🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
مختصر سوانح حیات خلیفۂ چہارم امیر المؤمنین حضرت علی مرتضٰی شیر خدا ، فاتح خیبر ، حـیدر کـرار رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهٗ ❤️ https://t.me/islaamic_Knowledge/44776 شان و عظمت حضرت علی 📚 https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8828 فتاوے: خانۂ کعبہ…
13-07-1445 ᴴ | 25-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
خلفاء | اہلبیت | صحابہ | کربلا ↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/14068
شان و عظمت حضرت علی 📚 ↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8828
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
خلفاء | اہلبیت | صحابہ | کربلا ↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/14068
شان و عظمت حضرت علی 📚 ↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8828
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت سید سمن شاہ بخاری (سرکار مجذوب) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت سید سمن بخاری سرکار مجذوب علیہ الرحمتہ کے آباء و اجداد بخارا سے سندھ میں تشریف لائے آپ جد امجد حضرت سید گل شاہ بخاری علیہ الرحمہ تقریباً ۱۲ صدی ہجری میں سندھ میں تشریف فرما ہوئے تھے ۔ آپ کا سلسلہ اوپر جاکر حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ملتا ہے ـ
آپ کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید سمن شاہ سرکار بن سید گل شاہ ذثانی سید قربان علی شاہ بن سید علی بخش شاہ بن سید گل شاہ غازی ۔
حضرت سید سمن سرکار کا ابتدائی جو دور تھا وہ یہ کہ آپ حسن و جمال، خوب صورت لباس کے شائق، میلوں ملاکھڑوں پر جانے والے، ساز سرور کی محفلوں میں شریک ہونے والے انسان تھے، پرانے جھڈو گودام (جو آ پ ہی کی بد دعاء سے ویران ہوا) کے ایک محلہ میں سکونت پذیر تھے آپ کے محلہ میں ایک کنبھار بھی رہا کرتا تھا جس کی بیٹی از حد حسین تھی جس پر آپ کی اچانک نظر پڑی گئی، اور ہوش و حواس کھو بیٹھے، عشق مجازی کا آغاز ہو گیا جو آگے چل کر عشق حقیقی کا سبب نبا ۔
اپنے محبوب کے وصال میں اس قدر محو ہوگئے کہ ہر چیزسے بے نیاز ہوگئے نوبت یہاں تک پہنچی کہ کپڑے تک اتار دیئے لوگوں نے دیوانہ کہنا اور مزاح کرنا شروع کردیا لوگوں نے آپ سے دریافت کیا کہ سمن شاہ آپ نے کپڑے کیوں اتار دیئے ہیں تو آپ نے ان کے جواب میں سرائیکی زبان میں یہ فرمایا ‘‘رب پاک دے فرض تمام گھنے، ڈٹھو سے اسائن نہ پھتو سے پچھیں کپڑے لا ہے چھوڑیوں سے’’ یعنی اللہ کے ہم نے بہت زیادہ فرض دیکھے ہیں ہم ان کو نہیں پہنچ سکے پھر ہم نے کپڑے اتار دِیئے، ایک دن آپ کی محبوبہ اچانک آپ کے پاس آ گئی تو آپ نے اس سے کہا ”امڑتوں ھن ونج اساندا مطلب پورا تھی گیا“ یعنی اے میری ماں اب آپ چلی جائیے اب ہمارا مطلب تو پورا ہو گیا ۔
بس آپ اس ماں کو ماں بنا کر جنگل کی طرف راہی ہو گئے ۔ اب لوگوں نے آپ کو مزید ستانا شروع کر دیا اور آخر آپ نے غصہ میں آکر یہ کہہ دیا ”جھڈا تھی سیں بھڈا مروے مردود“ یعنی اے جھڈا تو ویران ہو جائے اے مردود تو مر جائے ۔ اور آج وہی جھڈا کھنڈر بنا ہوا ہے ۔ ایک مکان تک وہاں موجود نہیں ہے ۔
حضرت سید سمن شاہ علیہ الرحمہ اکثر و بیشتر آگ کا بڑا مچ بنا کر اس کے قریب ہو کر بیٹ جایا کرتے تھے، کبھی آسمان کی طرف نظر اٹھا کر اشارہ کیا کرتے تھے جب آپ کے پاس کوئی سائل آتا تو آپ اس کو یوں فرمایا کرتےتھے ”ونج اساں کر چھوڑ یا“ یعنی آپ جائیں ہم نے آپ کا کام کردیا۔ آپ کچھ عرصہ کے لیے ‘‘ خیر پور گنبو’’ میں بھی رہے تھے لیکن وہاں بھی لوگوں کے ستانے سے خیر پور کو بد دعا کرتے ہوئے (خیر پور کھانی ان نکو پانی) ‘‘اس وقت سے لے کر خیر پور تباہ ہے ’’ پنگریو میں آکر رہنے لگے آپ کی کرامت دیکھ کر یہاں کے لوگ آپ سے بڑے متاثر ہوئے ۔
آپ نے پنگریو میں آکر رہنے لگے آپ کی کرامت دیکھ کر یہاں کے لوگ آپ سے بڑے متاثر ہوئے۔ آپ نے پنگریو کے لیے دعاء فرمائی، ‘‘پنگریو کڈھیں دہلی تھی سیں’’ یعنی پنگریو کبھی دھلی بنے گا آج آپ کی دعاء کی برکت سے پنگریو ایک شاندار شہر ہے۔ حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمۃ کی خدمت میں ۔ گلاب رائے’’ نامی ہندو شخص رہا کرتا تھا ، ایک دن اس سے خوش ہوکر کہنے لگے اے گلاب ‘‘توں مدینہ داگل تھی سیں’’ یعنی اے گلاب تومدینہ کا گل بنے گا۔ شاہ صاحب کی وفات کے بعد وہ حج پر گیا ایک بزرگ کے ہاتھ پر مسلمان ہوا اور سات حج کیے اور وہیں اس کا انتقال ہوا جنت البقیع میں مدفون ہیں۔
