حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت عباس بن عبد المطلب ۔ کنیت: ابو الفضل ۔ لقب: خاتم المہاجرین، عم رسول اللہ ﷺ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت عباس بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ ۔ الی آخرہ ۔ (الاصابہ)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 566ء میں واقعہ فیل سے تین سال قبل مکۃ المکرمہ میں ہوئی ۔ حضرت عباس پانچ سال کی عمر میں اتفاقیہ طور پر کہیں گم ہو گئے ۔ ان کی والدہ محترمہ کو بڑی فکر ہوئی، انہوں نے اسی وقت نذر مانی کہ اگر عباس مجھ کو مل گئے تو میں بیت اللہ پر حریر و دیباج کا، جو نہایت بیش قیمت کپڑا ہوتا ہے، غلاف چڑھاؤں گی ۔نذر ماننے کے بعد ہی حضرت عباس مل گئے، ان کی والدہ نے نذر پوری کی ۔حضرت عباس کی والدہ ہی وہ اول عرب خاتون ہیں جنہوں نے بیش بہا کپڑے کا غلاف بیت اللہ کو پہنایا ۔
تحصیلِ علم:
زمانۂ جاہلیت میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ ان افراد میں سے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے ۔ چنانچہ حضرت عباس جب سن تمیز کو پہنچے تو علم الانساب، علم التاریخ، علم الادیان میں مہارت حاصل کی، چوں کہ عرب میں یہ علوم عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے، خصوصاً علم الانساب، کیوں کہ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام ہی کے زمانے سے برابر یہ خبر چلی آرہی تھی کہ عرب میں نسل اسماعیل ہی سے نبی آخر الزامان پیدا ہوں گے، اس وجہ سے علم الانساب کا بہت خیال رکھا جاتا تھا ۔ رسول اللہ کی بعثت کے بعد تو رسول اللہ ﷺ کا ہر صحابی وحی کا امین اور علومِ مصطفیٰ ﷺ کا وارث بنا ۔
سیرت و خصائص:
کچھ شخصیات زمانہ جاہلیت واسلام دونوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتیں تھیں، اوران کی رائے کو تسلیم کیا جاتا تھا، ان میں سے ایک ذات حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی بھی ہے ۔ آپ قبل از قبول اسلام اور بعد از قبول اسلام ہمیشہ عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھے گئے ۔ اس گھرانے کے طبع سلیم رکھنے والے بزرگ قبل از اعلان نبوت ملت خلیل پر عمل پیرا تھے، جیسے حضرت عبد المطلب، چنانچہ ان کی پرہیزگاری عرب میں مشہور تھی ۔ اس لئے بیت اللہ اور دیگر اہم قومی امور کی نگرانی انہیں کے ذمہ تھی ۔ حضرت عبد المطلب کے بعد قریش نے حضرت عباس میں علم، شجاعت، سخاوت، سیادت، خاندانی نجابت، صلہ رحمی دیکھ کر انہیں کو بیت اللہ کا محافظ منتخب کیا ۔(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب)
چنانچہ حضرت عباس ہمیشہ بیت اللہ کی حفاظت میں اپنے وقت کو صرف کیا کرتے تھے اور آپ نے اس قدر اچھا انتظام کیا کہ کسی کو مجال نہ تھی کہ کوئی شخص بیت اللہ میں بیٹھ کر کسی کی ہجو یا غیبت کر سکے، اگر کوئی ایسا کرتا تو حضرت عباس فوراً اس کو تنبیہ فرما دیا کرتے تھے اور ان کے حکم کے آگے سب کی گردنیں خم ہو جاتی تھیں۔ (کامل ابن اثیر، ج: 1 ، ص: 9) ـ
