دارالعلوم کا قیام:
۱۳۱۵ھ؍ ۱۸۹۷ء میں مولانا محمد عثمان قرانی نے اپنے گوٹھ عمر بھنبھر و نزد اسٹیشن شادی پلی ( تحصیل ساماروضلع عمر کوٹ) میں امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سر ہندی قدس سرہ کی نسبت مبارکہ سے ’’مدرسہ مجددیہ ‘‘ قائم کیا ۔
درس و تدریس:
تھر جو کہ قحط مفلسی کی وجہ سے شہر ت رکھتا ہے، وہاں جہالت کی کالک بھی مختلف نہ تھی ، جہاں پینے کے لئے صرف پانی نایاب نہیں بلکہ علم اس سے بھی کہیںزیادہ نایاب تھا ۔ ایسے علاقہ میں جہالت کے بادل تار تار کرنے کے لئے مولانا قرانی نے تعلیم قرآن کو فروغ دیا، علم کی روشنی کو عام کیا۔ آپ تدریس کے بادشاہ تھے۔ آپ کے درس کی شہرت سن کر دور دراز افتادہ علاقہ سے علم کے پیاسوں نے پیاس بجھانے کے لئے مدرسہ مجددیہ کا رخ کیا۔
تصنیف و تالیف:
روزانہ سارا دن درس و تدریس کی مصروفیت کے بعد تصنیف کا وقت کہاں ملتا ہے؟ لیکن آپ نے تدریس سے کچھ وقت نکال کر فتاویٰ تحریر فرمائیں اس کے علاوہ کچھ کتابیں تحریر کی اور بعض درسی کتب پر حواشی رقم فرمائی ۔ لیکن ہمیں ان کتابوں کے نام نہیں مل سکے ۔ آپ نے مدرسہ مجددیہ سے ماہنامہ قرانی ( سندھی ) بھی جاری فرمایا تھا۔
شخصیت:
مولانا محمد عثمان قرانی صاحب حدیث ، تفسیر ، فقہ ، صرف ، نحو، منطق صغریٰ و کبریٰ ، علم حکمت ، ہیئت ، فلسفہ ، ریاضی ، علم ادب ، سلوک ، تصوف ، طب، وغیرہ تمام علوم کا خود درس دیتے تھے۔ جامع العلوم اور کمال تفقہ کے سبب اپنے وقت کے ’’مفتی اعظم ‘‘تھے۔
مولانا قرانی نہایت پرہیز گار ، شب خیز عابد، اور ادمجددیہ نقشبندیہ کے پابند ، وسیع مطالعہ ، مہمان نواز، سادہ طبیعت ، حسن اخلاق و سادگی کے پیکر ، ذہین ، قوی الحافظ ، صاحب الراء ، جفاکش اور دن رات درس و تدریس ان کا بہترین مشغلہ تھا۔ مسلسل جدوجہد سے صحرائے تھر میں علم کے پھول کھلائے ۔
پیدائش سے پہلے درویشوں ، مجذوبوں ، اللہ لوک فقیروں نے آپ کی ولادت کی بشارت دی اور بعد ولادت دعائیں دیں ۔ مولانا قرانی فقیروں درویشوں کی عطا تھے ۔ درویشوں کی اس دین نے صحرائے تھر کو علم دین سے روشن کیا۔ اور یہ روشنی ابھی تک بجھی نہیں بلکہ اس روشنی سے مساجد مدارس آج بھی روشن و منور ہیں ۔
ان دنوں میں ( آٹا پیسنے کی فلورمل وغیرہ ابھی دریافت نہ ہوئی تھی ) آپ ک والدہ محترم آٹا چکی پر خود پیس کر طلباء کے لئے روٹیاں پکایا کرتی تھیں ۔
مناظرہ:
آپ پیارے مصطفیٰ ﷺ کے نڈر سپاہی تھے، اہلسنت و جماعت کے نامور عالم و ترجمان تھے اس لئے باطل کو ہمیشہ للکارتے رہے۔ آپ نے باطل مذاہب کے علماء سے کئی کامیاب مناظرے کئے جس میں مخالف کو منہ کی کھانی پڑی ۔ آپ حاضر جوابی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔
ضلع بدین کے غیر مقلدین وہابیوں کے ساتھ ’’فاتحہ خلف الامام ‘‘ کے موضوع پر مناظرہ کیا۔ جس میں آپ کو کامیاب قرار دیا گیا ۔ عیسائیوں کے پادریوں سے ’’حیات مسیح ‘‘ کے موضوع پر ’’گوٹھ فقیر صوفی حاجی محمد صاحب ‘‘ نزد عمر کوٹ میں کامیاب مناظرہ کیا جس میں مخالف کو شکست فاش ہوئی ۔ عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں نے پھانسی دے دی تھی اس لئے وہ ’’صلیب کا نشان ‘‘ حضرت عیسیٰ کی وفات کے غم میں استعمال کرتے اور گلے میں لٹکاتے ہیں ۔ جب کہ قرآن مجید کا اعلان حق ہے کہ مسیح حیات ہیں اور آسمان پر اٹھائے گئے ہیں ۔ حیات مسیح پر آپ نے مدلل روشنی ڈالی ۔
شاعری:
آپ نے زمانہ طالب علمی سے شعر گوئی شروع کر رکھی تھی ۔ آپ کا کلام ( نعت ، غزل ، نظم ) عربی فارسی اور سندھی میں دیگر قلمی مواد کے ساتھ مدرسہ کے کتب خانہ میں موجود ہے ۔ تخلص ’’قرانی ‘‘تھا۔
اولاد:
مولانا قرانی کو تین بیٹے تولد ہوئے۔
٭ مولوی عبدالحئی
٭ مولوی محمد سعید
٭ مولوی عبدالحق
تلامذہ:
مولانا قرانی کے تلامذہ کا شمار مشکل ہے، یہاں بعض کے اسماء درج کئے جارہے ہیں:
٭ مولانا نور محمد بھنبھر و ( قرانی صاحب کے برادر )
٭ مولانا احمد آریسر جودھپوری
٭ مولانا محمد صالح (قرانی صاحب کے برادر)
٭ مولانا عبد اللہ ولھاری
٭ مولانا محمد حسن ریاست جودھپور (انڈیا)
٭ مولانا غوث محمد خان بھر گڑی
( ان کے شاگرد پیر ابراہیم جان سر ہندی ، سامار و والے تھے)
٭ مولانا محمد سلیمان ہالیپوتہ ریگستانی
٭ مولانا نور محمد سمون
٭ مولانا قاضی نور محمد پلی
٭ مولانا عبدالکریم مفتی ولہیٹ
٭ مولانا نبی بخش لغاری
٭ مولانا محمد علی صاحب مشائخ پوتہ
٭ مولانا علی محمد صاحب لسبیلہ بلوچستان
٭ مولانا حاجی محمد کھوسہ جیکب آباد
٭ مولانا یار محمد لغاری ٹنڈو محمد خان ضلع حیدرآباد
٭ مولانا حافظ عبد اللہ میمن
( نیبرہ حضرت مولانا مفتی حامد اللہ میمن گوٹھ بیلو ، سجاول ضلع ٹھٹھہ)
٭ مولانا ولی محمد ( نواسہ مفتی حامد اللہ میمن )
٭ مولانا رسول بخش
٭ مولانا عبد الرحمن درس علاقہ کچھ (انڈیا)
٭ مولانا مرید علی ہالیپوتہ
٭ مولانا محمد یعقوب خاصخیلی بدین وغیرہ وغیرہ
۱۳۱۵ھ؍ ۱۸۹۷ء میں مولانا محمد عثمان قرانی نے اپنے گوٹھ عمر بھنبھر و نزد اسٹیشن شادی پلی ( تحصیل ساماروضلع عمر کوٹ) میں امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سر ہندی قدس سرہ کی نسبت مبارکہ سے ’’مدرسہ مجددیہ ‘‘ قائم کیا ۔
درس و تدریس:
تھر جو کہ قحط مفلسی کی وجہ سے شہر ت رکھتا ہے، وہاں جہالت کی کالک بھی مختلف نہ تھی ، جہاں پینے کے لئے صرف پانی نایاب نہیں بلکہ علم اس سے بھی کہیںزیادہ نایاب تھا ۔ ایسے علاقہ میں جہالت کے بادل تار تار کرنے کے لئے مولانا قرانی نے تعلیم قرآن کو فروغ دیا، علم کی روشنی کو عام کیا۔ آپ تدریس کے بادشاہ تھے۔ آپ کے درس کی شہرت سن کر دور دراز افتادہ علاقہ سے علم کے پیاسوں نے پیاس بجھانے کے لئے مدرسہ مجددیہ کا رخ کیا۔
تصنیف و تالیف:
روزانہ سارا دن درس و تدریس کی مصروفیت کے بعد تصنیف کا وقت کہاں ملتا ہے؟ لیکن آپ نے تدریس سے کچھ وقت نکال کر فتاویٰ تحریر فرمائیں اس کے علاوہ کچھ کتابیں تحریر کی اور بعض درسی کتب پر حواشی رقم فرمائی ۔ لیکن ہمیں ان کتابوں کے نام نہیں مل سکے ۔ آپ نے مدرسہ مجددیہ سے ماہنامہ قرانی ( سندھی ) بھی جاری فرمایا تھا۔
