🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابو حمزہ خراسانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ کا اصل وطن نیشا پور تھا ۔ اجلہ مشائخ خراسان سے تھے، پیر طریقت زہد و حقیقت میں یکتا تھے ایک بار ایک وادی میں سفر کے دوران نذر مانی کہ کسی سے کوئی امداد قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی اسباب دنیا میں سے کوئی چیز اپنے ساتھ رکھی دوران سفر لوٹا یا رسی یا ڈول کچھ بھی نہ تھا چاندی کا ایک ٹکڑا جو آپ کی ہمشیرہ نے دیا تھا جیب میں تھا وہ بھی راہ میں پھینک دیا۔

راستہ میں ایک کنواں آیا، آپ اس میں جاگرے، تین دن گزرے تو آپ نے محسوس کیا کہ باہر کوئی لوگ گزر رہے ہیں خیال آیا کہ انہیں آواز دے کر امداد کے لیے کہا جائے مگر خاموش رہے کہ اس طرح اللہ کے بغیر کسی دوسرے سے امداد طلب کی جائے۔ وہ کنویں کے سر پر آپہنچے، یہ کنواں راستے میں ایسی جگہ پر تھا کہ لوگوں کے گرنے کا احتمال تھا چنانچہ ان لوگوں نے فیصلہ کیا کہ اسے مٹی سے پُر کردیا جائے ان کے اس فیصلے سے آپ کو بے پناہ پریشانی ہوئی۔ اگرچہ زندگی سے مایوس ہوگئے مگر دل اللہ کے توکل پر مطمئن تھا، لوگوں نے کنویں کی چھت لکڑیاں ڈال کر اُسے ڈھانپ دیا، رات کنویں کے کنارے پر ایک دہشت ناک آواز سنائی دی، یوں معلوم ہوا کہ کنواں کھل رہا ہے۔

آپ نے دیکھا ایک لمبا سا جانور کنویں میں کودا ہے۔ آپ نے فیصلہ کرلیا کہ اس جانور کی امداد سے بھی میں باہر نہیں جاؤں گا، آواز آئی حمزہ! تمہارا یہ توکل خلاف عبادت ہے، تم باہر نکل آؤ، یہ جانور ہمارے ہی حکم سے اندر آ رہا ہے چونکہ تم نے صرف ہماری ذات پر توکل کیا ہے، ہم نے ہی ایسے مہیب جانور کو تمہاری خدمت میں مقرر کیا ہے، جسے دیکھ کر جان نکل جاتی ہے، حضرت شیخ نے اس جانور کی دم پکڑی اور کنویں سے باہر آگئے۔

وصال:
آپ کی وفات ۲۹۰ھ میں ہوئی تھی ۔ آپ حضرت ابو حفص حداد کے پہلو میں دفن کیے گئے ۔

شیخ اہل یقین ابوحمزہ
سال ترحیل دے عیاں گردد

سدِ حق راہ امیں ابوحمزہ
از ولی قطب دین ابوحمزہ ۲۹۰ھ

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-hamza-khurasani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سید یعقوب زنجانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ اولیائے کبار لاہور میں شمار ہوتے تھے علوم ظاہری اور باطنی میں جامع تھے شریعت و نجابت میں یکتا تھے سلسلہ عالیہ جنیدیہ سے تعلق رکھتے تھے صاحب حال و قال بزرگ تھے آپ کے والد محترم سید علی صحیح النسب حسینی سادات میں سے تھے آپ کا سلسلہ نسب سولہ واسطوں سے حضرت امام موسیٰ کاظم سے جاملتا ہے آپ ایمائے غیبی سے ۵۰۵ھ میں ترکستان سے برصغیر میں وارد ہوئے لاہور میں سکونت اختیار کی آپ کی مشیخیت کا شہرہ چار دانگ عالم میں گونجنے لگا۔ صاحب کرامت و خوارق ہونے کی وجہ سے لوگوں میں متعارف ہوئے لاہور کے علماء اور شرفاء نے آپ کے مقام مشیخیت کو تسلیم کیا تھا۔

آپ کے زمانے میں معز اللہ کہ بہرام شاہ بادشاہ بن مسعود شاہ بن ابراہیم شاہ غزنوی ہندوستان کا بادشاہ تھا۔ پنجاب میں غزنوی سلطنت کا گورنر طفرل نامی تھا وہ آپ کا بڑا معتقد تھا گورنر کی وجہ سے بے پناہ مخلوق خدا بھی آپ کے حلقۂ ارادت میں آگئی اور لاہور سے نکل کر آپ کی شہرت پورے پنجاب میں پھیلنے لگی آپ سے کرامات اور خوارق ظاہر ہوئیں جن دنوں حضرت خواجہ معین الدین اجمیری چشتی لاہور تشریف لائے اور حضرت داتا گنج بخش کے مزار پُر انوار پر معتکف ہوئے۔

