شیخ علی بن داؤد قہقاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
علی بن داؤدن بن یحییٰ بن حیان بن عبد الملک قحقازی: نجم الدین لقب اور ابو الحسن کنیت تھی ۔ امام فاضل، فقیہ محدث، اصولی، نحوی، شیخ اہلِ دمشق تھے ۔
بڑے بڑے علماء و فضلاء سے علم اخذ کیا چنانچہ فقہ شمس حریری اور اصول بدر بن جماعہ سے اخذ کیا اور حدیث کو نجم شقرادی سے سنا ۔ نحو علاء بن مطرزی اور عربی محمد تونسی سے پڑھی اور سوا کتاب مناسک حج اور کچھ نظم و نثر کے آپ نے تصنیف اس واسطے نہ کی کہ لوگ مصنفین پر عیب پکڑتے ہیں پس کیا ضرورت ہے کہ اپنے آپ کو نشانہ بنایا جاوے ـ
ولادت:
جمادی الاولیٰ ۶۶۸ھ میں پیدا ہوئے ـ
وصال:
¹⁴ رجب ۷۴۵ھ کو وفات پائی ۔
’’ بحر سعادت ‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ali-bin-dawood
علی بن داؤدن بن یحییٰ بن حیان بن عبد الملک قحقازی: نجم الدین لقب اور ابو الحسن کنیت تھی ۔ امام فاضل، فقیہ محدث، اصولی، نحوی، شیخ اہلِ دمشق تھے ۔
بڑے بڑے علماء و فضلاء سے علم اخذ کیا چنانچہ فقہ شمس حریری اور اصول بدر بن جماعہ سے اخذ کیا اور حدیث کو نجم شقرادی سے سنا ۔ نحو علاء بن مطرزی اور عربی محمد تونسی سے پڑھی اور سوا کتاب مناسک حج اور کچھ نظم و نثر کے آپ نے تصنیف اس واسطے نہ کی کہ لوگ مصنفین پر عیب پکڑتے ہیں پس کیا ضرورت ہے کہ اپنے آپ کو نشانہ بنایا جاوے ـ
ولادت:
جمادی الاولیٰ ۶۶۸ھ میں پیدا ہوئے ـ
وصال:
¹⁴ رجب ۷۴۵ھ کو وفات پائی ۔
’’ بحر سعادت ‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ali-bin-dawood
❤1
حضرت فاضلِ شہیر مولانا الحاج محمد عبد الرشید جھنگوی، جھنگ علیہ الرحمہ
استاذ العلماء حضرت مولانا ابو الضیاء محمد عبدالرشید بن مولانا حکیم قطب الدین ابن مولوی احمد بخش ۱۳ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۸ھ / ۳ فروری ۱۹۲۰ء میں چک ۲۳۳ ضلع جھنگ کے ایک عظیم علمی گھرانے میں تولد ہوئے ۔
آپ کے والد ماجد حضرت مولانا علامہ محمد قطب الدین قدس سرہ (م۵ ربیع الثانی ۱۳۷۹ھ / ۲۹ اکتوبر ۱۹۵۹ء) بہت بڑے مناظر، منفرد انشاء پرداز، صاحبِ قلم اور کامل طبیب تھے ۔ آپ نے اپنی ساری زندگی دینِ اسلام اور مسلکِ اہل سنّت و جماعت کے تحفظ اور اشاعتِ دین میں بسر کی ۔ [۱]
[۱۔ عبدالحکیم شرف قادری، مولانا: تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت، ص۴۰۱ تا ۴۰۴]
تعلیم و تربیت:
چونکہ حضرت مولانا عبد الرشید مدظلہ کے والد ماجد خود ایک جلیل فاضل تھے، اس لیے آپ نے ابتدائی کتب درسِ نظامی کافیہ تک اپنے والد محترم قدس سرہ کے پاس پڑھیں ۔ ایک سال مدسہ ریاض الاسلام (جھنگ) میں مولانا غلام فرید قریشی سے اکتسابِ فیض کیا ۔ علاوہ ازیں جامعہ محمدیہ جھنگ اور اوچھالہ تحصیل خوشاب (ضلع سرگودھا) میں بھی حضرت مولانا احمد شاہ اور حضرت مولانا قطب الدین (آپ کے والد نہیں) سے بھی پڑھتے رہے ۔
کتب احادیث کا درس لینے کے لیے بریلی شریف حاضر ہوئے اور محدثِ اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سرار احمد قدس سرہ سے دورۂ حدیث کرنے کے بعد ۱۹۴۵ء میں سندِ فراغت و دستارِ فضیلت حاصل کی ۔
تدریس:
آپ نے فراغت پاتے ہی تدریسی زندگی کا آغاز فرمایا، چودہ سال تک دار العلوم نقشبندیہ جماعتیہ علی پور شریف (ضلع سیالکوٹ) میں پڑھاتے رہے ۔ ایک سال ۱۹۵۸ء کو جامعہ رضویہ فیصل آباد میں حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی موجودگی میں صدر مدرس کی حیثیت سے تدریسی فرائض سر انجام دیے ۔
۱۹۵۹ء میں آپ کے والد ماجد حضرت مولانا محمد قطب الدین جھنگوی کا انتقال ہوگیا، جس کی بناء پر آپ کو گھر آنا پڑا۔ جنوری ۱۹۶۰ء میں آپ نے اپنے والد مکرم کی طرف نسبت کرتے ہوئے جامعہ قطبیہ رضویہ کے نام سے ایک دارالعلوم قائم کیا اور اس کا انتظام و انصرام (اور تدریس بھی) اپنے ذمہ لیا ۔
۱۹۷۲ء سے آپ سنی رضوی جامع مسجد فیصل آباد میں خطابت کے فرائض اسر انجام دے رہے ہیں ۔
اہلِ باطل سے مناظرے کی قوت آپ کو اللہ تعالیٰ نے وراثتاً عطا فرمائی ہے، چنانچہ آپ نے شیعہ مکتبۂ فکر کے بہت بڑے مناظر اسماعیل کے تلمیذ تاج حیدری کو موضع سو ہادہ میں مسئلہ خلافت پر مناظرہ کرکے شکست دی ۔
اسی طرح اسماعیل کے دیگر شاگردوں سے جامعہ رضویہ میں مسئلہ ماتم پر مناطرہ ہوا اور آپ نے دندان شکن جواب دے کر ان کو مبہوت کیا ۔
آپ نے روافض کے ردّ میں کچھ مضامین بھی تحریر کیے جو ابھی تک مسودہ کی شکل میں ہیں اور زیورِ طبع سے آراستہ نہیں ہو سکے ۔
آپ ۱۹۴۶ء میں حج بیت اللہ شریف اور زیارت روضۂ رسول علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے مشرف ہوئے ۔
بیعت:
آپ کو حضرت محدثِ اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رحمہ اللہ سے شرف بیعت حاصل ہے ۔
چند مشہور تلامذہ:
آپ کے چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:
۱۔ مولانا محمد شریف، ڈسکہ
۲۔ مولانا ابوداؤد محمد صادق، گوجرانوالہ
۳۔ صوفی محمد بخش، مدرس جامعہ رضویہ فیصل آباد
۴۔ مولانا اللہ بخش اویسی، کراچی
۵۔ مولانا غلام سیرانی، رحیم یار خان
۶۔ مولانا محمد عجیب، جھنگ صدر
اولاد:
آپ کے تین صاحبزادے (صاحبزادہ ضیاء المصطفےٰ، صاحبزادہ عطاء المصطفےٰ اور صاحبزادہ انوار المصطفےٰ) اور پانچ صاحبزادیاں ہیں۔ ان میں سے دو صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں قرآن پاک کی حافظ ہیں ۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء ـ
[۱۔ یہ تمام کوائف ۱۸ جولائی ۱۹۷۷ء کو عرس محدثِ اعظم پاکستان رحمہ اللہ کے موقع پر مولانا محمد فاضل صمدانی، متعلم جامعہ رضویہ فیصل آباد کے ذریعے حاصل ہوئے ۔ (مرتب) ]
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-rasheed-jhangvi
استاذ العلماء حضرت مولانا ابو الضیاء محمد عبدالرشید بن مولانا حکیم قطب الدین ابن مولوی احمد بخش ۱۳ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۸ھ / ۳ فروری ۱۹۲۰ء میں چک ۲۳۳ ضلع جھنگ کے ایک عظیم علمی گھرانے میں تولد ہوئے ۔
آپ کے والد ماجد حضرت مولانا علامہ محمد قطب الدین قدس سرہ (م۵ ربیع الثانی ۱۳۷۹ھ / ۲۹ اکتوبر ۱۹۵۹ء) بہت بڑے مناظر، منفرد انشاء پرداز، صاحبِ قلم اور کامل طبیب تھے ۔ آپ نے اپنی ساری زندگی دینِ اسلام اور مسلکِ اہل سنّت و جماعت کے تحفظ اور اشاعتِ دین میں بسر کی ۔ [۱]
[۱۔ عبدالحکیم شرف قادری، مولانا: تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت، ص۴۰۱ تا ۴۰۴]
تعلیم و تربیت:
چونکہ حضرت مولانا عبد الرشید مدظلہ کے والد ماجد خود ایک جلیل فاضل تھے، اس لیے آپ نے ابتدائی کتب درسِ نظامی کافیہ تک اپنے والد محترم قدس سرہ کے پاس پڑھیں ۔ ایک سال مدسہ ریاض الاسلام (جھنگ) میں مولانا غلام فرید قریشی سے اکتسابِ فیض کیا ۔ علاوہ ازیں جامعہ محمدیہ جھنگ اور اوچھالہ تحصیل خوشاب (ضلع سرگودھا) میں بھی حضرت مولانا احمد شاہ اور حضرت مولانا قطب الدین (آپ کے والد نہیں) سے بھی پڑھتے رہے ۔
کتب احادیث کا درس لینے کے لیے بریلی شریف حاضر ہوئے اور محدثِ اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سرار احمد قدس سرہ سے دورۂ حدیث کرنے کے بعد ۱۹۴۵ء میں سندِ فراغت و دستارِ فضیلت حاصل کی ۔
تدریس:
آپ نے فراغت پاتے ہی تدریسی زندگی کا آغاز فرمایا، چودہ سال تک دار العلوم نقشبندیہ جماعتیہ علی پور شریف (ضلع سیالکوٹ) میں پڑھاتے رہے ۔ ایک سال ۱۹۵۸ء کو جامعہ رضویہ فیصل آباد میں حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی موجودگی میں صدر مدرس کی حیثیت سے تدریسی فرائض سر انجام دیے ۔
۱۹۵۹ء میں آپ کے والد ماجد حضرت مولانا محمد قطب الدین جھنگوی کا انتقال ہوگیا، جس کی بناء پر آپ کو گھر آنا پڑا۔ جنوری ۱۹۶۰ء میں آپ نے اپنے والد مکرم کی طرف نسبت کرتے ہوئے جامعہ قطبیہ رضویہ کے نام سے ایک دارالعلوم قائم کیا اور اس کا انتظام و انصرام (اور تدریس بھی) اپنے ذمہ لیا ۔
۱۹۷۲ء سے آپ سنی رضوی جامع مسجد فیصل آباد میں خطابت کے فرائض اسر انجام دے رہے ہیں ۔
اہلِ باطل سے مناظرے کی قوت آپ کو اللہ تعالیٰ نے وراثتاً عطا فرمائی ہے، چنانچہ آپ نے شیعہ مکتبۂ فکر کے بہت بڑے مناظر اسماعیل کے تلمیذ تاج حیدری کو موضع سو ہادہ میں مسئلہ خلافت پر مناظرہ کرکے شکست دی ۔
اسی طرح اسماعیل کے دیگر شاگردوں سے جامعہ رضویہ میں مسئلہ ماتم پر مناطرہ ہوا اور آپ نے دندان شکن جواب دے کر ان کو مبہوت کیا ۔
آپ نے روافض کے ردّ میں کچھ مضامین بھی تحریر کیے جو ابھی تک مسودہ کی شکل میں ہیں اور زیورِ طبع سے آراستہ نہیں ہو سکے ۔