حضرت سید سمن سرکار کی بے شمار کرامات ہیں، طوالت کے خوف سے صرف نظرکرتا ہوں ، آخر میں اس اللہ کے ولی نے ۱۴ رجب المرجب ۱۳۴۹ھ۔ دسمبر ۱۹۲۹ء میں داعی اجل کو لبیک کہا آپ کا مزار پر انور پنگریو شہر سے تین میل کے فاصلہ پر مشرقی جانب تحصیل ٹنڈو باگو ضلع بدین میں مرجع خلائق ہے۔ ہزار ہا انسان پورے ملک سے آپ کے مزار پر حاضر ہوتے ہیں اور قبلی سکون حاصل کرتے ہیں آپ پوری زندگی مجرد رہے آپ کے بھتیجے سید پیر شاہ نے آپ کے مزار پر شاندار گنبد بنوایا ہے۔ راقم بھی کئی مرتبہ زیارت کے لیے گیا ہے۔
(شکریہ مکتوب جناب عزیزی مولانا حافظ محمد یوسف جمال حال مدرس تعلیم الفرقان ڈیئی شہر نزد پنگریو ضلع بدین)
( تذکرہ اولیاءِ سندھ )
وصال:
14 رجب المرجب 1349ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-saman-shah-bukhari
حضرت سید سمن بخاری سرکار مجذوب علیہ الرحمتہ کے آباء و اجداد بخارا سے سندھ میں تشریف لائے آپ جد امجد حضرت سید گل شاہ بخاری علیہ الرحمہ تقریباً ۱۲ صدی ہجری میں سندھ میں تشریف فرما ہوئے تھے ۔ آپ کا سلسلہ اوپر جاکر حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ملتا ہے ـ
آپ کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید سمن شاہ سرکار بن سید گل شاہ ذثانی سید قربان علی شاہ بن سید علی بخش شاہ بن سید گل شاہ غازی ۔
حضرت سید سمن سرکار کا ابتدائی جو دور تھا وہ یہ کہ آپ حسن و جمال، خوب صورت لباس کے شائق، میلوں ملاکھڑوں پر جانے والے، ساز سرور کی محفلوں میں شریک ہونے والے انسان تھے، پرانے جھڈو گودام (جو آ پ ہی کی بد دعاء سے ویران ہوا) کے ایک محلہ میں سکونت پذیر تھے آپ کے محلہ میں ایک کنبھار بھی رہا کرتا تھا جس کی بیٹی از حد حسین تھی جس پر آپ کی اچانک نظر پڑی گئی، اور ہوش و حواس کھو بیٹھے، عشق مجازی کا آغاز ہو گیا جو آگے چل کر عشق حقیقی کا سبب نبا ۔
اپنے محبوب کے وصال میں اس قدر محو ہوگئے کہ ہر چیزسے بے نیاز ہوگئے نوبت یہاں تک پہنچی کہ کپڑے تک اتار دیئے لوگوں نے دیوانہ کہنا اور مزاح کرنا شروع کردیا لوگوں نے آپ سے دریافت کیا کہ سمن شاہ آپ نے کپڑے کیوں اتار دیئے ہیں تو آپ نے ان کے جواب میں سرائیکی زبان میں یہ فرمایا ‘‘رب پاک دے فرض تمام گھنے، ڈٹھو سے اسائن نہ پھتو سے پچھیں کپڑے لا ہے چھوڑیوں سے’’ یعنی اللہ کے ہم نے بہت زیادہ فرض دیکھے ہیں ہم ان کو نہیں پہنچ سکے پھر ہم نے کپڑے اتار دِیئے، ایک دن آپ کی محبوبہ اچانک آپ کے پاس آ گئی تو آپ نے اس سے کہا ”امڑتوں ھن ونج اساندا مطلب پورا تھی گیا“ یعنی اے میری ماں اب آپ چلی جائیے اب ہمارا مطلب تو پورا ہو گیا ۔
بس آپ اس ماں کو ماں بنا کر جنگل کی طرف راہی ہو گئے ۔ اب لوگوں نے آپ کو مزید ستانا شروع کر دیا اور آخر آپ نے غصہ میں آکر یہ کہہ دیا ”جھڈا تھی سیں بھڈا مروے مردود“ یعنی اے جھڈا تو ویران ہو جائے اے مردود تو مر جائے ۔ اور آج وہی جھڈا کھنڈر بنا ہوا ہے ۔ ایک مکان تک وہاں موجود نہیں ہے ۔
حضرت سید سمن شاہ علیہ الرحمہ اکثر و بیشتر آگ کا بڑا مچ بنا کر اس کے قریب ہو کر بیٹ جایا کرتے تھے، کبھی آسمان کی طرف نظر اٹھا کر اشارہ کیا کرتے تھے جب آپ کے پاس کوئی سائل آتا تو آپ اس کو یوں فرمایا کرتےتھے ”ونج اساں کر چھوڑ یا“ یعنی آپ جائیں ہم نے آپ کا کام کردیا۔ آپ کچھ عرصہ کے لیے ‘‘ خیر پور گنبو’’ میں بھی رہے تھے لیکن وہاں بھی لوگوں کے ستانے سے خیر پور کو بد دعا کرتے ہوئے (خیر پور کھانی ان نکو پانی) ‘‘اس وقت سے لے کر خیر پور تباہ ہے ’’ پنگریو میں آکر رہنے لگے آپ کی کرامت دیکھ کر یہاں کے لوگ آپ سے بڑے متاثر ہوئے ۔
آپ نے پنگریو میں آکر رہنے لگے آپ کی کرامت دیکھ کر یہاں کے لوگ آپ سے بڑے متاثر ہوئے۔ آپ نے پنگریو کے لیے دعاء فرمائی، ‘‘پنگریو کڈھیں دہلی تھی سیں’’ یعنی پنگریو کبھی دھلی بنے گا آج آپ کی دعاء کی برکت سے پنگریو ایک شاندار شہر ہے۔ حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمۃ کی خدمت میں ۔ گلاب رائے’’ نامی ہندو شخص رہا کرتا تھا ، ایک دن اس سے خوش ہوکر کہنے لگے اے گلاب ‘‘توں مدینہ داگل تھی سیں’’ یعنی اے گلاب تومدینہ کا گل بنے گا۔ شاہ صاحب کی وفات کے بعد وہ حج پر گیا ایک بزرگ کے ہاتھ پر مسلمان ہوا اور سات حج کیے اور وہیں اس کا انتقال ہوا جنت البقیع میں مدفون ہیں۔
