🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-07-1445 ᴴ | 02-02-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-07-1445 ᴴ | 02-02-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
صحابی ابن صحابی کاتب وحی
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ اللهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهٗ ㉑
2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت قاضی ضیاء الدین علیہ‌الرحمہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
حضرت قاضی ضیاء الدین ۔ لقب: شیخ جیا ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاضی ضیاء الدین بن شیخ سلیمان بن شیخ سلونی عثمانی رحمۃ اللہ علیہم ۔

آپ علیہ الرحمہ سلسلۂ عالیہ قادریہ کےاٹھائیسویں امام اور شیخ طریقت ہیں ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 925ھ / مطابق 1519ء کو قصبہ " نیوتنی " ضلع لکھنؤ (ہند) میں ہوئی ۔

تحصیل علم:
آپ کی تعلیم و تربیت ابتداء میں گھر پر ہی ہوئی ۔ اس کے بعد آپ نے گجرات کا سفر اختیار فرمایا اور وہاں حضرت علامہ وجیہ الدین بن نصر اللہ علوی گجراتی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے علوم دینیہ حاصل فرمائے اور اسی دورانِ تعلیم حضرت علامہ وجیہ الدین علیہ الرحمہ نے اپنی لڑکی کا آپ سے عقد کر دیا جس کا واقعہ اس طرح ہے: آپ حضرت علامہ وجیہ الدین قدس سرہ کی بارگاہ میں تعلیم حاصل کرنے لگے استاذ محترم کی دختر نیک اختر شدید مرض میں گرفتار تھی اور تمام اطباء علاج کرنے سے عاجز آ گئے تھے شیخ کی پریشانی دیکھ آپ کو ہنسی آ گئی، طلبہ نے ہنسی کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ اگر استاد محترم میرا سبق تم لوگوں کے سبق سے پہلے معین کر دیں، تو میں اس جن کو حضرت کی دختر اور جمیع اہل خانہ سے دور کر دوں استاد نے آپ کی درخواست متطور کر لی، اور آپ نے دعاء فرمائی جس سے حضرت شیخ کی دختر نیک اختر تندرست و صحت یاب ہو گئی ـ حضرت استاد نے خوش ہو کر اپنی دختر کا نکاح آپ سے فرمایا ، اس کے بعد ایک عرصے تک آپ کا قیام گجرات میں رہا ۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت شیخ نظام الدین بھکاری رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافتِ عظمیٰ سے شرف یاب ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
شہنشاہ ولایت، تاجدار باب ولایت، اعاظم اصحاب ہدایت، امام الاتقیاء، سند الاصفیاء، رئیس المتوکلین، حضرت قاضی ضیاء الدین عرف شیخ جیاء رضی اللہ عنہ ۔

آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے اٹھائیسویں امام و شیخ طریقت ہیں ۔ آپ احوال قویہ و عبادت و تصرف کثیرہ رکھتے تھے ۔ آپ نے علوم ظاہری حضرت شیخ وجیہ الدین گجراتی قدس سرہٗ سے حاصل فرمائے اور علوم باطنی حضرت شیخ محمد بن یوسف قرشی برہان پوری قدس سرہ سے حاصل فرمائے ۔ آپ مشرب قادریہ رکھتے تھے ۔ شاہ تراب علی قلندری قدس سرہٗ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف " کشف المتواری " میں آپ کے متعلق تحریر فرمایا ہے کہ آپ صاحب تحقیق و صاحب باطن و صاحب کشف و کرامات تھے ۔

حضرت خضر علیہ‌السلام سے اکتساب فیض:
آپ کسب علم کی غرض سے اپنے وطن سے نکلے اور احمد آباد گجرات کے جنگل میں راہ بھول گئے ۔ اس وقت حضرت خضر علیہ السلام تشریف لائے اور آپ سے ارشاد فرمایا کہ : " تمہیں چالیس دن تک میری خدمت میں رہنا ہوگا! چنانچہ آپ نے برضا و خوشی اس دعوت کو قبول فرما لیا اور چالیس دن تک حضرت خضر علیہ السلام کی خدمت بابرکت میں رہے اور اس چالیس دنوں میں حضرت خضر علیہ السلام نے آپ کو جمیع علوم ظاہری و باطن سے آراستہ فرما دیا ۔

