طغرل کے مزارات بخبور میں واقعہ ہیں خاص و عام کی زیارت گاہ نہیں انہیں حضرات میں سے میر سید قاسم بھی اسی علاقہ میں شہید ہوئے تھے۔ آپ کا مزار قصبہ مددسرائے اور کنتور کے درمیان واقع ہے۔ ان کے پہلو میں ہی ابراہیم خواص شیخ صدّد اور شیخ بدد اور دوسرے شہداء عظام آسودہ ہیں۔ ان کے دوسرے احباب شہید اور دوسرے شہدا قصبہ سد ہور میں آرام فرماہیں انہیں پیر کھوکھر بھی کہتے ہیں۔ ان اصحاب کے علاوہ نرانجی شہید اور دسوائے شہید تصرفات روحانی اور باطنی میں ممتاز مانے جاتے ہیں ان کے علاوہ حاجی شریف شہید ہیں۔ ان کا روضہ اقدس موضع انبورہ سلیکہ پر گنہ میں واقع ہے آپ کے جان نثار دوستوں میں قاضی طاہر شہید خاص طور پر قابلِ ذکر بزرگ ہیں جن کا مزار پرگنہ سدھور کے جنگل میں پایا جاتا ہے آپ کے دوسرے فدیوں میں حضرت میر سیّد عبداللہ شہید اپنے تمام شہید دوستوں سمیت قصبۂ ابنہی میں آسودہ خاک ہیں۔ اس طرح حضرت سیّد الشہید جناب مسعود غازی نے اپنے احباب کو وسط ہند کے ان جنگلی محاذوں پر داد شجاعت دینے پر لگا دیا تھا کہ انہوں نے کفار کے مقابلے میں لڑتے لڑتے قدم قدم پر قربانیاں دیں آپ اس عرصہ میں قصبہ سترگہ میں قیام پذیر ہوئے اسی اثنا میں آپ کو خبر ملی کہ آپ کی والدہ مکرمہ ستر معّٰلی کاہلر میں دفات پاگئی ہیں۔ میر ساہو علوی نے آپ کی والدہ کا جنازہ غزنی کو بھیج دیا اور خود اپنے بیٹے کو ملنے اور اسے تسلّی دینے کے لیے سترگہ تشریف لائے باپ کے آنے کی خبر سن کر سلطان الشہداء میر مسعود غازی استقبال کے لیے آگے بڑھے۔ اور والد مکرم کو نہایت اعزاز و احترام سے اپنے گھر لائے اس سال حضرت سلطان محمود غزنوی واصل بحق ہوئے آپ کو غزنین کے باغ فیروزی میں دفن کیا گیا جونہی سلطان محمود کی وفات کی خبر برصغیر ہندوستان میں پہنچی کافرون کے حوصلے بلند ہوگئے اور وہ جوق در جوق اسلامی لشکر اور چھاؤنیوں پر ٹوٹ پڑے وہ متفق ہوکر چاہتے تھے۔ کہ اسلام کے نام لیواؤں کو ہندوستان سے نکال باہر پھینکیں ایک منافق حجام نے یوں کیا حضرت میر کی حجامت بناتے وقت ناخن تراش زہر میں بھگو کر ناخنوں میں زخم لگادیا تاکہ زہر آپ کے جسم میں سرایت کر جائے آپ کو زہر اثر کرنے ہی والا تھا کہ آپ کے خادموں کو معلوم ہوگیا میر ساہو نے حکم دیا کہ اس بدنہار سازشی حجام کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے میر ساہو ایک لشکر لے کر علاقے کے ہندو زمینداروں پر ٹوٹ پڑے بڑی جنگ کے بعد بہت سے دشمن کھیت رہے ہندو زمینداروں کے دوبڑے سرداروں کو قید کرکے زنداں خانے میں رکھا گیا ملک عبداللہ راجو کو قصبہ گرد اور ملک حیدر کو مانک پور میں متعین کردیا اور خود اپنے مرکز کی طرف واپس آگئے چند دنوں بعد میر سیف الدّین نے بُہرانچ سے عرضداشت بھیجی کہ اس علاقے کے کافروں نے بہت بڑا حلمہ کردیا ہے اس لیے میری امداد کو پہنچنا چاہیے حضرت میر مسعود غازی نے اپنے والد مکرم میر ساہو سے رخصت لی اور بہرانچ کو روانہ ہوئے آپ وہاں پہنچے ہی تھے کہ دشمنوں کا زور ٹوٹنے لگا اسی اثنا میں دو ماہ کے بعد آپ کو اپنے والد میرساہو کے انتقال کی خبر ملی کہ وہ بتاریخ ۲۴؍ماہ شوال ۴۲۳ھ سر درد کی شدت سے انتقال فرماگئے ہیں۔ قصبہ سترگہ میں دفن کردیے گئے یہ خبر سنتے ہی دشمنوں نے پھر شورش برپاکردی اور اسلامی لشکر پر چاروں طرف سے حملے ہونے شروع ہوئے آخر کار تیرہ ماہ رجب کی آخری رات کو موضع جوگی کے جو شہر سے ایک کوس کے فاصلہ پر تھا سخت جنگ کا آغاز ہوا پیر کے دن علی الصباح سالار سیف الدین کو ایک لشکر دے کر تمام سپاہیوں کے جمع کرنے کا حکم دیا خود حضرت سلطان الشہید غازی مسعود نے غسل کرکے عمدہ پوشاک زیب تن کی شمشیر اور خنجر سے مسلح ہوئے اور خوش و خرم شہر سے باہر نکلے۔ میر سیّد ابراہیم کو جو آپ کے ہم عمر بھی تھے اور محبوب و مصاحب بھی تھی چند معتبرا مراء کے ساتھ ڈہرہ میں چھوڑ کر سوار ہوئے اور اپنی فوجوں کو عسکری قاعدے سے ترتیب دے کر میدان جہاد کو روانہ کیا۔ یہ لشکر باغ سورخ کندپہنچا انہوں نے دیکھا کہ دشمن سالار سیف الدین پر غالب آرہے ہیں میر نصراللہ کو چند امراء کے ساتھ سالار موصوف کی امداد کو روانہ کیا اور خود درختوں کے ایک چبوترے پر بیٹھ کر جنگ کی کارروائیوں کی نگرانی کرنے لگے۔
ہفتہ کے روز یہ جنگ زوروں پر تھی۔ اتوار کی دوپہر تک سخت جنگ جاری تھی اسی جنگ میں آپ کے اکثر ساتھی جن میں سیّد نصراللہ میاں رجب کوتوال اور سالار سیف الدّین تھے شہادت کے رتبہ پر سرفراز ہوئے بعضے دفنادئیے گئے بعضے سورخ کند کے حوض میں ڈال دیے گئے بعض کو انہی کپڑوں میں لپیٹ کر خاک بوس کردیا گیا حضرت میر مسعود غازی گھوڑے سے اترے تازہ وضو کیا شہداء کی نماز جنازہ ادا کی فاتحہ خوانی کے بعد دوبارہ اپنی جنگی گھوڑی پر سوار ہوئے۔ بقّیۃ الَسیّف ساتھیوں کو ساتھ لے کر دوبارہ میدان جنگ میں اترے آپ کی جرات دیکھ کر کافروں کا لشکر میدان جنگ سے بھاگ کھڑا ہوا آپ اپنے باغ میں رک گئے اور اپنے ساتھیوں کو جمع کرنے لگے دشمنوں نے پھر اپنے قدم جمالیے اور لوٹ آئے
ہفتہ کے روز یہ جنگ زوروں پر تھی۔ اتوار کی دوپہر تک سخت جنگ جاری تھی اسی جنگ میں آپ کے اکثر ساتھی جن میں سیّد نصراللہ میاں رجب کوتوال اور سالار سیف الدّین تھے شہادت کے رتبہ پر سرفراز ہوئے بعضے دفنادئیے گئے بعضے سورخ کند کے حوض میں ڈال دیے گئے بعض کو انہی کپڑوں میں لپیٹ کر خاک بوس کردیا گیا حضرت میر مسعود غازی گھوڑے سے اترے تازہ وضو کیا شہداء کی نماز جنازہ ادا کی فاتحہ خوانی کے بعد دوبارہ اپنی جنگی گھوڑی پر سوار ہوئے۔ بقّیۃ الَسیّف ساتھیوں کو ساتھ لے کر دوبارہ میدان جنگ میں اترے آپ کی جرات دیکھ کر کافروں کا لشکر میدان جنگ سے بھاگ کھڑا ہوا آپ اپنے باغ میں رک گئے اور اپنے ساتھیوں کو جمع کرنے لگے دشمنوں نے پھر اپنے قدم جمالیے اور لوٹ آئے
❤1👍1
