🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
اس میدان جنگ میں حدِ نگاہ تک کشتوں کے پُشتے دکھائی دیتے تھے۔ مورّخہ چودہ رجب المرجب ۴۲۴ھ بروز اتوارنماز عصر کے وقت قضاء سے چار تیر بیک وقت آپ کے گلے میں آپیوست ہوئے کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے گھوڑی کی پشت سے نیچے گرے سکندر دیوالہ اور دوسرے خدمت گزاروں نے آپ کو چبوترے پر ایک بستر پر لٹادیا سکندر دیوالہ نے آپ کے سرکو اپنے پہلو میں رکھا تھا۔ اور آنکھوں سے آنسوؤں کی نہر جاری تھی وہ زار زار رو رہا تھا سلطان الشہید نے ایک بار آنکھ کھولی تھوڑے سے مسکرائے اور کلمہ ہو زبان پر لائے اور جان جانِ آفریں کے سپرد کردی۔

انا لِلہٖ وَاِنَّا اِلَیْہ رَاجِعُون ط

دہلی کے سلطان محمد تغلق بادشاہ بہڑانچ پہنچے میر مسعود غازی کے مدفن کی زیارت کی اور روضہ منورہ مطاہرہ کی زیارت سے آنکھوں کو روشن کیا مجاروں کو ہزاروں روپیہ نقد نذرانہ پیش کیا ایک جاگیر عطاء کی۔ اور روضہ مبارک کی تعمیر نو کرائی۔

حضرت میر مسعود غازی کی شہادت کے بعد آپ سے بہت سی کرامات اور خوارق ظاہر ہوئے ان کرامات کو لکھنے بیٹھیں تودفتروں کے دفتر بھر جائیں بہت سی مخلوق آپ کی کرامات کی قائل ہے ہر سال عرس کے موقعہ پر ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند بڑے بڑے جھنڈے اٹھائے ہندوستان کے گوشے گوشے سے جمع ہوتے ہیں جو لوگ عرس پر پہنچنے سے قاصر ہوتے ہیں وہ اپنے اپنے شہروں اور قصبوں میں حضرت مسعود غازی کے علم تیار کرکے آپ کی یادوں کو تازہ کرتے ہیں۔

صاحب اخبار الاخیار لکھتے ہیں۔ علمبرداروں کی یہ بدعت پہلے موجود نہ تھی حضرت مسعود غازی کی شہادت کے چار سو (۴۰۰) سال بعد یہ رسم نکلی نویں (۹) صدی ہجری میں ہندوستان کا ایک راجہ جس کے اولاد نہیں تھی حضرت سالار کے مقبرے پر حاضر ہوا اور نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے اولاد دے گا تو میں ایک ریشمی جھنڈا جس پر موتی جھڑے ہوں گے حضرت کے دروازے پر چڑاؤں گا اللہ کی مہربانی سے اسی سال اس راجہ کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا اس نے اپنی نذر کو پورا کرنے کے لیے ایک بہت بڑا ریشمی جھنڈا تیار کرایا اور حضرت کے روضہ عالیہ پر نصب کیا اس دن سے اس بدعت کو رواج ملا اب جس شخص کے ہاں اولاد نہ ہوتی نذر مانتا اور جھنڈا لےکر آتا ہوتے ہوتے دہلی اور لاہور تک کے شہروں میں سے ہزاروں علم جانے لگے۔ ڈھول بجانے والے جو اپنے آپ کو حضرت سالار کے مزار کے حقدار قرار دیتے ہیں علم کے آگے ڈھول بجاتے ہوئے اور نذریں اکٹھی کرتے ہوئے روانہ ہوتے ہیں اس علم برداری اور دف بازی میں بڑی بڑی چابکدستی کا مظاہرہ کرتے اور منزل بمنزل پھرتے پھرتے روضہ اقدس پر پہنچتے ہیں جو لوگ حضرت کے روضہ پر نہیں پہنچ سکتے وہ سارے جھنڈے نذرانے اور سازو سامان ان ڈھول بجانے والوں کو بخش دیتے ہیں۔

