🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-07-1445 ᴴ | 27-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-07-1445 ᴴ | 27-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت ابو حمزہ خراسانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ کا اصل وطن نیشا پور تھا ۔ اجلہ مشائخ خراسان سے تھے، پیر طریقت زہد و حقیقت میں یکتا تھے ایک بار ایک وادی میں سفر کے دوران نذر مانی کہ کسی سے کوئی امداد قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی اسباب دنیا میں سے کوئی چیز اپنے ساتھ رکھی دوران سفر لوٹا یا رسی یا ڈول کچھ بھی نہ تھا چاندی کا ایک ٹکڑا جو آپ کی ہمشیرہ نے دیا تھا جیب میں تھا وہ بھی راہ میں پھینک دیا۔
راستہ میں ایک کنواں آیا، آپ اس میں جاگرے، تین دن گزرے تو آپ نے محسوس کیا کہ باہر کوئی لوگ گزر رہے ہیں خیال آیا کہ انہیں آواز دے کر امداد کے لیے کہا جائے مگر خاموش رہے کہ اس طرح اللہ کے بغیر کسی دوسرے سے امداد طلب کی جائے۔ وہ کنویں کے سر پر آپہنچے، یہ کنواں راستے میں ایسی جگہ پر تھا کہ لوگوں کے گرنے کا احتمال تھا چنانچہ ان لوگوں نے فیصلہ کیا کہ اسے مٹی سے پُر کردیا جائے ان کے اس فیصلے سے آپ کو بے پناہ پریشانی ہوئی۔ اگرچہ زندگی سے مایوس ہوگئے مگر دل اللہ کے توکل پر مطمئن تھا، لوگوں نے کنویں کی چھت لکڑیاں ڈال کر اُسے ڈھانپ دیا، رات کنویں کے کنارے پر ایک دہشت ناک آواز سنائی دی، یوں معلوم ہوا کہ کنواں کھل رہا ہے۔
آپ نے دیکھا ایک لمبا سا جانور کنویں میں کودا ہے۔ آپ نے فیصلہ کرلیا کہ اس جانور کی امداد سے بھی میں باہر نہیں جاؤں گا، آواز آئی حمزہ! تمہارا یہ توکل خلاف عبادت ہے، تم باہر نکل آؤ، یہ جانور ہمارے ہی حکم سے اندر آ رہا ہے چونکہ تم نے صرف ہماری ذات پر توکل کیا ہے، ہم نے ہی ایسے مہیب جانور کو تمہاری خدمت میں مقرر کیا ہے، جسے دیکھ کر جان نکل جاتی ہے، حضرت شیخ نے اس جانور کی دم پکڑی اور کنویں سے باہر آگئے۔
وصال:
آپ کی وفات ۲۹۰ھ میں ہوئی تھی ۔ آپ حضرت ابو حفص حداد کے پہلو میں دفن کیے گئے ۔
شیخ اہل یقین ابوحمزہ
سال ترحیل دے عیاں گردد
سدِ حق راہ امیں ابوحمزہ
از ولی قطب دین ابوحمزہ ۲۹۰ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-hamza-khurasani
آپ کا اصل وطن نیشا پور تھا ۔ اجلہ مشائخ خراسان سے تھے، پیر طریقت زہد و حقیقت میں یکتا تھے ایک بار ایک وادی میں سفر کے دوران نذر مانی کہ کسی سے کوئی امداد قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی اسباب دنیا میں سے کوئی چیز اپنے ساتھ رکھی دوران سفر لوٹا یا رسی یا ڈول کچھ بھی نہ تھا چاندی کا ایک ٹکڑا جو آپ کی ہمشیرہ نے دیا تھا جیب میں تھا وہ بھی راہ میں پھینک دیا۔
راستہ میں ایک کنواں آیا، آپ اس میں جاگرے، تین دن گزرے تو آپ نے محسوس کیا کہ باہر کوئی لوگ گزر رہے ہیں خیال آیا کہ انہیں آواز دے کر امداد کے لیے کہا جائے مگر خاموش رہے کہ اس طرح اللہ کے بغیر کسی دوسرے سے امداد طلب کی جائے۔ وہ کنویں کے سر پر آپہنچے، یہ کنواں راستے میں ایسی جگہ پر تھا کہ لوگوں کے گرنے کا احتمال تھا چنانچہ ان لوگوں نے فیصلہ کیا کہ اسے مٹی سے پُر کردیا جائے ان کے اس فیصلے سے آپ کو بے پناہ پریشانی ہوئی۔ اگرچہ زندگی سے مایوس ہوگئے مگر دل اللہ کے توکل پر مطمئن تھا، لوگوں نے کنویں کی چھت لکڑیاں ڈال کر اُسے ڈھانپ دیا، رات کنویں کے کنارے پر ایک دہشت ناک آواز سنائی دی، یوں معلوم ہوا کہ کنواں کھل رہا ہے۔
آپ نے دیکھا ایک لمبا سا جانور کنویں میں کودا ہے۔ آپ نے فیصلہ کرلیا کہ اس جانور کی امداد سے بھی میں باہر نہیں جاؤں گا، آواز آئی حمزہ! تمہارا یہ توکل خلاف عبادت ہے، تم باہر نکل آؤ، یہ جانور ہمارے ہی حکم سے اندر آ رہا ہے چونکہ تم نے صرف ہماری ذات پر توکل کیا ہے، ہم نے ہی ایسے مہیب جانور کو تمہاری خدمت میں مقرر کیا ہے، جسے دیکھ کر جان نکل جاتی ہے، حضرت شیخ نے اس جانور کی دم پکڑی اور کنویں سے باہر آگئے۔
