🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-07-1445 ᴴ | 31-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-07-1445 ᴴ | 31-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
صحابی ابن صحابی کاتب وحی
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ اللهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهٗ ⓲
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
صحابی ابن صحابی کاتب وحی
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ اللهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهٗ ⓲
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-07-1445 ᴴ | 31-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-07-1445 ᴴ | 31-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
مقدام العارفین حضرت میر سید شاہ عبد الجلیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادتِ با سعادت:
آپ 20رجب المرجب 972ھ بروز جمعرات بوقت ظہر بلگرام شریف میں پیدا ہوئے ۔
والدِ ماجد کا نام:
حضرت میر سید عبد الواحد بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ
مارہرہ شریف میں آمد:
1017ھ میں ۔
آپ پر عالم جذب کب طاری ہوا اور کتنے دنوں تک رہا؟
عین عالم شباب میں آپ پر جذب کی کیفیت طاری ہوئی اور پورے بارہ برس تک آپ اسی حالت میں عالم کی سیر کرتے رہے ۔
اترنجی کھیڑا کا ایک واقعہ:
یہ مارہرہ شریف سے جانب مشرق 3 کوس کے فاصلے پر ہے یہاں رجال الغیب میں سے ایک نورانی بزرگ سے میر صاحب کی ملاقات ہوئی، انہوں نے آپ کو دودھ چاول کھلایا اور فرمایا: ’’یہاں سے قریب ایک شہر مارہرہ آباد ہے ۔ بارگاہ الہٰی اور دربار رسالت مآب سے وہاں کی ولایت تم کو عطا ہوئی۔ جاؤ اور رشد و ہدایتِ خلق میں مشغول ہو جاؤ ۔ ‘‘
دربارِ رسالت مآب ﷺ سے استقبال کا انتظام:
چودھری وزیر محمد عرف چودھری وزیر خاں رئیس مارہرہ ،ایک رات میں تین مرتبہ سر کار دو عالم ﷺ کے دیدار سے مشرف ہوئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میری اولاد سے تیرا پیراور یہاں کا صاحب ولایت اترنجی کھیڑا پر ہے، جاؤ استقبال کر کے لے آؤ ۔ ‘‘
اولادِ امجاد:
آپ کے چار صاحبزادے ہوئے:
(۱) سید ابو الفتح ـ
(۲) سید اویس (جدِّ ساداتِ مارہرہ)
(۳)سید محمد ـ
(۴) سید ابو الخیر
خلیفہ:
فرزند اصغر حضرت سید شاہ اویس قدس سرہٗ ۔
وصالِ پُر ملال:
حضرت میر سید شاہ عبد الجلیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وصال 8 صفر المظفر بروز دو شنبہ مبارکہ 1057ھ میں مارہرہ میں ہوا ۔
کچھ اہم کار نامے:
(۱) آپ ہی کے دم قدم سے مارہرہ کو شرف و بلندی کا مقام حاصل ہوا ۔ (۲) آپ نے برج کی دھرتی کو اپنی آمد سے روحانیت اور تصوف کی دولت سے مالا مال کیا اور پورے خطے میں پیار، محبت اور فقر و سلوک کے پیغام کو عام کیا ۔
بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ، علی گڑھ
دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meer-syed-shah-abdul-jaleel-bilgirami
ولادتِ با سعادت:
آپ 20رجب المرجب 972ھ بروز جمعرات بوقت ظہر بلگرام شریف میں پیدا ہوئے ۔
والدِ ماجد کا نام:
حضرت میر سید عبد الواحد بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ
مارہرہ شریف میں آمد:
1017ھ میں ۔
آپ پر عالم جذب کب طاری ہوا اور کتنے دنوں تک رہا؟
عین عالم شباب میں آپ پر جذب کی کیفیت طاری ہوئی اور پورے بارہ برس تک آپ اسی حالت میں عالم کی سیر کرتے رہے ۔
اترنجی کھیڑا کا ایک واقعہ:
یہ مارہرہ شریف سے جانب مشرق 3 کوس کے فاصلے پر ہے یہاں رجال الغیب میں سے ایک نورانی بزرگ سے میر صاحب کی ملاقات ہوئی، انہوں نے آپ کو دودھ چاول کھلایا اور فرمایا: ’’یہاں سے قریب ایک شہر مارہرہ آباد ہے ۔ بارگاہ الہٰی اور دربار رسالت مآب سے وہاں کی ولایت تم کو عطا ہوئی۔ جاؤ اور رشد و ہدایتِ خلق میں مشغول ہو جاؤ ۔ ‘‘
دربارِ رسالت مآب ﷺ سے استقبال کا انتظام:
چودھری وزیر محمد عرف چودھری وزیر خاں رئیس مارہرہ ،ایک رات میں تین مرتبہ سر کار دو عالم ﷺ کے دیدار سے مشرف ہوئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میری اولاد سے تیرا پیراور یہاں کا صاحب ولایت اترنجی کھیڑا پر ہے، جاؤ استقبال کر کے لے آؤ ۔ ‘‘
اولادِ امجاد:
آپ کے چار صاحبزادے ہوئے:
(۱) سید ابو الفتح ـ
(۲) سید اویس (جدِّ ساداتِ مارہرہ)
(۳)سید محمد ـ
(۴) سید ابو الخیر
خلیفہ:
فرزند اصغر حضرت سید شاہ اویس قدس سرہٗ ۔
وصالِ پُر ملال:
حضرت میر سید شاہ عبد الجلیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وصال 8 صفر المظفر بروز دو شنبہ مبارکہ 1057ھ میں مارہرہ میں ہوا ۔
کچھ اہم کار نامے:
(۱) آپ ہی کے دم قدم سے مارہرہ کو شرف و بلندی کا مقام حاصل ہوا ۔ (۲) آپ نے برج کی دھرتی کو اپنی آمد سے روحانیت اور تصوف کی دولت سے مالا مال کیا اور پورے خطے میں پیار، محبت اور فقر و سلوک کے پیغام کو عام کیا ۔
بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ، علی گڑھ
دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meer-syed-shah-abdul-jaleel-bilgirami
❤1
حضرت علامہ مولانا حافظ محمد اویس سلطانی
نام و نسب:
نسب: محمد اویس سلطانی بن محمد سعید سلطانی بن محمد رفیق بن بہاول بخش بن اللہ بخش ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 20 رجب المرجب 1414ھ مطابق 3 جنوری 1994ء کو قیوم آباد (کراچی) میں پیدا ہوئے ۔
شیخِ طریقت:
پیرِطریقت حضرت پیر سیّد عبدالقادر جمال الدین قادری گیلانی بغدادی مدظلہ العالی سے بیعت اور حضرت صاحبزادہ سلطان فیاض الحسن سہروردی قادری مدظلہ العالی سے طالب ہیں ۔
خلافت و اجازت:
حضرت شیخ عبد العزیز الخطیب شامی دامت برکاتہم العالیۃ نے اجازتِ حدیث سے نوازا، جب کہ حضرت صاحبزادہ علامہ مولانا سیّد وجاہت رسول قادری مدظلہ العالی سے آپ کو اَوراد و وظائف کی اجازت کے ساتھ ساتھ شرفِ خلافت بھی حاصل ہے ۔
تحصیل علم:
والدِ ماجد کی خواہش پر حفظِ قرآن ’’ اقرأ غوثیہ تعلیم القرآن ‘‘ قیوم آباد (کراچی) سے کیا ۔ اپنے استاذ محترم حافظ و قاری محمد اجمل خاں مہروی کی انفرادی کوشش اورنظر عنایت سے درسِ نظامی کی تعلیم الفرقان اسکالرز اکیڈمی (کراچی) میں مفتی محمد اکمل صاحب زید مجدہ، مفتی شاہد مدنی، مفتی آصف مدنی، مفتی ناصر مدنی، مفتی امجد علی قادری، مفتی معاذ مدنی وغیرہم سے حاصل کی؛ نیز انجمن ضیائے طیبہ (کراچی) میں نبیرۂ بیہقیِ وقت حضرت علامہ مفتی محمد اکرام المحسن فیضی مدظلہ العالی سے شمائلِ ترمذی اور علم المیراث کی تعلیم حاصل کی۔ سیّد محمد اطہر علی ہاشمی صاحب (بانی ادارۂ رشد و ہدایت (پاکستان)، کراچی) سے بھی علمی اکتساب کیا ۔
سیرت:
مولانا محمد اویس سلطانی صاحب با اخلاق اور ملنسار آدمی ہیں ۔ اپنے خاندان میں صرف یہی ایک حافظ اور عالم ہیں: امید ہے کہ ان کی کوششوں اور کاوشوں سے ان کے خاندان میں اس سلسلے میں مزید ترغیب پیدا ہوگی ۔ اس وقت انجمن ضیائے طیبہ (کراچی) میں ویب سروس سے متعلق خدمات کے ساتھ ساتھ ادارۂ رشد و ہدایت (پاکستان) میں مدرّس کے فرائض بھی انجام دے رہے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں دین متین کی خدمت کی مزید توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔
مولانا ندیم احمد ندیم نورانی صاحب نے ایک قطعہ برجستہ تحریر فرمایا ہے:
عالم دین و عامل سنت
ہیں محمد اویس سلطانی
ان کے کردار میں نمایاں ہے
حسن اخلاق کی درخشانی
دو جہاں میں اِنھیں ملے راحت
ہے دعا گو نؔدیم نورانی
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-hafiz-muhammad-owais-sultani
نام و نسب:
نسب: محمد اویس سلطانی بن محمد سعید سلطانی بن محمد رفیق بن بہاول بخش بن اللہ بخش ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 20 رجب المرجب 1414ھ مطابق 3 جنوری 1994ء کو قیوم آباد (کراچی) میں پیدا ہوئے ۔
شیخِ طریقت:
پیرِطریقت حضرت پیر سیّد عبدالقادر جمال الدین قادری گیلانی بغدادی مدظلہ العالی سے بیعت اور حضرت صاحبزادہ سلطان فیاض الحسن سہروردی قادری مدظلہ العالی سے طالب ہیں ۔
خلافت و اجازت:
حضرت شیخ عبد العزیز الخطیب شامی دامت برکاتہم العالیۃ نے اجازتِ حدیث سے نوازا، جب کہ حضرت صاحبزادہ علامہ مولانا سیّد وجاہت رسول قادری مدظلہ العالی سے آپ کو اَوراد و وظائف کی اجازت کے ساتھ ساتھ شرفِ خلافت بھی حاصل ہے ۔
تحصیل علم:
والدِ ماجد کی خواہش پر حفظِ قرآن ’’ اقرأ غوثیہ تعلیم القرآن ‘‘ قیوم آباد (کراچی) سے کیا ۔ اپنے استاذ محترم حافظ و قاری محمد اجمل خاں مہروی کی انفرادی کوشش اورنظر عنایت سے درسِ نظامی کی تعلیم الفرقان اسکالرز اکیڈمی (کراچی) میں مفتی محمد اکمل صاحب زید مجدہ، مفتی شاہد مدنی، مفتی آصف مدنی، مفتی ناصر مدنی، مفتی امجد علی قادری، مفتی معاذ مدنی وغیرہم سے حاصل کی؛ نیز انجمن ضیائے طیبہ (کراچی) میں نبیرۂ بیہقیِ وقت حضرت علامہ مفتی محمد اکرام المحسن فیضی مدظلہ العالی سے شمائلِ ترمذی اور علم المیراث کی تعلیم حاصل کی۔ سیّد محمد اطہر علی ہاشمی صاحب (بانی ادارۂ رشد و ہدایت (پاکستان)، کراچی) سے بھی علمی اکتساب کیا ۔
سیرت:
مولانا محمد اویس سلطانی صاحب با اخلاق اور ملنسار آدمی ہیں ۔ اپنے خاندان میں صرف یہی ایک حافظ اور عالم ہیں: امید ہے کہ ان کی کوششوں اور کاوشوں سے ان کے خاندان میں اس سلسلے میں مزید ترغیب پیدا ہوگی ۔ اس وقت انجمن ضیائے طیبہ (کراچی) میں ویب سروس سے متعلق خدمات کے ساتھ ساتھ ادارۂ رشد و ہدایت (پاکستان) میں مدرّس کے فرائض بھی انجام دے رہے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں دین متین کی خدمت کی مزید توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔
مولانا ندیم احمد ندیم نورانی صاحب نے ایک قطعہ برجستہ تحریر فرمایا ہے:
عالم دین و عامل سنت
ہیں محمد اویس سلطانی
ان کے کردار میں نمایاں ہے
حسن اخلاق کی درخشانی
دو جہاں میں اِنھیں ملے راحت
ہے دعا گو نؔدیم نورانی
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-hafiz-muhammad-owais-sultani
❤1
سید الراحمین حضرت سید شاہ اویس بلگرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسمِ گرامی:
حضرت سید شاہ اویس قدس سرہٗ۔
والدِ ماجد کا نام:
مقدام العارفین حضرت میر سید شاہ عبد الجلیل بلگرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔
بیعت و خلافت:
والدِ ماجد حضرت میر سید شاہ عبد الجلیل بلگرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ہے۔
اولادِ امجاد:
(۱) حضرت سید شاہ عظمت اللہ قدس سرہ ـ (۲) حضرت سید رحمت اللہ قدس سرہٗ ـ (۳) حضرت سید شاہ برکت اللہ قدس سرہٗ ۔
سیرت کا روشن پہلو:
آپ عفو و در گزر کے پیکر تھے، کسی سے بھی انتقام نہیں لیتے تھے، جانوروں پر بھی آپ بہت ہی رحم کیا کرتے تھے۔
مشاہیر خلفاء:
(۱) سید شاہ برکت اللہ قدس سرہٗ ـ (۲) سید شاہ رحمت اللہ قدس سرہٗ ـ (۳) سید شاہ عظمت اللہ قدس سرہٗ اور ـ (۴) شاہ رہبر رحمۃ اللہ علیہ ۔
وصالِ پُر ملال:
20؍ رجب المرجب 1097ھ میں ۔
مزار پاک:
بلگرام شریف میں ۔
بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ،علی گڑھ
دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-owais-bilgrami
اسمِ گرامی:
حضرت سید شاہ اویس قدس سرہٗ۔
والدِ ماجد کا نام:
مقدام العارفین حضرت میر سید شاہ عبد الجلیل بلگرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔
بیعت و خلافت:
والدِ ماجد حضرت میر سید شاہ عبد الجلیل بلگرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ہے۔
اولادِ امجاد:
(۱) حضرت سید شاہ عظمت اللہ قدس سرہ ـ (۲) حضرت سید رحمت اللہ قدس سرہٗ ـ (۳) حضرت سید شاہ برکت اللہ قدس سرہٗ ۔
سیرت کا روشن پہلو:
آپ عفو و در گزر کے پیکر تھے، کسی سے بھی انتقام نہیں لیتے تھے، جانوروں پر بھی آپ بہت ہی رحم کیا کرتے تھے۔
مشاہیر خلفاء:
(۱) سید شاہ برکت اللہ قدس سرہٗ ـ (۲) سید شاہ رحمت اللہ قدس سرہٗ ـ (۳) سید شاہ عظمت اللہ قدس سرہٗ اور ـ (۴) شاہ رہبر رحمۃ اللہ علیہ ۔
وصالِ پُر ملال:
20؍ رجب المرجب 1097ھ میں ۔
مزار پاک:
بلگرام شریف میں ۔
بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ،علی گڑھ
دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-owais-bilgrami
scholars.pk
Hazrat Shah Owais Bilgrami
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1