معارج الولایت کے مصنّف نے آپ کا سن وفات ۴۲۴ھ لکھا ہے تذکرۃ الشہدا اور دوسرے تذکرہ نویس اسی تاریخ کو درست مانتے ہیں مگر صاحب سفینۃ الاولیا نے آپ کا سن وفات ۴۲۹ھ تحریر کیا ہے میرے خیال میں صاحب سفینۃ الاولیا کی تاریخ درست نہیں ہے۔

شاہ سالار سیّد مسعود
سالِ تولید ادست مطلع نور ۴۰۵
غازی دین احمد مختار
صاحب قدر گفتہ ام اے یار ۴۰۵
عقل تاریخ نقلِ آں سرور
سیّدالشہدا مُردمسعود ۴۲۴ھ ۴۲۴ھ
گفت محبوب سید سالار
ولی مہدی شہید سلطان عزیز مسعود ۴۲۴ ۴۲۴
(خزینۃ الاصفیاء)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-salar-masood-ghazi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا

نام و نسب:
کنیت:
ام الحکم ـ ابتدائی نام: برہ تھا، رسولِ اکرم ﷺ نے تبدیل کرکے زینب رکھدیا ۔

سلسلسۂ نسب اس طرح ہے:
زینب بنتِ جحش بن رباب بن یعمر بن صبیرہ بن مرہ بن کثیر بن غنم بن دَودان بن اسد بن خزیمہ بن مدرکہ ۔والدہ کا نام: امیمہ بنتِ عبد المطلب۔یہ رسولِ اکرم ﷺ کی پھوپھی تھیں۔اس طرح حضرت زینب رضی اللہ عنہا آپﷺ کی پھوپھی زاد ہوئیں۔

ابتدائی زندگی:
حضرت زینب کا پہلا نکاح حضور ﷺ کے منہ بولے بیٹے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ہوا جو ﷺ کے آزاد کردہ غلام اورمتبنیٰ (گود لیئے ہوئےلے پالک، بیٹے)تھے۔ دونوں کے تعلقات خوشگوار نہ رہ سکے تو حضرت زید نے حضور ﷺ سے ان کو طلاق دینے کی اجازت مانگی۔ آپ ﷺ نے ان کو نباہ کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن جب تعلقات اور زیادہ ناخوشگوار ہونے لگے تو حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق دے دی۔

شرفِ ام المؤمنین:
جب زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو طلاق دے دی تو چونکہ عرب میں اس وقت تک متبنیٰ کو اصلی اولاد تصور کیا جاتا تھا۔ اس لئے آپ تامل فرماتے رہے،لیکن چونکہ یہ جاہلیت کی رسم تھی اس کا مٹانا مقصود تھاتو اللہ تعالیٰ نے درجِ ذیل آیت قرآنی نازل فرما کر آپ ﷺ کو حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنے کا حکم دیا۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اِذْ تَقُوۡلُ لِلَّذِیۡۤ اَنْعَمَ اللہُ عَلَیۡہِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیۡہِ اَمْسِکْ عَلَیۡکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللہَ وَتُخْفِیۡ فِیۡ نَفْسِکَ مَا اللہُ مُبْدِیۡہِ وَ تَخْشَی النَّاسَ ۚ وَ اللہُ اَحَقُّ اَنۡ تَخْشٰىہُ ؕ فَلَمَّا قَضٰیزَیۡدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَہَا لِکَیۡ لَا یَکُوۡنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ حَرَجٌ فِیۡۤ اَزْوٰجِ اَدْعِیَآئِہِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَرًا ؕ وَکَانَ اَمْرُ اللہِ مَفْعُوۡلًا ﴿۳۷﴾

ترجمۂ کنز الایمان:
اور اے محبوب یاد کرو جب تم فرماتے تھے اس سے جسے اللّٰہ نے نعمت دی اور تم نے اسے نعمت دی کہ اپنی بی بی اپنے پاس رہنے دے اور اللہ سے ڈر اور تم اپنے دل میں رکھتے تھے وہ جسے اللّٰہ کو ظاہر کرنا منظور تھا اور تمہیں لوگوں کے طعنےکا اندیشہ تھا اور اللہ زیادہ سزاوار ہے کہ اس کا خوف رکھو پھر جب زید کی غرض اس سے نکل گئی تو ہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں کی بیبیوں میں جب ان سے ان کا کام ختم ہوجائے اور اللہ کا حکم ہوکر رہنا ہے۔(سورۃ الاحزاب:37)

