🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-07-1445 ᴴ | 28-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-07-1445 ᴴ | 28-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-07-1445 ᴴ | 28-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-07-1445 ᴴ | 28-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اسی طرح ماہ رجب میں بعض جگہ حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ایصالِ ثواب کے لیے پوریوں کے کونڈے بھرے جاتے ہیں یہ بھی جائز مگر اس میں بھی اسی جگہ کھانے کی بعضوں نے پابندی کر رکھی ہے یہ بے جا پابندی ہے ۔ اس کونڈے کے متعلق ایک کتاب بھی ہے جس کا نام داستانِ عجیب ہے، اس موقع پر بعض لوگ اس کو پڑھواتے ہیں اس میں جو کچھ لکھا ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں وہ نہ پڑھی جائے فاتحہ دِلا کر ایصالِ ثواب کریں ۔
کیا حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں کوئی حدیث نہیں ؟
اذان کا جواب دینا مسنون ہے یا واجب
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اسی طرح ماہ رجب میں بعض جگہ حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ایصالِ ثواب کے لیے پوریوں کے کونڈے بھرے جاتے ہیں یہ بھی جائز مگر اس میں بھی اسی جگہ کھانے کی بعضوں نے پابندی کر رکھی ہے یہ بے جا پابندی ہے ۔ اس کونڈے کے متعلق ایک کتاب بھی ہے جس کا نام داستانِ عجیب ہے، اس موقع پر بعض لوگ اس کو پڑھواتے ہیں اس میں جو کچھ لکھا ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں وہ نہ پڑھی جائے فاتحہ دِلا کر ایصالِ ثواب کریں ۔
کیا حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں کوئی حدیث نہیں ؟
اذان کا جواب دینا مسنون ہے یا واجب
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
قاضی القضاۃ حضرت سعد بن شمس الدین نابلسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
قاضی القضاۃ سعد بن شمس الدین محمد بن عبداللہ بن سعد بن ابی بکر ویری نابلسی:
ولادت:
منگل کے روز ۱۷ رجب ۷۶۸ھ کو پیدا ہوئے ـ
نام کنیت لقب اور وطن:
ابو السعادات کنیت اور سعد الدین لقب تھا ۔ اصل میں شہر دیر کے جو شہر نابلس کے پاس واقع ہے، رہنے والے تھے چنانچہ اسی لیے ابن الدیری کے نام سے معروف تھے مگر اخیر کو قاہرہ میں آکر مقیم ہوئے ـ
برے ذکی اور ذی حافظہ تھے، پہلے اپنے والد سے علم پڑھنا شروع کیا اور قرآن کو حفظ کر کے بہت سی کتابیں ۱۲ روز کے عرصہ میں حفظ کیں پھر کمال سریحی اور حمید الدین اور علاء بن نقیب اور شمس بن خطیب شافعی سے استفادہ کیا اور شمس قونوی صاحب ورد البحار اور حافظ الدین صاحب فتاویٰ بزازیہ کی صحبت کی اور برہان ابراہیم بن زین عبد الرحیم بن جماعہ سے روایت احادیث کی سندلی یہاں تک کہ اپنے زمانہ کے امام علامہ اور فقیہ فہامہ ہوئے استحضار مسائل مذہیبہ اور سریع ادراک اور حافظ میں بے نظیر تھے، علمی مباحثہ و مذاکرہ کا نہایت شوق تھا ۔
علم تفسیر خصوصاً فہم معانی تنزیل میں ید طولیٰ رکھتے تھے اور متن حدیث اس قدر یاد رکھتے تھے کہ جس کا بیان نہیں ہو سکتا تھا ۔ آپ کے والد ماجد فقہ وغیرہ میں آپ کو اپنے اوپر مقدم سمجھنے لگے اور آپ کا زکر خیر یہاں تک زمانہ میں مشہور ہوا کہ شاہ رخ بن تیمر بادشاہ ہندوستان نے سرور بار آپ کا حال قاصد ظاہر چقمق سے دریافت کیا،مدت تک تدریس و افتاء میں مشغول رہے، ۸۴۳ھ میں مصر کی دار القضاء حنفیہ کے متولی ہوئے، حج بھی آپ نے کئی دفعہ کیے چنانچہ پہلا حج ۸۰۱ھ میں کیا ۔ آپ سے قاضی محمد بن محمد بن شحنہ نے اخذ کیا ۔
