Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-07-1445 ᴴ | 05-02-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-07-1445 ᴴ | 05-02-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت سید حمید الدین احمد گیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اوصافِ جمیلہ:
آپ معدن العلوم و الانوار، مخزن الفضائل و الاسرار، سلطان الطریقت، برہان الحقیقت، قبلہ مقبلانِ عالم، کعبہ محققانِ بنی آدم، فقیہ الفاضِل، محدث الکامِل، غوث العالمین تھے۔ حضرت شیخ سید ابو المنصور صفی الدی عبد السلام صوفی گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند اکبر و مرید و خلیفہ اعظم و سجادہ نشین تھے۔
نام و لقب:
آپ کا اسم گرامی احمد
[۱] [۱۔ بحر السرائر ۔ شجرۃ الانوار]
کنیت:
ابو العباس ،
[۱] [۱۔ شجرۃ الانوار]
مابو المسعود،
[۱] [۱۔ بحر السرائر]
ابو نصر،
[۱] [۱۔ باغ سادات]
لقب:
شریف حمید الدین،
[۱] [۱۔ تذکرہ غوثیہ]
علم الدین،
[۱] [۱۔ بحر السرائر]
گنج بخش،
[۱] [۱۔ اسرار المعرفت]
فیض اللہ عسکری،
[۱] [۱۔ باغ سادات]
شیخ شیوخ العالم تھا۔
[۱] [۱۔ بحر السرائر]
کتاب بحر السرائر میں آپ کا پورا نام سید ابو المسعود علم الدین احمد لکھاہے۔
ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت بقول صاحب بحر السرائر 558ھ پانچ سو اٹھاون ہجری مطابق 1163ء ایک ہزار ایک سو تریسٹھ عیسوی میں میں بعہد خلافت المستنصر باللہ ابو المظفر یوسف بن المقتضی بن المسئظہر عباسی بمقام بغداد شریف ہوئی ۔
تحصیلِ علوم:
آپ نے علومِ متداولہ فقہ و حدیث اپنے والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور احسن بن ابی العلاء بن علی عبد اللہ وغیرہ اساتذہ سے حاصل کیے ۔
[۱] [۱۔بحر السرائر خطی۔ غوث اعظم ص ۳۰۴۔ شرافت]
اپنے جد بزرگوار حضرت سید سیف الدین عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا تھا۔ اور حقائقِ توحید کا سبق اُن سے بھی ملا تھا۔ اُس وقت آپ کی عمر مبارک پینتیس (35) سال تھی۔
بیعت و خلافت:
آپ نے بیعتِ طریقت اپنے پدر عالی قدر شیخ المشائخ حضرت سید ابو المنصور صفی الدین عبد السلام صوفی گیلانی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر کی اور خرقہ خلافت و ارشاد حاصل کیا ۔ [۱] [۱۔ بحر السرائر] ـ
مشایخ صحبت:
آپ نے سید اصغر قادری رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ شیوخ کی صحبت سے بھی فیض پایا ۔
[۱] [۱۔ خزینۃ الاصفیا جلد اول ص ۱۲۲]
نیابتِ غوثیہ:
والد بزرگوار کے بعد مسند ارشادِ غوثیہ پر بیٹھ کر بکمال ورع و تقویٰ خلقت کی رہنمائی کی۔ مدرسہ سعیدیہ غوثیہ کی تولیت بھی آپ کے متعلق تھی۔ درس تدریس سے اس کی رونق کو اپنے عہد میں دو بالا کیا ۔
صاحب بحر السرائر نے لکھا ہے کہ ابو المسعود علم الدین سید احمد کا درس بہت بڑا تھا۔ صاحب علم و حلم ذی حال الفاخر تھے۔
رُوم تشریف لے جانا:
ایک مرتبہ آپ ولایتِ رُوم کی طرف سیر کو تشریف لے گئے۔ وہاں کی آب و ہوا آپ کو بہت پسند آئی۔ آپ کا ارادہ ہوا کہ اسی کو اپنا دار الارشاد مقرر کیا جائے۔ مگر متردد تھے۔ آخر آپ کو بیداری میں حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت ہوئی۔ اُنہوں نے رُوم رہنے کی اجازت دے دی۔ سید سعد اللہ رضوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔
’’بحسب امرِ پدر جد خود کہ دریقظہ بوے شدہ بود در انجا مسکنت گرفت‘‘[۱] [۱۔ بحر السرائر۔ شرافت]
یعنی اپنے دادا کے باپ کی اجازت سے روم میں سکونت پذیر ہوئے۔ اور وہ حضرت غوث اعظم ہی تھے۔ مگر قاضی بر خوردار ملتانی نے کتاب غوثِ اعظم میں والد اور جد کی اجازت سے روم جانا لکھا ہے۔ [۱] [۱۔ غوث اعظم ص ۳۰۴۔ شرافت]
سید علی اصغر گیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے شجرۃ الانوار میں لکھا ہے۔
’’سید ابو العباس احمد (درہنگامہ) ہلا کو خاں و تارا جے و قتل عام بغداد از بغداد بروم رفت و بعد انطفائے آتش ہلاکو خاں در حلب کہ شہر شام و مملکت روم است توطن اختیار فرمود‘‘
’’سید ابو العباس احمد ہلاکو خاں کے قتل و تاراجِ بغداد کے وقت بغداد سے رُوم چلے گئے اور اس ہنگامہ کی آگ سرد ہونے پر آپ حلب میں سکونت گزین ہوگئے۔ جو ملکِ شام کا شہر اور مملکت رُوم میں ہے۔‘‘
بعد کے مورخین مفتی غلام سرور لاہوری وغیرہ نے بحوالہ شجرۃ الانوار اپنی تصانیف میں اسی روایت کو درج کیا ہے۔
