🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-07-1445 ᴴ | 04-02-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-07-1445 ᴴ | 04-02-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
صحابی ابن صحابی کاتب وحی
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ اللهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهٗ ㉔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
صحابی ابن صحابی کاتب وحی
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ اللهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهٗ ㉔
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت مولانا صوفی حمید اللہ انڑ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
بن الحاج صوفی غلام قادر انڑ گوٹھ نو آباد (تحصیل ڈوکری ضلع لاڑکانہ) میں 11 اکتوبر 1915ء کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے گھر میں ہوئی۔ والد ماجد دین دار، صوفی منش، خدا رسیدہ درویش اور مہمان نواز شخصیت کے مالک تھے ۔ صوفی غلام قادر دین کی خدمت کا جذبہ رکھتے تھے اسی جذبہ کے تحت گوٹھ میں دینی مدرسہ قائم کر رکھا تھا، جہاں حضرت مولانا غلام محمد شاہانی (جو کہ علم معقول و منقول کے ماہر استاد تھے) تدریس کے فرائض انجام دیتے تھے ۔
صوفی حمید اللہ نے پہلے مولانا غلام محمد سے تعلیم حاصل کی ۔ اجمیر شریف (انڈیا) سے حضرت مولانا علامہ عبد اللہ (جو کہ علم منطق کالم اور فلسفہ کے ماہر استاد تھے) کو مدعو فرما کر مدرسہ مدرس مقرر کیا، ان کی خدمت میں بھی رہ کر اکتساب فیض کیا ۔ اس کے بعد بیڑو چانڈیو (گوٹھ) کی درسگاہ میں ایک سال رہ کر مولاناغلام رسول عباسی سے بقیہ کتب پڑھ کر نصاب مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے اور دستار فضیلت سے مشرف ہوئے ۔
درس و تدریس:
بعد فراغت آبائی گوٹھ میں والد محترم کی قائم کردہ درسگاہ سے تدریس کا آغاز کیا لیکن سیلاب کی وجہ سے آبائی گوٹھ کو خیربادکہہ کر گوٹھ پٹھان (تحصیل ڈوکری) میں مستقل سکونت اختیار کی، وہاں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ 1970ء میں گوٹھ پٹھان سے لاڑکانہ شہر شفٹ ہو کر آئے اور محلہ قافلہ اسراء نزد بہشتی مسجد میں رہائش اختیار کی اوراپنے استاد محترم حضرت مولانا غلام رسول عباسی کے مدرسہ سے متصل اللہ والی مسجد با قرانی روڈ لاڑکانہ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ۔
تلامذہ:
آپ کے نامور تلامذہ درج ذیل ہیں:
۱ـ علامہ مولانا ہدایت اللہ آریجوی مہتمم مدرسہ جامعہ حسنیہ رضویہ آریجہ
۲ـ علاہ مولانا خیر محمد رضوی متہمم مدرسہ عربیہ حنفیہ غوثیہ کلیکٹری مسجد لاڑکانہ
۳ـ مولانا مفتی غلام محمد قاسمی مہتمم دار العلوم غوثیہ رضویہ قاسمیہ کوئٹہ
۴ـ مولانا مفتی محمد وارث قاسمی مہتمم دار العلوم قاسمیہ کوئٹہ
۵ـ مولانا ابو الفیض محمد حسن قلندرانی قاسمی خطیب حیدرآباد
۶ـ مولانا محمد عالم بروہی خضدار
۷ـ مولانا قاری خیر محمد قاسمی خطیب جامع مسجد شیخ زید کالونی لاڑکانہ
۸ـ مولانا مولاداد سہڑو
بیعت و عقیدت:
یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آپ کن سے بیعت تھے البتہ فقیہ اعظم حضور فیض گنجور ، بحر العلوم والفیوض ، تاج العارفین، امام المیراث ، حضرت علامہ مفتی محمد قاسم المثوری قدس سرہٗ سے نہایت عقیدت رکھتے تھے اور حضرت کی زیارت و صحبت کیلئے درگاہ مشوری شریف اکثر حاضری دیاکرتے تھے ۔
عادات و خصائل:
مولانا حمید اللہ عالم باعمل، گم نام صوفی، کم گو، گوشہ نشین، طلباء پر مہربان، اپنے گوٹھ میں طلباء کے بسترے کھانے پینے کی ذمہ داری خوب نبھاتے تھے، تمام اخراجات اپنی زمہ داری سے پورے کرتے تھے۔ مدرسہ کے اخراجات کیلئے چندہ کی تکلیف گوارہ نہیں فرماتے تھے۔ زندگی بھر تصفیہ نفس کا درس دیتے رہے۔ ایسے با اخلاق و مروت عالم آج کہاں ہیں؟ علمی استعداد کا یہ عالم تھا کہ مشکل لا ینحل مسائل کو چٹکیوں میں حل فرمادیا کرتے تھے اور دوران درس منطق فلسفہ و کلام کے مشکل مقامات پر ایسی دلکش و پر اثر تقریر فرماتے کہ مسئلہ آسانی سے دماغ میں بیٹھ جاتا ۔ عبادت کا یہ عالم تھا کہ ساری رات تسبیح و تحلیل ، ذکر شریف ، درود شریف اور نوافل کی ادائیگی میں بسر ہوا کرتی تھی ۔
سفر حرمین شریفین:
1973ء میں حج بیت اللہ اور روضہ رسول ﷺ کی حاضری و زیارت کی سعادت حاصل ہوئی۔
منصب و ملازمت:
ایک بار صدر پاکستان جنرل ایوب خان کے دور حکومت میں آپ یونین کونسل پٹھان کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ دوران منصب حق سچ، عدل و انصاف، خدمت خلق، خدا ترسی اور ہمدردی کا بول بالا کر دیا۔ کسانوں کے مسائل حل کرانے میں خاص دلچسپی سے کام لیا۔ فلاح و ترقی کے خوب کام سر انجام دیئے۔ بیوہ خواتین، یتیم، جسمانی معذور اور غریبوں کی مالی امداد کی۔ راشن اور سلائی مشینیں تقسیم کیں، انہوں نے ہمیشہ غریبوں کے دکھوں کو اپنا دکھ سمجھا ۔
شادی و اولاد:
آپ نے ایک شادی کی جس کے بطن سے تین بیٹیاں اور تین بیٹے تولد ہوئے ۔
عطاء اللہ
ثناء اللہ
حافظ محمد رف نالے مٹھوانڑ
وصال:
علامہ حمید اللہ انڑ نے 24 رجب المرجب 1411ھ / بمطابق 21فروری 1990ء کو انتقال کیا ۔ نما جنازہ شیخ طریقت تاج السالکین حضرت میاں علی محمد مشوری القادری علیہ الرحمۃ (سجادہ نشین درگاہ مشوری شریف) کی اقتداء میں ادا ہوئی۔ شہر لاڑکانہ میں درگارہ شریف حضرت قائم شاہ بخاری علیہ الرحمۃ کے زیر سایہ قبرستان میں آخری آرامگاہ واقع ہے ۔
حافظ نالے مٹھوانڑ ۔ حافظ عبدالستار ابڑو کے ارسال کردہ مواد سے سوانح ترتیب دی گئی ۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-sufi-hameedullah
بن الحاج صوفی غلام قادر انڑ گوٹھ نو آباد (تحصیل ڈوکری ضلع لاڑکانہ) میں 11 اکتوبر 1915ء کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے گھر میں ہوئی۔ والد ماجد دین دار، صوفی منش، خدا رسیدہ درویش اور مہمان نواز شخصیت کے مالک تھے ۔ صوفی غلام قادر دین کی خدمت کا جذبہ رکھتے تھے اسی جذبہ کے تحت گوٹھ میں دینی مدرسہ قائم کر رکھا تھا، جہاں حضرت مولانا غلام محمد شاہانی (جو کہ علم معقول و منقول کے ماہر استاد تھے) تدریس کے فرائض انجام دیتے تھے ۔
صوفی حمید اللہ نے پہلے مولانا غلام محمد سے تعلیم حاصل کی ۔ اجمیر شریف (انڈیا) سے حضرت مولانا علامہ عبد اللہ (جو کہ علم منطق کالم اور فلسفہ کے ماہر استاد تھے) کو مدعو فرما کر مدرسہ مدرس مقرر کیا، ان کی خدمت میں بھی رہ کر اکتساب فیض کیا ۔ اس کے بعد بیڑو چانڈیو (گوٹھ) کی درسگاہ میں ایک سال رہ کر مولاناغلام رسول عباسی سے بقیہ کتب پڑھ کر نصاب مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے اور دستار فضیلت سے مشرف ہوئے ۔
درس و تدریس:
بعد فراغت آبائی گوٹھ میں والد محترم کی قائم کردہ درسگاہ سے تدریس کا آغاز کیا لیکن سیلاب کی وجہ سے آبائی گوٹھ کو خیربادکہہ کر گوٹھ پٹھان (تحصیل ڈوکری) میں مستقل سکونت اختیار کی، وہاں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ 1970ء میں گوٹھ پٹھان سے لاڑکانہ شہر شفٹ ہو کر آئے اور محلہ قافلہ اسراء نزد بہشتی مسجد میں رہائش اختیار کی اوراپنے استاد محترم حضرت مولانا غلام رسول عباسی کے مدرسہ سے متصل اللہ والی مسجد با قرانی روڈ لاڑکانہ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ۔
تلامذہ:
آپ کے نامور تلامذہ درج ذیل ہیں:
۱ـ علامہ مولانا ہدایت اللہ آریجوی مہتمم مدرسہ جامعہ حسنیہ رضویہ آریجہ
