شریعت مطہرہ کا احترام:
آپ شریعت مطہرہ کے پیکرِ اَتم تھے ۔ زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں تھاجو احادیث مبارکہ سے مزین نہ ہو ۔ کوئی قدم ایسا نہیں اٹھا جو شریعت مطہرہ کے دائرے سے باہر ہو، جس طرح حضور اکرم ﷺ کی حیات طیبہ قرآن کی عملی تفسیر ہے، بعینہٖ حضرت تاج الفحول کی حیات مقدسہ احادیث نبوی کی مکمل اور جامع تفسیر ہے ۔ جس کا جی چاہے صحاح ستہ کو کھول کر بیٹھ جائے اور حضور ﷺ کی حیات مقدسہ کا ایک ایک لمحہ دیکھتا جائے ان شاء اللہ سر موفرق نہ پائےگا ۔
جملہ حرکات و سکنات ،افعال و اقوال عادات و اطوار میں سلف صالحین کا ظہور تھا ۔ پوری زندگی اس کا لتزام رکھا کہ کوئی سنت سہوایا قصداً ترک نہ ہو، یہاں تک کہ جس طرح سید عالم ﷺ دنیا سے پردہ فرمانے کے وقت کا شانۂ نبوت میں چراغ میں تیل تک نہ تھا۔ اورکہیں سے اُدھار منگایا گیا تھا، اس سنت کا بھی اس طرح ظہورہوکر رہا کر جب جنازہ مدرسہ قادریہ سے دولت خانے کے اندر لے جایا گیا تو مکان میں چراغ گل چکا تھا۔یہاں تک کہ روغن اُدھار منگایا گیا۔ آپ کے زمانہ مقدسہ میں آپ کی محبت سنت و ہدایت کی علامت تسلیم کی جاتی تھی اور آپ سے دوری اوربغض سنت اور ہدایت سے دوری مانا جانا تھا۔ جیسا کہ فاضل بریلوی فرماتے ہیں؎
ٹھیک معیار سنیت ہے آج
سنیت سے پھرا ہدیٰ پھرا
تیری حب و ولا محب رسول
یہی نہیں بلکہ فاضل بریلوی خود کو حضور تاج الفحول کے زیر سایہ سمجھتے تھے، کہتے ہیں؎
تجھ پہ فضل رسول کا سایہ
مجھ پہ سایہ ترا محبّ رسول
حضرت تاج الفحول کے زمانے میں بدعقیدگی کی جتنی تحریکیں اُٹھیں ان کا آپ نے سختی سے مقابلہ کیا اور ان کا سد باب کیا۔عام مخلوق پر رحمت خاص تھی، لیکن مذہبی امور میں کوئی رواداری نہ تھی۔ بلکہ الحب للہ والبغض للہ کی شان دکھائی دیتی تھی۔ شانِ حقانیت جلال کا پہلو لیے ہوئے تھی۔ آپ کاوجودِمحمود دنیائے اسلام کے لیے باعث فخر تھا۔ آپ کے ذریعے بغداد کی تجلی بدایوں میں جلوہ ریز ہوئی۔ تلاش حق کے راہی مدرسہ قادریہ میں حاضر ہوتے اور بانیل مرام واپس جاتے۔ مدرسہ قادریہ میں علماء فضلا اور مشائخ کا تانتا لگا رتا تھا۔جملہ سلاسل کے رموز ونکات کی تعلیم فرماتے تھے ۔
اعلیٰ حضرت فرماتےہیں:
آج قائم ہے دم قدم سے ترے
رفض و تفصیل و نجدیت کا گلا
ہزم احزاب ندوہ کا سہرا
دین حق کی بنا محب رسول
تیرے ہاتھوں کٹا محب رسول
تیرے ماتھے رہا محب رسول
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 18 جمادی الاول 1319ھ، مطابق 29 ستمبر 1901ء کو ہوا ۔ خانقاہِ قادریہ بدایوں شریف آخری آرام گاہ ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلِ سنت ۔ اکابرِ بدایوں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-qadir-badayuni
آپ شریعت مطہرہ کے پیکرِ اَتم تھے ۔ زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں تھاجو احادیث مبارکہ سے مزین نہ ہو ۔ کوئی قدم ایسا نہیں اٹھا جو شریعت مطہرہ کے دائرے سے باہر ہو، جس طرح حضور اکرم ﷺ کی حیات طیبہ قرآن کی عملی تفسیر ہے، بعینہٖ حضرت تاج الفحول کی حیات مقدسہ احادیث نبوی کی مکمل اور جامع تفسیر ہے ۔ جس کا جی چاہے صحاح ستہ کو کھول کر بیٹھ جائے اور حضور ﷺ کی حیات مقدسہ کا ایک ایک لمحہ دیکھتا جائے ان شاء اللہ سر موفرق نہ پائےگا ۔
