🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
مقدام العارفین حضرت میر سید شاہ عبد الجلیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادتِ با سعادت:
آپ 20رجب المرجب 972ھ بروز جمعرات بوقت ظہر بلگرام شریف میں پیدا ہوئے ۔

والدِ ماجد کا نام:
حضرت میر سید عبد الواحد بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ

مارہرہ شریف میں آمد:
1017ھ میں ۔

آپ پر عالم جذب کب طاری ہوا اور کتنے دنوں تک رہا؟
عین عالم شباب میں آپ پر جذب کی کیفیت طاری ہوئی اور پورے بارہ برس تک آپ اسی حالت میں عالم کی سیر کرتے رہے ۔

اترنجی کھیڑا کا ایک واقعہ:
یہ مارہرہ شریف سے جانب مشرق 3 کوس کے فاصلے پر ہے یہاں رجال الغیب میں سے ایک نورانی بزرگ سے میر صاحب کی ملاقات ہوئی، انہوں نے آپ کو دودھ چاول کھلایا اور فرمایا: ’’یہاں سے قریب ایک شہر مارہرہ آباد ہے ۔ بارگاہ الہٰی اور دربار رسالت مآب سے وہاں کی ولایت تم کو عطا ہوئی۔ جاؤ اور رشد و ہدایتِ خلق میں مشغول ہو جاؤ ۔ ‘‘

دربارِ رسالت مآب ﷺ سے استقبال کا انتظام:
چودھری وزیر محمد عرف چودھری وزیر خاں رئیس مارہرہ ،ایک رات میں تین مرتبہ سر کار دو عالم ﷺ کے دیدار سے مشرف ہوئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میری اولاد سے تیرا پیراور یہاں کا صاحب ولایت اترنجی کھیڑا پر ہے، جاؤ استقبال کر کے لے آؤ ۔ ‘‘

اولادِ امجاد:
آپ کے چار صاحبزادے ہوئے:
(۱) سید ابو الفتح ـ
(۲) سید اویس (جدِّ ساداتِ مارہرہ)
(۳)سید محمد ـ
(۴) سید ابو الخیر

خلیفہ:
فرزند اصغر حضرت سید شاہ اویس قدس سرہٗ ۔

وصالِ پُر ملال:
حضرت میر سید شاہ عبد الجلیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وصال 8 صفر المظفر بروز دو شنبہ مبارکہ 1057ھ میں مارہرہ میں ہوا ۔

کچھ اہم کار نامے:
(۱) آپ ہی کے دم قدم سے مارہرہ کو شرف و بلندی کا مقام حاصل ہوا ۔ (۲) آپ نے برج کی دھرتی کو اپنی آمد سے روحانیت اور تصوف کی دولت سے مالا مال کیا اور پورے خطے میں پیار، محبت اور فقر و سلوک کے پیغام کو عام کیا ۔

بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ، علی گڑھ

دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meer-syed-shah-abdul-jaleel-bilgirami
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ مولانا حافظ محمد اویس سلطانی

نام و نسب:
نسب:
محمد اویس سلطانی بن محمد سعید سلطانی بن محمد رفیق بن بہاول بخش بن اللہ بخش ۔

تاریخِ ولادت:
آپ 20 رجب المرجب 1414ھ مطابق 3 جنوری 1994ء کو قیوم آباد (کراچی) میں پیدا ہوئے ۔

شیخِ طریقت:
پیرِطریقت حضرت پیر سیّد عبدالقادر جمال الدین قادری گیلانی بغدادی مدظلہ العالی سے بیعت اور حضرت صاحبزادہ سلطان فیاض الحسن سہروردی قادری مدظلہ العالی سے طالب ہیں ۔

خلافت و اجازت:
حضرت شیخ عبد العزیز الخطیب شامی دامت برکاتہم العالیۃ نے اجازتِ حدیث سے نوازا، جب کہ حضرت صاحبزادہ علامہ مولانا سیّد وجاہت رسول قادری مدظلہ العالی سے آپ کو اَوراد و وظائف کی اجازت کے ساتھ ساتھ شرفِ خلافت بھی حاصل ہے ۔

