آل مصطفیٰ (علیہ الرحمۃ و الرضوان) ۔

آپ بیک وقت عظیم محدث، مفسر، مفتی، نعت گو شاعر، حاذق حکیم، مدبر، اسلامی سیاست داں اور اعلیٰ تنظیمی صلاحیتوں کے مالک، عابد شب زندہ دار ولیِ کامل تھے ۔

حضور شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: دقیق سے دقیق علمی مباحث میں وہ نکتہ سنجیاں فرما تے کہ عقل دنگ رہ جاتی، اس وقت اعتراف کرنا پڑتا کہ " سید العلماء " کا خطاب ان کے قامت زیباہی کے لیے وضع ہوا ہے ۔ آپ کے مبارک سینے میں علوم و فنون کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا، مناظرہ میں امام المناظرین، گفتگو میں سید المتکلمین، تحریر وتقریر کے مانے ہوئے بادشاہ اور قادر الکلام تھے، ایک ہی موضوع پر مختلف عنوانات اور متعدد پیرائے سے بیان آپ کے لیے معمولی بات تھی۔ (حضور سید العلماء، ص:۱۲)

وصال:
۱۱ جمادی الاخریٰ ۱۳۹۴ ھ

ماخذ و مراجع: حضور سید العلماء ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mufti-aale-mustafa-syed-mian-maharvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت امام موسی کاظم علیہ‌الرحمہ

نام و نسب:
کنیت: ابوالحسن ، ابو ابراہیم ، اور ابو علی ہے ۔ اسم گرامی: موسیٰ ۔ لقب: کاظم، صالح اور صابر ہے ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی امام زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن حضرت علی المرتضیٰ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ) ۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا اسمِ گرامی امِ ولد حمیدہ بربریہ تھا ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت بروز اتوار، 7 صفر المظفر 128 ھ بمقامِ ابواء (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام جہاں سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا کی قبرِ انور ہے) میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
خاندانی روایت کے مطابق آپ نے تمام علومِ ظاہری و باطنی اپنے والدِ گرامی سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے حاصل کیے ۔

تمام علوم میں مہارتِ تامہ حاصل کی ، یہاں تک کہ اپنے وقت کے جید علماء کی صف میں شامل ہو گئے ۔ بلکہ تمام اعلیٰ نسبتوں اور فضیلتوں اور علم و تقویٰ کی بدولت تمام پر سبقت لے گئے ۔

سیرت و خصائص:
ساداتِ بنی ہاشم کے نیرِ اعظم ، علم و تقویٰ کے مہرِ کامل، سرورِ عالم ﷺ کے علم و اوصاف، شریعت و طریقت اور خاندانی عظمت و شرافت کے امین ، مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی علمی و خاندانی وراثت کے وارثِ کامل سیدنا ابو الحسن امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ

آپ اللہ تعالیٰ کے ولیِ کامل تھے ۔ تمام
علوم اور تمام زبانوں سے واقف تھے ـ

مراۃ الاسرار میں ہے:
کہ ایک دن امام موصوف کی خدمت میں ایک شخص نےحاضر ہو کر طیور (پرندوں) کی زبان میں باتیں کرنا شروع کر دیں کیں اور امام صاحب بھی اسی زبان میں جواب دیتے رہے ۔ جب وہ چلا گیا تو کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ کون سی زبان تھی ہم نے تو اس قسم کی زبان نہیں سنی ۔ آپ نےفرمایا کہ یہ جنات کی ایک قومی زبان ہے ۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ حق تعالیٰ نے آپ کو تمام مخلوقات کی زبانوں کا علم عطا فرمایا تھا ۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وعلم آدم الاسماء کلہا ۔

مستجاب الدّعوات ایسے کہ لوگ آپ کو بارگاہِ صمدیت میں وسیلہ گردانتے اور اِن سے دعا کروا کر مقصود کو پہنچتے، اسی سبب سے اہلِ عراق آپ کو باب قضاء الحوائج کہتے تھے ۔

آپ بڑے عابد، زاہد، قائم اللیل، صائم النہار تھے ۔ بسبب کثرت عبادات و اجتہادات اور شب بیداری کے عبد الصالح کے لقب سے پکارے جاتے ۔ خفیہ طور پر راتوں میں لوگوں کو حاجات کے موافق روپیہ اشرفی پہنچایا کرتے ۔ آپ کے والد بزرگوار حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے کہ یہ میرے تمام فرزندوں میں بہترین فرزند ہے، اور اللہ تعالیٰ کے موتیوں سے ایک موتی ہے۔

امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: کہ قبرِ امام موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اجابتِ دعا کے لیے تریاق مجرب کا حکم رکھتی ہے۔

امام خلال حنبلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: مجھے جب بھی کوئی معاملہ درپیش ہوتاہے ، میں امام موسیٰ کاظم بن جعفر رضی اللہ عنہما کے مزار پر حاضر ہو کر آپ کا وسیلہ پیش کرتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ میری مشکل کو آسان کر کے میری مراد مجھے عطا فرما دیتا ہے ۔(تاریخِ بغداد، باب ما ذکر فی مقابر البغداد)

وصال:
55 برس کی عمر میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بادشاہِ وقت کے حکم پر کھجور میں زہر ملا کر دیا گیا ۔ کھجور کھاتے ہی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ دشمنوں نے مجھے زہر دیا ہے تین دن کے بعد میری وفات ہوگی ۔ جیسا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا ۔ یوں 25 رجب المرجب 183ھ کو آپ مرتبۂ شہادت پر فا ئض ہوئے۔ آپ کا مزارِ پر اَنوار بغدادِ معلی میں کاظمین شریف کے مقام پر واقع ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-musa-kazim-bin-imam-jafar-sadiq
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: امام مسلم ۔ کنیت: ابوالحسن ۔ لقب: عساکر الملت والدین ـ

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
امام مسلم بن حجاج بن مسلم بن ورد بن کرشاد ۔ علیہم الرحمہ ۔

آپ نسباًعرب کے مشہور قبیلہ بنو قشیر سے تعلق رکھتے تھے اسی لیے آپ " قشیری " کہلائے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت میں مؤرخین کااختلاف ہے،حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے 202ھ، امام ذہبی نے 204ھ، اور امام ابن اثیر نے 206ھ تحریر کیا ہے۔ لیکن علماء نے 206ھ کو راجح قرار دیا ہے۔ آپ کا وطن نیشا پور تھا جو خراسان کا مشہور معروف مردم خیز شہر ہے جو تیسری صدی ہجری میں اسلامی دنیا کا با وقار علمی مرکز تھا ۔

علامہ سبکی فرماتے ہیں:
نیشا پور اس قدر بڑا اور عظیم الشان شہر تھا کہ بغداد کے بعد اس کی نظیر نہ تھی۔ (طبقات الشافعیہ، ج۱، ص۱۷۳)

تحصیل علم:
امام مسلم کا زمانہ علم حدیث کی نقل و روایت اورتدریس کا زریں عہد تھا ۔ علم حدیث کے بڑے بڑے مراکز اسلامی شہروں میں قائم ہو چکے تھے جہاں اکابر محدثین کا فیض عام جاری تھا ۔ نیشاپور خود علم حدیث کے اہم مراکز میں شمار کیا جاتا تھا جہاں حدیث کے بڑے بڑے حلقے قائم تھے ۔ امام مسلم نے ابتدائی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد بارہ سال کی عمر میں جب کہ عقل و فہم میں دستواری اور حفظ میں پختگی آجاتی ہے۔عقیدت و احترام کے جذبے اورحسنِ نیت و خلوص کے ساتھ اس کوچہ میں قدم رکھا اور پوری سعی بلیغ سے خراسان، عراق، حجاز، شام، بغداد، مصر کے محدثین سے کسب فیض کیا اور اس علم میں دستگاہ حاصل کی ۔ بہت جلد آپ کاشمار عظیم محدثین میں ہونے لگا

آپ کے مشہور اساتذہ یہ ہیں:
امام قعنبی، احمد بن یونس، اسماعیل بن ابی اویس، داؤد بن عمرو، یحیی بن یحیی نیشاپوری، ہیثم بن خارجہ، سعید بن منصور، شیبان بن فروخ، عون بن سلام، امام احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، عبد اللہ بن مسلم، امام بخاری ۔ علیہم الرحمہ ۔ (تہذیب، ج۱۰، ص۱۱۳۔ تذکرہ، ج۲، ص۱۵۰)

