🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-07-1445 ᴴ | 30-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-07-1445 ᴴ | 30-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-07-1445 ᴴ | 30-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-07-1445 ᴴ | 30-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت مولانا صوفی حامد علی (لیہ) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت مولانا صوفی حامد علی قدس سرہ اپنے دور کے بہترین مدرسین میں شمار ہوتے تھے ، موجودہ دور میں تقوی و پرہیز گاری کے اعتبار سے سلف صالحین کا نمونہ تھے ۔
آپ کے ابتدائی حالات معلوم نہ ہو سکے ، راقم نے سیال شریف میں آپ سے نحو میر پڑھنے کی سعادت حاصل کی تھی ، ان جیسے انہماک سے پڑھاتے ہوئے بہت کم اساتذہ کو دیکھا گیا ہے ۔
حضرت مولانا صوفی حامد علی قدس سرہ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت پیر بار و دام ظلہ العالی سے بیعت اور مستفیض تھے ۔ طویل عرصہ تک سیال شریف میں پڑھاتے رہے پھر غالباً 1961ء یا 1962ء میں ضلع لیہ میں جامعہ نعیمیہ رضویہ کی بنیاد رکھی ، تدریس کے لئے بہترین مدرسین کا انتظام کیا، گرد و نواح کے متلاً شیان علم دین جوق در جوق آنے لگے اور تھوڑے ہی عرصہ میں مدرسہ ایک مثالی درس گاہ بن گیا ۔
وصال:
19 رجب 16 جولائی ( 1396ھ / 1976ء) بروز جمعہ حضرت استاذی الکریم مولانا صوفی حامد ولی قدس سرہ کا وصال ہوا اور لیہ میں آپ کی آخری آرام گاہ بنی ۔
اب وہ محلہ جہاں آپ نے مدرسہ قائم کیا تھا، حامد آباد ، کے نام سے معروف ہے آپ کے بھتیجے مولانا محمد اقبال سلمہ بہ ہو نہار اور زیرک نو جوان ہیں ، خدا کرے وہ جامعہ نعمانیہ رضویہ کی بقا اور ترقی کی کوششوں میں کامیاب ہوں ۔
جناب فدا حسین فدا مدظلہ نے
قطعۂ تاریخ وصال تحریر کیا:
نہ کیونکر اہل علم و فضل کے دل آج ہوں غمگیں
ہوئے جو حضرت حامد علی میں دہر سے رخصت
انہیں محبوب تھا دین رسول ہاشمی واللہ !
حریف اہل باطل تھے وہ الحق قاطع بدعت
وہ پابند شریعت بھی تھے اور اہل طریقت بھی
انہیں ہر حال میں مطلوب تھی اسلام کی حرمت
علوم دیں میں یکتا تھے وہ بیشک بزم عالم میں
نہاں ہر دل میں ہے ان کے کمال و فضل کی عظمت
بہ فیض رحمۃ العالمین از لطف ربانی
بنے گی بقعۂ انوار یزدان آپ کی تربت
سن ترحیل میں ان کے فدا غلبان ہوتے ہی
ندایہ عرش سے آئی کہو ’’صوفی ملک خصلت‘‘
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hamid-ali-layyah
حضرت مولانا صوفی حامد علی قدس سرہ اپنے دور کے بہترین مدرسین میں شمار ہوتے تھے ، موجودہ دور میں تقوی و پرہیز گاری کے اعتبار سے سلف صالحین کا نمونہ تھے ۔
آپ کے ابتدائی حالات معلوم نہ ہو سکے ، راقم نے سیال شریف میں آپ سے نحو میر پڑھنے کی سعادت حاصل کی تھی ، ان جیسے انہماک سے پڑھاتے ہوئے بہت کم اساتذہ کو دیکھا گیا ہے ۔
حضرت مولانا صوفی حامد علی قدس سرہ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت پیر بار و دام ظلہ العالی سے بیعت اور مستفیض تھے ۔ طویل عرصہ تک سیال شریف میں پڑھاتے رہے پھر غالباً 1961ء یا 1962ء میں ضلع لیہ میں جامعہ نعیمیہ رضویہ کی بنیاد رکھی ، تدریس کے لئے بہترین مدرسین کا انتظام کیا، گرد و نواح کے متلاً شیان علم دین جوق در جوق آنے لگے اور تھوڑے ہی عرصہ میں مدرسہ ایک مثالی درس گاہ بن گیا ۔
وصال:
19 رجب 16 جولائی ( 1396ھ / 1976ء) بروز جمعہ حضرت استاذی الکریم مولانا صوفی حامد ولی قدس سرہ کا وصال ہوا اور لیہ میں آپ کی آخری آرام گاہ بنی ۔
اب وہ محلہ جہاں آپ نے مدرسہ قائم کیا تھا، حامد آباد ، کے نام سے معروف ہے آپ کے بھتیجے مولانا محمد اقبال سلمہ بہ ہو نہار اور زیرک نو جوان ہیں ، خدا کرے وہ جامعہ نعمانیہ رضویہ کی بقا اور ترقی کی کوششوں میں کامیاب ہوں ۔
جناب فدا حسین فدا مدظلہ نے
قطعۂ تاریخ وصال تحریر کیا:
نہ کیونکر اہل علم و فضل کے دل آج ہوں غمگیں
ہوئے جو حضرت حامد علی میں دہر سے رخصت
انہیں محبوب تھا دین رسول ہاشمی واللہ !
