🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-07-1445 ᴴ | 02-02-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-07-1445 ᴴ | 02-02-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
صحابی ابن صحابی کاتب وحی
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ اللهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهٗ ⓴
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
صحابی ابن صحابی کاتب وحی
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ اللهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهٗ ⓴
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-07-1445 ᴴ | 02-02-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-07-1445 ᴴ | 02-02-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
صحابی ابن صحابی کاتب وحی
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ اللهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهٗ ㉑
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
صحابی ابن صحابی کاتب وحی
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ اللهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهٗ ㉑
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت قاضی ضیاء الدین علیہالرحمہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت قاضی ضیاء الدین ۔ لقب: شیخ جیا ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاضی ضیاء الدین بن شیخ سلیمان بن شیخ سلونی عثمانی رحمۃ اللہ علیہم ۔
آپ علیہ الرحمہ سلسلۂ عالیہ قادریہ کےاٹھائیسویں امام اور شیخ طریقت ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 925ھ / مطابق 1519ء کو قصبہ " نیوتنی " ضلع لکھنؤ (ہند) میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
آپ کی تعلیم و تربیت ابتداء میں گھر پر ہی ہوئی ۔ اس کے بعد آپ نے گجرات کا سفر اختیار فرمایا اور وہاں حضرت علامہ وجیہ الدین بن نصر اللہ علوی گجراتی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے علوم دینیہ حاصل فرمائے اور اسی دورانِ تعلیم حضرت علامہ وجیہ الدین علیہ الرحمہ نے اپنی لڑکی کا آپ سے عقد کر دیا جس کا واقعہ اس طرح ہے: آپ حضرت علامہ وجیہ الدین قدس سرہ کی بارگاہ میں تعلیم حاصل کرنے لگے استاذ محترم کی دختر نیک اختر شدید مرض میں گرفتار تھی اور تمام اطباء علاج کرنے سے عاجز آ گئے تھے شیخ کی پریشانی دیکھ آپ کو ہنسی آ گئی، طلبہ نے ہنسی کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ اگر استاد محترم میرا سبق تم لوگوں کے سبق سے پہلے معین کر دیں، تو میں اس جن کو حضرت کی دختر اور جمیع اہل خانہ سے دور کر دوں استاد نے آپ کی درخواست متطور کر لی، اور آپ نے دعاء فرمائی جس سے حضرت شیخ کی دختر نیک اختر تندرست و صحت یاب ہو گئی ـ حضرت استاد نے خوش ہو کر اپنی دختر کا نکاح آپ سے فرمایا ، اس کے بعد ایک عرصے تک آپ کا قیام گجرات میں رہا ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت شیخ نظام الدین بھکاری رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافتِ عظمیٰ سے شرف یاب ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
شہنشاہ ولایت، تاجدار باب ولایت، اعاظم اصحاب ہدایت، امام الاتقیاء، سند الاصفیاء، رئیس المتوکلین، حضرت قاضی ضیاء الدین عرف شیخ جیاء رضی اللہ عنہ ۔
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے اٹھائیسویں امام و شیخ طریقت ہیں ۔ آپ احوال قویہ و عبادت و تصرف کثیرہ رکھتے تھے ۔ آپ نے علوم ظاہری حضرت شیخ وجیہ الدین گجراتی قدس سرہٗ سے حاصل فرمائے اور علوم باطنی حضرت شیخ محمد بن یوسف قرشی برہان پوری قدس سرہ سے حاصل فرمائے ۔ آپ مشرب قادریہ رکھتے تھے ۔ شاہ تراب علی قلندری قدس سرہٗ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف " کشف المتواری " میں آپ کے متعلق تحریر فرمایا ہے کہ آپ صاحب تحقیق و صاحب باطن و صاحب کشف و کرامات تھے ۔
حضرت خضر علیہالسلام سے اکتساب فیض:
آپ کسب علم کی غرض سے اپنے وطن سے نکلے اور احمد آباد گجرات کے جنگل میں راہ بھول گئے ۔ اس وقت حضرت خضر علیہ السلام تشریف لائے اور آپ سے ارشاد فرمایا کہ : " تمہیں چالیس دن تک میری خدمت میں رہنا ہوگا! چنانچہ آپ نے برضا و خوشی اس دعوت کو قبول فرما لیا اور چالیس دن تک حضرت خضر علیہ السلام کی خدمت بابرکت میں رہے اور اس چالیس دنوں میں حضرت خضر علیہ السلام نے آپ کو جمیع علوم ظاہری و باطن سے آراستہ فرما دیا ۔
بارگاہ رسالت ﷺ سے بشارت:
آپ زیارتِ حرمین طیبین سے بھی شرف یاب ہوئے تھے ۔ آپ طواف و زیارت خانۂ کعبہ کے بعد مدینہ طیبہ کا قصد فرمایا اور بارگاہ رسالت مآب میں حاضری کا شرف عظیم حاصل فرمایا ۔ ایک رات جب آپ سرکار ابد قرار ﷺ کے روضۂ منورہ پر قیام پذیر تھے ۔ کہ اسی دوران نبی کریم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے ۔ تو سرکار دو جہاں علیہ السلام نے آپ کو اپنی نواز شات سے سرفراز فرمایا ۔ آپ زیارت حرمین طیبین کے بعد ہندوستان تشریف لائے اور اپنے شہر میں واپس آکر علوم و معارف کے دریائے بہادئے اور آپ کی ذات بابرکات سے تحصیل علوم اسلامیہ کے علاوہ کثیر افراد نے رشد و ہدایت حاصل کرکے دنیا میں آفتاب و ماہتاب بن کر چمکے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 22 رجب المرجب 989ھ / مطابق ماہ اگست 1581ء کو قصبہ " نیوتنی " ضلع اناؤ یوپی (انڈیا) میں ہوا ۔ آپ کا مزار شریف وہیں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ مشائخ قادری رضویہ ۔
اعلیٰ حضرت فرماتےہیں:
التجا اےزندہ ٔ جاوید اے قاضی جیا
اے جمال اولیاء یوسف لقا امداد کن
شجرہ شریف میں اس طرح آپ کاذکر ہے:
خانۂ دل کو ضیا دے روئے ایماں کو جمال
شہِ ضیاء مولیٰ جمال الاولیاء کے واسطے
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedna-qazi-ziauddin
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت قاضی ضیاء الدین ۔ لقب: شیخ جیا ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاضی ضیاء الدین بن شیخ سلیمان بن شیخ سلونی عثمانی رحمۃ اللہ علیہم ۔
آپ علیہ الرحمہ سلسلۂ عالیہ قادریہ کےاٹھائیسویں امام اور شیخ طریقت ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 925ھ / مطابق 1519ء کو قصبہ " نیوتنی " ضلع لکھنؤ (ہند) میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
آپ کی تعلیم و تربیت ابتداء میں گھر پر ہی ہوئی ۔ اس کے بعد آپ نے گجرات کا سفر اختیار فرمایا اور وہاں حضرت علامہ وجیہ الدین بن نصر اللہ علوی گجراتی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے علوم دینیہ حاصل فرمائے اور اسی دورانِ تعلیم حضرت علامہ وجیہ الدین علیہ الرحمہ نے اپنی لڑکی کا آپ سے عقد کر دیا جس کا واقعہ اس طرح ہے: آپ حضرت علامہ وجیہ الدین قدس سرہ کی بارگاہ میں تعلیم حاصل کرنے لگے استاذ محترم کی دختر نیک اختر شدید مرض میں گرفتار تھی اور تمام اطباء علاج کرنے سے عاجز آ گئے تھے شیخ کی پریشانی دیکھ آپ کو ہنسی آ گئی، طلبہ نے ہنسی کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ اگر استاد محترم میرا سبق تم لوگوں کے سبق سے پہلے معین کر دیں، تو میں اس جن کو حضرت کی دختر اور جمیع اہل خانہ سے دور کر دوں استاد نے آپ کی درخواست متطور کر لی، اور آپ نے دعاء فرمائی جس سے حضرت شیخ کی دختر نیک اختر تندرست و صحت یاب ہو گئی ـ حضرت استاد نے خوش ہو کر اپنی دختر کا نکاح آپ سے فرمایا ، اس کے بعد ایک عرصے تک آپ کا قیام گجرات میں رہا ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت شیخ نظام الدین بھکاری رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافتِ عظمیٰ سے شرف یاب ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
شہنشاہ ولایت، تاجدار باب ولایت، اعاظم اصحاب ہدایت، امام الاتقیاء، سند الاصفیاء، رئیس المتوکلین، حضرت قاضی ضیاء الدین عرف شیخ جیاء رضی اللہ عنہ ۔
