🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-07-1445 ᴴ | 24-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-07-1445 ᴴ | 24-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کینو اور مالٹا کے حیران کُن فائدے
Orange Winter Benefits
مکاتب کی ضرورت زیادہ ہے. مکتب
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کینو اور مالٹا کے حیران کُن فائدے
Orange Winter Benefits
مکاتب کی ضرورت زیادہ ہے. مکتب
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت مولانا عبد الحق غور غشتوی
محقق بے مثیل علامہ میاں عبد الحق ابن میر احمد ابن فضل احمد ابن شیخ احمد صحابئ رسول حضرت سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد امجاد سے ہیں، آپ ایک برس کے تھے کہ آپ کے والد ماجد نے وفات پائی ـ
آپ کے چچا حضرت علامہ فیضی میاں رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی تربیت کی، اور تعلیم کی طرف متوجہ کیا، کافیہ وغیرہ مولانا فضل احمد صاحب سے بمقام غازی پڑھا،۔۔۔۔ مولانا سید حبیب شاہ قاضٰ پوری سے بھی درس لیا۔۔۔ مولانا نور گل صاحب تلمیذ علامہ فضل حق رامپوری سے بھی اخذ فیض کیا، مولانا محمد دین صاحب بدھوی تلمیذ مولانا فضل حق رام پوری سے علوم حکمیہ کی تکمیل کی ـ
دار العلوم دیوبند کی شہرت سُن کر دورہ حدیث کے لیے وہاں پر پہونچے، مگر دیوبندیوں کے غلط اور ہونلانک عقائد سے بیزاری کے سبب سے دوران سال ہی میں واپس لوٹ گئے، فراغت کے بعد مکھڈ شریف اور آستانۂ عالیہ سیال شریف میں بھی درس دیا، اس کے بعد چالیس برس تک غور غشتی ضلع کیمل پور میں اپنی مسجد میں درس دیا،
مولانا گل اکرام صاحب راولپنڈی، مولانا ہدایت الحق صاحب مہتمم مدرسہ حقائق العلوم غوثیہ حضرت وضلع کیمل پور، مولانا عبد الحق صاحب بارہ زئ اور آپ کےبڑے صاحبزادے مولانا محمد نعمان خطیب جامع مسجد غوثیہ نصیر آباد، راولپنڈی، آپ کے ممتاز تلامذہ میں ہیں۔
مسئلہ نور آپ کے عربی رسالہ ‘‘نور الانوارنی بیان نور سید الابرار’’ کا ابھی حال میں علامہ محمد عبد الحکیم شرف لاہوری استاذ دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور ضلع ہزارہ نےاُردو ترجمہ کر کے شائع کیا ہے ـ
وصال:
13 رجب المرجب 695ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-haq-ghaur
محقق بے مثیل علامہ میاں عبد الحق ابن میر احمد ابن فضل احمد ابن شیخ احمد صحابئ رسول حضرت سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد امجاد سے ہیں، آپ ایک برس کے تھے کہ آپ کے والد ماجد نے وفات پائی ـ
آپ کے چچا حضرت علامہ فیضی میاں رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی تربیت کی، اور تعلیم کی طرف متوجہ کیا، کافیہ وغیرہ مولانا فضل احمد صاحب سے بمقام غازی پڑھا،۔۔۔۔ مولانا سید حبیب شاہ قاضٰ پوری سے بھی درس لیا۔۔۔ مولانا نور گل صاحب تلمیذ علامہ فضل حق رامپوری سے بھی اخذ فیض کیا، مولانا محمد دین صاحب بدھوی تلمیذ مولانا فضل حق رام پوری سے علوم حکمیہ کی تکمیل کی ـ
دار العلوم دیوبند کی شہرت سُن کر دورہ حدیث کے لیے وہاں پر پہونچے، مگر دیوبندیوں کے غلط اور ہونلانک عقائد سے بیزاری کے سبب سے دوران سال ہی میں واپس لوٹ گئے، فراغت کے بعد مکھڈ شریف اور آستانۂ عالیہ سیال شریف میں بھی درس دیا، اس کے بعد چالیس برس تک غور غشتی ضلع کیمل پور میں اپنی مسجد میں درس دیا،
مولانا گل اکرام صاحب راولپنڈی، مولانا ہدایت الحق صاحب مہتمم مدرسہ حقائق العلوم غوثیہ حضرت وضلع کیمل پور، مولانا عبد الحق صاحب بارہ زئ اور آپ کےبڑے صاحبزادے مولانا محمد نعمان خطیب جامع مسجد غوثیہ نصیر آباد، راولپنڈی، آپ کے ممتاز تلامذہ میں ہیں۔
مسئلہ نور آپ کے عربی رسالہ ‘‘نور الانوارنی بیان نور سید الابرار’’ کا ابھی حال میں علامہ محمد عبد الحکیم شرف لاہوری استاذ دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور ضلع ہزارہ نےاُردو ترجمہ کر کے شائع کیا ہے ـ
وصال:
13 رجب المرجب 695ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-haq-ghaur
❤1👍1
حضرت مولانا عبد السلام عباسی بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ مشاہیر علمائے ہند میں تھے ـ
ولادت:
۱۲۷۱ھ میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
آپ علیہ الرحمہ نے اپنے چچا مولانا بہاء الحق (تلمیذ رشید مولانا بحر العلوم فرنگی محلی) اور علماء رامپور سے اخذ علوم کیا ـ