لیکن صاحب شجرۃ الانوار کا یہ لکھنا کہ ہلاکو خاں کے تاراج بغداد کے زمانہ میں حضرت سید ابو العباس احمد رحمۃ اللہ علیہ بغداد شریف سے روانہ ہوئے یہ درست نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ واقعہ بقول تاریخ الخلفا علامہ حافظ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ 656ھ چھ سو چھپن ہجری میں گذرا۔ اور حضرت سید احمد اس سے چھبیس (26) سال پہلے 630ھ چھ سو تیس ہجری میں رُوم میں وفات پا چکے تھے۔ جیسا کہ بحر السرائر سے ثابت ہے۔
صاحب بحر السرائر کا یہ تحریر کرنا کہ سید ابو المسعود احمد حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے حُکم سے جو یقظہ (بیداری) میں آپ کو ہوا۔ رُوم میں سکونت گزین ہوئے یہ بالکل صحیح اور قرین عقل ہے۔
نیز شجرۃ الانوار 1192ھ سے بعد کی تصنیف ہے۔ اور بحر السرائر کا زمانہ تصنیف حضرت مخدوم سید ابو الحسن جمال الدین محمد غوث ثانی گیلانی ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کا عہد سجادگی ہے جو (1083ھ تا 1137ھ)
[۱] [۱۔ غوث اعظم ص ۳۵۹] ہے یعنی اس سے ستر (70) اسی (80) سال پہلے تصنیف ہوئی اور خحادیم گیلانیہ ملتان کا کتب
اوصافِ جمیلہ:
آپ معدن العلوم و الانوار، مخزن الفضائل و الاسرار، سلطان الطریقت، برہان الحقیقت، قبلہ مقبلانِ عالم، کعبہ محققانِ بنی آدم، فقیہ الفاضِل، محدث الکامِل، غوث العالمین تھے۔ حضرت شیخ سید ابو المنصور صفی الدی عبد السلام صوفی گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند اکبر و مرید و خلیفہ اعظم و سجادہ نشین تھے۔
نام و لقب:
آپ کا اسم گرامی احمد
[۱] [۱۔ بحر السرائر ۔ شجرۃ الانوار]
کنیت:
ابو العباس ،
[۱] [۱۔ شجرۃ الانوار]
مابو المسعود،
[۱] [۱۔ بحر السرائر]
ابو نصر،
[۱] [۱۔ باغ سادات]
لقب:
شریف حمید الدین،
[۱] [۱۔ تذکرہ غوثیہ]
علم الدین،
[۱] [۱۔ بحر السرائر]
گنج بخش،
[۱] [۱۔ اسرار المعرفت]
فیض اللہ عسکری،
[۱] [۱۔ باغ سادات]
شیخ شیوخ العالم تھا۔
[۱] [۱۔ بحر السرائر]
کتاب بحر السرائر میں آپ کا پورا نام سید ابو المسعود علم الدین احمد لکھاہے۔
ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت بقول صاحب بحر السرائر 558ھ پانچ سو اٹھاون ہجری مطابق 1163ء ایک ہزار ایک سو تریسٹھ عیسوی میں میں بعہد خلافت المستنصر باللہ ابو المظفر یوسف بن المقتضی بن المسئظہر عباسی بمقام بغداد شریف ہوئی ۔
تحصیلِ علوم:
آپ نے علومِ متداولہ فقہ و حدیث اپنے والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور احسن بن ابی العلاء بن علی عبد اللہ وغیرہ اساتذہ سے حاصل کیے ۔
[۱] [۱۔بحر السرائر خطی۔ غوث اعظم ص ۳۰۴۔ شرافت]
اپنے جد بزرگوار حضرت سید سیف الدین عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا تھا۔ اور حقائقِ توحید کا سبق اُن سے بھی ملا تھا۔ اُس وقت آپ کی عمر مبارک پینتیس (35) سال تھی۔
بیعت و خلافت:
آپ نے بیعتِ طریقت اپنے پدر عالی قدر شیخ المشائخ حضرت سید ابو المنصور صفی الدین عبد السلام صوفی گیلانی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر کی اور خرقہ خلافت و ارشاد حاصل کیا ۔ [۱] [۱۔ بحر السرائر] ـ
مشایخ صحبت:
آپ نے سید اصغر قادری رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ شیوخ کی صحبت سے بھی فیض پایا ۔
[۱] [۱۔ خزینۃ الاصفیا جلد اول ص ۱۲۲]
نیابتِ غوثیہ:
والد بزرگوار کے بعد مسند ارشادِ غوثیہ پر بیٹھ کر بکمال ورع و تقویٰ خلقت کی رہنمائی کی۔ مدرسہ سعیدیہ غوثیہ کی تولیت بھی آپ کے متعلق تھی۔ درس تدریس سے اس کی رونق کو اپنے عہد میں دو بالا کیا ۔
صاحب بحر السرائر نے لکھا ہے کہ ابو المسعود علم الدین سید احمد کا درس بہت بڑا تھا۔ صاحب علم و حلم ذی حال الفاخر تھے۔
رُوم تشریف لے جانا:
ایک مرتبہ آپ ولایتِ رُوم کی طرف سیر کو تشریف لے گئے۔ وہاں کی آب و ہوا آپ کو بہت پسند آئی۔ آپ کا ارادہ ہوا کہ اسی کو اپنا دار الارشاد مقرر کیا جائے۔ مگر متردد تھے۔ آخر آپ کو بیداری میں حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت ہوئی۔ اُنہوں نے رُوم رہنے کی اجازت دے دی۔ سید سعد اللہ رضوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔
’’بحسب امرِ پدر جد خود کہ دریقظہ بوے شدہ بود در انجا مسکنت گرفت‘‘[۱] [۱۔ بحر السرائر۔ شرافت]