بارگاہ رسالت ﷺ سے بشارت:
آپ زیارتِ حرمین طیبین سے بھی شرف یاب ہوئے تھے ۔ آپ طواف و زیارت خانۂ کعبہ کے بعد مدینہ طیبہ کا قصد فرمایا اور بارگاہ رسالت مآب میں حاضری کا شرف عظیم حاصل فرمایا ۔ ایک رات جب آپ سرکار ابد قرار ﷺ کے روضۂ منورہ پر قیام پذیر تھے ۔ کہ اسی دوران نبی کریم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے ۔ تو سرکار دو جہاں علیہ السلام نے آپ کو اپنی نواز شات سے سرفراز فرمایا ۔ آپ زیارت حرمین طیبین کے بعد ہندوستان تشریف لائے اور اپنے شہر میں واپس آکر علوم و معارف کے دریائے بہادئے اور آپ کی ذات بابرکات سے تحصیل علوم اسلامیہ کے علاوہ کثیر افراد نے رشد و ہدایت حاصل کرکے دنیا میں آفتاب و ماہتاب بن کر چمکے ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 22 رجب المرجب 989ھ / مطابق ماہ اگست 1581ء کو قصبہ " نیوتنی " ضلع اناؤ یوپی (انڈیا) میں ہوا ۔ آپ کا مزار شریف وہیں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ مشائخ قادری رضویہ ۔

اعلیٰ حضرت فرماتےہیں:
التجا اےزندہ ٔ جاوید اے قاضی جیا
اے جمال اولیاء یوسف لقا امداد کن

شجرہ شریف میں اس طرح آپ کاذکر ہے:
خانۂ دل کو ضیا دے روئے ایماں کو جمال
شہِ ضیاء مولیٰ جمال الاولیاء کے واسطے

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedna-qazi-ziauddin
3
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شیخ مخدوم حسن علیہ الرحمہ

شیخ حسن ، مخدوم محمد اسحاق اربعائی کے تربیت یافتہ بزرگوں میں تھے، منقول ہے کہ ایک مرتبہ شہنشاہ روا کو کوئی اہم کام در پیش تھا، اس نے سلطنت کے تمام اہل دل سے دعائیں کرائیں مگر مشکل حل نہ ہوئی ۔

آخر سلطان کو کسی نے مشورہ دیا کہ ٹھٹھہ میں شیخ حسن سے دعا کرائی جائے تو عقدہ حل ہوگا شہنشاہ نے ایک قاصد بعجلت تمام ٹھٹھہ روانہ کیا، جب قاصد ٹھٹھہ پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ حضرت دس روز قبل وفات پا چکے ہیں ، اس کوبڑا افسوس ہوا ، رات کو خواب میں شیخ کی زیارت ہوئی شیخ نے ان کو بشارت دی کہ جاؤ تمہارے بادشاہ کی مشکل حل ہوئی اور اسی قسم کی بشارت خود بادشاہ کو بھی ہوئی، جب قاصد واپس پہنچا تو بادشاہ کی مشکل ہوچکی تھی، آپ کا مزار غلہ بازار ٹھٹھہ میں ہے ۔

( تحفۃ الطاہرین ص ۱۸ )
( تذکرہ اولیاء سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-makhdoom-hassan
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شیخ احمد بن مصطفیٰ رفیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسم گرامی:
شیخ احمد بن مصطفیٰ بن معین الحق والملۃ والدین: رفیقی ابو الطیب کنیت تھی ـ