تعمیرِ کعبہ:
حضرت عباس کی عمر جب سولہ سال کی ہوئی تو خانہ کعبہ میں اتفاقیہ طور پر آگ لگ گئی،جس کی وجہ سے عمارت مسمار ہوگئی، قریش نے جمع ہوئےاور اس کو بنانا شروع کیا تو ہر شخص کار ثواب سمجھ کراس کی تعمیر میں حصہ لینے لگا، حضرت عباس نے سب سے زیادہ اس میں حصہ لیا ۔
حضرت عباس کا نکاح:
حضرت عباس کا نکاح حضرت لبابۃ الکبریٰ سے ہوا، جو ام المومنین حضرت میمونہ کی حقیقی بہن تھیں، ابن سعد نے لکھا ہے کہ حضرت لبابۃ الکبریٰ جن کی کنیت ام الفضل ہے، یہ وہ پہلی خاتون ہیں جو حضرت خدیجہ کے بعد مسلمان ہوئیں اور بہت سی حدیثیں ان سے مروی ہیں ۔ یہ رسول اللہ کی چچی محترمہ تھیں اور آپ ﷺ کا بہت خیال رکھتی تھیں ۔
قبولِ اسلام:
جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو اس وقت حضرت عباس کی عمر تینتالیس سال تھی ۔ آپ نے غزوۂ بدر کے بعد ہی اسلام ظاہر کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا ایک عرصہ تک مکہ میں مقیم رہنا اور علانیہ دائرہ اسلام میں داخل نہ ہونا در حقیقت ایک مصلحت پر مبنی تھا، وہ کفار مکہ کی نقل و حرکت اور ان کے رازہائے سر بستہ کی اطلاع رسول اللہ ﷺ کو دیتے تھے، نیز اس سر زمین کفر میں جو ضعفائے اسلام رہ گئے تھے ان کے لیے تنہا ماویٰ وملجا تھے، یہی وجہ ہے کہ حضرت عباس نے جب کبھی رسالت پناہ ﷺ سے ہجرت کی اجازت طلب کی تو آپ نے منع کر دیا اور فرمایا: کہ "آپ کا مکہ میں مقیم رہنا بہتر ہے، خدانے جس طرح مجھ پر نبوت ختم کی ہے ،اسی طرح آپ پر ہجرت ختم کرے گا۔یہی وجہ ہے کہ جنگ بدر میں لڑائی سے پہلے حضور اکرم ﷺ نے فرما دیا تھا: کہ تم لوگ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل مت کرنا کیونکہ وہ مسلمان ہوگئے ہیں،اورکفار مکہ ان پر دباؤ ڈال کر انہیں جنگ میں لائے ہیں ۔ (سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: 151) ـ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت عباس بن عبد المطلب ۔ کنیت: ابو الفضل ۔ لقب: خاتم المہاجرین، عم رسول اللہ ﷺ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت عباس بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ ۔ الی آخرہ ۔ (الاصابہ)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 566ء میں واقعہ فیل سے تین سال قبل مکۃ المکرمہ میں ہوئی ۔ حضرت عباس پانچ سال کی عمر میں اتفاقیہ طور پر کہیں گم ہو گئے ۔ ان کی والدہ محترمہ کو بڑی فکر ہوئی، انہوں نے اسی وقت نذر مانی کہ اگر عباس مجھ کو مل گئے تو میں بیت اللہ پر حریر و دیباج کا، جو نہایت بیش قیمت کپڑا ہوتا ہے، غلاف چڑھاؤں گی ۔نذر ماننے کے بعد ہی حضرت عباس مل گئے، ان کی والدہ نے نذر پوری کی ۔حضرت عباس کی والدہ ہی وہ اول عرب خاتون ہیں جنہوں نے بیش بہا کپڑے کا غلاف بیت اللہ کو پہنایا ۔
