🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
ار دو سو تینتیس عیسوی میں بعہد خلافت المستنصر باللہ ابو جعفر منصور بن الظاہر بن الناصر خلیفہ سی د ششم عباسی کے ہوئی ۔

مدفن پاک:
آپ کا مزار اقدس شہر حلب ملکِ شام میں مرجع خلائق ہے ۔

قطعہ تاریخ:
از حضرت مولانا شاہ غلام مصطفےٰ نو شاھی دام برکاتہٗ
ز دارِ عدم سَید احمد، سعید
چو جستم ز دل سالِ نقلِ بزرگ
بفضلِ الٰہی بجنت رسید
ندا شد ولی متقی و وحید (۶۳۰)
منہ
سَیْد احمد رفت چوں از اقربا
انتقالش خواں حبیبِ با خدا (۶۳۰)
منہ
چو رحلت کرد پیرِ ما زاحباب
وصالش گشت شوقِ قطب اقطاب(۶۳۰)
منہ
رفت از عالمِ فنا محبوب
ارتحالش بداں حبیبِ خوب(۶۳۰)

دیگر از اسماء الحسنٰے
باعث مجید (۶۳۰)
حسیب مقیت (۶۳۰)
عدل شکور (۶۳۰)
قوی رشید (۶۳۰)
سلیم ممیت (۶۳۰)
فتاح منان (۶۳۰)
فتاح عالم (۶۳۰)
فتاح اعلم (۶۳۰)
شفیع نعیم (۶۳۰)
شفیع قدوس (۶۳۰)
شفیع یقین (۶۳۰)
کریم رفیع (۶۳۰)
منتقم (۶۳۰)

( شریف التواریخ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-hameeduddin-ahmad-gilani
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
ملک العلماء قاضی شہاب الدین دولت آبادی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
قاضی شہاب الدین احمد ۔ لقب: ملک العلماء، زاولی ۔ تخلص: سلسلۂ نسب اس طرح ہے: ملک العلماء قاضی شہاب الدین احمد بن شمس الدین بن عمر دولت آبادی علیہم الرحمۃ۔مختلف تذکروں کی کتب میں آپ کانام ’’احمد بن عمر‘‘بھی آیا ہے ۔ لیکن قاضی شہاب الدین دولت آبادی کےنام سے معروف ہیں۔(حاجی خلیفہ:ج2)۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت ساتویں سن ہجری کودولت آباد ہندوستان میں ہوئی۔(مقدمہ شرح قصیدہ بردہ:10)

تحصیلِ علم:
قاضی عبدالمقتدر دہلوی (قاضی صاحب اپنےزمانے کےفاضل اجل تھے،آپ کےعلو مرتبت کادوردور تک شُہرہ تھا۔حضرت شیخ الاسلام شیخ نصیر الدین محمود دہلوی﷫کےمرید وخلیفہ تھے،خواجہ صاحب آپ کی نہایت ہی قدراور تعظیم فرماتے تھے،’’قصیدہ لامیہ‘‘معروف تصنیف ہے)اور مولانا خواجگی دہلوی کالپوی﷫(مریدوخلیفہ حضرت شیخ الاسلام چراغ دہلوی﷫)سےعلوم کی تحصیل کی۔آپ﷫نےاپنے ہم عصروں میں سب سےزیادہ ممتاز تھے۔اس وقت بڑےبڑے علماء کرام موجودتھے لیکن جوشہروت وقبولیت اللہ جل شانہ نےآپ کوعطاء فرمائی وہ کسی اور کے نصیب میں نہیں آئی۔(اخبار الاخیار:457)

بیعت و خلافت:
آپ کےبیعت وخلافت کی صراحت کسی کتاب میں نہیں ملی،لیکن غالب گمان یہ ہے کہ مولانا خواجگی کالپوی کے مرید تھے ۔

سیرت و خصائص:
ملک العلماء،استاذالفضلاء،مرجع الاولیاء،جامع علوم عقلیہ ونقلیہ،خادم دینِ محمدیہ،عارف اسرار ربانیہ حضرت علامہ قاضی شہاب الدین دولت آبادی﷫۔آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کےفاضل کامل،اور عالم ِمتبحّر تھے۔زندگی میں اکنافِ عالم میں شہرت وقبولیت حاصل کرلی تھی۔آپ﷫نےدین متین کی خوب خدمت واشاعت فرمائی۔فارسی وعربی زبان میں مفید ونافع کتب تصنیف فرمائیں۔اپنی افادیت کےپیش نظر تمام کتب عرب وعجم میں قبول عام ہوئیں۔

صاحبِ حدائق الحنفیہ فرماتے ہیں:
قاضی شہاب الدین دولت آبادی﷫ ملکِ العلماء لقب تھا۔ فقیہ، مفسر، نحوی،لغوی، ادیب،بلیغ،بیان،وحید العصر،فرید الدہر،صاحبِ تصانیفِ عالیہ تھے،علوم قاضی عبد المقتدر سے حاصل کیےجو شہرت و قبولیت خدا نے آپ کو دی،کسی کو اہلِ زمانہ سے حاصل نہیں ہوئی۔آپ کے حق میں قاضی عبد المقتدر﷫فرمایا کرتے تھے:’’ کہ یہ ہمارے پاس ایسے شاگرد آئے ہیں جن کا پوست ولحم و عظم سب علم ہے،(یعنی رگ رگ میں علم سمایا ہواہے)۔آپ کی تصنیفات سےایک شرح کا فیہ ہےجو لطافت و متانت میں بے عدیل اور ان کی حیات ہی میں مشہور عالم ہوگئی تھی،دوسرے ارشاد جو ایک متن لطیف و بے نظیر نحو میں ہے،تیسرے بدیع البیان جو علمِ بلاغت میں ایک لاثانی متن ہے۔(حدائق الحنفیہ:345/مآثرالکرام:216)