وصال:
آپ کی وفات ۲۹۰ھ میں ہوئی تھی ۔ آپ حضرت ابو حفص حداد کے پہلو میں دفن کیے گئے ۔
شیخ اہل یقین ابوحمزہ
سال ترحیل دے عیاں گردد
سدِ حق راہ امیں ابوحمزہ
از ولی قطب دین ابوحمزہ ۲۹۰ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-hamza-khurasani
❤1
حضرت سید یعقوب زنجانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ اولیائے کبار لاہور میں شمار ہوتے تھے علوم ظاہری اور باطنی میں جامع تھے شریعت و نجابت میں یکتا تھے سلسلہ عالیہ جنیدیہ سے تعلق رکھتے تھے صاحب حال و قال بزرگ تھے آپ کے والد محترم سید علی صحیح النسب حسینی سادات میں سے تھے آپ کا سلسلہ نسب سولہ واسطوں سے حضرت امام موسیٰ کاظم سے جاملتا ہے آپ ایمائے غیبی سے ۵۰۵ھ میں ترکستان سے برصغیر میں وارد ہوئے لاہور میں سکونت اختیار کی آپ کی مشیخیت کا شہرہ چار دانگ عالم میں گونجنے لگا۔ صاحب کرامت و خوارق ہونے کی وجہ سے لوگوں میں متعارف ہوئے لاہور کے علماء اور شرفاء نے آپ کے مقام مشیخیت کو تسلیم کیا تھا۔
آپ کے زمانے میں معز اللہ کہ بہرام شاہ بادشاہ بن مسعود شاہ بن ابراہیم شاہ غزنوی ہندوستان کا بادشاہ تھا۔ پنجاب میں غزنوی سلطنت کا گورنر طفرل نامی تھا وہ آپ کا بڑا معتقد تھا گورنر کی وجہ سے بے پناہ مخلوق خدا بھی آپ کے حلقۂ ارادت میں آگئی اور لاہور سے نکل کر آپ کی شہرت پورے پنجاب میں پھیلنے لگی آپ سے کرامات اور خوارق ظاہر ہوئیں جن دنوں حضرت خواجہ معین الدین اجمیری چشتی لاہور تشریف لائے اور حضرت داتا گنج بخش کے مزار پُر انوار پر معتکف ہوئے۔
تو حضرت صدر دیوان لاہور میں موجود تھے یہ دونوں بزرگان دین بڑی محبت سے اکٹھے رہتے تھے اور حضرت صدر دیوان کو حضرت اجمیری سے بے پناہ محبت اور عقیدت تھی حضرت صدر دیوان کے مزار کے قریب ہی آج تک خواجہ اجمیری کی نشست گاہ آج تک عوام کی زیارت گاہ ہے۔
وصال:
معبتر اور صحیح اقوال سے آپ کا سن وفات ۱۶ ماہ رجب ۶۰۴ھ ہے ۔
چو زنجانی ازین دنیا سفر کرد
شہِ مقبول زنجانی رقم شد
بگو مسعود مہدی صدر دیوان ۶۰۴ھ
مجب ایزدی گردید محبوب
سالِ رحلتش آں شاہ مطلوب
دگر فرما مقدس پیر یعقوب ۶۰۴ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-yaqoob-zanjani
آپ اولیائے کبار لاہور میں شمار ہوتے تھے علوم ظاہری اور باطنی میں جامع تھے شریعت و نجابت میں یکتا تھے سلسلہ عالیہ جنیدیہ سے تعلق رکھتے تھے صاحب حال و قال بزرگ تھے آپ کے والد محترم سید علی صحیح النسب حسینی سادات میں سے تھے آپ کا سلسلہ نسب سولہ واسطوں سے حضرت امام موسیٰ کاظم سے جاملتا ہے آپ ایمائے غیبی سے ۵۰۵ھ میں ترکستان سے برصغیر میں وارد ہوئے لاہور میں سکونت اختیار کی آپ کی مشیخیت کا شہرہ چار دانگ عالم میں گونجنے لگا۔ صاحب کرامت و خوارق ہونے کی وجہ سے لوگوں میں متعارف ہوئے لاہور کے علماء اور شرفاء نے آپ کے مقام مشیخیت کو تسلیم کیا تھا۔
آپ کے زمانے میں معز اللہ کہ بہرام شاہ بادشاہ بن مسعود شاہ بن ابراہیم شاہ غزنوی ہندوستان کا بادشاہ تھا۔ پنجاب میں غزنوی سلطنت کا گورنر طفرل نامی تھا وہ آپ کا بڑا معتقد تھا گورنر کی وجہ سے بے پناہ مخلوق خدا بھی آپ کے حلقۂ ارادت میں آگئی اور لاہور سے نکل کر آپ کی شہرت پورے پنجاب میں پھیلنے لگی آپ سے کرامات اور خوارق ظاہر ہوئیں جن دنوں حضرت خواجہ معین الدین اجمیری چشتی لاہور تشریف لائے اور حضرت داتا گنج بخش کے مزار پُر انوار پر معتکف ہوئے۔
تو حضرت صدر دیوان لاہور میں موجود تھے یہ دونوں بزرگان دین بڑی محبت سے اکٹھے رہتے تھے اور حضرت صدر دیوان کو حضرت اجمیری سے بے پناہ محبت اور عقیدت تھی حضرت صدر دیوان کے مزار کے قریب ہی آج تک خواجہ اجمیری کی نشست گاہ آج تک عوام کی زیارت گاہ ہے۔
وصال:
معبتر اور صحیح اقوال سے آپ کا سن وفات ۱۶ ماہ رجب ۶۰۴ھ ہے ۔