حضرت سید سمن سرکار کی بے شمار کرامات ہیں، طوالت کے خوف سے صرف نظرکرتا ہوں ، آخر میں اس اللہ کے ولی نے ۱۴ رجب المرجب ۱۳۴۹ھ۔ دسمبر ۱۹۲۹ء میں داعی اجل کو لبیک کہا آپ کا مزار پر انور پنگریو شہر سے تین میل کے فاصلہ پر مشرقی جانب تحصیل ٹنڈو باگو ضلع بدین میں مرجع خلائق ہے۔ ہزار ہا انسان پورے ملک سے آپ کے مزار پر حاضر ہوتے ہیں اور قبلی سکون حاصل کرتے ہیں آپ پوری زندگی مجرد رہے آپ کے بھتیجے سید پیر شاہ نے آپ کے مزار پر شاندار گنبد بنوایا ہے۔ راقم بھی کئی مرتبہ زیارت کے لیے گیا ہے۔
(شکریہ مکتوب جناب عزیزی مولانا حافظ محمد یوسف جمال حال مدرس تعلیم الفرقان ڈیئی شہر نزد پنگریو ضلع بدین)
( تذکرہ اولیاءِ سندھ )
وصال:
14 رجب المرجب 1349ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-saman-shah-bukhari
❤1
شیخ علی بن داؤد قہقاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
علی بن داؤدن بن یحییٰ بن حیان بن عبد الملک قحقازی: نجم الدین لقب اور ابو الحسن کنیت تھی ۔ امام فاضل، فقیہ محدث، اصولی، نحوی، شیخ اہلِ دمشق تھے ۔
بڑے بڑے علماء و فضلاء سے علم اخذ کیا چنانچہ فقہ شمس حریری اور اصول بدر بن جماعہ سے اخذ کیا اور حدیث کو نجم شقرادی سے سنا ۔ نحو علاء بن مطرزی اور عربی محمد تونسی سے پڑھی اور سوا کتاب مناسک حج اور کچھ نظم و نثر کے آپ نے تصنیف اس واسطے نہ کی کہ لوگ مصنفین پر عیب پکڑتے ہیں پس کیا ضرورت ہے کہ اپنے آپ کو نشانہ بنایا جاوے ـ
ولادت:
جمادی الاولیٰ ۶۶۸ھ میں پیدا ہوئے ـ
وصال:
¹⁴ رجب ۷۴۵ھ کو وفات پائی ۔
’’ بحر سعادت ‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ali-bin-dawood
علی بن داؤدن بن یحییٰ بن حیان بن عبد الملک قحقازی: نجم الدین لقب اور ابو الحسن کنیت تھی ۔ امام فاضل، فقیہ محدث، اصولی، نحوی، شیخ اہلِ دمشق تھے ۔
بڑے بڑے علماء و فضلاء سے علم اخذ کیا چنانچہ فقہ شمس حریری اور اصول بدر بن جماعہ سے اخذ کیا اور حدیث کو نجم شقرادی سے سنا ۔ نحو علاء بن مطرزی اور عربی محمد تونسی سے پڑھی اور سوا کتاب مناسک حج اور کچھ نظم و نثر کے آپ نے تصنیف اس واسطے نہ کی کہ لوگ مصنفین پر عیب پکڑتے ہیں پس کیا ضرورت ہے کہ اپنے آپ کو نشانہ بنایا جاوے ـ
ولادت:
جمادی الاولیٰ ۶۶۸ھ میں پیدا ہوئے ـ
وصال:
¹⁴ رجب ۷۴۵ھ کو وفات پائی ۔
’’ بحر سعادت ‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ali-bin-dawood
❤1
حضرت فاضلِ شہیر مولانا الحاج محمد عبد الرشید جھنگوی، جھنگ علیہ الرحمہ
استاذ العلماء حضرت مولانا ابو الضیاء محمد عبدالرشید بن مولانا حکیم قطب الدین ابن مولوی احمد بخش ۱۳ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۸ھ / ۳ فروری ۱۹۲۰ء میں چک ۲۳۳ ضلع جھنگ کے ایک عظیم علمی گھرانے میں تولد ہوئے ۔
آپ کے والد ماجد حضرت مولانا علامہ محمد قطب الدین قدس سرہ (م۵ ربیع الثانی ۱۳۷۹ھ / ۲۹ اکتوبر ۱۹۵۹ء) بہت بڑے مناظر، منفرد انشاء پرداز، صاحبِ قلم اور کامل طبیب تھے ۔ آپ نے اپنی ساری زندگی دینِ اسلام اور مسلکِ اہل سنّت و جماعت کے تحفظ اور اشاعتِ دین میں بسر کی ۔ [۱]
[۱۔ عبدالحکیم شرف قادری، مولانا: تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت، ص۴۰۱ تا ۴۰۴]
تعلیم و تربیت:
چونکہ حضرت مولانا عبد الرشید مدظلہ کے والد ماجد خود ایک جلیل فاضل تھے، اس لیے آپ نے ابتدائی کتب درسِ نظامی کافیہ تک اپنے والد محترم قدس سرہ کے پاس پڑھیں ۔ ایک سال مدسہ ریاض الاسلام (جھنگ) میں مولانا غلام فرید قریشی سے اکتسابِ فیض کیا ۔ علاوہ ازیں جامعہ محمدیہ جھنگ اور اوچھالہ تحصیل خوشاب (ضلع سرگودھا) میں بھی حضرت مولانا احمد شاہ اور حضرت مولانا قطب الدین (آپ کے والد نہیں) سے بھی پڑھتے رہے ۔
کتب احادیث کا درس لینے کے لیے بریلی شریف حاضر ہوئے اور محدثِ اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سرار احمد قدس سرہ سے دورۂ حدیث کرنے کے بعد ۱۹۴۵ء میں سندِ فراغت و دستارِ فضیلت حاصل کی ۔
تدریس:
آپ نے فراغت پاتے ہی تدریسی زندگی کا آغاز فرمایا، چودہ سال تک دار العلوم نقشبندیہ جماعتیہ علی پور شریف (ضلع سیالکوٹ) میں پڑھاتے رہے ۔ ایک سال ۱۹۵۸ء کو جامعہ رضویہ فیصل آباد میں حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی موجودگی میں صدر مدرس کی حیثیت سے تدریسی فرائض سر انجام دیے ۔
۱۹۵۹ء میں آپ کے والد ماجد حضرت مولانا محمد قطب الدین جھنگوی کا انتقال ہوگیا، جس کی بناء پر آپ کو گھر آنا پڑا۔ جنوری ۱۹۶۰ء میں آپ نے اپنے والد مکرم کی طرف نسبت کرتے ہوئے جامعہ قطبیہ رضویہ کے نام سے ایک دارالعلوم قائم کیا اور اس کا انتظام و انصرام (اور تدریس بھی) اپنے ذمہ لیا ۔