یعنی اپنے دادا کے باپ کی اجازت سے روم میں سکونت پذیر ہوئے۔ اور وہ حضرت غوث اعظم ہی تھے۔ مگر قاضی بر خوردار ملتانی نے کتاب غوثِ اعظم میں والد اور جد کی اجازت سے روم جانا لکھا ہے۔ [۱] [۱۔ غوث اعظم ص ۳۰۴۔ شرافت]
سید علی اصغر گیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے شجرۃ الانوار میں لکھا ہے۔
’’سید ابو العباس احمد (درہنگامہ) ہلا کو خاں و تارا جے و قتل عام بغداد از بغداد بروم رفت و بعد انطفائے آتش ہلاکو خاں در حلب کہ شہر شام و مملکت روم است توطن اختیار فرمود‘‘
’’سید ابو العباس احمد ہلاکو خاں کے قتل و تاراجِ بغداد کے وقت بغداد سے رُوم چلے گئے اور اس ہنگامہ کی آگ سرد ہونے پر آپ حلب میں سکونت گزین ہوگئے۔ جو ملکِ شام کا شہر اور مملکت رُوم میں ہے۔‘‘
بعد کے مورخین مفتی غلام سرور لاہوری وغیرہ نے بحوالہ شجرۃ الانوار اپنی تصانیف میں اسی روایت کو درج کیا ہے۔
لیکن صاحب شجرۃ الانوار کا یہ لکھنا کہ ہلاکو خاں کے تاراج بغداد کے زمانہ میں حضرت سید ابو العباس احمد رحمۃ اللہ علیہ بغداد شریف سے روانہ ہوئے یہ درست نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ واقعہ بقول تاریخ الخلفا علامہ حافظ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ 656ھ چھ سو چھپن ہجری میں گذرا۔ اور حضرت سید احمد اس سے چھبیس (26) سال پہلے 630ھ چھ سو تیس ہجری میں رُوم میں وفات پا چکے تھے۔ جیسا کہ بحر السرائر سے ثابت ہے۔
صاحب بحر السرائر کا یہ تحریر کرنا کہ سید ابو المسعود احمد حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے حُکم سے جو یقظہ (بیداری) میں آپ کو ہوا۔ رُوم میں سکونت گزین ہوئے یہ بالکل صحیح اور قرین عقل ہے۔
نیز شجرۃ الانوار 1192ھ سے بعد کی تصنیف ہے۔ اور بحر السرائر کا زمانہ تصنیف حضرت مخدوم سید ابو الحسن جمال الدین محمد غوث ثانی گیلانی ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کا عہد سجادگی ہے جو (1083ھ تا 1137ھ)
[۱] [۱۔ غوث اعظم ص ۳۵۹] ہے یعنی اس سے ستر (70) اسی (80) سال پہلے تصنیف ہوئی اور خحادیم گیلانیہ ملتان کا کتب
👍1
خانہ اس کے مصنف سید سعد اللہ الرضوی رحمۃ اللہ علیہ کے زیر مطالعہ تھا۔
شہرہ قطبیت
آپ صاحب وقار تھے۔ آپ کی ولایت عظمیٰ اور قطبیت کبریٰ کا اکثر دُور دراز شہروں میں ڈنکا بج رہا تھا، چونکہ آپ سلسلہ قادریہ وہابیہ کے خلیفہ اعظم اور خاندانِ گیلانی صفویہ کے سجادہ نشین اجلّ تھے اس لیے دیارِ رُوم کے بےشمار لوگ جَوق در جَوق خدمت میں حاضر ہوکر آپ کے حلقہ بیعت میں داخل ہوتے تھے۔
[۱] [۱۔ بحر السرائر خطی۔ غوثِ اعظم ص ۳۰۴۔ شرافت]
کرامات
نگاہِ شفقت
آپ کے چہرہ انور پر تجلیاتِ ذاتی کا اتنا ظہور تھا کہ جو شخص آپ کو دیکھتا وہ عاشق ہو جاتا، اور اگر آپ کسی فاسق پر نظر شفقت ڈالتے تو وہ کامل ولی بن جاتا۔ حضرت مولانا سید حافظ محمد حیات نوشاہی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔
ہر کہ دیدے روئے او عاشق شدے
پاک گشتے گرچہ بس فاسق بُدے
کلماتِ طیّبات
نصائح
آپ نے سالکانِ راہ حق کو فرمایا ہے۔ نفس اور اس کی خواہشوں اور ارادوں اور نیّتوں سے موتِ اختیاری حاصل کرو، تمام خلقت سے اور اپنے کاموں میں ان کی طرف رجوع لانے سے انقطاع اختیار کرو، لوگوں سے اور جو کچھ اُن کے قبضہ میں ہے اور اسباب کے تعلق سے بالکل قطع کرو۔ خدائے کریم اور وہاب پر توکل رکھو، اور ہمیشہ جدو جہد قوی رکھو۔ علوم دینیہ میں اشتغال رکھو۔ فقیروں کی مجالست اختیار کرو، بادشاہوں اور دولت مندوں سے مستغنی رہو، شیطانِ لعین کے مکائد سے ہمیشہ خدا تعالیٰ کی جناب میں پناہ مانگتے رہو، اور خدا کریم کی مہربانیوں کی امید رکھو، دل میں حُزن طویل رکھو مگر چہرہ کو ہشاش بشاش معلوم کراؤ۔
[۱] [۱۔ تکملہ مفتاح الفتوح قلمی بخط شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ]
اَولادِ کرام
بقول صاحب بحر السرائر حضرت سیّد احمد کی زوجہ خاندان قرشیہ ہاشمیہ اسدیہ سے تھیں۔ اُن کے بطن سے صرف ایک فرزند تولد ہوا۔ وہ بھی ضعیفی کے وقت ’’در وقتِ پیری تولد یافتہ بود‘‘ ان کا نام ابو البرکات محی الدین سید مسعود تھا۔ اِن کے سوا آپ کی کوئی اولاد نہ تھی۔
ف
بعض تحریرات اور شجرہ جات میں سید ابو العباس احمد رحمۃ اللہ علیہ کی دو (۲) بیویوں اور اولاد کے اسماء ذیل بھی پائے جاتے ہیں۔ بیویاں یہ ہیں۔
سیدہ بخت بھری بنت شاہ نظر محمد لاہوری رحمۃ اللہ علیہ۔
سیدہ قدرت خاتون بنت سید فرید پشاوری رحمۃ اللہ علیہ۔ [۱] [۱۔ باغِ سادات قلمی شرافت]
