Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-07-1445 ᴴ | 29-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-07-1445 ᴴ | 29-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت خواجہ علاء الدین عطار علیہ الرحمہ
نام و نسب:
آپ کا نام: محمد بن محمد بخاری ہے ۔ آپ کا لقب: علاء الدین عطار ہے ۔
وطن: آپ کا تعلق " خوارزم " سے ہیں ۔ جب آپ کے والد نے وفات پائی۔ تو آپ نے ان کے ترکہ سے کوئی چیز قبول نہ کی۔
تحصیل علم:
حالت تجرید میں بخارا کے ایک مدرسہ میں تحصیل علوم میں مشغول ہوگئے۔ طالب علمی ہی کی حالت میں آپ کا عقد حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کی صاحبزادی سے ہوگیا۔ جب طریق حق کی طلب آپ کے دل میں پیدا ہوئی تو علوم رسمی کا مطالعہ چھوڑ کر حضرت خواجہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور طریقہ اخذ کیا۔
بیعت و خلافت:
حضرت خواجہ بہاؤ الدین نقشبند علیہ الرحمہ سے ہے ۔
سیرت و خصائص:
آپ حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اول اور نائب مطلق تھے۔ حضرت خواجہ کی آپ پر نظر خاص تھی۔ مجالس میں آپ کو اپنے پاس بٹھا تے اور بار بار آپ کی طرف متوجہ ہوتے۔ بعضے محرموں نے حضرت خواجہ سے اس کا سبب دریافت کیا۔ فرمایا کہ میں ان کو اپنے پاس بٹھاتا ہوں تاکہ ان کو بھیڑیا نہ کھا جائے۔ ان کے نفس کا بھیڑیا گھات میں ہے۔ اس لیے ہر لحظہ ان کا حال دریافت کرتا رہتا ہوں۔ چنانچہ حضرت خواجہ بزرگ کی توجہات عالیہ سے آپ بہت جلد درجہ کمال پر پہنچ گئے۔ حضرت خواجہ اپنی حیات ہی میں بہت سے طالبوں کی تربیت آپ کے سپرد کردیتے تھے اور فرماتے تھے کہ علاؤ الدین نے ہمارا بوجھ بہت ہلکا کردیا ہے۔
آپ کو بہت سے انوار و آثار ولایت بدرجہ اتم و اکمل ظہور میں آئے۔ اور آپ کے حسن تربیت اور صحبت کی برکت سے بہت سے طالب دوری اور نقصان کے درجہ سے قرب و کمال کی پیشگاہ پر پہنچ گئے اور مرتبہ کمال و تکمیل پر فائز ہوئے۔ بعض بزرگوں سے سننے میں آیا ہے کہ قدوۃ المحققین سید شریف جرجانی جو آپ کے اصحاب میں سے تھے بار ہا فرمایا کرتے تھے کہ جب تک میں شیخ زین الدین کی صحبت میں نہ پہنچا رفض سے رہائی نہ پائی اور جب تک خواجہ علاؤ الدین عطار کی صحبت سے مشرف نہ ہوا۔ میں نے خدا کو نہ پہچانا۔
حضرت خواجہ علاؤ الدین صاحبِ طریقہ خاص ہیں۔ ان کے طریقہ کو علائیہ کہتے ہیں جس کا ذکر حضرت مجدد الف ثانی نے اپنے مکتوبات (دفتر اول۔ مکتوب 290) میں بالتفصیل کیا ہے ۔
وصال:
بروز پیر 18 رجب 802ھ نماز عشاء کے بعد وصال فرمایا ۔ مزار مبارک قصبہ چغانیاں میں ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-alauddin-attar
نام و نسب:
آپ کا نام: محمد بن محمد بخاری ہے ۔ آپ کا لقب: علاء الدین عطار ہے ۔
وطن: آپ کا تعلق " خوارزم " سے ہیں ۔ جب آپ کے والد نے وفات پائی۔ تو آپ نے ان کے ترکہ سے کوئی چیز قبول نہ کی۔
تحصیل علم:
حالت تجرید میں بخارا کے ایک مدرسہ میں تحصیل علوم میں مشغول ہوگئے۔ طالب علمی ہی کی حالت میں آپ کا عقد حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کی صاحبزادی سے ہوگیا۔ جب طریق حق کی طلب آپ کے دل میں پیدا ہوئی تو علوم رسمی کا مطالعہ چھوڑ کر حضرت خواجہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور طریقہ اخذ کیا۔
بیعت و خلافت:
حضرت خواجہ بہاؤ الدین نقشبند علیہ الرحمہ سے ہے ۔
سیرت و خصائص:
آپ حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اول اور نائب مطلق تھے۔ حضرت خواجہ کی آپ پر نظر خاص تھی۔ مجالس میں آپ کو اپنے پاس بٹھا تے اور بار بار آپ کی طرف متوجہ ہوتے۔ بعضے محرموں نے حضرت خواجہ سے اس کا سبب دریافت کیا۔ فرمایا کہ میں ان کو اپنے پاس بٹھاتا ہوں تاکہ ان کو بھیڑیا نہ کھا جائے۔ ان کے نفس کا بھیڑیا گھات میں ہے۔ اس لیے ہر لحظہ ان کا حال دریافت کرتا رہتا ہوں۔ چنانچہ حضرت خواجہ بزرگ کی توجہات عالیہ سے آپ بہت جلد درجہ کمال پر پہنچ گئے۔ حضرت خواجہ اپنی حیات ہی میں بہت سے طالبوں کی تربیت آپ کے سپرد کردیتے تھے اور فرماتے تھے کہ علاؤ الدین نے ہمارا بوجھ بہت ہلکا کردیا ہے۔
آپ کو بہت سے انوار و آثار ولایت بدرجہ اتم و اکمل ظہور میں آئے۔ اور آپ کے حسن تربیت اور صحبت کی برکت سے بہت سے طالب دوری اور نقصان کے درجہ سے قرب و کمال کی پیشگاہ پر پہنچ گئے اور مرتبہ کمال و تکمیل پر فائز ہوئے۔ بعض بزرگوں سے سننے میں آیا ہے کہ قدوۃ المحققین سید شریف جرجانی جو آپ کے اصحاب میں سے تھے بار ہا فرمایا کرتے تھے کہ جب تک میں شیخ زین الدین کی صحبت میں نہ پہنچا رفض سے رہائی نہ پائی اور جب تک خواجہ علاؤ الدین عطار کی صحبت سے مشرف نہ ہوا۔ میں نے خدا کو نہ پہچانا۔
حضرت خواجہ علاؤ الدین صاحبِ طریقہ خاص ہیں۔ ان کے طریقہ کو علائیہ کہتے ہیں جس کا ذکر حضرت مجدد الف ثانی نے اپنے مکتوبات (دفتر اول۔ مکتوب 290) میں بالتفصیل کیا ہے ۔
وصال:
بروز پیر 18 رجب 802ھ نماز عشاء کے بعد وصال فرمایا ۔ مزار مبارک قصبہ چغانیاں میں ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-alauddin-attar
❤1
حضرت ابو محمد عبد اللہ مغربی تونسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی محمد اسماعیل تھا ۔
سیرت و خصائص:
حضرت شیخ ابو الحسن علی زرین کے مرید تھے ۔ آپ کے استاد ابراہیم خواص، ابراہیم بن شیبان کرمان شاہی تھے ۔ آپ کی روحانی نسبت تین واسطوں سے شیخ حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ملتی ہے۔ آپ حضرت شیخ ابو الحسن کے مرید تھے۔ وہ خواجہ عبد الواحد بن زید اور وہ خواجہ حسن بصری سرھم کے مرید تھے ۔
ایک دن طورِ سینا پر کھڑے باتیں کر رہے تھے ۔ ان کی گفتگو سے پتھر لڑکھڑاتے اور دریائے ہامون میں جا گرتے تھے ۔
وصال:
آپ 18 رجب 279 ھ میں فوت ہوئے ۔ آپ کی عمر ایک سو بیس سال تھی ۔ آپ کے استاد ابو الحسین علی بھی ایک سو بیس سال تک زندہ رہے ۔ آپ کا مزار پُر انوار کوہ سینا پر ہے ۔
یہ مشہور بات ہے کہ شیخ ابوعبداللہ نے ساری عمر تاریکی نہیں دیکھی تھی۔ لوگوں کے لیے جو تاریک مقامات یا اوقات تھے وہ بھی آپ کی نظروں میں روشن اور نورانی تھے ۔
شیخ عبداللہ پیر راہنما
صاحب مقبول تار بخش بگو 279