تحصیلِ علم:
زمانۂ جاہلیت میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ ان افراد میں سے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے ۔ چنانچہ حضرت عباس جب سن تمیز کو پہنچے تو علم الانساب، علم التاریخ، علم الادیان میں مہارت حاصل کی، چوں کہ عرب میں یہ علوم عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے، خصوصاً علم الانساب، کیوں کہ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام ہی کے زمانے سے برابر یہ خبر چلی آرہی تھی کہ عرب میں نسل اسماعیل ہی سے نبی آخر الزامان پیدا ہوں گے، اس وجہ سے علم الانساب کا بہت خیال رکھا جاتا تھا ۔ رسول اللہ کی بعثت کے بعد تو رسول اللہ ﷺ کا ہر صحابی وحی کا امین اور علومِ مصطفیٰ ﷺ کا وارث بنا ۔
سیرت و خصائص:
کچھ شخصیات زمانہ جاہلیت واسلام دونوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتیں تھیں، اوران کی رائے کو تسلیم کیا جاتا تھا، ان میں سے ایک ذات حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی بھی ہے ۔ آپ قبل از قبول اسلام اور بعد از قبول اسلام ہمیشہ عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھے گئے ۔ اس گھرانے کے طبع سلیم رکھنے والے بزرگ قبل از اعلان نبوت ملت خلیل پر عمل پیرا تھے، جیسے حضرت عبد المطلب، چنانچہ ان کی پرہیزگاری عرب میں مشہور تھی ۔ اس لئے بیت اللہ اور دیگر اہم قومی امور کی نگرانی انہیں کے ذمہ تھی ۔ حضرت عبد المطلب کے بعد قریش نے حضرت عباس میں علم، شجاعت، سخاوت، سیادت، خاندانی نجابت، صلہ رحمی دیکھ کر انہیں کو بیت اللہ کا محافظ منتخب کیا ۔(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب)
چنانچہ حضرت عباس ہمیشہ بیت اللہ کی حفاظت میں اپنے وقت کو صرف کیا کرتے تھے اور آپ نے اس قدر اچھا انتظام کیا کہ کسی کو مجال نہ تھی کہ کوئی شخص بیت اللہ میں بیٹھ کر کسی کی ہجو یا غیبت کر سکے، اگر کوئی ایسا کرتا تو حضرت عباس فوراً اس کو تنبیہ فرما دیا کرتے تھے اور ان کے حکم کے آگے سب کی گردنیں خم ہو جاتی تھیں۔ (کامل ابن اثیر، ج: 1 ، ص: 9) ـ
تعمیرِ کعبہ:
حضرت عباس کی عمر جب سولہ سال کی ہوئی تو خانہ کعبہ میں اتفاقیہ طور پر آگ لگ گئی،جس کی وجہ سے عمارت مسمار ہوگئی، قریش نے جمع ہوئےاور اس کو بنانا شروع کیا تو ہر شخص کار ثواب سمجھ کراس کی تعمیر میں حصہ لینے لگا، حضرت عباس نے سب سے زیادہ اس میں حصہ لیا ۔
حضرت عباس کا نکاح:
حضرت عباس کا نکاح حضرت لبابۃ الکبریٰ سے ہوا، جو ام المومنین حضرت میمونہ کی حقیقی بہن تھیں، ابن سعد نے لکھا ہے کہ حضرت لبابۃ الکبریٰ جن کی کنیت ام الفضل ہے، یہ وہ پہلی خاتون ہیں جو حضرت خدیجہ کے بعد مسلمان ہوئیں اور بہت سی حدیثیں ان سے مروی ہیں ۔ یہ رسول اللہ کی چچی محترمہ تھیں اور آپ ﷺ کا بہت خیال رکھتی تھیں ۔