سیرت و خصائص:
حافظ الحدیث، امام المحدثین، رئیس المحدثین، امام العلماء والمتکلمین، عساکر الملت والدین، صاحبِ اوصافِ کثیرہ، خادم احادیثِ نبویہ، مخدوم امتِ محمدیہ، صاحبِ صحیح مسلم، حضرت امام مسلم بن حجاج قشیری رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ علیہ الرحمہ کا شمار اکابرین محدثین میں سے ہوتا ہے۔ آپ کی شہرت وعظمت آپ کی تصنیف لطیف"صحیح مسلم" کی بدولت ہوئی ۔ بعد از کتاب اللہ، و صحیح امام بخاری، آپ کی کتاب صحیح مسلم کا درجہ ہے ۔ امام مسلم نے اپنے دور کے علمی چشموں سے فیض پایا تھا اور انہوں نے دریائے علم میں غواصی کرکے لعل و جواہر اپنے دامن میں سمیٹے تھے۔ آپ کی خداداد ذہانت،طباعی،قوت ِحفظ وضبط دیکھ کر آپ کےاساتذہ ششدر رہ جاتے۔ اپنے وقت کے جلیل القدر محدث امام مسلم کے استاذ امام اسحاق بن راہویہ آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے۔ "ای رجل یکون ھذا" خدا جانے یہ کتنا بلند انسان ہوگا۔اسحاق بن منصور نے امام مسلم کی طرف دیکھا اور آپ کی عظمت و بزرگی پر نظر کرتے ہوئے کہا :" جب تک خدا آپ کو مسلمانوں کے لیے زندہ رکھے گا بھلائی ہمارے ہاتھ سے نہ جائے گی"۔ (تہذیب، ج۱۰، ص۱۱۴)

ابو عمر و بن حمدان فرماتےہیں:
میں نے ابن عقدہ سے پوچھا: "ایھما احفظ البخاری او مسلم الخ" امام بخاری اور امام مسلم میں سےکون بڑا حافظ حدیث ہے؟ جواب دیا محمد بن اسماعیل بخاری بھی عالم ہیں اور امام مسلم قشیری بھی عالم ہیں۔ میں نے یہ سوال کئی دفعہ دہرایا تو کہنے لگے امام محمد بخاری سے شامی راویوں کے متعلق غلطی ہوجاتی ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے ان کی کتابیں لےکر پڑھیں ہیں کسی جگہ ایک راوی کو کنیت سے ذکر کرتے ہیں اور دوسری جگہ اس کو نام سے ذکر کرتے ہیں اور اس طرح ان کو دو آدمی خیال کرتے ہیں امام مسلم سے علل میں ایسی غلطی نہیں ہوئی کیوں کہ انہوں نے مسند روایتیں لکھی ہیں اور مقطوع اور مرسل نہیں لکھیں ۔ (ایضاً، ص۲۵۱)

امام مسلم سیرت و اخلاق کے اعتبار سے بلند مرتبہ پر فائز تھے۔ انتہائی متواضع خلیق حلیم و بردبار واقع ہوئے تھے ۔ علمی وجاہت اور تفوق کے باوجود آپ میں کبر و نخوت کا شائبہ تک نہ تھا۔ ذوقِ علم کے ساتھ عبادت و ریاضت کی کثرت فرماتے، ہر صاحب علم کی قدر کرتے حق گوئی آپ کا شیوہ تھا اس سلسلے میں زمانہ کی نامساعدت اور باطل پرستوں کے جاہ ومنصب کی ہر گز پرواہ نہ کرتے تھے۔ امام بخاری جب نیشاپور آئے اور ان کی مقبولیت بڑھنے لگی تو وہاں کے عوام و خواص حتی کہ نکتہ سنج محدث امام ذہلی نے بھی خلق قرآن کے ایک جزوی مسئلہ کو لے کر امام بخاری کو ہدف ملامت بنایا۔ امام مسلم جو امام ذہلی کے شاگرد تھے مگر امام بخاری کے ہم مسلک تھے اور ان کے موقف کو صحیح سمجھتے تھے امام ذہلی سے مراسم توڑ ڈالے اور ان کی مجلس کو ہمیشہ کے لیے ترک کردیا اور گھر جاکر ان کی تقریروں کے تمام نوشے انٹوں پر لاد کر بھیجوا دیے۔ (تاریخ بغداد ، ج۱۳، ص۱۰۳)
1
حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی فرماتے ہیں: "آپ نے عمر بھر  نہ کسی کی غیبت کی اور نہ کسی کو مارا اور نہ کسی کو گالی دی۔ صحیح و سقیم حدیث کی پہچان میں اپنے تمام معاصرین میں ممتاز تھے بلکہ بعض امور میں ان کو امام بخاری پر بھی ترجیح و فضیلت ہے۔ (بستان المحدثین، ص۱۷۸)