اس میدان جنگ میں حدِ نگاہ تک کشتوں کے پُشتے دکھائی دیتے تھے۔ مورّخہ چودہ رجب المرجب ۴۲۴ھ بروز اتوارنماز عصر کے وقت قضاء سے چار تیر بیک وقت آپ کے گلے میں آپیوست ہوئے کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے گھوڑی کی پشت سے نیچے گرے سکندر دیوالہ اور دوسرے خدمت گزاروں نے آپ کو چبوترے پر ایک بستر پر لٹادیا سکندر دیوالہ نے آپ کے سرکو اپنے پہلو میں رکھا تھا۔ اور آنکھوں سے آنسوؤں کی نہر جاری تھی وہ زار زار رو رہا تھا سلطان الشہید نے ایک بار آنکھ کھولی تھوڑے سے مسکرائے اور کلمہ ہو زبان پر لائے اور جان جانِ آفریں کے سپرد کردی۔
انا لِلہٖ وَاِنَّا اِلَیْہ رَاجِعُون ط
دہلی کے سلطان محمد تغلق بادشاہ بہڑانچ پہنچے میر مسعود غازی کے مدفن کی زیارت کی اور روضہ منورہ مطاہرہ کی زیارت سے آنکھوں کو روشن کیا مجاروں کو ہزاروں روپیہ نقد نذرانہ پیش کیا ایک جاگیر عطاء کی۔ اور روضہ مبارک کی تعمیر نو کرائی۔
حضرت میر مسعود غازی کی شہادت کے بعد آپ سے بہت سی کرامات اور خوارق ظاہر ہوئے ان کرامات کو لکھنے بیٹھیں تودفتروں کے دفتر بھر جائیں بہت سی مخلوق آپ کی کرامات کی قائل ہے ہر سال عرس کے موقعہ پر ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند بڑے بڑے جھنڈے اٹھائے ہندوستان کے گوشے گوشے سے جمع ہوتے ہیں جو لوگ عرس پر پہنچنے سے قاصر ہوتے ہیں وہ اپنے اپنے شہروں اور قصبوں میں حضرت مسعود غازی کے علم تیار کرکے آپ کی یادوں کو تازہ کرتے ہیں۔
صاحب اخبار الاخیار لکھتے ہیں۔ علمبرداروں کی یہ بدعت پہلے موجود نہ تھی حضرت مسعود غازی کی شہادت کے چار سو (۴۰۰) سال بعد یہ رسم نکلی نویں (۹) صدی ہجری میں ہندوستان کا ایک راجہ جس کے اولاد نہیں تھی حضرت سالار کے مقبرے پر حاضر ہوا اور نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے اولاد دے گا تو میں ایک ریشمی جھنڈا جس پر موتی جھڑے ہوں گے حضرت کے دروازے پر چڑاؤں گا اللہ کی مہربانی سے اسی سال اس راجہ کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا اس نے اپنی نذر کو پورا کرنے کے لیے ایک بہت بڑا ریشمی جھنڈا تیار کرایا اور حضرت کے روضہ عالیہ پر نصب کیا اس دن سے اس بدعت کو رواج ملا اب جس شخص کے ہاں اولاد نہ ہوتی نذر مانتا اور جھنڈا لےکر آتا ہوتے ہوتے دہلی اور لاہور تک کے شہروں میں سے ہزاروں علم جانے لگے۔ ڈھول بجانے والے جو اپنے آپ کو حضرت سالار کے مزار کے حقدار قرار دیتے ہیں علم کے آگے ڈھول بجاتے ہوئے اور نذریں اکٹھی کرتے ہوئے روانہ ہوتے ہیں اس علم برداری اور دف بازی میں بڑی بڑی چابکدستی کا مظاہرہ کرتے اور منزل بمنزل پھرتے پھرتے روضہ اقدس پر پہنچتے ہیں جو لوگ حضرت کے روضہ پر نہیں پہنچ سکتے وہ سارے جھنڈے نذرانے اور سازو سامان ان ڈھول بجانے والوں کو بخش دیتے ہیں۔
معارج الولایت کے مصنّف نے آپ کا سن وفات ۴۲۴ھ لکھا ہے تذکرۃ الشہدا اور دوسرے تذکرہ نویس اسی تاریخ کو درست مانتے ہیں مگر صاحب سفینۃ الاولیا نے آپ کا سن وفات ۴۲۹ھ تحریر کیا ہے میرے خیال میں صاحب سفینۃ الاولیا کی تاریخ درست نہیں ہے۔