آپ ریاست رام پور میں قاضی محکمہ شرعی تھے ـ
بیعت و خلافت:
حضور شاہ آل احمد اچھے میاں مارہروی کے مرید تھے، مرشد کے برادر زاد ہو جانشین حضرت مخدوم شاہ آل رسول قدس سرہ نے خرقہ اور مثال خلافت سے نوازا ـ
آپ علیہ الرحمہ آخر میں مسجد نشین ہو گئے تھے، شاعر بھی تھے، کلام بلند ہوتا تھا، زیادہ تر فارسی میں کہا، سلام تخلص کرتے تھے ـ
تصانیف:
تصانیف میں تفسیر زاد الآخرت اردو منظوم، اخیار الابرار تصوف میں معرکۃ الآرا ہیں ـ
وصال:
۱۳ رجب ۱۲۸۹ھ بروز چہار شنبہ جاں بحق ہوئے، مشہور عالم مولانا محمد حسن سنبھلی آپ کے تلمیذ رشید تھے، کسی نے تاریخ وفات کہی ہے ۔
قاضی عبدالسلام حق آگاہ
عالم و باکمال و عارف
چہار شنبہ بہ سیزدۂ رجب
یافتہ وصل قادر مطلق
مسجد مولوی حبیب اللہ
یافتہ از مزار شاں رونق
سال وصلش زدل چو پرسیدم
گفت آں بودہ قاضی برحق
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-salam-abbasi-badayuni
آپ مشاہیر علمائے ہند میں تھے ـ
ولادت:
۱۲۷۱ھ میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
آپ علیہ الرحمہ نے اپنے چچا مولانا بہاء الحق (تلمیذ رشید مولانا بحر العلوم فرنگی محلی) اور علماء رامپور سے اخذ علوم کیا ـ
آپ ریاست رام پور میں قاضی محکمہ شرعی تھے ـ
بیعت و خلافت:
حضور شاہ آل احمد اچھے میاں مارہروی کے مرید تھے، مرشد کے برادر زاد ہو جانشین حضرت مخدوم شاہ آل رسول قدس سرہ نے خرقہ اور مثال خلافت سے نوازا ـ
آپ علیہ الرحمہ آخر میں مسجد نشین ہو گئے تھے، شاعر بھی تھے، کلام بلند ہوتا تھا، زیادہ تر فارسی میں کہا، سلام تخلص کرتے تھے ـ
تصانیف:
تصانیف میں تفسیر زاد الآخرت اردو منظوم، اخیار الابرار تصوف میں معرکۃ الآرا ہیں ـ
وصال:
۱۳ رجب ۱۲۸۹ھ بروز چہار شنبہ جاں بحق ہوئے، مشہور عالم مولانا محمد حسن سنبھلی آپ کے تلمیذ رشید تھے، کسی نے تاریخ وفات کہی ہے ۔
قاضی عبدالسلام حق آگاہ
عالم و باکمال و عارف
چہار شنبہ بہ سیزدۂ رجب
یافتہ وصل قادر مطلق
مسجد مولوی حبیب اللہ
یافتہ از مزار شاں رونق
سال وصلش زدل چو پرسیدم
گفت آں بودہ قاضی برحق
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-salam-abbasi-badayuni
❤1👍1
حضرت مولانا حاجی ہاشم کھتری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت مولانا الحاج محمد ہاشم بن میاں عبد اللہ دھوبی نزد چوہڑ جمالی، گوٹھ ’’گونگانی‘‘ (تحصیل شاہ بندر ضلع ٹھٹھہ) میں ۱۱ رجب المرجب ۱۲۵۰ھ میں بروز پیر تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم اپنے چچا مولانا ابو اسحاق عبد الغفور دھوبی سے حاصل کی اس کے ساتھ اسکول میں پرائمری تعلیم بھی جاری رکھی ۔ اس کے بعد گوٹھ کے پرائمری اسکول میں استاد مقرر ہوئے ۔ ایک روز ان کی قسمت کا ستارہ چمکا، ہوا یوں کہ ان کے گوٹھ میں استاد العلماء حضرت علامہ ابو الخیر قاضی عبد اللہ جتوئی کا آنا ہوا، انہوں نے آپ کے ماتھے کو دیکھ کر نوشتہ دیوار پڑھ لیا، گوہر نایاب کو پہچان لیا، اور اپنے ساتھ اپنے گوٹھ لے گئے، جہاں تعلیم و تربیت کا بند و بست کیا، وہیں سے درس نظامی مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے۔ اس کے بعد ہندوستان کی سیاحت کو نکل گئے ۔
بیعت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں حضرت خواجہ عبد الرحمن جان سر ہندی فاروقی قدس سرہٗ سے دست بیعت ہوئے ۔
مدرسہ کا قیام:
۱۸۹۲ء کے سیلاب کے سبب مولانا نے گوٹھ گانگانی سے منتقل ہو کر تحصیل میر پور ساکرو (ضلع ٹھٹھہ) کے شہر غلام اللہ میں اپنا گوٹھ قائم کیا۔ جس میں ایک عظیم الشان مدرسہ ’’دارالعلوم فیض ہاشمیہ‘‘ اور ایک مسجد شریف تعمیر کروائی۔ اس کے علاوہ ایک عظیم الشان کتب خانہ بھی مدرسہ میں قائم فرمایا تھا۔ جہاں سے بے شمار علم کے پیاسے سیراب ہو کر نکلتے ۔
آپ کی زندگی بھی درس و تدریس ، تصنیف و تالیف اور وعظ و نصیحت سے وابستہ رہی ۔
تلامذہ:
۱۔ مولانا ممیر محمد جتوئی
۲۔ مولانا محمد عمر کھتری چوہڑ جمالی
۳۔ مولانا غلام محمد بلوچ
۴۔ مولوی نور محمد زنگیانی
۵۔ مولوی محمد عمر جت (گھوڑا باڑی)
صاحب حضوری:
مولانا محمد ہاشم جید عالم، شب خیز عابد، قناعت پسند زاہد، صاحب فتویٰ مفتی، پرہیزگار ، مہمان نواز، علماء شناس، سادہ طبیعت، مشفق و مہربان، اور ولی اللہ تھے ۔ درود شریف کے مبلغ، حضور پر نور ﷺ کے عاشق زار تھے اسی لئے تو کثرت سے درود شریف پڑھا کرتے تھے، ساری ساری رات درود شریف کا ورد کرتے ، ایک بار تو ایک کروڑ درود شریف کا ختم کیا۔ کثرت سے درود شریف پڑھنے والے کا سینہ کھل جاتا ہے، آپ کے سینے کا بھی انشراح ہوا حضور ﷺ کی محفل پاک میں آنے جانے کی ٹکٹ جاری ہوگئی، اس لئے ’’حضوری‘‘ کے لقب سے یاد کئے جاتے ہیں ۔
ایک بار فقیر محمد اسماعیل ’’خاطی‘‘ ٹھٹھوی کے والد صاحب کو مشکل کشائی اور سخت مصیبت میں حاجت روائی کیلئے ایک درود شریف بتایا اور فرمایا ’’یہ درود شریف اسم اعظم ہے ، اس کو ایک ہزار بار روزانہ سات دن پڑھا جائے تو جبل (پہاڑ) بھی اپنی جگہ سے ہٹ سکتا ہے‘‘ اور وہ یہ ہے:
الصلوٰۃ واسللام علیک یا سیدی قرۃ عینی یا رسول اللہ ﷺ
خذ بیدی قلت حیلتی ادرکنی یا رسول اللہ ﷺ
(برکات الصلوٰۃ سندھی، ص:۶۶)
عادات و خصائل:
مونالا نہ صرف عالم با عمل تھے بلکہ صاحب حضوری ولی اللہ تھے ۔ چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی، ہر چھوٹے اور بڑے سے خندہ پیشانی سے ملتے تھے ۔ عربی ، فارسی، ہندی اور اردو پر دسترس رکھتے تھے، سندھی تو مادری زبان تھی ۔ حافظہ قوی، حاضر جوابی میں ضرب المثل تھے ۔ فقیہ و بہترین مفتی تھے ۔ عارف کامل حضرت سید شاہ عبداللطیف بھٹائی قدس سرہٗ کے کلام پر کامل مہارت رکھتے تھے اور شاہ جو رسالو‘‘ کے بہترین شارح تھے، رسالہ میں تمثیلی واقعات کے پس منظر سے بخوبی واقف تھے ۔ آپ جب بھٹائی صاحب کا عارفانہ کلام پڑھتے تو ایک رقت سی طاری ہو جاتی تھی ۔
تصنیف و تالیف:
آپ تقریر و تحریر دونوں پر عبور رکھتے تھے۔ ساٹھ سے زائد کتابوں کا مختلف زبانوں میں مثلاً عربی، فارسی، اردو اور ہندی میں ترجمے کئے، ان میں فلسفہ حکمت تصوف فقہ اور علم جفر وغیرہ موضوعات آجاتے ہیں ۔ اسی طرح کئی درسی و دیگر عربی کتب پر حواشی لگائے ۔ لیکن مضمون نگار نے ان کتب کے نام نہیں گنوائے ہیں ۔
شاعری:
اس کے علاوہ مولانا کو شعر و شاعری سے بھی دلچسپی تھی ۔ آپ کا نعتیہ کلام آج بھی نعت خواں حضرات ٹھٹھہ و مضافات میں بڑے شوق و ذوق سے سناتے ہیں ۔
اولاد:
آپ کو تین بیٹے تولد ہوئے۔
۱۔ مولانا محمد سلیم
۲۔ میاں حافظ احمد
۳۔ میاں حاجی عمر
وصال:
حضرت مولانا محمد ہاشم نے ۱۳ ، رجب المرجب ۱۳۸۰ھ بمطابق ۲۱ دسمبر ۱۹۶۱ء بروز جمعرات ۱۳۰ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ آپ کا مزار غلام اللہ ضلع ٹھٹھہ (سندھ) میں مرجع خلائق ہے۔
[محترم حافظ حبیب سندھی، چوہڑ جمالی، نے مواد فراہم کیا۔ فقیر نہایت مشکور ہے۔]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-haji-hashim-khatri
حضرت مولانا الحاج محمد ہاشم بن میاں عبد اللہ دھوبی نزد چوہڑ جمالی، گوٹھ ’’گونگانی‘‘ (تحصیل شاہ بندر ضلع ٹھٹھہ) میں ۱۱ رجب المرجب ۱۲۵۰ھ میں بروز پیر تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم اپنے چچا مولانا ابو اسحاق عبد الغفور دھوبی سے حاصل کی اس کے ساتھ اسکول میں پرائمری تعلیم بھی جاری رکھی ۔ اس کے بعد گوٹھ کے پرائمری اسکول میں استاد مقرر ہوئے ۔ ایک روز ان کی قسمت کا ستارہ چمکا، ہوا یوں کہ ان کے گوٹھ میں استاد العلماء حضرت علامہ ابو الخیر قاضی عبد اللہ جتوئی کا آنا ہوا، انہوں نے آپ کے ماتھے کو دیکھ کر نوشتہ دیوار پڑھ لیا، گوہر نایاب کو پہچان لیا، اور اپنے ساتھ اپنے گوٹھ لے گئے، جہاں تعلیم و تربیت کا بند و بست کیا، وہیں سے درس نظامی مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے۔ اس کے بعد ہندوستان کی سیاحت کو نکل گئے ۔
بیعت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں حضرت خواجہ عبد الرحمن جان سر ہندی فاروقی قدس سرہٗ سے دست بیعت ہوئے ۔
مدرسہ کا قیام:
۱۸۹۲ء کے سیلاب کے سبب مولانا نے گوٹھ گانگانی سے منتقل ہو کر تحصیل میر پور ساکرو (ضلع ٹھٹھہ) کے شہر غلام اللہ میں اپنا گوٹھ قائم کیا۔ جس میں ایک عظیم الشان مدرسہ ’’دارالعلوم فیض ہاشمیہ‘‘ اور ایک مسجد شریف تعمیر کروائی۔ اس کے علاوہ ایک عظیم الشان کتب خانہ بھی مدرسہ میں قائم فرمایا تھا۔ جہاں سے بے شمار علم کے پیاسے سیراب ہو کر نکلتے ۔
آپ کی زندگی بھی درس و تدریس ، تصنیف و تالیف اور وعظ و نصیحت سے وابستہ رہی ۔
تلامذہ:
۱۔ مولانا ممیر محمد جتوئی
۲۔ مولانا محمد عمر کھتری چوہڑ جمالی
۳۔ مولانا غلام محمد بلوچ
۴۔ مولوی نور محمد زنگیانی
۵۔ مولوی محمد عمر جت (گھوڑا باڑی)
صاحب حضوری:
مولانا محمد ہاشم جید عالم، شب خیز عابد، قناعت پسند زاہد، صاحب فتویٰ مفتی، پرہیزگار ، مہمان نواز، علماء شناس، سادہ طبیعت، مشفق و مہربان، اور ولی اللہ تھے ۔ درود شریف کے مبلغ، حضور پر نور ﷺ کے عاشق زار تھے اسی لئے تو کثرت سے درود شریف پڑھا کرتے تھے، ساری ساری رات درود شریف کا ورد کرتے ، ایک بار تو ایک کروڑ درود شریف کا ختم کیا۔ کثرت سے درود شریف پڑھنے والے کا سینہ کھل جاتا ہے، آپ کے سینے کا بھی انشراح ہوا حضور ﷺ کی محفل پاک میں آنے جانے کی ٹکٹ جاری ہوگئی، اس لئے ’’حضوری‘‘ کے لقب سے یاد کئے جاتے ہیں ۔
ایک بار فقیر محمد اسماعیل ’’خاطی‘‘ ٹھٹھوی کے والد صاحب کو مشکل کشائی اور سخت مصیبت میں حاجت روائی کیلئے ایک درود شریف بتایا اور فرمایا ’’یہ درود شریف اسم اعظم ہے ، اس کو ایک ہزار بار روزانہ سات دن پڑھا جائے تو جبل (پہاڑ) بھی اپنی جگہ سے ہٹ سکتا ہے‘‘ اور وہ یہ ہے:
الصلوٰۃ واسللام علیک یا سیدی قرۃ عینی یا رسول اللہ ﷺ
خذ بیدی قلت حیلتی ادرکنی یا رسول اللہ ﷺ
(برکات الصلوٰۃ سندھی، ص:۶۶)
عادات و خصائل:
مونالا نہ صرف عالم با عمل تھے بلکہ صاحب حضوری ولی اللہ تھے ۔ چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی، ہر چھوٹے اور بڑے سے خندہ پیشانی سے ملتے تھے ۔ عربی ، فارسی، ہندی اور اردو پر دسترس رکھتے تھے، سندھی تو مادری زبان تھی ۔ حافظہ قوی، حاضر جوابی میں ضرب المثل تھے ۔ فقیہ و بہترین مفتی تھے ۔ عارف کامل حضرت سید شاہ عبداللطیف بھٹائی قدس سرہٗ کے کلام پر کامل مہارت رکھتے تھے اور شاہ جو رسالو‘‘ کے بہترین شارح تھے، رسالہ میں تمثیلی واقعات کے پس منظر سے بخوبی واقف تھے ۔ آپ جب بھٹائی صاحب کا عارفانہ کلام پڑھتے تو ایک رقت سی طاری ہو جاتی تھی ۔
تصنیف و تالیف:
آپ تقریر و تحریر دونوں پر عبور رکھتے تھے۔ ساٹھ سے زائد کتابوں کا مختلف زبانوں میں مثلاً عربی، فارسی، اردو اور ہندی میں ترجمے کئے، ان میں فلسفہ حکمت تصوف فقہ اور علم جفر وغیرہ موضوعات آجاتے ہیں ۔ اسی طرح کئی درسی و دیگر عربی کتب پر حواشی لگائے ۔ لیکن مضمون نگار نے ان کتب کے نام نہیں گنوائے ہیں ۔
شاعری:
اس کے علاوہ مولانا کو شعر و شاعری سے بھی دلچسپی تھی ۔ آپ کا نعتیہ کلام آج بھی نعت خواں حضرات ٹھٹھہ و مضافات میں بڑے شوق و ذوق سے سناتے ہیں ۔
اولاد:
آپ کو تین بیٹے تولد ہوئے۔
۱۔ مولانا محمد سلیم
۲۔ میاں حافظ احمد
۳۔ میاں حاجی عمر
وصال:
حضرت مولانا محمد ہاشم نے ۱۳ ، رجب المرجب ۱۳۸۰ھ بمطابق ۲۱ دسمبر ۱۹۶۱ء بروز جمعرات ۱۳۰ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ آپ کا مزار غلام اللہ ضلع ٹھٹھہ (سندھ) میں مرجع خلائق ہے۔
[محترم حافظ حبیب سندھی، چوہڑ جمالی، نے مواد فراہم کیا۔ فقیر نہایت مشکور ہے۔]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-haji-hashim-khatri
❤1
حضرت امام سیّد نقی علی ہادی علیہالرحمہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علی ۔ کنیت: ابو الحسن ۔
القاب: نقی، ہادی، زکی، عسکری، متوکل، ناصح، فقیہ، امین، طیب ۔
نسب:
حضرت سیّدنا امام علی نقی علیہ
الرحمہ کا سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
حضرت سیّدنا علی نقی بن محمد بن علی بن موسیٰ بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی المرتضیٰ و فاطمۃ الزہرا بنتِ رسول اللہ ﷺ ۔
والدہ کا نام:
آپ کی والدۂ محترمہ کا نام حضرت سمانہ ہے ۔
ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت بروز جمعۃ المبارک، 13 رجب المرجب 214ھ / مطابق 14 ستمبر 829ء کو مدینۃ المنورہ میں ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
نقی، تقی، ہادی زکی، ناصح، فقیہ، محدث، طیب، طاہر حضرت امام لمسلمین سیّدنا امام علی نقی علم و عمل، زُہد و تقویٰ میں اپنے آبا و اَجداد کی علمی و روحانی امانتوں کے امین و وارثِ کامل تھے ۔ جب چھ سال کی عمر کو پہنچے تو والدِ ماجد کا انتقال ہو گیا ۔ بچپن ہی میں کرامات کا ظہور شروع ہو گیا تھا ۔ دور سے ہی معلوم ہوتا تھا کہ یہ خاندانِ نبوّت کے چشم و چراغ ہیں ۔