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے اٹھائیسویں امام و شیخ طریقت ہیں ۔ آپ احوال قویہ و عبادت و تصرف کثیرہ رکھتے تھے ۔ آپ نے علوم ظاہری حضرت شیخ وجیہ الدین گجراتی قدس سرہٗ سے حاصل فرمائے اور علوم باطنی حضرت شیخ محمد بن یوسف قرشی برہان پوری قدس سرہ سے حاصل فرمائے ۔ آپ مشرب قادریہ رکھتے تھے ۔ شاہ تراب علی قلندری قدس سرہٗ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف " کشف المتواری " میں آپ کے متعلق تحریر فرمایا ہے کہ آپ صاحب تحقیق و صاحب باطن و صاحب کشف و کرامات تھے ۔
حضرت خضر علیہالسلام سے اکتساب فیض:
آپ کسب علم کی غرض سے اپنے وطن سے نکلے اور احمد آباد گجرات کے جنگل میں راہ بھول گئے ۔ اس وقت حضرت خضر علیہ السلام تشریف لائے اور آپ سے ارشاد فرمایا کہ : " تمہیں چالیس دن تک میری خدمت میں رہنا ہوگا! چنانچہ آپ نے برضا و خوشی اس دعوت کو قبول فرما لیا اور چالیس دن تک حضرت خضر علیہ السلام کی خدمت بابرکت میں رہے اور اس چالیس دنوں میں حضرت خضر علیہ السلام نے آپ کو جمیع علوم ظاہری و باطن سے آراستہ فرما دیا ۔
بارگاہ رسالت ﷺ سے بشارت:
آپ زیارتِ حرمین طیبین سے بھی شرف یاب ہوئے تھے ۔ آپ طواف و زیارت خانۂ کعبہ کے بعد مدینہ طیبہ کا قصد فرمایا اور بارگاہ رسالت مآب میں حاضری کا شرف عظیم حاصل فرمایا ۔ ایک رات جب آپ سرکار ابد قرار ﷺ کے روضۂ منورہ پر قیام پذیر تھے ۔ کہ اسی دوران نبی کریم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے ۔ تو سرکار دو جہاں علیہ السلام نے آپ کو اپنی نواز شات سے سرفراز فرمایا ۔ آپ زیارت حرمین طیبین کے بعد ہندوستان تشریف لائے اور اپنے شہر میں واپس آکر علوم و معارف کے دریائے بہادئے اور آپ کی ذات بابرکات سے تحصیل علوم اسلامیہ کے علاوہ کثیر افراد نے رشد و ہدایت حاصل کرکے دنیا میں آفتاب و ماہتاب بن کر چمکے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 22 رجب المرجب 989ھ / مطابق ماہ اگست 1581ء کو قصبہ " نیوتنی " ضلع اناؤ یوپی (انڈیا) میں ہوا ۔ آپ کا مزار شریف وہیں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ مشائخ قادری رضویہ ۔
اعلیٰ حضرت فرماتےہیں:
التجا اےزندہ ٔ جاوید اے قاضی جیا
اے جمال اولیاء یوسف لقا امداد کن
شجرہ شریف میں اس طرح آپ کاذکر ہے:
خانۂ دل کو ضیا دے روئے ایماں کو جمال
شہِ ضیاء مولیٰ جمال الاولیاء کے واسطے
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedna-qazi-ziauddin
❤3
حضرت شیخ مخدوم حسن علیہ الرحمہ
شیخ حسن ، مخدوم محمد اسحاق اربعائی کے تربیت یافتہ بزرگوں میں تھے، منقول ہے کہ ایک مرتبہ شہنشاہ روا کو کوئی اہم کام در پیش تھا، اس نے سلطنت کے تمام اہل دل سے دعائیں کرائیں مگر مشکل حل نہ ہوئی ۔
آخر سلطان کو کسی نے مشورہ دیا کہ ٹھٹھہ میں شیخ حسن سے دعا کرائی جائے تو عقدہ حل ہوگا شہنشاہ نے ایک قاصد بعجلت تمام ٹھٹھہ روانہ کیا، جب قاصد ٹھٹھہ پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ حضرت دس روز قبل وفات پا چکے ہیں ، اس کوبڑا افسوس ہوا ، رات کو خواب میں شیخ کی زیارت ہوئی شیخ نے ان کو بشارت دی کہ جاؤ تمہارے بادشاہ کی مشکل حل ہوئی اور اسی قسم کی بشارت خود بادشاہ کو بھی ہوئی، جب قاصد واپس پہنچا تو بادشاہ کی مشکل ہوچکی تھی، آپ کا مزار غلہ بازار ٹھٹھہ میں ہے ۔
( تحفۃ الطاہرین ص ۱۸ )
( تذکرہ اولیاء سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-makhdoom-hassan
شیخ حسن ، مخدوم محمد اسحاق اربعائی کے تربیت یافتہ بزرگوں میں تھے، منقول ہے کہ ایک مرتبہ شہنشاہ روا کو کوئی اہم کام در پیش تھا، اس نے سلطنت کے تمام اہل دل سے دعائیں کرائیں مگر مشکل حل نہ ہوئی ۔
آخر سلطان کو کسی نے مشورہ دیا کہ ٹھٹھہ میں شیخ حسن سے دعا کرائی جائے تو عقدہ حل ہوگا شہنشاہ نے ایک قاصد بعجلت تمام ٹھٹھہ روانہ کیا، جب قاصد ٹھٹھہ پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ حضرت دس روز قبل وفات پا چکے ہیں ، اس کوبڑا افسوس ہوا ، رات کو خواب میں شیخ کی زیارت ہوئی شیخ نے ان کو بشارت دی کہ جاؤ تمہارے بادشاہ کی مشکل حل ہوئی اور اسی قسم کی بشارت خود بادشاہ کو بھی ہوئی، جب قاصد واپس پہنچا تو بادشاہ کی مشکل ہوچکی تھی، آپ کا مزار غلہ بازار ٹھٹھہ میں ہے ۔
( تحفۃ الطاہرین ص ۱۸ )
( تذکرہ اولیاء سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-makhdoom-hassan
❤2