🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
ملک العلماء حضرت علامہ عطاء اللہ فیروز شاہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
استاد العلماء حضرت علامہ مولانا عطاء اللہ فیروزی شاہی گوٹھ فیروز شاہ (تحصیل میہڑ ضلع دادو سندھ) میں تولد ہوئے ۔

خاندانی حالات:
آپ کے دادا جان حضرت مکدوم مولانا عبد المجید فیروز شاہی عالم اور عارف ہو گزرے ہیں ۔ اس خاندان کا نسبی تعلق شیخ الاسلام غوث حضرت بہاؤ الدین زکریا سہروردی ملتانی قدس سرہ الاقدس (۶۶۱ھ) کے خلیفہ اکمل حضرت مخدوم عبداللہ پیروج علیہ الرحمہ (فیروز شاہ) سے تھا ۔

تعلیم وتربیت:
مولانا عطاء اللہ صٓحب نے ابتدائی تعلیم گوٹھ فیروز شاہ میں اپنے والد ماجد مولانا خیر محمد کے پاس حاصل کی۔ مولانا قاضی عبدالرئوف مورے والے کے پاس ’’شرح جامی‘‘ تک پڑھے۔ اس کے بعد اس وقت کی عظیم نامور مرکزی درسگاہ جو کہ شہداد کوٹ میں واقع تھی وہاں کا رخ کیاوہیں شیخ الاسلام، استاد الاساتذہ ، قطب الاقطاب بحر العلوم علامہ نور محمد فاروقی اور ان کے صاحبزادے اکبر استاد الکل علامۃ الدھر حضرت علامہ گل محمد شہداد کوٹی علیہم الرحمۃ کی خدمت عالیہ میں رہ کر علوم دین میں تکمیل کی اور دستار فضیلت سے سرفراز ہوئے ۔

مولانا صاحب بہت ذکی محنتی اور علم حاسل کرنے کا انہیں انتہائی شوق تھا حتیٰ کہ دوران تعلیم اپنے عزیز رشتہ داروں دوست و احباب سے رابطہ نہ ہوتا تھا۔ اس سے آپ کے علم سے شوق جنون کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔

درس و تدریس:
بعد فراغت اپنے گوٹھ فیروز شاہ میں دینی درسگاہ قائم کی اور زندگی بھر علم کے موتی لٹاتے رہے۔ دن میں تدریس اور رات میں نواف و معمولات کا ورد جاری رہتا۔ اس طرح آپ دن رات عبادت میں رہتے تھے ۔

اولاد:
مولانا صاحب کو نرینہ اولاد نہیں تھی۔ فقط ایک صاحبزادی تولد ہوئی جس کا مولانا عبدالرحمن صاحب سے عقد ہوا ۔ انہیں بھی اولاد نہیں ہوئی ۔

عادات و خصائل:
مولانا صاحب مستجا بالدعوات تھے ، کشف و کرامت کے صاحب تھے۔ اپنے جدامجد حضرت خلیفہ پیروج سہروردی علیہ الرحمۃ کی مزور شریف پر ھاضری کے وقت سائل کی مشکل آسان کرواتے تھے۔ عوام الناس بڑی عقیدت سے پیش آتے تھے۔ مولانا میاں محمد آگرو صاحب نہایت ادیب ، فیاض، متقی و پرہیزگار تھے، مولانا صاحب پانے اس نونہال شاگرد کے لئے فرماتے ہیں: ’’اگر ادب (احترام) کو صورت ہوتی تو میاں محمد کی شکل ہوتی ۔ ‘‘

مولانا صاحب کی کرامات آج بھی مشہور ہیں۔ ایک بار بارش نہ ہونے کے سبب نماز استسقاء پڑھائی، نماز پڑھانے کی دیر تھی ہاتھ اٹھائے اور تیز بارش شروع ہوگئی کہ نالے بہہ گئے۔ ایک بار دریا نے رخ گوتھ فیروز شاہ کی طرف کیا سیلاب کے خطرے کے پیش نظر پورا شہر خالی ہوگیا لیکن اس درویش نے اپنا جھونپڑا نہ چھوڑا اور آپ کے اشارے سے دریا نے اپنا رخ پھیر لیا اس طرح گوتھ فیروز شاہ تباہی سے بچ گیا ۔

