🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-07-1445 ᴴ | 28-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-07-1445 ᴴ | 28-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-07-1445 ᴴ | 28-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-07-1445 ᴴ | 28-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اسی طرح ماہ رجب میں بعض جگہ حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ایصالِ ثواب کے لیے پوریوں کے کونڈے بھرے جاتے ہیں یہ بھی جائز مگر اس میں بھی اسی جگہ کھانے کی بعضوں نے پابندی کر رکھی ہے یہ بے جا پابندی ہے ۔ اس کونڈے کے متعلق ایک کتاب بھی ہے جس کا نام داستانِ عجیب ہے، اس موقع پر بعض لوگ اس کو پڑھواتے ہیں اس میں جو کچھ لکھا ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں وہ نہ پڑھی جائے فاتحہ دِلا کر ایصالِ ثواب کریں ۔

کیا حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں کوئی حدیث نہیں ؟

اذان کا جواب دینا مسنون ہے یا واجب
2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
قاضی القضاۃ حضرت سعد بن شمس الدین نابلسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

قاضی القضاۃ سعد بن شمس الدین محمد بن عبداللہ بن سعد بن ابی بکر ویری نابلسی:

ولادت:
منگل کے روز ۱۷ رجب ۷۶۸ھ کو پیدا ہوئے ـ

نام کنیت لقب اور وطن:
ابو السعادات کنیت اور سعد الدین لقب تھا ۔ اصل میں شہر دیر کے جو شہر نابلس کے پاس واقع ہے، رہنے والے تھے چنانچہ اسی لیے ابن الدیری کے نام سے معروف تھے مگر اخیر کو قاہرہ میں آکر مقیم ہوئے ـ

برے ذکی اور ذی حافظہ تھے، پہلے اپنے والد سے علم پڑھنا شروع کیا اور قرآن کو حفظ کر کے بہت سی کتابیں ۱۲ روز کے عرصہ میں حفظ کیں پھر کمال سریحی اور حمید الدین اور علاء بن نقیب اور شمس بن خطیب شافعی سے استفادہ کیا اور شمس قونوی صاحب ورد البحار اور حافظ الدین صاحب فتاویٰ بزازیہ کی صحبت کی اور برہان ابراہیم بن زین عبد الرحیم بن جماعہ سے روایت احادیث کی سندلی یہاں تک کہ اپنے زمانہ کے امام علامہ اور فقیہ فہامہ ہوئے استحضار مسائل مذہیبہ اور سریع ادراک اور حافظ میں بے نظیر تھے، علمی مباحثہ و مذاکرہ کا نہایت شوق تھا ۔

علم تفسیر خصوصاً فہم معانی تنزیل میں ید طولیٰ رکھتے تھے اور متن حدیث اس قدر یاد رکھتے تھے کہ جس کا بیان نہیں ہو سکتا تھا ۔ آپ کے والد ماجد فقہ وغیرہ میں آپ کو اپنے اوپر مقدم سمجھنے لگے اور آپ کا زکر خیر یہاں تک زمانہ میں مشہور ہوا کہ شاہ رخ بن تیمر بادشاہ ہندوستان نے سرور بار آپ کا حال قاصد ظاہر چقمق سے دریافت کیا،مدت تک تدریس و افتاء میں مشغول رہے، ۸۴۳ھ میں مصر کی دار القضاء حنفیہ کے متولی ہوئے، حج بھی آپ نے کئی دفعہ کیے چنانچہ پہلا حج ۸۰۱ھ میں کیا ۔ آپ سے قاضی محمد بن محمد بن شحنہ نے اخذ کیا ۔

شمس الدین سخاوی نے آپ کے ترجمہ میں لکھا ہے کہ میں نے آپ سے بہت کچھ آپ سے بہت کچھ پڑھا اور فوائد و نظم کو لکھا، چونکہ آپ کو باوجود کثرت اطلاع کے تصنیف و تالیف کا چنداں شوق نہ تھا، اس لیے تصنیفات آپ سے کم ظہور میں آئی اور جو آئی ہے وہ حسبِ ذیل ہے:

شروح عقائد نسفی جس کو زین قاسم حنفی نے آپ سے پڑھا، کواکب النیرات فی وصول ثواب الطاعات الی الاموات، السہام المارقہ فی کبد الزنادقہ، رسالۃ الجس بالتہمۃ، رسالہ ہل تنام الملائکہ ام لا، رسالہ ہل منع الشعر مخصوص بالنبی ام عام لجمیع الانبیاء تکملہ شرح ہدایہ سروجی سات جلد میں ۔ منظومہ نعمانیہ، یہ کتاب نظم میں ہے اور اس عجیب و غریب فوائد بیان ہوئے ہیں ۔