اور چھ بیٹوں کے یہ نام بھی پائے جاتے ہیں۔
سید علی بیابانی رحمۃ اللہ علیہ کتاب باغِ سادات ڈرّ نجف ظہور ایمان میں ہے کہ سید محمد صاحب کتاب بحرا لمعانی اِن کی اولاد میں سے تھے۔ ابنِ سید احمد بن بہ علی بیا بانی رحمۃ اللہ علیہ۔ مگر حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بحر المعانی کے مصنف کا نام نامی سید محمد بن جعفر المکی الحسینی لکھا ہے۔ اور لکھتے ہیں کہ انہوں نے کتاب بحر الانصاب میں اپنا نسب خود بیان کیا ہے۔ [۱] [۱۔ اخبار الاخیار ص ۱۳۶]
سید زکی الدین رحمۃ اللہ علیہ۔ کنز الانصاب میں ایک نسب نامہ اس طرح آپ سے ملایا ہے۔ سید امیر اللہ وعباد اللہ و نور اللہ وباب اللہ ویتیم اللہ فرزندان سید نعمت اللہ بن محمد باقر بن محمود بن علی بن جلال الدین بن محمد فیروز بن عثمان بن شمس الدین بن نور الدین ضیاء الدین بن سید زکی الدین بن سید احمد۔ [۱] [۱۔ باغِ سادات المعروف دُر نجف ظہور ایمان۔ گنجینہ شرافت قلمی ص ۴۹۱ بحوالہ کنز الانساب ص ۳۳۔ شرافت]
سید اسمٰعیل رحمۃ اللہ علیہ۔
سید زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ
سید سلیمان رحمۃ اللہ علیہ
سید عباس رحمۃ اللہ علیہ۔
مگر سید سعد اللہ الموسوی الرضوی رحمۃ اللہ علیہ نے بحر السرائر میں بتصریح لکھا ہے کہ ’’سوائے یک پسرا بنا و بناتِ دیگر ند اشتند‘‘ یعنی حضرت سید احمد رحمۃ اللہ علیہ سوائے ایک بیٹے (سید مسعود) کے اور کوئی بیٹے اور بیٹیاں نہیں رکھتے تھے نیز نسب نامہ سادات پیر کوٹ سدھا نہ ضلع جھنگ میں بھی یہی لکھا ہے کہ حضرت سید احمد کے صرف ایک ہی فرزند سید مسعود تھے۔ اِن کا ذکر آگے لکھا جائے گا۔ میں نے (شرافت نے) یہ جو تفصیل دی ہے۔ محض ناظرین کے علم میں اضافہ کرنے کے لیے کی ہے۔ تاکہ حق و باطل میں تمیز کر سکیں ورنہ تحقیقی طور پر دونو بیویاں اور یہ چھیوں بیٹے ثابت نہیں۔
خلفائے عُظام
آپ کے مرید و خلیفے تو کافی ہوں گے کیونکہ صاحبِ بحر السرائر نے لکھا ہے کہ ’’بسیارے جماعت از دستِ حق پرست کہ ید اللہ فوق ایدیہم مشعر بر آنست بر آمدہ و بیت نودہ ’’یعنی بڑی جماعت نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ مگر کسی کا نام دریافت نہیں ہوسکا۔
آپ کے بیٹے حضرت سید ابو البرکات محی الدین مسعود رحمۃ اللہ علیہ کے سِوا ایک بزرگ شیخ نور محمد قادری رحمۃ اللہ علیہ کا نام بعض شجروں میں دیکھا گیا ہے۔
تاریخِ وفات
حضرت سید ابو العباس حمید الدین احمد یعنی ابو المسعود علم الدین احمد گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات بقول صاحب بحر السرائر و غوث اعظم (شنبہ بست و پنجم (25) رجب) 630ھ چھ سو تیس ہجری مطابق ہفتم مئی 1233ء ایک ہز
شہرہ قطبیت
آپ صاحب وقار تھے۔ آپ کی ولایت عظمیٰ اور قطبیت کبریٰ کا اکثر دُور دراز شہروں میں ڈنکا بج رہا تھا، چونکہ آپ سلسلہ قادریہ وہابیہ کے خلیفہ اعظم اور خاندانِ گیلانی صفویہ کے سجادہ نشین اجلّ تھے اس لیے دیارِ رُوم کے بےشمار لوگ جَوق در جَوق خدمت میں حاضر ہوکر آپ کے حلقہ بیعت میں داخل ہوتے تھے۔
[۱] [۱۔ بحر السرائر خطی۔ غوثِ اعظم ص ۳۰۴۔ شرافت]
کرامات
نگاہِ شفقت
آپ کے چہرہ انور پر تجلیاتِ ذاتی کا اتنا ظہور تھا کہ جو شخص آپ کو دیکھتا وہ عاشق ہو جاتا، اور اگر آپ کسی فاسق پر نظر شفقت ڈالتے تو وہ کامل ولی بن جاتا۔ حضرت مولانا سید حافظ محمد حیات نوشاہی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔
ہر کہ دیدے روئے او عاشق شدے
پاک گشتے گرچہ بس فاسق بُدے
کلماتِ طیّبات
نصائح
آپ نے سالکانِ راہ حق کو فرمایا ہے۔ نفس اور اس کی خواہشوں اور ارادوں اور نیّتوں سے موتِ اختیاری حاصل کرو، تمام خلقت سے اور اپنے کاموں میں ان کی طرف رجوع لانے سے انقطاع اختیار کرو، لوگوں سے اور جو کچھ اُن کے قبضہ میں ہے اور اسباب کے تعلق سے بالکل قطع کرو۔ خدائے کریم اور وہاب پر توکل رکھو، اور ہمیشہ جدو جہد قوی رکھو۔ علوم دینیہ میں اشتغال رکھو۔ فقیروں کی مجالست اختیار کرو، بادشاہوں اور دولت مندوں سے مستغنی رہو، شیطانِ لعین کے مکائد سے ہمیشہ خدا تعالیٰ کی جناب میں پناہ مانگتے رہو، اور خدا کریم کی مہربانیوں کی امید رکھو، دل میں حُزن طویل رکھو مگر چہرہ کو ہشاش بشاش معلوم کراؤ۔
[۱] [۱۔ تکملہ مفتاح الفتوح قلمی بخط شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ]
اَولادِ کرام