تحصیل علم:
والدِ ماجد کی خواہش پر حفظِ قرآن ’’ اقرأ غوثیہ تعلیم القرآن ‘‘ قیوم آباد (کراچی) سے کیا ۔ اپنے استاذ محترم حافظ و قاری محمد اجمل خاں مہروی کی انفرادی کوشش اورنظر عنایت سے درسِ نظامی کی تعلیم الفرقان اسکالرز اکیڈمی (کراچی) میں مفتی محمد اکمل صاحب زید مجدہ، مفتی شاہد مدنی، مفتی آصف مدنی، مفتی ناصر مدنی، مفتی امجد علی قادری، مفتی معاذ مدنی وغیرہم سے حاصل کی؛ نیز انجمن ضیائے طیبہ (کراچی) میں نبیرۂ بیہقیِ وقت حضرت علامہ مفتی محمد اکرام المحسن فیضی مدظلہ العالی سے شمائلِ ترمذی اور علم المیراث کی تعلیم حاصل کی۔ سیّد محمد اطہر علی ہاشمی صاحب (بانی ادارۂ رشد و ہدایت (پاکستان)، کراچی) سے بھی علمی اکتساب کیا ۔

سیرت:
مولانا محمد اویس سلطانی صاحب با اخلاق اور ملنسار آدمی ہیں ۔ اپنے خاندان میں صرف یہی ایک حافظ اور عالم ہیں: امید ہے کہ ان کی کوششوں اور کاوشوں سے ان کے خاندان میں اس سلسلے میں مزید ترغیب پیدا ہوگی ۔ اس وقت انجمن ضیائے طیبہ (کراچی) میں ویب سروس سے متعلق خدمات کے ساتھ ساتھ ادارۂ رشد و ہدایت (پاکستان) میں مدرّس کے فرائض بھی انجام دے رہے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں دین متین کی خدمت کی مزید توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔

مولانا ندیم احمد ندیم نورانی صاحب نے ایک قطعہ برجستہ تحریر فرمایا ہے:

عالم دین و عامل سنت
ہیں محمد اویس سلطانی

ان کے کردار میں نمایاں ہے
حسن اخلاق کی درخشانی

دو جہاں میں اِنھیں ملے راحت
ہے دعا گو نؔدیم نورانی

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-hafiz-muhammad-owais-sultani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
سید الراحمین حضرت سید شاہ اویس بلگرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسمِ گرامی:
حضرت سید شاہ اویس قدس سرہٗ۔

والدِ ماجد کا نام:
مقدام العارفین حضرت میر سید شاہ عبد الجلیل بلگرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔

بیعت و خلافت:
والدِ ماجد حضرت میر سید شاہ عبد الجلیل بلگرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ہے۔

اولادِ امجاد:
(۱) حضرت سید شاہ عظمت اللہ قدس سرہ ـ (۲) حضرت سید رحمت اللہ قدس سرہٗ ـ (۳) حضرت سید شاہ برکت اللہ قدس سرہٗ ۔

سیرت کا روشن پہلو:
آپ عفو و در گزر کے پیکر تھے، کسی سے بھی انتقام نہیں لیتے تھے، جانوروں پر بھی آپ بہت ہی رحم کیا کرتے تھے۔

مشاہیر خلفاء:
(۱) سید شاہ برکت اللہ قدس سرہٗ ـ (۲) سید شاہ رحمت اللہ قدس سرہٗ ـ (۳) سید شاہ عظمت اللہ قدس سرہٗ اور ـ (۴) شاہ رہبر رحمۃ اللہ علیہ ۔

وصالِ پُر ملال:
20؍ رجب المرجب 1097ھ میں ۔

مزار پاک:
بلگرام شریف میں ۔

بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ،علی گڑھ

دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-owais-bilgrami
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خلیفۂ حضور مفتئ اعظم ہند ، بحر العلوم ، حضرت علامہ مفتی سید محمد افضل حسین رضوی مونگیری علیہ الرحمہ