۲ـ علاہ مولانا خیر محمد رضوی متہمم مدرسہ عربیہ حنفیہ غوثیہ کلیکٹری مسجد لاڑکانہ
۳ـ مولانا مفتی غلام محمد قاسمی مہتمم دار العلوم غوثیہ رضویہ قاسمیہ کوئٹہ
۴ـ مولانا مفتی محمد وارث قاسمی مہتمم دار العلوم قاسمیہ کوئٹہ
۵ـ مولانا ابو الفیض محمد حسن قلندرانی قاسمی خطیب حیدرآباد
۶ـ مولانا محمد عالم بروہی خضدار
۷ـ مولانا قاری خیر محمد قاسمی خطیب جامع مسجد شیخ زید کالونی لاڑکانہ
۸ـ مولانا مولاداد سہڑو
بیعت و عقیدت:
یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آپ کن سے بیعت تھے البتہ فقیہ اعظم حضور فیض گنجور ، بحر العلوم والفیوض ، تاج العارفین، امام المیراث ، حضرت علامہ مفتی محمد قاسم المثوری قدس سرہٗ سے نہایت عقیدت رکھتے تھے اور حضرت کی زیارت و صحبت کیلئے درگاہ مشوری شریف اکثر حاضری دیاکرتے تھے ۔
عادات و خصائل:
مولانا حمید اللہ عالم باعمل، گم نام صوفی، کم گو، گوشہ نشین، طلباء پر مہربان، اپنے گوٹھ میں طلباء کے بسترے کھانے پینے کی ذمہ داری خوب نبھاتے تھے، تمام اخراجات اپنی زمہ داری سے پورے کرتے تھے۔ مدرسہ کے اخراجات کیلئے چندہ کی تکلیف گوارہ نہیں فرماتے تھے۔ زندگی بھر تصفیہ نفس کا درس دیتے رہے۔ ایسے با اخلاق و مروت عالم آج کہاں ہیں؟ علمی استعداد کا یہ عالم تھا کہ مشکل لا ینحل مسائل کو چٹکیوں میں حل فرمادیا کرتے تھے اور دوران درس منطق فلسفہ و کلام کے مشکل مقامات پر ایسی دلکش و پر اثر تقریر فرماتے کہ مسئلہ آسانی سے دماغ میں بیٹھ جاتا ۔ عبادت کا یہ عالم تھا کہ ساری رات تسبیح و تحلیل ، ذکر شریف ، درود شریف اور نوافل کی ادائیگی میں بسر ہوا کرتی تھی ۔
سفر حرمین شریفین:
1973ء میں حج بیت اللہ اور روضہ رسول ﷺ کی حاضری و زیارت کی سعادت حاصل ہوئی۔
منصب و ملازمت:
ایک بار صدر پاکستان جنرل ایوب خان کے دور حکومت میں آپ یونین کونسل پٹھان کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ دوران منصب حق سچ، عدل و انصاف، خدمت خلق، خدا ترسی اور ہمدردی کا بول بالا کر دیا۔ کسانوں کے مسائل حل کرانے میں خاص دلچسپی سے کام لیا۔ فلاح و ترقی کے خوب کام سر انجام دیئے۔ بیوہ خواتین، یتیم، جسمانی معذور اور غریبوں کی مالی امداد کی۔ راشن اور سلائی مشینیں تقسیم کیں، انہوں نے ہمیشہ غریبوں کے دکھوں کو اپنا دکھ سمجھا ۔
شادی و اولاد:
آپ نے ایک شادی کی جس کے بطن سے تین بیٹیاں اور تین بیٹے تولد ہوئے ۔
عطاء اللہ
ثناء اللہ
حافظ محمد رف نالے مٹھوانڑ
وصال:
علامہ حمید اللہ انڑ نے 24 رجب المرجب 1411ھ / بمطابق 21فروری 1990ء کو انتقال کیا ۔ نما جنازہ شیخ طریقت تاج السالکین حضرت میاں علی محمد مشوری القادری علیہ الرحمۃ (سجادہ نشین درگاہ مشوری شریف) کی اقتداء میں ادا ہوئی۔ شہر لاڑکانہ میں درگارہ شریف حضرت قائم شاہ بخاری علیہ الرحمۃ کے زیر سایہ قبرستان میں آخری آرامگاہ واقع ہے ۔
حافظ نالے مٹھوانڑ ۔ حافظ عبدالستار ابڑو کے ارسال کردہ مواد سے سوانح ترتیب دی گئی ۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-sufi-hameedullah
❤1
شیخ المشائخ شیخ رحمکار المعروف کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
آپ کی اسم گرامی رحمکار ۔ آپ کا لقب: کاکا صاحب ۔ (کاکا پشتو زبان میں بزرگ کو کہتے ہیں) والد کا اسم گرامی: شیخ بہادر المعروف ابک بابا ، دادا کا نام مست بابا (انکا مزار شیخ رحمکارکے مزار سے سات میل دور ہے ۔آپ کی زیارت مرجع خلائق ہے) اور پر دادا کا نام غالب بابا (انکا مزار چراٹ کے پہاڑ کے نیچے واقع ہے بڑا دشوار گذار علاقہ ہے مگر لوگ زیارت کرتے ہیں) تھا۔ آپ تمام صوبہ سرحد اور اکناف و اطراف میں کاکا صاحب کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا لقب ’’ شیخ المشائخ‘‘ تھا۔
ولادت:
آپکی ولادت 983ھ میں ہوئی۔
سیرت و خصائص:
آپ صائم الدھر ، شب بیدار ، انتہائی راست گفتار ، متواضع ، منکر المزاج ، سخی ، صاحب قلب سلیم ، مخلوق خدا پر شفقت کرنے والے، ہر وارد و صادر پر رحمد لی کرنے والے تھے ہرایک مرید پر توجہ باطنی فرما کر اس کو محبت الٰہی سے سرشار فرمادیتے ۔ وہ مریدین جو آپ سے دور دور ممالک میں سکونت پذیر تھے ان پر بھی آپ کی توجہات باطنی مرکوز رہتی ۔ آپ تارک ماسوا اللہ ، قرآن مجید کے بحر ذخار ، حقیقت و معرفت کے رموز و اسرار کے واقف تھے۔ صاحب مقامات قطبیہ و مقالات قدسیہ آپ کی تعریف میں لکھتے ہیں۔ " کا کا صاحب علم ایقین ، حق ایقین او رعین ایقین کا کامل و مکمل علم رکھتے تھے اور ان سے اور ان کے مقامات بہت عظیم اور وافر واقفیت کے مالک تھے ۔ صاحب علم لدنی تھے۔ آپ کی نظر کیمیا اثر تھی، آپ مستجاب الدعوات تھے ۔ انتہائی یک سو، گوشہ نشین اور کم گو تھے۔"
بیعت و خلافت:
آپ کے فرزند جناب میاں عبدالحلیم فرماتے ہیں: آپ اپنے والد شیخ بہادر سے سلسلہ سہروردی کی نسبت رکھتے تھے۔ آپ نے اپنی عبادت کا مقام اپنے والد گرامی کی قبر مبارک پر مقرر کیا اور جتنا بھی آپ کو فیض حاصل ہوا اور فتوحات و برکات ملے یہ سب اپنے والد عالی مرتبت کی قبر مبارک سے حاصل ہوئے ۔ آپ نے اتنی کثرت کے ساتھ کرامات کا صدور ہوا کہ ان کے جمع کے لئے پورا ایک دفتر چاہیے ۔ اس وقت آپ کی قبر مبارک سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ آآ کر فیض حاصل کرتے ہیں۔ میاں عبدالحلیم صاحب لکھتے ہیں۔ آپ کی وفات سے بعد بہت لوگوں نے آپ سے فیض حاصل کیا ہے اور کر رہے ہیں ، بعض کو تو خواب میں بھی آپ نے فیضیاب کیا ہے اور آپ کے مزار شریف پر بہتوں کو فیض حاصل ہوا ہے ۔
اولاد:
آپ کے پانچ فرزند تھے۔ آزاد گل ، محمد گل، خلیل گل ، عبدالحلیم ، نجم الدین ۔ آپ کی اولاد میں علما ء ، فضلاء اور صاحبان دولت وحکومت ہیں، عوام میں اور خصوصاً علاقہ خٹک میں آپ کی اولاد کو بڑی قدر و منزلت کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔
خلفاء:
آپ کے بہت خلفاء ہیں ان میں یہ خلفاء بہت مشہور ہیں جو صاحبان علم وفقر اور صاحب کرامات تھے۔ غازی خان ، عزیز شیخ ، عبدالرحیم مشہور ، شیخ رحیم خٹک ، علی گل و ملی گل (یہ دونوں آپ کے خاص خادم بھی تھے ، ان دونوں کی قبریں بھی آپ کے روضہ میں ہیں) ۔ فقیر صاحب شگی ، شیخ میرزا گل یہ ولی کامل تھے۔ شیخ بابر، دریاخاں چمکنی ، شیخ فتح گل، شیخ اوین ، شیخ کمال، شیخ حیات ، پیرمیاں حاجی ، حسن بیگ ، آخوند ہلال آخوند اسماعیل ۔ یہ قلندر تھے ۔
وصال:
وفات سے ایک سال پہلے سے علیل رہتے تھے ۔ مگر باوجود علیل رہنے کے آپ نے نماز قضا نہیں کی ۔ اکثر اوقات قیام کی طاقت نہ رکھتے تو دو آدمی آپ کے بازوپکڑ کر آپ کو کھڑا کر دیتے ۔ پھر آپ نماز کی تکمیل کر دیتے ۔ اپنے معمولات کو آخری وقت تک پورا کیا۔ 24رجب 1063ھ جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لئے جب امام منبر پر خطبہ پڑھنے کے لئے نکلا ۔ آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔آپ کی عمر اسی برس تھی۔آپکا مزار نوشہرہ میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علماء ومشائخِ سرحد۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-rehamkar-kaka
نام و نسب:
آپ کی اسم گرامی رحمکار ۔ آپ کا لقب: کاکا صاحب ۔ (کاکا پشتو زبان میں بزرگ کو کہتے ہیں) والد کا اسم گرامی: شیخ بہادر المعروف ابک بابا ، دادا کا نام مست بابا (انکا مزار شیخ رحمکارکے مزار سے سات میل دور ہے ۔آپ کی زیارت مرجع خلائق ہے) اور پر دادا کا نام غالب بابا (انکا مزار چراٹ کے پہاڑ کے نیچے واقع ہے بڑا دشوار گذار علاقہ ہے مگر لوگ زیارت کرتے ہیں) تھا۔ آپ تمام صوبہ سرحد اور اکناف و اطراف میں کاکا صاحب کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا لقب ’’ شیخ المشائخ‘‘ تھا۔