مولانا خواجگی دہلوی آپ کےاستاذمحترم اور ایک عالم وعارف تھے،شیخ الاسلام حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلوی ﷫کےمرید وخلیفہ تھے۔جس وقت امیر تیمورلنگ نےدہلی پر حملہ کا اردا کیاتوحضرت میر سید گیسودراز﷫نےخواب میں امیر تیمور کی افواج کےہاتھوں دہلی کوتاراج ہوتےدیکھا،آپ نےتمام متعلقین ومتوسلین کواور عوام کو اپنےخواب سےآگاہ کیا۔مولانا خواجگی﷫حضرت سید قدس سرہ کاخواب سن کرمولانا خواجگی ﷫اور مولانا قاضی شہاب الدین﷫دہلی سےہجرت کرکےروانہ ہوگئے،مولانا خواجگی تو ’’کالپی‘‘پہنچ کرمستقل قیام پذیر ہوگئے۔لیکن قاضی شہاب الدین﷫جون پور کی طرف روانہ ہوگئے،اس وقت جون پور میں سلطان ابراہیم شرقی ﷫کی حکومت تھی،یہ سلطان نہایت عادل وعابد تھا،شریعت اسلامیہ پر سختی سےعمل پیرا،اور علماء کرام کا نہایت قدر داں تھا۔جون پور میں سلطان نےبڑےپرتپاک طریقےسےان کاستقبال کیا،اور ان کی تشریف آوری کوغنیمت جان کرآپ کی بےحد قدر ومنزلت کی۔آپ کو’’ملک العلماء‘‘کاخطاب دےکرعزت بخشی۔مولانا کےلئے ایک عالی شان گھرتعمیرکرایا۔علاوہ ازیں ہر قسم کی سہولیات بہم پہنچائیں۔دربار میں کھڑےہوکر استقبال کرتاتھا۔آپ دربارمیں ’’چاندی کی کرسی‘‘پرتشریف فرماہوتے۔ریاست جون پور کے’’قاضی القضاۃ‘‘(چیف جسٹس) کےعہدے پرفائزرہے۔ اسی طرح امور مملکت میں بھی آپ سےمشورےلےکرعمل کرتاتھا۔

ایک مرتبہ مولانا قاضی شہاب الدین﷫سخت بیمار ہوگئے،سلطان ان کی مزاج پرسی کےلئےپہنچا۔جب اس نےمولانا کی حالت نازک پائی توپانی کاایک پیالہ منگوایا اور اس کومولانا کےسرکےگرد پھراکریہ کہتےہوئے پی لیا کہ’’اے خدایا! جوبیماری انہیں ہے وہ مجھے لگ جائے،اور ان کوشفاء دیدے‘‘
1
مشہور ہے کہ مولانا اس واقعہ کےبعد صحت مند ہوگئے،لیکن سلطان ابراہیم بیمار ہوکرفوت ہوگئے۔’’تاریخِ فرشتہ‘‘ کےمصنف لکھتےہیں:کہ اس واقعہ کےدو سال بعد قاضی صاحب بھی سلطان کےغم میں گھل گھل کرچل بسے۔ایک سلطان ِ وقت کی عالم سےمحبت وعقیدت کی اس قدر اعلیٰ مثال شاید ہی کوئی اور ملے۔قاضی صاحب کوبھی ان کی علم دوستی ومذہب شناسی کابڑاپاس تھا۔چنانچہ آپ نےبھی  کتب وفتاویٰ ان کےنام منسوب کیے۔’’اصول ابراہیم شاہی،فتاویٰ ابراہیم شاہی‘‘ان کےنام سےمعنون ہیں۔(تذکرہ علمائے ہند:218/مآثر الکرام:216/تذکرہ مشائخ جون پور139)۔اُس وقت سلطان ِ اسلام،بادشاہان ِ وقت  علماء اسلام کی کس قدرتعظیم وتکریم کرتےتھے۔جب تک یہ سلسلہ رہامسلمانوں کی دنیا پر دھاک وہیبت رہی۔ایک مرتبہ مولانا غلام محمدترنم﷫کسی شخص کےساتھ پیدل جارہےتھے،اتنےمیں ایک عیسائی پادری کی کارفراٹےبھرتی اور دھول اڑاتی ہوئی پاس سےگزرگئی۔اس شخص نے پوچھا مولانا کیا وجہ ہےکہ آپ پیدل جارہےہیں،اورپادری شیورلیٹ گاڑی پر؟مولانا نےبرجستہ فرمایا:’’وہ زندہ قوم کامولوی ہےاورمیں مردہ قوم کامولوی ہوں‘‘۔(نور نورچہرے:51)یہی وجہ ہےکہ جب اس قوم نےعلماء کی قدر کرنا چھوڑی توذلت ورسوائی اس قوم کامقدر بن گئی۔فی زمانہ میراثی، ڈوم، درباری، طوائف، اور خوشامدی قسم کے افراد کی درباروں میں عزت ہے،علماء کرام کونفرت کی نگاہ سےدیکھاجاتا ہے۔لیکن اللہ جل شانہ نےایسےبےدین وفساق امراء کودنیاء میں ہی ذلیل کردیا۔ کئی مثالیں ہمارے سامنےموجود ہیں۔مرنےکےبعد ان کا قصہ ختم ہوگیا،جن سلاطین نےعلماء ومشائخ سےعقیدت رکھی ان کانام صدیاں گزرنےکےباوجودبھی زندہ ہے،اور ان کاذکر خیر سےہوتاہے۔تونسویؔ غفرلہ۔۔