اس آیت کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سےماہِ ذیقعد،5/ھ میں نکاح کر لیا۔ آپ کے دعوت ولیمہ میں حجاب کی آیات نازل ہوئیں۔

فضائل و خصائل:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سے روایت ہے: کہ ام المؤمنین حضرت زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنھا بعد از نکاح ،ازواجِ رسول ﷺ پر فخر کیا کرتی تھیں،اور فرماتی تھیں :کہ تمہارے نکاح تو تمہارے متولیوں نے پڑھائےہیں،لیکن میرانکاح خود خدائے ذوالجلال نے عرشِ مجید پر سر انجام دیا ہے،اور حضور نبیِ کریم ﷺ نے میر ے ولیمے پر روٹی اور گوشت کھلایا تھا۔ حضرت زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنھا بڑی عبادت گزار اورکریم النفس تھیں،آپ ہنر مند تھیں ،اس لئے جو کچھ کماتی تھیں اللہ کی راہ میں صرف کردیتی تھیں،اسی طرح بیت المال سے جو کچھ آتا تھا وہ بھی غربا میں تقسیم کردیا کرتی تھیں ۔

اس نکاح پر کفارِ مکہ نے بڑی حاشیہ آرائی اور غوغا کیا کہ محمد ﷺنے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرکے حرام کو حلال کرلیا ہے،لیکن قرآن نے"مَاکَانَ مُحَمَّدٌاَبَااَحَدٌ مِّن رِّجَالِکُم" کہہ کر دشمنوں کے منہ پر ایک چپت رسید کردی،اور صاف صاف فرمادیا،"اُدعُوھُم لِاٰبَاءِھِم ھُوَاَقسَطُ عِندَ اللہِ" اس کے بعد زید بن محمد ،زید بن حارثہ ہو گئے ۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا  سے روایت ہے:  کہ حضورِاکرمﷺ نے فرمایا :کہ میری وفات کے بعد تم میں سے سب سے پہلے وہ خاتون مجھ سے آملے گی جس کے ہاتھ لمبے ہونگے،اس لئے ہم باہم ہاتھوں کی لمبائی ناپا کرتی تھیں(کہ کون سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کریگی)(ہاتھ لمبے مراد سخاوت تھی) جب ام المؤمنین حضرت  زینب بنتِ جحش  رضی اللہ عنھا کا انتقال ہو اتو پھر ہمیں معلوم ہوا کہ اس سے رسول اللہ ﷺ کی مراد سخاوت و فیاضی تھی ۔لیکن چونکہ زینب بکثرت انفاق فی سبیل اللہ کیا کرتی اس لئے ہاتھ اسی کے لمبے تھے،اور پھر فرماتی ہیں کہ  میں نے کوئی خاتون اتنی کریم النفس،متقی اور راستگو زندگی بھر نہیں دیکھی۔

رسول ِ کریم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:کہ میں نے  زینب سے بڑھ کر (عورتوں میں) کسی کو  خضوع خشوع کرنے والا نہیں دیکھا۔ آپ کی دو بیوہ بھابھیاں بھی ازواجِ مطہرات میں سے تھیں۔ (ام المؤمنین ام حبیبہ جو عبید اللہ بن جحش کی بیوہ تھیں اور ام المؤمنین زینب بنت خزیمہ جو عبد اللہ بن جحش کی بیوہ تھیں) ـ

وصال:
آپکا  انتقال حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت 20 ہجری میں ہوا ۔اس وقت آپ کی عمر 53 برس تھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جنازہ پڑھایا۔ اسامہ بن زید، محمد بن عبد اللہ بن حجش اور عبداللہ بن ابو احمد بن جحش نے انہیں قبر میں اتارا یہ پہلی خاتون ہیں، جن کے لئے تابوت تیار کیا گیا، اور آپ جنت البقیع میں آرام فرما ہیں۔

https://scholars.pk/ur/scholar/wife-of-holy-prophet-muhammad-hazrat-zainab-bint-jahsh
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-07-1445 ᴴ | 25-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-07-1445 ᴴ | 26-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1