ولادت:
آپکی ولادت 983ھ میں ہوئی۔
سیرت و خصائص:
آپ صائم الدھر ، شب بیدار ، انتہائی راست گفتار ، متواضع ، منکر المزاج ، سخی ، صاحب قلب سلیم ، مخلوق خدا پر شفقت کرنے والے، ہر وارد و صادر پر رحمد لی کرنے والے تھے ہرایک مرید پر توجہ باطنی فرما کر اس کو محبت الٰہی سے سرشار فرمادیتے ۔ وہ مریدین جو آپ سے دور دور ممالک میں سکونت پذیر تھے ان پر بھی آپ کی توجہات باطنی مرکوز رہتی ۔ آپ تارک ماسوا اللہ ، قرآن مجید کے بحر ذخار ، حقیقت و معرفت کے رموز و اسرار کے واقف تھے۔ صاحب مقامات قطبیہ و مقالات قدسیہ آپ کی تعریف میں لکھتے ہیں۔ " کا کا صاحب علم ایقین ، حق ایقین او رعین ایقین کا کامل و مکمل علم رکھتے تھے اور ان سے اور ان کے مقامات بہت عظیم اور وافر واقفیت کے مالک تھے ۔ صاحب علم لدنی تھے۔ آپ کی نظر کیمیا اثر تھی، آپ مستجاب الدعوات تھے ۔ انتہائی یک سو، گوشہ نشین اور کم گو تھے۔"
بیعت و خلافت:
آپ کے فرزند جناب میاں عبدالحلیم فرماتے ہیں: آپ اپنے والد شیخ بہادر سے سلسلہ سہروردی کی نسبت رکھتے تھے۔ آپ نے اپنی عبادت کا مقام اپنے والد گرامی کی قبر مبارک پر مقرر کیا اور جتنا بھی آپ کو فیض حاصل ہوا اور فتوحات و برکات ملے یہ سب اپنے والد عالی مرتبت کی قبر مبارک سے حاصل ہوئے ۔ آپ نے اتنی کثرت کے ساتھ کرامات کا صدور ہوا کہ ان کے جمع کے لئے پورا ایک دفتر چاہیے ۔ اس وقت آپ کی قبر مبارک سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ آآ کر فیض حاصل کرتے ہیں۔ میاں عبدالحلیم صاحب لکھتے ہیں۔ آپ کی وفات سے بعد بہت لوگوں نے آپ سے فیض حاصل کیا ہے اور کر رہے ہیں ، بعض کو تو خواب میں بھی آپ نے فیضیاب کیا ہے اور آپ کے مزار شریف پر بہتوں کو فیض حاصل ہوا ہے ۔
اولاد:
آپ کے پانچ فرزند تھے۔ آزاد گل ، محمد گل، خلیل گل ، عبدالحلیم ، نجم الدین ۔ آپ کی اولاد میں علما ء ، فضلاء اور صاحبان دولت وحکومت ہیں، عوام میں اور خصوصاً علاقہ خٹک میں آپ کی اولاد کو بڑی قدر و منزلت کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔
خلفاء:
آپ کے بہت خلفاء ہیں ان میں یہ خلفاء بہت مشہور ہیں جو صاحبان علم وفقر اور صاحب کرامات تھے۔ غازی خان ، عزیز شیخ ، عبدالرحیم مشہور ، شیخ رحیم خٹک ، علی گل و ملی گل (یہ دونوں آپ کے خاص خادم بھی تھے ، ان دونوں کی قبریں بھی آپ کے روضہ میں ہیں) ۔ فقیر صاحب شگی ، شیخ میرزا گل یہ ولی کامل تھے۔ شیخ بابر، دریاخاں چمکنی ، شیخ فتح گل، شیخ اوین ، شیخ کمال، شیخ حیات ، پیرمیاں حاجی ، حسن بیگ ، آخوند ہلال آخوند اسماعیل ۔ یہ قلندر تھے ۔
وصال:
وفات سے ایک سال پہلے سے علیل رہتے تھے ۔ مگر باوجود علیل رہنے کے آپ نے نماز قضا نہیں کی ۔ اکثر اوقات قیام کی طاقت نہ رکھتے تو دو آدمی آپ کے بازوپکڑ کر آپ کو کھڑا کر دیتے ۔ پھر آپ نماز کی تکمیل کر دیتے ۔ اپنے معمولات کو آخری وقت تک پورا کیا۔ 24رجب 1063ھ جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لئے جب امام منبر پر خطبہ پڑھنے کے لئے نکلا ۔ آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔آپ کی عمر اسی برس تھی۔آپکا مزار نوشہرہ میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علماء ومشائخِ سرحد۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-rehamkar-kaka
scholars.pk
Hazrat Sheikh Rehamkar Kaka
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
فاتح عیسائیت مولانا ابو النصر منظور احمد شاہ ہاشمی، ساہیوال