شخصیت:
مولانا محمد عثمان قرانی صاحب حدیث ، تفسیر ، فقہ ، صرف ، نحو، منطق صغریٰ و کبریٰ ، علم حکمت ، ہیئت ، فلسفہ ، ریاضی ، علم ادب ، سلوک ، تصوف ، طب، وغیرہ تمام علوم کا خود درس دیتے تھے۔ جامع العلوم اور کمال تفقہ کے سبب اپنے وقت کے ’’مفتی اعظم ‘‘تھے۔
مولانا قرانی نہایت پرہیز گار ، شب خیز عابد، اور ادمجددیہ نقشبندیہ کے پابند ، وسیع مطالعہ ، مہمان نواز، سادہ طبیعت ، حسن اخلاق و سادگی کے پیکر ، ذہین ، قوی الحافظ ، صاحب الراء ، جفاکش اور دن رات درس و تدریس ان کا بہترین مشغلہ تھا۔ مسلسل جدوجہد سے صحرائے تھر میں علم کے پھول کھلائے ۔
پیدائش سے پہلے درویشوں ، مجذوبوں ، اللہ لوک فقیروں نے آپ کی ولادت کی بشارت دی اور بعد ولادت دعائیں دیں ۔ مولانا قرانی فقیروں درویشوں کی عطا تھے ۔ درویشوں کی اس دین نے صحرائے تھر کو علم دین سے روشن کیا۔ اور یہ روشنی ابھی تک بجھی نہیں بلکہ اس روشنی سے مساجد مدارس آج بھی روشن و منور ہیں ۔
ان دنوں میں ( آٹا پیسنے کی فلورمل وغیرہ ابھی دریافت نہ ہوئی تھی ) آپ ک والدہ محترم آٹا چکی پر خود پیس کر طلباء کے لئے روٹیاں پکایا کرتی تھیں ۔
مناظرہ:
آپ پیارے مصطفیٰ ﷺ کے نڈر سپاہی تھے، اہلسنت و جماعت کے نامور عالم و ترجمان تھے اس لئے باطل کو ہمیشہ للکارتے رہے۔ آپ نے باطل مذاہب کے علماء سے کئی کامیاب مناظرے کئے جس میں مخالف کو منہ کی کھانی پڑی ۔ آپ حاضر جوابی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔
ضلع بدین کے غیر مقلدین وہابیوں کے ساتھ ’’فاتحہ خلف الامام ‘‘ کے موضوع پر مناظرہ کیا۔ جس میں آپ کو کامیاب قرار دیا گیا ۔ عیسائیوں کے پادریوں سے ’’حیات مسیح ‘‘ کے موضوع پر ’’گوٹھ فقیر صوفی حاجی محمد صاحب ‘‘ نزد عمر کوٹ میں کامیاب مناظرہ کیا جس میں مخالف کو شکست فاش ہوئی ۔ عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں نے پھانسی دے دی تھی اس لئے وہ ’’صلیب کا نشان ‘‘ حضرت عیسیٰ کی وفات کے غم میں استعمال کرتے اور گلے میں لٹکاتے ہیں ۔ جب کہ قرآن مجید کا اعلان حق ہے کہ مسیح حیات ہیں اور آسمان پر اٹھائے گئے ہیں ۔ حیات مسیح پر آپ نے مدلل روشنی ڈالی ۔
شاعری:
آپ نے زمانہ طالب علمی سے شعر گوئی شروع کر رکھی تھی ۔ آپ کا کلام ( نعت ، غزل ، نظم ) عربی فارسی اور سندھی میں دیگر قلمی مواد کے ساتھ مدرسہ کے کتب خانہ میں موجود ہے ۔ تخلص ’’قرانی ‘‘تھا۔
اولاد:
مولانا قرانی کو تین بیٹے تولد ہوئے۔
٭ مولوی عبدالحئی
٭ مولوی محمد سعید
٭ مولوی عبدالحق
تلامذہ:
مولانا قرانی کے تلامذہ کا شمار مشکل ہے، یہاں بعض کے اسماء درج کئے جارہے ہیں:
٭ مولانا نور محمد بھنبھر و ( قرانی صاحب کے برادر )
٭ مولانا احمد آریسر جودھپوری
٭ مولانا محمد صالح (قرانی صاحب کے برادر)
٭ مولانا عبد اللہ ولھاری
٭ مولانا محمد حسن ریاست جودھپور (انڈیا)
٭ مولانا غوث محمد خان بھر گڑی
( ان کے شاگرد پیر ابراہیم جان سر ہندی ، سامار و والے تھے)
٭ مولانا محمد سلیمان ہالیپوتہ ریگستانی
٭ مولانا نور محمد سمون
٭ مولانا قاضی نور محمد پلی
٭ مولانا عبدالکریم مفتی ولہیٹ
٭ مولانا نبی بخش لغاری
٭ مولانا محمد علی صاحب مشائخ پوتہ
٭ مولانا علی محمد صاحب لسبیلہ بلوچستان
٭ مولانا حاجی محمد کھوسہ جیکب آباد
٭ مولانا یار محمد لغاری ٹنڈو محمد خان ضلع حیدرآباد
٭ مولانا حافظ عبد اللہ میمن
( نیبرہ حضرت مولانا مفتی حامد اللہ میمن گوٹھ بیلو ، سجاول ضلع ٹھٹھہ)
٭ مولانا ولی محمد ( نواسہ مفتی حامد اللہ میمن )
٭ مولانا رسول بخش
٭ مولانا عبد الرحمن درس علاقہ کچھ (انڈیا)
٭ مولانا مرید علی ہالیپوتہ
٭ مولانا محمد یعقوب خاصخیلی بدین وغیرہ وغیرہ
❤1
مولانا قرانی کا مسلک:
آپ کے مسلک کا ذکر مضمون میں ضمنا آچکا ہے۔ یہاں مسلک مبارک کی مختصر جھلک پیش کی جاتی ہے ۔ مولانا قرانی نے ایک نعت شریف ( سندھی ) میں نبی کریم ﷺ کو ’’احمد مختار ‘‘ساری دنیا کے صاحب و سردار ، محشر میں گنہگار وں کے ضامن اور شفاعت کرنیوالا، حضور کے سوا جائے پناہ نہیں۔ ’’بے وسیلوں کے وسیلہ ‘‘ گمراہوں کے ہادی لکھا ہے ۔
(سوانح نمبر ۱۹۵۷ء)
یہ نظریات کسی وہابی دیوبندی مولوی کے ہر گز نہیں ہو سکتے اس سے ثابت ہوا کہ یہ نظر یہ رکھنے والے مولانا قرانی خالص سنی عالم دین تھے ۔ بابائے وہابیت مولوی اسماعیل دہلوی ثم بالا کوٹی کا نظریہ باطل ہے: ’’محمد اور علی جس کا نام ہے وہ کسی چیز کا مختار نہیں ‘‘۔ (تقویۃ الایمان ) ـ
یعنی محمد رسول اللہ ﷺ اور امیر المومنین سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کسی چیز کے مختار نہیں اور دوسرا یہ کہ نام مبارک انتہائی حقارت آمیز لہجے میں لکھا ہے ۔ یہ گھٹیا سوچ ، دلی نفرت اور رسول دشمنی وہابی کے سوا کسی مسلمان کی ہو نہیں سکتی ۔ جب کہ مولانا قرانی کا نظر یہ و مسلک ہے کہ حضور پر نور صاحب لولاک ﷺ احمد مختار ، شافع محشر اور گمراہوں کے ہادی ہیں ۔ مولانا نے اپنا نظر یہ واضح بیان کر کے دیوبندیوں ، وہابیوں کے امام کے نظر یہ کی دھجیاں اڑادیں ۔
وہ رضا کے نیزے کی مارہے
کہ عدو کے سینہ میں غار ہے
کسے چارہ جوئی کا وار ہے
کہ یہ وار وار سے پار ہے
نعت کے سوا مولانا قرانی نے اصلاحی نظم بھی لکھی ہیں ۔ ایک تنقیدی نظم میں گاندھی پر تنقید کی ہے ۔ یہ گاندھی وہ ہے جس کو تحریک خلافت کے دور میں ہندو سندھ کے دیوبندی مولویوں نے اپنا رہبر و رہنما منتخب کیا تھا اور اس کے اشارے پر چلا کرتے تھے ۔ اسی دور میں دار العلوم دیوبند سے ’’ ہندو مسلم بھائی بھائی ‘‘ کا نعرہ لگایا گیا تھا ۔ ان حالات میں مولانا قرانی نے ان پر طنز یہ فرماتے ہیں:
امامن ء صحابن جو کیل تفسیر باطل تیو
سنایل حکم گاندی جو روایت رکٹ گھرجی
ائمہ اور صحابہ کرام کا قرآنی تفسیر باطل ہوا، گاندھی کا حکم روایت میں رکھنا چاہئے!!