آپ ۱۹۴۶ء میں حج بیت اللہ شریف اور زیارت روضۂ رسول علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے مشرف ہوئے ۔
بیعت:
آپ کو حضرت محدثِ اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رحمہ اللہ سے شرف بیعت حاصل ہے ۔
چند مشہور تلامذہ:
آپ کے چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:
۱۔ مولانا محمد شریف، ڈسکہ
۲۔ مولانا ابوداؤد محمد صادق، گوجرانوالہ
۳۔ صوفی محمد بخش، مدرس جامعہ رضویہ فیصل آباد
۴۔ مولانا اللہ بخش اویسی، کراچی
۵۔ مولانا غلام سیرانی، رحیم یار خان
۶۔ مولانا محمد عجیب، جھنگ صدر
اولاد:
آپ کے تین صاحبزادے (صاحبزادہ ضیاء المصطفےٰ، صاحبزادہ عطاء المصطفےٰ اور صاحبزادہ انوار المصطفےٰ) اور پانچ صاحبزادیاں ہیں۔ ان میں سے دو صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں قرآن پاک کی حافظ ہیں ۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء ـ
[۱۔ یہ تمام کوائف ۱۸ جولائی ۱۹۷۷ء کو عرس محدثِ اعظم پاکستان رحمہ اللہ کے موقع پر مولانا محمد فاضل صمدانی، متعلم جامعہ رضویہ فیصل آباد کے ذریعے حاصل ہوئے ۔ (مرتب) ]
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-rasheed-jhangvi
❤1
حضرت مولانا خواجہ محمد یار فریدی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: محمد یار ۔ تخلص: محمد اور بلبل ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا خواجہ محمد یار فریدی بن مولانا عبد الکریم بن محمد یار بن محمد حسن بن محمد کبیر بن قاضی محمد محسن بن قاضی ابو العلی محمد یعقوب بن محمد یوسف بن ولی محمد ۔الیٰ آخرہ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت زید بن عون بن مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے واسطے سے خاندان بنی ہاشم تک پہنچتا ہے ۔ آپ کا خاندانی تعلق "قطب شاہی اعوان" سے ہے ۔ (بہار چشت، ص:161) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1300ھ / مطابق 1883ء کو "گڑھی اختیار خان" ضلع رحیم یار خان میں مولانا عبد الکریم کے گھر ہوئی ۔
تحصیل علم:
ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی، اس کے بعد جلال پور میں قرآن مجید، اور فارسی کی ابتدائی چند کتابیں پڑھیں، ابتدائی اساتذہ میں مولانا رحمت اللہ، مولانا محمد حیات اور مولانا تاج محمود شامل تھے ۔ اس کے بعد چاچڑاں شریف میں حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کے مدرسے میں داخل ہوئے، اور علوم دینیہ کی تحصیل کی اور 19سال کی عمر میں سند فراغت حاصل کرلی ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کے دست اقدس پر بیعت ہوئے ۔ حضرت خواجہ صاحب کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت خواجہ محمد بخش المعروف نازک کریم کی خدمت میں رہ کر دس سال تک کسبِ فیض کیا اور ان کے وصال کے بعد ایک زمانہ تک ان کے صاحبزادے حضرت خواجہ محمد معین الدین رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں رہے اور اجازت و خلافت سے مشرف ہوکر اپنے وطن گڑھی اختیار خاں چلے گئے اور علوم و معارف کے دریا بہا دئے ۔
سیرت و خصائص:
سفیر عشقِ مصطفیٰﷺ، عاشقِ خیر الوریٰ، صاحبِ علم الہدیٰ، واعظِ خوش مقال، یادگار اسلاف، پرورۂ نگاہِ حضرت خواجہ معین، فیض یافتہ حضرت خواجہ غلام فرید، حافظِ مثنوی مولائے روم، محسن اہلسنت، حضرت علامہ مولانا خواجہ محمد یار فریدی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ تمام علوم پر مہارت تامہ حاصل تھی، لیکن آپ کو مدحتِ مصطفیٰ ﷺ، اور فن خطابت میں جو شہرت و مقام حاصل ہوا وہ آپ ہی کا خاصہ ہے ۔ پنجاب میں بالعموم اور پورے ہندوستان میں بالخصوص آپ کے مواعظِ حسنہ کی دھوم مچی ہوئی تھی ۔ اس وقت کوئی بھی بڑا پروگرام آپ کی شرکت کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا تھا ۔
ایک مرتبہ تو بریلی شریف میں امام اہلسنت کی موجودگی میں بیان فرمایا، ابھی خطبہ ہی شروع کیا تھا کہ امام اہل سنت نے اٹھ کر آپ کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈالا اور فرمایا: "سرِ آمد واعظینِ پنجاب" ۔ (بہارِ چشت، ص:187) ـ
پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی فرماتے ہیں: ملک کے ہزارہا قصبات میں سے ایک گڑھی اختیار خان ہے، مگر اس قصبے کو ایک لا زوال شہرت حاصل ہے کہ اس کی آغوش میں اپنے دور کا ایک جادو بیان خطیب، درد و سوز کا سفیر، اسلاف کی روایات کا امین، بستانِ فرید کا بلبل، روشن ضمیر صوفی، عشق و محبت کا پیکر، مثنوی مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کے خاموش الفاظ کو نطق آشنا کرنے والا شیریں مقال واعظ، اور مٹی و ریت کے ذروں میں عشق کا بارود بھر دینے والا مردِ قلندر آسودہ ہے جس کی لحد، زیارت گاہ اہل کیف و مستی کا درجہ رکھتی ہے ۔
اس گمنام قصبے کی ساری بہاریں اس ایک شخص کے تصور سے ہیں جو عمر بھر درد کی دولت تقسیم کرتا رہا جو لوگوں میں ذوق ابھارتا رہا، جو عشق کا درس دیتا رہاجو اپنے سوز میں ہر ایک کو شریک کرتا رہا اور جو اپنے ساز زندگی پر حسن کے نغمے ترتیب دیتا رہا اور ان نغموں سے دل کے اتاروں میں اب تک تھر تھراہٹ ہے، اگرچہ حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کے متعدد نمایاں پہلو ہیں، ایک صوفی بزرگ، پختہ کار شاعر، روش خیال عالم دین، یہ سب ان کی طر حدار شخصیت کی جھلکیاں ہیں مگر میرے نزدیک ان کا سحر البیان خطیب ہونا بہت ممتاز اور روشن تعارف اور ان کی حکایت میں تصوف شعر و سخن کی چاشنی اور علم کا وقار سبھی موجود ہے ۔ (ایضاً)
نام و نسب:
اسم گرامی: محمد یار ۔ تخلص: محمد اور بلبل ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا خواجہ محمد یار فریدی بن مولانا عبد الکریم بن محمد یار بن محمد حسن بن محمد کبیر بن قاضی محمد محسن بن قاضی ابو العلی محمد یعقوب بن محمد یوسف بن ولی محمد ۔الیٰ آخرہ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت زید بن عون بن مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے واسطے سے خاندان بنی ہاشم تک پہنچتا ہے ۔ آپ کا خاندانی تعلق "قطب شاہی اعوان" سے ہے ۔ (بہار چشت، ص:161) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1300ھ / مطابق 1883ء کو "گڑھی اختیار خان" ضلع رحیم یار خان میں مولانا عبد الکریم کے گھر ہوئی ۔
تحصیل علم:
ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی، اس کے بعد جلال پور میں قرآن مجید، اور فارسی کی ابتدائی چند کتابیں پڑھیں، ابتدائی اساتذہ میں مولانا رحمت اللہ، مولانا محمد حیات اور مولانا تاج محمود شامل تھے ۔ اس کے بعد چاچڑاں شریف میں حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کے مدرسے میں داخل ہوئے، اور علوم دینیہ کی تحصیل کی اور 19سال کی عمر میں سند فراغت حاصل کرلی ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کے دست اقدس پر بیعت ہوئے ۔ حضرت خواجہ صاحب کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت خواجہ محمد بخش المعروف نازک کریم کی خدمت میں رہ کر دس سال تک کسبِ فیض کیا اور ان کے وصال کے بعد ایک زمانہ تک ان کے صاحبزادے حضرت خواجہ محمد معین الدین رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں رہے اور اجازت و خلافت سے مشرف ہوکر اپنے وطن گڑھی اختیار خاں چلے گئے اور علوم و معارف کے دریا بہا دئے ۔
سیرت و خصائص:
سفیر عشقِ مصطفیٰﷺ، عاشقِ خیر الوریٰ، صاحبِ علم الہدیٰ، واعظِ خوش مقال، یادگار اسلاف، پرورۂ نگاہِ حضرت خواجہ معین، فیض یافتہ حضرت خواجہ غلام فرید، حافظِ مثنوی مولائے روم، محسن اہلسنت، حضرت علامہ مولانا خواجہ محمد یار فریدی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ تمام علوم پر مہارت تامہ حاصل تھی، لیکن آپ کو مدحتِ مصطفیٰ ﷺ، اور فن خطابت میں جو شہرت و مقام حاصل ہوا وہ آپ ہی کا خاصہ ہے ۔ پنجاب میں بالعموم اور پورے ہندوستان میں بالخصوص آپ کے مواعظِ حسنہ کی دھوم مچی ہوئی تھی ۔ اس وقت کوئی بھی بڑا پروگرام آپ کی شرکت کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا تھا ۔
ایک مرتبہ تو بریلی شریف میں امام اہلسنت کی موجودگی میں بیان فرمایا، ابھی خطبہ ہی شروع کیا تھا کہ امام اہل سنت نے اٹھ کر آپ کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈالا اور فرمایا: "سرِ آمد واعظینِ پنجاب" ۔ (بہارِ چشت، ص:187) ـ
پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی فرماتے ہیں: ملک کے ہزارہا قصبات میں سے ایک گڑھی اختیار خان ہے، مگر اس قصبے کو ایک لا زوال شہرت حاصل ہے کہ اس کی آغوش میں اپنے دور کا ایک جادو بیان خطیب، درد و سوز کا سفیر، اسلاف کی روایات کا امین، بستانِ فرید کا بلبل، روشن ضمیر صوفی، عشق و محبت کا پیکر، مثنوی مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کے خاموش الفاظ کو نطق آشنا کرنے والا شیریں مقال واعظ، اور مٹی و ریت کے ذروں میں عشق کا بارود بھر دینے والا مردِ قلندر آسودہ ہے جس کی لحد، زیارت گاہ اہل کیف و مستی کا درجہ رکھتی ہے ۔
اس گمنام قصبے کی ساری بہاریں اس ایک شخص کے تصور سے ہیں جو عمر بھر درد کی دولت تقسیم کرتا رہا جو لوگوں میں ذوق ابھارتا رہا، جو عشق کا درس دیتا رہاجو اپنے سوز میں ہر ایک کو شریک کرتا رہا اور جو اپنے ساز زندگی پر حسن کے نغمے ترتیب دیتا رہا اور ان نغموں سے دل کے اتاروں میں اب تک تھر تھراہٹ ہے، اگرچہ حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کے متعدد نمایاں پہلو ہیں، ایک صوفی بزرگ، پختہ کار شاعر، روش خیال عالم دین، یہ سب ان کی طر حدار شخصیت کی جھلکیاں ہیں مگر میرے نزدیک ان کا سحر البیان خطیب ہونا بہت ممتاز اور روشن تعارف اور ان کی حکایت میں تصوف شعر و سخن کی چاشنی اور علم کا وقار سبھی موجود ہے ۔ (ایضاً)
❤1
حصول علم کے بعد تبلیغ دین اور فروغِ حبّ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا مشن بنایا اور ریاست بہالپور میں دھوم مچادی، آپ اپنی تقریروں میں قرآن مجید اور احادیث رسول ﷺ کی تلاوت اس خوش الحانی سے کرتے کہ پوری محفل پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی، اپنی سحر آفرین تقریروں میں مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ اور خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ کے فارسی اور سرائیکی اشاعر کا بر محل استعمال اس قدر شیریں لسانی سے کرتے کہ خطاب دو آتشہ ہو جاتا، آہستہ آہستہ آپ پنجاب اور بر صغیر کے کونے کونے میں پہنچے اور اپنی وجد آفریں تقریروں سے لوگوں کو گرمایا اور تڑپا دیا ۔
لاہور، اجمیر، امر تسر، دہلی اور دیگر مقامات پر بزرگان دین کے اعراس اور دینی محفلوں میں آپ کا خطاب خصوصی توجہ اور اشتیاق سے سنا جاتا اور سامعین مہینوں اس کی لذت اور حلاوت محسوس کرتے تھے ۔ عشقِ مصطفیٰ ﷺ ان کا اوڑھنا بچھونا اور مقصد حیات تھا، یہی وجہ ہے کہ ایک جہاں ان کی خوش الحانی جادو بیانی اور گرمی گفتار کا معترف اور گواہ ہے ۔ آپ کا اصل تعارف تاجدارِ مدینہ سرور کائنات ﷺ کی سچی محبت ہے اور پھر ساری زندگی عشق مصطفیٰ ﷺ کی سوغات تقسیم کرتے رہے ۔
مولانا سید فاروق القادری فرماتے ہیں: "سرور عالم ﷺ کی محبت کا نتیجہ بھی یہی تھا کہ ان پاکیزہ اوصاف اور احکام کی تبلیغ و ترویج کی جائے جن پر آپ ﷺ فائز تھے، اس حیثیت سے ہم دیکھتے ہیں تو خواجہ محمد یار رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی اسوۂ رسول ﷺ کی تصویر تھی آپ کا بیشتر وقت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی قیل و قال میں گزرتا، آپ نے زندگی ایک عام فرد کی حیثیت سے بسر کی عام آدمیوں کے دکھ درد میں شریک ہونا سب لوگوں کو حتی الامکان راضی رکھنے کی کوشش کرنا اپنے لیے امتیازی علامت قائم نہ کرنا اہل بیت اور مشائخ کے خانوادوں کے سامنے اپنی ہستی کو مٹا دینا، اپنی دوستی دشمنی میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو معیار بنانا آپ کی ایسی خصوصیات ہیں جنہیں محبت رسول ﷺ کے بغیر نہیں اپنایا جا سکتا ۔ (بحوالہ حضرت خواجہ محمد یار اور عشق رسول ﷺ) ـ
ڈاکٹر الطاف حسین جہانیاں، حضرت خواجہ محمد یار رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کی خصوصیات بیان کرتے ہیں: آپ بڑے قادر الکلام شاعر تھے، آپ کے کلام میں سادگی، مقامی رنگ، وعظ و نصیحت، درد و غم، سوز و گداز، تغزل، ترنم و موسیقیت مضمون آفرینی، نازک خیالی اور جدت ادا نمایاں طور پر نظر آتی ہے ۔ آپ کی ساری شاعری تصوف، وحدۃ الوجود، نعتِ حبیب ﷺ مدح صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور منقت اولیائے کرام پر مشتمل ہے ۔ (بہار چشت، بحوالہ حضرت خواجہ محمد یار فریدی شخصیت و کلام) ـ
وصال:
آپ کا وصال 1948ء کو لاہور میں ہوا ۔ اس وقت حالات کے پیش نظر حضرت میاں میر علیہ الرحمہ کے آستانہ عالیہ کی دیوارکے ساتھ بیرونی جانب امانتاً دفن کیا گیا، تقریباً چھ ماہ بعد آپ کو "گڑھی اختیار خان" میں موجودہ روضہ مبارک سے متصل جگہ میں سپرد خاک کیا گیا ۔ 14 سال بعد موجودہ مزار مبارک میں منتقل کیا گیا ۔ جب قبر کشائی ہوئی تو دیکھنے والے حیرت میں تھے کہ اتنا عرصہ بیت گیا، خاک نشینی کا دَورَانِیہ اتنا طویل کہ انسانی جسم کا خاک ہو جانا حقیقت، مگر یہاں کیا ہوا؟ نہ قلیل عرصہ اور نہ کثیر دورانیہ اثر انداز ہوا، یہ اس بات کا اعلان تھا کہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں فنا در اصل بقا کی ضمانت ہے ۔
؏:زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں ان کےنام پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا
حیرت بالائے حیرت تو یہ ہے کہ صاحبِ مزار کو پہلے سے ہی یقین تھا کہ ایسا ہی ہوگا ۔ اس لئے آپ نے پہلے فرما دیا تھا ـ
؏:وہ خاکسار ہوں برہم میرا مزار رہا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 14 رجب المرجب 1367ھ / مطابق 24 مئی 1948ء ،بروز پیر کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف "گڑھی اختیار خان" تحصیل خان پور، ضلع رحیم یار خان، پنجاب ،پاکستان میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔ بہار چشت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-muhammad-yaar-fareedi
لاہور، اجمیر، امر تسر، دہلی اور دیگر مقامات پر بزرگان دین کے اعراس اور دینی محفلوں میں آپ کا خطاب خصوصی توجہ اور اشتیاق سے سنا جاتا اور سامعین مہینوں اس کی لذت اور حلاوت محسوس کرتے تھے ۔ عشقِ مصطفیٰ ﷺ ان کا اوڑھنا بچھونا اور مقصد حیات تھا، یہی وجہ ہے کہ ایک جہاں ان کی خوش الحانی جادو بیانی اور گرمی گفتار کا معترف اور گواہ ہے ۔ آپ کا اصل تعارف تاجدارِ مدینہ سرور کائنات ﷺ کی سچی محبت ہے اور پھر ساری زندگی عشق مصطفیٰ ﷺ کی سوغات تقسیم کرتے رہے ۔
مولانا سید فاروق القادری فرماتے ہیں: "سرور عالم ﷺ کی محبت کا نتیجہ بھی یہی تھا کہ ان پاکیزہ اوصاف اور احکام کی تبلیغ و ترویج کی جائے جن پر آپ ﷺ فائز تھے، اس حیثیت سے ہم دیکھتے ہیں تو خواجہ محمد یار رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی اسوۂ رسول ﷺ کی تصویر تھی آپ کا بیشتر وقت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی قیل و قال میں گزرتا، آپ نے زندگی ایک عام فرد کی حیثیت سے بسر کی عام آدمیوں کے دکھ درد میں شریک ہونا سب لوگوں کو حتی الامکان راضی رکھنے کی کوشش کرنا اپنے لیے امتیازی علامت قائم نہ کرنا اہل بیت اور مشائخ کے خانوادوں کے سامنے اپنی ہستی کو مٹا دینا، اپنی دوستی دشمنی میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو معیار بنانا آپ کی ایسی خصوصیات ہیں جنہیں محبت رسول ﷺ کے بغیر نہیں اپنایا جا سکتا ۔ (بحوالہ حضرت خواجہ محمد یار اور عشق رسول ﷺ) ـ
ڈاکٹر الطاف حسین جہانیاں، حضرت خواجہ محمد یار رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کی خصوصیات بیان کرتے ہیں: آپ بڑے قادر الکلام شاعر تھے، آپ کے کلام میں سادگی، مقامی رنگ، وعظ و نصیحت، درد و غم، سوز و گداز، تغزل، ترنم و موسیقیت مضمون آفرینی، نازک خیالی اور جدت ادا نمایاں طور پر نظر آتی ہے ۔ آپ کی ساری شاعری تصوف، وحدۃ الوجود، نعتِ حبیب ﷺ مدح صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور منقت اولیائے کرام پر مشتمل ہے ۔ (بہار چشت، بحوالہ حضرت خواجہ محمد یار فریدی شخصیت و کلام) ـ
وصال:
آپ کا وصال 1948ء کو لاہور میں ہوا ۔ اس وقت حالات کے پیش نظر حضرت میاں میر علیہ الرحمہ کے آستانہ عالیہ کی دیوارکے ساتھ بیرونی جانب امانتاً دفن کیا گیا، تقریباً چھ ماہ بعد آپ کو "گڑھی اختیار خان" میں موجودہ روضہ مبارک سے متصل جگہ میں سپرد خاک کیا گیا ۔ 14 سال بعد موجودہ مزار مبارک میں منتقل کیا گیا ۔ جب قبر کشائی ہوئی تو دیکھنے والے حیرت میں تھے کہ اتنا عرصہ بیت گیا، خاک نشینی کا دَورَانِیہ اتنا طویل کہ انسانی جسم کا خاک ہو جانا حقیقت، مگر یہاں کیا ہوا؟ نہ قلیل عرصہ اور نہ کثیر دورانیہ اثر انداز ہوا، یہ اس بات کا اعلان تھا کہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں فنا در اصل بقا کی ضمانت ہے ۔