وصال:
وفات آپ کی 9 ربیع الآخر 867ھ کو مصر میں ہوئی، ’’ قبلۂ خلق ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/qazi-ul-qaza-hazrat-saad-bin-shamsuddin-nabulusi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابو عبد اللہ محمد داستانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
محمد بن علی داستانی تھا ۔ لقب: شیخ المشائخ پایا ۔ آپ کی نسبت تین واسطوں سے شیخ عمر بسطامی جو حضرت شیخ بایزید بسطامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خواہر زادہ اور خلیفہ تھے سے ملتی ہے ۔ حضرت ابو الحسن خرقانی کے احباب میں سے تھے ۔ ظاہری اور باطنی علوم میں ماہر تھے ۔ شیریں کلام اور خوش بیان تھے ۔

حضرت داتا گنج بخش اپنی کتاب کشف المحجوب میں لکھتے ہیں کہ میں نے حضرت شیخ ہیتی سے جو آپ کے احباب میں سے تھے ۔ سنا ہے کہ ایک دفعہ بسطامی میں مکڑی کا طوفان امڈ آیا ۔ مکڑی تمام درخت اور فصلیں چاٹ گئی ۔ اور بسطام کے نواح و مضافات مکڑی کے لشکروں سے سیاہ ہو گئے ۔ لوگ چلا اٹھے ۔ اس طرح ہر طریقہ سے مکریوں کو اڑا رہے تھے ۔

حضرت شیخ نے دریافت کیا کہ یہ کیا شور و غوغا ہے ۔ لوگوں نے مکڑی کے بارے میں بتایا ۔ تو آپ چھت پر آئے اور آسمان کی طرف نظریں اٹھائیں مکڑی کا لشکر زمین سے اڑنے لگا ۔ اور دیکھتے دیکھتے زمین خالی ہونے لگی چند لمحوں بعد بسطام کی زمین صاف ہو گئی ۔ فصلیں اور درخت محفوظ ہو گئے ۔

وصال:
آپ ماہ رجب ۴۱۶ھ میں فوت ہوئے ۔

شد چو از دنیا بفردوس بریں
یار حق محمود سالش داں و نیز ۴۱۶ھ

شیخ حق آگاہ محمد بن علی
ہادی عبداللہ محمد بن علی ۴۱۶ھ

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-abdullah-muhammad-dastani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابو العباس قاسم سیاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ کا نام قاسم بن قاسم بن مہدی ہے آپ احمد بن سیار کے نواسے تھے، آپ مرد کے بڑے مشائخ میں سے تھے، آپ نے بزرگانِ دین کی صحبت سے استفادہ کیا عالم علوم شریعت عارف معارف و حقائق تھے، آپ شیخ ابو بکر واسطی رحمۃ اللہ علیہ سے ارادت رکھتے تھے مرو میں حقائقِ و رموز پر جس نے سب سے پہلے سلسلۂ گفتگو کا آغاز کیا وہ آپ ہی تھے ۔

آپ کے والد محترم بڑے رئیس اور مالدار تھے، ان کے مرنے پر آپ کو وراثت میں سے بہت کچھ مال و متاع ملا، آپ نے اپنا سارا مال حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک موئے مشکین کے بدلے دے دیا، اللہ تعالیٰ نے اس موئے مبارک کی برکات سے آپ کو توبہ کی دولت دی اور اپنی معرفت سے وافر حصہ عطاء فرمایا، سلسلۂ سیاریہ آپ سے ہی منسوب تھا ۔

ایک دن ایک سبزی فروش کی دکان پر جاکر کھیرے خرید رہے تھے، سبزی فروش نے اپنے لڑکے کو کہا کہ بہترین قسم کے کھیرے، حضرت کو دینا، آپ نے فرمایا کیا تم سب خریداروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا کرتے ہو دوکان دار نے کہا نہیں حضرت یہ امتیاز تو آپ کے علم و فضل اور زہد و تقویٰ کی وجہ سے ہے، آپ نے فرمایا: میں اپنا علم و فضل چند کھیروں کے بدلے نہیں بیچنا چاہتا، آپ نے اس دکاندار سے کھیرے لینے چھوڑ دیے اور دوسری دکان پر چلے گئے ۔

تذکرۃ الاولیاء کے مصنّف شیخ فرید الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت ابو العباس نے وفات سے پہلے وصیت کی تھی کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا موئے مبارک جو انہوں نے اپنا سارا ورثہ دے کر خریدا تھا، مرنے کے بعد ان کے منہ میں رکھ دیا جائے تاکہ وہ قبر میں محفوظ و ماموں رہیں، آج بھی ان کی قبر مرو میں مرجع خلائق بنی ہوئی ہے، لوگ قبر پر جاکر استمداد کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے کام درست فرماتا ہے، یہ برکات حضور کے موئے مبارک کی ہیں ۔

وصال:
آپ کی وفات ۳۴۲ھ میں ہوئی تھی، مگر بعض تذکرہ نگاروں نے آپ کا سالِ وفات ۳۴۳ھ لکھا ہے ۔

جناب شیخ ابو العباس سیاہ
بگو پیر مکمل سالِ وصلش ۳۴۲ھ

خبر گیر جہاں حق گوئے دامن
ابوالعباس مہدی قطب برخواں ۳۴۳ھ

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-abbas-qasim-sayari
1