🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-07-1445 ᴴ | 01-02-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
20-07-1445 ᴴ | 01-02-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
صحابی ابن صحابی کاتب وحی
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ اللهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهٗ ⓳
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا الحاج گل محمد شہداد کوٹی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

علامۃ الزماں مولانا الحاج گل محمد بن شیخ الاسلام علامہ مفتی نور محمد شہداد کوٹی قدس سرہ الاقدس کنڈو، تحصیل بھاگ ، ریاست قلات ( بلوچستان ) میں ۲۱ رجب المرجب ۱۲۴۰ھ کو تولد ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
کنڈو اور شہداد کوٹ میں اپنے والد ماجد کے پاس جملہ علوم عقلیہ و نقلیہ میں تحصیل کی ۔ اس وقت آپ کی عمر بائیس ( ۲۲) برس تھی ۔

بیعت:
سلسلۂ عالیہ قادریہ میں عمدۃ العارفین مولانا میاں غلام حیدر قادری قدس سرہ ( درگاہ کٹبار شریف بلوچستان ) کے دست بیعت ہوئے ۔

درس و تدریس:
آپ کے والد ماجد کنڈو سے شہداد کوٹ نقل مکانی کر کے آئے تھے لہذا والد ماجد کی قائم کردہ درسگاہ میں تمام سندھ میں علم پھیلا ۔ سندھ میں کوئی ایسا گوٹھ نہیں تھا جس میں آپ کا شاگرد یا پھر اس کا شاگرد نہ ہو ۔

ایک روایت کے مطابق آ پ کے فارغ التحصیل شاگردوں کی تعداد ۴۸۶ چار سو چھیا سی ہے اور وہ تمام اپنے وقت میں بڑے مدرس اور علامہ تھے ۔ ( مقالات قاسمی )

تلامذہ:
آپ کے شاگردوں کی طویل فہرست میں سے چند نام معلوم ہو سکے وہ درج ذیل ہیں:

٭ برادر اصغر مفتی اعظم علامہ مولانا خواجہ غلام صدیق شہداد کوٹی
٭ علامہ مولانا داد محمد قاضی آف مکران ( بلوچستان )
٭ مولانا علامہ عبد الحکیم افغانی ( کابل ، افغانستان )
٭ جامع العلوم علامہ محمد حسن قریشی ( حیدر آباد سندھ )
٭ مفتی اعظم علامہ مخدوم حسن اللہ صدیقی ( پاٹ شریف ضلع دادو )

سفر حرمین شریفین:
آپ کو حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول اکرم ﷺ کی حاضری و زیارت کی سعادت نصیب ہوئی ۔

شاعری:
آپ فارسی زبان کے بلند پایہ شاعر بھی تھے لیکن صد افسوس اپنوں کی غفلت اور لاپرواہی کے سبب علمی و ادبی سرمایہ ضائع ہو گیا، جوہر یوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے گوہر ، نایاب ہی رہ گئے، ان کی تاریخ کو اپنوں نے ہی ملیامیٹ کر دیا۔ شاداب شہدا ٹ اور تجلیات صدیقیہ کے مصنفین نے اپنی کتب میں آپ کا تذکرہ تک نہیں کیا کس قدر افسوس کی بات ہے ، کس قدراحسان فراموشی ہے۔ محترم منظور احمد حلیمی نے آپ پر مختصر مضمون لکھ کر آپ کے حالات کو محفوظ کیا ہے رب کریم جزائے خیر عطا فرمائے ۔ انہوں نے آپ کا ایک شعر نقل کیا ہے جو کہ حضرت ا میر خسرو نظامی چشتی علیہ الرحمہ ( دہلی ) کی رباعی کی تضمین میں کہا تھا:

می سازم، می سازم، چوں خون بکباب اندر
می گویم می خندم چوں برق سحاب اندر

کرامت:
حاجی سائیں داد مستوئی بلوچ ابتدا میں علامہ گل محمد شہداد کوٹی کا سخت مخالف تھا بلکہ وہ اہل علم سے چڑ کھا تا تھا، ایک بار ایک شخص نے آکر آپ سے عرض کی کہ قبلہ ! آپ کا پڑوسی سائیں داد نے میرے دو سو (۲۰۰) روپے ہضم کر لئے ہیں لہذا آپ ان سے دلوادیں ۔ آپ نے انہیں بلوانے کے لئے تین بار خادم بھیجا لیکن اس نے ہر بار ایک ہی جواب دیا کہ ’’میں ملا کے پاس ہر گز نہیں جاوٗ ں گا‘‘۔

چوتھی بار آپ نے یہ کہلا کر بھجوادیا کہ ،’’اس ملا کے دروازے پر تمہارے بار بار چکر لگیں گے‘‘۔