چو زنجانی ازین دنیا سفر کرد
شہِ مقبول زنجانی رقم شد
بگو مسعود مہدی صدر دیوان ۶۰۴ھ
مجب ایزدی گردید محبوب
سالِ رحلتش آں شاہ مطلوب
دگر فرما مقدس پیر یعقوب ۶۰۴ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-yaqoob-zanjani
❤1
ملک العلماء حضرت علامہ عطاء اللہ فیروز شاہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
استاد العلماء حضرت علامہ مولانا عطاء اللہ فیروزی شاہی گوٹھ فیروز شاہ (تحصیل میہڑ ضلع دادو سندھ) میں تولد ہوئے ۔
خاندانی حالات:
آپ کے دادا جان حضرت مکدوم مولانا عبد المجید فیروز شاہی عالم اور عارف ہو گزرے ہیں ۔ اس خاندان کا نسبی تعلق شیخ الاسلام غوث حضرت بہاؤ الدین زکریا سہروردی ملتانی قدس سرہ الاقدس (۶۶۱ھ) کے خلیفہ اکمل حضرت مخدوم عبداللہ پیروج علیہ الرحمہ (فیروز شاہ) سے تھا ۔
تعلیم وتربیت:
مولانا عطاء اللہ صٓحب نے ابتدائی تعلیم گوٹھ فیروز شاہ میں اپنے والد ماجد مولانا خیر محمد کے پاس حاصل کی۔ مولانا قاضی عبدالرئوف مورے والے کے پاس ’’شرح جامی‘‘ تک پڑھے۔ اس کے بعد اس وقت کی عظیم نامور مرکزی درسگاہ جو کہ شہداد کوٹ میں واقع تھی وہاں کا رخ کیاوہیں شیخ الاسلام، استاد الاساتذہ ، قطب الاقطاب بحر العلوم علامہ نور محمد فاروقی اور ان کے صاحبزادے اکبر استاد الکل علامۃ الدھر حضرت علامہ گل محمد شہداد کوٹی علیہم الرحمۃ کی خدمت عالیہ میں رہ کر علوم دین میں تکمیل کی اور دستار فضیلت سے سرفراز ہوئے ۔
مولانا صاحب بہت ذکی محنتی اور علم حاسل کرنے کا انہیں انتہائی شوق تھا حتیٰ کہ دوران تعلیم اپنے عزیز رشتہ داروں دوست و احباب سے رابطہ نہ ہوتا تھا۔ اس سے آپ کے علم سے شوق جنون کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
درس و تدریس:
بعد فراغت اپنے گوٹھ فیروز شاہ میں دینی درسگاہ قائم کی اور زندگی بھر علم کے موتی لٹاتے رہے۔ دن میں تدریس اور رات میں نواف و معمولات کا ورد جاری رہتا۔ اس طرح آپ دن رات عبادت میں رہتے تھے ۔
اولاد:
مولانا صاحب کو نرینہ اولاد نہیں تھی۔ فقط ایک صاحبزادی تولد ہوئی جس کا مولانا عبدالرحمن صاحب سے عقد ہوا ۔ انہیں بھی اولاد نہیں ہوئی ۔
عادات و خصائل:
مولانا صاحب مستجا بالدعوات تھے ، کشف و کرامت کے صاحب تھے۔ اپنے جدامجد حضرت خلیفہ پیروج سہروردی علیہ الرحمۃ کی مزور شریف پر ھاضری کے وقت سائل کی مشکل آسان کرواتے تھے۔ عوام الناس بڑی عقیدت سے پیش آتے تھے۔ مولانا میاں محمد آگرو صاحب نہایت ادیب ، فیاض، متقی و پرہیزگار تھے، مولانا صاحب پانے اس نونہال شاگرد کے لئے فرماتے ہیں: ’’اگر ادب (احترام) کو صورت ہوتی تو میاں محمد کی شکل ہوتی ۔ ‘‘
مولانا صاحب کی کرامات آج بھی مشہور ہیں۔ ایک بار بارش نہ ہونے کے سبب نماز استسقاء پڑھائی، نماز پڑھانے کی دیر تھی ہاتھ اٹھائے اور تیز بارش شروع ہوگئی کہ نالے بہہ گئے۔ ایک بار دریا نے رخ گوتھ فیروز شاہ کی طرف کیا سیلاب کے خطرے کے پیش نظر پورا شہر خالی ہوگیا لیکن اس درویش نے اپنا جھونپڑا نہ چھوڑا اور آپ کے اشارے سے دریا نے اپنا رخ پھیر لیا اس طرح گوتھ فیروز شاہ تباہی سے بچ گیا ۔
حضرت مولانا عطاء اللہ صاحب نسبت عالم ربانی تھے، مہمان نواز، مسافر نواز تھے، مہمانوں کی خدمت میں راحت محسوس کرتے تھے۔ عرب شریف سے عرب حضرات آپ کے پاس مہمان بن کر آتے آپ ان ک ابے حد احترام و کدمت بجالاتے، ہفتوں تک مہمان کے رکنے سے آپ کے چہرے پر شکن تک نہیں آتی تھی۔ کسی نے آپ سے دریافت کیا: عربوں سے محبت کرنے کا سبب کیا ہے؟ آپ نے فرمایا :’’ وہ شیر کے بچے ہیں۔ ان کی خدمت نہ کرنے سے ڈر لگتا ہے کہیں شیر نہ ناراض ہو۔‘‘ (مہران سوانح نمبر) ـ