جملہ حرکات و سکنات ،افعال و اقوال عادات و اطوار میں سلف صالحین کا ظہور تھا ۔ پوری زندگی اس کا لتزام رکھا کہ کوئی سنت سہوایا قصداً ترک نہ ہو، یہاں تک کہ جس طرح سید عالم ﷺ دنیا سے پردہ فرمانے کے وقت کا شانۂ نبوت میں چراغ میں تیل تک نہ تھا۔ اورکہیں سے اُدھار منگایا گیا تھا، اس سنت کا بھی اس طرح ظہورہوکر رہا کر جب جنازہ مدرسہ قادریہ سے دولت خانے کے اندر لے جایا گیا تو مکان میں چراغ گل چکا تھا۔یہاں تک کہ روغن اُدھار منگایا گیا۔ آپ کے زمانہ مقدسہ میں آپ کی محبت سنت و ہدایت کی علامت تسلیم کی جاتی تھی اور آپ سے دوری اوربغض سنت اور ہدایت سے دوری مانا جانا تھا۔ جیسا کہ فاضل بریلوی فرماتے ہیں؎
ٹھیک معیار سنیت ہے آج
سنیت سے پھرا ہدیٰ پھرا
تیری حب و ولا محب رسول
یہی نہیں بلکہ فاضل بریلوی خود کو حضور تاج الفحول کے زیر سایہ سمجھتے تھے، کہتے ہیں؎
تجھ پہ فضل رسول کا سایہ
مجھ پہ سایہ ترا محبّ رسول
حضرت تاج الفحول کے زمانے میں بدعقیدگی کی جتنی تحریکیں اُٹھیں ان کا آپ نے سختی سے مقابلہ کیا اور ان کا سد باب کیا۔عام مخلوق پر رحمت خاص تھی، لیکن مذہبی امور میں کوئی رواداری نہ تھی۔ بلکہ الحب للہ والبغض للہ کی شان دکھائی دیتی تھی۔ شانِ حقانیت جلال کا پہلو لیے ہوئے تھی۔ آپ کاوجودِمحمود دنیائے اسلام کے لیے باعث فخر تھا۔ آپ کے ذریعے بغداد کی تجلی بدایوں میں جلوہ ریز ہوئی۔ تلاش حق کے راہی مدرسہ قادریہ میں حاضر ہوتے اور بانیل مرام واپس جاتے۔ مدرسہ قادریہ میں علماء فضلا اور مشائخ کا تانتا لگا رتا تھا۔جملہ سلاسل کے رموز ونکات کی تعلیم فرماتے تھے ۔
اعلیٰ حضرت فرماتےہیں:
آج قائم ہے دم قدم سے ترے
رفض و تفصیل و نجدیت کا گلا
ہزم احزاب ندوہ کا سہرا
دین حق کی بنا محب رسول
تیرے ہاتھوں کٹا محب رسول
تیرے ماتھے رہا محب رسول
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 18 جمادی الاول 1319ھ، مطابق 29 ستمبر 1901ء کو ہوا ۔ خانقاہِ قادریہ بدایوں شریف آخری آرام گاہ ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلِ سنت ۔ اکابرِ بدایوں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-qadir-badayuni
scholars.pk
Hazrat Shah Abdul Qadir Badayuni
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضور محدث اعظم ہند ، حضرت علامہ سید محمد کچھوچھوی بن حکیم نذر اشرف رضی الله تعالیٰ عنہم
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محدثِ اعظم کا اسمِ گرامی سید محمد اور آپ کے والد ماجد کا نام حکیم نذر اشرف تھا ۔ (رحمۃ اللہ علیہما)
تاریخ و مقامِ ولادت:
محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 15 ذو القعدہ 1311ھ کو جائس، ضلع رائے بریلی میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی ، والدِ ماجد کے بعد جب مختلف اساتذہ سے علوم و فنون حاصل کرتے کرتے اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کی بارگاہ میں پہنچے تو امامِ اہلسنت نے محدثِ اعظم کو آسمانِ علم کا ایسا درخشاں ستارہ بنایا کہ جس کی چمک سے کثیر لوگوں نے استفادہ کیا ۔
بیعت و خلافت:
حضور محدثِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے نانا شیخ الاصفیاء، محبوبِ ربانی، قطبِ عالم شاہ علی حسین اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کے ایماء مبارکہ سے اپنے ماموں ملک العلماء، عارفِ ربانی مولانا شاہ احمد رحمۃ اللہ علیہ سے مرید ہو کر تکمیلِ سلوک کیا ۔
اس کے بعد اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت بھی عطا کر دی ۔
