🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-07-1445 ᴴ | 24-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-07-1445 ᴴ | 24-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-07-1445 ᴴ | 24-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-07-1445 ᴴ | 24-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کینو اور مالٹا کے حیران کُن فائدے
Orange Winter Benefits
مکاتب کی ضرورت زیادہ ہے. مکتب
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کینو اور مالٹا کے حیران کُن فائدے
Orange Winter Benefits
مکاتب کی ضرورت زیادہ ہے. مکتب
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت مولانا عبد الحق غور غشتوی
محقق بے مثیل علامہ میاں عبد الحق ابن میر احمد ابن فضل احمد ابن شیخ احمد صحابئ رسول حضرت سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد امجاد سے ہیں، آپ ایک برس کے تھے کہ آپ کے والد ماجد نے وفات پائی ـ
آپ کے چچا حضرت علامہ فیضی میاں رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی تربیت کی، اور تعلیم کی طرف متوجہ کیا، کافیہ وغیرہ مولانا فضل احمد صاحب سے بمقام غازی پڑھا،۔۔۔۔ مولانا سید حبیب شاہ قاضٰ پوری سے بھی درس لیا۔۔۔ مولانا نور گل صاحب تلمیذ علامہ فضل حق رامپوری سے بھی اخذ فیض کیا، مولانا محمد دین صاحب بدھوی تلمیذ مولانا فضل حق رام پوری سے علوم حکمیہ کی تکمیل کی ـ
دار العلوم دیوبند کی شہرت سُن کر دورہ حدیث کے لیے وہاں پر پہونچے، مگر دیوبندیوں کے غلط اور ہونلانک عقائد سے بیزاری کے سبب سے دوران سال ہی میں واپس لوٹ گئے، فراغت کے بعد مکھڈ شریف اور آستانۂ عالیہ سیال شریف میں بھی درس دیا، اس کے بعد چالیس برس تک غور غشتی ضلع کیمل پور میں اپنی مسجد میں درس دیا،
مولانا گل اکرام صاحب راولپنڈی، مولانا ہدایت الحق صاحب مہتمم مدرسہ حقائق العلوم غوثیہ حضرت وضلع کیمل پور، مولانا عبد الحق صاحب بارہ زئ اور آپ کےبڑے صاحبزادے مولانا محمد نعمان خطیب جامع مسجد غوثیہ نصیر آباد، راولپنڈی، آپ کے ممتاز تلامذہ میں ہیں۔
مسئلہ نور آپ کے عربی رسالہ ‘‘نور الانوارنی بیان نور سید الابرار’’ کا ابھی حال میں علامہ محمد عبد الحکیم شرف لاہوری استاذ دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور ضلع ہزارہ نےاُردو ترجمہ کر کے شائع کیا ہے ـ
وصال:
13 رجب المرجب 695ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-haq-ghaur
محقق بے مثیل علامہ میاں عبد الحق ابن میر احمد ابن فضل احمد ابن شیخ احمد صحابئ رسول حضرت سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد امجاد سے ہیں، آپ ایک برس کے تھے کہ آپ کے والد ماجد نے وفات پائی ـ
آپ کے چچا حضرت علامہ فیضی میاں رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی تربیت کی، اور تعلیم کی طرف متوجہ کیا، کافیہ وغیرہ مولانا فضل احمد صاحب سے بمقام غازی پڑھا،۔۔۔۔ مولانا سید حبیب شاہ قاضٰ پوری سے بھی درس لیا۔۔۔ مولانا نور گل صاحب تلمیذ علامہ فضل حق رامپوری سے بھی اخذ فیض کیا، مولانا محمد دین صاحب بدھوی تلمیذ مولانا فضل حق رام پوری سے علوم حکمیہ کی تکمیل کی ـ
دار العلوم دیوبند کی شہرت سُن کر دورہ حدیث کے لیے وہاں پر پہونچے، مگر دیوبندیوں کے غلط اور ہونلانک عقائد سے بیزاری کے سبب سے دوران سال ہی میں واپس لوٹ گئے، فراغت کے بعد مکھڈ شریف اور آستانۂ عالیہ سیال شریف میں بھی درس دیا، اس کے بعد چالیس برس تک غور غشتی ضلع کیمل پور میں اپنی مسجد میں درس دیا،