شیر سے مراد حضور پور نور ﷺ کی ذات گرامی ہے کیوں کہ آپ بھی عرب ہیں۔ عشاق حضرات کو آپ ﷺ کی اولاد ، خاندان، ملک، شہر صحابہ کرام بلکہ ہر وہ چیز جس کا آپ کی ذات اقدس سے نسبت ہے عزیز و محبوب ہے ۔ عاشقوں کے انداز ہی نرالے ہیں ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: عرب سے محبت کرو، تین باتوں کے سبب سے ، ایک تو یہ کہ میں عرب میں سے ہوں دوسری یہ کہ قرآن عربی زبان میں ہے تیسری یہ کہ جنتیوں کی زبان عربی ہے (بیہقی) ـ
ولادت:
استاد العلماء حضرت علامہ مولانا عطاء اللہ فیروزی شاہی گوٹھ فیروز شاہ (تحصیل میہڑ ضلع دادو سندھ) میں تولد ہوئے ۔
خاندانی حالات:
آپ کے دادا جان حضرت مکدوم مولانا عبد المجید فیروز شاہی عالم اور عارف ہو گزرے ہیں ۔ اس خاندان کا نسبی تعلق شیخ الاسلام غوث حضرت بہاؤ الدین زکریا سہروردی ملتانی قدس سرہ الاقدس (۶۶۱ھ) کے خلیفہ اکمل حضرت مخدوم عبداللہ پیروج علیہ الرحمہ (فیروز شاہ) سے تھا ۔
تعلیم وتربیت:
مولانا عطاء اللہ صٓحب نے ابتدائی تعلیم گوٹھ فیروز شاہ میں اپنے والد ماجد مولانا خیر محمد کے پاس حاصل کی۔ مولانا قاضی عبدالرئوف مورے والے کے پاس ’’شرح جامی‘‘ تک پڑھے۔ اس کے بعد اس وقت کی عظیم نامور مرکزی درسگاہ جو کہ شہداد کوٹ میں واقع تھی وہاں کا رخ کیاوہیں شیخ الاسلام، استاد الاساتذہ ، قطب الاقطاب بحر العلوم علامہ نور محمد فاروقی اور ان کے صاحبزادے اکبر استاد الکل علامۃ الدھر حضرت علامہ گل محمد شہداد کوٹی علیہم الرحمۃ کی خدمت عالیہ میں رہ کر علوم دین میں تکمیل کی اور دستار فضیلت سے سرفراز ہوئے ۔
مولانا صاحب بہت ذکی محنتی اور علم حاسل کرنے کا انہیں انتہائی شوق تھا حتیٰ کہ دوران تعلیم اپنے عزیز رشتہ داروں دوست و احباب سے رابطہ نہ ہوتا تھا۔ اس سے آپ کے علم سے شوق جنون کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
درس و تدریس:
بعد فراغت اپنے گوٹھ فیروز شاہ میں دینی درسگاہ قائم کی اور زندگی بھر علم کے موتی لٹاتے رہے۔ دن میں تدریس اور رات میں نواف و معمولات کا ورد جاری رہتا۔ اس طرح آپ دن رات عبادت میں رہتے تھے ۔
اولاد:
مولانا صاحب کو نرینہ اولاد نہیں تھی۔ فقط ایک صاحبزادی تولد ہوئی جس کا مولانا عبدالرحمن صاحب سے عقد ہوا ۔ انہیں بھی اولاد نہیں ہوئی ۔
عادات و خصائل:
مولانا صاحب مستجا بالدعوات تھے ، کشف و کرامت کے صاحب تھے۔ اپنے جدامجد حضرت خلیفہ پیروج سہروردی علیہ الرحمۃ کی مزور شریف پر ھاضری کے وقت سائل کی مشکل آسان کرواتے تھے۔ عوام الناس بڑی عقیدت سے پیش آتے تھے۔ مولانا میاں محمد آگرو صاحب نہایت ادیب ، فیاض، متقی و پرہیزگار تھے، مولانا صاحب پانے اس نونہال شاگرد کے لئے فرماتے ہیں: ’’اگر ادب (احترام) کو صورت ہوتی تو میاں محمد کی شکل ہوتی ۔ ‘‘
مولانا صاحب کی کرامات آج بھی مشہور ہیں۔ ایک بار بارش نہ ہونے کے سبب نماز استسقاء پڑھائی، نماز پڑھانے کی دیر تھی ہاتھ اٹھائے اور تیز بارش شروع ہوگئی کہ نالے بہہ گئے۔ ایک بار دریا نے رخ گوتھ فیروز شاہ کی طرف کیا سیلاب کے خطرے کے پیش نظر پورا شہر خالی ہوگیا لیکن اس درویش نے اپنا جھونپڑا نہ چھوڑا اور آپ کے اشارے سے دریا نے اپنا رخ پھیر لیا اس طرح گوتھ فیروز شاہ تباہی سے بچ گیا ۔
حضرت مولانا عطاء اللہ صاحب نسبت عالم ربانی تھے، مہمان نواز، مسافر نواز تھے، مہمانوں کی خدمت میں راحت محسوس کرتے تھے۔ عرب شریف سے عرب حضرات آپ کے پاس مہمان بن کر آتے آپ ان ک ابے حد احترام و کدمت بجالاتے، ہفتوں تک مہمان کے رکنے سے آپ کے چہرے پر شکن تک نہیں آتی تھی۔ کسی نے آپ سے دریافت کیا: عربوں سے محبت کرنے کا سبب کیا ہے؟ آپ نے فرمایا :’’ وہ شیر کے بچے ہیں۔ ان کی خدمت نہ کرنے سے ڈر لگتا ہے کہیں شیر نہ ناراض ہو۔‘‘ (مہران سوانح نمبر) ـ
شیر سے مراد حضور پور نور ﷺ کی ذات گرامی ہے کیوں کہ آپ بھی عرب ہیں۔ عشاق حضرات کو آپ ﷺ کی اولاد ، خاندان، ملک، شہر صحابہ کرام بلکہ ہر وہ چیز جس کا آپ کی ذات اقدس سے نسبت ہے عزیز و محبوب ہے ۔ عاشقوں کے انداز ہی نرالے ہیں ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: عرب سے محبت کرو، تین باتوں کے سبب سے ، ایک تو یہ کہ میں عرب میں سے ہوں دوسری یہ کہ قرآن عربی زبان میں ہے تیسری یہ کہ جنتیوں کی زبان عربی ہے (بیہقی) ـ