سیرت و خصائص:
محدثِ اعظم، وحید العصر، شمس الافاضل، قدوۃ العلماء الراسخین، حضرت مولانا شاہ سید محمد کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ ـ علم و عمل کے پیکر ، باکرامت ولی ، شیخِ کامل اور زہد و تقویٰ کے حامل شخص اور صفاتِ حمیدہ کے جامع تھے ۔
آپ نے اپنے فیض سے ایک عالم کو مستفیض کیا، تقریباً پانچ ہزار غیر مسلم آپ کے دستِ مبارکہ پر مشرف بہ اسلام ہوئے، لاکھوں افراد نے آپ کی بیعت کی، خطابت میں خاص اثر تھا مجمع پر سکوت رہتا، درجنوں کتابیں تالیف کیں، چار بار حج و زیارت سے مشرف ہوئے ۔
آپ اعلیٰ درجہ کے ناظم و ناثر بھی تھے، مجموعۂ کلام " فرش پر عرش " طبع ہو چکی ہے ۔
آپ علیہ الرحمہ نے قرآنِ پاک کا ترجمہ بھی کیا تھا اس ترجمہ کے ابتدائی حصہ کو ملاحظہ کرنے کے بعد بطورِ تحسین امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان نے آپ سے فرمایا: " شاہزادے اردو میں قرآن لکھ رہے ہو " ۔ تدبر اور اصابتِ رائے وصفِ خاص تھا ۔ چھوٹے سے چھوٹے کی اتنی دلجوئی و تعریف کرتے کہ وہ خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتا ۔
علمائے اہل سنت کے درمیان اتحاد کے علمبردار تھے ۔ آل انڈیا سنی کانفرنس کے اجلاس بنارس کے موقع پر بالاتفاق صدر عمومی مقرر کئے گئے ۔ جماعت رضائے مصطفیٰ بریلی کے تاوقتِ وفات صدرِ اعلی رہے ۔ اہلسنت کی نشر و اشاعت میں آپ نے اپنے اکابرین کی طرح بہت جد و جہد سے کام لیا ، سنیت کا درد ہمیشہ آپ کے مبارک سینے میں موجزن رہتا ۔ آپ نے ہر طرح باطل کا مقابلہ کیا اور اپنی تقریر و تحریر کے ذریعہ امتِ مسلمہ کے عقائد کو بگاڑ سے بچایا ۔
تاریخِ وصال:
حضور محدثِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 17 رجب المرجب 1383 ھ / بمطابق دسمبر 1963 ء کو بمقام لکھنؤ میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع: تذکرۂ علماء اہلسنت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhaddith-e-azam-syed-muhammad-kachochavi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محدثِ اعظم کا اسمِ گرامی سید محمد اور آپ کے والد ماجد کا نام حکیم نذر اشرف تھا ۔ (رحمۃ اللہ علیہما)
تاریخ و مقامِ ولادت:
محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 15 ذو القعدہ 1311ھ کو جائس، ضلع رائے بریلی میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی ، والدِ ماجد کے بعد جب مختلف اساتذہ سے علوم و فنون حاصل کرتے کرتے اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کی بارگاہ میں پہنچے تو امامِ اہلسنت نے محدثِ اعظم کو آسمانِ علم کا ایسا درخشاں ستارہ بنایا کہ جس کی چمک سے کثیر لوگوں نے استفادہ کیا ۔
بیعت و خلافت:
حضور محدثِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے نانا شیخ الاصفیاء، محبوبِ ربانی، قطبِ عالم شاہ علی حسین اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کے ایماء مبارکہ سے اپنے ماموں ملک العلماء، عارفِ ربانی مولانا شاہ احمد رحمۃ اللہ علیہ سے مرید ہو کر تکمیلِ سلوک کیا ۔
اس کے بعد اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت بھی عطا کر دی ۔
سیرت و خصائص:
محدثِ اعظم، وحید العصر، شمس الافاضل، قدوۃ العلماء الراسخین، حضرت مولانا شاہ سید محمد کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ ـ علم و عمل کے پیکر ، باکرامت ولی ، شیخِ کامل اور زہد و تقویٰ کے حامل شخص اور صفاتِ حمیدہ کے جامع تھے ۔