وصال:
مولانا قرانی ہمیشہ اپنا کفن ساتھ رکھتے تھے، کبھی بھی موت سے غافل نہ رہے ۔ تقریباً ڈیڑھ سال بیمار رہنے کے بعد ۱۵، رجب المرجب ۱۳۵۵ھ / ۱۹۳۶ء بروز پیر صبح کو ۵۹ سال کی عمر میں انتقال کیا ۔ اسی کفن میں دفن کئے گئے جو کہ ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتا تھا ۔ آپ کی آخری آرام گاہ مدرسہ کا وہی کمرہ بنا جہاں آپ درس دیا کرتے تھے ۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-usman-qirani
آپ کے مسلک کا ذکر مضمون میں ضمنا آچکا ہے۔ یہاں مسلک مبارک کی مختصر جھلک پیش کی جاتی ہے ۔ مولانا قرانی نے ایک نعت شریف ( سندھی ) میں نبی کریم ﷺ کو ’’احمد مختار ‘‘ساری دنیا کے صاحب و سردار ، محشر میں گنہگار وں کے ضامن اور شفاعت کرنیوالا، حضور کے سوا جائے پناہ نہیں۔ ’’بے وسیلوں کے وسیلہ ‘‘ گمراہوں کے ہادی لکھا ہے ۔
(سوانح نمبر ۱۹۵۷ء)
یہ نظریات کسی وہابی دیوبندی مولوی کے ہر گز نہیں ہو سکتے اس سے ثابت ہوا کہ یہ نظر یہ رکھنے والے مولانا قرانی خالص سنی عالم دین تھے ۔ بابائے وہابیت مولوی اسماعیل دہلوی ثم بالا کوٹی کا نظریہ باطل ہے: ’’محمد اور علی جس کا نام ہے وہ کسی چیز کا مختار نہیں ‘‘۔ (تقویۃ الایمان ) ـ
یعنی محمد رسول اللہ ﷺ اور امیر المومنین سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کسی چیز کے مختار نہیں اور دوسرا یہ کہ نام مبارک انتہائی حقارت آمیز لہجے میں لکھا ہے ۔ یہ گھٹیا سوچ ، دلی نفرت اور رسول دشمنی وہابی کے سوا کسی مسلمان کی ہو نہیں سکتی ۔ جب کہ مولانا قرانی کا نظر یہ و مسلک ہے کہ حضور پر نور صاحب لولاک ﷺ احمد مختار ، شافع محشر اور گمراہوں کے ہادی ہیں ۔ مولانا نے اپنا نظر یہ واضح بیان کر کے دیوبندیوں ، وہابیوں کے امام کے نظر یہ کی دھجیاں اڑادیں ۔
وہ رضا کے نیزے کی مارہے
کہ عدو کے سینہ میں غار ہے
کسے چارہ جوئی کا وار ہے
کہ یہ وار وار سے پار ہے
نعت کے سوا مولانا قرانی نے اصلاحی نظم بھی لکھی ہیں ۔ ایک تنقیدی نظم میں گاندھی پر تنقید کی ہے ۔ یہ گاندھی وہ ہے جس کو تحریک خلافت کے دور میں ہندو سندھ کے دیوبندی مولویوں نے اپنا رہبر و رہنما منتخب کیا تھا اور اس کے اشارے پر چلا کرتے تھے ۔ اسی دور میں دار العلوم دیوبند سے ’’ ہندو مسلم بھائی بھائی ‘‘ کا نعرہ لگایا گیا تھا ۔ ان حالات میں مولانا قرانی نے ان پر طنز یہ فرماتے ہیں:
امامن ء صحابن جو کیل تفسیر باطل تیو
سنایل حکم گاندی جو روایت رکٹ گھرجی
ائمہ اور صحابہ کرام کا قرآنی تفسیر باطل ہوا، گاندھی کا حکم روایت میں رکھنا چاہئے!!
وصال:
مولانا قرانی ہمیشہ اپنا کفن ساتھ رکھتے تھے، کبھی بھی موت سے غافل نہ رہے ۔ تقریباً ڈیڑھ سال بیمار رہنے کے بعد ۱۵، رجب المرجب ۱۳۵۵ھ / ۱۹۳۶ء بروز پیر صبح کو ۵۹ سال کی عمر میں انتقال کیا ۔ اسی کفن میں دفن کئے گئے جو کہ ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتا تھا ۔ آپ کی آخری آرام گاہ مدرسہ کا وہی کمرہ بنا جہاں آپ درس دیا کرتے تھے ۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-usman-qirani
scholars.pk
Hazrat Molana Usman QIrani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مولانا عبد الصمد مقتدری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا عبد الصمد ۔ لقب: مقتدری ۔ والد کا اسم گرامی: مولانا غلام حامد ۔ آپ کا تعلق بدایوں کے مشہور خاندان حمیدی سے تعلق ہے ۔
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت " بدایوں شریف " میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
مدرسہ عالیہ قادریہ دار العلوم شمس العلوم بدایوں میں مولانا محب احمد قادری، مولانا مفتی حافظ بخش بدایونی و دیگر اساتذہ سے علوم متداولہ میں فراغت حاصل کرنے کے بعد الہ آباد یونیوسٹی سے "مولوی فاضل" کی ڈگری حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
حضرت علامہ مولانا عبد المقتدر بدایونی قدس سرہ کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں 1334ھ بمطابق 1915ء کو بیعت کی اور حضرت مولانا عبد القدیر بدایونی قدس سرہ سے 31 مارچ 1963ء کو اجازت و خلافت پائی ۔
سیرت و خصائص:
استاذ العلماء، زبدۃ الاتقیاء حضرت علامہ مولانا عبد الصمد مقتدری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ علیہ الرحمہ نے ایک مجاہدانہ زندگی بسر کی ۔ اس وقت آزادی کی تحریک کے آواز بلند ہو رہے تھے ۔ پورے ہندوستان میں جلسے جلوس، اور اخبار، کتب، میگزین پمفلٹ کے ذریعے ہر گروہ اپنے اپنے نظریات کی ترویج میں مصروفِ عمل تھا ۔ آپ کے پیر و مرشد حضرت علامہ مولانا عبد المقتدر بدایونی علیہ الرحمہ ایک الگ ریاست جس میں مسلمان اپنی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق گزار سکیں کے حامی تھے، اور یہ ریاست ایسے علاقوں پر مشتمل ہو جہاں مسلمان اکثریت میں موجود ہیں ۔ مولانانے 1900ء کے اوائل میں ایسے اضلاع کی نشاندہی اور ان کا نقشہ جاری کر دیا تھا ۔ اتفاق دیکھئے! کہ جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو انہیں علاقوں پر مشتمل تھا جس کی نشاندہی علامہ کر چکے تھے ۔ بحوالہ
(The Struggle for Pakistan, by, Dr, Ishtiaq Hussain quraishi)
مولانا عبد الصمد اور مولانا عبد الماجد بدایونی علیہما لرحمہ حضرت مولانا عبد المقتدر بدایونی علیہ الرحمہ کے تربیت یافتہ تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں کا تحریک پاکستان میں ایک اہم کردار ہے ۔ آپ نے اپنی مذہبی مصروفیات کے باوجود بر صغیر کی ہر مسلم مفاد تحریک میں بھر پور کردار ادا کیا ۔ تحریک خلافت، شدھی تحریک اور تحریک پاکستان میں حضرت مولانا عبد الماجد بدایونی علیہ الرحمہ کے شانہ بشانہ حصہ لیا اور انہی سے ہی سیاست کے رموز و نکات سیکھے ۔
جب جمعیت علماء ہند اپنے نصب العین سے ہٹ کر کانگریس کی بچہ جمہورا بن گئی تو آپ نے علماء حق کے ساتھ مل کر "جمعیت علماء ہند کانپور" کی بنیاد ڈالی ۔ صدارت کا سہر آپ ہی کے سر باندھا گیا اور آپ آخر وقت تک اس منصب پر فائز رہ کر ملک و قوم کی مقدور بھر خدمت کرتے رہے ۔ اس جمعیت کے زیر اہتمام ہر سال سیرت کانفرنسیں بدایوں، کانپور و دیگر شہروں میں منعقد ہوتی رہیں جن میں مولانا شوکت علی، مولانا حسرت موہانی، مولانا مطہر الدین ، ایڈیٹر اخبار الامان اور مولانا عبد القیوم کانپوری و دیگر اکابرین شرکت فرما کر کانگریس کے مکر و فریب کو تار تار کرکے مسلم لیگ کے پیغام کو گھر گھر پہنچاتے، الغرض آپ نے اس طرح مذہب و ملت کی جو بے مثال خدمت کی وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا عبد الصمد ۔ لقب: مقتدری ۔ والد کا اسم گرامی: مولانا غلام حامد ۔ آپ کا تعلق بدایوں کے مشہور خاندان حمیدی سے تعلق ہے ۔
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت " بدایوں شریف " میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
مدرسہ عالیہ قادریہ دار العلوم شمس العلوم بدایوں میں مولانا محب احمد قادری، مولانا مفتی حافظ بخش بدایونی و دیگر اساتذہ سے علوم متداولہ میں فراغت حاصل کرنے کے بعد الہ آباد یونیوسٹی سے "مولوی فاضل" کی ڈگری حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
حضرت علامہ مولانا عبد المقتدر بدایونی قدس سرہ کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں 1334ھ بمطابق 1915ء کو بیعت کی اور حضرت مولانا عبد القدیر بدایونی قدس سرہ سے 31 مارچ 1963ء کو اجازت و خلافت پائی ۔
سیرت و خصائص:
استاذ العلماء، زبدۃ الاتقیاء حضرت علامہ مولانا عبد الصمد مقتدری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ علیہ الرحمہ نے ایک مجاہدانہ زندگی بسر کی ۔ اس وقت آزادی کی تحریک کے آواز بلند ہو رہے تھے ۔ پورے ہندوستان میں جلسے جلوس، اور اخبار، کتب، میگزین پمفلٹ کے ذریعے ہر گروہ اپنے اپنے نظریات کی ترویج میں مصروفِ عمل تھا ۔ آپ کے پیر و مرشد حضرت علامہ مولانا عبد المقتدر بدایونی علیہ الرحمہ ایک الگ ریاست جس میں مسلمان اپنی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق گزار سکیں کے حامی تھے، اور یہ ریاست ایسے علاقوں پر مشتمل ہو جہاں مسلمان اکثریت میں موجود ہیں ۔ مولانانے 1900ء کے اوائل میں ایسے اضلاع کی نشاندہی اور ان کا نقشہ جاری کر دیا تھا ۔ اتفاق دیکھئے! کہ جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو انہیں علاقوں پر مشتمل تھا جس کی نشاندہی علامہ کر چکے تھے ۔ بحوالہ