شد چو از دنیائے دوں اندر جنان
ہم ولی کامل عبداللہ خوان 279
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-muhammad-abdullah-maghribi-taunsvi
نام و نسب:
اسم گرامی محمد اسماعیل تھا ۔
سیرت و خصائص:
حضرت شیخ ابو الحسن علی زرین کے مرید تھے ۔ آپ کے استاد ابراہیم خواص، ابراہیم بن شیبان کرمان شاہی تھے ۔ آپ کی روحانی نسبت تین واسطوں سے شیخ حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ملتی ہے۔ آپ حضرت شیخ ابو الحسن کے مرید تھے۔ وہ خواجہ عبد الواحد بن زید اور وہ خواجہ حسن بصری سرھم کے مرید تھے ۔
ایک دن طورِ سینا پر کھڑے باتیں کر رہے تھے ۔ ان کی گفتگو سے پتھر لڑکھڑاتے اور دریائے ہامون میں جا گرتے تھے ۔
وصال:
آپ 18 رجب 279 ھ میں فوت ہوئے ۔ آپ کی عمر ایک سو بیس سال تھی ۔ آپ کے استاد ابو الحسین علی بھی ایک سو بیس سال تک زندہ رہے ۔ آپ کا مزار پُر انوار کوہ سینا پر ہے ۔
یہ مشہور بات ہے کہ شیخ ابوعبداللہ نے ساری عمر تاریکی نہیں دیکھی تھی۔ لوگوں کے لیے جو تاریک مقامات یا اوقات تھے وہ بھی آپ کی نظروں میں روشن اور نورانی تھے ۔
شیخ عبداللہ پیر راہنما
صاحب مقبول تار بخش بگو 279
شد چو از دنیائے دوں اندر جنان
ہم ولی کامل عبداللہ خوان 279
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-muhammad-abdullah-maghribi-taunsvi
زبدۃُ السالکین صوفی مولانا خالد علی خاں قادری رضوی
ولادت:
حضرت مولانا صوفی خالد علی خاں رضوی بن مولانا ساجد علی خاں بریلوی محلہ گڑھیار بریلی شریف میں ۱۸؍شعبان المعظم ۱۳۵۵ھ؍۱۹۳۶ء کو پیدا ہوئے۔ حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ نے چار سال کی عمر میں بسم اللہ خوانی کرائی۔
خاندانی حالات:
مولانا صوفی خالد علی خاں بریلوی کے والد ماجد مولانا ساجد علی خاں علیہ الرحمہ بڑے ہی متورع شخصیت تھے ان کے انتظام نے دارالعلوم مظہر اسلام بریلی کو بامِ عروج تک پہنچادیا، جد امجد وادجد علیخاں بن بخش اللہ خاں بہت بڑے زمیندار تھے۔ امستیاھر ضلع بدایوں شریف میں تقریباً چار سوبیگہ زمین کے مالک تھے۔
تعلیم و تربیت:
مولانا خالد علی رضوی نے قران پاک اپنے والد ماجد اور والدہ محترمہ سے گھر ہی پر پڑھا اور اسکول کی بھی کچھ تعلیم حاصل کی۔ عربی فارسی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے والد ماجد نے اپنے مدرسہ (مظہر اسلام) میں داخل کردیا اور ابتداء سے لیکر انتہا تک مظہر اسلام بریلی کے ماہر زمانہ اساتذہ سے اکتساب فیض کرتے رہے۔ ۱۹۸۹ء میں مظہر اسلام سے سند فراغت حاصل کی علماء و مشائخ کے علاوہ حضور مفتی اعظم نے دستار باندھی۔
اساتذۂ کرام:
۱۔ صدر الشریعہ حضرت مولانا امجد علی رضوی اعظمی
۲۔ حضرت مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی
۳۔ محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد چشتی رضوی فیصل آباد
۴۔ شیخ العلماء مولانا غلام جیلانی رضوی اعظمی
۵۔ بحر العلوم حضرت مفتی سید افضل حسین رضوی مونگیری
۶۔ حکیم العلماء حضرت مولانا حسنین رضا خاں قادری بریلوی