❤1
حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اپنی اولاد کو تین چیزیں سکھائو ۔
۱۔ اپنے آقا ﷺ سے محبت
۲۔ اہل بیت کی محبت
۳۔ اور قرآن کا پڑھنا (جامع الصغیر، کثیر العمال، دیلمی، مختار الاحادیث)
آپ عاشق زار تھے اسی لئے عشق و سوز کو بڑھانے کے لئے ’’محفل نعت‘‘ کا اکثر اہتمام فرماتے تھے ۔ آپ کے شاگرد حضرت مولانا محمد ہاشم نواب شاہی بتاتے ہیں کہ روزانہ تہجد کے وقت مجھے نیند سے اٹھاتے تھے اور خود نوافل میں مشغول ہوجاتے اور میں صوفیانہ غزل، نعت، مولود شریف اپنی سریری آواز میں پڑھتا تھا ۔ اگر مجھے نیند آجاتی تو جگا دیتے تھے ۔
آپ نعت شریف کو محبوب رکھتے تھے ، نعت آپ کی روحانی غذا تھی، جس کے سننے سے روح میں راحت، دل میں سرور پاتے
تلامذہ:
آپ کے بے شمار شاگر دہیں ان میں بعض کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:
٭ مولانا مفتی حامد اللہ میمن
گوٹھ بیلو تحصیل سجاول ضلع ٹھٹھہ
٭ حضرت مولانا محمد ہاشم انصاری
خطیب جامع مسجد نوابشاہ
٭ حضرت مخدوم غلام محمد ملکانی
بانی درگاہ ملکانی شریف دادو
٭ مولانا محمد اسماعیل سومرو
٭ مولانا محمد آگرو
نزد گوٹھ فیروز شاہ
٭ مولانا احمد ڈاہری
گوٹھ کرم پور تحصیل سیوہن شریف
٭ مولانا حزب اللہ
ہالانی
٭ مولانا اللہ دتہ
ٹنڈو شہبازی تحصیل سیوہن
٭ مولانا حافظ محمد صادق گلال
گوٹھ تھرڑی محبت تحصیل میہڑ
٭ مولانا رضا محمد
دولت پور تحصیل مورو
٭ مولانا محمد ملوک
نزد میہڑ
٭ مولانا محمد صدیق
نزد سیوہن شریف
وصال:
عاشق خیر الوریٰ ، ملک العلمائ، علامہ عطا اللہ فیروزشاہی نے ۱۶ ، رجب المرجب ۱۳۲۵ھ/۱۹۰۷ء کو وصال کیا ۔ آپ کا مزار پر انوار گوٹھ فیروز شاہ تحصیل میہڑ میں مرجع خلائق ہے۔ مزار شریف پر زائرین کی آسانی و سہولت کیلئے ایک کمرہ بنا ہوا ہے۔ مولانا ہدایت اللہ ہالا والے نے آپ کی وفات پر قطعہ تاریخ فارسی زبان میں رقم کیا اور ہاتھوں سے کاشی کی اینٹ پ رمنقش کراکے مزار شیرف پر کتبہ لگوایا۔
مولانا ہدایت اللہ نے تاریخ کا مادہ ’’مغفرہ‘‘ (۱۳۲۵ھ) سے نکالا اور مولوی دین محمد ادیبؔ نے سال وصال ’’تذکرہ‘‘ (۱۳۲۵ھ) سے نکالا ۔ (ماخوذ: مہران سوانح ۱۹۵۷ء) ـ
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-ataullah-feroz-shahi
اپنی اولاد کو تین چیزیں سکھائو ۔
۱۔ اپنے آقا ﷺ سے محبت
۲۔ اہل بیت کی محبت
۳۔ اور قرآن کا پڑھنا (جامع الصغیر، کثیر العمال، دیلمی، مختار الاحادیث)
آپ عاشق زار تھے اسی لئے عشق و سوز کو بڑھانے کے لئے ’’محفل نعت‘‘ کا اکثر اہتمام فرماتے تھے ۔ آپ کے شاگرد حضرت مولانا محمد ہاشم نواب شاہی بتاتے ہیں کہ روزانہ تہجد کے وقت مجھے نیند سے اٹھاتے تھے اور خود نوافل میں مشغول ہوجاتے اور میں صوفیانہ غزل، نعت، مولود شریف اپنی سریری آواز میں پڑھتا تھا ۔ اگر مجھے نیند آجاتی تو جگا دیتے تھے ۔
آپ نعت شریف کو محبوب رکھتے تھے ، نعت آپ کی روحانی غذا تھی، جس کے سننے سے روح میں راحت، دل میں سرور پاتے
تلامذہ:
آپ کے بے شمار شاگر دہیں ان میں بعض کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:
٭ مولانا مفتی حامد اللہ میمن
گوٹھ بیلو تحصیل سجاول ضلع ٹھٹھہ
٭ حضرت مولانا محمد ہاشم انصاری
خطیب جامع مسجد نوابشاہ
٭ حضرت مخدوم غلام محمد ملکانی
بانی درگاہ ملکانی شریف دادو
٭ مولانا محمد اسماعیل سومرو
٭ مولانا محمد آگرو
نزد گوٹھ فیروز شاہ
٭ مولانا احمد ڈاہری
گوٹھ کرم پور تحصیل سیوہن شریف
٭ مولانا حزب اللہ
ہالانی
٭ مولانا اللہ دتہ
ٹنڈو شہبازی تحصیل سیوہن
٭ مولانا حافظ محمد صادق گلال
گوٹھ تھرڑی محبت تحصیل میہڑ
٭ مولانا رضا محمد
دولت پور تحصیل مورو
٭ مولانا محمد ملوک
نزد میہڑ
٭ مولانا محمد صدیق
نزد سیوہن شریف
وصال:
عاشق خیر الوریٰ ، ملک العلمائ، علامہ عطا اللہ فیروزشاہی نے ۱۶ ، رجب المرجب ۱۳۲۵ھ/۱۹۰۷ء کو وصال کیا ۔ آپ کا مزار پر انوار گوٹھ فیروز شاہ تحصیل میہڑ میں مرجع خلائق ہے۔ مزار شریف پر زائرین کی آسانی و سہولت کیلئے ایک کمرہ بنا ہوا ہے۔ مولانا ہدایت اللہ ہالا والے نے آپ کی وفات پر قطعہ تاریخ فارسی زبان میں رقم کیا اور ہاتھوں سے کاشی کی اینٹ پ رمنقش کراکے مزار شیرف پر کتبہ لگوایا۔
مولانا ہدایت اللہ نے تاریخ کا مادہ ’’مغفرہ‘‘ (۱۳۲۵ھ) سے نکالا اور مولوی دین محمد ادیبؔ نے سال وصال ’’تذکرہ‘‘ (۱۳۲۵ھ) سے نکالا ۔ (ماخوذ: مہران سوانح ۱۹۵۷ء) ـ
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-ataullah-feroz-shahi
❤1
مولانا خواجہ محمد اکبر چشتی نظامی بصیرپوری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا خواجہ محمد اکبر رحمۃ اللہ علیہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا خواجہ محمد اکبر بن مولانا خواجہ محمد مقیم بن مولانا خواجہ محمد عظیم بن خواجہ محمد یار المعروف بہ حافظ بڈھا ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 9 شوال المکرم 1282ھ / مطابق 25 فروری 1866ء بروز اتوار بوقتِ تہجد بصیر پور میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
ابتدائی تعلیم کے علاوہ شرح جامی تک کتب درسیہ کی تحصیل والد ماجد سے کی، مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے ہند کے مدارس کا قصد کیا، شملہ اور ڈلہوزی وغیرہ مقامات پر ممتاز علماء سے تکمیل کی، ڈلہوزی میں ایک قادری سہر وردی بزرگ سے علم الاخلاق حاصل کیا ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں اپنے والد گرامی سے بیعت ہوئے، اور پھر حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمہ کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے اور اجازت و خلافت سے مشرف ہوئے ۔ حضرت خواجہ صاحب نے آپ کو " غریب نواز " کا لقب عطا کیا ۔
سیرت و خصائص:
صوفیِ باصفا، عالم علم الہدیٰ، جامع شریعت و طریقت، حضرت مولانا خواجہ محمد اکبر چشتی نظامی بصیر پوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ صاحب علم و عمل، اور سراپا خلوص و تقویٰ تھے ۔ آپ تین مرتبہ حج و زیارت کے شرف سے بہرہ ور ہوئے اور کئی کئی ماہ مدینہ طیبہ میں قیام پذیر رہے ۔ جب حصول علم کے لئے گھر سے روانہ ہوئے تو تقریباً بائیس سال کے بعد واپس بصیر پور آئے ۔
حضرت خواجہ تونسوی علیہ الرحمہ نے آپ کو بصیرپور علاقے کی ذمہ داری تفویض فرمائی، آپ نے بصیر پور میں جامع مسجد برنے والی (جو اَب مسجد خواجہ محمد اکبر کے نام سے مشہور ہے) میں مدرسہ قائم کیا، جہاں علم و تدریس کے علاوہ عرصۂ دراز تک افتاء کے فرائض بھی انجام دیتے رہے، آپ کی بہت سی عالمانہ تصانیف فی الحال طبع نہیں ہو سکیں ۔ آپ کے تلامذہ اور خلفاء کثیر تعداد میں ہوئے، آپ کی برکت سے اس علاقے میں دین اسلام کی خوب ترویج و اشاعت ہوئی، اور سلسلۂ عالیہ چشتیہ کا فروغ ہوا ۔ آپ کی ساری زندگی ان علاقوں میں دین اسلام کی ترقی و فروغ میں صرف ہوئی ۔ آپ کی درس گاہ سے ایک جہاں علم کی لا زوال دولت سے فیض یاب ہوا اور ہو رہا ہے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 16 رجب المرجب 1335ھ / مطابق 8 مئی 1917ء بروز منگل ہوا ۔ آپ کا مزار شریف بصیر پور میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع: تذکرہ اکابر اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-akbar-chishti-baseerpuri
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا خواجہ محمد اکبر رحمۃ اللہ علیہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا خواجہ محمد اکبر بن مولانا خواجہ محمد مقیم بن مولانا خواجہ محمد عظیم بن خواجہ محمد یار المعروف بہ حافظ بڈھا ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 9 شوال المکرم 1282ھ / مطابق 25 فروری 1866ء بروز اتوار بوقتِ تہجد بصیر پور میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