(The Struggle for Pakistan, by, Dr, Ishtiaq Hussain quraishi)
مولانا عبد الصمد اور مولانا عبد الماجد بدایونی علیہما لرحمہ حضرت مولانا عبد المقتدر بدایونی علیہ الرحمہ کے تربیت یافتہ تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں کا تحریک پاکستان میں ایک اہم کردار ہے ۔ آپ نے اپنی مذہبی مصروفیات کے باوجود بر صغیر کی ہر مسلم مفاد تحریک میں بھر پور کردار ادا کیا ۔ تحریک خلافت، شدھی تحریک اور تحریک پاکستان میں حضرت مولانا عبد الماجد بدایونی علیہ الرحمہ کے شانہ بشانہ حصہ لیا اور انہی سے ہی سیاست کے رموز و نکات سیکھے ۔
جب جمعیت علماء ہند اپنے نصب العین سے ہٹ کر کانگریس کی بچہ جمہورا بن گئی تو آپ نے علماء حق کے ساتھ مل کر "جمعیت علماء ہند کانپور" کی بنیاد ڈالی ۔ صدارت کا سہر آپ ہی کے سر باندھا گیا اور آپ آخر وقت تک اس منصب پر فائز رہ کر ملک و قوم کی مقدور بھر خدمت کرتے رہے ۔ اس جمعیت کے زیر اہتمام ہر سال سیرت کانفرنسیں بدایوں، کانپور و دیگر شہروں میں منعقد ہوتی رہیں جن میں مولانا شوکت علی، مولانا حسرت موہانی، مولانا مطہر الدین ، ایڈیٹر اخبار الامان اور مولانا عبد القیوم کانپوری و دیگر اکابرین شرکت فرما کر کانگریس کے مکر و فریب کو تار تار کرکے مسلم لیگ کے پیغام کو گھر گھر پہنچاتے، الغرض آپ نے اس طرح مذہب و ملت کی جو بے مثال خدمت کی وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے ۔
❤1
اسی طرح 1946ء کے الیکشن میں آپ نے بدایوں، بریلی، سنبھل، مراد آباد، اور پیلی بھیت وغیرہ کے علاقوں میں من تن دھن کی بازی لگا کر مسلم لیگ کے امید واروں کو کامیاب کرانے کی جہد بلیغ فرمائی ۔ مخلصانہ کوششوں کی بدولت ان علاقوں میں 80 فیصد سے زائد مسلم لیگ کو ملے ۔ آپ کی ان کوششوں کی بدولت مولانا حسرت موہانی نے قائد اعظم سے کہا تھا: "مقتدری وہ شخص ہے کہ جس کے ہاتھ میں پورے صوبے کی " مسلم لیگ " کی زمام ہے" ۔ (تحریک پاکستان اور علماء کرام، ص:281) ـ
14 اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا تو دیگر مسلم لیگی لیڈروں کی طرح آپ کی گرفتاری کے احکامات بھی جاری ہو گئے ۔ چنانچہ 13 دسمبر 1947ء کو بچ بچا کر بمع اہل خانہ کراچی تشریف لے آئے ۔ ان دنوں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس خالق دینا ہال کراچی میں 13،14،15 دسمبر کو ہو رہا تھا چونکہ پاکستان بننے کے بعد یہ پہلا اجلاس تھا لہٰذا آپ بال بچوں کو بندر گاہ پر ہی چھوڑ کر سیدھے اس اہم اجلاس میں شامل ہوئے ۔ اس اجلاس میں آپ نے نمایاں طور پر حصہ لیا ۔ اس کے بعد آپ کو پاکستان مسلم لیگ کا کونسلر منتخب کیا گیا اس کے علاوہ کراچی مسلم لیگ میں آپ کو وہی مقام نصیب ہوا جو بدایوں مسلم لیگ میں تھا ۔
صحافت:
آپ کو صحافت سے ابتداء سے ہی تعلق خاطر تھا ۔ قیام آگرہ کے دران ایک چھاپہ خانہ قائم کرکے ماہنامہ " الھدی " جاری کیا تھا ۔ جس میں حکومت پر سخت تنقید کی جاتی تھی اور مسلم لیگ کی دل کھول کر تبلیغ کی جاتی تھی ۔ اس سلسلہ میں آپ کو متعدد بار قید و بند کی تکالیف بھی برداشت کرنا پڑیں ۔ لیکن آپ کی حق گوئی و بے باکی میں کوئی فرق نہ آیا علی برادران کے حکم پر آگرہ کو اپنا مسکن بنایا اور دو اخبارات "تبلیغ" اور "خلافت" کا اجراء کرکے خلافت کے پیغام کو بر صغیر کے کونے کونے میں پہنچایا ۔ کراچی آنے پر بھی آپ نے روز نامہ "خورشید" اور ماہنامہ "ترجمان" جاری کئے اور اپنی حق گوئی کو مسلسل اپنا مقصد حیات بنائے رکھا ۔آپ نے مفید اور عمدہ کتب بھی تصنیف فرمائیں، اور اسی طرح علماء اہلسنت کی کتب کی اشاعت بھی فرمائی ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 15 رجب المرجب 1384ھ / مطابق 20 نومبر 1964ء کو راہیِ جنت ہوئے ۔ حضرت مولانا عبد الحامد بدایونی علیہ الرحمۃ نے نماز جنازہ پڑھائی اور میوہ شاہ قبرستان (کراچی) میں سپرد خاک کئے گئے ۔
ماخذ و مراجع:
تحریک پاکستان اور علماء کرام ۔ انوار علماء اہلسنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-samad-muqtadri
14 اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا تو دیگر مسلم لیگی لیڈروں کی طرح آپ کی گرفتاری کے احکامات بھی جاری ہو گئے ۔ چنانچہ 13 دسمبر 1947ء کو بچ بچا کر بمع اہل خانہ کراچی تشریف لے آئے ۔ ان دنوں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس خالق دینا ہال کراچی میں 13،14،15 دسمبر کو ہو رہا تھا چونکہ پاکستان بننے کے بعد یہ پہلا اجلاس تھا لہٰذا آپ بال بچوں کو بندر گاہ پر ہی چھوڑ کر سیدھے اس اہم اجلاس میں شامل ہوئے ۔ اس اجلاس میں آپ نے نمایاں طور پر حصہ لیا ۔ اس کے بعد آپ کو پاکستان مسلم لیگ کا کونسلر منتخب کیا گیا اس کے علاوہ کراچی مسلم لیگ میں آپ کو وہی مقام نصیب ہوا جو بدایوں مسلم لیگ میں تھا ۔
صحافت:
آپ کو صحافت سے ابتداء سے ہی تعلق خاطر تھا ۔ قیام آگرہ کے دران ایک چھاپہ خانہ قائم کرکے ماہنامہ " الھدی " جاری کیا تھا ۔ جس میں حکومت پر سخت تنقید کی جاتی تھی اور مسلم لیگ کی دل کھول کر تبلیغ کی جاتی تھی ۔ اس سلسلہ میں آپ کو متعدد بار قید و بند کی تکالیف بھی برداشت کرنا پڑیں ۔ لیکن آپ کی حق گوئی و بے باکی میں کوئی فرق نہ آیا علی برادران کے حکم پر آگرہ کو اپنا مسکن بنایا اور دو اخبارات "تبلیغ" اور "خلافت" کا اجراء کرکے خلافت کے پیغام کو بر صغیر کے کونے کونے میں پہنچایا ۔ کراچی آنے پر بھی آپ نے روز نامہ "خورشید" اور ماہنامہ "ترجمان" جاری کئے اور اپنی حق گوئی کو مسلسل اپنا مقصد حیات بنائے رکھا ۔آپ نے مفید اور عمدہ کتب بھی تصنیف فرمائیں، اور اسی طرح علماء اہلسنت کی کتب کی اشاعت بھی فرمائی ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 15 رجب المرجب 1384ھ / مطابق 20 نومبر 1964ء کو راہیِ جنت ہوئے ۔ حضرت مولانا عبد الحامد بدایونی علیہ الرحمۃ نے نماز جنازہ پڑھائی اور میوہ شاہ قبرستان (کراچی) میں سپرد خاک کئے گئے ۔
ماخذ و مراجع:
تحریک پاکستان اور علماء کرام ۔ انوار علماء اہلسنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-samad-muqtadri
❤1
علامہ ندیم احمد نؔدیم نورانی مد ظلہ العالی
حضرت علامہ مولانا محمد ندیم احمد ندیم نورانی صاحب کا شجرۂِ نسب اس طرح ہے:
نسب:
حضرت علامہ مولانا محمد ندیم احمد ندیم نورانی بن سلیم احمد (قادری عطاری) بن محمد احمد بن شفاعت علی ۔ والد صاحب کے نسباً ’’صدیقی‘‘ اور والدہ محترمہ ’’نجیب الطرفین ساداتِ کرام‘‘ سے ہیں ۔ آبائی تعلق میرٹھ (ہند) سے ہے ۔ مولانا کے بزرگ صاحبِ علم و تقویٰ تھے، بالخصوص آپ کے نانا محترم جناب سید حافظ محمد حسین باعمل حافظِ قرآن تھے ۔ رات کے وقت جب ان کی تدفین کی گئی تو ان کی قبر سے نور کی شعائیں ظاہر ہو گئیں، سب حاضرین نے مشاہدہ کیا ۔
پیدائش:
آپ کی پیدائش بروز بدھ 15 رجب المرجّب 1393ھ مطابق 15 اگست 1973ء کو ناظم آباد نمبر 5، کراچی میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی دینی تعلیم محلے کی مسجد میں حاصل کی ۔ حضرت علامہ مولانا سید محمد اعجاز نعیمی علیہ الرحمہ کی ذہن سازی پر دینی علوم کا شوق پیدا ہوا، اور پھر انہیں سے صرف و نحو کے قواعد اور عربی گرائمر اور فقہ وغیرہ میں رہنمائی حاصل کرتے رہے ۔ کراچی یونیورسٹی سے ایم ۔ اے ۔ اسلامیات ہیں ۔
بیعت:
قائد ملت اسلامیہ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی سے بیعت ہوئے ۔
خلافت و اجازت:
آپ کو علامہ مولانا مفتی محمد اطہر نعیمی زید مجدہ، علامہ مولانا مفتی جمیل احمد نعیمی اطال اللہ عمرہ، نبیرۂ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ مولانا محمد منان رضا خان بریلوی، خلیفۂ مفتی اعظم ہند حضرت مولانا عبد الحمید نوری پامر مدظلہ العالی (ڈربن، ساؤتھ افریقہ) وغیرہم حضرات نے اجازت و خلافت سے نوازا ہے ۔ حضرت مسعودِ ملت، و دیگر اکابرین علماء و مشائخ سے اوراد و وظائف کی اجازت حاصل ہے ۔