بقول صاحب بحر السرائر حضرت سیّد احمد کی زوجہ خاندان قرشیہ ہاشمیہ اسدیہ سے تھیں۔ اُن کے بطن سے صرف ایک فرزند تولد ہوا۔ وہ بھی ضعیفی کے وقت ’’در وقتِ پیری تولد یافتہ بود‘‘ ان کا نام ابو البرکات محی الدین سید مسعود تھا۔ اِن کے سوا آپ کی کوئی اولاد نہ تھی۔
ف
بعض تحریرات اور شجرہ جات میں سید ابو العباس احمد رحمۃ اللہ علیہ کی دو (۲) بیویوں اور اولاد کے اسماء ذیل بھی پائے جاتے ہیں۔ بیویاں یہ ہیں۔
سیدہ بخت بھری بنت شاہ نظر محمد لاہوری رحمۃ اللہ علیہ۔
سیدہ قدرت خاتون بنت سید فرید پشاوری رحمۃ اللہ علیہ۔ [۱] [۱۔ باغِ سادات قلمی شرافت]
اور چھ بیٹوں کے یہ نام بھی پائے جاتے ہیں۔
سید علی بیابانی رحمۃ اللہ علیہ کتاب باغِ سادات ڈرّ نجف ظہور ایمان میں ہے کہ سید محمد صاحب کتاب بحرا لمعانی اِن کی اولاد میں سے تھے۔ ابنِ سید احمد بن بہ علی بیا بانی رحمۃ اللہ علیہ۔ مگر حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بحر المعانی کے مصنف کا نام نامی سید محمد بن جعفر المکی الحسینی لکھا ہے۔ اور لکھتے ہیں کہ انہوں نے کتاب بحر الانصاب میں اپنا نسب خود بیان کیا ہے۔ [۱] [۱۔ اخبار الاخیار ص ۱۳۶]
سید زکی الدین رحمۃ اللہ علیہ۔ کنز الانصاب میں ایک نسب نامہ اس طرح آپ سے ملایا ہے۔ سید امیر اللہ وعباد اللہ و نور اللہ وباب اللہ ویتیم اللہ فرزندان سید نعمت اللہ بن محمد باقر بن محمود بن علی بن جلال الدین بن محمد فیروز بن عثمان بن شمس الدین بن نور الدین ضیاء الدین بن سید زکی الدین بن سید احمد۔ [۱] [۱۔ باغِ سادات المعروف دُر نجف ظہور ایمان۔ گنجینہ شرافت قلمی ص ۴۹۱ بحوالہ کنز الانساب ص ۳۳۔ شرافت]
سید اسمٰعیل رحمۃ اللہ علیہ۔
سید زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ
سید سلیمان رحمۃ اللہ علیہ
سید عباس رحمۃ اللہ علیہ۔
مگر سید سعد اللہ الموسوی الرضوی رحمۃ اللہ علیہ نے بحر السرائر میں بتصریح لکھا ہے کہ ’’سوائے یک پسرا بنا و بناتِ دیگر ند اشتند‘‘ یعنی حضرت سید احمد رحمۃ اللہ علیہ سوائے ایک بیٹے (سید مسعود) کے اور کوئی بیٹے اور بیٹیاں نہیں رکھتے تھے نیز نسب نامہ سادات پیر کوٹ سدھا نہ ضلع جھنگ میں بھی یہی لکھا ہے کہ حضرت سید احمد کے صرف ایک ہی فرزند سید مسعود تھے۔ اِن کا ذکر آگے لکھا جائے گا۔ میں نے (شرافت نے) یہ جو تفصیل دی ہے۔ محض ناظرین کے علم میں اضافہ کرنے کے لیے کی ہے۔ تاکہ حق و باطل میں تمیز کر سکیں ورنہ تحقیقی طور پر دونو بیویاں اور یہ چھیوں بیٹے ثابت نہیں۔
خلفائے عُظام
آپ کے مرید و خلیفے تو کافی ہوں گے کیونکہ صاحبِ بحر السرائر نے لکھا ہے کہ ’’بسیارے جماعت از دستِ حق پرست کہ ید اللہ فوق ایدیہم مشعر بر آنست بر آمدہ و بیت نودہ ’’یعنی بڑی جماعت نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ مگر کسی کا نام دریافت نہیں ہوسکا۔
آپ کے بیٹے حضرت سید ابو البرکات محی الدین مسعود رحمۃ اللہ علیہ کے سِوا ایک بزرگ شیخ نور محمد قادری رحمۃ اللہ علیہ کا نام بعض شجروں میں دیکھا گیا ہے۔
تاریخِ وفات
حضرت سید ابو العباس حمید الدین احمد یعنی ابو المسعود علم الدین احمد گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات بقول صاحب بحر السرائر و غوث اعظم (شنبہ بست و پنجم (25) رجب) 630ھ چھ سو تیس ہجری مطابق ہفتم مئی 1233ء ایک ہز
ار دو سو تینتیس عیسوی میں بعہد خلافت المستنصر باللہ ابو جعفر منصور بن الظاہر بن الناصر خلیفہ سی د ششم عباسی کے ہوئی ۔
مدفن پاک:
آپ کا مزار اقدس شہر حلب ملکِ شام میں مرجع خلائق ہے ۔
قطعہ تاریخ:
از حضرت مولانا شاہ غلام مصطفےٰ نو شاھی دام برکاتہٗ
ز دارِ عدم سَید احمد، سعید
چو جستم ز دل سالِ نقلِ بزرگ
بفضلِ الٰہی بجنت رسید
ندا شد ولی متقی و وحید (۶۳۰)
منہ
سَیْد احمد رفت چوں از اقربا
انتقالش خواں حبیبِ با خدا (۶۳۰)
منہ
چو رحلت کرد پیرِ ما زاحباب
وصالش گشت شوقِ قطب اقطاب(۶۳۰)
منہ
رفت از عالمِ فنا محبوب
ارتحالش بداں حبیبِ خوب(۶۳۰)
دیگر از اسماء الحسنٰے
باعث مجید (۶۳۰)
حسیب مقیت (۶۳۰)
عدل شکور (۶۳۰)
قوی رشید (۶۳۰)
سلیم ممیت (۶۳۰)
فتاح منان (۶۳۰)
فتاح عالم (۶۳۰)
فتاح اعلم (۶۳۰)
شفیع نعیم (۶۳۰)
شفیع قدوس (۶۳۰)
شفیع یقین (۶۳۰)
کریم رفیع (۶۳۰)
منتقم (۶۳۰)
( شریف التواریخ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-hameeduddin-ahmad-gilani
مدفن پاک:
آپ کا مزار اقدس شہر حلب ملکِ شام میں مرجع خلائق ہے ۔