اور ایسا ہی ہواآپ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفا ظ پورے ہوئے کہ اسی رات سرد موسم کے باوجود آدھی رات کو سائیں داد چیختا چلاتا ہوا آپ کے مدرسہ میں پہنچا اور بوریہ نشین درویش حضرت گل محمد سے اپنی گستاخی کی معافی حاصل کی اور اس کے بعد آخر عمر تک حضرت کے صادق مرید و سچے خادم کی طرح خدمت میں ہی رہا ۔ انتقال کے وقت اولاد کو وصیت کرتے ہوئے کہا کہ اس درگاہ کی خدمت و محبت کو کبھی نہیں چھوڑنا اور بزرگوں کے عرس پابندی و عقیدت سے کرتے رہنا ۔

وصال:
علامۃ الزماں مولانا گل محمد شہداد کوٹی نے ۲۷، ذوالحجہ ۱۳۰۶ھ؍ جولائی ۱۸۸۹ء کو ۶۶سال کی عمر میں انتقال کیا۔ برادر اصغر شاگرد ارشد و جانشین مفتی اعظم غوث الزماں خواجہ غلام صدیق شہداد کوٹی قدس سرہ الاقدس نے نماز جنازہ کی امامت کے فرائض انجام دیئے اور درگاہ شریف صدیقیہ شہداد کوٹ ( ضلع لاڑکانہ سندھ ) میں تدفین ہوئی دربار مقدس ہر دور میں مرجع خلائق رہی ہے اور رہے گی انشاء اللہ تعالیٰ ۔ ( ماخوذ : مہران سوانح نمبر مطبوعہ ۱۹۵۷ء) ـ

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-alhaj-gul-muhammad-shahdadkoti
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
شیخ الفقہ مولانا حسن الدین ہاشمی بہاولپور رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

شیخ الفقہ والقانون حضرت علامہ مولانا حسن الدین ہاشمی بن فرید العصر مولانا فریدالدین (متوفی ۷ شوال ۱۳۹۲ھ /۱۴ نومبر ۱۹۷۲ء) بن حضرت مولانا احمد الدین ابن مولانا امیر حمزہ قدست اسرارہم ۲۱ رجب المرجب ۱۳۴۹ / ۱۲ دسمبر ۱۹۳۰ء میں قصبہ بھوئی گاڑ (ضلع کیمبپور) کے مقام پر پیدا ہوئے ۔

آپ کا سلسلۂ نسب امام محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے اور آپ کا علمی خاندان پورے علاقہ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے [۱] ۔

[۱۔ مولانا محمد عبدالحکیم شرف قادری، تذکرہ اکابر اہل سنّت، ص:۳۷۵۔ ۴۱۶]

آپ کے والد ماجد حضرت مولانا فرید الدین، تایا حضرت علامہ محب البنی اور جدِّ امجد مولانا احمد الدین متبحر علماء تھے ۔

تحصیل علوم:
آپ نے ابتدائی تعلیم بھیرہ ضلع سر گودھا میں مولانا محی الدین بھیروی سے حاصل کی پھر صرف و نحو کی کتب اپنے والد ماجد علیہ الرحمہ سے منڈی واء برٹن ضلع شیخو پورہ میں پڑھیں ۔ دیگر علوم و فنون کی کتب اہل سنت کی مرکزی درس گاہ مدرسہ عربیہ انوار العلوم (ملتان) میں پڑھنے کے بعد کتب احادیث (صحاح ستہ) جامعہ غوثیہ گولڑہ شریف میں اپنے عمِ مکرم استاذ العلماء حضرت مولانا محب البنی قدس سرہ العزیز (متوفی ۲۱ ربیع الاول / ۲۲ مارچ ۱۳۹۶ھ / ۱۹۷۶ء سے پڑھ کر سندِ فراغت و دستار فضیلت حاصل کی ۔

تدریسِ و خطابت:
آپ فراغت کے بعد دار العلوم حزب الاحناف (لاہور) میں مسندِ تدریس پر فائز ہوئے اور ساتھ ہی مسجد شمس الدین مصری شاہ میں خطابت کا سلسلہ شروع کیا ۔ کچھ عرصہ دار العلوم انجمن نعمانیہ میں تدریسی خدمات سر انجام دیتے رہے ۔

سابق صدرِ پاکستان محمد ایوب خان کے دورِ اقتدار میں جب جامعہ عباسیہ (جامعہ اسلامیہ (بہاول پور کو سرکاری تحویل میں لیا گیا، تو آپ جامعہ میں فقہ و قانون کے استاذ مقرر ہوئے ۔ ۱۹۷۲ء میں علماء اکیڈیمی محکمہ اوقاف (لاہور) میں لیکچرر مقرر ہوئے اور پھر ۱۹۷۴ء میں دوبارہ جامعہ اسلامیہ (اسلامی یونیورسٹی) بہاول پور تشریف لے گئے [۱] ۔