تصانیف:
مولانا ندیم احمد ندیم نوارنی زید مجدہ ایک فاضل اور محقق آدمی ہیں، عربی، اردو، اور انگریزی ادب پر مہارت حاصل ہے ۔ اردو نثر ، نظم اور مادۂ تاریخ میں عبور رکھتے ہیں ۔ آپ کا کلام بہت عمدہ اور پُر مغز ہوتا ہے ۔ فن شاعری میں جناب راغب مراد آبادی مرحوم کے شاگرد ہیں ۔ ماشاء اللہ درجن بھر تحقیقی کتب ورسائل قلم بند کر چکے ہیں، جن پر علماء و مشائخِ عظام سے دادِ تحسین وصول فرما چکے ہیں ۔
بالخصوص’’ فہرست رسائل فتاویٰ رضویہ ‘‘ اور ’’جب جب تذکرہ خجندی ہوا‘‘ اور ’’علامہ حاجی محمد بشیر صدیقی کا سفرِ زندگی‘‘ قابلِ مطالعہ اور بہت مفید ہیں ۔ ان کے علاوہ کئی مضامین و مقالات پاکستان و ہندوستان کے مؤقر جرائد میں شائع ہو چکے ہیں ۔ تحقیقی کام جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ علم وقلم میں مزید برکتیں عطاء فرمائے ۔ آمین ۔ بجاہ النبی الامین ﷺ ۔ مولانا صاحب انتہائی ملنسار، خوش اخلاق، اور منکسر المزاج شخصیت کے حامل ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/nadeem-ahmad-nadeem-noorani
حضرت علامہ مولانا محمد ندیم احمد ندیم نورانی صاحب کا شجرۂِ نسب اس طرح ہے:
نسب:
حضرت علامہ مولانا محمد ندیم احمد ندیم نورانی بن سلیم احمد (قادری عطاری) بن محمد احمد بن شفاعت علی ۔ والد صاحب کے نسباً ’’صدیقی‘‘ اور والدہ محترمہ ’’نجیب الطرفین ساداتِ کرام‘‘ سے ہیں ۔ آبائی تعلق میرٹھ (ہند) سے ہے ۔ مولانا کے بزرگ صاحبِ علم و تقویٰ تھے، بالخصوص آپ کے نانا محترم جناب سید حافظ محمد حسین باعمل حافظِ قرآن تھے ۔ رات کے وقت جب ان کی تدفین کی گئی تو ان کی قبر سے نور کی شعائیں ظاہر ہو گئیں، سب حاضرین نے مشاہدہ کیا ۔
پیدائش:
آپ کی پیدائش بروز بدھ 15 رجب المرجّب 1393ھ مطابق 15 اگست 1973ء کو ناظم آباد نمبر 5، کراچی میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی دینی تعلیم محلے کی مسجد میں حاصل کی ۔ حضرت علامہ مولانا سید محمد اعجاز نعیمی علیہ الرحمہ کی ذہن سازی پر دینی علوم کا شوق پیدا ہوا، اور پھر انہیں سے صرف و نحو کے قواعد اور عربی گرائمر اور فقہ وغیرہ میں رہنمائی حاصل کرتے رہے ۔ کراچی یونیورسٹی سے ایم ۔ اے ۔ اسلامیات ہیں ۔
بیعت:
قائد ملت اسلامیہ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی سے بیعت ہوئے ۔
خلافت و اجازت:
آپ کو علامہ مولانا مفتی محمد اطہر نعیمی زید مجدہ، علامہ مولانا مفتی جمیل احمد نعیمی اطال اللہ عمرہ، نبیرۂ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ مولانا محمد منان رضا خان بریلوی، خلیفۂ مفتی اعظم ہند حضرت مولانا عبد الحمید نوری پامر مدظلہ العالی (ڈربن، ساؤتھ افریقہ) وغیرہم حضرات نے اجازت و خلافت سے نوازا ہے ۔ حضرت مسعودِ ملت، و دیگر اکابرین علماء و مشائخ سے اوراد و وظائف کی اجازت حاصل ہے ۔
تصانیف:
مولانا ندیم احمد ندیم نوارنی زید مجدہ ایک فاضل اور محقق آدمی ہیں، عربی، اردو، اور انگریزی ادب پر مہارت حاصل ہے ۔ اردو نثر ، نظم اور مادۂ تاریخ میں عبور رکھتے ہیں ۔ آپ کا کلام بہت عمدہ اور پُر مغز ہوتا ہے ۔ فن شاعری میں جناب راغب مراد آبادی مرحوم کے شاگرد ہیں ۔ ماشاء اللہ درجن بھر تحقیقی کتب ورسائل قلم بند کر چکے ہیں، جن پر علماء و مشائخِ عظام سے دادِ تحسین وصول فرما چکے ہیں ۔
بالخصوص’’ فہرست رسائل فتاویٰ رضویہ ‘‘ اور ’’جب جب تذکرہ خجندی ہوا‘‘ اور ’’علامہ حاجی محمد بشیر صدیقی کا سفرِ زندگی‘‘ قابلِ مطالعہ اور بہت مفید ہیں ۔ ان کے علاوہ کئی مضامین و مقالات پاکستان و ہندوستان کے مؤقر جرائد میں شائع ہو چکے ہیں ۔ تحقیقی کام جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ علم وقلم میں مزید برکتیں عطاء فرمائے ۔ آمین ۔ بجاہ النبی الامین ﷺ ۔ مولانا صاحب انتہائی ملنسار، خوش اخلاق، اور منکسر المزاج شخصیت کے حامل ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/nadeem-ahmad-nadeem-noorani
❤1👍1
مفتئ اعظم، علامہ شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی نقشبندی رحمۃ اللہ تعالی علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی ۔ کنیت: ابو مسعود ۔ لقب: مفتیِ اعظم ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مفتی اعظم حضرت شاہ محمد مظہراللہ دہلوی بن مولانا محمد سعید بن مولانا مفتی محمد مسعودعلیہم الرحمہ ۔ سلسلۂ نسب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تک منتہی ہوتا ہے ۔
آپ کا تعلق مغلیہ دور حکومت میں عہدۂ وزارت پر فائز جناب سالار بخش بزرگ سےہے۔یہ خاندان علم وفضل میں صاحبِ کمال تھا، لیکن اس خاندان کوجوعظمت وفضیلت حضرت شاہ مفتی محمد مسعود علیہ الرحمہ کی ذات گرامی سے حاصل ہوئی وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔شاہ محمد مظہر اللہ کےدادا حضرت مفتی محمد مسعود علیہ الرحمہ اپنے وقت کےجیدعالم دین، قطب الوقت،اور غوث زماں تھے۔(حیات پروفیسر محمد مسعود احمد:65)۔
ماہر رضویات، مجدد وقت، محسن ملت، حضرت علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی علیہ الرحمہ آپ کے فرزند ارجمند ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 15 رجب المرجب 1303ھ / مطابق 21 اپریل 1886ء کو دہلی میں ہوئی ۔ (ایضا:68) ـ
تحصیلِ علم:
حضرت مفتی اعظم شاہ محمد مظہر اللہ چار سال کی عمر میں یتیم ہو گئے تو جد امجد مفتی محمد شاہ محمد مسعود علیہ الرحمہ نے کفالت فرمائی دو سال بعد وہ بھی وصال فرما گئے تو عمِ محترم مولانا عبد المجید نے اپنی کفالت میں لے لیا۔ اس طرح ابتداء ہی سے مفتی اعظم علیہ الرحمہ کی حیات طیبہ میں سیرت نبویﷺ کی جھلک نظر آنے لگی۔(ایضاً61:) ۔
آپ نے حفظ قرآن کریم کے بعد معاصرین علماء سے علوم عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل فرمائی۔ آپ کا سلسلہ ٔحدیث شاہ عبد العزیز محدث دہلوی سے ملتا ہے۔ آپ نے ذاتی مطالعہ سے وہ کمال حاصل کیا کہ باید و شاید۔ آپ کو فقہ اصول فقہ،علم الفرائض،علم المواقیت میں مہارت تامہ حاصل تھی۔ دیگر علوم مثلاً تجوید و قرات، تفسیر، عقائد و تصوف،منطق و فلسفہ، صرف و نحو، ادب و شاعری، خطاطی اور عملیات وغیرہ میں بھی آپ کو بڑی دستگاہ حاصل تھی۔ ہر مکتبۂ فکر اور ہر مسلک کے علماء آپ کے وسعت مطالعہ اور تبحر علمی کے دل سےمعترف تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت سید صادق علی شاہ علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں بیعت ہوئے، اور آپ کے جد امجد کے خلیفۂ مجاز صوفیِ با صفا حضرت شاہ محمد رکن الدین علیہ الرحمہ نے آپ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت مرحمت فرمائی ۔ علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل کے بعد حضرت مفتی اعظم نے سلسلۂ بیعت و ارشاد کا آغاز فرمایا۔ بے شمار لوگ آپ کے دست مبارک پر بیعت ہوئے آپ کے خلفاء کی تعداد کافی ہے۔
سیرت و خصائص:
امام العلماء والفضلاء، سید الاولیاء، سند الاصفیاء، مرجع الخلائق، صاحبِ تقویٰ و فضیلت، فاضلِ اکمل، عالم متبحر، جامع علوم نقلیہ و عقلیہ، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، مفتیِ اعظم دہلی حضرت علامہ مولانا شاہ محمد شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ پاک و ہند کے سربر آور دہ علماء و صوفیاء میں سے تھے۔ آپ دار السلطنت دہلی کے ممتاز عالم و فقیہ حضرت شاہ محمد مسعود علیہ الرحمہ کے نامور پوتے اور مولانا محمد سعید علیہ الرحمہ کے فرزند ارجمند تھے۔ آپ کے دست حق پر بے شمار غیر مسلم مشرف با سلام ہوئے سیرت مبارکہ کے اسی حسین پہلو کو دیکھ کر جناب کوثر صدیقی صاحب آپ کی مدح میں فرماتےہیں:
نگاہیں فیض کا چشمہ رخ انور ہے نورانی۔۔۔۔بُرے انسان کو بھی بہتر سے بہتر کر دیا جس نے۔