۱۹۷۲ء سے آپ سنی رضوی جامع مسجد فیصل آباد میں خطابت کے فرائض اسر انجام دے رہے ہیں ۔
اہلِ باطل سے مناظرے کی قوت آپ کو اللہ تعالیٰ نے وراثتاً عطا فرمائی ہے، چنانچہ آپ نے شیعہ مکتبۂ فکر کے بہت بڑے مناظر اسماعیل کے تلمیذ تاج حیدری کو موضع سو ہادہ میں مسئلہ خلافت پر مناظرہ کرکے شکست دی ۔
اسی طرح اسماعیل کے دیگر شاگردوں سے جامعہ رضویہ میں مسئلہ ماتم پر مناطرہ ہوا اور آپ نے دندان شکن جواب دے کر ان کو مبہوت کیا ۔
آپ نے روافض کے ردّ میں کچھ مضامین بھی تحریر کیے جو ابھی تک مسودہ کی شکل میں ہیں اور زیورِ طبع سے آراستہ نہیں ہو سکے ۔
آپ ۱۹۴۶ء میں حج بیت اللہ شریف اور زیارت روضۂ رسول علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے مشرف ہوئے ۔
بیعت:
آپ کو حضرت محدثِ اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رحمہ اللہ سے شرف بیعت حاصل ہے ۔
چند مشہور تلامذہ:
آپ کے چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:
۱۔ مولانا محمد شریف، ڈسکہ
۲۔ مولانا ابوداؤد محمد صادق، گوجرانوالہ
۳۔ صوفی محمد بخش، مدرس جامعہ رضویہ فیصل آباد
۴۔ مولانا اللہ بخش اویسی، کراچی
۵۔ مولانا غلام سیرانی، رحیم یار خان
۶۔ مولانا محمد عجیب، جھنگ صدر
اولاد:
آپ کے تین صاحبزادے (صاحبزادہ ضیاء المصطفےٰ، صاحبزادہ عطاء المصطفےٰ اور صاحبزادہ انوار المصطفےٰ) اور پانچ صاحبزادیاں ہیں۔ ان میں سے دو صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں قرآن پاک کی حافظ ہیں ۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء ـ
[۱۔ یہ تمام کوائف ۱۸ جولائی ۱۹۷۷ء کو عرس محدثِ اعظم پاکستان رحمہ اللہ کے موقع پر مولانا محمد فاضل صمدانی، متعلم جامعہ رضویہ فیصل آباد کے ذریعے حاصل ہوئے ۔ (مرتب) ]
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-rasheed-jhangvi
استاذ العلماء حضرت مولانا ابو الضیاء محمد عبدالرشید بن مولانا حکیم قطب الدین ابن مولوی احمد بخش ۱۳ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۸ھ / ۳ فروری ۱۹۲۰ء میں چک ۲۳۳ ضلع جھنگ کے ایک عظیم علمی گھرانے میں تولد ہوئے ۔
آپ کے والد ماجد حضرت مولانا علامہ محمد قطب الدین قدس سرہ (م۵ ربیع الثانی ۱۳۷۹ھ / ۲۹ اکتوبر ۱۹۵۹ء) بہت بڑے مناظر، منفرد انشاء پرداز، صاحبِ قلم اور کامل طبیب تھے ۔ آپ نے اپنی ساری زندگی دینِ اسلام اور مسلکِ اہل سنّت و جماعت کے تحفظ اور اشاعتِ دین میں بسر کی ۔ [۱]
[۱۔ عبدالحکیم شرف قادری، مولانا: تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت، ص۴۰۱ تا ۴۰۴]
تعلیم و تربیت:
چونکہ حضرت مولانا عبد الرشید مدظلہ کے والد ماجد خود ایک جلیل فاضل تھے، اس لیے آپ نے ابتدائی کتب درسِ نظامی کافیہ تک اپنے والد محترم قدس سرہ کے پاس پڑھیں ۔ ایک سال مدسہ ریاض الاسلام (جھنگ) میں مولانا غلام فرید قریشی سے اکتسابِ فیض کیا ۔ علاوہ ازیں جامعہ محمدیہ جھنگ اور اوچھالہ تحصیل خوشاب (ضلع سرگودھا) میں بھی حضرت مولانا احمد شاہ اور حضرت مولانا قطب الدین (آپ کے والد نہیں) سے بھی پڑھتے رہے ۔
کتب احادیث کا درس لینے کے لیے بریلی شریف حاضر ہوئے اور محدثِ اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سرار احمد قدس سرہ سے دورۂ حدیث کرنے کے بعد ۱۹۴۵ء میں سندِ فراغت و دستارِ فضیلت حاصل کی ۔
تدریس:
آپ نے فراغت پاتے ہی تدریسی زندگی کا آغاز فرمایا، چودہ سال تک دار العلوم نقشبندیہ جماعتیہ علی پور شریف (ضلع سیالکوٹ) میں پڑھاتے رہے ۔ ایک سال ۱۹۵۸ء کو جامعہ رضویہ فیصل آباد میں حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی موجودگی میں صدر مدرس کی حیثیت سے تدریسی فرائض سر انجام دیے ۔
۱۹۵۹ء میں آپ کے والد ماجد حضرت مولانا محمد قطب الدین جھنگوی کا انتقال ہوگیا، جس کی بناء پر آپ کو گھر آنا پڑا۔ جنوری ۱۹۶۰ء میں آپ نے اپنے والد مکرم کی طرف نسبت کرتے ہوئے جامعہ قطبیہ رضویہ کے نام سے ایک دارالعلوم قائم کیا اور اس کا انتظام و انصرام (اور تدریس بھی) اپنے ذمہ لیا ۔
۱۹۷۲ء سے آپ سنی رضوی جامع مسجد فیصل آباد میں خطابت کے فرائض اسر انجام دے رہے ہیں ۔
اہلِ باطل سے مناظرے کی قوت آپ کو اللہ تعالیٰ نے وراثتاً عطا فرمائی ہے، چنانچہ آپ نے شیعہ مکتبۂ فکر کے بہت بڑے مناظر اسماعیل کے تلمیذ تاج حیدری کو موضع سو ہادہ میں مسئلہ خلافت پر مناظرہ کرکے شکست دی ۔
اسی طرح اسماعیل کے دیگر شاگردوں سے جامعہ رضویہ میں مسئلہ ماتم پر مناطرہ ہوا اور آپ نے دندان شکن جواب دے کر ان کو مبہوت کیا ۔