حضرت امام نووی فرماتے ہیں:
محدثین اگر دو سو سال بھی حدیثیں لکھتے رہیں جب بھی ان کا دارو مدار اسی المسند الصحیح (صحیح مسلم) پر رہے گا۔ (مقدمہ مسلم امام نووی)

حلقۂ درس و تلامذہ:
امام مسلم کے زمانہ میں نیشا پور کا گوشہ گوشہ محدثین سے معمور تھا اور ان کے حلقہ ہائے درس قائم تھے مگر علم حدیث میں امام مسلم نے جو عظمت اور شان پیدا کرلی تھی اس رتبہ تک عالم اسلام میں کم ہی لوگوں کی رسائی ہوسکی۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کے حلقۂ درس میں شائقین علم کا ہجوم رہتا۔ عام لوگوں کی بات ہی کیاہے خود آپ کے بلند مرتبہ اقران حتی کہ شیوخ بھی آپ سے سماع حدیث کے مشتاق رہتے اور آپ کی سند عالی سے روایت کرنے پر فخر کرتے تھے ۔ حضرت امام ترمذی علیہ الرحمہ آپ کے شاگردوں میں سے ہیں۔

وفات:
امام مسلم کے وصال کا سبب بھی نہایت عجیب و غریب بیان کیا گیا ہے ـ

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتےہیں:
زندگی کے آخری ایام تک حدیث رسول کی تلاش میں وجستجو کا حیرت انگیز انہماک قائم رہا ایک دن مجلس مذاکرہ میں امام مسلم سے ایک حدیث کے بارے میں استفسار کیا گیا اس وقت آپ اس حدیث کے بارے میں کچھ نہ بتا سکے۔ گھر آکر اپنی کتابوں میں اس کی تلاش شروع کردی قریب ہی کھجووں کا ایک ٹوکرا رکھا ہوا تھا امام مسلم حدیث کی تلاش کے دوران ایک ایک کھجور کو اٹھا کر کھاتے رہے حدیث تلاش کرنے میں امام مسلم کے استغراق و انہماک کا یہ عالم تھا کہ کھجوروں کی مقدار کی جانب آپ کی توجہ نہ ہوسکی اور حدیث ملنے تک کھجوروں کا سارا ٹوکرا خالی ہو گیا اور غیر ارادی طور پر کھجوروں کا زیادہ کھا لینا ہی ان کی موت کا سبب بن گیا ۔

تاریخِ وصال:
24 / رجب المرجب 261ھ، مطابق 5 / مئی 875ء، اتوار کے دن شام کے وقت علم حدیث کا درخشندہ ستارہ غروب ہوگیا اور دوسرے دن پیرکواس عظیم محدث کو ہزاروں سوگواروں نے نمازِ جنازہ کے بعد سپرد خاک کر دیا۔

ابو حاتم رازی بیان کرتے ہیں:
کہ میں نے امام مسلم کی وفات کے بعد ان کو خواب میں دیکھا اور حال دریافت کیا تو انہوں نے جواب میں کہا اللہ تعالیٰ نے اپنی جنت کو میرے لیے مباح کر دیا ہے اور میں اس میں جہاں چاہتا ہوں رہتا ہوں ۔ (تذکرۃ المحدثین: 227)

ماخذ و مراجع:
حیات محدثین عظام ۔ تذکرۃ المحدثین ۔ بستان المحدثین ۔ تہذیب التہذیب ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muslim-bin-hajjaj-nishapuri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی: عمر ۔ کنیت: ابو حفص ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت عمر بن عبد العزیز بن مروان بن حکم ۔ آپ کی والدہ کا اسمِ گرامی: امِ عاصم بنتِ سیدنا عاصم بن فاروقِ اعظم (رضی اللہ عنہم اجمعین) ۔ گویا آپ حضرت فاروقِ اعظم کی پوتی ہوئیں ۔ اس لحاظ سے آپ کی رگوں میں خونِ فاروقی کی آمیزش تھی ۔