شاہ سالار سیّد مسعود
سالِ تولید ادست مطلع نور ۴۰۵
غازی دین احمد مختار
صاحب قدر گفتہ ام اے یار ۴۰۵
عقل تاریخ نقلِ آں سرور
سیّدالشہدا مُردمسعود ۴۲۴ھ ۴۲۴ھ
گفت محبوب سید سالار
ولی مہدی شہید سلطان عزیز مسعود ۴۲۴ ۴۲۴
(خزینۃ الاصفیاء)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-salar-masood-ghazi
انا لِلہٖ وَاِنَّا اِلَیْہ رَاجِعُون ط
دہلی کے سلطان محمد تغلق بادشاہ بہڑانچ پہنچے میر مسعود غازی کے مدفن کی زیارت کی اور روضہ منورہ مطاہرہ کی زیارت سے آنکھوں کو روشن کیا مجاروں کو ہزاروں روپیہ نقد نذرانہ پیش کیا ایک جاگیر عطاء کی۔ اور روضہ مبارک کی تعمیر نو کرائی۔
حضرت میر مسعود غازی کی شہادت کے بعد آپ سے بہت سی کرامات اور خوارق ظاہر ہوئے ان کرامات کو لکھنے بیٹھیں تودفتروں کے دفتر بھر جائیں بہت سی مخلوق آپ کی کرامات کی قائل ہے ہر سال عرس کے موقعہ پر ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند بڑے بڑے جھنڈے اٹھائے ہندوستان کے گوشے گوشے سے جمع ہوتے ہیں جو لوگ عرس پر پہنچنے سے قاصر ہوتے ہیں وہ اپنے اپنے شہروں اور قصبوں میں حضرت مسعود غازی کے علم تیار کرکے آپ کی یادوں کو تازہ کرتے ہیں۔
صاحب اخبار الاخیار لکھتے ہیں۔ علمبرداروں کی یہ بدعت پہلے موجود نہ تھی حضرت مسعود غازی کی شہادت کے چار سو (۴۰۰) سال بعد یہ رسم نکلی نویں (۹) صدی ہجری میں ہندوستان کا ایک راجہ جس کے اولاد نہیں تھی حضرت سالار کے مقبرے پر حاضر ہوا اور نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے اولاد دے گا تو میں ایک ریشمی جھنڈا جس پر موتی جھڑے ہوں گے حضرت کے دروازے پر چڑاؤں گا اللہ کی مہربانی سے اسی سال اس راجہ کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا اس نے اپنی نذر کو پورا کرنے کے لیے ایک بہت بڑا ریشمی جھنڈا تیار کرایا اور حضرت کے روضہ عالیہ پر نصب کیا اس دن سے اس بدعت کو رواج ملا اب جس شخص کے ہاں اولاد نہ ہوتی نذر مانتا اور جھنڈا لےکر آتا ہوتے ہوتے دہلی اور لاہور تک کے شہروں میں سے ہزاروں علم جانے لگے۔ ڈھول بجانے والے جو اپنے آپ کو حضرت سالار کے مزار کے حقدار قرار دیتے ہیں علم کے آگے ڈھول بجاتے ہوئے اور نذریں اکٹھی کرتے ہوئے روانہ ہوتے ہیں اس علم برداری اور دف بازی میں بڑی بڑی چابکدستی کا مظاہرہ کرتے اور منزل بمنزل پھرتے پھرتے روضہ اقدس پر پہنچتے ہیں جو لوگ حضرت کے روضہ پر نہیں پہنچ سکتے وہ سارے جھنڈے نذرانے اور سازو سامان ان ڈھول بجانے والوں کو بخش دیتے ہیں۔
معارج الولایت کے مصنّف نے آپ کا سن وفات ۴۲۴ھ لکھا ہے تذکرۃ الشہدا اور دوسرے تذکرہ نویس اسی تاریخ کو درست مانتے ہیں مگر صاحب سفینۃ الاولیا نے آپ کا سن وفات ۴۲۹ھ تحریر کیا ہے میرے خیال میں صاحب سفینۃ الاولیا کی تاریخ درست نہیں ہے۔