تصانیف:
آپ کی شہرت آپ کی عمدہ تصانیف کی بدولت ہوئی۔1۔حاشیہ کافیہ۔یہ کتاب آپ کی زندگی میں ہی مشہور ہوگئی تھی۔2۔ارشاد۔یہ فنِ نحو پر اپنی مثال آپ۔3۔بدیع المیزان۔فن بلاغت پر۔4۔بحر مواج۔قرآن کی فارسی کی عمدہ تفسیر جس میں آیاتِ قرآنیہ کاآپ میں ربط وشان نزول بیان کیےگئے ہیں۔5۔شرح بزدوی۔6۔شرح قصیدہ بانت سعاد(حضرت کعب﷜)7۔فتاویٰ ابراہیم شاہی۔8۔مناقب السادات

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 25 رجب المرجب 849ھ مطابق 25 اکتوبر1445ء بروز ہفتہ ہوا۔آپ کامزار پرانوارجون پور میں ’’مسجد اٹالہ‘‘کےقریب میں ہے۔تاریخ جونپورمیں ہے ان کامقبرہ ’’راج کالج میں ہے‘‘۔

ماخذ و مراجع:
اخبار الاخیار ۔ حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔ نزہۃ الخواطر ۔ مآثر الکرام ۔ تذکرہ مشائخ شیراز جون پور ۔ مقدمہ شرح قصیدہ بردہ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-shahabuddin-daulatabadi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ محمد بابا سماسی (بخارا) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ خواجہ علی رامتینی ملقب بہ عزیزاں علی رحمۃ اللہ علیہ کے اجل خلفاء میں سے ہیں جن کو حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی رحلت کے وقت خلافت و نیابت کے تمام مناصب سے سرفراز فرمایا اور تمام اصحاب کو آپ کی متابعت و ملازمت کا حکم دیا۔

ولات:
آپ کی ولادت باسعادت ۲۵ رجب ۵۹۱ھ بمطابق ۱۱۹۵ء کو قصبہ سماس میں ہوئی جو رامتین سے تین میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق سماس مضافاتِ طوس (مشہد) سے ہے۔ سنوسیِ ہند حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث دلی پوری قدس سرہ کے خلیفۂ اجل پیر خیر شاہ امر تسری رحمۃ اللہ علیہ اپنی تصانیف حنیف ’’برکاتِ علی پور شریف‘‘ میں تحقیق لکھتے ہیں کہ قصبہ سماس بخارا اور رامتین ہر دو سے نو نو میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ بہرحال حضرت بابا کوسماس کی نسبت سے سماسی کہا جاتا ہے۔

آپ عرصۂ دراز تک حضرت خواجہ علی رامتینی عرف حضرت عزیزاں علی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں رہے اور فیوضاتِ ظاہری و باطنی سے خوب مالا مال ہوئے۔ آپ کی محویت اور استغراق کا یہ عالم تھا کہ آپ اپنے چھوٹے سے باغ میں کبھی کبھی تشریف لے جاتے اور انگوروں کی شاخوں کو اپنے دستِ مبارک سے تراشتے۔ جب ایک شاخ کو کاٹتے تو غلبۂ حال و استغراق کی وجہ سے آری آپ کے دستِ مبارک سے گر پڑتی اور آپ بے خود ہوجاتے، یہ بے خودی اور غیبت (غلبہ) دیر تک رہتی جب ہوش میں آتے تو پھر شاخ کو کاٹنا شروع کردیتے اور پھر بے ہوش ہوجاتے۔ اس طرح اس کام میں بہت دیر ہوجاتی۔

کرامات:
۱۔ آپ نے خواجۂ خواجگان حضرت بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کو اپنی فرزندی میں قبول فرمایا تھا جس کی تفصیل یوں ہے کہ حضرت شاہِ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت با سعادت سے پہلے آپ بارہا کو شکِ ہندواں سے گزرتے اور فرماتے:

ازیں خاک بوئے مردے مے آید زود باشد کہ کو شکِ ہند واں قصرِ عارفاں شود۔

اس زمین سے ایک مرد کی خوشبو آتی ہے جلدی ایسا ہوگا کہ شکِ ہندواں قصرِ عارفاں بن جائے گا۔

