🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-07-1445 ᴴ | 27-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-07-1445 ᴴ | 27-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-07-1445 ᴴ | 27-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-07-1445 ᴴ | 27-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت ابو حمزہ خراسانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ کا اصل وطن نیشا پور تھا ۔ اجلہ مشائخ خراسان سے تھے، پیر طریقت زہد و حقیقت میں یکتا تھے ایک بار ایک وادی میں سفر کے دوران نذر مانی کہ کسی سے کوئی امداد قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی اسباب دنیا میں سے کوئی چیز اپنے ساتھ رکھی دوران سفر لوٹا یا رسی یا ڈول کچھ بھی نہ تھا چاندی کا ایک ٹکڑا جو آپ کی ہمشیرہ نے دیا تھا جیب میں تھا وہ بھی راہ میں پھینک دیا۔
راستہ میں ایک کنواں آیا، آپ اس میں جاگرے، تین دن گزرے تو آپ نے محسوس کیا کہ باہر کوئی لوگ گزر رہے ہیں خیال آیا کہ انہیں آواز دے کر امداد کے لیے کہا جائے مگر خاموش رہے کہ اس طرح اللہ کے بغیر کسی دوسرے سے امداد طلب کی جائے۔ وہ کنویں کے سر پر آپہنچے، یہ کنواں راستے میں ایسی جگہ پر تھا کہ لوگوں کے گرنے کا احتمال تھا چنانچہ ان لوگوں نے فیصلہ کیا کہ اسے مٹی سے پُر کردیا جائے ان کے اس فیصلے سے آپ کو بے پناہ پریشانی ہوئی۔ اگرچہ زندگی سے مایوس ہوگئے مگر دل اللہ کے توکل پر مطمئن تھا، لوگوں نے کنویں کی چھت لکڑیاں ڈال کر اُسے ڈھانپ دیا، رات کنویں کے کنارے پر ایک دہشت ناک آواز سنائی دی، یوں معلوم ہوا کہ کنواں کھل رہا ہے۔
آپ نے دیکھا ایک لمبا سا جانور کنویں میں کودا ہے۔ آپ نے فیصلہ کرلیا کہ اس جانور کی امداد سے بھی میں باہر نہیں جاؤں گا، آواز آئی حمزہ! تمہارا یہ توکل خلاف عبادت ہے، تم باہر نکل آؤ، یہ جانور ہمارے ہی حکم سے اندر آ رہا ہے چونکہ تم نے صرف ہماری ذات پر توکل کیا ہے، ہم نے ہی ایسے مہیب جانور کو تمہاری خدمت میں مقرر کیا ہے، جسے دیکھ کر جان نکل جاتی ہے، حضرت شیخ نے اس جانور کی دم پکڑی اور کنویں سے باہر آگئے۔
وصال:
آپ کی وفات ۲۹۰ھ میں ہوئی تھی ۔ آپ حضرت ابو حفص حداد کے پہلو میں دفن کیے گئے ۔
شیخ اہل یقین ابوحمزہ
سال ترحیل دے عیاں گردد
سدِ حق راہ امیں ابوحمزہ
از ولی قطب دین ابوحمزہ ۲۹۰ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-hamza-khurasani
آپ کا اصل وطن نیشا پور تھا ۔ اجلہ مشائخ خراسان سے تھے، پیر طریقت زہد و حقیقت میں یکتا تھے ایک بار ایک وادی میں سفر کے دوران نذر مانی کہ کسی سے کوئی امداد قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی اسباب دنیا میں سے کوئی چیز اپنے ساتھ رکھی دوران سفر لوٹا یا رسی یا ڈول کچھ بھی نہ تھا چاندی کا ایک ٹکڑا جو آپ کی ہمشیرہ نے دیا تھا جیب میں تھا وہ بھی راہ میں پھینک دیا۔