؏:زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں ان کےنام پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا
حیرت بالائے حیرت تو یہ ہے کہ صاحبِ مزار کو پہلے سے ہی یقین تھا کہ ایسا ہی ہوگا ۔ اس لئے آپ نے پہلے فرما دیا تھا ـ
؏:وہ خاکسار ہوں برہم میرا مزار رہا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 14 رجب المرجب 1367ھ / مطابق 24 مئی 1948ء ،بروز پیر کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف "گڑھی اختیار خان" تحصیل خان پور، ضلع رحیم یار خان، پنجاب ،پاکستان میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔ بہار چشت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-muhammad-yaar-fareedi
scholars.pk
Hazrat Molana Muhammad Yaar Garhi Sharif
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت سید برہان الدین قطب عالم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت قطب عالم، عالم میں مشہور ہوئے۔
خاندانی حالات:
آپ مخدوم جہانیاں جہاں گشت حضرت سید جلال الدین بخاری کے پوتے ہیں ۔
نام:
آپ کا نام سید برہان الدین ہے ۔
لقب:
آپ کا لقب "قطب عالم" ہے، اسی لقب سے آپ مشہور ہوئے ۔
گجرات میں آمد:
آپ وطن سےہجرت کرکے گجرات تشریف لے گئے اور گجرات ہی کو اپنی رشد و ہدایت کا مرکز بنایا ۔
وصال:
آپ نے ۸ ذی الحجہ ۸۵۷ھ کو انتقال فرمایا ۔ ۱؎ مزار مبارک بتوہ میں ہے، جو احمد آباد کے قریب ہے ۔
سیرت:
ترک و تجرید میں یگانۂ روز گار تھے
عشق الٰہی میں سرشار تھے ۔
کرامات:
ایک دن کا واقعہ ہے کہ آپ پانی میں تشریف لے گئے، آپ کے پیروں میں کوئی چیز لگی، چوٹ کا لگنا تھا کہ آپ نے فرمایا کہ کس چیز سے چوٹ لگی، کیا یہ پتھر ہے یا لوہا ہے یا لکڑی" ۔
چنانچہ اس پتھر میں تینوں چیزیں پیدا ہو گئیں، پتھر کی صفت بھی اس میں ہے، لوہا بھی اور لکڑی بھی ۔
حواشی:
۱؎ اخبار الاخیار (اردو ترجمہ) ص:۲۳۴
(تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-syed-burhanuddin-qutb-e-alam
حضرت قطب عالم، عالم میں مشہور ہوئے۔
خاندانی حالات:
آپ مخدوم جہانیاں جہاں گشت حضرت سید جلال الدین بخاری کے پوتے ہیں ۔
نام:
آپ کا نام سید برہان الدین ہے ۔
لقب:
آپ کا لقب "قطب عالم" ہے، اسی لقب سے آپ مشہور ہوئے ۔
گجرات میں آمد:
آپ وطن سےہجرت کرکے گجرات تشریف لے گئے اور گجرات ہی کو اپنی رشد و ہدایت کا مرکز بنایا ۔
وصال:
آپ نے ۸ ذی الحجہ ۸۵۷ھ کو انتقال فرمایا ۔ ۱؎ مزار مبارک بتوہ میں ہے، جو احمد آباد کے قریب ہے ۔
سیرت:
ترک و تجرید میں یگانۂ روز گار تھے
عشق الٰہی میں سرشار تھے ۔
کرامات:
ایک دن کا واقعہ ہے کہ آپ پانی میں تشریف لے گئے، آپ کے پیروں میں کوئی چیز لگی، چوٹ کا لگنا تھا کہ آپ نے فرمایا کہ کس چیز سے چوٹ لگی، کیا یہ پتھر ہے یا لوہا ہے یا لکڑی" ۔
چنانچہ اس پتھر میں تینوں چیزیں پیدا ہو گئیں، پتھر کی صفت بھی اس میں ہے، لوہا بھی اور لکڑی بھی ۔
حواشی:
۱؎ اخبار الاخیار (اردو ترجمہ) ص:۲۳۴
(تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-syed-burhanuddin-qutb-e-alam
scholars.pk
Hazrat Sheikh Syed Burhanuddin Qutb e Alam
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
معین الدین حسن چشتی اجمیری، سلطان الہند، خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالی عنہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید محمد حسن ـ کنیت: معین الدین، لقب: سلطان الہند ، خواجہ غریب نواز، عطائے رسول، نائب النبی فی الہند معروف ہیں ۔ آپ نجیب الطرفین سید ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
خواجہ معین الدین بن سید غیاث الدین حسن سنجری بن کمال الدین سید احمد حسن بن سید نجم الدین طاہر بن سید عبدالعزیز بن سید ابراہیم بن امام علی رضا بن امام موسی کاظم بن امام جعفر صاد بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن علی المرتضی۔(علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ 14 رجب ۵۳۰ھ / بمطابق ۱۱۳۵ء میں بمقام "سنجر" (ایران) سید غیاث الدین کے گھر پیدا ہوئے ۔ آپ کی نشو و نما "خراسان" میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر ہوئی ۔ مزید حصولِ علم کیلئے "سمرقند" اور "بخارا" کی طرف سفر کیا کیونکہ ان ایام میں یہی بلاد علوم و فنون کے مراکز تھے ۔حفظ القرآن، اور چند ابتدائی علوم و فنون کی کتب مولانا شرف الدین علیہ الرحمہ سے پڑھیں ۔ جمیع علومِ نقلیہ و عقلیہ کی تکمیل مولانا حسام الدین بخاری علیہ الرحمہ ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
شیخ الاسلام حضرت خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ سے ۵۵۸ ھ میں بیعت و خلافت حاصل ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
حضرت سلطان الہند محسن ہند ہیں ۔ بر صغیر میں اسلام کی دلکش بہاریں آپ کی دعوت و تبلیغ اور رشد و ہدایت کا نتیجہ ہیں۔آپ کے خلفاء و متوسلین خاکِ ہند کے جس خطے پر پہنچے، اسلام کا بول بالا ہوتا چلا گیا ۔ نورِ ہدایت پھیلتا چلا گیا اور کفر کا اندھیرا چھٹتا چلا گیا ۔ آپ کی کرامت آثار نگاہِ فیض سے بِالکل پہلی بار دہلی اور اجمیر کے ایوانوں میں مسلمانوں کی حکومت کا پرچم لہرایا ۔
سیر الاولیاء کے مصنف سید
کرمانی (م ۷۷۰ھ) رقم طراز ہیں:
اس آفتاب (خواجہ) کے طلوع ہونے سے قبل پورے ہندستان میں کفر و بت پرستی کا رواج تھا اور ہند کا ہر سر کش "انار بکم الاعلٰی" کا دعوی کرتا تھا، اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا شریک کہتا تھا، وہ پتھر، ڈھیلے، گھر، درخت، چوپایوں اور گائے اور ان کے گوبر کو سجدہ کرتے تھے ۔ اور کفر کی تاریکی سے ان کے دلوں کے تالے اور بھی مضبوط ہو رہے تھے ۔ اہل یقین کے اس آفتاب کے مبارک قدموں کی برکت سے جو در حقیقت معین الدین تھے، اس ملک کی تاریکی اسلام کے نور سے جگمگا اٹھی ۔ [سیر الاولیاء ص ۴۷] ـ
آپ کی نگاہِ ولایت جس شخص پر پڑتی دل کی دنیا بدل جاتی، رہزن آتا ر ہبر بن جاتا ، قاتل آتا محافظ بن جاتا، سرکش آتا غلام بن جاتا، کافر آتا مسلمان بن جاتا، فاسق آتا متقی بن جاتا، دشمن آتا حاشیہ بردار بن جاتا، جادوگر آتا تائب ہوکر عاملِ قرآن بن جاتا۔رسالہ "احوال پیران ِچشت" میں ہے:
‘‘نظر شیخ معین الدین بر فاسق کہ افتادے در زمان تائب شدے ، باز دگر معصیت نہ کردے’’یعنی حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی نگاہ جس فاسق پر پڑجاتی اسی وقت توبہ کرلیتا اور پھر گناہ کے قریب نہ بھٹکتا ۔
برادرِ اعلی حضرت ، اُستاذ زمن
علامہ حسن رضا بریلوی فرماتے ہیں:
؎ خفتگانِ شب ِغفلت کوجگا دیتا ہے
سالہا سال وہ راتوں کو نہ سونا تیرا
حضرت سلطان الہند نے ہندوستان میں بلا شبہ کفر شکن تحریک برپا کی تھی ۔ جو کام ہزاروں تلواریں نہیں کرسکیں، وہ ایک عارف باللہ کی خاموش اور اخلاقی تحریک نے کر دِکھایا ۔آپ کی کوششوں سے ہندوستان " دار الاسلام " بن گیا ۔
وصال:
سلطان الہند کا وصال پر ملال 6 رجب المرجب۶۳۳ ھ / بمطابق ۱۲۲۹ء میں ہوا ۔
وقتِ وصال آپ کی مقدس پیشانی پر یہ نقشِ جمیل ظاہر ہوا: ھذا حبیب اللہ مات فی حب اللہ ۔ [اخبارالا خیار، ص،۶۶] ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزارِ مبارک، اجمیر شریف (انڈیا) میں منبع فیوض و برکات ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-moinuddin-chishti-ajmeri
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید محمد حسن ـ کنیت: معین الدین، لقب: سلطان الہند ، خواجہ غریب نواز، عطائے رسول، نائب النبی فی الہند معروف ہیں ۔ آپ نجیب الطرفین سید ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