حضرت مفتی اعظم مسجد جامع فتح پوری کے شاہی امام تھے۔ خطابت و امامت کا یہ سلسلہ حضرت کے جد امجد شاہ محمد مسعود علیہ الرحمہ سے آپ تک پہنچا تھا تقریباً ستر 70 سال آپ اس منصب جلیلہ پر فائز رہے آپ کی ذات گرامی سے مسجد فتح پوری کی عظمت و شوکت دوبالا ہو گئی اور علوم ظاہری و باطنی کا ایک ایسا مرکز بن گئی جو اپنی نظیر آپ تھی۔
آپ کے خاندان میں شاہی مسجد کی امامت و خطابت کا یہ سلسلہ شاہان مغلیہ کے عہد سے چلا آرہا ہے۔ مسجد فتح پوری اہلیان پاک و ہند کا مرجع ِنظر و مرکزِ نگاہ تھا۔ دور دراز علاقوں سے فتوے آتے تھے اپنے اور بیگانے سب آپ کے تعمق نظر، تدبر و تحمل اور تفقہ فی الدین کے معترف تھے۔ آپ نے ساری عمر اتباع سنت نبوی کا قدم قدم پر اہتمام رکھا۔ آپ کی زندگی عشق مصطفوی کی آئینہ دار تھی۔ آپ نے ہمیشہ عزیمت پر عمل کیا، عزیمت پسندی آپ کی سیرت مبارکہ کی امتیازی صفت تھی۔
نام و نسب:
اسم گرامی: شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی ۔ کنیت: ابو مسعود ۔ لقب: مفتیِ اعظم ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مفتی اعظم حضرت شاہ محمد مظہراللہ دہلوی بن مولانا محمد سعید بن مولانا مفتی محمد مسعودعلیہم الرحمہ ۔ سلسلۂ نسب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تک منتہی ہوتا ہے ۔
آپ کا تعلق مغلیہ دور حکومت میں عہدۂ وزارت پر فائز جناب سالار بخش بزرگ سےہے۔یہ خاندان علم وفضل میں صاحبِ کمال تھا، لیکن اس خاندان کوجوعظمت وفضیلت حضرت شاہ مفتی محمد مسعود علیہ الرحمہ کی ذات گرامی سے حاصل ہوئی وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔شاہ محمد مظہر اللہ کےدادا حضرت مفتی محمد مسعود علیہ الرحمہ اپنے وقت کےجیدعالم دین، قطب الوقت،اور غوث زماں تھے۔(حیات پروفیسر محمد مسعود احمد:65)۔
ماہر رضویات، مجدد وقت، محسن ملت، حضرت علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی علیہ الرحمہ آپ کے فرزند ارجمند ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 15 رجب المرجب 1303ھ / مطابق 21 اپریل 1886ء کو دہلی میں ہوئی ۔ (ایضا:68) ـ
تحصیلِ علم:
حضرت مفتی اعظم شاہ محمد مظہر اللہ چار سال کی عمر میں یتیم ہو گئے تو جد امجد مفتی محمد شاہ محمد مسعود علیہ الرحمہ نے کفالت فرمائی دو سال بعد وہ بھی وصال فرما گئے تو عمِ محترم مولانا عبد المجید نے اپنی کفالت میں لے لیا۔ اس طرح ابتداء ہی سے مفتی اعظم علیہ الرحمہ کی حیات طیبہ میں سیرت نبویﷺ کی جھلک نظر آنے لگی۔(ایضاً61:) ۔
آپ نے حفظ قرآن کریم کے بعد معاصرین علماء سے علوم عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل فرمائی۔ آپ کا سلسلہ ٔحدیث شاہ عبد العزیز محدث دہلوی سے ملتا ہے۔ آپ نے ذاتی مطالعہ سے وہ کمال حاصل کیا کہ باید و شاید۔ آپ کو فقہ اصول فقہ،علم الفرائض،علم المواقیت میں مہارت تامہ حاصل تھی۔ دیگر علوم مثلاً تجوید و قرات، تفسیر، عقائد و تصوف،منطق و فلسفہ، صرف و نحو، ادب و شاعری، خطاطی اور عملیات وغیرہ میں بھی آپ کو بڑی دستگاہ حاصل تھی۔ ہر مکتبۂ فکر اور ہر مسلک کے علماء آپ کے وسعت مطالعہ اور تبحر علمی کے دل سےمعترف تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت سید صادق علی شاہ علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں بیعت ہوئے، اور آپ کے جد امجد کے خلیفۂ مجاز صوفیِ با صفا حضرت شاہ محمد رکن الدین علیہ الرحمہ نے آپ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت مرحمت فرمائی ۔ علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل کے بعد حضرت مفتی اعظم نے سلسلۂ بیعت و ارشاد کا آغاز فرمایا۔ بے شمار لوگ آپ کے دست مبارک پر بیعت ہوئے آپ کے خلفاء کی تعداد کافی ہے۔
سیرت و خصائص:
امام العلماء والفضلاء، سید الاولیاء، سند الاصفیاء، مرجع الخلائق، صاحبِ تقویٰ و فضیلت، فاضلِ اکمل، عالم متبحر، جامع علوم نقلیہ و عقلیہ، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، مفتیِ اعظم دہلی حضرت علامہ مولانا شاہ محمد شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ پاک و ہند کے سربر آور دہ علماء و صوفیاء میں سے تھے۔ آپ دار السلطنت دہلی کے ممتاز عالم و فقیہ حضرت شاہ محمد مسعود علیہ الرحمہ کے نامور پوتے اور مولانا محمد سعید علیہ الرحمہ کے فرزند ارجمند تھے۔ آپ کے دست حق پر بے شمار غیر مسلم مشرف با سلام ہوئے سیرت مبارکہ کے اسی حسین پہلو کو دیکھ کر جناب کوثر صدیقی صاحب آپ کی مدح میں فرماتےہیں:
نگاہیں فیض کا چشمہ رخ انور ہے نورانی۔۔۔۔بُرے انسان کو بھی بہتر سے بہتر کر دیا جس نے۔
حضرت مفتی اعظم مسجد جامع فتح پوری کے شاہی امام تھے۔ خطابت و امامت کا یہ سلسلہ حضرت کے جد امجد شاہ محمد مسعود علیہ الرحمہ سے آپ تک پہنچا تھا تقریباً ستر 70 سال آپ اس منصب جلیلہ پر فائز رہے آپ کی ذات گرامی سے مسجد فتح پوری کی عظمت و شوکت دوبالا ہو گئی اور علوم ظاہری و باطنی کا ایک ایسا مرکز بن گئی جو اپنی نظیر آپ تھی۔
آپ کے خاندان میں شاہی مسجد کی امامت و خطابت کا یہ سلسلہ شاہان مغلیہ کے عہد سے چلا آرہا ہے۔ مسجد فتح پوری اہلیان پاک و ہند کا مرجع ِنظر و مرکزِ نگاہ تھا۔ دور دراز علاقوں سے فتوے آتے تھے اپنے اور بیگانے سب آپ کے تعمق نظر، تدبر و تحمل اور تفقہ فی الدین کے معترف تھے۔ آپ نے ساری عمر اتباع سنت نبوی کا قدم قدم پر اہتمام رکھا۔ آپ کی زندگی عشق مصطفوی کی آئینہ دار تھی۔ آپ نے ہمیشہ عزیمت پر عمل کیا، عزیمت پسندی آپ کی سیرت مبارکہ کی امتیازی صفت تھی۔
❤1👍1
1947ء میں فسادات کے دوران آپ نے جس عزم و استقلال کا اظہار فرمایا وہ تاریخِ عزیمت میں سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ 1958ء تک مسجد فتح پوری میں غیر مسلم دشمنوں نے تقریباً چھ سات بم پھینکے لیکن کسی مرحلے پر بھی آپ کے کے پایۂ ثبات میں لغزش نہیں آئی۔ سب سے کٹھن اور دشوار ستمبر 1947ء کا وہ دن تھا جب چاروں طرف سے مسجد شریف دشمنانِ دین کے نرغے میں تھی۔ ہر شخص سہما ہوا موت کا منتظر تھا۔ لیکن اس اضطراب و بے چینی کے عالم میں جب اس مرد کامل کو حجرہ شریف میں دیکھا گیاتو سکونِ قلبی کے ساتھ اپنے علمی مشاغل میں مصروف پایا۔ اسی قیامت خیز گھڑی میں محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لئے فوجی ٹرک مسجد شریف کے صدر دروازے پر پہنچے،جب آپ کے عقیدت مندوں نے آپ سے منتقل ہونے کے لئے عرض کیا تو آپ نے فرمایا:"آپ حضرات کو اجازت ہے جہاں چاہیں جا سکتے ہیں فقیر کو یہیں رہنے دیں کل قیامت کے دن اگر مولیٰ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ہم نے اپنا گھر تیرے سپرد کیا تھا تو اس کو کس کے رحم و کرم پر چھوڑ کر چلایا گیا تو فقیر کیا جواب دے گا"۔(ایضاً:71)
دینی سر گرمیاں:
آپ کی ساری زندگی تبلیغِ دین متین سے عبارت ہے، آپ دو بار پاکستان تشریف لائے۔ پہلی اکتوبر 1961ء میں، دوسری بار جولائی 1964ء میں۔ ہر بار آپ کا شایان شان استقبال کیا گیا۔ پاکستان میں آپ کے بکثرت مریدین و معتقدین ہیں۔ قیامِ پاکستان کے دوران آپ کراچی، حیدر آباد،لاہور،میر پور خاص،بہاول پور، ملتان، خانیوال، ساہیوال، شرق پور، راولپنڈی، مری وغیرہ مختلف مقامات تبلیغی دورے پر تشریف لے گئے ۔ (ایضاً:71)
1945ء میں حج بیت اللہ شریف کے لئے حرمین شریفین حاضر ہوئے۔ عشق نبویﷺکشاں کشاں پہلے آپ کو مدینہ منورہ لے گیا،دیار حبیب میں ایک ماہ قیام فرمایا پھر مکہ معظّمہ حاضر ہوئے۔ "شاہ سعود"(بادشاہ حجاز)کی طرف سے شاہی دعوت پر مدعو کیا گیا مگر آپ نے فرمایا "جو شہنشاہ حقیقی کے دربار میں آیا ہے اس کو کسی اور دربار میں حاضری کی ضرورت نہیں"(ایضاً:72)۔