اللہ جل شانہ نے اِس امّتِ مرحومہ کے دلوں میں فطری طور پر اِس خاندان کی محبّت ودیعت فرما دی ہے، اور ان کی محبت کو ایمان کی علامت بتایا گیا ہے ۔ یہ جہاں بھی تشریف فرما ہوتے تھے مخلوقِ خدا پروانہ وار ان پر گرتی تھی اور دنیا کے بندے جن کے پاس کرسی، عہدے، لشکر وغیرہ ہر چیز ہوتی تھی، وہ یہ چیزیں دیکھ کر حیران اور حسد کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے کہ سب کچھ تو ہمارے پاس ہے لیکن ہماری وہ عزّت و شوکت نہیں ہے، جو اس گلستانِ کرم کے ایک پھول کی ہے ۔ آپ کو بھی اس راستے میں ستایا گیا، تکلیفیں دی گئیں؛ لیکن آپ جرأتِ حیدری اور صبرِ حسینی کی مثال بَن کر شان و شوکت کی زندگی گزارتے رہے ۔ کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا جو بھی آیا خالی ہاتھ نہ گیا ۔
حضرت امام نقی ایک دن رے کے دیہات میں تشریف لے گئے ۔ ایک دیہاتی نے آ کر عرض کی کہ میرے ذمّے ایک بہت بڑا قرضہ ہے کہ میں اس کے ادا کرنے سے قاصر ہوں ۔ حضرت امام اس کی بات سے اتنے متاثر ہوئے کہ ایک رقعہ تیس ہزار کا لکھ دیا اور اپنی مہر چسپاں کردی اور اس کے حوالے کرتے ہُوئے کہا کل جب میں اُمراء میں بیٹھا ہوا ہوں لے آنا اور شدید تقاضا کرنا اور بے شک درشت کلامی بھی کر لینا اور اس تدبیر سے تمہارا قرضہ بے باک کرنے میں مدد مل جائے گی ۔
دیہاتی نے وہ تمسک لیا اور چلا گیا ۔ ایک دن خلیفۂ بغداد سے ملنے کے لیے بہت سی مخلوق آئی ہوئی تھی، مجلس جمی ہوئی تھی ۔ اعرابی آ گیا اور تمسک نامہ پیش کیا اور تیس ہزار روپے کا تقاضا کرنے لگا اور سخت توہین آمیز الفاظ استعمال کرتا رہا ۔ حضرت امام نے بڑی نرمی سے اسے ٹالا اور سہولت کے ساتھ ادائیگی کا وعدہ کر لیا ۔ خلیفہ نے یہ صورتِ حال دیکھی ۔ تیس ہزار روپے خزانے سے منگوا کر حضرت امام کی خدمت میں پیش کیے اور یُوں آپ نے اُس دیہاتی کو دے کر روانہ کیا ۔
فضل و کمال:
متوکل نے اپنے گھر میں ہر قسم کے پرندے جمع کر رکھے تھے ۔ اُن کے شور و غل سے بات سنی نہیں جاتی تھی ۔ جب سیّدنا امام علی نقی وہاں تشریف لے جاتے تو تمام پرندے خاموش ہو جاتے تھے ۔ جب تک بیٹھے رہتے کسی جانور کی آواز نہ آتی تھی ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علی ۔ کنیت: ابو الحسن ۔
القاب: نقی، ہادی، زکی، عسکری، متوکل، ناصح، فقیہ، امین، طیب ۔
نسب:
حضرت سیّدنا امام علی نقی علیہ
الرحمہ کا سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
حضرت سیّدنا علی نقی بن محمد بن علی بن موسیٰ بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی المرتضیٰ و فاطمۃ الزہرا بنتِ رسول اللہ ﷺ ۔
والدہ کا نام:
آپ کی والدۂ محترمہ کا نام حضرت سمانہ ہے ۔
ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت بروز جمعۃ المبارک، 13 رجب المرجب 214ھ / مطابق 14 ستمبر 829ء کو مدینۃ المنورہ میں ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
نقی، تقی، ہادی زکی، ناصح، فقیہ، محدث، طیب، طاہر حضرت امام لمسلمین سیّدنا امام علی نقی علم و عمل، زُہد و تقویٰ میں اپنے آبا و اَجداد کی علمی و روحانی امانتوں کے امین و وارثِ کامل تھے ۔ جب چھ سال کی عمر کو پہنچے تو والدِ ماجد کا انتقال ہو گیا ۔ بچپن ہی میں کرامات کا ظہور شروع ہو گیا تھا ۔ دور سے ہی معلوم ہوتا تھا کہ یہ خاندانِ نبوّت کے چشم و چراغ ہیں ۔
اللہ جل شانہ نے اِس امّتِ مرحومہ کے دلوں میں فطری طور پر اِس خاندان کی محبّت ودیعت فرما دی ہے، اور ان کی محبت کو ایمان کی علامت بتایا گیا ہے ۔ یہ جہاں بھی تشریف فرما ہوتے تھے مخلوقِ خدا پروانہ وار ان پر گرتی تھی اور دنیا کے بندے جن کے پاس کرسی، عہدے، لشکر وغیرہ ہر چیز ہوتی تھی، وہ یہ چیزیں دیکھ کر حیران اور حسد کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے کہ سب کچھ تو ہمارے پاس ہے لیکن ہماری وہ عزّت و شوکت نہیں ہے، جو اس گلستانِ کرم کے ایک پھول کی ہے ۔ آپ کو بھی اس راستے میں ستایا گیا، تکلیفیں دی گئیں؛ لیکن آپ جرأتِ حیدری اور صبرِ حسینی کی مثال بَن کر شان و شوکت کی زندگی گزارتے رہے ۔ کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا جو بھی آیا خالی ہاتھ نہ گیا ۔
حضرت امام نقی ایک دن رے کے دیہات میں تشریف لے گئے ۔ ایک دیہاتی نے آ کر عرض کی کہ میرے ذمّے ایک بہت بڑا قرضہ ہے کہ میں اس کے ادا کرنے سے قاصر ہوں ۔ حضرت امام اس کی بات سے اتنے متاثر ہوئے کہ ایک رقعہ تیس ہزار کا لکھ دیا اور اپنی مہر چسپاں کردی اور اس کے حوالے کرتے ہُوئے کہا کل جب میں اُمراء میں بیٹھا ہوا ہوں لے آنا اور شدید تقاضا کرنا اور بے شک درشت کلامی بھی کر لینا اور اس تدبیر سے تمہارا قرضہ بے باک کرنے میں مدد مل جائے گی ۔