خواجہ معین الدین بن سید غیاث الدین حسن سنجری بن کمال الدین سید احمد حسن بن سید نجم الدین طاہر بن سید عبدالعزیز بن سید ابراہیم بن امام علی رضا بن امام موسی کاظم بن امام جعفر صاد بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن علی المرتضی۔(علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ 14 رجب ۵۳۰ھ / بمطابق ۱۱۳۵ء میں بمقام "سنجر" (ایران) سید غیاث الدین کے گھر پیدا ہوئے ۔ آپ کی نشو و نما "خراسان" میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر ہوئی ۔ مزید حصولِ علم کیلئے "سمرقند" اور "بخارا" کی طرف سفر کیا کیونکہ ان ایام میں یہی بلاد علوم و فنون کے مراکز تھے ۔حفظ القرآن، اور چند ابتدائی علوم و فنون کی کتب مولانا شرف الدین علیہ الرحمہ سے پڑھیں ۔ جمیع علومِ نقلیہ و عقلیہ کی تکمیل مولانا حسام الدین بخاری علیہ الرحمہ ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
شیخ الاسلام حضرت خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ سے ۵۵۸ ھ میں بیعت و خلافت حاصل ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
حضرت سلطان الہند محسن ہند ہیں ۔ بر صغیر میں اسلام کی دلکش بہاریں آپ کی دعوت و تبلیغ اور رشد و ہدایت کا نتیجہ ہیں۔آپ کے خلفاء و متوسلین خاکِ ہند کے جس خطے پر پہنچے، اسلام کا بول بالا ہوتا چلا گیا ۔ نورِ ہدایت پھیلتا چلا گیا اور کفر کا اندھیرا چھٹتا چلا گیا ۔ آپ کی کرامت آثار نگاہِ فیض سے بِالکل پہلی بار دہلی اور اجمیر کے ایوانوں میں مسلمانوں کی حکومت کا پرچم لہرایا ۔
سیر الاولیاء کے مصنف سید
کرمانی (م ۷۷۰ھ) رقم طراز ہیں:
اس آفتاب (خواجہ) کے طلوع ہونے سے قبل پورے ہندستان میں کفر و بت پرستی کا رواج تھا اور ہند کا ہر سر کش "انار بکم الاعلٰی" کا دعوی کرتا تھا، اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا شریک کہتا تھا، وہ پتھر، ڈھیلے، گھر، درخت، چوپایوں اور گائے اور ان کے گوبر کو سجدہ کرتے تھے ۔ اور کفر کی تاریکی سے ان کے دلوں کے تالے اور بھی مضبوط ہو رہے تھے ۔ اہل یقین کے اس آفتاب کے مبارک قدموں کی برکت سے جو در حقیقت معین الدین تھے، اس ملک کی تاریکی اسلام کے نور سے جگمگا اٹھی ۔ [سیر الاولیاء ص ۴۷] ـ
آپ کی نگاہِ ولایت جس شخص پر پڑتی دل کی دنیا بدل جاتی، رہزن آتا ر ہبر بن جاتا ، قاتل آتا محافظ بن جاتا، سرکش آتا غلام بن جاتا، کافر آتا مسلمان بن جاتا، فاسق آتا متقی بن جاتا، دشمن آتا حاشیہ بردار بن جاتا، جادوگر آتا تائب ہوکر عاملِ قرآن بن جاتا۔رسالہ "احوال پیران ِچشت" میں ہے:
‘‘نظر شیخ معین الدین بر فاسق کہ افتادے در زمان تائب شدے ، باز دگر معصیت نہ کردے’’یعنی حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی نگاہ جس فاسق پر پڑجاتی اسی وقت توبہ کرلیتا اور پھر گناہ کے قریب نہ بھٹکتا ۔
برادرِ اعلی حضرت ، اُستاذ زمن
علامہ حسن رضا بریلوی فرماتے ہیں:
؎ خفتگانِ شب ِغفلت کوجگا دیتا ہے
سالہا سال وہ راتوں کو نہ سونا تیرا
حضرت سلطان الہند نے ہندوستان میں بلا شبہ کفر شکن تحریک برپا کی تھی ۔ جو کام ہزاروں تلواریں نہیں کرسکیں، وہ ایک عارف باللہ کی خاموش اور اخلاقی تحریک نے کر دِکھایا ۔آپ کی کوششوں سے ہندوستان " دار الاسلام " بن گیا ۔
وصال:
سلطان الہند کا وصال پر ملال 6 رجب المرجب۶۳۳ ھ / بمطابق ۱۲۲۹ء میں ہوا ۔
وقتِ وصال آپ کی مقدس پیشانی پر یہ نقشِ جمیل ظاہر ہوا: ھذا حبیب اللہ مات فی حب اللہ ۔ [اخبارالا خیار، ص،۶۶] ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزارِ مبارک، اجمیر شریف (انڈیا) میں منبع فیوض و برکات ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-moinuddin-chishti-ajmeri
scholars.pk
Hazrat Khawaja Moinuddin Chishti Ajmeri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت سید سالار مسعود غازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ علوی سادات عظام میں سے تھے۔ حضرت محمد حنیفہ بن علی کرم اللہ وجہہ کی نسبت سے سلسلۂ نسب حضورنبی کریمﷺ سے ملتا ہے۔ آپ کے والد میر ساہوبن عطاء اللہ علوی تھا آپ کی والدہ ماجدہ سترمعّٰلی سلطان محمود سبکتگین غزنوی کی بیٹی تھیں۔ آپ کا اسم مبارک میر مسعود تھا۔ دہلی کے نواح میں آپ کا نام پیر پلہم مشہور تھا۔ دیار خراسان میں رجب سالار سے مشہور تھے بعض مقامات پر میاں غازی اور میاں بالی کے ناموں سے پکارے جاتے تھے۔ بالا پیر اور تہیلا پیر آپ کا ہی لقب تھا۔ آپ کا لقب مبارک سلطان الشہید اور سید الشہید تھا۔ اہل تصوف کا اس بات پر اتفاق ہے۔ کہ آپ کی شہادت کے بعد بھی جو بھی شہادت کے رتبہ پر فائز ہوا۔ تو آپ کی اتباع میں شہید ہوا۔
آپ خواجہ محمد چشتی اور ابو یوسف چشتی کے ہمعصر تھے بعض کتابوں میں آپ کو خواجہ حسن سنجری خواجہ بزرگ معین الدین اجمیری کا ہم عصر لکھا ہے۔ اور آپ کے خادموں میں شمار کیا ہے ہمارے نزدیک اس بات میں سچائی نظر نہیں آتی مرأۃ سکندری میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت خواجہ مسعود غازی کو مادرزاد ولی پیدا فرمایا تھا۔ ظاہری معاملات دنیام میں مصروف ہونے کے باوجود احوال باطنی میں مشغول رہتے تھے۔
معارج الولائیت کے مصنف لکھتے ہیں۔ کہ جب مظفر خان حَاکمِ ہر مزار حوادثِ روزگار کی وجہ سے پریشان ہوا۔ تو اجمیر کے قلعہ میں فرد کش ہوا۔ ہندوستان کے زمین دار چاہتے تھے کہ مظفر خان کو اس قلعہ سے باہر نکال دیا جائے۔ اس نے محمود غزنوی کو پیغام بھیجا کہ اس کی امداد کے لیے آئے۔ سلطان محمود غزنوی ۹ ذوالحجہ ۴۰۱ھ نے اپنے میر ساہو سپہ سالار علوی کو ایک لشکر جرار دے کر قندھار سے روانہ کیا۔ کہ وہ مظفر خان کی امداد کو پہنچے۔ میر ساہو اجمیر میں پہنچا۔ تو اس وقت مظفر خان سے مل کر اپنے دشمنوں سے جنگ میں مصروف ہوگئے۔ فتح یاب ہوکر اجمیر کے گرد و نواح کے علاقوں پر قابض ہوچکا تھا امن و امان قائم ہونے پر آپ نے اپنی بیوی ستر معلی کو غزنی سے اجمیر بلالیا۔ چنانچہ میر سعود غازی اجمیر میں ہی بتاریخ ۲۱ رجب المرجب ۴۰۵ھ کو پیدا ہوئے۔ سن شعور کوپہنچے کمالات ظاہری اور باطنی سے آراستہ ہوئے۔
حضرت سلطان محمود غزنوی بذات خود ۴۰۷ھ میں فتوح متوجہ ہوئے، تو راستہ میں دامنِ کوۂِ کشمیر میں قیام کیا۔ اور قلعہ گلچند کو فتح کیا۔ اور کاہلر میں اپنا نائب مقرر کرکے واپس غزنی چلے گئے۔ وادئ کشمیر کے زمینداروں نے چڑھائی کرکے قلعہ گلچند کے محافظوں اور کاہلر کو قتل کردیا۔ چنانچہ محمود غزنوی نے پھر اپنے سپہ سالار میر ساہو علوی کو حکم دیا۔ کہ وہ اجمیر سے نکل کر حکومت کاہلر کے انتظامات کو درست کریں۔
آپ اجمیر کی بجائے کاہلر میں قیام پذیر ہوگئے۔ کچھ عرصہ بعد محمود غزنوی نے سومنات کے حملہ کی تیاری شروع کی۔ اس زمانہ میں حضرت میر مسعود غازی ایک ابھرتے ہوئے نوجوان تھے۔ میر ساہو نے اپنے اس نوجوان بیٹے کو کئی ہزار نوجوانوں کی سر کردگی میں سلطان مہم میں شرکت کرنے کے لیے بھیجا۔ آپ نے اس مہم میں بڑی جرأت کا مظاہرہ کیا۔ محمود غزنوی اس نوخیز نوجوان کے حسنِ انتظام سے بے حد متاثر ہوا۔ سومنات فتح ہوا۔ سومنات کے بت کو محمود غزنوی نے اپنے ساتھ اٹھالیا تاکہ اس کے بعد ہندوؤں کو اس بت پرستی سے محروم کردیا جائے۔ محمود غزنوی نے اس بت کو مسجد غزنی کے سامنے پھینک دیا۔ اس لشکر میں میر مسعود غازی اپنی فوج کے ساتھ غزنی میں آئے تھے۔ ہندوستان کے کافروں کے پیغام رساں محمود غزنوی کے وزیر اعلیٰ خواجہ حسن مہمندی کی خدمت میں حاضر ہوکر درخواست گذار ہوئے کہ سلطان غزنوی کو آمادہ کریں کہ وہ ہمارے اس معبد بت کو اس طرح ذلیل نہ کرے اور اسے عبادت کے لیے ہمیں لوٹادے۔ ہم اس بت کے وزن کے برابر خالص سونا دینے کو تیار ہیں۔ خواجہ حسن مہمندی اس خطیر معاوضے پر راضی ہوگئے۔ اور سلطان محمود کی خدمت میں گذارش لے کر اندر گئے۔ اتفاق سے حضرت میر مسعود غازی بھی دربار میں موجود تھے۔ آپ جرأت سے اٹھے اور فرمانے لگے۔ کیا وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن آذر کوبت تراش پکارا جائے اور محمود غزنوی کو بت فروش کہا جائے؟ آج تک سارے ہندوستان میں اور عالمِ اسلام میں سلطان محمود کی شہرت ’’بُت شکن‘‘ ہے پھر لوگ سلطان بت فروش کہہ کر پکاریں گے۔ وزیراعظم کی یہ سکیم تو پوری نہ ہوئی مگر اس نوجوان کی تقریر سے وزیراعظم کبیدہ خاطر ہوگیا۔ اور اس کی دلی خواہش تھی۔ کہ اسے کسی طرح اپنے انتقام کا نشانہ بنایا جائے۔
سلطان محمود اس صورت حال سے واقف تھا۔ ایک دن مہمندی کی دل جوئی کے لیے سلطان نے خواجہ مسعود سالار کو علیحدہ طلب فرمایا اور مسعود غازی کو مشورہ دیا۔ کہ آپ والدین کاہلر میں تمہارے منتظر ہیں تم وہاں پہنچو اور کچھ عرصہ کے لیے آرام کرو شکار کھیلو جب کسی مہم کی ضرورت پڑی تمہیں بلالیا جائے گا چند دن بعد اپنے سپہ سالار افواج مہکائیل کو اپنا وزیراعظم مقرر کردیا۔ اور کہا مجھے خواجہ حسن بہت پسند ہیں مگر بت فروشی کا تصور ذہن میں