حریف اہل باطل تھے وہ الحق قاطع بدعت
وہ پابند شریعت بھی تھے اور اہل طریقت بھی
انہیں ہر حال میں مطلوب تھی اسلام کی حرمت
علوم دیں میں یکتا تھے وہ بیشک بزم عالم میں
نہاں ہر دل میں ہے ان کے کمال و فضل کی عظمت
بہ فیض رحمۃ العالمین از لطف ربانی
بنے گی بقعۂ انوار یزدان آپ کی تربت
سن ترحیل میں ان کے فدا غلبان ہوتے ہی
ندایہ عرش سے آئی کہو ’’صوفی ملک خصلت‘‘
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hamid-ali-layyah
❤1👍1
حضرت علامہ مولانا گل محمد صدیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
مولانا قاضی گل محمد بن مولانا غلام حسین صدیقی گوٹھ ترائی ( تحصیل گڑھی یاسین ضلع شکار پور ) میں تولد ہوئے ۔ ترائی کے قاضی نامور علماء گذرے ہیں ، مولانا گل محمد کے آباء و اجداد میں نسل در نسل علماء پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے گوٹھ میں حاصل کی، اس کے بعد گوٹھ اسحاق دیرو ( تحصیل گڑھی یاسین ) میں مولانا محمد ہاشم کے ہاں تعلیم حاصل کی اور بقیہ کتب کی تکمیل مولانا میر محمد نورنگی کے ہاں نورنگ واہ میں کی ۔
بیعت:
آپ حضرت خواجہ محمد عمر چشموی قدس سرہ کے ہاتھ پر سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
مولانا بہترین مدرس ، محقق ، مناظر ، مصنف ، حق گو ، دلیر بہادر اور پرہیزگار شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ قیام لاڑکانہ کے دوران نواب امیر علی لاہوری جو کہ شیعوں کی صحبت میں شیعہ بن چکا تھا اور اس نے اپنے محلہ میں شیعہ مجالس کی ابتدا کی جس میں اسلام پر اعتراضات، قرآن کا تمسخر اور شان صحابہ میں گستاخیاں شروع ہوئیں تو مولانا نے بر وقت تمام اعتراضات کے مدلل جوابات دیئے ، پر مغز تقریریں کی، مولانا نے دفاعی کردار ادا کر کے عوام الناس کو نئے فرقے کے فتنے سے بچانے کے لئے سعی بلیغ کی ۔ ’’ خلفاء رسول ‘‘ کتاب تحریر فرمائی جس میں خلفاء ثلاثہ کی خلافت برحق کو قرآن مجید ، احادیث صحیحہ ، سنی تفاسیر اور شیعہ کی قدیمی مستندو معتبر کتب سے ثابت کیا ۔
اسی طرح جب وہابیوں نے نبی اکرم نور مجسم سیاح لامکان ﷺ کے معراج جسمانی کا انکار کیا تو مولانا نے ان کے بیہودہ نظریہ کے رد بلیغ میں ’’ معراج رسول ‘‘ کتاب تحریر فرمائی ۔
مولانا ایک متحرک شخصیت کے مالک تھے ، مسلک حقہ اہل سنت کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔ زندگی درس و تدریس ، تصنیف و تالیف اور فرقہ ہائے باطلہ کے خلاف جہاد میں بسر ہوئی ۔ 1922ء میں لاڑکانہ شفٹ ہو کر آئے تو بعض احباب کے تعاون سے لاہور ی محلہ میں ’’ مدرسہ دارالاشاعت ‘‘ قائم کیا ۔ مولانا گل محمد تقریبا 13(تیرہ) سال اس مدرسہ میں مسند تدریس پر رونق افروز رہے ۔ مدرسہ آج بھی بفضلہ تعالیٰ قائم ہے درس نظامی اور حفظ قرآن کی تعلیم جاری ہے ۔