ایک روز آپ اپنے خلیفۂ اعظم حضرت سیّد امیر کلال رحمۃ اللہ علیہ کے مکان سے قصرِ عارفاں کی طرف متوجہ ہوئے اور پھر وہاں پہنچ کر فرمایا کہ وہ خوشبو اب زیادہ ہوگئی ہے، بلا شک و شبہ وہ مرد پیدا ہوگیا ہے اُس وقت حضرت نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت مبارک کو تین روز ہوچکے تھے۔ اُن کے جد امجد اُن کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ ہمارا فرزند ہے۔ ہم نے اس کو اپنی فرزندی میں قبول کیا۔ پھر اپنے اصحاب سے فرمایا کہ یہ مردِ خدا ہے جس کی خوشبو ہم نے سونگھی تھی، یہ لڑکا عنقریب اپنے وقت کا مقتدا ہوگا۔ بعد ازاں سید امیر کلال رحمۃ اللہ علیہ کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ تم میرے فرزند بہاء الدین کے حق میں شفقت و تربیت سے ہرگز ہرگز دریغ اور کوتاہی نہ کرنا۔ اگر تم اُس میں کوتاہی کرو گے تو میں تمہیں معاف نہیں کروں گا۔ حضرت سید امیر کلال رحمۃ اللہ علیہ نے کھڑے ہوکر ادب و احترام سے ہاتھ سینے پر رکھ کر عرض کیا کہ اگر کوتاہی کروں تو میں مرد نہیں‘‘۔

۲۔ حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ بیان فرماتے ہیئں کہ جب میری عمر اٹھارہ سال (یا کچھ کم و بیش) ہوئی تو میرے جدِّ امجد کو میرے نکاح کی فکر ہوئی۔ انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں قصر عارفاں جاکر حضرت بابا محمد سماسی رحمۃ اللہ علیہ کو تشریف لانے کی دعوت دوں تاکہ اُن کے قدومِ میمنت لزوم فرمانے سے یہ کام انجام پذیر ہوجائے۔ جب میں زیارت سے مشرف ہوا تو سب سے پہلی کرامت دیکھنے میں یہ آئی کہ اُس رات آپ کی صحبت کی برکت سے مجھ میں بڑا تضرع و نیاز (گریہ زاری اور عاجزی و انکساری) پیدا ہوا۔ رات کے آخری حصے میں اُٹھ کر میں نے وضو کیا اور آپ کی مسجد مبارک میں جاکر دو رکعت نماز پڑھی اور سر سجدے میں رکھ کر دعا اور گریہ زاری بہت کی۔ اسی اثنا میں میری زبان سے نکلا۔ ’’خدایا! مجھے (دکھ، تکلیف) کا بوجھ اٹھانے اور اپنی محبت کی محنت و مشقت کرنے کی قوت عطا فرما۔ صبح میں جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ازروئے فراست و بصیرت میری رات کی سرگزشت سے آگاہ ہوکر فرمایا ’’اے فرزند! دعا میں یوں کہنا چاہیے‘‘، خدایا اس بندہ ضعیف کو اپنے فضل و کرم سے اُسی پر قائم رکھ جس میں تیری رضا ہے‘‘ پھر ارشاد فرمایا کہ ’’بے شک اللہ تعالیٰ کی رضا تو ا س میں ہے کہ بندہ مصیبت میں مبتلا نہ ہو لیکن اگر وہ کسی حکمت کی وجہ سے اپنے کسی دوست پر مصیبت اور آزمائش کرنے کی قوت عطا فرماتا ہے اور اس کی حکمت اُس پر ظاہر کردیتا ہے۔ خود اپنی مرضی و اختیار سے مصیبت و تکلیف، دکھ اور درد اور رنج و بلا طلب کرنا دشوارہے، گستاخی نہ کرنی چاہیے۔

بعد ازاں کھانا لایا گیا۔ جب کھانے سے فارغ ہوئے توآپ نے دستر خوان پر سے ایک روٹی اٹھا کر مجھے عنایت فرمائی، میں لینا نہ چاہتا تھا، آپ نےفرمایا: ’’لے لو، کام آئےگی‘‘۔ میں نےوہ روٹی لےلی اور آپ کے ہمراہ قصر عارفاں کی طرف روانہ ہوا۔ اث
نائے راہ میں جب بھی کوئی خطرہ پیدا ہوتا تو آپ فرماتے کہ باطن کی حفاظت کرنی چاہیے۔ ان حالات و واقعات کے مشاہدے سے آپ کی نسبت میر ایقین و اعتقاد بڑھتا گیا، راستے میں ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں آپ کا ایک محب و مخلص تھا، وہ بڑی بشاشت اور عاجزی سے پیش آیا، جب آپ اُس کے مکان میں جلوہ گر ہوئے تو آپ نے اُس کے اضطراب و بے قراری کو دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ ’’سچ سچ بتا، تمہارے اضطراب کا سبب کیا ہے؟ اُس نے عرض کیا کہ گھر میں دودھ کا پنیر تو حاضر ہے مگر روٹی موجود نہیں، آپ نے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ ’’وہ روٹی لاؤ، تم نے دیکھا کہ آخر کام آ ہی گئی‘‘۔

آپ کے چار خلفاء کامل و اکمل اور مشہور و معروف ہوئے۔

۱۔ خواجہ محمد صوفی رحمۃ اللہ علیہ جن کا مزار مقدس قصبہ سُو خار میں ہے۔
۲۔ خواجہ محمود سماسی رحمۃ اللہ علیہ جو کہ آپ کے فرزندِ ارجمند تھے۔
۳۔ خواجہ دانشمند رحمۃ اللہ علیہ
۴۔ خواجہ سیّد میر کلال رحمۃ اللہ علیہ

آپ کی رحلت ۱۰؍جمادی الآخر ۷۵۵ھ مطابق ۱۳۵۴ء کو ہوئی اور مرقد مقدس موضع سماس میں بنا۔


(تاریخِ مشائخ نقشبند)