ولادت:
۱۱۵۰ھ میں پیدا ہوئے ۔

آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے امام فقیہ، محدث، عالم یگانہ، فاضل بے نظیر تھے ـ

تعلیم:
قرآن کو اپنے نانا مولانا مقیم السنۃ ٹوپیگرو سے پڑھا اور انہیں کے پاس حفظ کیا اور علم حدیث و تفسیر و فقہ اور تصوف کو اپنے باپ اور چچا او چچا کے بیٹوں اور اپنے ماموں مولانا علامۃ الوری اخوند نور الہدےٰ ٹوپیگرو سے اخذ کیا ـ

وصال:
یکشنبہ کے روز ۲۲ رجب ۱۲۱۹ھ میں بعد ظہر کے فوت ہوئے ۔

آپ کو ریاضات و مجاہدات و مکاشفات میں بڑی شان حاصل تھی جس میں سے تھوڑا سا شیخ ابو المصطفیٰ طیب رفیقی نے اپنی تصنیفات میں ذکر کیا ہے ۔ آپ سے توحید و عرفان میں شعر حسن یادگار ہیں ۔ ’’ ولی پاک نظر ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ahmad-bin-mustafa-rafeeqi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
مفتی محمد امین قادری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: مفتی محمد امین قادری ۔لقب: شاہینِ ختمِ نبوت ۔

سلسلۂ نسب:
مولانا مفتی محمد امین قادری بن محمد حسین بن محمد ابراہیم واڈی والا ۔ آپ کا نسبی تعلق ’’ کتیانہ میمن‘‘ جماعت سے ہے۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 22 رجب المرجب 1392ھ مطابق 7 نومبر 1972ء کو ’’کھارا در‘‘ کراچیج پاکستان میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
میٹرک کتیانہ میمن اسکول ککری گراؤنڈ کھارادر سے کی۔ بی کام سندھ مسلم کامرس کالج کراچی اور ایم اے اسلامیات کراچی یونیورسٹی سے کیا۔دعوت اسلامی کے ماحول نے متاثر کیا تو اس میں شامل ہوگئے پھر دینی تعلیم کا شوق پیدا ہوا تو مولانا محمد جاوید میمن مینگھرانی سے ابتداء کی پھر نور مسجد کاغذی بازار میں مولانا محمد عثمان برکاتی سے رات میں تعلیمی سفر جاری رکھا۔

اکثر کتابیں وہیں پڑھیں اس کے بعد دارالعلوم امجدیہ میں محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ اعظمی مدظلہ العالی(مبارکپور) شارح بخاری علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی ﷫اور امیر دعوت اسلامی مولانا محمد الیاس قادری زید مجدہ اور دیگر صد ہا علماء کرام کی موجودگی میں آپ کی دستارِ فضیلت ہوئی۔

بیعت وخلافت:
آپ 1985ء کو جامع مسجد گلزار حبیب میں سلسلہ قادریہ عطاریہ میں امیر دعوت اسلامی مولانا محمد الیاس عطار قادری سے دست بیعت ہوئے۔ شیخ العرب والعجم محمد بن علوی مالکی مکی، شیخ زکریا بخاری مدنی ، شیخ ابو بکر صدیق الجزائری، شیخ حبیب العالی یمنی کے علاوہ ہندو پاک کے کئی علماء و مشائخ نے خلافتیں سندیں اور اورادو ظائف کی اجازتیں عطا فرمائیں۔ قائد اہل سنت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی﷫ سے بہت عقیدت رکھتے تھے۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ:117)