شمس الدین سخاوی نے آپ کے ترجمہ میں لکھا ہے کہ میں نے آپ سے بہت کچھ آپ سے بہت کچھ پڑھا اور فوائد و نظم کو لکھا، چونکہ آپ کو باوجود کثرت اطلاع کے تصنیف و تالیف کا چنداں شوق نہ تھا، اس لیے تصنیفات آپ سے کم ظہور میں آئی اور جو آئی ہے وہ حسبِ ذیل ہے:
شروح عقائد نسفی جس کو زین قاسم حنفی نے آپ سے پڑھا، کواکب النیرات فی وصول ثواب الطاعات الی الاموات، السہام المارقہ فی کبد الزنادقہ، رسالۃ الجس بالتہمۃ، رسالہ ہل تنام الملائکہ ام لا، رسالہ ہل منع الشعر مخصوص بالنبی ام عام لجمیع الانبیاء تکملہ شرح ہدایہ سروجی سات جلد میں ۔ منظومہ نعمانیہ، یہ کتاب نظم میں ہے اور اس عجیب و غریب فوائد بیان ہوئے ہیں ۔
وصال:
وفات آپ کی 9 ربیع الآخر 867ھ کو مصر میں ہوئی، ’’ قبلۂ خلق ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/qazi-ul-qaza-hazrat-saad-bin-shamsuddin-nabulusi
قاضی القضاۃ سعد بن شمس الدین محمد بن عبداللہ بن سعد بن ابی بکر ویری نابلسی:
ولادت:
منگل کے روز ۱۷ رجب ۷۶۸ھ کو پیدا ہوئے ـ
نام کنیت لقب اور وطن:
ابو السعادات کنیت اور سعد الدین لقب تھا ۔ اصل میں شہر دیر کے جو شہر نابلس کے پاس واقع ہے، رہنے والے تھے چنانچہ اسی لیے ابن الدیری کے نام سے معروف تھے مگر اخیر کو قاہرہ میں آکر مقیم ہوئے ـ
برے ذکی اور ذی حافظہ تھے، پہلے اپنے والد سے علم پڑھنا شروع کیا اور قرآن کو حفظ کر کے بہت سی کتابیں ۱۲ روز کے عرصہ میں حفظ کیں پھر کمال سریحی اور حمید الدین اور علاء بن نقیب اور شمس بن خطیب شافعی سے استفادہ کیا اور شمس قونوی صاحب ورد البحار اور حافظ الدین صاحب فتاویٰ بزازیہ کی صحبت کی اور برہان ابراہیم بن زین عبد الرحیم بن جماعہ سے روایت احادیث کی سندلی یہاں تک کہ اپنے زمانہ کے امام علامہ اور فقیہ فہامہ ہوئے استحضار مسائل مذہیبہ اور سریع ادراک اور حافظ میں بے نظیر تھے، علمی مباحثہ و مذاکرہ کا نہایت شوق تھا ۔
علم تفسیر خصوصاً فہم معانی تنزیل میں ید طولیٰ رکھتے تھے اور متن حدیث اس قدر یاد رکھتے تھے کہ جس کا بیان نہیں ہو سکتا تھا ۔ آپ کے والد ماجد فقہ وغیرہ میں آپ کو اپنے اوپر مقدم سمجھنے لگے اور آپ کا زکر خیر یہاں تک زمانہ میں مشہور ہوا کہ شاہ رخ بن تیمر بادشاہ ہندوستان نے سرور بار آپ کا حال قاصد ظاہر چقمق سے دریافت کیا،مدت تک تدریس و افتاء میں مشغول رہے، ۸۴۳ھ میں مصر کی دار القضاء حنفیہ کے متولی ہوئے، حج بھی آپ نے کئی دفعہ کیے چنانچہ پہلا حج ۸۰۱ھ میں کیا ۔ آپ سے قاضی محمد بن محمد بن شحنہ نے اخذ کیا ۔
شمس الدین سخاوی نے آپ کے ترجمہ میں لکھا ہے کہ میں نے آپ سے بہت کچھ آپ سے بہت کچھ پڑھا اور فوائد و نظم کو لکھا، چونکہ آپ کو باوجود کثرت اطلاع کے تصنیف و تالیف کا چنداں شوق نہ تھا، اس لیے تصنیفات آپ سے کم ظہور میں آئی اور جو آئی ہے وہ حسبِ ذیل ہے:
شروح عقائد نسفی جس کو زین قاسم حنفی نے آپ سے پڑھا، کواکب النیرات فی وصول ثواب الطاعات الی الاموات، السہام المارقہ فی کبد الزنادقہ، رسالۃ الجس بالتہمۃ، رسالہ ہل تنام الملائکہ ام لا، رسالہ ہل منع الشعر مخصوص بالنبی ام عام لجمیع الانبیاء تکملہ شرح ہدایہ سروجی سات جلد میں ۔ منظومہ نعمانیہ، یہ کتاب نظم میں ہے اور اس عجیب و غریب فوائد بیان ہوئے ہیں ۔
وصال:
وفات آپ کی 9 ربیع الآخر 867ھ کو مصر میں ہوئی، ’’ قبلۂ خلق ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/qazi-ul-qaza-hazrat-saad-bin-shamsuddin-nabulusi
scholars.pk
Qazi-ul-Qaza Hazrat Saad Bin Shamsuddin Nabulusi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1