حضرت مولانا عطاء اللہ صاحب نسبت عالم ربانی تھے، مہمان نواز، مسافر نواز تھے، مہمانوں کی خدمت میں راحت محسوس کرتے تھے۔ عرب شریف سے عرب حضرات آپ کے پاس مہمان بن کر آتے آپ ان ک ابے حد احترام و کدمت بجالاتے، ہفتوں تک مہمان کے رکنے سے آپ کے چہرے پر شکن تک نہیں آتی تھی۔ کسی نے آپ سے دریافت کیا: عربوں سے محبت کرنے کا سبب کیا ہے؟ آپ نے فرمایا :’’ وہ شیر کے بچے ہیں۔ ان کی خدمت نہ کرنے سے ڈر لگتا ہے کہیں شیر نہ ناراض ہو۔‘‘ (مہران سوانح نمبر) ـ

شیر سے مراد حضور پور نور ﷺ کی ذات گرامی ہے کیوں کہ آپ بھی عرب ہیں۔ عشاق حضرات کو آپ ﷺ کی اولاد ، خاندان، ملک، شہر صحابہ کرام بلکہ ہر وہ چیز جس کا آپ کی ذات اقدس سے نسبت ہے عزیز و محبوب ہے ۔ عاشقوں کے انداز ہی نرالے ہیں ۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: عرب سے محبت کرو، تین باتوں کے سبب سے ، ایک تو یہ کہ میں عرب میں سے ہوں دوسری یہ کہ قرآن عربی زبان میں ہے تیسری یہ کہ جنتیوں کی زبان عربی ہے (بیہقی) ـ
1
حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اپنی اولاد کو تین چیزیں سکھائو ۔

۱۔ اپنے آقا ﷺ سے محبت
۲۔ اہل بیت کی محبت
۳۔ اور قرآن کا پڑھنا (جامع الصغیر، کثیر العمال، دیلمی، مختار الاحادیث)

آپ عاشق زار تھے اسی لئے عشق و سوز کو بڑھانے کے لئے ’’محفل نعت‘‘ کا اکثر اہتمام فرماتے تھے ۔ آپ کے شاگرد حضرت مولانا محمد ہاشم نواب شاہی بتاتے ہیں کہ روزانہ تہجد کے وقت مجھے نیند سے اٹھاتے تھے اور خود نوافل میں مشغول ہوجاتے اور میں صوفیانہ غزل، نعت، مولود شریف اپنی سریری آواز میں پڑھتا تھا ۔ اگر مجھے نیند آجاتی تو جگا دیتے تھے ۔

آپ نعت شریف کو محبوب رکھتے تھے ، نعت آپ کی روحانی غذا تھی، جس کے سننے سے روح میں راحت، دل میں سرور پاتے

تلامذہ:
آپ کے بے شمار شاگر دہیں ان میں بعض کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:
٭ مولانا مفتی حامد اللہ میمن
گوٹھ بیلو تحصیل سجاول ضلع ٹھٹھہ
٭ حضرت مولانا محمد ہاشم انصاری
خطیب جامع مسجد نوابشاہ
٭ حضرت مخدوم غلام محمد ملکانی
بانی درگاہ ملکانی شریف دادو
٭ مولانا محمد اسماعیل سومرو
٭ مولانا محمد آگرو
نزد گوٹھ فیروز شاہ
٭ مولانا احمد ڈاہری
گوٹھ کرم پور تحصیل سیوہن شریف
٭ مولانا حزب اللہ
ہالانی
٭ مولانا اللہ دتہ
ٹنڈو شہبازی تحصیل سیوہن
٭ مولانا حافظ محمد صادق گلال
گوٹھ تھرڑی محبت تحصیل میہڑ
٭ مولانا رضا محمد
دولت پور تحصیل مورو
٭ مولانا محمد ملوک
نزد میہڑ
٭ مولانا محمد صدیق
نزد سیوہن شریف