ابتدائی تعلیم کے علاوہ شرح جامی تک کتب درسیہ کی تحصیل والد ماجد سے کی، مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے ہند کے مدارس کا قصد کیا، شملہ اور ڈلہوزی وغیرہ مقامات پر ممتاز علماء سے تکمیل کی، ڈلہوزی میں ایک قادری سہر وردی بزرگ سے علم الاخلاق حاصل کیا ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں اپنے والد گرامی سے بیعت ہوئے، اور پھر حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمہ کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے اور اجازت و خلافت سے مشرف ہوئے ۔ حضرت خواجہ صاحب نے آپ کو " غریب نواز " کا لقب عطا کیا ۔
سیرت و خصائص:
صوفیِ باصفا، عالم علم الہدیٰ، جامع شریعت و طریقت، حضرت مولانا خواجہ محمد اکبر چشتی نظامی بصیر پوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ صاحب علم و عمل، اور سراپا خلوص و تقویٰ تھے ۔ آپ تین مرتبہ حج و زیارت کے شرف سے بہرہ ور ہوئے اور کئی کئی ماہ مدینہ طیبہ میں قیام پذیر رہے ۔ جب حصول علم کے لئے گھر سے روانہ ہوئے تو تقریباً بائیس سال کے بعد واپس بصیر پور آئے ۔
حضرت خواجہ تونسوی علیہ الرحمہ نے آپ کو بصیرپور علاقے کی ذمہ داری تفویض فرمائی، آپ نے بصیر پور میں جامع مسجد برنے والی (جو اَب مسجد خواجہ محمد اکبر کے نام سے مشہور ہے) میں مدرسہ قائم کیا، جہاں علم و تدریس کے علاوہ عرصۂ دراز تک افتاء کے فرائض بھی انجام دیتے رہے، آپ کی بہت سی عالمانہ تصانیف فی الحال طبع نہیں ہو سکیں ۔ آپ کے تلامذہ اور خلفاء کثیر تعداد میں ہوئے، آپ کی برکت سے اس علاقے میں دین اسلام کی خوب ترویج و اشاعت ہوئی، اور سلسلۂ عالیہ چشتیہ کا فروغ ہوا ۔ آپ کی ساری زندگی ان علاقوں میں دین اسلام کی ترقی و فروغ میں صرف ہوئی ۔ آپ کی درس گاہ سے ایک جہاں علم کی لا زوال دولت سے فیض یاب ہوا اور ہو رہا ہے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 16 رجب المرجب 1335ھ / مطابق 8 مئی 1917ء بروز منگل ہوا ۔ آپ کا مزار شریف بصیر پور میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع: تذکرہ اکابر اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-akbar-chishti-baseerpuri
❤1👍1
حضرت مولانا حبیب اللہ نعمانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
پنجابی زبان مشہور شاعر مفسر مولانا محمد حبیب اللہ بن نظام دین کمبو ۱۲۸۸ھ/۱۸۷۱ء میں ضلع امر تسر گائوں کمبو میں پیدا ہوئے اور وہیں پر ورش پائی، سکول میں مڈل تک اردو فاسی اور ابگریزی کی تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد مخلتف اساتزہ سے فارسی، صرف اور نحو کی کتابیں پڑھیں، ترجمۂ قرآن مجید، تفسیر اور طب پڑھی، پولیس میں بھرتی ہو گئے، اٹھارہ سال تک کا نسٹیبل ، ہیڈ کا نسٹبل، ہیڈ محر رادر تھا نیدار کی حیثیت میں کام کرتے رہے ، محکمہ پولیس کو چھوڑ کر مختار عام کا کام کرتے رہے پھر امر تسر میںدکان کھول لی اور قیام پاکستان کے بعد چک ۸۶/۵ ۔ آرہارون آباد میں سکونت پذیر ہو گئے [1]
مولانا محمد حبیب اللہ نعمانی پنجابی کے قادر الکلام شاعر اور کثیر التصانیف مصنف تھے ، رسالۂ تقلیس میں انہوں نے بعض ایسی باتیں لکھ دی تھیں جو نا واقفی پر مبنی اور حقائق کے خلاف تھیں ، اس لئے مولانا بنی بخش حلوائی نے تفسیر نبوی اور بعض دیگر رسائل میں ان پر سخت گرفت فرمائی ،مولانا نعمانی سلیم الطبع اور حق پرست شخصیت تھے لہذا بروایت مولانا اللہ دتا مدظلہ (راقم کے والد گرامی) انہوں نے غلط باتوں سے رجوع کرلیا ۔
برادر محترم ولانا محمد عبد الغفار ظفر الصابری (لائپوری) کے نام مولانا کے بعض مکاتیب جو انہوں نے وصال سے کچھ عرصہ پہلے( ۵۳، ۱۹۵۰ء) میں لکھے تھے اور مولانا کے اپنے ہاتھ سے متسلب سنی تھے ، مولائے کریم نے توفیق عطا فرمائی تو ان پر کسی وقت الگ مقالہ لکھا جائے گا انشاء المولیٰ الکریم ۔