تو حضرت صدر دیوان لاہور میں موجود تھے یہ دونوں بزرگان دین بڑی محبت سے اکٹھے رہتے تھے اور حضرت صدر دیوان کو حضرت اجمیری سے بے پناہ محبت اور عقیدت تھی حضرت صدر دیوان کے مزار کے قریب ہی آج تک خواجہ اجمیری کی نشست گاہ آج تک عوام کی زیارت گاہ ہے۔

وصال:
معبتر اور صحیح اقوال سے آپ کا سن وفات ۱۶ ماہ رجب ۶۰۴ھ ہے ۔

چو زنجانی ازین دنیا سفر کرد
شہِ مقبول زنجانی رقم شد
بگو مسعود مہدی صدر دیوان ۶۰۴ھ

مجب ایزدی گردید محبوب
سالِ رحلتش آں شاہ مطلوب
دگر فرما مقدس پیر یعقوب ۶۰۴ھ

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-yaqoob-zanjani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
ملک العلماء حضرت علامہ عطاء اللہ فیروز شاہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
استاد العلماء حضرت علامہ مولانا عطاء اللہ فیروزی شاہی گوٹھ فیروز شاہ (تحصیل میہڑ ضلع دادو سندھ) میں تولد ہوئے ۔

خاندانی حالات:
آپ کے دادا جان حضرت مکدوم مولانا عبد المجید فیروز شاہی عالم اور عارف ہو گزرے ہیں ۔ اس خاندان کا نسبی تعلق شیخ الاسلام غوث حضرت بہاؤ الدین زکریا سہروردی ملتانی قدس سرہ الاقدس (۶۶۱ھ) کے خلیفہ اکمل حضرت مخدوم عبداللہ پیروج علیہ الرحمہ (فیروز شاہ) سے تھا ۔

تعلیم وتربیت:
مولانا عطاء اللہ صٓحب نے ابتدائی تعلیم گوٹھ فیروز شاہ میں اپنے والد ماجد مولانا خیر محمد کے پاس حاصل کی۔ مولانا قاضی عبدالرئوف مورے والے کے پاس ’’شرح جامی‘‘ تک پڑھے۔ اس کے بعد اس وقت کی عظیم نامور مرکزی درسگاہ جو کہ شہداد کوٹ میں واقع تھی وہاں کا رخ کیاوہیں شیخ الاسلام، استاد الاساتذہ ، قطب الاقطاب بحر العلوم علامہ نور محمد فاروقی اور ان کے صاحبزادے اکبر استاد الکل علامۃ الدھر حضرت علامہ گل محمد شہداد کوٹی علیہم الرحمۃ کی خدمت عالیہ میں رہ کر علوم دین میں تکمیل کی اور دستار فضیلت سے سرفراز ہوئے ۔

مولانا صاحب بہت ذکی محنتی اور علم حاسل کرنے کا انہیں انتہائی شوق تھا حتیٰ کہ دوران تعلیم اپنے عزیز رشتہ داروں دوست و احباب سے رابطہ نہ ہوتا تھا۔ اس سے آپ کے علم سے شوق جنون کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔

درس و تدریس:
بعد فراغت اپنے گوٹھ فیروز شاہ میں دینی درسگاہ قائم کی اور زندگی بھر علم کے موتی لٹاتے رہے۔ دن میں تدریس اور رات میں نواف و معمولات کا ورد جاری رہتا۔ اس طرح آپ دن رات عبادت میں رہتے تھے ۔

اولاد:
مولانا صاحب کو نرینہ اولاد نہیں تھی۔ فقط ایک صاحبزادی تولد ہوئی جس کا مولانا عبدالرحمن صاحب سے عقد ہوا ۔ انہیں بھی اولاد نہیں ہوئی ۔

عادات و خصائل:
مولانا صاحب مستجا بالدعوات تھے ، کشف و کرامت کے صاحب تھے۔ اپنے جدامجد حضرت خلیفہ پیروج سہروردی علیہ الرحمۃ کی مزور شریف پر ھاضری کے وقت سائل کی مشکل آسان کرواتے تھے۔ عوام الناس بڑی عقیدت سے پیش آتے تھے۔ مولانا میاں محمد آگرو صاحب نہایت ادیب ، فیاض، متقی و پرہیزگار تھے، مولانا صاحب پانے اس نونہال شاگرد کے لئے فرماتے ہیں: ’’اگر ادب (احترام) کو صورت ہوتی تو میاں محمد کی شکل ہوتی ۔ ‘‘

مولانا صاحب کی کرامات آج بھی مشہور ہیں۔ ایک بار بارش نہ ہونے کے سبب نماز استسقاء پڑھائی، نماز پڑھانے کی دیر تھی ہاتھ اٹھائے اور تیز بارش شروع ہوگئی کہ نالے بہہ گئے۔ ایک بار دریا نے رخ گوتھ فیروز شاہ کی طرف کیا سیلاب کے خطرے کے پیش نظر پورا شہر خالی ہوگیا لیکن اس درویش نے اپنا جھونپڑا نہ چھوڑا اور آپ کے اشارے سے دریا نے اپنا رخ پھیر لیا اس طرح گوتھ فیروز شاہ تباہی سے بچ گیا ۔