قبولِ اسلام:
جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو اس وقت حضرت عباس کی عمر تینتالیس سال تھی ۔ آپ نے غزوۂ بدر کے بعد ہی اسلام ظاہر کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا ایک عرصہ تک مکہ میں مقیم رہنا اور علانیہ دائرہ اسلام میں داخل نہ ہونا در حقیقت ایک مصلحت پر مبنی تھا، وہ کفار مکہ کی نقل و حرکت اور ان کے رازہائے سر بستہ کی اطلاع رسول اللہ ﷺ کو دیتے تھے، نیز اس سر زمین کفر میں جو ضعفائے اسلام رہ گئے تھے ان کے لیے تنہا ماویٰ وملجا تھے، یہی وجہ ہے کہ حضرت عباس نے جب کبھی رسالت پناہ ﷺ سے ہجرت کی اجازت طلب کی تو آپ نے منع کر دیا اور فرمایا: کہ "آپ کا مکہ میں مقیم رہنا بہتر ہے، خدانے جس طرح مجھ پر نبوت ختم کی ہے ،اسی طرح آپ پر ہجرت ختم کرے گا۔یہی وجہ ہے کہ جنگ بدر میں لڑائی سے پہلے حضور اکرم ﷺ نے فرما دیا تھا: کہ تم لوگ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل مت کرنا کیونکہ وہ مسلمان ہوگئے ہیں،اورکفار مکہ ان پر دباؤ ڈال کر انہیں جنگ میں لائے ہیں ۔ (سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: 151) ـ
❤2
فضائل و مناقب:
آپ کے بہت فضائل ہیں ۔ سب سے بڑی فضیلت رسول اللہ ﷺ کی قرابت ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کے عم محترم ہیں ۔ حضور ﷺ انہیں والد کہ کر بُلاتے تھے ۔ جب پوری قوم نے آپ ﷺ کا ساتھ چھوڑ دیا، اور دشمنی پہ اتر آئے، اور معاشی، معاشرتی ہر قسم کا بائیکاٹ کر دیا، اور خاندان بنی ہاشم نے "شعب ابی طالب" میں تین سال انتہائی کسمپرسی میں بسر کیے یہاں تک کہ نوبت درختوں کے پتے کھانے، اور سوکھا چمڑا چبانے، اور پیٹ پر پتھر باندھنے تک جا پہنچی ۔ ان مشکل حالات میں حضرت عباس اور حضرت عبد المطلب نے رسول اللہ ﷺ کا ساتھ نہ چھوڑا ۔
ہجرتِ حضرت عباس رضی اللہ عنہ:
حضرت سہل بن سعد رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے حضور اقدس ﷺ کی بارگاہ میں (مکہ معظمہ سے) خط تحریر کیا کہ مجھے اذن عطا ہو تو ہجرت کر کے (مدینہ طیبہ) حاضر ہو جاؤں ۔ اس کے جواب میں حضور پر نور ﷺ نے یہ فرمایا: یا عم اقم مکانک الذی انت فیہ، فان اﷲ یختم بک الھجرۃ کما ختم بی النبوۃ ۔ اے چچا! اطمینان سے رہو کہ تم ہجرت میں خاتم المہاجرین ہونے والے ہو، جس طرح میں نبوت میں خاتم النبیین ہوں ﷺ ۔ (تہذیب تاریخ دمشق الکبیر، ذکر من اسمہ عباس، دار احیاء التراث العربی، بیروت، 7/235) ـ