سیرت وخصائص:
مفتیِ اہل سنت، محسنِ ملت، پروانۂ شمعِ رسالت، شاہینِ ختمِ نبوت، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امین قادری﷫۔ آپ﷫ جہدِ مسلسل کےذریعے دینِ متین کی خدمت کرنےوالے انسان تھے۔آپ کاکردار اس افرا تفری اور نفسا نفسی کےدور میں قابلِ تحسین اور قابل ِ تقلید ہے۔قلیل عرصے میں بہت بڑا کام انجام دیا۔زمانہ ٔ طالب علمی سے ہی دین کاجذبہ رکھتےتھے۔دن جیسے جیسے گزرتے گئے اس میں مزید اضافہ ہوتا گیا۔درس وتدریس،وعظ ونصیحت،اور تصنیف وتالیف آپ کامقصدِ حیات تھا۔ہمہ وقت کسی نہ کسی دینی- کام میں مصروف نظر آتے۔اسی طرح خوش مزاجی، باوقار، اور ملنسار طبیعت ، ناصحانہ اندازِ گفتگو ، تلقین آمیز تقاریر ، جمعہ کے خطبات میں مسائل پر گہری نظر ، درس و تدریس ، افتاء کا منصب ، احیاء سنت کی عالمگیر تحریک دعوت اسلامی سے وابستگی ، دین متین کے لئے جذبہ قربانی سے سرشاری ،کتب بینی کا جنونی شوق ، فرائض و سنن پر مداومت، یہ وہ صفات اور حالات تھے جنہوں نے مرحوم کو محبوب ِعام و خاص کردیا تھا ۔ اکابرین بزرگانِ دین سے کئی و ظائف کی اجازت بھی حاصل تھی جن میں اکثر آپ کے معمولات میں رہے۔ آپ پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کا بہت آسان انداز میں جواب دیتے مسائل کا حل چاہنے والوں کا اکثر اوقات تانتا بندھا ررہتا تھا۔ علمی مذاکرات ، حج اور عمرہ تربیتی پروگرامز اور دیگر اہم دینی موضوعات پر تقاریر کیلئے مدعو کئے جاتے۔ آپ کی تقاریر تحقیقی اورپر مغز ہوتیں۔ بیک وقت تشنگانِ علم کو سیراب اور متلا شیانِ علم کو مالا مال کرتیں۔(شاہینِ ختمِ نبوت:2)

درس و تدریس:
دوران تعلیم ہی رات میں تدریس کا مشغلہ جاری رکھا۔ نور مسجد (کاغذی بازار) سے تدریس کا آغاز کیا۔ بعد میں انوار مدینہ مسجد ، اسماعیل اور آرائیں مسجد (جمشید روڈ) میں فرائض تدریس انجام دیتے رہے، اس کے علاوہ آپ نے دارالعلوم غوثیہ فاروق آباد پرانی سبزی منڈی کراچی میں کئی سال تک تدریس کے ساتھ فتاویٰ نویسی کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔اپنے گھر کے قریب جامع مسجد اسماعیل گیگا جمشید روڈ کراچی میں جمع کو خطابت فرماتے تھے۔ مرکز فیضان مدینہ سبزی منڈی میں کئی مرتبہ اور دعوت اسلامی کے سالانہ مرکزی اجتماع ملتان شریف میں درس قرآن و حدیث دیا۔

سفر حرمین شریفین:
آپ نے تین بار حج بیت اللہ اور کئی بار عمرے کی سعادت حاصل کی، اس طرح کئی بار روضۂ رسول ﷺ کی حاضری کی سعادت حاصل کی1990ء میں مفتی وقار الدین قادری (رئیس الافتاء دارالعلوم امجدیہ کراچی) کی رفاقت میں بغداد شریف، کربلا معلیٰ، اور نجف اشرف میں مولائے کائنات امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰ، سید الشہداء سید نا امام حسین ﷜، سید التابعین امام اعظم ابو حنیفہ ت﷜ اور سرکار غوث اعظم محبوب سبحانی قطب ربانی شیخ محی الدین سید عبدالقادر جیلانی ﷜ٗ مع دیگر مزارات مقدسہ پر حاضری کی سعادت اور انوار و برکات کی دولت سے مشرف ہوئے۔
2
عقیدہ ختم نبوت کےتحفظ میں شاندار خدمات: آپ کی زندگی کا اہم منفرد اور دلچسپ کارنامہ ہے ختم نبوت کے حوالے سے تقریباً ایک صدی کے تناظرمیں علماء و مشائخ اہل سنت احناف نے جو گراں قدر کام کیا ہے ۔ گردشِ زمانہ کےپیشِ نظر ان کی دوبارہ شاعت نہ ہوسکی۔اس لیے دیگر اہم کتب کی طرح ان کےنایاب ناپید ہونے کاخطرہ پیدا ہوگیا تھا۔

اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطاء فرمائے شاہینِ ختم نبوت حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امین قادری﷫ کوانہوں نے تمام نادر و نایاب کتب و رسائل کو جمع و تدوین کا منفرد کام سر انجام دیا۔یہ وہ عظیم و منفرد کام ہے جو کہ مفتی امین کو ہمیشہ زندہ رکھے گا۔، جب کام سامنے آئے گا تو آپ کی محنت شاقہ، کھوجنا، تلاش ، جستجو ، ذوق و شوق کا اندازہ ہوگا کہ آپ نے کہاں کہاں اور کس قدر مسافت کے سفر اختیار کئے، کن کن لائبریریوں میں راتیں جاگ کر اجالا کیا، کن کن شخصیات سے رابطہ کرکے خانہ تلاشی کا کام کیا، قلمی و بیاض سے کیسی کیسی تحریریں برآمد کیں۔اس حوالے سے مفتی صاحب خود رقم طراز ہیں کہ:

”آج سے تقریباً تین سال قبل عزیزی توفیق قادری ضیائی حنفی نے ایک ملاقات میں فقیر سے کہا کہ ختم نبوت کے موضوع پر علمائے اہل سنّت کی کتب کو شائع کیا جائے۔ یہ تقریباً سوا صدی پر محیط علماء و مشائخ اہل سنّت کی علمی جدوجہد پر مشتمل منتشر کام کو یکجا کرنا تھا، بزرگوں کی دعاؤں اور سرکار علیہ الصلوۃ والسلام کے وصف خاص ختم نبوت کے ادنیٰ فدائیوں میں اپنا نام لکھوانے کی غرض سے کمر ہمت باندھی‘‘۔(روشن دریچے:38

اس عظیم الشان کام کے لیے آپ نے پاکستان بھر کی بیشتر لائبریریوں کی خاک چھانی اور بہت کم وقت میں عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے علماء اہل سنّت کی کتابوں، مضامین اور تحریری کام کو جمع کرنے میں کامیاب ہوئے۔ مفتی صاحب نے عقیدۂ ختم نبوت سے متعلق مواد کو کئی جلدوں میں جمع کیا ہے اور ابتدائی چھ جلدوں پر مقدمہ مدینہ شریف میں بیٹھ کر مکمل کیا۔ ابھی کچھ جلدیں ہی زیور طباعت سے آراستہ ہوئی تھیں کہ آپ فانی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ آپ کے بعد اس مشن کو ”ادارہ تحفظ عقائد اسلام“ نے جاری رکھا۔ الحمدللہ 2013ء تک اس ادارہ نے’’ انسائیکلوپیڈیا عقیدۂ ختم نبوت‘‘ کی پندرہ جلدیں شائع کر دی ہیں ۔15/جلدیں کے اس مجموعے میں کل تیس (30) علماء اہل سنّت کی باسٹھ (62) کتابوں اور رسائل کو 7674 (سات ہزار چھ چوہتر) صفحات میں ایک جگہ جمع کر کے شائع کیا گیا ہے، ابھی مزید کئی جلدوں پر کام جاری ہے۔اس کے علاوہ مفتی صاحب نے پہلی بادارالعلوم امجدیہ میں عقیدۂ ختم نبوت کے سلسلے میں 15/ روزہ تربیتی کورس شیخ الحدیث علامہ منظور احمد فیضی ﷫ کے ذریعے حضرت مفتی محمد ظفر علی نعمانی﷫ کی نگرانی میں کروایا۔ کورس کے اختتام پر اسناد بھی جاری کی گئیں۔ آپ ہر سال 7 ستمبر کو عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلے میں اکابرین امت کی مدلل تحریروں سے مزین پوسٹر بھی شائع کرتے رہے۔