۷۔ بقیۃ السلف مولانا حاجی مبین الدین رضوی محدث امروہوی
۸۔ سید الاتقیاء علامہ تحسین رضا خاں قادری بریلوی محدث جامعہ نوریہ رضویہ باقر گنج بریلی
۹۔ حضرت مولانا مجیب الاسلام نسیم رضوی اعظمی
۱۰۔ حضرت مولانا غلام یزدانی رضوی
۱۱۔ حضرت مولانا ثناء اللہ رضوی اعظمی
۱۲۔ حضرت مولانا مفتی شریف الحق رضوی امجدی اشرفیہ مبارکپور
عقد مسنون:
مولانا صوفی خالد علی کی پہلی شادی ۱۹۶۵ء میں حکیم مولوی محمد صالح خاں شاہجہانپوری کی دختر سے ہوئی۔ دوسری شادی ۱۹۷۳ء میں مولانا ادریس رضا خاں عرف لالہ میاں کی صاحبزادی یعنی حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ کی نواسی سے ہوئی۔ جن سے آپ کی پانچ اولاد ہوئیں ۔ صاحبزادگان کے نام درج ذیل ہیں:
۱۔ مجاہد رضا خاں رضوی
۲۔ سیفی رضا خاں رضوی
۳۔ انس رضا خاں رضوی
اور دو ۲ لڑکیاں
خدمات:
حضرت مولانا خالد علی خاں نے والد ماجد کے انتقال کے بعد حضرت مفتی اعظم کے حکم پر دارالعلوم مظہر اسلام بریلی کے اہتمام کی باگ ڈور سنبھالی۔ تادمِ تحریر اسی ادارہ مظہر اسلام جو کہ حضرت مفتی اعظم نے قائم فرمایا تھا اُس کے مہتمم اور ناظمِ اعلیٰ ہیں۔ اس کے علاوہ مندرجہ ذیل اداروں کے سر پرست بھی ہیں ۔
۱۔ انجمن رضائے مصطفیٰ موضع بلاری ضلع مراد آباد
۲۔ رضوی دارالعلوم سٹی بریلی شریف
۳۔رضائے مصطفیٰ طندوسی ضلع مراد آباد
بیعت و خلافت:
حضرت مولانا خالد علی خاں حضور مفتئ اعظم قدس سرہٗ کے دستِ حق پرست پر زمانہ طفلی میں بیعت وارادت حاصل کر چکے تھے، ۱۹۲۶ء میں مولانا مفتی اعظم الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرے نے سلسلہ نقشبندیہ، چشتیہ، سہروردیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ میں اجازت وخلافت عطا فرمائی نیز تعویذات کی بھی اجازت مرحمت فرمائی ۔
خلفاء:
۱۔ مولانا محمد فاروق رضوی اندوردی
۲۔ مخدوم گرامی مولانا جمال رضا خاں قادری، محلہ سودا گران بریلی شریف [1]
[1] ۔ یہ جملہ کوائف راقم نے بالمشافہ حضرت مولانا خالد علی خاں بریلوی سے حاصل کیے ۔ بمورخہ ربیع الاوّل ۱۴۱۰ھ؍ ۱۹۸۹ء، ۱۲ رضوی غفرلہٗ ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/sufi-molana-khalid-ali-khan-qadri-rizvi
ولادت:
حضرت مولانا صوفی خالد علی خاں رضوی بن مولانا ساجد علی خاں بریلوی محلہ گڑھیار بریلی شریف میں ۱۸؍شعبان المعظم ۱۳۵۵ھ؍۱۹۳۶ء کو پیدا ہوئے۔ حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ نے چار سال کی عمر میں بسم اللہ خوانی کرائی۔
خاندانی حالات:
مولانا صوفی خالد علی خاں بریلوی کے والد ماجد مولانا ساجد علی خاں علیہ الرحمہ بڑے ہی متورع شخصیت تھے ان کے انتظام نے دارالعلوم مظہر اسلام بریلی کو بامِ عروج تک پہنچادیا، جد امجد وادجد علیخاں بن بخش اللہ خاں بہت بڑے زمیندار تھے۔ امستیاھر ضلع بدایوں شریف میں تقریباً چار سوبیگہ زمین کے مالک تھے۔
تعلیم و تربیت:
مولانا خالد علی رضوی نے قران پاک اپنے والد ماجد اور والدہ محترمہ سے گھر ہی پر پڑھا اور اسکول کی بھی کچھ تعلیم حاصل کی۔ عربی فارسی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے والد ماجد نے اپنے مدرسہ (مظہر اسلام) میں داخل کردیا اور ابتداء سے لیکر انتہا تک مظہر اسلام بریلی کے ماہر زمانہ اساتذہ سے اکتساب فیض کرتے رہے۔ ۱۹۸۹ء میں مظہر اسلام سے سند فراغت حاصل کی علماء و مشائخ کے علاوہ حضور مفتی اعظم نے دستار باندھی۔
اساتذۂ کرام:
۱۔ صدر الشریعہ حضرت مولانا امجد علی رضوی اعظمی
۲۔ حضرت مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی
۳۔ محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد چشتی رضوی فیصل آباد
۴۔ شیخ العلماء مولانا غلام جیلانی رضوی اعظمی
۵۔ بحر العلوم حضرت مفتی سید افضل حسین رضوی مونگیری
۶۔ حکیم العلماء حضرت مولانا حسنین رضا خاں قادری بریلوی
۷۔ بقیۃ السلف مولانا حاجی مبین الدین رضوی محدث امروہوی
۸۔ سید الاتقیاء علامہ تحسین رضا خاں قادری بریلوی محدث جامعہ نوریہ رضویہ باقر گنج بریلی
۹۔ حضرت مولانا مجیب الاسلام نسیم رضوی اعظمی
۱۰۔ حضرت مولانا غلام یزدانی رضوی
۱۱۔ حضرت مولانا ثناء اللہ رضوی اعظمی
۱۲۔ حضرت مولانا مفتی شریف الحق رضوی امجدی اشرفیہ مبارکپور
عقد مسنون:
مولانا صوفی خالد علی کی پہلی شادی ۱۹۶۵ء میں حکیم مولوی محمد صالح خاں شاہجہانپوری کی دختر سے ہوئی۔ دوسری شادی ۱۹۷۳ء میں مولانا ادریس رضا خاں عرف لالہ میاں کی صاحبزادی یعنی حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ کی نواسی سے ہوئی۔ جن سے آپ کی پانچ اولاد ہوئیں ۔ صاحبزادگان کے نام درج ذیل ہیں:
۱۔ مجاہد رضا خاں رضوی
۲۔ سیفی رضا خاں رضوی
۳۔ انس رضا خاں رضوی
اور دو ۲ لڑکیاں
خدمات:
حضرت مولانا خالد علی خاں نے والد ماجد کے انتقال کے بعد حضرت مفتی اعظم کے حکم پر دارالعلوم مظہر اسلام بریلی کے اہتمام کی باگ ڈور سنبھالی۔ تادمِ تحریر اسی ادارہ مظہر اسلام جو کہ حضرت مفتی اعظم نے قائم فرمایا تھا اُس کے مہتمم اور ناظمِ اعلیٰ ہیں۔ اس کے علاوہ مندرجہ ذیل اداروں کے سر پرست بھی ہیں ۔
۱۔ انجمن رضائے مصطفیٰ موضع بلاری ضلع مراد آباد
۲۔ رضوی دارالعلوم سٹی بریلی شریف
۳۔رضائے مصطفیٰ طندوسی ضلع مراد آباد
بیعت و خلافت:
حضرت مولانا خالد علی خاں حضور مفتئ اعظم قدس سرہٗ کے دستِ حق پرست پر زمانہ طفلی میں بیعت وارادت حاصل کر چکے تھے، ۱۹۲۶ء میں مولانا مفتی اعظم الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرے نے سلسلہ نقشبندیہ، چشتیہ، سہروردیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ میں اجازت وخلافت عطا فرمائی نیز تعویذات کی بھی اجازت مرحمت فرمائی ۔
خلفاء:
۱۔ مولانا محمد فاروق رضوی اندوردی
۲۔ مخدوم گرامی مولانا جمال رضا خاں قادری، محلہ سودا گران بریلی شریف [1]
[1] ۔ یہ جملہ کوائف راقم نے بالمشافہ حضرت مولانا خالد علی خاں بریلوی سے حاصل کیے ۔ بمورخہ ربیع الاوّل ۱۴۱۰ھ؍ ۱۹۸۹ء، ۱۲ رضوی غفرلہٗ ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/sufi-molana-khalid-ali-khan-qadri-rizvi
scholars.pk
Sufi Molana Khalid Ali Khan Qadri Rizvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1