آپ نے روافض کے ردّ میں کچھ مضامین بھی تحریر کیے جو ابھی تک مسودہ کی شکل میں ہیں اور زیورِ طبع سے آراستہ نہیں ہو سکے ۔
آپ ۱۹۴۶ء میں حج بیت اللہ شریف اور زیارت روضۂ رسول علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے مشرف ہوئے ۔
بیعت:
آپ کو حضرت محدثِ اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رحمہ اللہ سے شرف بیعت حاصل ہے ۔
چند مشہور تلامذہ:
آپ کے چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:
۱۔ مولانا محمد شریف، ڈسکہ
۲۔ مولانا ابوداؤد محمد صادق، گوجرانوالہ
۳۔ صوفی محمد بخش، مدرس جامعہ رضویہ فیصل آباد
۴۔ مولانا اللہ بخش اویسی، کراچی
۵۔ مولانا غلام سیرانی، رحیم یار خان
۶۔ مولانا محمد عجیب، جھنگ صدر
اولاد:
آپ کے تین صاحبزادے (صاحبزادہ ضیاء المصطفےٰ، صاحبزادہ عطاء المصطفےٰ اور صاحبزادہ انوار المصطفےٰ) اور پانچ صاحبزادیاں ہیں۔ ان میں سے دو صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں قرآن پاک کی حافظ ہیں ۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء ـ
[۱۔ یہ تمام کوائف ۱۸ جولائی ۱۹۷۷ء کو عرس محدثِ اعظم پاکستان رحمہ اللہ کے موقع پر مولانا محمد فاضل صمدانی، متعلم جامعہ رضویہ فیصل آباد کے ذریعے حاصل ہوئے ۔ (مرتب) ]
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-rasheed-jhangvi
❤1
حضرت مولانا خواجہ محمد یار فریدی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: محمد یار ۔ تخلص: محمد اور بلبل ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا خواجہ محمد یار فریدی بن مولانا عبد الکریم بن محمد یار بن محمد حسن بن محمد کبیر بن قاضی محمد محسن بن قاضی ابو العلی محمد یعقوب بن محمد یوسف بن ولی محمد ۔الیٰ آخرہ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت زید بن عون بن مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے واسطے سے خاندان بنی ہاشم تک پہنچتا ہے ۔ آپ کا خاندانی تعلق "قطب شاہی اعوان" سے ہے ۔ (بہار چشت، ص:161) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1300ھ / مطابق 1883ء کو "گڑھی اختیار خان" ضلع رحیم یار خان میں مولانا عبد الکریم کے گھر ہوئی ۔
تحصیل علم:
ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی، اس کے بعد جلال پور میں قرآن مجید، اور فارسی کی ابتدائی چند کتابیں پڑھیں، ابتدائی اساتذہ میں مولانا رحمت اللہ، مولانا محمد حیات اور مولانا تاج محمود شامل تھے ۔ اس کے بعد چاچڑاں شریف میں حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کے مدرسے میں داخل ہوئے، اور علوم دینیہ کی تحصیل کی اور 19سال کی عمر میں سند فراغت حاصل کرلی ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کے دست اقدس پر بیعت ہوئے ۔ حضرت خواجہ صاحب کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت خواجہ محمد بخش المعروف نازک کریم کی خدمت میں رہ کر دس سال تک کسبِ فیض کیا اور ان کے وصال کے بعد ایک زمانہ تک ان کے صاحبزادے حضرت خواجہ محمد معین الدین رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں رہے اور اجازت و خلافت سے مشرف ہوکر اپنے وطن گڑھی اختیار خاں چلے گئے اور علوم و معارف کے دریا بہا دئے ۔
سیرت و خصائص:
سفیر عشقِ مصطفیٰﷺ، عاشقِ خیر الوریٰ، صاحبِ علم الہدیٰ، واعظِ خوش مقال، یادگار اسلاف، پرورۂ نگاہِ حضرت خواجہ معین، فیض یافتہ حضرت خواجہ غلام فرید، حافظِ مثنوی مولائے روم، محسن اہلسنت، حضرت علامہ مولانا خواجہ محمد یار فریدی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ تمام علوم پر مہارت تامہ حاصل تھی، لیکن آپ کو مدحتِ مصطفیٰ ﷺ، اور فن خطابت میں جو شہرت و مقام حاصل ہوا وہ آپ ہی کا خاصہ ہے ۔ پنجاب میں بالعموم اور پورے ہندوستان میں بالخصوص آپ کے مواعظِ حسنہ کی دھوم مچی ہوئی تھی ۔ اس وقت کوئی بھی بڑا پروگرام آپ کی شرکت کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا تھا ۔
ایک مرتبہ تو بریلی شریف میں امام اہلسنت کی موجودگی میں بیان فرمایا، ابھی خطبہ ہی شروع کیا تھا کہ امام اہل سنت نے اٹھ کر آپ کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈالا اور فرمایا: "سرِ آمد واعظینِ پنجاب" ۔ (بہارِ چشت، ص:187) ـ
پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی فرماتے ہیں: ملک کے ہزارہا قصبات میں سے ایک گڑھی اختیار خان ہے، مگر اس قصبے کو ایک لا زوال شہرت حاصل ہے کہ اس کی آغوش میں اپنے دور کا ایک جادو بیان خطیب، درد و سوز کا سفیر، اسلاف کی روایات کا امین، بستانِ فرید کا بلبل، روشن ضمیر صوفی، عشق و محبت کا پیکر، مثنوی مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کے خاموش الفاظ کو نطق آشنا کرنے والا شیریں مقال واعظ، اور مٹی و ریت کے ذروں میں عشق کا بارود بھر دینے والا مردِ قلندر آسودہ ہے جس کی لحد، زیارت گاہ اہل کیف و مستی کا درجہ رکھتی ہے ۔
اس گمنام قصبے کی ساری بہاریں اس ایک شخص کے تصور سے ہیں جو عمر بھر درد کی دولت تقسیم کرتا رہا جو لوگوں میں ذوق ابھارتا رہا، جو عشق کا درس دیتا رہاجو اپنے سوز میں ہر ایک کو شریک کرتا رہا اور جو اپنے ساز زندگی پر حسن کے نغمے ترتیب دیتا رہا اور ان نغموں سے دل کے اتاروں میں اب تک تھر تھراہٹ ہے، اگرچہ حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کے متعدد نمایاں پہلو ہیں، ایک صوفی بزرگ، پختہ کار شاعر، روش خیال عالم دین، یہ سب ان کی طر حدار شخصیت کی جھلکیاں ہیں مگر میرے نزدیک ان کا سحر البیان خطیب ہونا بہت ممتاز اور روشن تعارف اور ان کی حکایت میں تصوف شعر و سخن کی چاشنی اور علم کا وقار سبھی موجود ہے ۔ (ایضاً)
نام و نسب:
اسم گرامی: محمد یار ۔ تخلص: محمد اور بلبل ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا خواجہ محمد یار فریدی بن مولانا عبد الکریم بن محمد یار بن محمد حسن بن محمد کبیر بن قاضی محمد محسن بن قاضی ابو العلی محمد یعقوب بن محمد یوسف بن ولی محمد ۔الیٰ آخرہ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت زید بن عون بن مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے واسطے سے خاندان بنی ہاشم تک پہنچتا ہے ۔ آپ کا خاندانی تعلق "قطب شاہی اعوان" سے ہے ۔ (بہار چشت، ص:161) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1300ھ / مطابق 1883ء کو "گڑھی اختیار خان" ضلع رحیم یار خان میں مولانا عبد الکریم کے گھر ہوئی ۔
تحصیل علم:
ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی، اس کے بعد جلال پور میں قرآن مجید، اور فارسی کی ابتدائی چند کتابیں پڑھیں، ابتدائی اساتذہ میں مولانا رحمت اللہ، مولانا محمد حیات اور مولانا تاج محمود شامل تھے ۔ اس کے بعد چاچڑاں شریف میں حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کے مدرسے میں داخل ہوئے، اور علوم دینیہ کی تحصیل کی اور 19سال کی عمر میں سند فراغت حاصل کرلی ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کے دست اقدس پر بیعت ہوئے ۔ حضرت خواجہ صاحب کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت خواجہ محمد بخش المعروف نازک کریم کی خدمت میں رہ کر دس سال تک کسبِ فیض کیا اور ان کے وصال کے بعد ایک زمانہ تک ان کے صاحبزادے حضرت خواجہ محمد معین الدین رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں رہے اور اجازت و خلافت سے مشرف ہوکر اپنے وطن گڑھی اختیار خاں چلے گئے اور علوم و معارف کے دریا بہا دئے ۔
سیرت و خصائص:
سفیر عشقِ مصطفیٰﷺ، عاشقِ خیر الوریٰ، صاحبِ علم الہدیٰ، واعظِ خوش مقال، یادگار اسلاف، پرورۂ نگاہِ حضرت خواجہ معین، فیض یافتہ حضرت خواجہ غلام فرید، حافظِ مثنوی مولائے روم، محسن اہلسنت، حضرت علامہ مولانا خواجہ محمد یار فریدی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ تمام علوم پر مہارت تامہ حاصل تھی، لیکن آپ کو مدحتِ مصطفیٰ ﷺ، اور فن خطابت میں جو شہرت و مقام حاصل ہوا وہ آپ ہی کا خاصہ ہے ۔ پنجاب میں بالعموم اور پورے ہندوستان میں بالخصوص آپ کے مواعظِ حسنہ کی دھوم مچی ہوئی تھی ۔ اس وقت کوئی بھی بڑا پروگرام آپ کی شرکت کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا تھا ۔
ایک مرتبہ تو بریلی شریف میں امام اہلسنت کی موجودگی میں بیان فرمایا، ابھی خطبہ ہی شروع کیا تھا کہ امام اہل سنت نے اٹھ کر آپ کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈالا اور فرمایا: "سرِ آمد واعظینِ پنجاب" ۔ (بہارِ چشت، ص:187) ـ
پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی فرماتے ہیں: ملک کے ہزارہا قصبات میں سے ایک گڑھی اختیار خان ہے، مگر اس قصبے کو ایک لا زوال شہرت حاصل ہے کہ اس کی آغوش میں اپنے دور کا ایک جادو بیان خطیب، درد و سوز کا سفیر، اسلاف کی روایات کا امین، بستانِ فرید کا بلبل، روشن ضمیر صوفی، عشق و محبت کا پیکر، مثنوی مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کے خاموش الفاظ کو نطق آشنا کرنے والا شیریں مقال واعظ، اور مٹی و ریت کے ذروں میں عشق کا بارود بھر دینے والا مردِ قلندر آسودہ ہے جس کی لحد، زیارت گاہ اہل کیف و مستی کا درجہ رکھتی ہے ۔