تصنیف و تالیف:
آپ نے دار العلوم امجدیہ میں دوران تعلیم سالنامہ ’’رفیق علم‘‘ کا اجراء کروایا۔ امجدیہ کے پچاس سال پورے ہونے پر ’’رفیق علم کا گولڈن جوبلی‘‘ نمبر شائع کروانے میں بھی کامیاب ہوئے۔’’وفا کے پیکر‘‘ (تحریک پاکستان میں علمائے اہل سنت کا کردار)۔اردو زبان میں بیس حصوں پر مشتمل فقہ حنفی کا مشہور انسائیکلو پیڈیا یعنی بہار شریعت کے مکمل بیس حصے کمپوز کروا کر ایک کمپیوٹر سوفٹ ویئر سی ڈی تیار کرائی جو ایک ادارے کے زیر نگرانی خوبصورت کتابی شکل میں پر نٹ ہوکر مارکیٹ میں دستیاب ہے۔امام احمد رضا فاضل بریلی﷫ کےفتا ویٰ رضویہ کی سوفٹ ویئر سی ڈی بنا نے کے لئے اکثر جلدوں کی کمپوزنگ مکمل کروائی جو مصنف جامع الاحادیث حضرت علامہ حنیف صاحب دام ظلہ العالیٰ کے زیر نگرانی تحریج اور تسہیل کے مراحل سے گزر دخراجِ تحسین وصول کرچکی ہے۔(شاہینِ ختمِ نبوت:3)۔آپ نے ایک شادی کی جس سے ایک بیٹی تولد ہوئی۔آپ کے وصال کے پندرہ دن بعد آپ کے گھر ایک بیٹے کی ولادت ہوئی جس کا نام محمد علقمہ رکھا گیا۔

تاریخِ وصال:
18 ذوالقعدہ 1426ھ ،20/دسمبر 2005ء، بروز بدھ، وقتِ نماز مغرب فقط چھتیس سال کی عمر میں انتقال کیا۔میوہ شاہ قبرستان میں تدفین ہوئی۔

ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔ روشن دریچے ۔ شاہین ختم نبوت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mufti-muhammad-ameen-qadri-attari
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
امام الفقہاء والمحدثین حضرت علامہ سید محمد دیدار علی شاہ الوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
کنیت: ابو محمد ۔ اسمِ گرامی: سید دیدار علی شاہ بن سید نجف علی شاہ ۔

آپ کے پر دادا سید خلیل شاہ علیہ الرحمہ " مشہد مقدس " سے ہندوستان تشریف لائے اور " ریاست الور " میں قیام پذیر ہوئے ۔

آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام موسیٰ رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
امام المحدثین سید محمد دیدار علی شاہ ۔ 1273ھ / 1856ء بروز پیر محلہ نواب پورہ ، الور میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
قرآنِ پاک آپ نے اپنے عمِ محترم ولیِ کامل مولانا سید نثار علی شاہ الوری علیہ الرحمہ سے پڑھا ۔ ابتدئی درسیات کی کتب مولانا قمرالدین اورمولانا شاہ کرامت علی سے پڑھیں، فقہ و منطق کی تحصیل مولانا ارشاد حسین رام پوری سے کی ،اور دورہ ٔحدیث کی تکمیل مولانا احمد علی محدث سہارنپوری اور حضرت مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی سے حاصل کی ، حضرت شیخ الاسلام پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی اور مولانا وصی احمد محدث سورتی آپ کے ہم درس تھے۔(علیہم الرحمہ)