جب رسول اللہ ﷺ نے کفار مکہ کے ظلم و ستم کی وجہ سے ابتداءً مدینۃ المنورہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نےحضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشورہ فرمایا کہ میرا ارادہ یہاں سے ہجرت کا ہے آپ کی کیا رائے ہے، اس وقت مدینۃ المنورہ کے بارہ افراد اسلام قبول کر چکے تھے ۔ تو حضرت عباس نے اس وقت منع کر دیا، اور عرض کی اتنی قلیل لوگوں کے ساتھ آپ تشریف نہ لے جائیں، بلکہ آپ اپنا نائب بھیج کر وہاں تبلیغ کریں ۔ آپ ﷺ کو یہ رائے بہت پسند آئی، اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو مدینۃ المنورہ تبلیغ کی غرض سے بھیج دیا ۔ اور ان کی کوششوں سے حضرت سعد بن معاذ مشرف با اسلام ہو گئے، اور ان کی تبلیغ پران کا پورا قبیلہ مسلمان ہو گیا ۔ دوسرے سال اسی (80) مسلمان حج کے لئے مکۃ المکرمہ آئے ۔ تو اس وقت ان سےبات چیت اور رسول اللہ ﷺ کی ہر حال میں حفاظت و اطاعت کا عہد کرنے والے حضرت عباس رضی اللہ عنہ تھے ۔
ان لوگوں نے پورا عہد کیا اور کہا:
اے عباس! ہم نے خدا کے لیے یہ عہد کیا ہے، کہ ہم ان پر اپنی جانیں قربان کر دیںگے اور ان کاساتھ نہ چھوڑیں گے، جب تک جسم میں جان باقی ہے ہم ان تک کسی دشمن کو نہیں پہنچنے دیں گے، ہم اپنی جان ،اولاد سب کچھ ان پر قربان کردیں گے ۔ لیکن! ایک عرض ہماری بھی ہے کہ، اگر آں حضرت ﷺ اپنے دشمنوں پر غالب آجائیں اور کسی کا خوف و اندیشہ نہ رہے تو ایسا نہ ہوکہ آپ ہمیں چھوڑ کر مکہ چلے آئیں ۔ آپ ﷺ نے یہ سن کر ارشاد فرمایا: کہ ایسانہ ہوگا، میری قبر تمہاری قبروں میں ہوگی اور میرا گھر تمہارے گھروں میں ہوگا ۔جن کے ساتھ تم لڑوگے میں بھی لڑوں گا،جن سے تم صلح کرو گے میں بھی صلح کروں گا ۔ یہ فرما کر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور تقریر کی ۔ چند ایام گزرنے کے بعد آپ ﷺ باذن خدا وندی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو ہم راہ لے کر مدینہ کی طرف ہجرت فرما گئے ۔ سبحان اللہ! انصار نے کیسا ساتھ نبھایا، اور مصطفیٰ کریم ﷺ نے کیسا کرم فرمایا ۔
منقول ہے کہ حضرت عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا مکان مسجد نبوی سے متصل تھا اور بارش میں اس مکان کا پر نالے کا پانی گلی میں گرتا تھا، جس کی وجہ سے گلی میں پانی بھر جاتا تھا، امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس پرنالہ کو اکھاڑ دیا ۔حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ آپ کے پاس آئے اور کہا کہ خدا کی قسم! اس پرنالہ کو رسول ﷲ ﷺ نے میری گردن پر سوار ہو کر اپنے مقدس ہاتھوں سے لگایا تھا ۔ یہ سن کر امیر المؤمنین نے فرمایا کہ اے عباس! مجھے اسکا علم نہ تھا اب میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ آپ میری گردن پر سوار ہو کر اس پر نالہ کو پھر اسی جگہ لگا دیجئے ،جہاں رسول اللہ ﷺ نے لگایا تھا چنانچہ ایسا ہی کیا گیا ۔ (وفاء الوفا جلد: 1 ، ص: 348) ۔
( یہ صحابی تھے، وہابی نہیں تھے، وہ رسول اللہ کی نسبت والی چیزوں کا خیال اور ان کو بحال رکھتے تھے، اور یہ گرانے اور مٹانے پہ تلے ہوئے ہیں ) ـ