خواجہ محمد بابا سماسی قدس سرہ

جائے ولادت:
طریقت میں آپ کا انتساب حضرت عزیزاں ﷫سے ہے۔ آپ کا مولد سماسی ہے جو بقول صاحب رشحات دیہات رامتین میں سے ہے۔ اور رامتین سے ایک فرسنگ کے فاصلہ پر واقع ہے۔ خواجہ محمد بابا کو اس کی طرف نسبت کر کے سماسی کہتے ہیں۔

جب حضرت عزیزاں کی وفات کا وقت نزدیک آیا تو آپ نے اپنے اصحاب میں سے خواجہ محمد بابا ﷫کو اپنی خلافت و نیابت کے لیے انتخاب کیا۔ اور تمام اصحاب کو ان کی متابعت و ملازمت کا حکم دیا۔

استغراق کی کیفیت:
آپ کی محویت و استغراق کا یہ عالم تھا کہ موضع سماسی میں آپ کا چھوٹا سا باغ تھا جہاں آپ کبھی کبھی تشریف لے جاتے اور وہاں کے انگوروں کی شاخوں کو اپنے دست مبارک سے تراشتے۔ مگر اس کام میں بہت دیر لگ جاتی۔ کیونکہ جب آپ انگور کی ایک شاخ کوکاٹتے تو غلبہ حال و استغراق کی وجہ سے آری آپ کے دست مبارک سے گرپڑتی۔ اور آپ بے خود ہوجاتے۔ یہ بے خودی دیر تک رہتی۔ جب ہوش میں آتے تو پھر شاخ انگور کو کاٹنے لگتے۔ پھر وہی کیفیت طاری ہوجاتی۔

مرد کامل کی خبر:
آپ خواجہ بہاء الدین نقشبن﷫د کو اپنی فرزندی میں قبول کیا۔ جس کی کیفیت اس طرح ہے کہ حضرت شاہ نقشبند ﷫کی ولادت سے پہلے آپ بار ہا ‘‘کوشک ہندواں’’ سے گزرتے اور فرماتے۔

ازیں خاک بوے مردے مے آید۔
زود باشد کہ کوشک ہندواں قصر

اس زمین سے ایک مرد کی خوشبو آتی ہے۔ جلدی ایسا ہوگا کہ کوشک ہندواں قصر عارفاں بن جائے گا۔

حضرت نقشبند کی ولاد ت کی خبر:

ایک روز آپ اپنے خلیفہ سید امیر کلال﷫ کے مکان سے قصر عارفاں کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور وہاں پہنچ کر فرمایا کہ وہ خوشبو اب زیادہ ہوگئی ہے۔ اور بے شک وہ مرد پیدا ہوگیا ہے۔ اس وقت حضرت نقشبند﷫ کی ولادت کو تین روز ہوچکے تھے۔ آپ کے جدِ امجد آپ کو لے کر خواجہ محمد بابا﷫ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت خواجہ ﷫نے فرمایا کہ یہ ہمارا فرزند ہے۔ ہم نے اس کو اپنی فرزندی میں قبول کیا۔ پھر اپنے اصحاب سے فرمایا کہ یہ وہی مرد خدا ہے جس کی خوشبو ہم نے سونگھی تھی۔ یہ لڑکا عنقریب اپنے وقت کا مقتدا ہوگا۔ بعد ازاں سید امیر کلال ﷫کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ تم میرے فرزند بہاء الدین کے حق میں شفقت و تربیت سے دریغ نہ کرنا۔ اگر تم اس میں کوتاہی کرو گے۔ تو میں تمہیں معاف نہ کروں گا۔ امیر موصوف نے کھڑے ہوکر اور ادب سے ہاتھ سینے پر رکھ کر عرض کیا کہ اگر کوتاہی کروں تو میں مرد نہیں۔