آپ نے اپنے فیض سے ایک عالم کو مستفیض کیا، تقریباً پانچ ہزار غیر مسلم آپ کے دستِ مبارکہ پر مشرف بہ اسلام ہوئے، لاکھوں افراد نے آپ کی بیعت کی، خطابت میں خاص اثر تھا مجمع پر سکوت رہتا، درجنوں کتابیں تالیف کیں، چار بار حج و زیارت سے مشرف ہوئے ۔
آپ اعلیٰ درجہ کے ناظم و ناثر بھی تھے، مجموعۂ کلام " فرش پر عرش " طبع ہو چکی ہے ۔
آپ علیہ الرحمہ نے قرآنِ پاک کا ترجمہ بھی کیا تھا اس ترجمہ کے ابتدائی حصہ کو ملاحظہ کرنے کے بعد بطورِ تحسین امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان نے آپ سے فرمایا: " شاہزادے اردو میں قرآن لکھ رہے ہو " ۔ تدبر اور اصابتِ رائے وصفِ خاص تھا ۔ چھوٹے سے چھوٹے کی اتنی دلجوئی و تعریف کرتے کہ وہ خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتا ۔
علمائے اہل سنت کے درمیان اتحاد کے علمبردار تھے ۔ آل انڈیا سنی کانفرنس کے اجلاس بنارس کے موقع پر بالاتفاق صدر عمومی مقرر کئے گئے ۔ جماعت رضائے مصطفیٰ بریلی کے تاوقتِ وفات صدرِ اعلی رہے ۔ اہلسنت کی نشر و اشاعت میں آپ نے اپنے اکابرین کی طرح بہت جد و جہد سے کام لیا ، سنیت کا درد ہمیشہ آپ کے مبارک سینے میں موجزن رہتا ۔ آپ نے ہر طرح باطل کا مقابلہ کیا اور اپنی تقریر و تحریر کے ذریعہ امتِ مسلمہ کے عقائد کو بگاڑ سے بچایا ۔
تاریخِ وصال:
حضور محدثِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 17 رجب المرجب 1383 ھ / بمطابق دسمبر 1963 ء کو بمقام لکھنؤ میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع: تذکرۂ علماء اہلسنت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhaddith-e-azam-syed-muhammad-kachochavi
scholars.pk
Hazrat Muhaddith-e-Azam Syed Muhammad Kachochavi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضور محدث اعظم ہند ، حضرت علامہ سید محمد کچھوچھوی بن حکیم نذر اشرف رضی الله تعالیٰ عنہم نام و نسب: اسمِ گرامی: محدثِ اعظم کا اسمِ گرامی سید محمد اور آپ کے والد ماجد کا نام حکیم نذر اشرف تھا ۔ (رحمۃ اللہ علیہما) تاریخ و مقامِ ولادت: محدثِ…
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضور محدث اعظم ہند ، حضرت علامہ سید محمد کچھوچھوی بن حکیم نذر اشرف رضی الله تعالیٰ عنہم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ولادت 15 ذی القعدہ 1311ھ
وصال: 17 ذو رجب المرجب 1383ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_ولادت_ماہ_ذو_القعدہ 🌹
#یوم_وصال_ماہ_رجب_المرجب
https://t.me/islaamic_Knowledge/45022
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ولادت 15 ذی القعدہ 1311ھ
وصال: 17 ذو رجب المرجب 1383ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_ولادت_ماہ_ذو_القعدہ 🌹
#یوم_وصال_ماہ_رجب_المرجب
https://t.me/islaamic_Knowledge/45022
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-07-1445 ᴴ | 28-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-07-1445 ᴴ | 29-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-07-1445 ᴴ | 29-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-07-1445 ᴴ | 29-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1