وصال:
عاشق خیر الوریٰ ، ملک العلمائ، علامہ عطا اللہ فیروزشاہی نے ۱۶ ، رجب المرجب ۱۳۲۵ھ/۱۹۰۷ء کو وصال کیا ۔ آپ کا مزار پر انوار گوٹھ فیروز شاہ تحصیل میہڑ میں مرجع خلائق ہے۔ مزار شریف پر زائرین کی آسانی و سہولت کیلئے ایک کمرہ بنا ہوا ہے۔ مولانا ہدایت اللہ ہالا والے نے آپ کی وفات پر قطعہ تاریخ فارسی زبان میں رقم کیا اور ہاتھوں سے کاشی کی اینٹ پ رمنقش کراکے مزار شیرف پر کتبہ لگوایا۔

مولانا ہدایت اللہ نے تاریخ کا مادہ ’’مغفرہ‘‘ (۱۳۲۵ھ) سے نکالا اور مولوی دین محمد ادیبؔ نے سال وصال ’’تذکرہ‘‘ (۱۳۲۵ھ) سے نکالا ۔ (ماخوذ: مہران سوانح ۱۹۵۷ء) ـ

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-ataullah-feroz-shahi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مولانا خواجہ محمد اکبر چشتی نظامی بصیرپوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
مولانا خواجہ محمد اکبر رحمۃ اللہ علیہ ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا خواجہ محمد اکبر بن مولانا خواجہ محمد مقیم بن مولانا خواجہ محمد عظیم بن خواجہ محمد یار المعروف بہ حافظ بڈھا ۔ علیہم الرحمہ ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 9 شوال المکرم 1282ھ / مطابق 25 فروری 1866ء بروز اتوار بوقتِ تہجد بصیر پور میں ہوئی ۔

تحصیل علم:
ابتدائی تعلیم کے علاوہ شرح جامی تک کتب درسیہ کی تحصیل والد ماجد سے کی، مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے ہند کے مدارس کا قصد کیا، شملہ اور ڈلہوزی وغیرہ مقامات پر ممتاز علماء سے تکمیل کی، ڈلہوزی میں ایک قادری سہر وردی بزرگ سے علم الاخلاق حاصل کیا ۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں اپنے والد گرامی سے بیعت ہوئے، اور پھر حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمہ کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے اور اجازت و خلافت سے مشرف ہوئے ۔ حضرت خواجہ صاحب نے آپ کو " غریب نواز " کا لقب عطا کیا ۔

سیرت و خصائص:
صوفیِ باصفا، عالم علم الہدیٰ، جامع شریعت و طریقت، حضرت مولانا خواجہ محمد اکبر چشتی نظامی بصیر پوری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ صاحب علم و عمل، اور سراپا خلوص و تقویٰ تھے ۔ آپ تین مرتبہ حج و زیارت کے شرف سے بہرہ ور ہوئے اور کئی کئی ماہ مدینہ طیبہ میں قیام پذیر رہے ۔ جب حصول علم کے لئے گھر سے روانہ ہوئے تو تقریباً بائیس سال کے بعد واپس بصیر پور آئے ۔

حضرت خواجہ تونسوی علیہ الرحمہ نے آپ کو بصیرپور علاقے کی ذمہ داری تفویض فرمائی، آپ نے بصیر پور میں جامع مسجد برنے والی (جو اَب مسجد خواجہ محمد اکبر کے نام سے مشہور ہے) میں مدرسہ قائم کیا، جہاں علم و تدریس کے علاوہ عرصۂ دراز تک افتاء کے فرائض بھی انجام دیتے رہے، آپ کی بہت سی عالمانہ تصانیف فی الحال طبع نہیں ہو سکیں ۔ آپ کے تلامذہ اور خلفاء کثیر تعداد میں ہوئے، آپ کی برکت سے اس علاقے میں دین اسلام کی خوب ترویج و اشاعت ہوئی، اور سلسلۂ عالیہ چشتیہ کا فروغ ہوا ۔ آپ کی ساری زندگی ان علاقوں میں دین اسلام کی ترقی و فروغ میں صرف ہوئی ۔ آپ کی درس گاہ سے ایک جہاں علم کی لا زوال دولت سے فیض یاب ہوا اور ہو رہا ہے ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 16 رجب المرجب 1335ھ / مطابق 8 مئی 1917ء بروز منگل ہوا ۔ آپ کا مزار شریف بصیر پور میں مرجع خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع: تذکرہ اکابر اہلسنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-akbar-chishti-baseerpuri
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا حبیب اللہ نعمانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