اس گمنام قصبے کی ساری بہاریں اس ایک شخص کے تصور سے ہیں جو عمر بھر درد کی دولت تقسیم کرتا رہا جو لوگوں میں ذوق ابھارتا رہا، جو عشق کا درس دیتا رہاجو اپنے سوز میں ہر ایک کو شریک کرتا رہا اور جو اپنے ساز زندگی پر حسن کے نغمے ترتیب دیتا رہا اور ان نغموں سے دل کے اتاروں میں اب تک تھر تھراہٹ ہے، اگرچہ حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کے متعدد نمایاں پہلو ہیں، ایک صوفی بزرگ، پختہ کار شاعر، روش خیال عالم دین، یہ سب ان کی طر حدار شخصیت کی جھلکیاں ہیں مگر میرے نزدیک ان کا سحر البیان خطیب ہونا بہت ممتاز اور روشن تعارف اور ان کی حکایت میں تصوف شعر و سخن کی چاشنی اور علم کا وقار سبھی موجود ہے ۔ (ایضاً)
❤1
حصول علم کے بعد تبلیغ دین اور فروغِ حبّ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا مشن بنایا اور ریاست بہالپور میں دھوم مچادی، آپ اپنی تقریروں میں قرآن مجید اور احادیث رسول ﷺ کی تلاوت اس خوش الحانی سے کرتے کہ پوری محفل پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی، اپنی سحر آفرین تقریروں میں مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ اور خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ کے فارسی اور سرائیکی اشاعر کا بر محل استعمال اس قدر شیریں لسانی سے کرتے کہ خطاب دو آتشہ ہو جاتا، آہستہ آہستہ آپ پنجاب اور بر صغیر کے کونے کونے میں پہنچے اور اپنی وجد آفریں تقریروں سے لوگوں کو گرمایا اور تڑپا دیا ۔
لاہور، اجمیر، امر تسر، دہلی اور دیگر مقامات پر بزرگان دین کے اعراس اور دینی محفلوں میں آپ کا خطاب خصوصی توجہ اور اشتیاق سے سنا جاتا اور سامعین مہینوں اس کی لذت اور حلاوت محسوس کرتے تھے ۔ عشقِ مصطفیٰ ﷺ ان کا اوڑھنا بچھونا اور مقصد حیات تھا، یہی وجہ ہے کہ ایک جہاں ان کی خوش الحانی جادو بیانی اور گرمی گفتار کا معترف اور گواہ ہے ۔ آپ کا اصل تعارف تاجدارِ مدینہ سرور کائنات ﷺ کی سچی محبت ہے اور پھر ساری زندگی عشق مصطفیٰ ﷺ کی سوغات تقسیم کرتے رہے ۔
مولانا سید فاروق القادری فرماتے ہیں: "سرور عالم ﷺ کی محبت کا نتیجہ بھی یہی تھا کہ ان پاکیزہ اوصاف اور احکام کی تبلیغ و ترویج کی جائے جن پر آپ ﷺ فائز تھے، اس حیثیت سے ہم دیکھتے ہیں تو خواجہ محمد یار رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی اسوۂ رسول ﷺ کی تصویر تھی آپ کا بیشتر وقت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی قیل و قال میں گزرتا، آپ نے زندگی ایک عام فرد کی حیثیت سے بسر کی عام آدمیوں کے دکھ درد میں شریک ہونا سب لوگوں کو حتی الامکان راضی رکھنے کی کوشش کرنا اپنے لیے امتیازی علامت قائم نہ کرنا اہل بیت اور مشائخ کے خانوادوں کے سامنے اپنی ہستی کو مٹا دینا، اپنی دوستی دشمنی میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو معیار بنانا آپ کی ایسی خصوصیات ہیں جنہیں محبت رسول ﷺ کے بغیر نہیں اپنایا جا سکتا ۔ (بحوالہ حضرت خواجہ محمد یار اور عشق رسول ﷺ) ـ
ڈاکٹر الطاف حسین جہانیاں، حضرت خواجہ محمد یار رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کی خصوصیات بیان کرتے ہیں: آپ بڑے قادر الکلام شاعر تھے، آپ کے کلام میں سادگی، مقامی رنگ، وعظ و نصیحت، درد و غم، سوز و گداز، تغزل، ترنم و موسیقیت مضمون آفرینی، نازک خیالی اور جدت ادا نمایاں طور پر نظر آتی ہے ۔ آپ کی ساری شاعری تصوف، وحدۃ الوجود، نعتِ حبیب ﷺ مدح صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور منقت اولیائے کرام پر مشتمل ہے ۔ (بہار چشت، بحوالہ حضرت خواجہ محمد یار فریدی شخصیت و کلام) ـ
وصال:
آپ کا وصال 1948ء کو لاہور میں ہوا ۔ اس وقت حالات کے پیش نظر حضرت میاں میر علیہ الرحمہ کے آستانہ عالیہ کی دیوارکے ساتھ بیرونی جانب امانتاً دفن کیا گیا، تقریباً چھ ماہ بعد آپ کو "گڑھی اختیار خان" میں موجودہ روضہ مبارک سے متصل جگہ میں سپرد خاک کیا گیا ۔ 14 سال بعد موجودہ مزار مبارک میں منتقل کیا گیا ۔ جب قبر کشائی ہوئی تو دیکھنے والے حیرت میں تھے کہ اتنا عرصہ بیت گیا، خاک نشینی کا دَورَانِیہ اتنا طویل کہ انسانی جسم کا خاک ہو جانا حقیقت، مگر یہاں کیا ہوا؟ نہ قلیل عرصہ اور نہ کثیر دورانیہ اثر انداز ہوا، یہ اس بات کا اعلان تھا کہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں فنا در اصل بقا کی ضمانت ہے ۔