شاہ سالار سیّد مسعود
سالِ تولید ادست مطلع نور ۴۰۵
غازی دین احمد مختار
صاحب قدر گفتہ ام اے یار ۴۰۵
عقل تاریخ نقلِ آں سرور
سیّدالشہدا مُردمسعود ۴۲۴ھ ۴۲۴ھ
گفت محبوب سید سالار
ولی مہدی شہید سلطان عزیز مسعود ۴۲۴ ۴۲۴
(خزینۃ الاصفیاء)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-salar-masood-ghazi
www.scholars.pk
Hazrat Syed Salar Masood Ghazi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا
نام و نسب:
کنیت: ام الحکم ـ ابتدائی نام: برہ تھا، رسولِ اکرم ﷺ نے تبدیل کرکے زینب رکھدیا ۔
سلسلسۂ نسب اس طرح ہے:
زینب بنتِ جحش بن رباب بن یعمر بن صبیرہ بن مرہ بن کثیر بن غنم بن دَودان بن اسد بن خزیمہ بن مدرکہ ۔والدہ کا نام: امیمہ بنتِ عبد المطلب۔یہ رسولِ اکرم ﷺ کی پھوپھی تھیں۔اس طرح حضرت زینب رضی اللہ عنہا آپﷺ کی پھوپھی زاد ہوئیں۔
ابتدائی زندگی:
حضرت زینب کا پہلا نکاح حضور ﷺ کے منہ بولے بیٹے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ہوا جو ﷺ کے آزاد کردہ غلام اورمتبنیٰ (گود لیئے ہوئےلے پالک، بیٹے)تھے۔ دونوں کے تعلقات خوشگوار نہ رہ سکے تو حضرت زید نے حضور ﷺ سے ان کو طلاق دینے کی اجازت مانگی۔ آپ ﷺ نے ان کو نباہ کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن جب تعلقات اور زیادہ ناخوشگوار ہونے لگے تو حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق دے دی۔
شرفِ ام المؤمنین:
جب زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو طلاق دے دی تو چونکہ عرب میں اس وقت تک متبنیٰ کو اصلی اولاد تصور کیا جاتا تھا۔ اس لئے آپ تامل فرماتے رہے،لیکن چونکہ یہ جاہلیت کی رسم تھی اس کا مٹانا مقصود تھاتو اللہ تعالیٰ نے درجِ ذیل آیت قرآنی نازل فرما کر آپ ﷺ کو حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنے کا حکم دیا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اِذْ تَقُوۡلُ لِلَّذِیۡۤ اَنْعَمَ اللہُ عَلَیۡہِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیۡہِ اَمْسِکْ عَلَیۡکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللہَ وَتُخْفِیۡ فِیۡ نَفْسِکَ مَا اللہُ مُبْدِیۡہِ وَ تَخْشَی النَّاسَ ۚ وَ اللہُ اَحَقُّ اَنۡ تَخْشٰىہُ ؕ فَلَمَّا قَضٰیزَیۡدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَہَا لِکَیۡ لَا یَکُوۡنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ حَرَجٌ فِیۡۤ اَزْوٰجِ اَدْعِیَآئِہِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَرًا ؕ وَکَانَ اَمْرُ اللہِ مَفْعُوۡلًا ﴿۳۷﴾
ترجمۂ کنز الایمان:
اور اے محبوب یاد کرو جب تم فرماتے تھے اس سے جسے اللّٰہ نے نعمت دی اور تم نے اسے نعمت دی کہ اپنی بی بی اپنے پاس رہنے دے اور اللہ سے ڈر اور تم اپنے دل میں رکھتے تھے وہ جسے اللّٰہ کو ظاہر کرنا منظور تھا اور تمہیں لوگوں کے طعنےکا اندیشہ تھا اور اللہ زیادہ سزاوار ہے کہ اس کا خوف رکھو پھر جب زید کی غرض اس سے نکل گئی تو ہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں کی بیبیوں میں جب ان سے ان کا کام ختم ہوجائے اور اللہ کا حکم ہوکر رہنا ہے۔(سورۃ الاحزاب:37)
اس آیت کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سےماہِ ذیقعد،5/ھ میں نکاح کر لیا۔ آپ کے دعوت ولیمہ میں حجاب کی آیات نازل ہوئیں۔
فضائل و خصائل:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سے روایت ہے: کہ ام المؤمنین حضرت زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنھا بعد از نکاح ،ازواجِ رسول ﷺ پر فخر کیا کرتی تھیں،اور فرماتی تھیں :کہ تمہارے نکاح تو تمہارے متولیوں نے پڑھائےہیں،لیکن میرانکاح خود خدائے ذوالجلال نے عرشِ مجید پر سر انجام دیا ہے،اور حضور نبیِ کریم ﷺ نے میر ے ولیمے پر روٹی اور گوشت کھلایا تھا۔ حضرت زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنھا بڑی عبادت گزار اورکریم النفس تھیں،آپ ہنر مند تھیں ،اس لئے جو کچھ کماتی تھیں اللہ کی راہ میں صرف کردیتی تھیں،اسی طرح بیت المال سے جو کچھ آتا تھا وہ بھی غربا میں تقسیم کردیا کرتی تھیں ۔
اس نکاح پر کفارِ مکہ نے بڑی حاشیہ آرائی اور غوغا کیا کہ محمد ﷺنے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرکے حرام کو حلال کرلیا ہے،لیکن قرآن نے"مَاکَانَ مُحَمَّدٌاَبَااَحَدٌ مِّن رِّجَالِکُم" کہہ کر دشمنوں کے منہ پر ایک چپت رسید کردی،اور صاف صاف فرمادیا،"اُدعُوھُم لِاٰبَاءِھِم ھُوَاَقسَطُ عِندَ اللہِ" اس کے بعد زید بن محمد ،زید بن حارثہ ہو گئے ۔
نام و نسب:
کنیت: ام الحکم ـ ابتدائی نام: برہ تھا، رسولِ اکرم ﷺ نے تبدیل کرکے زینب رکھدیا ۔
سلسلسۂ نسب اس طرح ہے:
زینب بنتِ جحش بن رباب بن یعمر بن صبیرہ بن مرہ بن کثیر بن غنم بن دَودان بن اسد بن خزیمہ بن مدرکہ ۔والدہ کا نام: امیمہ بنتِ عبد المطلب۔یہ رسولِ اکرم ﷺ کی پھوپھی تھیں۔اس طرح حضرت زینب رضی اللہ عنہا آپﷺ کی پھوپھی زاد ہوئیں۔
ابتدائی زندگی:
حضرت زینب کا پہلا نکاح حضور ﷺ کے منہ بولے بیٹے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ہوا جو ﷺ کے آزاد کردہ غلام اورمتبنیٰ (گود لیئے ہوئےلے پالک، بیٹے)تھے۔ دونوں کے تعلقات خوشگوار نہ رہ سکے تو حضرت زید نے حضور ﷺ سے ان کو طلاق دینے کی اجازت مانگی۔ آپ ﷺ نے ان کو نباہ کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن جب تعلقات اور زیادہ ناخوشگوار ہونے لگے تو حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق دے دی۔
شرفِ ام المؤمنین:
جب زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو طلاق دے دی تو چونکہ عرب میں اس وقت تک متبنیٰ کو اصلی اولاد تصور کیا جاتا تھا۔ اس لئے آپ تامل فرماتے رہے،لیکن چونکہ یہ جاہلیت کی رسم تھی اس کا مٹانا مقصود تھاتو اللہ تعالیٰ نے درجِ ذیل آیت قرآنی نازل فرما کر آپ ﷺ کو حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنے کا حکم دیا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اِذْ تَقُوۡلُ لِلَّذِیۡۤ اَنْعَمَ اللہُ عَلَیۡہِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیۡہِ اَمْسِکْ عَلَیۡکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللہَ وَتُخْفِیۡ فِیۡ نَفْسِکَ مَا اللہُ مُبْدِیۡہِ وَ تَخْشَی النَّاسَ ۚ وَ اللہُ اَحَقُّ اَنۡ تَخْشٰىہُ ؕ فَلَمَّا قَضٰیزَیۡدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَہَا لِکَیۡ لَا یَکُوۡنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ حَرَجٌ فِیۡۤ اَزْوٰجِ اَدْعِیَآئِہِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَرًا ؕ وَکَانَ اَمْرُ اللہِ مَفْعُوۡلًا ﴿۳۷﴾
ترجمۂ کنز الایمان:
اور اے محبوب یاد کرو جب تم فرماتے تھے اس سے جسے اللّٰہ نے نعمت دی اور تم نے اسے نعمت دی کہ اپنی بی بی اپنے پاس رہنے دے اور اللہ سے ڈر اور تم اپنے دل میں رکھتے تھے وہ جسے اللّٰہ کو ظاہر کرنا منظور تھا اور تمہیں لوگوں کے طعنےکا اندیشہ تھا اور اللہ زیادہ سزاوار ہے کہ اس کا خوف رکھو پھر جب زید کی غرض اس سے نکل گئی تو ہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں کی بیبیوں میں جب ان سے ان کا کام ختم ہوجائے اور اللہ کا حکم ہوکر رہنا ہے۔(سورۃ الاحزاب:37)
اس آیت کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سےماہِ ذیقعد،5/ھ میں نکاح کر لیا۔ آپ کے دعوت ولیمہ میں حجاب کی آیات نازل ہوئیں۔
فضائل و خصائل:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سے روایت ہے: کہ ام المؤمنین حضرت زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنھا بعد از نکاح ،ازواجِ رسول ﷺ پر فخر کیا کرتی تھیں،اور فرماتی تھیں :کہ تمہارے نکاح تو تمہارے متولیوں نے پڑھائےہیں،لیکن میرانکاح خود خدائے ذوالجلال نے عرشِ مجید پر سر انجام دیا ہے،اور حضور نبیِ کریم ﷺ نے میر ے ولیمے پر روٹی اور گوشت کھلایا تھا۔ حضرت زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنھا بڑی عبادت گزار اورکریم النفس تھیں،آپ ہنر مند تھیں ،اس لئے جو کچھ کماتی تھیں اللہ کی راہ میں صرف کردیتی تھیں،اسی طرح بیت المال سے جو کچھ آتا تھا وہ بھی غربا میں تقسیم کردیا کرتی تھیں ۔
اس نکاح پر کفارِ مکہ نے بڑی حاشیہ آرائی اور غوغا کیا کہ محمد ﷺنے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرکے حرام کو حلال کرلیا ہے،لیکن قرآن نے"مَاکَانَ مُحَمَّدٌاَبَااَحَدٌ مِّن رِّجَالِکُم" کہہ کر دشمنوں کے منہ پر ایک چپت رسید کردی،اور صاف صاف فرمادیا،"اُدعُوھُم لِاٰبَاءِھِم ھُوَاَقسَطُ عِندَ اللہِ" اس کے بعد زید بن محمد ،زید بن حارثہ ہو گئے ۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے: کہ حضورِاکرمﷺ نے فرمایا :کہ میری وفات کے بعد تم میں سے سب سے پہلے وہ خاتون مجھ سے آملے گی جس کے ہاتھ لمبے ہونگے،اس لئے ہم باہم ہاتھوں کی لمبائی ناپا کرتی تھیں(کہ کون سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کریگی)(ہاتھ لمبے مراد سخاوت تھی) جب ام المؤمنین حضرت زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنھا کا انتقال ہو اتو پھر ہمیں معلوم ہوا کہ اس سے رسول اللہ ﷺ کی مراد سخاوت و فیاضی تھی ۔لیکن چونکہ زینب بکثرت انفاق فی سبیل اللہ کیا کرتی اس لئے ہاتھ اسی کے لمبے تھے،اور پھر فرماتی ہیں کہ میں نے کوئی خاتون اتنی کریم النفس،متقی اور راستگو زندگی بھر نہیں دیکھی۔
رسول ِ کریم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:کہ میں نے زینب سے بڑھ کر (عورتوں میں) کسی کو خضوع خشوع کرنے والا نہیں دیکھا۔ آپ کی دو بیوہ بھابھیاں بھی ازواجِ مطہرات میں سے تھیں۔ (ام المؤمنین ام حبیبہ جو عبید اللہ بن جحش کی بیوہ تھیں اور ام المؤمنین زینب بنت خزیمہ جو عبد اللہ بن جحش کی بیوہ تھیں) ـ
وصال:
آپکا انتقال حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت 20 ہجری میں ہوا ۔اس وقت آپ کی عمر 53 برس تھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جنازہ پڑھایا۔ اسامہ بن زید، محمد بن عبد اللہ بن حجش اور عبداللہ بن ابو احمد بن جحش نے انہیں قبر میں اتارا یہ پہلی خاتون ہیں، جن کے لئے تابوت تیار کیا گیا، اور آپ جنت البقیع میں آرام فرما ہیں۔
https://scholars.pk/ur/scholar/wife-of-holy-prophet-muhammad-hazrat-zainab-bint-jahsh
رسول ِ کریم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:کہ میں نے زینب سے بڑھ کر (عورتوں میں) کسی کو خضوع خشوع کرنے والا نہیں دیکھا۔ آپ کی دو بیوہ بھابھیاں بھی ازواجِ مطہرات میں سے تھیں۔ (ام المؤمنین ام حبیبہ جو عبید اللہ بن جحش کی بیوہ تھیں اور ام المؤمنین زینب بنت خزیمہ جو عبد اللہ بن جحش کی بیوہ تھیں) ـ
وصال:
آپکا انتقال حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت 20 ہجری میں ہوا ۔اس وقت آپ کی عمر 53 برس تھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جنازہ پڑھایا۔ اسامہ بن زید، محمد بن عبد اللہ بن حجش اور عبداللہ بن ابو احمد بن جحش نے انہیں قبر میں اتارا یہ پہلی خاتون ہیں، جن کے لئے تابوت تیار کیا گیا، اور آپ جنت البقیع میں آرام فرما ہیں۔
https://scholars.pk/ur/scholar/wife-of-holy-prophet-muhammad-hazrat-zainab-bint-jahsh
scholars.pk
Wife of Holy Prophet Muhamamd Hazrat Zainab Bint Jahsh
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-07-1445 ᴴ | 25-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-07-1445 ᴴ | 26-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1