پنجابی زبان مشہور شاعر مفسر مولانا محمد حبیب اللہ بن نظام دین کمبو ۱۲۸۸ھ/۱۸۷۱ء میں ضلع امر تسر گائوں کمبو میں پیدا ہوئے اور وہیں پر ورش پائی، سکول میں مڈل تک اردو فاسی اور ابگریزی کی تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد مخلتف اساتزہ سے فارسی، صرف اور نحو کی کتابیں پڑھیں، ترجمۂ قرآن مجید، تفسیر اور طب پڑھی، پولیس میں بھرتی ہو گئے، اٹھارہ سال تک کا نسٹیبل ، ہیڈ کا نسٹبل، ہیڈ محر رادر تھا نیدار کی حیثیت میں کام کرتے رہے ، محکمہ پولیس کو چھوڑ کر مختار عام کا کام کرتے رہے پھر امر تسر میںدکان کھول لی اور قیام پاکستان کے بعد چک ۸۶/۵ ۔ آرہارون آباد میں سکونت پذیر ہو گئے [1]

مولانا محمد حبیب اللہ نعمانی پنجابی کے قادر الکلام شاعر اور کثیر التصانیف مصنف تھے ، رسالۂ تقلیس میں انہوں نے بعض ایسی باتیں لکھ دی تھیں جو نا واقفی پر مبنی اور حقائق کے خلاف تھیں ، اس لئے مولانا بنی بخش حلوائی نے تفسیر نبوی اور بعض دیگر رسائل میں ان پر سخت گرفت فرمائی ،مولانا نعمانی سلیم الطبع اور حق پرست شخصیت تھے لہذا بروایت مولانا اللہ دتا مدظلہ (راقم کے والد گرامی) انہوں نے غلط باتوں سے رجوع کرلیا ۔

برادر محترم ولانا محمد عبد الغفار ظفر الصابری (لائپوری) کے نام مولانا کے بعض مکاتیب جو انہوں نے وصال سے کچھ عرصہ پہلے( ۵۳، ۱۹۵۰ء) میں لکھے تھے اور مولانا کے اپنے ہاتھ سے متسلب سنی تھے ، مولائے کریم نے توفیق عطا فرمائی تو ان پر کسی وقت الگ مقالہ لکھا جائے گا انشاء المولیٰ الکریم ۔

مولانا کی تصانیف کے نام یہ ہیں (مطبوعہ)
۱۔ حبیب التفاسیر المعروف بہ تفسیر نعمانی (تقریباً ۲۲ سیار ے)
۲۔ گلزار موسیٰ
۳۔ گلزار عیسٰی
۴۔ گلزار آرام
۵۔ گلزار یوسف (احسن القصص المحسنین
۶۔ مجموعۂ خطبات
۷۔ مجموعہ خطب اسلامیہ
۸۔ تفسری سورئہ والضحیٰ
۹۔ اکرام المصطفیٰ
۱۰ ۔ تفسیر سورۂ یٰسین
۱۱ ۔ جنگ حبیب
۱۲ ۔ تفسیر ہفت سورہ
۱۳ ۔ حالات حضرت نوشہ
۱۴ ـ توضیح مرام ( نثر )
۱۵۔ قصۂ جابر
۱۶ ۔ رسالۂ تقلید
۱۷۔ باغ بہشت المعروف بہ پنج گنج ۔

غیر مطبوعہ تصانیف:
۱۸۔ اخبار الغیب ، ترجمہ و شرح قصیدہ حضرت نعمت شاہ ولی رحمہ اللہ تعالیٰ ۔
۱۹۔ تفسیر سورئہ فاتحہ ، وغیرہ وغیرہ ۔

وصال:
۱۶ رجب ۲۲ مارچ (۱۳۷۳ھ/۱۹۵۴ء (بروز سوموار صبح آٹھ بجے آپ کا وصال ہوا [2]

حکیم محمد صادق چک ۸۶/۵ ۔ آر ہارون آباد آپ کے فرزند ہیں اور مطب کرتے ہیں ۔

[1] انسائیکلو پیڈیا مطبوعہ فیروز سنز لاہور۔

[2] مکتوب جناب حکیم محمد صادق بنام براد م مولانا محمد عبد الغفار ظفر الصابری ، لائل پور ـ

( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-habibullah-nomani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت عبد الکریم بن عبد النور حلبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
عبد الکریم بن عبد النور بن منیر عبد الکریم حلبی: ۱۶ رجب ۶۶۳ھ میں پیدا ہوئے ۔

اپنے زمانہ کے امام اور فقیہ فاضل محدث کامل تھے ۔ قطب الدین لقب تھا، علم شمس الدین محمود بن ابی بکر کلا باذی فرضی سے اخذ کیا اور حدیث کو بکثرت سنا اور بیان کیا یہاں تک کہ حفاظ اور نقاد حدیث میں شمار ہوئے اور کئی دفوہ حج کیا ۔

کتابوں کے عاریۃً دینے میں بڑے جوان مرد تھے ۔ کتاب اہتمام بہ تلخیص المام اور شرح صحیح بخاری دس مجلد میں ار شرح سیرت عبد الغنی تسنیف فرمائی اور مصر کی ایک تاریخ کچھ اوپر دس جلد میں لکھی، علاوہ ان کے اور بہت کتابیں تصنیف کیں اور سلخ ماہِ رجب ۷۳۵ھ میں اس جہان فانی سے رحلت کی، ’’محدث مقبولہ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdul-karim-bin-abdul-noor-halbi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
فقیہِ اعظم حضرت علامہ مفتی محمد نور اللہ نعیمی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
علامہ مفتی محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری ۔ کنیت: ابو الخیر ۔لقب: فقیہِ اعظم ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
فقیہِ اعظم مولانا مفتی نور اللہ بصیر پوری بن حضرت علامہ مولانا الحاج ابو النور محمد صدیق چشتی بن حضرت مولانا احمد دین ۔ علیہم الرحمہ ۔

آپ کا تعلق ارائیں خاندان کے ایک ایسے علمی و روحانی گھرانے سے ہے، جونسلاً بعد نسل علوم اسلامیہ کا امین چلا آرہا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 16 رجب المرجب 1332ھ، مطابق 10 جون 1914ء کو تحصیل دیپالپور ضلع ساہیوال پنجاب میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد زبدۃ الاصفیاء مولانا ابو النور محمد صدیق چشتی علیہ الرحمۃ (م 1380ھ/1961ء) اور جد امجد حضرت مولانا احمد دین علیہ الرحمہ (م1361ھ/1942ء) سے علوم عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل کی، پھر متحدہ ہندوستان کے مختلف مدارس کا رُخ کیا اورخداداد صلاحیت، ذاتی لگن اور محنت کی بنا پر علم کے کوہ ہمالیہ بن گئے۔علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل کرنے کے بعد 1351ھ/1933ء میں مرکزی دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں داخلہ لیا، جہاں شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا سید محمد دیدار علی شاہ الوری علیہ الرحمہ (م1354ھ/1935ء) اور مفتیٔ اعظم پاکستان مولانا ابو البرکات سید احمد قادری علیہ الرحمۃ (م 1398ھ / 1978ء) سے دورہ حدیث شریف پرھا ۔

حضرت محدث الوری علیہ الرحمہ دورۂ حدیث پڑھنے والوں کو اکثر فرمایا کرتے۔ "اس بار تم مولانا محمد نور اللہ صاحب کی طفیل پڑھ رہے ہو"۔

دورۂ حدیث مکمل کرنے کے بعد 6 شعبان 1352ھ / بمطابق 23 نومبر 1933ء کو سندو دستار فضیلت عطا کی گئی ۔ اس موقع پر امام اہل سنت محدث الوری علیہ الرحمۃ نے آپ کو مطبوعہ سند کے علاوہ خصوصی اسناد سے بھی نوازا اور"ابو الخیر" کنیت عطا فرمائی ۔