دیہاتی نے وہ تمسک لیا اور چلا گیا ۔ ایک دن خلیفۂ بغداد سے ملنے کے لیے بہت سی مخلوق آئی ہوئی تھی، مجلس جمی ہوئی تھی ۔ اعرابی آ گیا اور تمسک نامہ پیش کیا اور تیس ہزار روپے کا تقاضا کرنے لگا اور سخت توہین آمیز الفاظ استعمال کرتا رہا ۔ حضرت امام نے بڑی نرمی سے اسے ٹالا اور سہولت کے ساتھ ادائیگی کا وعدہ کر لیا ۔ خلیفہ نے یہ صورتِ حال دیکھی ۔ تیس ہزار روپے خزانے سے منگوا کر حضرت امام کی خدمت میں پیش کیے اور یُوں آپ نے اُس دیہاتی کو دے کر روانہ کیا ۔
فضل و کمال:
متوکل نے اپنے گھر میں ہر قسم کے پرندے جمع کر رکھے تھے ۔ اُن کے شور و غل سے بات سنی نہیں جاتی تھی ۔ جب سیّدنا امام علی نقی وہاں تشریف لے جاتے تو تمام پرندے خاموش ہو جاتے تھے ۔ جب تک بیٹھے رہتے کسی جانور کی آواز نہ آتی تھی ۔
❤1
ہندوستان کا ایک شعبدہ باز خلیفہ متوکل کے دربار میں آیا اور عجیب و غریب شعبدے دکھانے لگا؛ ایک دن متوکل نے شعبدے باز سے کہا:
’’اگر تم اپنے شعبدے سے امام علی نقی کو شرمندہ کر دکھاؤ تو میں تمہیں ایک ہزار دینار انعام دوں گا۔‘‘
وہ کہنے لگا:
’’مجھے مجلس میں امام کے بالکل قریب بٹھا دینا، میں اُنہیں شرمندہ کر دوںگا۔‘‘
جب مجلس لگی تو حضرت امام کو اس شعبدے باز کے ساتھ ہی کھانا کھانے کو کہا گیا ۔ جب امام اور دوسرے اہل مجلس کھانا کھانے لگے تو حضرت امام علی نقی نے جس روٹی کی طرف ہاتھ بڑھایا وہ اڑکر دوسرے شخص کی طرف چلی گئی ۔ دوسری بار ہاتھ بڑھایا تو پھر ایسا ہی ہوا ۔ تیسری بار بھی ایسا ہی ہوا ۔
اہلِ مجلس اس شعبدے سے بڑے محظوظ ہوئے اور حضرت امام پر ہنسنے لگے ۔ آپ نے معلوم کر لیا کہ اس شعبدے کا مقام یہاں ہے، جو شخص میرے پاس بیٹھا ہے ۔ آپ نے سر اٹھا کر دیکھا تو اُس مکان کی دیوار پر ایک شیر کی تصویر نقش تھی ۔
آپ نے اُس شیر کی طرف اشارہ کرکے کہا:
’’ اِس دشمنِ اہلِ بیت کو پکڑ لو ۔ ‘‘
حکم سنتے ہی تصویر والا شیر اصلی شیر کی طرح اُٹھا اور شعبدے باز کا ایک لقمہ کرکے پھر دیوار پر نقش بن گیا ۔ متوکل نے بڑی کوشش کی کہ اُسے لوٹا دیا جائے مگر آپ نے ایک نہ مانی ۔
آپ نے فرمایا:
’’خدا کی قسم! ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔‘‘
آپ غصے کے عالم میں مجلس سے اُٹھ کر چلے آئے۔
آپ نے ساری زندگی رسول اللہ ﷺ کے دین کی خدمت اور نشر و اشاعت فرمائی ۔ لوگوں کو وعظ و نصیحت اور اُن کا تزکیۂ نفس آپ کا مشغلہ تھا ۔ لوگوں کو دنیا کی بے ثباتی اور اس کی محبت کے نقصانات اور اس کے مقابلے میں اخروی نعمتیں اور اُن کی ثباتی اور اللہ جل شانہ اور اس کےحبیب ﷺ کی محبت کی تلقین فرماتے تھے ۔ ہر قسم کے دنیاوی عہدوں، منصبوں اور دنیا داروں سے دور رہتے تھے ۔
علامہ جامی فرماتے ہیں:
’’حضرت رضا علی بن محمد موسیٰ سے منقول ہے کہ
جس شخص نے آپ کی مرقد کی زیارت کی، اُسے جنّت کا حصول ہوگا۔‘‘ (صحیح العقیدہ ہونا شرط ہے) ـ (بارہ امام: صفحہ: 208) ـ
وصال:
آپ کا وصال 25 جمادی الآخرہ 254ھ / مطابق 19 جون 868ء کو ہوا ۔ مزار شریف ’’سامرہ‘‘ عراق میں مرجعِ خلائق ہے ۔
مآخذ و مَراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ شریف التواریخ ۔ اقتباس الانوار ۔ بارہ امام، علامہ جامی ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-ul-muslimeen-syedna-imam-ali-naqi
’’اگر تم اپنے شعبدے سے امام علی نقی کو شرمندہ کر دکھاؤ تو میں تمہیں ایک ہزار دینار انعام دوں گا۔‘‘
وہ کہنے لگا:
’’مجھے مجلس میں امام کے بالکل قریب بٹھا دینا، میں اُنہیں شرمندہ کر دوںگا۔‘‘
جب مجلس لگی تو حضرت امام کو اس شعبدے باز کے ساتھ ہی کھانا کھانے کو کہا گیا ۔ جب امام اور دوسرے اہل مجلس کھانا کھانے لگے تو حضرت امام علی نقی نے جس روٹی کی طرف ہاتھ بڑھایا وہ اڑکر دوسرے شخص کی طرف چلی گئی ۔ دوسری بار ہاتھ بڑھایا تو پھر ایسا ہی ہوا ۔ تیسری بار بھی ایسا ہی ہوا ۔
اہلِ مجلس اس شعبدے سے بڑے محظوظ ہوئے اور حضرت امام پر ہنسنے لگے ۔ آپ نے معلوم کر لیا کہ اس شعبدے کا مقام یہاں ہے، جو شخص میرے پاس بیٹھا ہے ۔ آپ نے سر اٹھا کر دیکھا تو اُس مکان کی دیوار پر ایک شیر کی تصویر نقش تھی ۔
آپ نے اُس شیر کی طرف اشارہ کرکے کہا:
’’ اِس دشمنِ اہلِ بیت کو پکڑ لو ۔ ‘‘
حکم سنتے ہی تصویر والا شیر اصلی شیر کی طرح اُٹھا اور شعبدے باز کا ایک لقمہ کرکے پھر دیوار پر نقش بن گیا ۔ متوکل نے بڑی کوشش کی کہ اُسے لوٹا دیا جائے مگر آپ نے ایک نہ مانی ۔