تاریخِ ولادت:
آپ 61 یا 63 ہجری میں مدینۃ المنورہ میں پیدا ہوئے۔

بشارتِ سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ :

امیر المؤمنین حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک دن خواب دیکھا اور بیدار ہونے کے بعد فرمایا:میری اولاد میں سے ایک شخص جس کے چہرے پر زَخم کا نشان ہوگا ، زمین کو عَدل و اِنصاف سے بھر دے گا آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے صاحبزادے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اکثر کہا کرتے: کاش! مجھے معلوم ہو جائے کہ میرے ابو جان کی اولاد میں سے کون ہوگا جس کے چہرے پر نشان ہوگا اور وہ زمین کو عدل و اِنصاف سے بھر دے گا ؟ وَقت گزرتا رہا، اور "فاروقی خاندان" حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خواب کی تعبیر دیکھنے کا منتظر رہا ، یہاں تک کہ حضرت عاصم بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے نواسے حضرت عمر بن عبد العزیز کی وِلادت ہوئی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۰،۱۱)

تحصیلِ علم:
آپ کے والدِ گرامی عبد العزیز علیہ الرحمہ مصر کے گورنر تھے اور بہت ہی نیک سیرت انسان تھے ۔ انہوں نے حضرت صالح بن کیسان علیہ الرحمہ کو آپ کا اتالیق (معلم) مقرر فرمایا ۔

حضرت صالح نے آپ کی تعلیم و تربیت کا خوب حق ادا کیا ۔ چنانچہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے بچپن ہی میں قرآن پاک حِفظ کرنے کی سعادت حاصل کرلی۔اس کے ساتھ ساتھ آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حضرتِ سیِّدنا اَنَس بن مالک ، سائب بن یزید اور سعید بن مسیب وغیرہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین جیسے جلیل القدر صحابہ اور تابِعین کے حلقۂ دَرس میں بھی شریک ہوئے ۔

اس طرح ان بزرگانِ دین کی صحبتِ بابرکت میں قرآن و حدیث اور فِقہ ، عربی ادب و لغت کی تعلیم مکمل کرکے حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز نے وہ مَقام حاصل کیا کہ آپ کے ہم عَصر بڑے بڑے محدثین کو بھی آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے فَضل و کمال کا اِعتراف رہا ۔

چُنانچِہ علامہ ذہبی نے آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا تَذکِرہ اِن الفاظ میں لکھا ہے:وہ بہت بڑے اِمام، فقیہ، مجتہد، حدیث کے بہت ماہر تھے ۔ اس وقت کے جید علماء و مشائخ اہم مسائل کے حل کے لئے حضرت عمر بن عبد العزیز کی طرف رجوع کرتے تھے ۔

سیرت و خصائص:
خلفاء راشدین رضوان اللہ عنہم اجمعین کے بعد جس مسلمان فرماں روا کا نام تاریخ کے افق پر آفتاب کی طرح روشن اور تابناک ہے وہ ابو حفص عمر بن عبد العزیز ہیں ۔ جس وقت وہ سریر آرائے خلافت ہوئے اسلامی سلطنت بے انتہا وسعت اختیار کر چکی تھی، لیکن اس کے ساتھ ہی نظام حکومت میں کئی خرابیاں پیدا ہوچکی تھی ۔ اور خلفاء راشدین کا عہدِ زریں قصۂ پارینہ بن چکا تھا ۔ عمر بن عبد العزیز نے اپنے مختصر دورِ خلافت میں ان خرابیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور مجددانہ کارناموں سے جسدِ ملت میں اسلام کی حقیقی روح پھونک کر ایک بار پھر خلفاء راشدین کابا برکت دور واپس لے آئے۔

آپ مجدد اور خلیفۂ راشد ہیں:
اسی لئے علماء فقہ و تاریخ نے آپ کو پہلی صدی ہجری کا مجدد اور ارباب سیر نے خلیفہ راشد ٹھہرایا، جیسا کہ ابو داؤد شریف میں ہے کہ حضرت سفیان ثوری نے فرمایا: کہ خلفاء راشدین پانچ ہیں، حضرت ابو بکر صدیق ، حضرت عمر فاروق اعظم، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی المرتضی اور حضرت عمر بن عبد العزیز رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔

آپ کے والد مسلسل 21 برس مصر کے گورنر رہے ۔ دولت و ثروت کی فراوانی تھی لہذا ناز و نعم کے ماحول میں آپ کی پرورش ہوئی ۔ جس کا اثر خلیفہ بننے تک قائم رہا ۔ وہ ایک نفیس طبع خوش پوش مگر صالح نوجوان تھے ۔ عہد شباب میں اچھے سے اچھا لباس پہنتے ۔ دن میں کئی پوشاک تبدیل کرتے، خوشبو کو بے حد پسند کرتے، جس راہ سے گزر جاتے فضا مہک جاتی ۔

خلافت کا بار گراں اٹھاتے ہی فرض کی تکمیل کے احساس نے آپ کی زندگی بِالکل بدل کر رکھ دی ۔ وہی عمر جو نفاست پسندی اور خوش لباسی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے، جو خوشبو کے دلدادہ تھے، جن کی چال امیرانہ آن بان کی آئینہ دار تھی ، جن کا لباس فاخرانہ تھا ۔ اب سراپا عجز و نیاز تھے ۔
1
آپ کی عاجزی و انکساری:
سلیمان کی تجہیز و تکفین کے بعد پلٹے تو سواری کے لیے اعلیٰ ترین گھوڑے پیش کیے گئے مگر حضرت عمر بن عبد العزیز نے ان پر سوار ہونے سے انکار کر دیا اور کہا "میرے لیے میرا خچر کافی ہے" اور انہیں واپس بیت المال میں داخل کرنے کا حکم دیا ۔

جب افسر پولیس نیزہ لے کر آگے آگے روانہ ہوا تو اسے ہٹا دیا اور کہا کہ" میں بھی تمام مسلمانوں کی طرح ایک مسلمان ہوں "پھر جب سلیمان کے اثاثہ کو ورثا میں تقسیم کرنے کی تجویز کی تو آپ نے سارے سامان کو بیت المال میں داخل کرنے کا حکم صادر کر دیا ۔ واپسی کے وقت دستور کے مطابق خیال تھا کہ وہ قصر خلافت میں ضرور داخل ہوں گے لیکن عمر اس کے بجائے یہ کہہ کر کہ " میرے لیے میرا خیمہ کافی ہے" اندر داخل ہوگئے ۔

آپ کی ملازمہ نے چہرہ دیکھ کر اندازہ لگایا کہ آپ پریشان ہیں ۔ پُوچھا تو کہا: "یہ تشویش ناک بات ہی تو ہے کہ مشرق سے مغرب میں امت محمدیہ کا کوئی فرد ایسا نہیں ہے جس کا مجھ پر حق نہ ہو" ۔

ہر وقت امت مسلمہ کے حقوق کی نگہداشت اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل اور نفاذ کی فکر دامن گیر رہتی جس کی وجہ سے ہمیشہ چہرے پر پریشانی اور ملال کے آثار دکھائی دیتے ۔

آپ علیہ الرحمہ نے اپنی بیوی فاطمہ کو حکم دیا کہ تمام زر و جواہر بیت المال میں جمع کرا دو ورنہ مجھ سے الگ ہو جاؤ ۔ وفا شعار اور نیک بیوی نے تعمیل کی ۔ گھر کے کام کاج کے لیے کوئی ملازمہ مقرر نہ تھی تمام کام ان کی بیوی خود کرتیں ۔ الغرض آپ کی زندگی درویشی اور فقر و استغنا کا نمونہ بَن کر رہ گئی ۔

آپ کی تمام تر مساعی اور کوششیں اس امر پر لگی ہوئی تھیں کہ وہ ایک بار پھر سنت فاروقی اور عہد فاروقی کی یاد تازہ کر دیں ۔ آپ اس پاکیزہ زندگی اور کارہائے نمایاں کی بدولت ہی پانچویں خلیفہ راشد قرار پائے ۔

وصال:
آپ کا وصال بروز بدھ 25 رجب المرجب 101ھ میں ہوا ۔ آپ کو حلب کے قریب "دیرِ سمعان" میں سپردِ خاک کیا گیا ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-umar-bin-abdul-aziz
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1