آپ کی بہت سی تصانیف ہیں جن میں سر فہرست ترجمۂ قرآن ہے جو آپ نے شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ کے فارسی ترجمے سے اردو میں منتقل فرمایا۔ تقسیمِ ہند سے قبل یہ ترجمہ مع حواشی دھلی سے شائع ہوا تھا۔ اب ضیاء القرآن پبلی کیشنز (لاہور، پاکستان) اس کو شائع کر رہا ہے۔ ترجمہ قرآن کے بعد وہ فتوے ہیں جو تقریباً ستر 70 سال تک آپ تحریر فرماتے رہے۔ ڈاکٹر محمد مسعود احمد علیہ الرحمہ نے ان کو" فتاویٰ مظہریہ" کے نام سے شائع کیاہے۔ان کےعلاوہ آپ کی تقریباً بارہ کتب مختلف موضوعات پر ہیں۔جو بہت ہی مفید ہیں۔ادارہ مسعودیہ نے شائع کیاہے۔آپ کاسب سے بڑا احسان یہ ہے کہ آپ نے ملت اسلامیہ کوحضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ جیسا عظیم محقق، اور مرد ِکامل عطا فرمایا ۔ جنہوں نے ظلمت و ضلالت کے اندھیروں کو اپنے نور کی ضیاء پاشیوں سے دور کر دیا، اور آسمانِ علم و تحقیق میں نیر اعظم بن کر چمکے، اور جو ان کے دامن سے وابستہ ہوئے ان کو بھی چمکا دیا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 14 شعبان المعظم 1386ھ / مطابق 28 نومبر 1966ء بروز پیر شام پانچ بج کر، بیس منٹ پر دہلی میں ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار جامع مسجد فتح پوری دہلی کے صحن کے مشرقی جانب درگاہ حضرت نوشاہ کے احاطے میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد حیات، علمی اور ادبی خدمات ۔ ( پی ایچ ڈی مقالہ، ڈاکٹر محمد اعجاز انجم لطیفی صاحب) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-mazharullah-shah-delhvi
دینی سر گرمیاں:
آپ کی ساری زندگی تبلیغِ دین متین سے عبارت ہے، آپ دو بار پاکستان تشریف لائے۔ پہلی اکتوبر 1961ء میں، دوسری بار جولائی 1964ء میں۔ ہر بار آپ کا شایان شان استقبال کیا گیا۔ پاکستان میں آپ کے بکثرت مریدین و معتقدین ہیں۔ قیامِ پاکستان کے دوران آپ کراچی، حیدر آباد،لاہور،میر پور خاص،بہاول پور، ملتان، خانیوال، ساہیوال، شرق پور، راولپنڈی، مری وغیرہ مختلف مقامات تبلیغی دورے پر تشریف لے گئے ۔ (ایضاً:71)
1945ء میں حج بیت اللہ شریف کے لئے حرمین شریفین حاضر ہوئے۔ عشق نبویﷺکشاں کشاں پہلے آپ کو مدینہ منورہ لے گیا،دیار حبیب میں ایک ماہ قیام فرمایا پھر مکہ معظّمہ حاضر ہوئے۔ "شاہ سعود"(بادشاہ حجاز)کی طرف سے شاہی دعوت پر مدعو کیا گیا مگر آپ نے فرمایا "جو شہنشاہ حقیقی کے دربار میں آیا ہے اس کو کسی اور دربار میں حاضری کی ضرورت نہیں"(ایضاً:72)۔
آپ کی بہت سی تصانیف ہیں جن میں سر فہرست ترجمۂ قرآن ہے جو آپ نے شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ کے فارسی ترجمے سے اردو میں منتقل فرمایا۔ تقسیمِ ہند سے قبل یہ ترجمہ مع حواشی دھلی سے شائع ہوا تھا۔ اب ضیاء القرآن پبلی کیشنز (لاہور، پاکستان) اس کو شائع کر رہا ہے۔ ترجمہ قرآن کے بعد وہ فتوے ہیں جو تقریباً ستر 70 سال تک آپ تحریر فرماتے رہے۔ ڈاکٹر محمد مسعود احمد علیہ الرحمہ نے ان کو" فتاویٰ مظہریہ" کے نام سے شائع کیاہے۔ان کےعلاوہ آپ کی تقریباً بارہ کتب مختلف موضوعات پر ہیں۔جو بہت ہی مفید ہیں۔ادارہ مسعودیہ نے شائع کیاہے۔آپ کاسب سے بڑا احسان یہ ہے کہ آپ نے ملت اسلامیہ کوحضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ جیسا عظیم محقق، اور مرد ِکامل عطا فرمایا ۔ جنہوں نے ظلمت و ضلالت کے اندھیروں کو اپنے نور کی ضیاء پاشیوں سے دور کر دیا، اور آسمانِ علم و تحقیق میں نیر اعظم بن کر چمکے، اور جو ان کے دامن سے وابستہ ہوئے ان کو بھی چمکا دیا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 14 شعبان المعظم 1386ھ / مطابق 28 نومبر 1966ء بروز پیر شام پانچ بج کر، بیس منٹ پر دہلی میں ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار جامع مسجد فتح پوری دہلی کے صحن کے مشرقی جانب درگاہ حضرت نوشاہ کے احاطے میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد حیات، علمی اور ادبی خدمات ۔ ( پی ایچ ڈی مقالہ، ڈاکٹر محمد اعجاز انجم لطیفی صاحب) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-mazharullah-shah-delhvi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Muhammad Mazharullah Shah Delhvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت سیدنا امام جعفر صادق
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
نام ونسب:
آپ کا نام: حضرت جعفرِ طیار رضی اللہ عنہ کی نسبت سے " جعفر " رکھا گیا ۔ کنیت: ابو عبد اللہ، ابو اسماعیل اور ابو موسیٰ ہے ۔ لقب: صادق ، فاضل، طاہر، اور کامل ہے ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی امام زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن حضرت علی المرتضیٰ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) ۔
آپ کی والدہ محترمہ کا اسمِ گرامی امِ فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہے ۔ یعنی آپ والدہ کی طرف سے " صدیقی " اور والد کی طرف سے " علوی فاطمی سید " ہیں ۔
آپ کے نانا سیدنا قاسم بن محمد مدینہ منورہ کے سات فقہاء میں سے تھے ۔
آپ کی والدہ محترمہ سیدہ ام فروہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پڑ پوتی بھی تھیں اور پڑ نواسی بھی ۔ اس لیے آپ فرمایا کرتے تھے " ولدنی ابو بکر مرتین " یعنی مجھے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے دوہری ولادت ہونے کا شرف حاصل ہے ۔
تاریخِ ولادت:
بروز جمعۃ المبارک، 17 ربیع الاول، 80 ھ / بمطابق 24 اپریل 702ء ۔ مدینۃ الرسول ﷺ کی پر نور فضا میں ولادت ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے خاندانی روایات کی مطابق ظاہر و باطنی علوم کی تحصیل و تکمیل اپنے والدِ گرامی سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ عنہ اور اپنے دادا گرامی سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ اور اپنے نانا جان فقیہِ اعظم مدینۃ المنورہ سیدنا امام قاسم بن محمد سے حاصل کی ۔ ان کے علاوہ صحابیِ رسول ﷺ حضرت سہل بن سعدد رضی اللہ عنہ اور حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بھی تحصیلِ علم کیا ۔
بیعت و خلافت:
اپنے والدِ گرامی سے روحانی تربیت حاصل کی ۔ ان کے علاوہ اپنے نانا جان فقیہ ِ اعظم مدینۃ المنورہ ،سیدنا امام قاسم بن محمد سے بھی اکتساب فیض کیا ۔ امام قاسم کو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے فیض ملا ہے اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو آپ ﷺ کے فیضِ صحبت کے علاوہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بھی فیض حاصل ہوا ۔
سیرت و خصائص:
ملتِ نبوی کے سلطان، دینِ مصطفیٰ ﷺ کے پاسبان ، علومِ نبویہ کے مظہر و وارثِ کامل ،اہل ِ حق کے امام، اہلِ ذوق کے پیشرو، صاحبانِ عشق و محبت کے پیشوا، عابدوں کے مقدّم، زاہدوں کے مکرم ، خاندانِ نبوت کے چشم و چراغ حضرت سید نا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ ۔
آپ کے کمالات اس قدر ہیں کہ دائرہ تحریر سے باہر ہیں ۔ اس سے بڑھ کر اور کیا کمال ہوسکتا ہے کہ سراج الامہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ آپ کے پاس دو سال رہ کر درجٔہ کمال تک پہنچ گئے اور نعرہ لگایا! "لولا السنتان لھلک النعمان" ( اگر مجھے امام موصوف کی صحبت کے دو سال نہ ملتے تو میں ہلاک ہو جاتا ) ۔
عبید بن رافع فرماتے ہیں:
کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی زیارت کی ہے ۔ آپ درمیانہ قد ، خوبصورت جسم،اور چہرہ ایسا حسین کہ جیسے سورج آپ کے چہرہ انور میں گردش کر رہا ہو ۔ کا لی سیاہ زلفیں ، اور ان زلفوں میں چہرہ ایسے نظر آرہا تھا جیسے اندھیری میں رات میں چودہویں کاچاند نظر آتا ہے ۔
عمرو بن مقدام رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کہ جب میں امام جعفر صادِق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھتا تھا، تو آپکے چہرہ انور کی زیارت کرتے ہی یہ خیال آتا کہ اس نورانی شخصیت کا تعلق انبیاء کے پاک گھرانے سے ہے ۔
سراج الامہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ میں نے اہل بیت میں امام جعفر بن محمد سے بڑھ کر کسی کو فقیہ نہیں دیکھا ۔
مشہور محدث حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں: کہ میں نے آپ جیسا عالم ، زاہد، حسین ، اور سخی نہیں دیکھا ۔
حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کہ میں حضرت امام جعفر صادق کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا ۔ آپ کی ذات اخلاق و عاداتِ مصطفیٰ ﷺ اور حسنِ مصطفیٰ ﷺ کا حسین امتزاج تھی ۔ اور تمام علوم میں درجہ کمال حاصل تھا ۔ تمام نسبتوں اور فضیلتوں کے باوجود آپ سب سے زیادہ خوفِ خدا کے مالک تھے ۔