حضرت مولانا عطاء اللہ صاحب نسبت عالم ربانی تھے، مہمان نواز، مسافر نواز تھے، مہمانوں کی خدمت میں راحت محسوس کرتے تھے۔ عرب شریف سے عرب حضرات آپ کے پاس مہمان بن کر آتے آپ ان ک ابے حد احترام و کدمت بجالاتے، ہفتوں تک مہمان کے رکنے سے آپ کے چہرے پر شکن تک نہیں آتی تھی۔ کسی نے آپ سے دریافت کیا: عربوں سے محبت کرنے کا سبب کیا ہے؟ آپ نے فرمایا :’’ وہ شیر کے بچے ہیں۔ ان کی خدمت نہ کرنے سے ڈر لگتا ہے کہیں شیر نہ ناراض ہو۔‘‘ (مہران سوانح نمبر) ـ

شیر سے مراد حضور پور نور ﷺ کی ذات گرامی ہے کیوں کہ آپ بھی عرب ہیں۔ عشاق حضرات کو آپ ﷺ کی اولاد ، خاندان، ملک، شہر صحابہ کرام بلکہ ہر وہ چیز جس کا آپ کی ذات اقدس سے نسبت ہے عزیز و محبوب ہے ۔ عاشقوں کے انداز ہی نرالے ہیں ۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: عرب سے محبت کرو، تین باتوں کے سبب سے ، ایک تو یہ کہ میں عرب میں سے ہوں دوسری یہ کہ قرآن عربی زبان میں ہے تیسری یہ کہ جنتیوں کی زبان عربی ہے (بیہقی) ـ
1
حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اپنی اولاد کو تین چیزیں سکھائو ۔

۱۔ اپنے آقا ﷺ سے محبت
۲۔ اہل بیت کی محبت
۳۔ اور قرآن کا پڑھنا (جامع الصغیر، کثیر العمال، دیلمی، مختار الاحادیث)

آپ عاشق زار تھے اسی لئے عشق و سوز کو بڑھانے کے لئے ’’محفل نعت‘‘ کا اکثر اہتمام فرماتے تھے ۔ آپ کے شاگرد حضرت مولانا محمد ہاشم نواب شاہی بتاتے ہیں کہ روزانہ تہجد کے وقت مجھے نیند سے اٹھاتے تھے اور خود نوافل میں مشغول ہوجاتے اور میں صوفیانہ غزل، نعت، مولود شریف اپنی سریری آواز میں پڑھتا تھا ۔ اگر مجھے نیند آجاتی تو جگا دیتے تھے ۔

آپ نعت شریف کو محبوب رکھتے تھے ، نعت آپ کی روحانی غذا تھی، جس کے سننے سے روح میں راحت، دل میں سرور پاتے

تلامذہ:
آپ کے بے شمار شاگر دہیں ان میں بعض کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:
٭ مولانا مفتی حامد اللہ میمن
گوٹھ بیلو تحصیل سجاول ضلع ٹھٹھہ
٭ حضرت مولانا محمد ہاشم انصاری
خطیب جامع مسجد نوابشاہ
٭ حضرت مخدوم غلام محمد ملکانی
بانی درگاہ ملکانی شریف دادو
٭ مولانا محمد اسماعیل سومرو
٭ مولانا محمد آگرو
نزد گوٹھ فیروز شاہ
٭ مولانا احمد ڈاہری
گوٹھ کرم پور تحصیل سیوہن شریف
٭ مولانا حزب اللہ
ہالانی
٭ مولانا اللہ دتہ
ٹنڈو شہبازی تحصیل سیوہن
٭ مولانا حافظ محمد صادق گلال
گوٹھ تھرڑی محبت تحصیل میہڑ
٭ مولانا رضا محمد
دولت پور تحصیل مورو
٭ مولانا محمد ملوک
نزد میہڑ
٭ مولانا محمد صدیق
نزد سیوہن شریف

وصال:
عاشق خیر الوریٰ ، ملک العلمائ، علامہ عطا اللہ فیروزشاہی نے ۱۶ ، رجب المرجب ۱۳۲۵ھ/۱۹۰۷ء کو وصال کیا ۔ آپ کا مزار پر انوار گوٹھ فیروز شاہ تحصیل میہڑ میں مرجع خلائق ہے۔ مزار شریف پر زائرین کی آسانی و سہولت کیلئے ایک کمرہ بنا ہوا ہے۔ مولانا ہدایت اللہ ہالا والے نے آپ کی وفات پر قطعہ تاریخ فارسی زبان میں رقم کیا اور ہاتھوں سے کاشی کی اینٹ پ رمنقش کراکے مزار شیرف پر کتبہ لگوایا۔

مولانا ہدایت اللہ نے تاریخ کا مادہ ’’مغفرہ‘‘ (۱۳۲۵ھ) سے نکالا اور مولوی دین محمد ادیبؔ نے سال وصال ’’تذکرہ‘‘ (۱۳۲۵ھ) سے نکالا ۔ (ماخوذ: مہران سوانح ۱۹۵۷ء) ـ

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-ataullah-feroz-shahi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1