بیعت و خلافت:
آپ صدر الافاضل بدر المماثل مفسر قرآن، محافظ نظریۂ پاکستان حضرت علامہ مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور تمام علوم و سلاسل کی اجازت سے مشرف ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
مجمع علم عرفاں، شیخ الحدیث والتفسیر، حجۃ الاسلام، محدث دوراں، فقیہ العصر، فقیہ النفس، مفتیِ اعظم، حضرت فقیہ اعظم ابو الخیر مفتی محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے ان مقبول اور برگزیدہ بندوں میں سے ہیں، جن کا دوام جریدۂ عالم پرثبت ہو چکا ہے ۔ اعلیٰ اوصاف اور متنوع القاب میں سے "فقیہ اعظم" کا لقب زبان زد خاص و عام ہے ۔ اب فقیہ اعظم کہا جائے تو اہل علم اس سے آپ ہی کی ذات گرامی مراد لیتے ہیں ۔ حضرت فقیہ اعظم نے اپنی فطری ذکاوت و ذہانت سے زمانہ طالب علمی میں ذاتی مطالعہ سے کم و بیش پچاس و فنون میں وہ مہارت حاصل کی کہ باید و شاید۔ آپ کے اساتذہ بھی کی علمی استعداد اور صلاحیت و قابلیت کے متعرف تھے ۔

حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ العزیز نے تعلیم سے فراغت کے فوراً بعد درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ العزیز اپنے دور کی نادر روزگار شخصیت تھے، علم و فضل، تقویٰ و طہارت، تنظیم و سیاست اور ہمت و استقامت میں یکتائے روزگار تھے۔ یوں تو تفسیر، حدیث اور دیگر تمام مروج علومِ دینیہ میں کامل دسترس رکھتے تھے لیکن فقہ میں آپ کو تخصص کا درجہ حاصل تھا، اس لیے آپ کےہم عصر اکابر علماء نے آپ کو" فقیہ اعظم" تسلیم کیا ۔

حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ العزیز فتویٰ نویسی میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے، آپ کی ذات مرجع خلائق تھی، ملک و بیرون ملک کے لوگ استفتاء ات میں آپ کی طرف رجوع کرتے۔ ایک فقیہ اور مفتی کے لیے جن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے وہ تمام تر آپ میں بہ درجہ اتم پائی جاتی تھیں ۔ آپ کو اللہ جل شانہ نے مجتہدانہ صلاحیتیں ودیعت فرمائی تھیں ۔

موجودہ دور کے چیلنجوں کانہ صرف مقابلہ کیا بلکہ شریعت کی روشنی میں ان کاحل بھی پیش کیا ۔ ان کا چنانچہ ایک جگہ علماء کو دعوت فکر و عمل دیتے ہوئے رقم طراز ہیں:"کیا تازہ حوادثات و نوازل کے متعلق احکام شرعی موجود نہیں کہ ہم بالکلصُمٌّ بُکۡمٌبن جائیں اور عملاً اغیار کے ان کافرانہ مزعومات کی تصدیق کریں کہ معاذ اللہ اسلام فرسودہ مذہب ہے۔ اس میں روز مرہ ضروریات زندگی کے جدید ترین ہزارہا تقاضوں کا کوئی حل نہیں۔ یہ حقیقت بھی اظہر من الشّمس ہے کہ کسی ناجائز اور غلط چیز کو اپنے مقاد و منشاء سے جائز و مباح کہنا ہر گز جائز نہیں مگر شرعاً اجازت ہو تو عدم جواز کی رٹ لگانا بھی جائز نہیں، غرض یہ کہ ضد اور نفس پرستی سے بچنا نہایت ضروری ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے ذمہ دار علمائے کرام محض اللہ تعالیٰ کے لیے نفسانیت سے بلند و بالا سر جوڑ کر بیٹھیں اور ایسے جزئیات کے فیصلے کریں مگر بظاہر یہ توقع تمنا کے حدود طے نہیں کر سکتی اور یہی انتشار آزاد خیالی کا باعث بن رہا ہے۔" (فتاویٰ نوریہ، جلد 3، صفحہ 533) ـ
1
حضرت فقیہ اعظم اعلیٰ اخلاق و کرادار کے حامل تھے۔ ان کے قول و فعل  میں کامل ہم آہنگی تھی۔ آپ با وقار، بارعب اور پر کشش شخصیت کے حامل تھے۔ آپ بچوں پر رحمت، طلبہ پر شفقت اور بزرگوں سے مودّت فرمایا کرتے تھے۔ اخلاقیات میں صاحب خلق عظیم کے مظہر اتم تھے۔ شخصیت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو آپ کی ذات شرافت و منانت، جرات و استقلال، ہمدردی، خیر خواہی، حلم و برد باری، بے لوثی و فرض شناسی، عالی ظفر،علم و عمل، تواضع و انکسار خشیت الہیہ جیسی صفات سے متصف تھی۔ آپ سلف صالحین کی کامل تصویر تھے۔