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
نام ونسب:
آپ کا نام: حضرت جعفرِ طیار رضی اللہ عنہ کی نسبت سے " جعفر " رکھا گیا ۔ کنیت: ابو عبد اللہ، ابو اسماعیل اور ابو موسیٰ ہے ۔ لقب: صادق ، فاضل، طاہر، اور کامل ہے ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی امام زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن حضرت علی المرتضیٰ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) ۔
آپ کی والدہ محترمہ کا اسمِ گرامی امِ فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہے ۔ یعنی آپ والدہ کی طرف سے " صدیقی " اور والد کی طرف سے " علوی فاطمی سید " ہیں ۔
آپ کے نانا سیدنا قاسم بن محمد مدینہ منورہ کے سات فقہاء میں سے تھے ۔
آپ کی والدہ محترمہ سیدہ ام فروہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پڑ پوتی بھی تھیں اور پڑ نواسی بھی ۔ اس لیے آپ فرمایا کرتے تھے " ولدنی ابو بکر مرتین " یعنی مجھے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے دوہری ولادت ہونے کا شرف حاصل ہے ۔
تاریخِ ولادت:
بروز جمعۃ المبارک، 17 ربیع الاول، 80 ھ / بمطابق 24 اپریل 702ء ۔ مدینۃ الرسول ﷺ کی پر نور فضا میں ولادت ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے خاندانی روایات کی مطابق ظاہر و باطنی علوم کی تحصیل و تکمیل اپنے والدِ گرامی سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ عنہ اور اپنے دادا گرامی سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ اور اپنے نانا جان فقیہِ اعظم مدینۃ المنورہ سیدنا امام قاسم بن محمد سے حاصل کی ۔ ان کے علاوہ صحابیِ رسول ﷺ حضرت سہل بن سعدد رضی اللہ عنہ اور حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بھی تحصیلِ علم کیا ۔
بیعت و خلافت:
اپنے والدِ گرامی سے روحانی تربیت حاصل کی ۔ ان کے علاوہ اپنے نانا جان فقیہ ِ اعظم مدینۃ المنورہ ،سیدنا امام قاسم بن محمد سے بھی اکتساب فیض کیا ۔ امام قاسم کو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے فیض ملا ہے اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو آپ ﷺ کے فیضِ صحبت کے علاوہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بھی فیض حاصل ہوا ۔
سیرت و خصائص:
ملتِ نبوی کے سلطان، دینِ مصطفیٰ ﷺ کے پاسبان ، علومِ نبویہ کے مظہر و وارثِ کامل ،اہل ِ حق کے امام، اہلِ ذوق کے پیشرو، صاحبانِ عشق و محبت کے پیشوا، عابدوں کے مقدّم، زاہدوں کے مکرم ، خاندانِ نبوت کے چشم و چراغ حضرت سید نا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ ۔
آپ کے کمالات اس قدر ہیں کہ دائرہ تحریر سے باہر ہیں ۔ اس سے بڑھ کر اور کیا کمال ہوسکتا ہے کہ سراج الامہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ آپ کے پاس دو سال رہ کر درجٔہ کمال تک پہنچ گئے اور نعرہ لگایا! "لولا السنتان لھلک النعمان" ( اگر مجھے امام موصوف کی صحبت کے دو سال نہ ملتے تو میں ہلاک ہو جاتا ) ۔
عبید بن رافع فرماتے ہیں:
کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی زیارت کی ہے ۔ آپ درمیانہ قد ، خوبصورت جسم،اور چہرہ ایسا حسین کہ جیسے سورج آپ کے چہرہ انور میں گردش کر رہا ہو ۔ کا لی سیاہ زلفیں ، اور ان زلفوں میں چہرہ ایسے نظر آرہا تھا جیسے اندھیری میں رات میں چودہویں کاچاند نظر آتا ہے ۔
عمرو بن مقدام رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کہ جب میں امام جعفر صادِق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھتا تھا، تو آپکے چہرہ انور کی زیارت کرتے ہی یہ خیال آتا کہ اس نورانی شخصیت کا تعلق انبیاء کے پاک گھرانے سے ہے ۔
سراج الامہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ میں نے اہل بیت میں امام جعفر بن محمد سے بڑھ کر کسی کو فقیہ نہیں دیکھا ۔
مشہور محدث حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں: کہ میں نے آپ جیسا عالم ، زاہد، حسین ، اور سخی نہیں دیکھا ۔
حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کہ میں حضرت امام جعفر صادق کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا ۔ آپ کی ذات اخلاق و عاداتِ مصطفیٰ ﷺ اور حسنِ مصطفیٰ ﷺ کا حسین امتزاج تھی ۔ اور تمام علوم میں درجہ کمال حاصل تھا ۔ تمام نسبتوں اور فضیلتوں کے باوجود آپ سب سے زیادہ خوفِ خدا کے مالک تھے ۔
❤1👍1
ایک مرتبہ حضرت داؤد طائی نے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے فرزند رسول ﷺ! مجھے نصیحت فرمائیں کیونکہ میرا دل سیاہ ہو گیا ہے ۔ فرمایا: یا ابا سلیمان! آپ تو زاہدِ زمانہ ہیں۔ آپ کو میری نصیحت کی کیا ضرورت ہے ۔ داؤد نے عرض کیا اے فرزند رسول ﷺ! آپ کو سب پر فضیلت حاصل ہے۔ اس لیے آپ پر واجب ہے کہ سب کو نصیحت کریں ۔
امام جعفر صادق رضی الله عنه فرمایا:
یا ابا سلیمان! مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں قیامت کے دن میرے جد بزرگوار انبیاء کے سردار ﷺ میرا دامن پکڑیں اور یوں فرما دیں کہ میرا حق متابعت کیوں نہ ادا کیا: کیونکہ یہ کام نسب کی شرافت پر موقوف نہیں ۔ بلکہ درگاہ ِرب العزت میں عمل کی پسندیدگی معتبر ہے ۔
یہ سن کر داؤد بہت روئے ۔ اور بارگاہ الٰہی میں عرض کی: کہ اے پرور دگار! جس شخص کی سرشت نبوت کے آب و گل سے ہے، اور جس کی طبیعت کی ترکیب آثارِ رسالت ﷺ سے ہوئی ہے، اور جس کے جدِ بزرگوار رسول کریم ﷺ ہیں، اور ماں حضرت فاطمہ بتول ہیں۔ جب وہ ایسی حیرانی میں ہے تو داؤد کس شمار میں ہے ۔
وصال:
آپ کا وصال 15 رجب 148ھ / بمطابق 765ء مدینۃ امنورہ میں ہوئی ،اور جنت البقیع میں قبہ اہلبیت میں مدفون ہوئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-jafar-sadiq-bin-imam-baqir
امام جعفر صادق رضی الله عنه فرمایا:
یا ابا سلیمان! مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں قیامت کے دن میرے جد بزرگوار انبیاء کے سردار ﷺ میرا دامن پکڑیں اور یوں فرما دیں کہ میرا حق متابعت کیوں نہ ادا کیا: کیونکہ یہ کام نسب کی شرافت پر موقوف نہیں ۔ بلکہ درگاہ ِرب العزت میں عمل کی پسندیدگی معتبر ہے ۔
یہ سن کر داؤد بہت روئے ۔ اور بارگاہ الٰہی میں عرض کی: کہ اے پرور دگار! جس شخص کی سرشت نبوت کے آب و گل سے ہے، اور جس کی طبیعت کی ترکیب آثارِ رسالت ﷺ سے ہوئی ہے، اور جس کے جدِ بزرگوار رسول کریم ﷺ ہیں، اور ماں حضرت فاطمہ بتول ہیں۔ جب وہ ایسی حیرانی میں ہے تو داؤد کس شمار میں ہے ۔
وصال:
آپ کا وصال 15 رجب 148ھ / بمطابق 765ء مدینۃ امنورہ میں ہوئی ،اور جنت البقیع میں قبہ اہلبیت میں مدفون ہوئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-jafar-sadiq-bin-imam-baqir
scholars.pk
Ja'far al-Sadiq, Islamic Scholar Hazrat Imam Jafar Sadiq Bin Imam Baqir, Books ,
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray…
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray…
Ziaetaiba sharing true history of Hazrat Imam Jafar Sadiq Bin Imam Baqir History, Books, Hadees, Family Tree, Photoes, Date of Birth
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت سیدنا امام جعفر صادق رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ نام ونسب: آپ کا نام: حضرت جعفرِ طیار رضی اللہ عنہ کی نسبت سے " جعفر " رکھا گیا ۔ کنیت: ابو عبد اللہ، ابو اسماعیل اور ابو موسیٰ ہے ۔ لقب: صادق ، فاضل، طاہر، اور کامل ہے ۔ سلسلۂ نسب…
حضرت سیدنا امام جعفر صادق
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://t.me/islaamic_Knowledge/44911
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://t.me/islaamic_Knowledge/44911
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-07-1445 ᴴ | 26-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-07-1445 ᴴ | 27-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2