فراست و بصیرت:
حضرت خواجہ نقشبند ﷫سے منقول ہے کہ جب میری عمر اٹھارہ سال یا کچھ کم و بیش ہوئی تو میرے جد امجد کو میرے نکاح کی فکر ہوئی۔ انہوں نے مجھے خواجہ محمد بابا قدس سرہ کے بلانے کے لیے قصر عارفاں میں بھیجاتا کہ ان کے قدم کی برکت سے یہ کام انجام کو پہنچ پائے۔ جب میں آپ کی زیارت سے مشرف ہوا تو پہلی کرامت جو دیکھنے میں آئی یہ تھی کہ اس رات آپ کی صحبت و برکت سے مجھ میں بڑا تضرع و نیاز پیدا ہوا۔ رات کے اخیر حصے میں اٹھ کر میں نے وضو کیا اور آپ کی مسجد مبارک میں جاکر دو رکعت نماز پڑھی۔ اور سر سجدے میں رکھ کر دعا و تضرع بہت کیا۔ اسی اثنا میں میری زبان سے نکلا ’’خدایا! مجھے بلا(آزمائش) کا بوجھ اٹھانے اور اپنی محبت کی محنت برداشت کرنے کی قوت عطا فرما‘‘۔ صبح کو جو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ازروئے فراست و بصیرت میری رات کی سرگزشت سے آگاہ ہوکر فرمایا۔ اے فرزند! دعا میں یوں کہنا چاہیے۔ ’’خدایا! اس بندہ ضعیف کو اپنے فضل و کرم سے اسی پر قائم رکھ جس میں تیری رضا ہے۔‘‘ پھر فرمایا کہ بے شک خدا عزوجل کی رضا تو اس میں ہے کہ بندہ بلا میں مبتلا نہ ہو۔ اگر وہ بنابر حکمت اپنے کسی دوست پر بلا بھیجتا ہے۔ تو اپنی عنایت سے اس دوست کو اس بلا کے برداشت کرنے کی قوت عطا فرماتا ہے اور اس کی حکمت اس پر ظاہر کردیتا ہے۔ اپنے اختیار سے بلا طلب کرنا دشوار ہے۔ گستاخی نہ کرنی چاہیے۔ بعد ازاں کھانا
1
لایا گیا۔ جب کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے دستر خوان پر سے ایک روٹی مجھے دی۔ میں لینا نہ چاہتا تھا۔ آپ نے فرمایا۔ لے لو۔ کام آئے گی۔ میں نے وہ روٹی لے لی اور آپ کے ہمراہ قصرِ عارفاں کی طرف روانہ ہوا۔ اثنائے راہ میں میرے باطن میں جب کوئی خطرہ پیدا ہوتا تو آپ فرماتے کہ باطن کی حفاظت چاہیے۔ ان حالات کے مشاہدے سے حضرت کی نسبت میرا یقین و اعتقاد زیادہ ہوتا جاتا تھا۔ راستے میں ایک جگہ پہنچے جہاں حضرت کا ایک محبّ و مخلص تھا۔ وہ بڑی بشاشت اور عاجزی سے پیش آیا۔ جب آپ اس کے مکان میں اترے تو آپ نے اس کے اضطراب و بے قراری کو دیکھ کر فرمایا۔ کہ سچ بتاؤ۔ اس اضطراب کی سبب کیا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ گھر میں دودھ کا پنیر تو حاضر ہے مگر روٹی موجود نہیں۔ حضرت خواجہ نے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا وہ روٹی لاؤ۔ تم نے دیکھا کہ آخر کام آگئی۔یہ پہلے حالات ہیں جو میں نے حضرت بابا سے مشاہدہ کیے۔

وصال مُبارک:
بعض رسائل میں آپ کا سنہ وصال ۱۰ جمادی الاخریٰ ۷۵۵ھ لکھا ہے۔ مزار مبارک موضع سماسی میں ہے ۔ (رشحات ۔ انیس الطالبین) ۔

( مشائخِ نقشبندیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-baba-samasi-bukhara
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا محمد شریف ہزاروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مجاہدِ تحریک نفاذ نظام مصطفےٰ (صلی اللہ علیہ وسلم) حضرت علامہ مولانا محمد شریف ہزاروی، سعیدی ولد مولانا عبد الجلیل ۲۵؍ رجب المرجب، ۱۲؍ اگست ۱۳۵۷ھ/ ۱۹۳۹ء میں بمقام کھبل علاقہ تربیلا (ہزارہ ڈویژن) پیدا ہوئے۔ آپ ایک علمی و روحانی خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ آپ کے والد ماجد عالم با عمل ہیں اور فقہ کی جزئیات میں خصوصی دسترس رکھتے ہیں اور چچا مولانا عبد الباقی اور مولانا حبیب الرحمٰن علم و عمل کے زیور سے آراستہ ہیں۔ آپ کے دادا جان کے حقیقی بھائی حضرت علامہ مولانا میر محمود عرف خان مولانا علوم ظاہری و باطنی کے بحرِ ذخّار اور زہد و تقویٰ کے مجسمہ ہیں۔

علامہ مولانا محمد شریف ہزاروی نے علومِ اسلامیہ کی کتب متداولہ دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور ہزارہ جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد اور جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور سے پڑھیں۔ سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان اور جامعہ نعیمیہ لاہور سے حاصل کی۔ آپ نے جن اساتذہ کے سامنے زانوئے تلّمذ طے کیا، وہ یہ ہیں:
۱۔ حضرت غزالی زماں علامہ سیّد احمد سعید کاظمی، ملتان۔
۲۔ استاذ العلماء مولانا مہر الدین جماعتی، لاہور۔
۳۔ فقیہ العصر حضرت مفتی اعجاز ولی خان رحمہ اللہ، لاہور۔
۴۔ حضرت مولانا عبد القادر شہید رحمہ اللہ۔
۵۔ حضرت علامہ مولانا غلام رسول شیخ الحدیث جامعہ رضویہ فیصل آباد۔
۶۔ حضرت مولانا مفتی نواب الدین، فیصل آباد۔
۷۔ حضرت مولانا حافظ احسان الحق، فیصل آباد۔
۸۔ حضرت مولانا مفتی محمد حسین نعیمی، لاہور۔
۹۔ حضرت مولانا قاضی غلام محمود ہزاروی لاہور۔
۱۰۔ حضرت مولانا مفتی محمد عبد القیوم ہزاروی، لاہور۔

۱۱۔ حضرت مولانا اللہ بخش رحمۃ اللہ علیہ، داں بھپھراں۔

۱۹۶۰ء میں آپ نے علومِ اسلامیہ کی تحصیل سے فراغت حاصل کی اور اس وقت سے آج تک مسلسل تدریس فر ما رہے ہیں۔

تدریس کا آغاز احسن المدارس واہگہ باڈر سے کیا اور پھر جامعہ امینیہ گوجرانوالہ، دار العلوم چشتیہ قلعہ دیدار سنگھ (گوجرانوالہ) جامعہ نعمانیہ اور جامعہ فاروقیہ رضویہ گوجرانوالہ میں پڑھانے کے بعد آج کل دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور ہزارہ میں مسندِ تدریس پر فائز ہیں۔