آپ علوی سادات عظام میں سے تھے۔ حضرت محمد حنیفہ بن علی کرم اللہ وجہہ کی نسبت سے سلسلۂ نسب حضورنبی کریمﷺ سے ملتا ہے۔ آپ کے والد میر ساہوبن عطاء اللہ علوی تھا آپ کی والدہ ماجدہ سترمعّٰلی سلطان محمود سبکتگین غزنوی کی بیٹی تھیں۔ آپ کا اسم مبارک میر مسعود تھا۔ دہلی کے نواح میں آپ کا نام پیر پلہم مشہور تھا۔ دیار خراسان میں رجب سالار سے مشہور تھے بعض مقامات پر میاں غازی اور میاں بالی کے ناموں سے پکارے جاتے تھے۔ بالا پیر اور تہیلا پیر آپ کا ہی لقب تھا۔ آپ کا لقب مبارک سلطان الشہید اور سید الشہید تھا۔ اہل تصوف کا اس بات پر اتفاق ہے۔ کہ آپ کی شہادت کے بعد بھی جو بھی شہادت کے رتبہ پر فائز ہوا۔ تو آپ کی اتباع میں شہید ہوا۔
آپ خواجہ محمد چشتی اور ابو یوسف چشتی کے ہمعصر تھے بعض کتابوں میں آپ کو خواجہ حسن سنجری خواجہ بزرگ معین الدین اجمیری کا ہم عصر لکھا ہے۔ اور آپ کے خادموں میں شمار کیا ہے ہمارے نزدیک اس بات میں سچائی نظر نہیں آتی مرأۃ سکندری میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت خواجہ مسعود غازی کو مادرزاد ولی پیدا فرمایا تھا۔ ظاہری معاملات دنیام میں مصروف ہونے کے باوجود احوال باطنی میں مشغول رہتے تھے۔
معارج الولائیت کے مصنف لکھتے ہیں۔ کہ جب مظفر خان حَاکمِ ہر مزار حوادثِ روزگار کی وجہ سے پریشان ہوا۔ تو اجمیر کے قلعہ میں فرد کش ہوا۔ ہندوستان کے زمین دار چاہتے تھے کہ مظفر خان کو اس قلعہ سے باہر نکال دیا جائے۔ اس نے محمود غزنوی کو پیغام بھیجا کہ اس کی امداد کے لیے آئے۔ سلطان محمود غزنوی ۹ ذوالحجہ ۴۰۱ھ نے اپنے میر ساہو سپہ سالار علوی کو ایک لشکر جرار دے کر قندھار سے روانہ کیا۔ کہ وہ مظفر خان کی امداد کو پہنچے۔ میر ساہو اجمیر میں پہنچا۔ تو اس وقت مظفر خان سے مل کر اپنے دشمنوں سے جنگ میں مصروف ہوگئے۔ فتح یاب ہوکر اجمیر کے گرد و نواح کے علاقوں پر قابض ہوچکا تھا امن و امان قائم ہونے پر آپ نے اپنی بیوی ستر معلی کو غزنی سے اجمیر بلالیا۔ چنانچہ میر سعود غازی اجمیر میں ہی بتاریخ ۲۱ رجب المرجب ۴۰۵ھ کو پیدا ہوئے۔ سن شعور کوپہنچے کمالات ظاہری اور باطنی سے آراستہ ہوئے۔
حضرت سلطان محمود غزنوی بذات خود ۴۰۷ھ میں فتوح متوجہ ہوئے، تو راستہ میں دامنِ کوۂِ کشمیر میں قیام کیا۔ اور قلعہ گلچند کو فتح کیا۔ اور کاہلر میں اپنا نائب مقرر کرکے واپس غزنی چلے گئے۔ وادئ کشمیر کے زمینداروں نے چڑھائی کرکے قلعہ گلچند کے محافظوں اور کاہلر کو قتل کردیا۔ چنانچہ محمود غزنوی نے پھر اپنے سپہ سالار میر ساہو علوی کو حکم دیا۔ کہ وہ اجمیر سے نکل کر حکومت کاہلر کے انتظامات کو درست کریں۔
آپ اجمیر کی بجائے کاہلر میں قیام پذیر ہوگئے۔ کچھ عرصہ بعد محمود غزنوی نے سومنات کے حملہ کی تیاری شروع کی۔ اس زمانہ میں حضرت میر مسعود غازی ایک ابھرتے ہوئے نوجوان تھے۔ میر ساہو نے اپنے اس نوجوان بیٹے کو کئی ہزار نوجوانوں کی سر کردگی میں سلطان مہم میں شرکت کرنے کے لیے بھیجا۔ آپ نے اس مہم میں بڑی جرأت کا مظاہرہ کیا۔ محمود غزنوی اس نوخیز نوجوان کے حسنِ انتظام سے بے حد متاثر ہوا۔ سومنات فتح ہوا۔ سومنات کے بت کو محمود غزنوی نے اپنے ساتھ اٹھالیا تاکہ اس کے بعد ہندوؤں کو اس بت پرستی سے محروم کردیا جائے۔ محمود غزنوی نے اس بت کو مسجد غزنی کے سامنے پھینک دیا۔ اس لشکر میں میر مسعود غازی اپنی فوج کے ساتھ غزنی میں آئے تھے۔ ہندوستان کے کافروں کے پیغام رساں محمود غزنوی کے وزیر اعلیٰ خواجہ حسن مہمندی کی خدمت میں حاضر ہوکر درخواست گذار ہوئے کہ سلطان غزنوی کو آمادہ کریں کہ وہ ہمارے اس معبد بت کو اس طرح ذلیل نہ کرے اور اسے عبادت کے لیے ہمیں لوٹادے۔ ہم اس بت کے وزن کے برابر خالص سونا دینے کو تیار ہیں۔ خواجہ حسن مہمندی اس خطیر معاوضے پر راضی ہوگئے۔ اور سلطان محمود کی خدمت میں گذارش لے کر اندر گئے۔ اتفاق سے حضرت میر مسعود غازی بھی دربار میں موجود تھے۔ آپ جرأت سے اٹھے اور فرمانے لگے۔ کیا وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن آذر کوبت تراش پکارا جائے اور محمود غزنوی کو بت فروش کہا جائے؟ آج تک سارے ہندوستان میں اور عالمِ اسلام میں سلطان محمود کی شہرت ’’بُت شکن‘‘ ہے پھر لوگ سلطان بت فروش کہہ کر پکاریں گے۔ وزیراعظم کی یہ سکیم تو پوری نہ ہوئی مگر اس نوجوان کی تقریر سے وزیراعظم کبیدہ خاطر ہوگیا۔ اور اس کی دلی خواہش تھی۔ کہ اسے کسی طرح اپنے انتقام کا نشانہ بنایا جائے۔
سلطان محمود اس صورت حال سے واقف تھا۔ ایک دن مہمندی کی دل جوئی کے لیے سلطان نے خواجہ مسعود سالار کو علیحدہ طلب فرمایا اور مسعود غازی کو مشورہ دیا۔ کہ آپ والدین کاہلر میں تمہارے منتظر ہیں تم وہاں پہنچو اور کچھ عرصہ کے لیے آرام کرو شکار کھیلو جب کسی مہم کی ضرورت پڑی تمہیں بلالیا جائے گا چند دن بعد اپنے سپہ سالار افواج مہکائیل کو اپنا وزیراعظم مقرر کردیا۔ اور کہا مجھے خواجہ حسن بہت پسند ہیں مگر بت فروشی کا تصور ذہن میں
❤1👍1
انے والے سلطنت غزنویہ کے لیے مفید نہیں ہیں حضرت مسعود غازی غزنی سے روانہ ہوکر ہندوستان آئے۔ اور اپنے والدین کے پاس پہنچے۔ کچھ عرصہ کے بعد کئی ہزار لشکر کو لے کر ملتان کی شورش کو ختم کرنے کے لیے ملتان آئے وہاں سے پاک پٹن ہوتے ہوئے دہلی گئے۔ اور پھر قنوج میں قیام پذیر ہوئے۔ دریائے گنگا کے کنارے کے ایک طرف ہندوؤں کی سلطنت تھی حضرت غازی مسعود کی دلی خواہش تھی کہ ان علاقوں کو فتح کرلیا جائے اس وقت دہلی پر راجہ ہیسپال کی حکومت تھی۔ آپ نے کچھ عرصہ میں دہلی کے گرد نواح کے علاقوں کو اپنے حملوں سے صاف کردیا۔ پھر دہلی کے راجہ ہیسپال کو مقابلے کے لیے للکارا۔ راجہ بے پناہ لشکر لےکر مقابل آیا۔ ایک ماہ تک جنگ جاری رہی۔ اسی اثنا میں یہ خبر آئی۔ کہ دولت غزنویہ کے چند امرا جن میں ملک مہی بختیار۔ میر سیف الدین علوی۔ سیّد غرالدین۔ ملک دولت خان۔ میاں رجب وغیرہ جیسے معروف سپہ سالار شامل تھے۔ وزیر اعظم حسن مہمندی سے ناراض ہوکر ہندوستان آگئے اور وہ سیدھے میر مسعود کی خدمت میں آئے غازی مسعود سالار نے اس انقلاب اور امراء کے آنے کو اللہ تعالیٰ کی عنایت میں سے جانا۔ اور ان کا زبر دست استقبال کیا۔ اور بڑے اعزاز و اکرام سے اپنے لشکر میں مناسب مناصب پر مقرر کیا۔ اس دن لڑائی کا سخت ترین دن تھا۔ میر سیّد غرالدین چند نواجوانوں کے ساتھ شہید ہوگئے۔سالار مسعود غازی اپنے اشرف الملک کے ساتھ بات کررہے تھے۔ کہ راجہ ہیسپال کے لڑکے گوپال نے اپنے پر گرز سے حملہ کردیا۔ اس گرز کا وار تو خالی گیا۔ مگر آپ کی ناک زخمی ہوگئی اور دندان مبارک بھی زخمی ہوگئے۔ اشرف الملک نے یہ صورت حال دیکھی تو تلوار اٹھا کر آگے بڑھے اور گوپال کو ایک ہی وار سے وصل جہنم کردیا۔ اور پھر کفار کے لشکر پر بھروپور حملہ کردیا۔ شام سے پہلے پہلے راجہ ہیسپال بھی میدان جنگ میں مارا گیا۔ اور فتح کے بعد دہلی کے پایۂ تخت پر قبضہ کرلیا گیا۔
اس جنگ کے خاتمے پر بے پناہ مالِ غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔ حضرت میر مسعود پورے چھ ماہ دہلی میں قیام پذیر رہے وہاں کے معاملات کو ازسر نو درست فرماتے رہے اور سکہ و خطبہ بنام سلطان محمود غزنوی چلنے لگا۔ چھ ماہ کے بعد ملک بایزید کو دہلی کا گورنر مقرر فرماکر خود میرٹھ پر متوجہ ہوئے۔ میرٹھ سے زمینداروں کو اسلام کے زیر نگین کیا۔ یہ خبر سنتے ہی محمود غزنوی بڑا خوش ہوا۔ اس وقت ایک اجلاس میں خواجہ حسن مہمندی کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا۔ اور امیر جنگ میکائیل کو وزارت کا قلمدان سنبھالنے کا اعلان فرمادیا حضرت امیر مسعود میرٹھ کے علاقوں کو فتوحات کے بعد قنوج پر حلمہ آور ہوئے۔ اس علاقے کے زمینداروں نے مل کر آپ سے مقابلہ کیا۔ اس سارے علاقہ میں ان جنگلوں سے جو تباہی آئی۔ اس کے نتیجہ میں قنوج سے لے کر اودوھ تک تھوڑا سا علاقہ محفوظ اور آباد رہا۔ قنوج کی سلطنت ان دنوں راجہ جیپال کے پاس تھی۔
اسی مہم کے دوران آپ کے چچا سیّد سیف الدین کو رخصت کرکے ایک لشکر کی سربراہی میں برانچ کی طرف روانہ کیا۔ آپ کے ساتھ میر نصراللہ جو اپنی قوم کے سپہ سالار تھے آپ کی مدد کے لیے ساتھ روانہ کیا میاں رجب جو آپ کے راز دار اور کوتوال تھے کو بھی اسی لشکر کے ساتھ کہا اور ان کے لڑکے کو کوتوال بنادیا میاں رجب اس لشکر میں شریک ہوئے اور ایک معرکے میں میر سیّد سیف الدین شہید ہوگئے۔ سید میر سیف الدین کا مزار بہرانچ میں ہے اور ایک بہت بڑا گنبد آج تک قبر پر موجود ہے اس قبر مبارک پر لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اس شہر میں میر نصراللہ ایک میل کے فاصلہ پر آسودۂ خاک ہیں۔ یہ روضہ برسات کے موسم میں زیارت گاہ عوام ہوتا ہے میر مسعود غازی کی خانقاہ عالیہ سے ایک میل کے فاصلے پر میاں رجب کا مزار ہے۔ چونکہ اس قبر پر صاحب مزار کے جلالی تاثرات موجود ہیں عام لوگ وہاں جاتے ہوئے خوف کھاتے ہیں۔