قطعہ تاریخ:
از حضرت مولانا شاہ غلام مصطفےٰ نو شاھی دام برکاتہٗ
ز دارِ عدم سَید احمد، سعید
چو جستم ز دل سالِ نقلِ بزرگ
بفضلِ الٰہی بجنت رسید
ندا شد ولی متقی و وحید (۶۳۰)
منہ
سَیْد احمد رفت چوں از اقربا
انتقالش خواں حبیبِ با خدا (۶۳۰)
منہ
چو رحلت کرد پیرِ ما زاحباب
وصالش گشت شوقِ قطب اقطاب(۶۳۰)
منہ
رفت از عالمِ فنا محبوب
ارتحالش بداں حبیبِ خوب(۶۳۰)
دیگر از اسماء الحسنٰے
باعث مجید (۶۳۰)
حسیب مقیت (۶۳۰)
عدل شکور (۶۳۰)
قوی رشید (۶۳۰)
سلیم ممیت (۶۳۰)
فتاح منان (۶۳۰)
فتاح عالم (۶۳۰)
فتاح اعلم (۶۳۰)
شفیع نعیم (۶۳۰)
شفیع قدوس (۶۳۰)
شفیع یقین (۶۳۰)
کریم رفیع (۶۳۰)
منتقم (۶۳۰)
( شریف التواریخ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-hameeduddin-ahmad-gilani
👍1
ملک العلماء قاضی شہاب الدین دولت آبادی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: قاضی شہاب الدین احمد ۔ لقب: ملک العلماء، زاولی ۔ تخلص: سلسلۂ نسب اس طرح ہے: ملک العلماء قاضی شہاب الدین احمد بن شمس الدین بن عمر دولت آبادی علیہم الرحمۃ۔مختلف تذکروں کی کتب میں آپ کانام ’’احمد بن عمر‘‘بھی آیا ہے ۔ لیکن قاضی شہاب الدین دولت آبادی کےنام سے معروف ہیں۔(حاجی خلیفہ:ج2)۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت ساتویں سن ہجری کودولت آباد ہندوستان میں ہوئی۔(مقدمہ شرح قصیدہ بردہ:10)
تحصیلِ علم:
قاضی عبدالمقتدر دہلوی (قاضی صاحب اپنےزمانے کےفاضل اجل تھے،آپ کےعلو مرتبت کادوردور تک شُہرہ تھا۔حضرت شیخ الاسلام شیخ نصیر الدین محمود دہلویکےمرید وخلیفہ تھے،خواجہ صاحب آپ کی نہایت ہی قدراور تعظیم فرماتے تھے،’’قصیدہ لامیہ‘‘معروف تصنیف ہے)اور مولانا خواجگی دہلوی کالپوی(مریدوخلیفہ حضرت شیخ الاسلام چراغ دہلوی)سےعلوم کی تحصیل کی۔آپنےاپنے ہم عصروں میں سب سےزیادہ ممتاز تھے۔اس وقت بڑےبڑے علماء کرام موجودتھے لیکن جوشہروت وقبولیت اللہ جل شانہ نےآپ کوعطاء فرمائی وہ کسی اور کے نصیب میں نہیں آئی۔(اخبار الاخیار:457)
بیعت و خلافت:
آپ کےبیعت وخلافت کی صراحت کسی کتاب میں نہیں ملی،لیکن غالب گمان یہ ہے کہ مولانا خواجگی کالپوی کے مرید تھے ۔
سیرت و خصائص:
ملک العلماء،استاذالفضلاء،مرجع الاولیاء،جامع علوم عقلیہ ونقلیہ،خادم دینِ محمدیہ،عارف اسرار ربانیہ حضرت علامہ قاضی شہاب الدین دولت آبادی۔آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کےفاضل کامل،اور عالم ِمتبحّر تھے۔زندگی میں اکنافِ عالم میں شہرت وقبولیت حاصل کرلی تھی۔آپنےدین متین کی خوب خدمت واشاعت فرمائی۔فارسی وعربی زبان میں مفید ونافع کتب تصنیف فرمائیں۔اپنی افادیت کےپیش نظر تمام کتب عرب وعجم میں قبول عام ہوئیں۔
صاحبِ حدائق الحنفیہ فرماتے ہیں:
قاضی شہاب الدین دولت آبادی ملکِ العلماء لقب تھا۔ فقیہ، مفسر، نحوی،لغوی، ادیب،بلیغ،بیان،وحید العصر،فرید الدہر،صاحبِ تصانیفِ عالیہ تھے،علوم قاضی عبد المقتدر سے حاصل کیےجو شہرت و قبولیت خدا نے آپ کو دی،کسی کو اہلِ زمانہ سے حاصل نہیں ہوئی۔آپ کے حق میں قاضی عبد المقتدرفرمایا کرتے تھے:’’ کہ یہ ہمارے پاس ایسے شاگرد آئے ہیں جن کا پوست ولحم و عظم سب علم ہے،(یعنی رگ رگ میں علم سمایا ہواہے)۔آپ کی تصنیفات سےایک شرح کا فیہ ہےجو لطافت و متانت میں بے عدیل اور ان کی حیات ہی میں مشہور عالم ہوگئی تھی،دوسرے ارشاد جو ایک متن لطیف و بے نظیر نحو میں ہے،تیسرے بدیع البیان جو علمِ بلاغت میں ایک لاثانی متن ہے۔(حدائق الحنفیہ:345/مآثرالکرام:216)
مولانا خواجگی دہلوی آپ کےاستاذمحترم اور ایک عالم وعارف تھے،شیخ الاسلام حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلوی کےمرید وخلیفہ تھے۔جس وقت امیر تیمورلنگ نےدہلی پر حملہ کا اردا کیاتوحضرت میر سید گیسودرازنےخواب میں امیر تیمور کی افواج کےہاتھوں دہلی کوتاراج ہوتےدیکھا،آپ نےتمام متعلقین ومتوسلین کواور عوام کو اپنےخواب سےآگاہ کیا۔مولانا خواجگیحضرت سید قدس سرہ کاخواب سن کرمولانا خواجگی اور مولانا قاضی شہاب الدیندہلی سےہجرت کرکےروانہ ہوگئے،مولانا خواجگی تو ’’کالپی‘‘پہنچ کرمستقل قیام پذیر ہوگئے۔لیکن قاضی شہاب الدینجون پور کی طرف روانہ ہوگئے،اس وقت جون پور میں سلطان ابراہیم شرقی کی حکومت تھی،یہ سلطان نہایت عادل وعابد تھا،شریعت اسلامیہ پر سختی سےعمل پیرا،اور علماء کرام کا نہایت قدر داں تھا۔جون پور میں سلطان نےبڑےپرتپاک طریقےسےان کاستقبال کیا،اور ان کی تشریف آوری کوغنیمت جان کرآپ کی بےحد قدر ومنزلت کی۔آپ کو’’ملک العلماء‘‘کاخطاب دےکرعزت بخشی۔مولانا کےلئے ایک عالی شان گھرتعمیرکرایا۔علاوہ ازیں ہر قسم کی سہولیات بہم پہنچائیں۔دربار میں کھڑےہوکر استقبال کرتاتھا۔آپ دربارمیں ’’چاندی کی کرسی‘‘پرتشریف فرماہوتے۔ریاست جون پور کے’’قاضی القضاۃ‘‘(چیف جسٹس) کےعہدے پرفائزرہے۔ اسی طرح امور مملکت میں بھی آپ سےمشورےلےکرعمل کرتاتھا۔