مولانا کی تصانیف کے نام یہ ہیں (مطبوعہ)
۱۔ حبیب التفاسیر المعروف بہ تفسیر نعمانی (تقریباً ۲۲ سیار ے)
۲۔ گلزار موسیٰ
۳۔ گلزار عیسٰی
۴۔ گلزار آرام
۵۔ گلزار یوسف (احسن القصص المحسنین
۶۔ مجموعۂ خطبات
۷۔ مجموعہ خطب اسلامیہ
۸۔ تفسری سورئہ والضحیٰ
۹۔ اکرام المصطفیٰ
۱۰ ۔ تفسیر سورۂ یٰسین
۱۱ ۔ جنگ حبیب
۱۲ ۔ تفسیر ہفت سورہ
۱۳ ۔ حالات حضرت نوشہ
۱۴ ـ توضیح مرام ( نثر )
۱۵۔ قصۂ جابر
۱۶ ۔ رسالۂ تقلید
۱۷۔ باغ بہشت المعروف بہ پنج گنج ۔
غیر مطبوعہ تصانیف:
۱۸۔ اخبار الغیب ، ترجمہ و شرح قصیدہ حضرت نعمت شاہ ولی رحمہ اللہ تعالیٰ ۔
۱۹۔ تفسیر سورئہ فاتحہ ، وغیرہ وغیرہ ۔
وصال:
۱۶ رجب ۲۲ مارچ (۱۳۷۳ھ/۱۹۵۴ء (بروز سوموار صبح آٹھ بجے آپ کا وصال ہوا [2]
حکیم محمد صادق چک ۸۶/۵ ۔ آر ہارون آباد آپ کے فرزند ہیں اور مطب کرتے ہیں ۔
[1] انسائیکلو پیڈیا مطبوعہ فیروز سنز لاہور۔
[2] مکتوب جناب حکیم محمد صادق بنام براد م مولانا محمد عبد الغفار ظفر الصابری ، لائل پور ـ
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-habibullah-nomani
پنجابی زبان مشہور شاعر مفسر مولانا محمد حبیب اللہ بن نظام دین کمبو ۱۲۸۸ھ/۱۸۷۱ء میں ضلع امر تسر گائوں کمبو میں پیدا ہوئے اور وہیں پر ورش پائی، سکول میں مڈل تک اردو فاسی اور ابگریزی کی تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد مخلتف اساتزہ سے فارسی، صرف اور نحو کی کتابیں پڑھیں، ترجمۂ قرآن مجید، تفسیر اور طب پڑھی، پولیس میں بھرتی ہو گئے، اٹھارہ سال تک کا نسٹیبل ، ہیڈ کا نسٹبل، ہیڈ محر رادر تھا نیدار کی حیثیت میں کام کرتے رہے ، محکمہ پولیس کو چھوڑ کر مختار عام کا کام کرتے رہے پھر امر تسر میںدکان کھول لی اور قیام پاکستان کے بعد چک ۸۶/۵ ۔ آرہارون آباد میں سکونت پذیر ہو گئے [1]
مولانا محمد حبیب اللہ نعمانی پنجابی کے قادر الکلام شاعر اور کثیر التصانیف مصنف تھے ، رسالۂ تقلیس میں انہوں نے بعض ایسی باتیں لکھ دی تھیں جو نا واقفی پر مبنی اور حقائق کے خلاف تھیں ، اس لئے مولانا بنی بخش حلوائی نے تفسیر نبوی اور بعض دیگر رسائل میں ان پر سخت گرفت فرمائی ،مولانا نعمانی سلیم الطبع اور حق پرست شخصیت تھے لہذا بروایت مولانا اللہ دتا مدظلہ (راقم کے والد گرامی) انہوں نے غلط باتوں سے رجوع کرلیا ۔
برادر محترم ولانا محمد عبد الغفار ظفر الصابری (لائپوری) کے نام مولانا کے بعض مکاتیب جو انہوں نے وصال سے کچھ عرصہ پہلے( ۵۳، ۱۹۵۰ء) میں لکھے تھے اور مولانا کے اپنے ہاتھ سے متسلب سنی تھے ، مولائے کریم نے توفیق عطا فرمائی تو ان پر کسی وقت الگ مقالہ لکھا جائے گا انشاء المولیٰ الکریم ۔
مولانا کی تصانیف کے نام یہ ہیں (مطبوعہ)
۱۔ حبیب التفاسیر المعروف بہ تفسیر نعمانی (تقریباً ۲۲ سیار ے)
۲۔ گلزار موسیٰ
۳۔ گلزار عیسٰی
۴۔ گلزار آرام
۵۔ گلزار یوسف (احسن القصص المحسنین
۶۔ مجموعۂ خطبات
۷۔ مجموعہ خطب اسلامیہ
۸۔ تفسری سورئہ والضحیٰ
۹۔ اکرام المصطفیٰ
۱۰ ۔ تفسیر سورۂ یٰسین
۱۱ ۔ جنگ حبیب
۱۲ ۔ تفسیر ہفت سورہ
۱۳ ۔ حالات حضرت نوشہ
۱۴ ـ توضیح مرام ( نثر )
۱۵۔ قصۂ جابر
۱۶ ۔ رسالۂ تقلید
۱۷۔ باغ بہشت المعروف بہ پنج گنج ۔
غیر مطبوعہ تصانیف:
۱۸۔ اخبار الغیب ، ترجمہ و شرح قصیدہ حضرت نعمت شاہ ولی رحمہ اللہ تعالیٰ ۔
۱۹۔ تفسیر سورئہ فاتحہ ، وغیرہ وغیرہ ۔
وصال:
۱۶ رجب ۲۲ مارچ (۱۳۷۳ھ/۱۹۵۴ء (بروز سوموار صبح آٹھ بجے آپ کا وصال ہوا [2]
حکیم محمد صادق چک ۸۶/۵ ۔ آر ہارون آباد آپ کے فرزند ہیں اور مطب کرتے ہیں ۔
[1] انسائیکلو پیڈیا مطبوعہ فیروز سنز لاہور۔
[2] مکتوب جناب حکیم محمد صادق بنام براد م مولانا محمد عبد الغفار ظفر الصابری ، لائل پور ـ
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-habibullah-nomani
❤1