آپ واہگہ باڈر کی مسجد، سراج المساجد گوجرانوالہ، جامع مسجد قلعہ دیدار سنگھ اور جامع مسجد صدیقیہ گوجرا نوالہ میں خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے رہے اور آج کل جامع مسجد رحمانیہ ہری پور میں خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

حضرت مولانا محمد شریف ہزاروی نہ صرف ماہرِ تدریس ہیں، بلکہ بے باک اور نڈر مقرر بھی ہیں۔ تحریکِ ختم نبوت میں آپ نے بھر پور حصہ لیا۔ جہلم سے لے کر لاہور تک جگہ جگہ تقریروں کے ذریعے ختمِ نبوت کی اہمیت کو واضح کیا۔

تحریکِ نظامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ نے صوبہ سرحد کے مجاہدین کے سالارِ قافلہ کی حیثیت سے کام کیا۔ صوبہ سرحد بالخصوص ہزارہ ڈویژن میں آپ کو تحریکِ نظامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عظیم مجاہد کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے۔ تمام مکاتبِ فکر کے علما اور عوام نے آپ کی قیادت میں تحریک میں حصہ لیا اور آپ نے نہایت جرأت اور پامردی سے تحریک کو آگے بڑھایا۔

سیاسی طور پر آپ کا تعلق جمعیت العلماء پاکستان (سوادِ اعظم اہل سنّت کی نمائندہ سیاسی تنظیم) سے ہے۔ آپ جمعیّت العلمائے پاکستان ہزارہ ڈویژن کے صدر ہیں۔

آپ کو اپنے دادا جان کے بھائی حضرت مولانا غلام میر محمود عرف خان مولانا صاحب سے بیعت کا شرف حاصل ہے۔

آپ نے علمِ غیب اور ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کے عنوان سے ایک رسالہ اور ایک کتابچہ غیر مقلّدوں کے رد میں ’’قربانی، عید اور دو دن بعد ہے‘‘ کے عنوان سے تحریر کیے جو زیورِ طبع سے آراستہ ہوچکے ہیں۔

حضرت مولانا محمد شریف ہزاروی کے ہاں تین صاحبزادے محمد سعید، مظہر سعید، اعجاز احمد اور پانچ صاحبزادیاں تولد ہوئیں۔[۱] اللہ تعالیٰ تمام صاحبزادوں کو آپ کا صحیح جانشین بنائے۔

[۱۔ مکتوب حضرت استاذِ محترم بنامِ مرتّب: اکتوبر ۱۹۷۸ء۔]

نوٹ:
مرتب کو حضرت استاذِ محترم مولانا محمد شریف ہزاروی سے شاگردی کا شرف حاصل ہے۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-sharif-hazarvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
سید العلماء حضرت علامہ مفتی شاہ آل مصطفی سید میاں مارہروی علیہ الرحمہ

نام و نسب:
سید العلماء ، سید آلِ مصطفیٰ بن سید آل عباء ،بن سید شاہ حسین، بن سید شاہ محمد حیدر۔الیٰ آخرہ (علیہم الرحمہ)

تاریخِ ولادت:
25 رجب المرجب 1333ھ / 9 جون 1915ء بروز بدھ، مارہرہ مطہرہ، (انڈیا) میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
آپ جب چار سال چار ماہ چار دن کےہوئے تو سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دستِ مبارک کی تحریر کی ہوئی بسم اللہ شریف سے تسمیہ خوانی کا آغاز کیا جو کہ مارہرہ خاندان میں موجود ہے ـ

حفظ قرآن سات آٹھ برس کی چھوٹی سی عمر میں والدہ ماجدہ اور حافظ عاشق علی صاحب برکاتی اور حافظ سلیم الدین صاحب علیہ الرحمۃ سے مکمل کیا ۔

فارسی کی پہلی کتاب اپنی والدہ ماجدہ سے پڑھی ۔ نانا جان اور خالو محترم سید شاہ اولاد رسول محمد میاں صاحب علیہ الرحمۃ سے علوم درسیہ مروجہ کا اکتساب کیا ۔

بقیہ جمیع علوم کی تکمیل اجمیر مقدس میں حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ سے کی ۔

آپ دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم سے بھی بہرہ ور ہوئے ۔ طبیہ کالج ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ادویہ ہندی و یونانی وغیرہ اور عمل جراحی میں ڈی آئی ایم ایس میں ڈپلومہ حاصل کیا ۔

بیعت و خلافت:
نانا جان حضور سید شاہ ابو القاسم اسماعیل حسن شاہ جی میاں قدس سرہ

سیرت و خصائص:
جلیل القدر، دوربین، دور اندیش، نکتہ داں، حق گو، حق آگاہ، حق بیں، حق شناس، حقیقت بیان، صداقت شعار، سراپا ایثار، پرتوِ حیدر کرار ،حق بیانی، شیریں مقالی یہ تمام صفات جن کی ذات کا جزو لاینفک تھیں وہ ہیں حضرت سید العلماء شاہ آل مصطفیٰ (علیہ الرحمۃ و الرضوان) ۔

آپ بیک وقت عظیم محدث، مفسر، مفتی، نعت گو شاعر، حاذق حکیم، مدبر، اسلامی سیاست داں اور اعلیٰ تنظیمی صلاحیتوں کے مالک، عابد شب زندہ دار ولیِ کامل تھے ۔