ایک مرتبہ مولانا قاضی شہاب الدینسخت بیمار ہوگئے،سلطان ان کی مزاج پرسی کےلئےپہنچا۔جب اس نےمولانا کی حالت نازک پائی توپانی کاایک پیالہ منگوایا اور اس کومولانا کےسرکےگرد پھراکریہ کہتےہوئے پی لیا کہ’’اے خدایا! جوبیماری انہیں ہے وہ مجھے لگ جائے،اور ان کوشفاء دیدے‘‘
نام و نسب:
اسمِ گرامی: قاضی شہاب الدین احمد ۔ لقب: ملک العلماء، زاولی ۔ تخلص: سلسلۂ نسب اس طرح ہے: ملک العلماء قاضی شہاب الدین احمد بن شمس الدین بن عمر دولت آبادی علیہم الرحمۃ۔مختلف تذکروں کی کتب میں آپ کانام ’’احمد بن عمر‘‘بھی آیا ہے ۔ لیکن قاضی شہاب الدین دولت آبادی کےنام سے معروف ہیں۔(حاجی خلیفہ:ج2)۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت ساتویں سن ہجری کودولت آباد ہندوستان میں ہوئی۔(مقدمہ شرح قصیدہ بردہ:10)
تحصیلِ علم:
قاضی عبدالمقتدر دہلوی (قاضی صاحب اپنےزمانے کےفاضل اجل تھے،آپ کےعلو مرتبت کادوردور تک شُہرہ تھا۔حضرت شیخ الاسلام شیخ نصیر الدین محمود دہلویکےمرید وخلیفہ تھے،خواجہ صاحب آپ کی نہایت ہی قدراور تعظیم فرماتے تھے،’’قصیدہ لامیہ‘‘معروف تصنیف ہے)اور مولانا خواجگی دہلوی کالپوی(مریدوخلیفہ حضرت شیخ الاسلام چراغ دہلوی)سےعلوم کی تحصیل کی۔آپنےاپنے ہم عصروں میں سب سےزیادہ ممتاز تھے۔اس وقت بڑےبڑے علماء کرام موجودتھے لیکن جوشہروت وقبولیت اللہ جل شانہ نےآپ کوعطاء فرمائی وہ کسی اور کے نصیب میں نہیں آئی۔(اخبار الاخیار:457)
بیعت و خلافت:
آپ کےبیعت وخلافت کی صراحت کسی کتاب میں نہیں ملی،لیکن غالب گمان یہ ہے کہ مولانا خواجگی کالپوی کے مرید تھے ۔
سیرت و خصائص:
ملک العلماء،استاذالفضلاء،مرجع الاولیاء،جامع علوم عقلیہ ونقلیہ،خادم دینِ محمدیہ،عارف اسرار ربانیہ حضرت علامہ قاضی شہاب الدین دولت آبادی۔آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کےفاضل کامل،اور عالم ِمتبحّر تھے۔زندگی میں اکنافِ عالم میں شہرت وقبولیت حاصل کرلی تھی۔آپنےدین متین کی خوب خدمت واشاعت فرمائی۔فارسی وعربی زبان میں مفید ونافع کتب تصنیف فرمائیں۔اپنی افادیت کےپیش نظر تمام کتب عرب وعجم میں قبول عام ہوئیں۔
صاحبِ حدائق الحنفیہ فرماتے ہیں:
قاضی شہاب الدین دولت آبادی ملکِ العلماء لقب تھا۔ فقیہ، مفسر، نحوی،لغوی، ادیب،بلیغ،بیان،وحید العصر،فرید الدہر،صاحبِ تصانیفِ عالیہ تھے،علوم قاضی عبد المقتدر سے حاصل کیےجو شہرت و قبولیت خدا نے آپ کو دی،کسی کو اہلِ زمانہ سے حاصل نہیں ہوئی۔آپ کے حق میں قاضی عبد المقتدرفرمایا کرتے تھے:’’ کہ یہ ہمارے پاس ایسے شاگرد آئے ہیں جن کا پوست ولحم و عظم سب علم ہے،(یعنی رگ رگ میں علم سمایا ہواہے)۔آپ کی تصنیفات سےایک شرح کا فیہ ہےجو لطافت و متانت میں بے عدیل اور ان کی حیات ہی میں مشہور عالم ہوگئی تھی،دوسرے ارشاد جو ایک متن لطیف و بے نظیر نحو میں ہے،تیسرے بدیع البیان جو علمِ بلاغت میں ایک لاثانی متن ہے۔(حدائق الحنفیہ:345/مآثرالکرام:216)
مولانا خواجگی دہلوی آپ کےاستاذمحترم اور ایک عالم وعارف تھے،شیخ الاسلام حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلوی کےمرید وخلیفہ تھے۔جس وقت امیر تیمورلنگ نےدہلی پر حملہ کا اردا کیاتوحضرت میر سید گیسودرازنےخواب میں امیر تیمور کی افواج کےہاتھوں دہلی کوتاراج ہوتےدیکھا،آپ نےتمام متعلقین ومتوسلین کواور عوام کو اپنےخواب سےآگاہ کیا۔مولانا خواجگیحضرت سید قدس سرہ کاخواب سن کرمولانا خواجگی اور مولانا قاضی شہاب الدیندہلی سےہجرت کرکےروانہ ہوگئے،مولانا خواجگی تو ’’کالپی‘‘پہنچ کرمستقل قیام پذیر ہوگئے۔لیکن قاضی شہاب الدینجون پور کی طرف روانہ ہوگئے،اس وقت جون پور میں سلطان ابراہیم شرقی کی حکومت تھی،یہ سلطان نہایت عادل وعابد تھا،شریعت اسلامیہ پر سختی سےعمل پیرا،اور علماء کرام کا نہایت قدر داں تھا۔جون پور میں سلطان نےبڑےپرتپاک طریقےسےان کاستقبال کیا،اور ان کی تشریف آوری کوغنیمت جان کرآپ کی بےحد قدر ومنزلت کی۔آپ کو’’ملک العلماء‘‘کاخطاب دےکرعزت بخشی۔مولانا کےلئے ایک عالی شان گھرتعمیرکرایا۔علاوہ ازیں ہر قسم کی سہولیات بہم پہنچائیں۔دربار میں کھڑےہوکر استقبال کرتاتھا۔آپ دربارمیں ’’چاندی کی کرسی‘‘پرتشریف فرماہوتے۔ریاست جون پور کے’’قاضی القضاۃ‘‘(چیف جسٹس) کےعہدے پرفائزرہے۔ اسی طرح امور مملکت میں بھی آپ سےمشورےلےکرعمل کرتاتھا۔