آپ کی زندگی کی خصوصیات میں اہم بات یہ ہے کہ آپ سادہ منش، کم گو، دل کے کھرے اور شہرت و ذاتی نمائش سے بے نیاز تھے۔ شہری زندگی کے ہمہموں اور ظاہریت کے رکھ رکھاؤ سے دور، فطری اور صاف ستھرے ماحول میں رہ کر دین متین کی بے لوث خدمت کرتے ہوئے زندگی بسر کر ڈالی۔ درس و تدریس، فتویٰ نویسی، خطابت و امامت اور بہت بڑے ادارے کے جملہ انتظامی امور کی نگہداشت کے عوض تنخواہ یا اجرت لینے کے روادارنہ ہوئے بلکہ جملہ دینی خدمات محض رضائے الہی کی خاطر مفت سر انجام دیتے رہے۔انہی اوصاف کے پیش نظر استاذ الاساتذہ حضرت علامہ عطا محمد بندیالوی علیہ الرحمۃ نے آپ کو "مجدد وقت" قرار دیا۔ شیخ القرآن علامہ عبد الغفور ہزاروی علیہ الرحمہ نے آپ کو "آیت من آیات اللہ" کہا اور شہباز خطابت زادہ سید فیض الحسن شاہ صاحب علیہ الرحمہ (آلو مہار شریف) نے آپ کو "دور حاضر کا امام ابو حنیفہ" قرار دیا ۔

حضرت فقیہ اعظم فنافی الرسول ﷺ اور فنافی حب المدینہ تھے۔ آپ کی محفل میں حاضری سے شرف یاب ہونے والے اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کے ذکر سےآنکھوں سے آنسؤوں کے چشمے ابلنے لگتے، ایسا محسوس ہوتا کہ محبوب پاک ﷺ کے جمال جہاں آراء کے دیدار میں محو ہیں۔ مولانا حافظ محمد اسد اللہ نوری کے نام ایک مکتوب گرامی میں اسی حقیقت کو یوں منکشف فرماتے ہیں: "میرا تو بفضلہٖ تعالیٰ یہ عالم ہے کہ بصیر پور میں درس اسباق دیتے ہوئے مدینہ عالیہ میں ہی حاضر معلوم ہوتا ہوں۔ گنبد خضراء پیش نظر رہے تو کوئی دوری نہیں ۔ تعلیم بھی نہایت ضروری ہے کہ صوفی بے علم شیطان کا مسخرہ ہوتا ہے، ورنہ دل یہی چاہتا ہے کہ ہر وقت مدینہ عالیہ حاضری رہے"۔ (مکتوب محررہ، 18 - اکتوبر 1979ء) کئی بار ایسا بھی ہوا کہ ظاہری بے سرو سامانی کے باوجود بارگاہ حبیب ﷺ سے بلاوا آ گیا، اور مدینۃ المنورہ میں بارگاہِ حبیب ﷺ میں حاضر ہو گئے ۔

تاریخِ وصال:
یکم رجب المرجب 1403ھ بمطابق 15 اپریل 1983ء، بروز جمعۃ المبارک، دو پہر ایک بجے وصال فرمایا۔آپ کی آخری آرامگاہ بصیر پورشریف ضلع ساہیوال پنجاب پاکستان میں ہے ۔

ماخذ و مراجع: روشن دریچے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-muhammad-noorullah-naeemi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ الاسلام ابو الفتح حضرت شیخ رکن الدین سہروردی شاہ رکن عالم ملتانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
نام:
رکن الدین ۔ کنیت: ابو الفتح ۔ لقب: رکنِ عالم اور فضل اللہ ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
ابو الفتح شیخ رکن الدین ، بن عارفِ کامل شیخ صدر الدین عارف، بن شیخ الاسلام والمسلمین حضرت غوث بہاؤ الدین زکریا ملتانی (علیہم الرحمہ) ـ

تاریخِ ولادت:
بروز جمعۃ المبارک ، 9 رمضان المبارک 649ھ / بمطابق 1251ء میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم سے لے کر تکمیل تک، اور پھر تعلیم کے ساتھ تربیت، آپ کے والدِ گرامی شیخ صدر الدین عارف اور شیخ الاسلام والمسلمین حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی (علیہم الرحمہ) کی زیرِ نگرانی ہوئی ۔