[۱۔ پیرزادہ علامہ اقبال احمد فاروقی، تذکرہ علماء اہل سنّت لاہور، ص:۴۲۴]

۱۹۷۵ء میں جب جامعہ سے رخصت پر آئے تو لاہور میں جامعہ نطامیہ رضویہ کے طلباء کو درسِ حدیث دینا شروع کر دیا اور ڈھائی تین ماہ بعد واپس جامعہ اسلامیہ تشریف لے گئے [۱] ۔

[۱۔ جامعہ نظامیہ رضویہ میں دورۂ حدیث کی جماعت، جس نے آپ سے اکتسابِ فیض کیا، اس میں راقم بھی تھا اور اس کتاب ’’علماء اہل سنّت کا تعارف‘‘ کی ترتیب کے لیے بنیاد آپ کا حسنِ انتخاب ہی تھا ۔ (مرتب)]

آپ علومِ عربیہ اسلامیہ کے کامل و ماہر استاد ہونے کے علاوہ علومِ جدیدہ پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں ۔ نفاست پسند ہیں اور نہایت میٹھی کلام فرماتے ہیں ۔ آپ کے نزدیک علومِ عربیہ اسلامیہ کے طلباء کو جدید علوم سے آگاہی نہایت ضروری ہے تاکہ وہ معاشرے میں اپنا صحیح مقام پیدا کر سکیں ۔

تحریرات:
حضرت علامہ حسن الدین ہاشمی نہ صرف کامل مدرس ہیں، صاحب قلم بھی ہیں۔ لاہور میں تدریس و خطابت کے دوران آپ نے ماہنامہ ’’ ترجمان حقیقت ‘‘ جاری فرمایا ۔ جامعہ اسلامیہ بہاول پور کے ’’ مجلہ ‘‘ کی ادارت بھی فرماتے رہے ۔

منطق کی مشہور کتاب قال اقول کی شرح البیان المعقول اور ادب کی کتاب سبعہ معلقات کی شرح بھی تحریر فرمائی ۔ [۱]

[۱۔ مولانا غلام مہر علی، الیواقیت المہریہ، ص:۱۲۶]

( تعارف علماءِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hassanuddin-hashmi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ شیخ احمد رکن الدین علاء الدولہ سمنانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام:
اسم گرامی احمد بن محمد ـ
کنیت: کنیت ابو المکارم تھی ـ

آپ علیہ الرحمہ سمنان کے بادشاہوں میں سے تھے پندرہ سال کی عمر تھی کہ اپنے وقت کے بادشاہ کے مصاحب خاص بن گئے ۶۷۴ھ میں شیخ نور الدین عبد الرحمٰن کسرتی قدس سرہٗ العزیز کے مرید ہوئے ریاضت و مجاہد کے زور سے کاملان خدا سے ہو گئے آپ نے اپنی عمر میں ایک سو تیس چلے کاٹے تھے ۔

ولادت:
[۱ ۔ علاء الدولہ احمد بن محمد بن احمد بیابانکی سمنانی ماہ ذوالحجہ ۴۵۹ھ میں سمنان سے بارہ کلو میٹر بیا بانک کے قصبہ میں پیدا ہوئے ۔

خاندان:
آپ کا خاندان شاہی خاندان کہلاتا تھا ـ آپ کے والد ملک شرف الدین سمنانی ارغون خان اور غازاں خان کے ایلخانی دَور میں مشیر حکومت رہے ۔ آپ کے ماموں رکن الدین صابن (م۷۰۰ھ) ایلخانی عہد کے عالم، قاضی اور فقہیہ تھے ـ

حضرت علاء الدولہ نے آپ سے ہی علوم شرعیہ پر عبور حاصل کیا ـ تعلیم سے فارغ ہو کر آپ بھی ایلخانی حکومت میں دیوانی معاملات میں مشغول ہوئے ۔ قبا و کلاہ اور سلاح کے مالک بنے ارکان سلطنت میں ایک خاص مقام پر فائز ہوئے ۔ دس سال کے اقتدار کے بعد (۴۷۴۔۴۸۳ھ) آپ ۴۸۳ھ میں ارغون خان ایلخوانی کے ساتھ ایک جنگ میں شریک تھے کہ آپ کے دل کی دنیا بدل گئی ۔ قبا کلاہ اور سلاح ایک طرف پھینکا عبادت و ریاضت میں مشغول ہو گئے (تلخیص و ترجمہ چہل از دیباچہ مجلس مرتبہ امیر اقبال سیتانی مطبوعہ بہ اہتمام ایران عبد الرفیع حقیقت) ]