؏:زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں ان کےنام پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا
حیرت بالائے حیرت تو یہ ہے کہ صاحبِ مزار کو پہلے سے ہی یقین تھا کہ ایسا ہی ہوگا ۔ اس لئے آپ نے پہلے فرما دیا تھا ـ
؏:وہ خاکسار ہوں برہم میرا مزار رہا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 14 رجب المرجب 1367ھ / مطابق 24 مئی 1948ء ،بروز پیر کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف "گڑھی اختیار خان" تحصیل خان پور، ضلع رحیم یار خان، پنجاب ،پاکستان میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔ بہار چشت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-muhammad-yaar-fareedi
لاہور، اجمیر، امر تسر، دہلی اور دیگر مقامات پر بزرگان دین کے اعراس اور دینی محفلوں میں آپ کا خطاب خصوصی توجہ اور اشتیاق سے سنا جاتا اور سامعین مہینوں اس کی لذت اور حلاوت محسوس کرتے تھے ۔ عشقِ مصطفیٰ ﷺ ان کا اوڑھنا بچھونا اور مقصد حیات تھا، یہی وجہ ہے کہ ایک جہاں ان کی خوش الحانی جادو بیانی اور گرمی گفتار کا معترف اور گواہ ہے ۔ آپ کا اصل تعارف تاجدارِ مدینہ سرور کائنات ﷺ کی سچی محبت ہے اور پھر ساری زندگی عشق مصطفیٰ ﷺ کی سوغات تقسیم کرتے رہے ۔
مولانا سید فاروق القادری فرماتے ہیں: "سرور عالم ﷺ کی محبت کا نتیجہ بھی یہی تھا کہ ان پاکیزہ اوصاف اور احکام کی تبلیغ و ترویج کی جائے جن پر آپ ﷺ فائز تھے، اس حیثیت سے ہم دیکھتے ہیں تو خواجہ محمد یار رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی اسوۂ رسول ﷺ کی تصویر تھی آپ کا بیشتر وقت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی قیل و قال میں گزرتا، آپ نے زندگی ایک عام فرد کی حیثیت سے بسر کی عام آدمیوں کے دکھ درد میں شریک ہونا سب لوگوں کو حتی الامکان راضی رکھنے کی کوشش کرنا اپنے لیے امتیازی علامت قائم نہ کرنا اہل بیت اور مشائخ کے خانوادوں کے سامنے اپنی ہستی کو مٹا دینا، اپنی دوستی دشمنی میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو معیار بنانا آپ کی ایسی خصوصیات ہیں جنہیں محبت رسول ﷺ کے بغیر نہیں اپنایا جا سکتا ۔ (بحوالہ حضرت خواجہ محمد یار اور عشق رسول ﷺ) ـ
ڈاکٹر الطاف حسین جہانیاں، حضرت خواجہ محمد یار رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کی خصوصیات بیان کرتے ہیں: آپ بڑے قادر الکلام شاعر تھے، آپ کے کلام میں سادگی، مقامی رنگ، وعظ و نصیحت، درد و غم، سوز و گداز، تغزل، ترنم و موسیقیت مضمون آفرینی، نازک خیالی اور جدت ادا نمایاں طور پر نظر آتی ہے ۔ آپ کی ساری شاعری تصوف، وحدۃ الوجود، نعتِ حبیب ﷺ مدح صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور منقت اولیائے کرام پر مشتمل ہے ۔ (بہار چشت، بحوالہ حضرت خواجہ محمد یار فریدی شخصیت و کلام) ـ
وصال:
آپ کا وصال 1948ء کو لاہور میں ہوا ۔ اس وقت حالات کے پیش نظر حضرت میاں میر علیہ الرحمہ کے آستانہ عالیہ کی دیوارکے ساتھ بیرونی جانب امانتاً دفن کیا گیا، تقریباً چھ ماہ بعد آپ کو "گڑھی اختیار خان" میں موجودہ روضہ مبارک سے متصل جگہ میں سپرد خاک کیا گیا ۔ 14 سال بعد موجودہ مزار مبارک میں منتقل کیا گیا ۔ جب قبر کشائی ہوئی تو دیکھنے والے حیرت میں تھے کہ اتنا عرصہ بیت گیا، خاک نشینی کا دَورَانِیہ اتنا طویل کہ انسانی جسم کا خاک ہو جانا حقیقت، مگر یہاں کیا ہوا؟ نہ قلیل عرصہ اور نہ کثیر دورانیہ اثر انداز ہوا، یہ اس بات کا اعلان تھا کہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں فنا در اصل بقا کی ضمانت ہے ۔
؏:زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں ان کےنام پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا
حیرت بالائے حیرت تو یہ ہے کہ صاحبِ مزار کو پہلے سے ہی یقین تھا کہ ایسا ہی ہوگا ۔ اس لئے آپ نے پہلے فرما دیا تھا ـ
؏:وہ خاکسار ہوں برہم میرا مزار رہا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 14 رجب المرجب 1367ھ / مطابق 24 مئی 1948ء ،بروز پیر کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف "گڑھی اختیار خان" تحصیل خان پور، ضلع رحیم یار خان، پنجاب ،پاکستان میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔ بہار چشت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-muhammad-yaar-fareedi
scholars.pk
Hazrat Molana Muhammad Yaar Garhi Sharif
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1