سابق مفتی دار العلوم منظرِ اسلام بریلی شریف

نام و نسب:
بحر العلوم حضرت علامہ مولانا مفتی سید محمد افضل حسین رضوی بن میر سید حسن بن میر سید جعفر علی میر سید خیرات علی بن میر سید منصور علی ۔ (علیہم الرحمہ) ـ

تاریخِ ولادت:
ہندوستان کے موضع بوانا (صوبہ بہار) میں 14 رمضان المبارک 1337ھ / 13 جون 1919ء بروز جمعۃ المبارک صبح صادق کے وقت تولد ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے درسِ نظامی کی کتب ِمتداولہ مدرسہ فیض الغرباء آرہ صوبہ بہار، شمس العلوم بدایوں اور جامعہ رضویہ منظرِ اسلام بریلی شریف میں حضرت مولانا محمد اسماعیل آروی، حضرت مولانا محمد ابراہیم آروی، حضرت مولانا محمد ابراہیم آروی، حضرت مفتی محمد ابراہیم سمستی پوری، حضرت مولانا مفتی ابرار حسین، حضرت مولانا احسان علی مظفر پوری اور شیخ المحدثین علامہ مولانا مفتی نور الحسین مجددی رامپوری شارح قاضی مبارک سے پڑھنے کے بعد شعبان 1359ھ / ستمبر 1940ء میں جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف سے سندِ فراغت حاصل کی ۔

بیعت و خلافت:
جمادی الاخریٰ 1367ھ / اپریل 1948ء میں حضور مفتی اعظم ہند مولانا محمد مصطفیٰ رضا نوری بریلوی کے دستِ حق پرست پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت کا شرف حاصل کیا اور 1372ھ / 1953ء میں حضور مفتی اعظم نے جمیع سلاسل طریقت اور تمام اوراد و وظائف کی اجازت دے کر خلافت سے مشرف فرمایا ۔

سیرت و خصائص:
بحر العلوم مفتی سید محمد افضل حسین مونگیری علیہ الرحمہ ایک بلند پایہ محقق، بے مثال مفتی اور علم و عرفان کا منبع تھے ۔ آپ علیہ الرحمہ کی علمی شخصیت جو بیک وقت علمی طبقہ میں محدث و مفسر ، فقیہ العصر ، متکلم و محقق ، مصنف و مدقق اور عملی طبقہ میں صاحب ِتدبر اور صائب الرائے تسلیم کیے جاتے تھے ۔ آپ کی ذات شریعت و طریقت کا حسین سنگم تھی ۔آپ کی وہ پر وقار شخصیت کہ ہر ناظر اپنے سینے میں ایک نرم و گداز حصہ ضرور پاتا تھا، اور ایک مرتبہ ملاقات کرنے والا بار بار ملنے کی آرزو رکھتا، اور ایسا کیونکر نہ ہوتا کہ یہ تمام فیض شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتی اعظم علیہ الرحمہ سے شرفِ تلمذ و ارادت اور خلافت کی شکل میں حاصل ہوا تھا ۔

آپ کی علمی صلاحیت و وقار کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے کہ آپ فراغت کے فوراً بعد جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف میں منصب افتاء پر فائز ہوئے ۔ بعد ازاں تدریسی فرائض بھی انجام دینے شروع کر دئے ۔ جامعہ میں آپ نے شیخ الحدیث، صدر مدرس اور مفتی کی حیثیت سے کام کیا ۔ اس کے ساتھ عملی زندگی میں بھی بھر پور حصہ لیا ۔ آل انڈیا سنی کانفرنس ، تحریکِ پاکستان اور بِالخصوص آپ کی تحریری خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائےگا ۔

وصال:
20 رجب المرجب 1402ھ / بمطابق 1982ء کو آپ کا وصال ہوا ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mufti-syed-muhammad-afzal-hussain-rizvi-mongeri
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-07-1445 ᴴ | 31-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
20-07-1445 ᴴ | 01-02-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2