بیعت و خلافت:
آپ کو اپنے والدِ گرامی اور حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی دونوں بزرگوں سے اجازت و خلافت حاصل ہے ۔

سیرت و خصائص:
مخزن مشہود ِالہیٰ ، منبع جودِ نا متناہی ، ادریس ِخلوت وحدت، برجیس ِبرج معرفت ،گوہرِ معدن ،صفات لا ریب ، لولوئے دریائے غیب ، ز بدۃ المشائخ ، مفتاح قفل حق الیقین، سراجِ مشائخِ سہروردیہ شیخ الاسلام ابو الفتح حضرت شیخ رکن الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ۔

" خاندانِ غوثیہ " کا فانوس اس سراج مِنیر کی روشنی سے جگمگا اٹھا اور اس نو مولودِ مسعود کی خوشی میں حضرت شیخ الاسلام بہاؤ الدین زکریا علیہ الرحمہ نے ملتان کے غربااور مساکین کے دامن زرو جواہر سے بھر دئیے تھے ۔

آپ کی والدہ محترمہ بی بی راستی علیہا الرحمہ حافظہ تھیں، اور روزانہ قرآنِ مجید کا ختم کیا کرتی تھیں ۔ اس لیے لوری کے بجائے قرآن پاک کی تلاوت فرمایا کرتیں، اسی حالت میں اگر اذان کی آواز سنائی دیتی تو حضرت رکن الدین والعالم دودھ پینا چھوڑ دیتے اور غور سے آذان سننے لگتے ۔ رات کو بی بی صاحبہ جب تہجدکے لیے بیدار ہوتیں تو حضرت رکن الدین بھی جاگ پڑتے ۔ جب قطب الا قطاب بولنے کی قابل ہوئے تو سب سے پہلے جو لفط زبانِ مبارک سے ادا ہوا وہ " اللہ جل جلالہ " کا اسم گرامی تھا ۔ سات سال کی عمر سے نماز اور روزہ کے پابند ہو گئے تھے ۔ رمضان کے علاوہ عاشورہ محرم میں بھی روزے رکھتے تھے ۔ ذکر خفی و جلی و مراقبہ محاسبہ آپ کے معمولات میں سے تھے ۔ ریاضت، عبادت اور مجاہدہ میں مشغول رہتے تھے ۔ کشفِ قلوب، طے ارض ، وطے لسان ، دس سال کی عمر سے عطاء ہو گئے تھے ۔ جو حاجت مند آپ کے پاس آتا خالی ہاتھ نہ جاتا، چونکہ آپ لوگوں کی حاجت پوری کرتے تھے ۔ اس واسطے لوگوں میں آپ " قبلۂ حاجات " مشہور ہوئے، جو نذرانہ آتا، آپ اس کو خرچ کر دیتے تھے ۔

علم ، تواضع ، شفقت ، حلم و عفو، حیاء و وقار، عبادت و ریاضت، زہد و تقویٰ، عفو و وفا، جود و سخا، نصیحت و شفقت، الفت و مروت، برد باری، کسر نفسی اور اخلاقِ حسنہ، الغرض جملہ صفاتِ عالیہ ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں۔ آپ نے مکاشفہ و محاسبہ میں اتنے مدارج طے کر لئے تھے کہ آپ کو " ابو الفتح " کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔ آپ علماء، فضلاء اور درویشوں کا بہت خیال کرتے تھے ۔ ان کی بہت عزت کرتے تھے اور ان کی خاطر مدارت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے تھے ۔

کسرِ نفسی کا یہ عالم تھا کہ جب پالکی میں بیٹھتے تو آپ کے دونوں ہاتھ اکثر باہر نکلے ہوئے ہوتے، اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کہ شاید کسی بخشے ہوئے کا ہاتھ میرے ہاتھ سے لگ جائے اور میں بھی بخشا جاؤں ۔

وصال:
16 رجب المرجب 735ھ / بمطابق 1334ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ مزار شریف قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان شریف میں مرکزِ انوار و تجلیات ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-rukn-e-alam-multani-soharwardi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1