ملک مہی بختیار جو حضرت مسعود غازی کے رشتہ دار بھی تھے۔ ایک لشکر جرّار لےکر اس علاقہ کی طرف بڑھے۔ فتح پر فتح کرتے ممالک شرفیہ کوز پر تصرف لے آئے۔ آپ کی فتوحات کا سلسلہ خطۂ کا نور تک جاپہنچا۔ وہاں پہنچ کر آپ نے شربت شہادت نوش کیا۔ آپ کا مزار پُر انوار خطہ کانور میں واقع ہے اس مقام سے حضرت مسعود غازی نے میر حسن عرب کو جنوب کی طرف روانہ کیا۔ وہ قصبہ مہدیہ داکاسی تک ایک بڑا لشکر لے کر پہنچے وہاں پہنچ کر انہوں نے بڑے کارنامے انجام دئیے اور لڑتے لڑتے شہادت پائی۔ اس سر زمین میں آج تک شہدا کے مقابر پائے جاتے ہیں۔
سیّد غرالدّین المعروف بہ لعل پیر ایک لشکر لے کر قصبہ گوپامو اور اس کےملحقات کی طرف بڑھے۔ اس علاقہ میں آپ نے بہت بہادرانہ جنگیں لڑیں۔ اور میدان جنگ میں شہید ہوئے۔ آپ کا مرقد گوپامو میں زیارت گاۂِ خلق بناہوا ہے ملک فضل کو ان کے اہل و عیال اور اقربا سمیت بنارس اور اس کے نواح کی طرف جانے کا حکم دیا۔ وہ بھی مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے اسی طرح ملک عمر اور طغرل کو ان کے ساتھیوں کے ساتھ میواڑہ کی طرف روانہ کردیا۔ آپ نے بھی اسی نواح شہادت پائی۔ ملک عمر اور
اس جنگ کے خاتمے پر بے پناہ مالِ غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔ حضرت میر مسعود پورے چھ ماہ دہلی میں قیام پذیر رہے وہاں کے معاملات کو ازسر نو درست فرماتے رہے اور سکہ و خطبہ بنام سلطان محمود غزنوی چلنے لگا۔ چھ ماہ کے بعد ملک بایزید کو دہلی کا گورنر مقرر فرماکر خود میرٹھ پر متوجہ ہوئے۔ میرٹھ سے زمینداروں کو اسلام کے زیر نگین کیا۔ یہ خبر سنتے ہی محمود غزنوی بڑا خوش ہوا۔ اس وقت ایک اجلاس میں خواجہ حسن مہمندی کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا۔ اور امیر جنگ میکائیل کو وزارت کا قلمدان سنبھالنے کا اعلان فرمادیا حضرت امیر مسعود میرٹھ کے علاقوں کو فتوحات کے بعد قنوج پر حلمہ آور ہوئے۔ اس علاقے کے زمینداروں نے مل کر آپ سے مقابلہ کیا۔ اس سارے علاقہ میں ان جنگلوں سے جو تباہی آئی۔ اس کے نتیجہ میں قنوج سے لے کر اودوھ تک تھوڑا سا علاقہ محفوظ اور آباد رہا۔ قنوج کی سلطنت ان دنوں راجہ جیپال کے پاس تھی۔
اسی مہم کے دوران آپ کے چچا سیّد سیف الدین کو رخصت کرکے ایک لشکر کی سربراہی میں برانچ کی طرف روانہ کیا۔ آپ کے ساتھ میر نصراللہ جو اپنی قوم کے سپہ سالار تھے آپ کی مدد کے لیے ساتھ روانہ کیا میاں رجب جو آپ کے راز دار اور کوتوال تھے کو بھی اسی لشکر کے ساتھ کہا اور ان کے لڑکے کو کوتوال بنادیا میاں رجب اس لشکر میں شریک ہوئے اور ایک معرکے میں میر سیّد سیف الدین شہید ہوگئے۔ سید میر سیف الدین کا مزار بہرانچ میں ہے اور ایک بہت بڑا گنبد آج تک قبر پر موجود ہے اس قبر مبارک پر لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اس شہر میں میر نصراللہ ایک میل کے فاصلہ پر آسودۂ خاک ہیں۔ یہ روضہ برسات کے موسم میں زیارت گاہ عوام ہوتا ہے میر مسعود غازی کی خانقاہ عالیہ سے ایک میل کے فاصلے پر میاں رجب کا مزار ہے۔ چونکہ اس قبر پر صاحب مزار کے جلالی تاثرات موجود ہیں عام لوگ وہاں جاتے ہوئے خوف کھاتے ہیں۔
ملک مہی بختیار جو حضرت مسعود غازی کے رشتہ دار بھی تھے۔ ایک لشکر جرّار لےکر اس علاقہ کی طرف بڑھے۔ فتح پر فتح کرتے ممالک شرفیہ کوز پر تصرف لے آئے۔ آپ کی فتوحات کا سلسلہ خطۂ کا نور تک جاپہنچا۔ وہاں پہنچ کر آپ نے شربت شہادت نوش کیا۔ آپ کا مزار پُر انوار خطہ کانور میں واقع ہے اس مقام سے حضرت مسعود غازی نے میر حسن عرب کو جنوب کی طرف روانہ کیا۔ وہ قصبہ مہدیہ داکاسی تک ایک بڑا لشکر لے کر پہنچے وہاں پہنچ کر انہوں نے بڑے کارنامے انجام دئیے اور لڑتے لڑتے شہادت پائی۔ اس سر زمین میں آج تک شہدا کے مقابر پائے جاتے ہیں۔
سیّد غرالدّین المعروف بہ لعل پیر ایک لشکر لے کر قصبہ گوپامو اور اس کےملحقات کی طرف بڑھے۔ اس علاقہ میں آپ نے بہت بہادرانہ جنگیں لڑیں۔ اور میدان جنگ میں شہید ہوئے۔ آپ کا مرقد گوپامو میں زیارت گاۂِ خلق بناہوا ہے ملک فضل کو ان کے اہل و عیال اور اقربا سمیت بنارس اور اس کے نواح کی طرف جانے کا حکم دیا۔ وہ بھی مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے اسی طرح ملک عمر اور طغرل کو ان کے ساتھیوں کے ساتھ میواڑہ کی طرف روانہ کردیا۔ آپ نے بھی اسی نواح شہادت پائی۔ ملک عمر اور
❤1
طغرل کے مزارات بخبور میں واقعہ ہیں خاص و عام کی زیارت گاہ نہیں انہیں حضرات میں سے میر سید قاسم بھی اسی علاقہ میں شہید ہوئے تھے۔ آپ کا مزار قصبہ مددسرائے اور کنتور کے درمیان واقع ہے۔ ان کے پہلو میں ہی ابراہیم خواص شیخ صدّد اور شیخ بدد اور دوسرے شہداء عظام آسودہ ہیں۔ ان کے دوسرے احباب شہید اور دوسرے شہدا قصبہ سد ہور میں آرام فرماہیں انہیں پیر کھوکھر بھی کہتے ہیں۔ ان اصحاب کے علاوہ نرانجی شہید اور دسوائے شہید تصرفات روحانی اور باطنی میں ممتاز مانے جاتے ہیں ان کے علاوہ حاجی شریف شہید ہیں۔ ان کا روضہ اقدس موضع انبورہ سلیکہ پر گنہ میں واقع ہے آپ کے جان نثار دوستوں میں قاضی طاہر شہید خاص طور پر قابلِ ذکر بزرگ ہیں جن کا مزار پرگنہ سدھور کے جنگل میں پایا جاتا ہے آپ کے دوسرے فدیوں میں حضرت میر سیّد عبداللہ شہید اپنے تمام شہید دوستوں سمیت قصبۂ ابنہی میں آسودہ خاک ہیں۔ اس طرح حضرت سیّد الشہید جناب مسعود غازی نے اپنے احباب کو وسط ہند کے ان جنگلی محاذوں پر داد شجاعت دینے پر لگا دیا تھا کہ انہوں نے کفار کے مقابلے میں لڑتے لڑتے قدم قدم پر قربانیاں دیں آپ اس عرصہ میں قصبہ سترگہ میں قیام پذیر ہوئے اسی اثنا میں آپ کو خبر ملی کہ آپ کی والدہ مکرمہ ستر معّٰلی کاہلر میں دفات پاگئی ہیں۔ میر ساہو علوی نے آپ کی والدہ کا جنازہ غزنی کو بھیج دیا اور خود اپنے بیٹے کو ملنے اور اسے تسلّی دینے کے لیے سترگہ تشریف لائے باپ کے آنے کی خبر سن کر سلطان الشہداء میر مسعود غازی استقبال کے لیے آگے بڑھے۔ اور والد مکرم کو نہایت اعزاز و احترام سے اپنے گھر لائے اس سال حضرت سلطان محمود غزنوی واصل بحق ہوئے آپ کو غزنین کے باغ فیروزی میں دفن کیا گیا جونہی سلطان محمود کی وفات کی خبر برصغیر ہندوستان میں پہنچی کافرون کے حوصلے بلند ہوگئے اور وہ جوق در جوق اسلامی لشکر اور چھاؤنیوں پر ٹوٹ پڑے وہ متفق ہوکر چاہتے تھے۔ کہ اسلام کے نام لیواؤں کو ہندوستان سے نکال باہر پھینکیں ایک منافق حجام نے یوں کیا حضرت میر کی حجامت بناتے وقت ناخن تراش زہر میں بھگو کر ناخنوں میں زخم لگادیا تاکہ زہر آپ کے جسم میں سرایت کر جائے آپ کو زہر اثر کرنے ہی والا تھا کہ آپ کے خادموں کو معلوم ہوگیا میر ساہو نے حکم دیا کہ اس بدنہار سازشی حجام کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے میر ساہو ایک لشکر لے کر علاقے کے ہندو زمینداروں پر ٹوٹ پڑے بڑی جنگ کے بعد بہت سے دشمن کھیت رہے ہندو زمینداروں کے دوبڑے سرداروں کو قید کرکے زنداں خانے میں رکھا گیا ملک عبداللہ راجو کو قصبہ گرد اور ملک حیدر کو مانک پور میں متعین کردیا اور خود اپنے مرکز کی طرف واپس آگئے چند دنوں بعد میر سیف الدّین نے بُہرانچ سے عرضداشت بھیجی کہ اس علاقے کے کافروں نے بہت بڑا حلمہ کردیا ہے اس لیے میری امداد کو پہنچنا چاہیے حضرت میر مسعود غازی نے اپنے والد مکرم میر ساہو سے رخصت لی اور بہرانچ کو روانہ ہوئے آپ وہاں پہنچے ہی تھے کہ دشمنوں کا زور ٹوٹنے لگا اسی اثنا میں دو ماہ کے بعد آپ کو اپنے والد میرساہو کے انتقال کی خبر ملی کہ وہ بتاریخ ۲۴؍ماہ شوال ۴۲۳ھ سر درد کی شدت سے انتقال فرماگئے ہیں۔ قصبہ سترگہ میں دفن کردیے گئے یہ خبر سنتے ہی دشمنوں نے پھر شورش برپاکردی اور اسلامی لشکر پر چاروں طرف سے حملے ہونے شروع ہوئے آخر کار تیرہ ماہ رجب کی آخری رات کو موضع جوگی کے جو شہر سے ایک کوس کے فاصلہ پر تھا سخت جنگ کا آغاز ہوا پیر کے دن علی الصباح سالار سیف الدین کو ایک لشکر دے کر تمام سپاہیوں کے جمع کرنے کا حکم دیا خود حضرت سلطان الشہید غازی مسعود نے غسل کرکے عمدہ پوشاک زیب تن کی شمشیر اور خنجر سے مسلح ہوئے اور خوش و خرم شہر سے باہر نکلے۔ میر سیّد ابراہیم کو جو آپ کے ہم عمر بھی تھے اور محبوب و مصاحب بھی تھی چند معتبرا مراء کے ساتھ ڈہرہ میں چھوڑ کر سوار ہوئے اور اپنی فوجوں کو عسکری قاعدے سے ترتیب دے کر میدان جہاد کو روانہ کیا۔ یہ لشکر باغ سورخ کندپہنچا انہوں نے دیکھا کہ دشمن سالار سیف الدین پر غالب آرہے ہیں میر نصراللہ کو چند امراء کے ساتھ سالار موصوف کی امداد کو روانہ کیا اور خود درختوں کے ایک چبوترے پر بیٹھ کر جنگ کی کارروائیوں کی نگرانی کرنے لگے۔