بیعت و خلافت:
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے آپ کو اور آپ کے قابلِ صد افتخار فرزند مفتیِ اعظم پاکستان مولانا سید ابو البرکات کو اجازت و خلافت عطا فرماتے ہوئے تمام اوراد و وظائف اور تمام کتب فقہ حنفی کی روایت کی اجازت عطاء فرمائی ۔

سیرت و خصائص:
امام الفقہاء والمحدثین، رئیس العلماء والمتکلمین، جامع علومِ نقلیہ وعقلیہ ، زبدۃ المشائخ، آفتاب ِشریعت ماہتابِ رضویت، ابومحمد سید محمد دیدار علی شاہ علیہ الرحمۃ والرضوان ۔

حضرت کی ذات ستودہ صفات محتاجِ تعارف نہیں ہے، بے باکی اور حق گوئی آپ کی طبیعت ثانیہ تھی ۔ مخالفین و حاسدین کے غوغے آپ کے پائے ثبات کو جنبش نہ دے سکے، دنیا کی کوئی طاقت آپ کو مرعوب نہ کر سکی ۔ علم وفضل کے گویا سمندر تھے ۔سورۂ ِفاتحہ کا درس شروع کیاتو ایک سال تک صرف سورۂ ِ فاتحہ کا درس جاری رہا۔اس درس کی خصوصیت یہ تھی کہ سننے والے پابندِ شریعت ہوگئے، سینکڑوں نے گناہوں سے توبہ کر لی ۔ اسی درسِ قرآن کی برکت سے بہت سے ہندو دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔آپکا وعظ عوام و خواص میں مقبول وپر اثرہو تا تھا۔

آپ کے خلوص، ایثار، زہد و تقویٰ سادگی اور اخلاقِ عالیہ کا زمانہ معترف تھا۔دینی طلباء پر شفقت فرماتے ۔ علماء کی عزت وتکریم آپ کا شیوہ تھا ۔ اپنی ضروریات کی اشیاء بازار سے خود خرید لاتے، جہاں خلافِ شریعت بات دیکھتے تو نرمی وشفقت سے سمجھاتے ۔ شہر کے تاجروں کو مسائلِ تجارت سے آگاہ فرماتے۔

مسلک اہلِ سنت وجماعت کی بقاء اور ترویج کیلئے مساجد ومدارس کے قیام پر خصوصی توجہ دی، اور خود ساری زندگی درس وتدریس تصنیف وتالیف اور فتویٰ نویسی سے وابستہ رہے۔آج پاکستان کے ہر شہر وقصبہ میں حزب الاحناف کے فضلاء مسلکِ رضا (جوکہ درحقیقت عین اسلام ہے) کی خدمت سر انجام دے رہے ہیں ۔

ملکِ عزیز پاکستان کے لئے آپکی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا ۔ اس وقت دو قومی نظریئے کی حمایت میں جامع فتویٰ آپ نے ہی دیا تھا ،اس کی لاکھوں کاپیاں ہندوستان کے طول وعرض میں تقسیم کی گئیں ۔ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی اسی فتوے سے متأثر ہوکر دو قومی کے نظریئے کی مکمل تائید و حمایت کا اعلان کیا ۔ آپ کی کوششوں سے احراری و کانگریسی مولوی (جو اِس وقت پاکستان کے مامے بنے ہوئے ہیں) ذلیل وخوار ہوکر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ ؎ لیکن منزل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے۔

اعلیٰ حضرت مجددِ ملت نے آپ کو اسطرح یاد فرمایا ہے:

مولانا دیدار علی کو
کب دیدار دکھاتے یہ ہیں

وصال:
22 رجب المرجب ، 20 اکتوبر 1354ھ / 1935ء کو اپنے رب کریم کے دربار میں حاضر ہوئے اور جامع مسجد اندرون دہلی دروازہ لاہور میں دفن ہوئے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-deedar-ali-shah
1