پیکرِ عشقِ رسالت حضرت مولانا ابو النصر منظور احمد شاہ صاحب ہاشمی بن حضرت مولانا چراغ علی شاہ ۲۴؍ رجب المرجب ۱۳۳۹ھ / ۱۵؍ دسمبر ۱۹۳۰ء میں موضع چوہان ضلع فیروز وپور (انڈیا) کے مقام پر پیدا ہوئے۔ آپ نسباً ہاشمی ہیں اور آپ کا سلسلۂ نسب چالیس واسطوں سے سیّد امام مسلم رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔ آپ کے والد ماجد مولانا چراغ علی شاہ مستند عالم ہونے کے علاوہ طبیب بھی ہیں۔ علم الانسان میں کافی دسترس حاصل ہے۔ ’’بدر قریش‘‘ آپ کی مشہور تالیف ہے۔ جلال آبادی کی مرکزی جامع مسجد میں خطیب رہ چکے ہیں۔
آپ نے فارسی اور صرف کی کتب (مکمّل) اپنے والد ماجد سے ہندوستان میں ہی پڑھیں اور پھر جلال آباد غربی فیروز آباد کے مدرسہ امداد العلوم میں پڑھتے رہے۔ تقسیم ہند کے وقت جب پاکستان کی طرف ہجرت کر کے ضلع ساہیوال کے موضع ڈھپئی میں سکونت اختیار کی، تو موضع ٹوانہ میں مولانا ابو لسیر مولانا محمد اسماعیل فاضل بصیر پوری علیہ الرحمہ سے کنز الد قائق، قدوری اور کافیہ وغیرہ کتب پڑھیں۔ مشکوٰۃ شریف اور جلالین شریف کا درس پاکپتن شریف کے مولانا الحاج محمد شریف تقشبندی سے لیا اور پھر اہل سنّت کی مرکزی درسگاہ دار العلوم حنفیہ فریدیہ بصیر پور میں داخل ہوئے۔ یہاں آپ دو تین سال تک فقیہہ اعظم ابو الخیر مولانامفتی محمد نور اللہ نعیمی سے شرف تلمذ حاصل کرتے رہے اور بالآخر اسی دار العلوم سے ۱۹۵۲ء میں سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔
آپ نے درسِ نظامی کے نصاب کی تکمیل کے علاوہ میڑک، فاضل عربی اور فاضل فارسی کے امتحانات بھی پاس کیے۔ جامعہ اسلامیہ بہاول پور سے درجہ تخصص (ایم اے) کی ڈگری حاصل کی۔ علاوہ ازیں آپ علماء اکیڈمی کوئٹہ و پشاور کے بھی فاضل ہیں۔
۱۹۵۲ء میں آپ نے درسِ نظامی کی تحصیل کے بعد ساہیوال کے محلّہ حیدری سے تبلیغِ دین کا آغاز کیا۔ صحیح عقائد کی ترویج اور اصلاحِ معاشرہ کے فرائض، بے شمار رکاوٹوں کے باوجود احسن طریقے سے سر انجام دیتے رہے۔ کچھ عرصہ مسجد قصاباں بیرونِ غلّہ منڈی میں خطابت فرمائی اور پھر سنہری مسجد گول چکر میں تشریف لائے جہاں اب تک تبلیغ کا سلسلہ جاری ہے۔ یہاں آپ نے ایک دینی ادارہ کی بنیاد ڈالی جو پہلے دار العلوم عربیہ اور پھر جامعہ حنفیہ کے نام سے موسوم ہوا۔ بارہ سال اسی دارالعلوم میں مہتمم اور مدّرس کے طور پر کام کرنے کے بعد آپ نے ۱۹۶۳ء میں ایک نیا دارالعلوم جامعہ فریدیہ کے نام سے قائم کیا، جو آپ کی نگرانی میں اپنی عمر کی تیرہ منزلیں طے کر چکا ہے۔
تحریکِ پاکستان کے وقت آپ کا دور طالب علمی تھا۔ آپ نے طلبہ کے وفود کی نمائندگی کرتے ہوئے مختلف قصبات و دیہات میں عوام کو تحریک کے مقاصد اور اہمیّت سے روشناس کرایا۔
پاکستان بننے کے بعد مرزائیت کے ناسور کو ختم کرنے کی خاطر مسلمانانِ پاکستان نے دومرتبہ ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء) تحریک چلائی جو بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور پاکستان کی قومی اسمبلی نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیّت قرار دیا۔ ان دونوں تحریکوں میں آپ نے بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔
۱۹۵۳ء کی تحریک میں آپ نے ساہیوال میں دورے کیے اور مرزائیوں کے عقائد سے عوام کو روشناس کرایا۔ ’’مرزائیوں سے بائیکاٹ کی شرعی حیثیت‘‘ نامی رسالہ دس ہزار کی تعداد میں چھپوا کر تقسیم کیا۔ مختلف باطل فرقوں کے مبلّغین بالخصوص مشہور عیسائی پادریوں سے آپ کے بہت سے مناظرے ہوئے اور انہی مناظروں میں اسلام کی حقّانیت کا اقرار کرتے ہوئے ایک ہزار عیسائی مسلمان ہوئے (وللہ الحمد)