حضور شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: دقیق سے دقیق علمی مباحث میں وہ نکتہ سنجیاں فرما تے کہ عقل دنگ رہ جاتی، اس وقت اعتراف کرنا پڑتا کہ " سید العلماء " کا خطاب ان کے قامت زیباہی کے لیے وضع ہوا ہے ۔ آپ کے مبارک سینے میں علوم و فنون کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا، مناظرہ میں امام المناظرین، گفتگو میں سید المتکلمین، تحریر وتقریر کے مانے ہوئے بادشاہ اور قادر الکلام تھے، ایک ہی موضوع پر مختلف عنوانات اور متعدد پیرائے سے بیان آپ کے لیے معمولی بات تھی۔ (حضور سید العلماء، ص:۱۲)

وصال:
۱۱ جمادی الاخریٰ ۱۳۹۴ ھ

ماخذ و مراجع: حضور سید العلماء ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mufti-aale-mustafa-syed-mian-maharvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت امام موسی کاظم علیہ‌الرحمہ

نام و نسب:
کنیت: ابوالحسن ، ابو ابراہیم ، اور ابو علی ہے ۔ اسم گرامی: موسیٰ ۔ لقب: کاظم، صالح اور صابر ہے ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی امام زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن حضرت علی المرتضیٰ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ) ۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا اسمِ گرامی امِ ولد حمیدہ بربریہ تھا ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت بروز اتوار، 7 صفر المظفر 128 ھ بمقامِ ابواء (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام جہاں سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا کی قبرِ انور ہے) میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
خاندانی روایت کے مطابق آپ نے تمام علومِ ظاہری و باطنی اپنے والدِ گرامی سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے حاصل کیے ۔

تمام علوم میں مہارتِ تامہ حاصل کی ، یہاں تک کہ اپنے وقت کے جید علماء کی صف میں شامل ہو گئے ۔ بلکہ تمام اعلیٰ نسبتوں اور فضیلتوں اور علم و تقویٰ کی بدولت تمام پر سبقت لے گئے ۔

سیرت و خصائص:
ساداتِ بنی ہاشم کے نیرِ اعظم ، علم و تقویٰ کے مہرِ کامل، سرورِ عالم ﷺ کے علم و اوصاف، شریعت و طریقت اور خاندانی عظمت و شرافت کے امین ، مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی علمی و خاندانی وراثت کے وارثِ کامل سیدنا ابو الحسن امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ

آپ اللہ تعالیٰ کے ولیِ کامل تھے ۔ تمام
علوم اور تمام زبانوں سے واقف تھے ـ

مراۃ الاسرار میں ہے:
کہ ایک دن امام موصوف کی خدمت میں ایک شخص نےحاضر ہو کر طیور (پرندوں) کی زبان میں باتیں کرنا شروع کر دیں کیں اور امام صاحب بھی اسی زبان میں جواب دیتے رہے ۔ جب وہ چلا گیا تو کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ کون سی زبان تھی ہم نے تو اس قسم کی زبان نہیں سنی ۔ آپ نےفرمایا کہ یہ جنات کی ایک قومی زبان ہے ۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ حق تعالیٰ نے آپ کو تمام مخلوقات کی زبانوں کا علم عطا فرمایا تھا ۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وعلم آدم الاسماء کلہا ۔

مستجاب الدّعوات ایسے کہ لوگ آپ کو بارگاہِ صمدیت میں وسیلہ گردانتے اور اِن سے دعا کروا کر مقصود کو پہنچتے، اسی سبب سے اہلِ عراق آپ کو باب قضاء الحوائج کہتے تھے ۔

آپ بڑے عابد، زاہد، قائم اللیل، صائم النہار تھے ۔ بسبب کثرت عبادات و اجتہادات اور شب بیداری کے عبد الصالح کے لقب سے پکارے جاتے ۔ خفیہ طور پر راتوں میں لوگوں کو حاجات کے موافق روپیہ اشرفی پہنچایا کرتے ۔ آپ کے والد بزرگوار حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے کہ یہ میرے تمام فرزندوں میں بہترین فرزند ہے، اور اللہ تعالیٰ کے موتیوں سے ایک موتی ہے۔

امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: کہ قبرِ امام موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اجابتِ دعا کے لیے تریاق مجرب کا حکم رکھتی ہے۔

امام خلال حنبلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: مجھے جب بھی کوئی معاملہ درپیش ہوتاہے ، میں امام موسیٰ کاظم بن جعفر رضی اللہ عنہما کے مزار پر حاضر ہو کر آپ کا وسیلہ پیش کرتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ میری مشکل کو آسان کر کے میری مراد مجھے عطا فرما دیتا ہے ۔(تاریخِ بغداد، باب ما ذکر فی مقابر البغداد)

وصال:
55 برس کی عمر میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بادشاہِ وقت کے حکم پر کھجور میں زہر ملا کر دیا گیا ۔ کھجور کھاتے ہی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ دشمنوں نے مجھے زہر دیا ہے تین دن کے بعد میری وفات ہوگی ۔ جیسا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا ۔ یوں 25 رجب المرجب 183ھ کو آپ مرتبۂ شہادت پر فا ئض ہوئے۔ آپ کا مزارِ پر اَنوار بغدادِ معلی میں کاظمین شریف کے مقام پر واقع ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-musa-kazim-bin-imam-jafar-sadiq
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1