ہفتہ کے روز یہ جنگ زوروں پر تھی۔ اتوار کی دوپہر تک سخت جنگ جاری تھی اسی جنگ میں آپ کے اکثر ساتھی جن میں سیّد نصراللہ میاں رجب کوتوال اور سالار سیف الدّین تھے شہادت کے رتبہ پر سرفراز ہوئے بعضے دفنادئیے گئے بعضے سورخ کند کے حوض میں ڈال دیے گئے بعض کو انہی کپڑوں میں لپیٹ کر خاک بوس کردیا گیا حضرت میر مسعود غازی گھوڑے سے اترے تازہ وضو کیا شہداء کی نماز جنازہ ادا کی فاتحہ خوانی کے بعد دوبارہ اپنی جنگی گھوڑی پر سوار ہوئے۔ بقّیۃ الَسیّف ساتھیوں کو ساتھ لے کر دوبارہ میدان جنگ میں اترے آپ کی جرات دیکھ کر کافروں کا لشکر میدان جنگ سے بھاگ کھڑا ہوا آپ اپنے باغ میں رک گئے اور اپنے ساتھیوں کو جمع کرنے لگے دشمنوں نے پھر اپنے قدم جمالیے اور لوٹ آئے
ہفتہ کے روز یہ جنگ زوروں پر تھی۔ اتوار کی دوپہر تک سخت جنگ جاری تھی اسی جنگ میں آپ کے اکثر ساتھی جن میں سیّد نصراللہ میاں رجب کوتوال اور سالار سیف الدّین تھے شہادت کے رتبہ پر سرفراز ہوئے بعضے دفنادئیے گئے بعضے سورخ کند کے حوض میں ڈال دیے گئے بعض کو انہی کپڑوں میں لپیٹ کر خاک بوس کردیا گیا حضرت میر مسعود غازی گھوڑے سے اترے تازہ وضو کیا شہداء کی نماز جنازہ ادا کی فاتحہ خوانی کے بعد دوبارہ اپنی جنگی گھوڑی پر سوار ہوئے۔ بقّیۃ الَسیّف ساتھیوں کو ساتھ لے کر دوبارہ میدان جنگ میں اترے آپ کی جرات دیکھ کر کافروں کا لشکر میدان جنگ سے بھاگ کھڑا ہوا آپ اپنے باغ میں رک گئے اور اپنے ساتھیوں کو جمع کرنے لگے دشمنوں نے پھر اپنے قدم جمالیے اور لوٹ آئے
❤1👍1
اس میدان جنگ میں حدِ نگاہ تک کشتوں کے پُشتے دکھائی دیتے تھے۔ مورّخہ چودہ رجب المرجب ۴۲۴ھ بروز اتوارنماز عصر کے وقت قضاء سے چار تیر بیک وقت آپ کے گلے میں آپیوست ہوئے کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے گھوڑی کی پشت سے نیچے گرے سکندر دیوالہ اور دوسرے خدمت گزاروں نے آپ کو چبوترے پر ایک بستر پر لٹادیا سکندر دیوالہ نے آپ کے سرکو اپنے پہلو میں رکھا تھا۔ اور آنکھوں سے آنسوؤں کی نہر جاری تھی وہ زار زار رو رہا تھا سلطان الشہید نے ایک بار آنکھ کھولی تھوڑے سے مسکرائے اور کلمہ ہو زبان پر لائے اور جان جانِ آفریں کے سپرد کردی۔
انا لِلہٖ وَاِنَّا اِلَیْہ رَاجِعُون ط
دہلی کے سلطان محمد تغلق بادشاہ بہڑانچ پہنچے میر مسعود غازی کے مدفن کی زیارت کی اور روضہ منورہ مطاہرہ کی زیارت سے آنکھوں کو روشن کیا مجاروں کو ہزاروں روپیہ نقد نذرانہ پیش کیا ایک جاگیر عطاء کی۔ اور روضہ مبارک کی تعمیر نو کرائی۔
حضرت میر مسعود غازی کی شہادت کے بعد آپ سے بہت سی کرامات اور خوارق ظاہر ہوئے ان کرامات کو لکھنے بیٹھیں تودفتروں کے دفتر بھر جائیں بہت سی مخلوق آپ کی کرامات کی قائل ہے ہر سال عرس کے موقعہ پر ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند بڑے بڑے جھنڈے اٹھائے ہندوستان کے گوشے گوشے سے جمع ہوتے ہیں جو لوگ عرس پر پہنچنے سے قاصر ہوتے ہیں وہ اپنے اپنے شہروں اور قصبوں میں حضرت مسعود غازی کے علم تیار کرکے آپ کی یادوں کو تازہ کرتے ہیں۔
صاحب اخبار الاخیار لکھتے ہیں۔ علمبرداروں کی یہ بدعت پہلے موجود نہ تھی حضرت مسعود غازی کی شہادت کے چار سو (۴۰۰) سال بعد یہ رسم نکلی نویں (۹) صدی ہجری میں ہندوستان کا ایک راجہ جس کے اولاد نہیں تھی حضرت سالار کے مقبرے پر حاضر ہوا اور نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے اولاد دے گا تو میں ایک ریشمی جھنڈا جس پر موتی جھڑے ہوں گے حضرت کے دروازے پر چڑاؤں گا اللہ کی مہربانی سے اسی سال اس راجہ کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا اس نے اپنی نذر کو پورا کرنے کے لیے ایک بہت بڑا ریشمی جھنڈا تیار کرایا اور حضرت کے روضہ عالیہ پر نصب کیا اس دن سے اس بدعت کو رواج ملا اب جس شخص کے ہاں اولاد نہ ہوتی نذر مانتا اور جھنڈا لےکر آتا ہوتے ہوتے دہلی اور لاہور تک کے شہروں میں سے ہزاروں علم جانے لگے۔ ڈھول بجانے والے جو اپنے آپ کو حضرت سالار کے مزار کے حقدار قرار دیتے ہیں علم کے آگے ڈھول بجاتے ہوئے اور نذریں اکٹھی کرتے ہوئے روانہ ہوتے ہیں اس علم برداری اور دف بازی میں بڑی بڑی چابکدستی کا مظاہرہ کرتے اور منزل بمنزل پھرتے پھرتے روضہ اقدس پر پہنچتے ہیں جو لوگ حضرت کے روضہ پر نہیں پہنچ سکتے وہ سارے جھنڈے نذرانے اور سازو سامان ان ڈھول بجانے والوں کو بخش دیتے ہیں۔
معارج الولایت کے مصنّف نے آپ کا سن وفات ۴۲۴ھ لکھا ہے تذکرۃ الشہدا اور دوسرے تذکرہ نویس اسی تاریخ کو درست مانتے ہیں مگر صاحب سفینۃ الاولیا نے آپ کا سن وفات ۴۲۹ھ تحریر کیا ہے میرے خیال میں صاحب سفینۃ الاولیا کی تاریخ درست نہیں ہے۔
شاہ سالار سیّد مسعود
سالِ تولید ادست مطلع نور ۴۰۵
غازی دین احمد مختار
صاحب قدر گفتہ ام اے یار ۴۰۵
عقل تاریخ نقلِ آں سرور
سیّدالشہدا مُردمسعود ۴۲۴ھ ۴۲۴ھ
گفت محبوب سید سالار
ولی مہدی شہید سلطان عزیز مسعود ۴۲۴ ۴۲۴
(خزینۃ الاصفیاء)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-salar-masood-ghazi
انا لِلہٖ وَاِنَّا اِلَیْہ رَاجِعُون ط
دہلی کے سلطان محمد تغلق بادشاہ بہڑانچ پہنچے میر مسعود غازی کے مدفن کی زیارت کی اور روضہ منورہ مطاہرہ کی زیارت سے آنکھوں کو روشن کیا مجاروں کو ہزاروں روپیہ نقد نذرانہ پیش کیا ایک جاگیر عطاء کی۔ اور روضہ مبارک کی تعمیر نو کرائی۔
حضرت میر مسعود غازی کی شہادت کے بعد آپ سے بہت سی کرامات اور خوارق ظاہر ہوئے ان کرامات کو لکھنے بیٹھیں تودفتروں کے دفتر بھر جائیں بہت سی مخلوق آپ کی کرامات کی قائل ہے ہر سال عرس کے موقعہ پر ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند بڑے بڑے جھنڈے اٹھائے ہندوستان کے گوشے گوشے سے جمع ہوتے ہیں جو لوگ عرس پر پہنچنے سے قاصر ہوتے ہیں وہ اپنے اپنے شہروں اور قصبوں میں حضرت مسعود غازی کے علم تیار کرکے آپ کی یادوں کو تازہ کرتے ہیں۔
صاحب اخبار الاخیار لکھتے ہیں۔ علمبرداروں کی یہ بدعت پہلے موجود نہ تھی حضرت مسعود غازی کی شہادت کے چار سو (۴۰۰) سال بعد یہ رسم نکلی نویں (۹) صدی ہجری میں ہندوستان کا ایک راجہ جس کے اولاد نہیں تھی حضرت سالار کے مقبرے پر حاضر ہوا اور نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے اولاد دے گا تو میں ایک ریشمی جھنڈا جس پر موتی جھڑے ہوں گے حضرت کے دروازے پر چڑاؤں گا اللہ کی مہربانی سے اسی سال اس راجہ کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا اس نے اپنی نذر کو پورا کرنے کے لیے ایک بہت بڑا ریشمی جھنڈا تیار کرایا اور حضرت کے روضہ عالیہ پر نصب کیا اس دن سے اس بدعت کو رواج ملا اب جس شخص کے ہاں اولاد نہ ہوتی نذر مانتا اور جھنڈا لےکر آتا ہوتے ہوتے دہلی اور لاہور تک کے شہروں میں سے ہزاروں علم جانے لگے۔ ڈھول بجانے والے جو اپنے آپ کو حضرت سالار کے مزار کے حقدار قرار دیتے ہیں علم کے آگے ڈھول بجاتے ہوئے اور نذریں اکٹھی کرتے ہوئے روانہ ہوتے ہیں اس علم برداری اور دف بازی میں بڑی بڑی چابکدستی کا مظاہرہ کرتے اور منزل بمنزل پھرتے پھرتے روضہ اقدس پر پہنچتے ہیں جو لوگ حضرت کے روضہ پر نہیں پہنچ سکتے وہ سارے جھنڈے نذرانے اور سازو سامان ان ڈھول بجانے والوں کو بخش دیتے ہیں۔
معارج الولایت کے مصنّف نے آپ کا سن وفات ۴۲۴ھ لکھا ہے تذکرۃ الشہدا اور دوسرے تذکرہ نویس اسی تاریخ کو درست مانتے ہیں مگر صاحب سفینۃ الاولیا نے آپ کا سن وفات ۴۲۹ھ تحریر کیا ہے میرے خیال میں صاحب سفینۃ الاولیا کی تاریخ درست نہیں ہے۔
شاہ سالار سیّد مسعود
سالِ تولید ادست مطلع نور ۴۰۵
غازی دین احمد مختار
صاحب قدر گفتہ ام اے یار ۴۰۵
عقل تاریخ نقلِ آں سرور
سیّدالشہدا مُردمسعود ۴۲۴ھ ۴۲۴ھ
گفت محبوب سید سالار
ولی مہدی شہید سلطان عزیز مسعود ۴۲۴ ۴۲۴
(خزینۃ الاصفیاء)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-salar-masood-ghazi
www.scholars.pk
Hazrat Syed Salar Masood Ghazi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1