وصال:
علامہ حکیم گل محمد صدیقی نے گوٹھ ترائی میں 7 جولائی 1977ء بمطابق 19 رجب المرجب 1397ھ بروز جمعرات انتقال کیا ۔ قبرستان میں مزار ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-gul-muhammad-siddiqi
نام و نسب:
مولانا قاضی گل محمد بن مولانا غلام حسین صدیقی گوٹھ ترائی ( تحصیل گڑھی یاسین ضلع شکار پور ) میں تولد ہوئے ۔ ترائی کے قاضی نامور علماء گذرے ہیں ، مولانا گل محمد کے آباء و اجداد میں نسل در نسل علماء پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے گوٹھ میں حاصل کی، اس کے بعد گوٹھ اسحاق دیرو ( تحصیل گڑھی یاسین ) میں مولانا محمد ہاشم کے ہاں تعلیم حاصل کی اور بقیہ کتب کی تکمیل مولانا میر محمد نورنگی کے ہاں نورنگ واہ میں کی ۔
بیعت:
آپ حضرت خواجہ محمد عمر چشموی قدس سرہ کے ہاتھ پر سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
مولانا بہترین مدرس ، محقق ، مناظر ، مصنف ، حق گو ، دلیر بہادر اور پرہیزگار شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ قیام لاڑکانہ کے دوران نواب امیر علی لاہوری جو کہ شیعوں کی صحبت میں شیعہ بن چکا تھا اور اس نے اپنے محلہ میں شیعہ مجالس کی ابتدا کی جس میں اسلام پر اعتراضات، قرآن کا تمسخر اور شان صحابہ میں گستاخیاں شروع ہوئیں تو مولانا نے بر وقت تمام اعتراضات کے مدلل جوابات دیئے ، پر مغز تقریریں کی، مولانا نے دفاعی کردار ادا کر کے عوام الناس کو نئے فرقے کے فتنے سے بچانے کے لئے سعی بلیغ کی ۔ ’’ خلفاء رسول ‘‘ کتاب تحریر فرمائی جس میں خلفاء ثلاثہ کی خلافت برحق کو قرآن مجید ، احادیث صحیحہ ، سنی تفاسیر اور شیعہ کی قدیمی مستندو معتبر کتب سے ثابت کیا ۔
اسی طرح جب وہابیوں نے نبی اکرم نور مجسم سیاح لامکان ﷺ کے معراج جسمانی کا انکار کیا تو مولانا نے ان کے بیہودہ نظریہ کے رد بلیغ میں ’’ معراج رسول ‘‘ کتاب تحریر فرمائی ۔
مولانا ایک متحرک شخصیت کے مالک تھے ، مسلک حقہ اہل سنت کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔ زندگی درس و تدریس ، تصنیف و تالیف اور فرقہ ہائے باطلہ کے خلاف جہاد میں بسر ہوئی ۔ 1922ء میں لاڑکانہ شفٹ ہو کر آئے تو بعض احباب کے تعاون سے لاہور ی محلہ میں ’’ مدرسہ دارالاشاعت ‘‘ قائم کیا ۔ مولانا گل محمد تقریبا 13(تیرہ) سال اس مدرسہ میں مسند تدریس پر رونق افروز رہے ۔ مدرسہ آج بھی بفضلہ تعالیٰ قائم ہے درس نظامی اور حفظ قرآن کی تعلیم جاری ہے ۔
وصال:
علامہ حکیم گل محمد صدیقی نے گوٹھ ترائی میں 7 جولائی 1977ء بمطابق 19 رجب المرجب 1397ھ بروز جمعرات انتقال کیا ۔ قبرستان میں مزار ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-gul-muhammad-siddiqi
❤1