حضرت مولانا سیّد منظور احمد نے میدانِ تحریر میں کافی کام کیا ہے۔ آپ کی تالیفات مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ حضور الحرمین، ۲۔ آئینہ حق، ۳۔ مقالۂ علمیّہ، ۴۔ لاتثلیت فی التوحید، ۵۔ مسیح کون ہے، ۶۔ بہائی اصول، ۷۔ اسلام اور ماہِ صیام، ۸۔ اسلام اور انفاق فی سبیل اللہ، ۹۔ اسلام اور حفظانِ صحّت، ۱۰۔ اسلام اور سوشلزم، ۱۱۔ اسلام اور عید قربان، ۱۲۔ فلسفۂ زکوٰۃ، ۱۳۔ فلسفۂ جہاد، ۱۴۔ علِم القرآن، ۱۵۔ جنگِ مصر، ۱۶۔ مرزائیوں سے بائیکاٹ کی شرعی حیثیت، ۱۷۔ فیوضاتِ فریدی(زیرِ طبع)[۱]
[۱۔ فیوضات فریدی حضرت شاہ صاحب کے مختلف دینی و تحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے جنکو منظور حسین قاسم رضوی ایم اے مرتب کررہے ہیں۔]
الفریدی کے نام سے آپ کی سرپرستی میں ایک ماہوار تبلیغی رسالہ بھی شائع ہونے لگا۔ آپ نے ۱۹۵۴ء میں شیخ الاولیاء حضرت میاں علی محمد رحمۃ اللہ علیہ آف بسّی شریف سے بیعت اختیار کی۔
تائیدِ خداوندی سے آپ ۱۹۷۶ء تک گیارہ مرتبہ حجِ بیت اللہ شریف ارو زیارت روضۂ انور سے مشرّف ہوچکے ہیں۔ (ایں سعادت بزدر بازونیست)
آپ کو پاکیزہ صاف ستھری شاعری سے بھی شغف ہے، چنانچہ آپ نے عشق رسالت میں ڈوبی ہوئی چند نعمتیں تحریر کیں۔
پیکرِ عشقِ رسالت حضرت مولانا ابو النصر منظور احمد شاہ صاحب ہاشمی بن حضرت مولانا چراغ علی شاہ ۲۴؍ رجب المرجب ۱۳۳۹ھ / ۱۵؍ دسمبر ۱۹۳۰ء میں موضع چوہان ضلع فیروز وپور (انڈیا) کے مقام پر پیدا ہوئے۔ آپ نسباً ہاشمی ہیں اور آپ کا سلسلۂ نسب چالیس واسطوں سے سیّد امام مسلم رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔ آپ کے والد ماجد مولانا چراغ علی شاہ مستند عالم ہونے کے علاوہ طبیب بھی ہیں۔ علم الانسان میں کافی دسترس حاصل ہے۔ ’’بدر قریش‘‘ آپ کی مشہور تالیف ہے۔ جلال آبادی کی مرکزی جامع مسجد میں خطیب رہ چکے ہیں۔
آپ نے فارسی اور صرف کی کتب (مکمّل) اپنے والد ماجد سے ہندوستان میں ہی پڑھیں اور پھر جلال آباد غربی فیروز آباد کے مدرسہ امداد العلوم میں پڑھتے رہے۔ تقسیم ہند کے وقت جب پاکستان کی طرف ہجرت کر کے ضلع ساہیوال کے موضع ڈھپئی میں سکونت اختیار کی، تو موضع ٹوانہ میں مولانا ابو لسیر مولانا محمد اسماعیل فاضل بصیر پوری علیہ الرحمہ سے کنز الد قائق، قدوری اور کافیہ وغیرہ کتب پڑھیں۔ مشکوٰۃ شریف اور جلالین شریف کا درس پاکپتن شریف کے مولانا الحاج محمد شریف تقشبندی سے لیا اور پھر اہل سنّت کی مرکزی درسگاہ دار العلوم حنفیہ فریدیہ بصیر پور میں داخل ہوئے۔ یہاں آپ دو تین سال تک فقیہہ اعظم ابو الخیر مولانامفتی محمد نور اللہ نعیمی سے شرف تلمذ حاصل کرتے رہے اور بالآخر اسی دار العلوم سے ۱۹۵۲ء میں سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔
آپ نے درسِ نظامی کے نصاب کی تکمیل کے علاوہ میڑک، فاضل عربی اور فاضل فارسی کے امتحانات بھی پاس کیے۔ جامعہ اسلامیہ بہاول پور سے درجہ تخصص (ایم اے) کی ڈگری حاصل کی۔ علاوہ ازیں آپ علماء اکیڈمی کوئٹہ و پشاور کے بھی فاضل ہیں۔
۱۹۵۲ء میں آپ نے درسِ نظامی کی تحصیل کے بعد ساہیوال کے محلّہ حیدری سے تبلیغِ دین کا آغاز کیا۔ صحیح عقائد کی ترویج اور اصلاحِ معاشرہ کے فرائض، بے شمار رکاوٹوں کے باوجود احسن طریقے سے سر انجام دیتے رہے۔ کچھ عرصہ مسجد قصاباں بیرونِ غلّہ منڈی میں خطابت فرمائی اور پھر سنہری مسجد گول چکر میں تشریف لائے جہاں اب تک تبلیغ کا سلسلہ جاری ہے۔ یہاں آپ نے ایک دینی ادارہ کی بنیاد ڈالی جو پہلے دار العلوم عربیہ اور پھر جامعہ حنفیہ کے نام سے موسوم ہوا۔ بارہ سال اسی دارالعلوم میں مہتمم اور مدّرس کے طور پر کام کرنے کے بعد آپ نے ۱۹۶۳ء میں ایک نیا دارالعلوم جامعہ فریدیہ کے نام سے قائم کیا، جو آپ کی نگرانی میں اپنی عمر کی تیرہ منزلیں طے کر چکا ہے۔
تحریکِ پاکستان کے وقت آپ کا دور طالب علمی تھا۔ آپ نے طلبہ کے وفود کی نمائندگی کرتے ہوئے مختلف قصبات و دیہات میں عوام کو تحریک کے مقاصد اور اہمیّت سے روشناس کرایا۔