مولانا گل اکرام صاحب راولپنڈی، مولانا ہدایت الحق صاحب مہتمم مدرسہ حقائق العلوم غوثیہ حضرت وضلع کیمل پور، مولانا عبد الحق صاحب بارہ زئ اور آپ کےبڑے صاحبزادے مولانا محمد نعمان خطیب جامع مسجد غوثیہ نصیر آباد، راولپنڈی، آپ کے ممتاز تلامذہ میں ہیں۔
مسئلہ نور آپ کے عربی رسالہ ‘‘نور الانوارنی بیان نور سید الابرار’’ کا ابھی حال میں علامہ محمد عبد الحکیم شرف لاہوری استاذ دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور ضلع ہزارہ نےاُردو ترجمہ کر کے شائع کیا ہے ـ
وصال:
13 رجب المرجب 695ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-haq-ghaur
❤1👍1
حضرت مولانا عبد السلام عباسی بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ مشاہیر علمائے ہند میں تھے ـ
ولادت:
۱۲۷۱ھ میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
آپ علیہ الرحمہ نے اپنے چچا مولانا بہاء الحق (تلمیذ رشید مولانا بحر العلوم فرنگی محلی) اور علماء رامپور سے اخذ علوم کیا ـ
آپ ریاست رام پور میں قاضی محکمہ شرعی تھے ـ
بیعت و خلافت:
حضور شاہ آل احمد اچھے میاں مارہروی کے مرید تھے، مرشد کے برادر زاد ہو جانشین حضرت مخدوم شاہ آل رسول قدس سرہ نے خرقہ اور مثال خلافت سے نوازا ـ
آپ علیہ الرحمہ آخر میں مسجد نشین ہو گئے تھے، شاعر بھی تھے، کلام بلند ہوتا تھا، زیادہ تر فارسی میں کہا، سلام تخلص کرتے تھے ـ
تصانیف:
تصانیف میں تفسیر زاد الآخرت اردو منظوم، اخیار الابرار تصوف میں معرکۃ الآرا ہیں ـ
وصال:
۱۳ رجب ۱۲۸۹ھ بروز چہار شنبہ جاں بحق ہوئے، مشہور عالم مولانا محمد حسن سنبھلی آپ کے تلمیذ رشید تھے، کسی نے تاریخ وفات کہی ہے ۔
قاضی عبدالسلام حق آگاہ
عالم و باکمال و عارف
چہار شنبہ بہ سیزدۂ رجب
یافتہ وصل قادر مطلق
مسجد مولوی حبیب اللہ
یافتہ از مزار شاں رونق
سال وصلش زدل چو پرسیدم
گفت آں بودہ قاضی برحق
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-salam-abbasi-badayuni
آپ مشاہیر علمائے ہند میں تھے ـ
ولادت:
۱۲۷۱ھ میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
آپ علیہ الرحمہ نے اپنے چچا مولانا بہاء الحق (تلمیذ رشید مولانا بحر العلوم فرنگی محلی) اور علماء رامپور سے اخذ علوم کیا ـ
آپ ریاست رام پور میں قاضی محکمہ شرعی تھے ـ
بیعت و خلافت:
حضور شاہ آل احمد اچھے میاں مارہروی کے مرید تھے، مرشد کے برادر زاد ہو جانشین حضرت مخدوم شاہ آل رسول قدس سرہ نے خرقہ اور مثال خلافت سے نوازا ـ
آپ علیہ الرحمہ آخر میں مسجد نشین ہو گئے تھے، شاعر بھی تھے، کلام بلند ہوتا تھا، زیادہ تر فارسی میں کہا، سلام تخلص کرتے تھے ـ
تصانیف:
تصانیف میں تفسیر زاد الآخرت اردو منظوم، اخیار الابرار تصوف میں معرکۃ الآرا ہیں ـ
وصال:
۱۳ رجب ۱۲۸۹ھ بروز چہار شنبہ جاں بحق ہوئے، مشہور عالم مولانا محمد حسن سنبھلی آپ کے تلمیذ رشید تھے، کسی نے تاریخ وفات کہی ہے ۔
قاضی عبدالسلام حق آگاہ
عالم و باکمال و عارف
چہار شنبہ بہ سیزدۂ رجب
یافتہ وصل قادر مطلق
مسجد مولوی حبیب اللہ
یافتہ از مزار شاں رونق
سال وصلش زدل چو پرسیدم
گفت آں بودہ قاضی برحق
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-salam-abbasi-badayuni
❤1👍1