راستہ میں ایک کنواں آیا، آپ اس میں جاگرے، تین دن گزرے تو آپ نے محسوس کیا کہ باہر کوئی لوگ گزر رہے ہیں خیال آیا کہ انہیں آواز دے کر امداد کے لیے کہا جائے مگر خاموش رہے کہ اس طرح اللہ کے بغیر کسی دوسرے سے امداد طلب کی جائے۔ وہ کنویں کے سر پر آپہنچے، یہ کنواں راستے میں ایسی جگہ پر تھا کہ لوگوں کے گرنے کا احتمال تھا چنانچہ ان لوگوں نے فیصلہ کیا کہ اسے مٹی سے پُر کردیا جائے ان کے اس فیصلے سے آپ کو بے پناہ پریشانی ہوئی۔ اگرچہ زندگی سے مایوس ہوگئے مگر دل اللہ کے توکل پر مطمئن تھا، لوگوں نے کنویں کی چھت لکڑیاں ڈال کر اُسے ڈھانپ دیا، رات کنویں کے کنارے پر ایک دہشت ناک آواز سنائی دی، یوں معلوم ہوا کہ کنواں کھل رہا ہے۔
آپ نے دیکھا ایک لمبا سا جانور کنویں میں کودا ہے۔ آپ نے فیصلہ کرلیا کہ اس جانور کی امداد سے بھی میں باہر نہیں جاؤں گا، آواز آئی حمزہ! تمہارا یہ توکل خلاف عبادت ہے، تم باہر نکل آؤ، یہ جانور ہمارے ہی حکم سے اندر آ رہا ہے چونکہ تم نے صرف ہماری ذات پر توکل کیا ہے، ہم نے ہی ایسے مہیب جانور کو تمہاری خدمت میں مقرر کیا ہے، جسے دیکھ کر جان نکل جاتی ہے، حضرت شیخ نے اس جانور کی دم پکڑی اور کنویں سے باہر آگئے۔
وصال:
آپ کی وفات ۲۹۰ھ میں ہوئی تھی ۔ آپ حضرت ابو حفص حداد کے پہلو میں دفن کیے گئے ۔
شیخ اہل یقین ابوحمزہ
سال ترحیل دے عیاں گردد
سدِ حق راہ امیں ابوحمزہ
از ولی قطب دین ابوحمزہ ۲۹۰ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-hamza-khurasani
❤1
حضرت سید یعقوب زنجانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ اولیائے کبار لاہور میں شمار ہوتے تھے علوم ظاہری اور باطنی میں جامع تھے شریعت و نجابت میں یکتا تھے سلسلہ عالیہ جنیدیہ سے تعلق رکھتے تھے صاحب حال و قال بزرگ تھے آپ کے والد محترم سید علی صحیح النسب حسینی سادات میں سے تھے آپ کا سلسلہ نسب سولہ واسطوں سے حضرت امام موسیٰ کاظم سے جاملتا ہے آپ ایمائے غیبی سے ۵۰۵ھ میں ترکستان سے برصغیر میں وارد ہوئے لاہور میں سکونت اختیار کی آپ کی مشیخیت کا شہرہ چار دانگ عالم میں گونجنے لگا۔ صاحب کرامت و خوارق ہونے کی وجہ سے لوگوں میں متعارف ہوئے لاہور کے علماء اور شرفاء نے آپ کے مقام مشیخیت کو تسلیم کیا تھا۔
آپ کے زمانے میں معز اللہ کہ بہرام شاہ بادشاہ بن مسعود شاہ بن ابراہیم شاہ غزنوی ہندوستان کا بادشاہ تھا۔ پنجاب میں غزنوی سلطنت کا گورنر طفرل نامی تھا وہ آپ کا بڑا معتقد تھا گورنر کی وجہ سے بے پناہ مخلوق خدا بھی آپ کے حلقۂ ارادت میں آگئی اور لاہور سے نکل کر آپ کی شہرت پورے پنجاب میں پھیلنے لگی آپ سے کرامات اور خوارق ظاہر ہوئیں جن دنوں حضرت خواجہ معین الدین اجمیری چشتی لاہور تشریف لائے اور حضرت داتا گنج بخش کے مزار پُر انوار پر معتکف ہوئے۔