آپ نے فرمایا:
’’خدا کی قسم! ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔‘‘
آپ غصے کے عالم میں مجلس سے اُٹھ کر چلے آئے۔
آپ نے ساری زندگی رسول اللہ ﷺ کے دین کی خدمت اور نشر و اشاعت فرمائی ۔ لوگوں کو وعظ و نصیحت اور اُن کا تزکیۂ نفس آپ کا مشغلہ تھا ۔ لوگوں کو دنیا کی بے ثباتی اور اس کی محبت کے نقصانات اور اس کے مقابلے میں اخروی نعمتیں اور اُن کی ثباتی اور اللہ جل شانہ اور اس کےحبیب ﷺ کی محبت کی تلقین فرماتے تھے ۔ ہر قسم کے دنیاوی عہدوں، منصبوں اور دنیا داروں سے دور رہتے تھے ۔
علامہ جامی فرماتے ہیں:
’’حضرت رضا علی بن محمد موسیٰ سے منقول ہے کہ
جس شخص نے آپ کی مرقد کی زیارت کی، اُسے جنّت کا حصول ہوگا۔‘‘ (صحیح العقیدہ ہونا شرط ہے) ـ (بارہ امام: صفحہ: 208) ـ
وصال:
آپ کا وصال 25 جمادی الآخرہ 254ھ / مطابق 19 جون 868ء کو ہوا ۔ مزار شریف ’’سامرہ‘‘ عراق میں مرجعِ خلائق ہے ۔
مآخذ و مَراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ شریف التواریخ ۔ اقتباس الانوار ۔ بارہ امام، علامہ جامی ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-ul-muslimeen-syedna-imam-ali-naqi
scholars.pk
Biography of Hazrat Imam-ul-Muslimeen Syedna Imam Ali Naqi R.A, Shahadat, Caliph of Islam, History of Islam, Muslim Scholarm,…
❤1
شیخ الشیوخ قطبِ عالم سید عبد الوہاب عالم شاہ بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی: سید عبد الوہاب شاہ ۔ لقب: پیر قطب ۔ اور " عالم شاہ " مشہور و معروف ہے ۔
آپ کا سلسلۂ نسب یوں ہے:
عبد الوہاب شاہ بن حامد علی شاہ بن علی شاہ بن حضرت سید جلال الدین ثالث بن سید رکن الدین بن ابو الفتح بخاری بن سید شمس الدین بن سید ناصر الدین محمود نوشہ بن سید جلال الدین حسین مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔
تاریخِ ولادت:
سید عالم شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ با سعادت 13 رجب المرجب 999 ھ جلال الدین اکبر کے زمانے میں بمقام " اوچ شریف " ضلع بہاولپور پنجاب میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والدِ بزرگوار سے حاصل کی اور آٹھ سال کی عمر میں قرآن شریف حفظ فرمالیا ۔ پھر دیگر علومِ دینیہ وفقہ وغیرہ کی تعلیم ملتان میں حاصل فرمائی ۔
بیعت و خلافت:
سید عالم شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے17 سال کی عمر میں اپنے والدِ بزرگ کے دستِ مبارک پر بیعتِ طریقتِ سہروردیہ سے مشرف ہوئے اور والدِ بزرگ ہی کے زیرِ سایہ منازلِ سلوک طے فرماکر 21 برس کی عمر میں والدِ بزرگ سے خرقہ و دستارِ جدی و طریقتِ سہروردیہ حاصل فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الشیوخ، قطبِ عالم حضرت سید عبد الوہاب عالم شاہ بخاری اچی رحمۃ اللہ علیہ ولیٔ زماں، منبع علم و حکمت اور سرِ باری تعالیٰ تھے ۔
آپ نے اپنی پوری زندگی تبلیغِ اسلام اور عبادتِ خدا میں گزاری ۔ آپ نے خود کو اللہ تعالیٰ کے لئے فنا کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بقا حاصل کر لی ۔
آپ کے والدِ بزرگوار نے آپ کو خرقۂ خلافت دیتے وقت ایک " سبز علم " بھی عطا فرما کر اشاعتِ دینیہ کا حکم دیا ۔ آپ اپنے والد کا حکم پاکر اطرافِ پنجاب میں اشاعتِ دینی و روحانی کا فریضہ " سبز علم " لیے ادا فرماتے رہے ۔
پھر پا پیادہ ہی حجِ بیت اللہ شریف کو روانہ ہوئے، جہاں آپ حجِ بیت اللہ شریف ادا فرما کر مدینۂ منورہ شریف روضۂ رسول اللہ ﷺ میں حاضر ہو کر مسجدِ نبوی شریف کی جاروب کشی فرماتے رہے کہ ایک روز عالمِ رؤیا میں سرکارِ دو عالم ﷺ نے آپ سے شفقت کا اظہار فرماتے ہوئے ملکِ عجم جانے کا حکم ارشاد فرمایا ۔
آپ حضور ﷺ کا حکم پاتے ہی ملکِ عرب سے عجم روانہ ہوئے اور مختلف اولیائے کرام کے مزار پر اعتکاف کرتے ہوئے سندھ ، کراچی میں وارد ہوئے ۔
اس وقت کراچی کے ساحلِ سمندر پر کچھ مسلمان اور ہندو مچھیرے آباد تھے ۔ اس وقت کراچی شہر کو " در بور بندر " کے نام سے یاد کیا جاتا تھا ۔ اطراف چھوٹی چھوٹی بستیاں آباد تھیں ۔ اس وقت اہلِ ہنود، ٹانگا مارا قبائل کے، اکثر سمندری مسافروں کو لوٹ مار کرکے گزر بسر کرتے تھے ۔
سید عالم شاہ نے سب سے پہلے ٹانگا مارا قبائل کی بستی میں قیام فرما کر ان لوگوں کو دعوتِ حق دی، جس کی بدولت پُورے قبیلے نے آپ کے دستِ مبارک پر توبہ کرکے داخلِ اسلام ہوئے ۔