ایک مرتبہ مولانا قاضی شہاب الدینسخت بیمار ہوگئے،سلطان ان کی مزاج پرسی کےلئےپہنچا۔جب اس نےمولانا کی حالت نازک پائی توپانی کاایک پیالہ منگوایا اور اس کومولانا کےسرکےگرد پھراکریہ کہتےہوئے پی لیا کہ’’اے خدایا! جوبیماری انہیں ہے وہ مجھے لگ جائے،اور ان کوشفاء دیدے‘‘
❤1
مشہور ہے کہ مولانا اس واقعہ کےبعد صحت مند ہوگئے،لیکن سلطان ابراہیم بیمار ہوکرفوت ہوگئے۔’’تاریخِ فرشتہ‘‘ کےمصنف لکھتےہیں:کہ اس واقعہ کےدو سال بعد قاضی صاحب بھی سلطان کےغم میں گھل گھل کرچل بسے۔ایک سلطان ِ وقت کی عالم سےمحبت وعقیدت کی اس قدر اعلیٰ مثال شاید ہی کوئی اور ملے۔قاضی صاحب کوبھی ان کی علم دوستی ومذہب شناسی کابڑاپاس تھا۔چنانچہ آپ نےبھی کتب وفتاویٰ ان کےنام منسوب کیے۔’’اصول ابراہیم شاہی،فتاویٰ ابراہیم شاہی‘‘ان کےنام سےمعنون ہیں۔(تذکرہ علمائے ہند:218/مآثر الکرام:216/تذکرہ مشائخ جون پور139)۔اُس وقت سلطان ِ اسلام،بادشاہان ِ وقت علماء اسلام کی کس قدرتعظیم وتکریم کرتےتھے۔جب تک یہ سلسلہ رہامسلمانوں کی دنیا پر دھاک وہیبت رہی۔ایک مرتبہ مولانا غلام محمدترنمکسی شخص کےساتھ پیدل جارہےتھے،اتنےمیں ایک عیسائی پادری کی کارفراٹےبھرتی اور دھول اڑاتی ہوئی پاس سےگزرگئی۔اس شخص نے پوچھا مولانا کیا وجہ ہےکہ آپ پیدل جارہےہیں،اورپادری شیورلیٹ گاڑی پر؟مولانا نےبرجستہ فرمایا:’’وہ زندہ قوم کامولوی ہےاورمیں مردہ قوم کامولوی ہوں‘‘۔(نور نورچہرے:51)یہی وجہ ہےکہ جب اس قوم نےعلماء کی قدر کرنا چھوڑی توذلت ورسوائی اس قوم کامقدر بن گئی۔فی زمانہ میراثی، ڈوم، درباری، طوائف، اور خوشامدی قسم کے افراد کی درباروں میں عزت ہے،علماء کرام کونفرت کی نگاہ سےدیکھاجاتا ہے۔لیکن اللہ جل شانہ نےایسےبےدین وفساق امراء کودنیاء میں ہی ذلیل کردیا۔ کئی مثالیں ہمارے سامنےموجود ہیں۔مرنےکےبعد ان کا قصہ ختم ہوگیا،جن سلاطین نےعلماء ومشائخ سےعقیدت رکھی ان کانام صدیاں گزرنےکےباوجودبھی زندہ ہے،اور ان کاذکر خیر سےہوتاہے۔تونسویؔ غفرلہ۔۔
تصانیف:
آپ کی شہرت آپ کی عمدہ تصانیف کی بدولت ہوئی۔1۔حاشیہ کافیہ۔یہ کتاب آپ کی زندگی میں ہی مشہور ہوگئی تھی۔2۔ارشاد۔یہ فنِ نحو پر اپنی مثال آپ۔3۔بدیع المیزان۔فن بلاغت پر۔4۔بحر مواج۔قرآن کی فارسی کی عمدہ تفسیر جس میں آیاتِ قرآنیہ کاآپ میں ربط وشان نزول بیان کیےگئے ہیں۔5۔شرح بزدوی۔6۔شرح قصیدہ بانت سعاد(حضرت کعب)7۔فتاویٰ ابراہیم شاہی۔8۔مناقب السادات
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 25 رجب المرجب 849ھ مطابق 25 اکتوبر1445ء بروز ہفتہ ہوا۔آپ کامزار پرانوارجون پور میں ’’مسجد اٹالہ‘‘کےقریب میں ہے۔تاریخ جونپورمیں ہے ان کامقبرہ ’’راج کالج میں ہے‘‘۔
ماخذ و مراجع:
اخبار الاخیار ۔ حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔ نزہۃ الخواطر ۔ مآثر الکرام ۔ تذکرہ مشائخ شیراز جون پور ۔ مقدمہ شرح قصیدہ بردہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-shahabuddin-daulatabadi
تصانیف:
آپ کی شہرت آپ کی عمدہ تصانیف کی بدولت ہوئی۔1۔حاشیہ کافیہ۔یہ کتاب آپ کی زندگی میں ہی مشہور ہوگئی تھی۔2۔ارشاد۔یہ فنِ نحو پر اپنی مثال آپ۔3۔بدیع المیزان۔فن بلاغت پر۔4۔بحر مواج۔قرآن کی فارسی کی عمدہ تفسیر جس میں آیاتِ قرآنیہ کاآپ میں ربط وشان نزول بیان کیےگئے ہیں۔5۔شرح بزدوی۔6۔شرح قصیدہ بانت سعاد(حضرت کعب)7۔فتاویٰ ابراہیم شاہی۔8۔مناقب السادات
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 25 رجب المرجب 849ھ مطابق 25 اکتوبر1445ء بروز ہفتہ ہوا۔آپ کامزار پرانوارجون پور میں ’’مسجد اٹالہ‘‘کےقریب میں ہے۔تاریخ جونپورمیں ہے ان کامقبرہ ’’راج کالج میں ہے‘‘۔
ماخذ و مراجع:
اخبار الاخیار ۔ حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔ نزہۃ الخواطر ۔ مآثر الکرام ۔ تذکرہ مشائخ شیراز جون پور ۔ مقدمہ شرح قصیدہ بردہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-shahabuddin-daulatabadi
❤1