تو حضرت صدر دیوان لاہور میں موجود تھے یہ دونوں بزرگان دین بڑی محبت سے اکٹھے رہتے تھے اور حضرت صدر دیوان کو حضرت اجمیری سے بے پناہ محبت اور عقیدت تھی حضرت صدر دیوان کے مزار کے قریب ہی آج تک خواجہ اجمیری کی نشست گاہ آج تک عوام کی زیارت گاہ ہے۔
وصال:
معبتر اور صحیح اقوال سے آپ کا سن وفات ۱۶ ماہ رجب ۶۰۴ھ ہے ۔
چو زنجانی ازین دنیا سفر کرد
شہِ مقبول زنجانی رقم شد
بگو مسعود مہدی صدر دیوان ۶۰۴ھ
مجب ایزدی گردید محبوب
سالِ رحلتش آں شاہ مطلوب
دگر فرما مقدس پیر یعقوب ۶۰۴ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-yaqoob-zanjani
آپ اولیائے کبار لاہور میں شمار ہوتے تھے علوم ظاہری اور باطنی میں جامع تھے شریعت و نجابت میں یکتا تھے سلسلہ عالیہ جنیدیہ سے تعلق رکھتے تھے صاحب حال و قال بزرگ تھے آپ کے والد محترم سید علی صحیح النسب حسینی سادات میں سے تھے آپ کا سلسلہ نسب سولہ واسطوں سے حضرت امام موسیٰ کاظم سے جاملتا ہے آپ ایمائے غیبی سے ۵۰۵ھ میں ترکستان سے برصغیر میں وارد ہوئے لاہور میں سکونت اختیار کی آپ کی مشیخیت کا شہرہ چار دانگ عالم میں گونجنے لگا۔ صاحب کرامت و خوارق ہونے کی وجہ سے لوگوں میں متعارف ہوئے لاہور کے علماء اور شرفاء نے آپ کے مقام مشیخیت کو تسلیم کیا تھا۔
آپ کے زمانے میں معز اللہ کہ بہرام شاہ بادشاہ بن مسعود شاہ بن ابراہیم شاہ غزنوی ہندوستان کا بادشاہ تھا۔ پنجاب میں غزنوی سلطنت کا گورنر طفرل نامی تھا وہ آپ کا بڑا معتقد تھا گورنر کی وجہ سے بے پناہ مخلوق خدا بھی آپ کے حلقۂ ارادت میں آگئی اور لاہور سے نکل کر آپ کی شہرت پورے پنجاب میں پھیلنے لگی آپ سے کرامات اور خوارق ظاہر ہوئیں جن دنوں حضرت خواجہ معین الدین اجمیری چشتی لاہور تشریف لائے اور حضرت داتا گنج بخش کے مزار پُر انوار پر معتکف ہوئے۔
تو حضرت صدر دیوان لاہور میں موجود تھے یہ دونوں بزرگان دین بڑی محبت سے اکٹھے رہتے تھے اور حضرت صدر دیوان کو حضرت اجمیری سے بے پناہ محبت اور عقیدت تھی حضرت صدر دیوان کے مزار کے قریب ہی آج تک خواجہ اجمیری کی نشست گاہ آج تک عوام کی زیارت گاہ ہے۔
وصال:
معبتر اور صحیح اقوال سے آپ کا سن وفات ۱۶ ماہ رجب ۶۰۴ھ ہے ۔
چو زنجانی ازین دنیا سفر کرد
شہِ مقبول زنجانی رقم شد
بگو مسعود مہدی صدر دیوان ۶۰۴ھ
مجب ایزدی گردید محبوب
سالِ رحلتش آں شاہ مطلوب
دگر فرما مقدس پیر یعقوب ۶۰۴ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-yaqoob-zanjani
❤1