وصال:
آپ کی وفات ۶۵۹ھ میں ہوئی اور وفات جمعہ ۲۱ رجب المرجب ۷۳۶ھ کو ہوئی آپ نے ستتر (۷۷) سال (تقریباً) عمر پائی تھی آپ کا مزار شیخ عماد الدین عبد الوہاب کے مقبرے کے متصل واقع ہے ۔

جناب شیخ رکن الدین سمنانی شہِ اکبر
ز رکن الدین قریب آمد عیاں تاریخ تولیدش ۶۵۹ھ

کہ بود اندر جہاں اور راہنمائے راۂ حقانی
سنیں عمرش ازعابد عیاں می گرد و از خوانی ۷۳۶ھ

مآخذ: خزینۃ الاصفیاء ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-sheikh-ahmad-ruknuddin-alauddolah-samnani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
علامہ شفیع اوکاڑوی علیہ الرحمہ

خطیب اعظم پاکستان، حضرت علامہ حافظ محمد شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
خطیبِ پاکستان حضرت علامہ حافظ محمد شفیع اوکاڑوی نقشبندی، بن حاجی شیخ کرم الہی، بن شیخ اللہ دتا، بن شیخ امام الدین (رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) ۔

تاریخِ ولادت:
آپ 1929ء کو کھیم کرن (ضلع ترن تارن) مشرقی پنجاب (انڈیا) میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدآئی تعلیم سے لے کر مڈل تک تعلیم کھیم کرن میں حاصل کی ،اس کے بعد اپنے خاندان سمیت کھیم کرن سے اوکاڑا (پنجاب پاکستان) منتقل ہو گئے ۔

یہاں دار العلوم اشرف المدارس میں شیخ القرآن حضرت علامہ غلام علی اوکاڑوی علیہ الرحمہ سے اور بعد میں مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی علیہ الرحمہ سے جمیع علومِ دینیہ کی تکمیل کر کے سندِ فراغت حاصل کی ۔

بیعت و خلافت:
آستانہ عالیہ شرق پور شریف (ضلع شیخو پورہ) میں شیخ طریقت، ولی کامل حضرت میاں غلام اللہ صاحب علیہ الرحمہ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
خطیبِ پاکستان ، مقررِ شیریں بیان ، مصلحِ امت ، محسنِ اہل سنت ، عظیم مفکر و مدبر، مبلغِ اسلام ، حضرت علامہ مولانا محمد شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ ۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو حسنِ سیرت و صورت کے ساتھ حسنِ گفتار کا بھی خاص ملکہ عطا فرمایا تھا ۔ آپ نے اپنی خدا داد صلاحیتوں کو خدمتِ اسلام کے لئے بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں کے دلوں کو نورِ ایمان و ایقان اور سرورِ عالم ﷺ اور آپکے صحابہ واہلِ بیت اور اولیاء اللہ (علیہم الرحمۃ والرضوان) کے عشق و محبت سے بھر دیا ۔

تحریک ختمِ نبوت میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، اور تحریک نظامِ مصطفیٰ ﷺ میں بھر پور کردار ادا کیا ۔مخالفینِ مسلکِ اہلِ سنت نے بَوکھلاہٹ کا شکار ہو کر آپ پر قاتلانہ حملہ بھی کیا، لیکن آپ اپنے مشن سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہَٹے ۔ تادمِ زیست زبان قلم سے لا دین، ملحدین ، بد عقیدہ و بدمذاہب کے خلاف بھر پور جہاد کرتے رہے ۔

گمراہوں کو راہِ حق دکھائی، اور ایسے دلوں میں شمعِ ایمان روشن کی جو ظلمت کی گمراہ وادیوں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے تھے، جو روشنی کی ایک ایک کرن کو ترس رہے تھے، وہی لوگ جو اسلام کے نام سے کانوں پر ہاتھ دھر لیتے تھے وہی اذان کے لیئے ہاتھ اٹھانے لگے ۔ آپ کی آواز صاف فصیح و بلیغ، اور انداز منفرد ہوا کرتا تھا ۔ جس موضوع پر بات کرتے عقلی و نقلی دلائل سے عام سامع کو بات سمجھانے کا طریقہ بہت دِلپزیر ہوا کرتا تھا ۔

آپ نے چالیس سال کے عرصہ میں تقریباً اٹھارہ ہزار سے زائد اجتماعات سے خطاب کیا، جو کہ ایک عالمی ریکارڈ ہے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطاء فرمائے (آمین)

وصال:
بروز منگل 21 رجب المرجب 1404ھ / بمطابق 24 اپریل 1984ء کی صبح 55 برس کی عمر میں اذان فجر کے بعد با آواز بلند درود شریف پڑھتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-hafiz-muhammad-shafi-okarvi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1