پاکستان بننے کے بعد مرزائیت کے ناسور کو ختم کرنے کی خاطر مسلمانانِ پاکستان نے دومرتبہ ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء) تحریک چلائی جو بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور پاکستان کی قومی اسمبلی نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیّت قرار دیا۔ ان دونوں تحریکوں میں آپ نے بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔
۱۹۵۳ء کی تحریک میں آپ نے ساہیوال میں دورے کیے اور مرزائیوں کے عقائد سے عوام کو روشناس کرایا۔ ’’مرزائیوں سے بائیکاٹ کی شرعی حیثیت‘‘ نامی رسالہ دس ہزار کی تعداد میں چھپوا کر تقسیم کیا۔ مختلف باطل فرقوں کے مبلّغین بالخصوص مشہور عیسائی پادریوں سے آپ کے بہت سے مناظرے ہوئے اور انہی مناظروں میں اسلام کی حقّانیت کا اقرار کرتے ہوئے ایک ہزار عیسائی مسلمان ہوئے (وللہ الحمد)
حضرت مولانا سیّد منظور احمد نے میدانِ تحریر میں کافی کام کیا ہے۔ آپ کی تالیفات مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ حضور الحرمین، ۲۔ آئینہ حق، ۳۔ مقالۂ علمیّہ، ۴۔ لاتثلیت فی التوحید، ۵۔ مسیح کون ہے، ۶۔ بہائی اصول، ۷۔ اسلام اور ماہِ صیام، ۸۔ اسلام اور انفاق فی سبیل اللہ، ۹۔ اسلام اور حفظانِ صحّت، ۱۰۔ اسلام اور سوشلزم، ۱۱۔ اسلام اور عید قربان، ۱۲۔ فلسفۂ زکوٰۃ، ۱۳۔ فلسفۂ جہاد، ۱۴۔ علِم القرآن، ۱۵۔ جنگِ مصر، ۱۶۔ مرزائیوں سے بائیکاٹ کی شرعی حیثیت، ۱۷۔ فیوضاتِ فریدی(زیرِ طبع)[۱]
[۱۔ فیوضات فریدی حضرت شاہ صاحب کے مختلف دینی و تحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے جنکو منظور حسین قاسم رضوی ایم اے مرتب کررہے ہیں۔]
الفریدی کے نام سے آپ کی سرپرستی میں ایک ماہوار تبلیغی رسالہ بھی شائع ہونے لگا۔ آپ نے ۱۹۵۴ء میں شیخ الاولیاء حضرت میاں علی محمد رحمۃ اللہ علیہ آف بسّی شریف سے بیعت اختیار کی۔
تائیدِ خداوندی سے آپ ۱۹۷۶ء تک گیارہ مرتبہ حجِ بیت اللہ شریف ارو زیارت روضۂ انور سے مشرّف ہوچکے ہیں۔ (ایں سعادت بزدر بازونیست)
آپ کو پاکیزہ صاف ستھری شاعری سے بھی شغف ہے، چنانچہ آپ نے عشق رسالت میں ڈوبی ہوئی چند نعمتیں تحریر کیں۔
❤1
آپ کے چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:
❶ مولانا اصغر علی مدّرس جامعہ فریدیہ ساہیوال ۔ ❷ مولانا نعمت علی ناظم مکتبہ فریدیہ ساہیوال ۔ ❸ مولانا محمد یوسف خطیب مسجد مائی والی و مدرس جامعہ فریدیہ ساہیوال ۔ ❹ مولانا ظفر اقبال فریدی مدرسن جامعہ فریدیہ ساہیوال ۔ ❺ مولانا ابو الفتح شبیر احمد ہاشمی خطیب بوریوالہ، وہاڑی۔
آپ کے چار صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں ہیں [۲]
[۲۔ یہ تمام حالات منظور حسین شاہ قاسم رضوی نائب ناظم اشاعت ’’الفرید‘‘ نے مرتب کے نام ارسال فرمائے۔]
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-manzoor-ahmad-shah-hashmati
❶ مولانا اصغر علی مدّرس جامعہ فریدیہ ساہیوال ۔ ❷ مولانا نعمت علی ناظم مکتبہ فریدیہ ساہیوال ۔ ❸ مولانا محمد یوسف خطیب مسجد مائی والی و مدرس جامعہ فریدیہ ساہیوال ۔ ❹ مولانا ظفر اقبال فریدی مدرسن جامعہ فریدیہ ساہیوال ۔ ❺ مولانا ابو الفتح شبیر احمد ہاشمی خطیب بوریوالہ، وہاڑی۔
آپ کے چار صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں ہیں [۲]
[۲۔ یہ تمام حالات منظور حسین شاہ قاسم رضوی نائب ناظم اشاعت ’’الفرید‘‘ نے مرتب کے نام ارسال فرمائے۔]
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-manzoor-ahmad-shah-hashmati
scholars.pk
Hazrat Molana Manzoor Ahmad Shah Hashmati
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1