یہ سلسلہ یہاں نہیں روکا بلکہ اسی طرح آپ نے خدا کے نور سے سینکڑوں غیر مسلموں کے سینوں میں نورِ خدا کو داخل کرکے زبان سے اسلام کا اقرار کروایا اور دل سے تصدیق ۔
تاریخِ وصال:
سید عبد الوہاب عالم شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے 25 ربیع الثانی 1046 ھ / بمطابق ستمبر 1636ء میں رحلت فرمائی ۔ آپ کا مزار پر انوار عید گاہ جامع کلاتھ کراچی میں واقع ہے ۔
ماخذ و مراجع:
عبد الوہاب عالم شاہ (رحمۃ اللہ علیہ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-qutb-e-alam-shah-bukhari
نام و نسب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی: سید عبد الوہاب شاہ ۔ لقب: پیر قطب ۔ اور " عالم شاہ " مشہور و معروف ہے ۔
آپ کا سلسلۂ نسب یوں ہے:
عبد الوہاب شاہ بن حامد علی شاہ بن علی شاہ بن حضرت سید جلال الدین ثالث بن سید رکن الدین بن ابو الفتح بخاری بن سید شمس الدین بن سید ناصر الدین محمود نوشہ بن سید جلال الدین حسین مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔
تاریخِ ولادت:
سید عالم شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ با سعادت 13 رجب المرجب 999 ھ جلال الدین اکبر کے زمانے میں بمقام " اوچ شریف " ضلع بہاولپور پنجاب میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والدِ بزرگوار سے حاصل کی اور آٹھ سال کی عمر میں قرآن شریف حفظ فرمالیا ۔ پھر دیگر علومِ دینیہ وفقہ وغیرہ کی تعلیم ملتان میں حاصل فرمائی ۔
بیعت و خلافت:
سید عالم شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے17 سال کی عمر میں اپنے والدِ بزرگ کے دستِ مبارک پر بیعتِ طریقتِ سہروردیہ سے مشرف ہوئے اور والدِ بزرگ ہی کے زیرِ سایہ منازلِ سلوک طے فرماکر 21 برس کی عمر میں والدِ بزرگ سے خرقہ و دستارِ جدی و طریقتِ سہروردیہ حاصل فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الشیوخ، قطبِ عالم حضرت سید عبد الوہاب عالم شاہ بخاری اچی رحمۃ اللہ علیہ ولیٔ زماں، منبع علم و حکمت اور سرِ باری تعالیٰ تھے ۔
آپ نے اپنی پوری زندگی تبلیغِ اسلام اور عبادتِ خدا میں گزاری ۔ آپ نے خود کو اللہ تعالیٰ کے لئے فنا کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بقا حاصل کر لی ۔
آپ کے والدِ بزرگوار نے آپ کو خرقۂ خلافت دیتے وقت ایک " سبز علم " بھی عطا فرما کر اشاعتِ دینیہ کا حکم دیا ۔ آپ اپنے والد کا حکم پاکر اطرافِ پنجاب میں اشاعتِ دینی و روحانی کا فریضہ " سبز علم " لیے ادا فرماتے رہے ۔
پھر پا پیادہ ہی حجِ بیت اللہ شریف کو روانہ ہوئے، جہاں آپ حجِ بیت اللہ شریف ادا فرما کر مدینۂ منورہ شریف روضۂ رسول اللہ ﷺ میں حاضر ہو کر مسجدِ نبوی شریف کی جاروب کشی فرماتے رہے کہ ایک روز عالمِ رؤیا میں سرکارِ دو عالم ﷺ نے آپ سے شفقت کا اظہار فرماتے ہوئے ملکِ عجم جانے کا حکم ارشاد فرمایا ۔
آپ حضور ﷺ کا حکم پاتے ہی ملکِ عرب سے عجم روانہ ہوئے اور مختلف اولیائے کرام کے مزار پر اعتکاف کرتے ہوئے سندھ ، کراچی میں وارد ہوئے ۔
اس وقت کراچی کے ساحلِ سمندر پر کچھ مسلمان اور ہندو مچھیرے آباد تھے ۔ اس وقت کراچی شہر کو " در بور بندر " کے نام سے یاد کیا جاتا تھا ۔ اطراف چھوٹی چھوٹی بستیاں آباد تھیں ۔ اس وقت اہلِ ہنود، ٹانگا مارا قبائل کے، اکثر سمندری مسافروں کو لوٹ مار کرکے گزر بسر کرتے تھے ۔
سید عالم شاہ نے سب سے پہلے ٹانگا مارا قبائل کی بستی میں قیام فرما کر ان لوگوں کو دعوتِ حق دی، جس کی بدولت پُورے قبیلے نے آپ کے دستِ مبارک پر توبہ کرکے داخلِ اسلام ہوئے ۔
یہ سلسلہ یہاں نہیں روکا بلکہ اسی طرح آپ نے خدا کے نور سے سینکڑوں غیر مسلموں کے سینوں میں نورِ خدا کو داخل کرکے زبان سے اسلام کا اقرار کروایا اور دل سے تصدیق ۔
تاریخِ وصال:
سید عبد الوہاب عالم شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے 25 ربیع الثانی 1046 ھ / بمطابق ستمبر 1636ء میں رحلت فرمائی ۔ آپ کا مزار پر انوار عید گاہ جامع کلاتھ کراچی میں واقع ہے ۔
ماخذ و مراجع:
عبد الوہاب عالم شاہ (رحمۃ اللہ علیہ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-qutb-e-alam-shah-bukhari
scholars.pk
Hazrat Syed Qutb-e-Alam Shah Bukhari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1