آپ کے بہت فضائل ہیں ۔ سب سے بڑی فضیلت رسول اللہ ﷺ کی قرابت ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کے عم محترم ہیں ۔ حضور ﷺ انہیں والد کہ کر بُلاتے تھے ۔ جب پوری قوم نے آپ ﷺ کا ساتھ چھوڑ دیا، اور دشمنی پہ اتر آئے، اور معاشی، معاشرتی ہر قسم کا بائیکاٹ کر دیا، اور خاندان بنی ہاشم نے "شعب ابی طالب" میں تین سال انتہائی کسمپرسی میں بسر کیے یہاں تک کہ نوبت درختوں کے پتے کھانے، اور سوکھا چمڑا چبانے، اور پیٹ پر پتھر باندھنے تک جا پہنچی ۔ ان مشکل حالات میں حضرت عباس اور حضرت عبد المطلب نے رسول اللہ ﷺ کا ساتھ نہ چھوڑا ۔
ہجرتِ حضرت عباس رضی اللہ عنہ:
حضرت سہل بن سعد رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے حضور اقدس ﷺ کی بارگاہ میں (مکہ معظمہ سے) خط تحریر کیا کہ مجھے اذن عطا ہو تو ہجرت کر کے (مدینہ طیبہ) حاضر ہو جاؤں ۔ اس کے جواب میں حضور پر نور ﷺ نے یہ فرمایا: یا عم اقم مکانک الذی انت فیہ، فان اﷲ یختم بک الھجرۃ کما ختم بی النبوۃ ۔ اے چچا! اطمینان سے رہو کہ تم ہجرت میں خاتم المہاجرین ہونے والے ہو، جس طرح میں نبوت میں خاتم النبیین ہوں ﷺ ۔ (تہذیب تاریخ دمشق الکبیر، ذکر من اسمہ عباس، دار احیاء التراث العربی، بیروت، 7/235) ـ
جب رسول اللہ ﷺ نے کفار مکہ کے ظلم و ستم کی وجہ سے ابتداءً مدینۃ المنورہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نےحضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشورہ فرمایا کہ میرا ارادہ یہاں سے ہجرت کا ہے آپ کی کیا رائے ہے، اس وقت مدینۃ المنورہ کے بارہ افراد اسلام قبول کر چکے تھے ۔ تو حضرت عباس نے اس وقت منع کر دیا، اور عرض کی اتنی قلیل لوگوں کے ساتھ آپ تشریف نہ لے جائیں، بلکہ آپ اپنا نائب بھیج کر وہاں تبلیغ کریں ۔ آپ ﷺ کو یہ رائے بہت پسند آئی، اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو مدینۃ المنورہ تبلیغ کی غرض سے بھیج دیا ۔ اور ان کی کوششوں سے حضرت سعد بن معاذ مشرف با اسلام ہو گئے، اور ان کی تبلیغ پران کا پورا قبیلہ مسلمان ہو گیا ۔ دوسرے سال اسی (80) مسلمان حج کے لئے مکۃ المکرمہ آئے ۔ تو اس وقت ان سےبات چیت اور رسول اللہ ﷺ کی ہر حال میں حفاظت و اطاعت کا عہد کرنے والے حضرت عباس رضی اللہ عنہ تھے ۔
ان لوگوں نے پورا عہد کیا اور کہا:
اے عباس! ہم نے خدا کے لیے یہ عہد کیا ہے، کہ ہم ان پر اپنی جانیں قربان کر دیںگے اور ان کاساتھ نہ چھوڑیں گے، جب تک جسم میں جان باقی ہے ہم ان تک کسی دشمن کو نہیں پہنچنے دیں گے، ہم اپنی جان ،اولاد سب کچھ ان پر قربان کردیں گے ۔ لیکن! ایک عرض ہماری بھی ہے کہ، اگر آں حضرت ﷺ اپنے دشمنوں پر غالب آجائیں اور کسی کا خوف و اندیشہ نہ رہے تو ایسا نہ ہوکہ آپ ہمیں چھوڑ کر مکہ چلے آئیں ۔ آپ ﷺ نے یہ سن کر ارشاد فرمایا: کہ ایسانہ ہوگا، میری قبر تمہاری قبروں میں ہوگی اور میرا گھر تمہارے گھروں میں ہوگا ۔جن کے ساتھ تم لڑوگے میں بھی لڑوں گا،جن سے تم صلح کرو گے میں بھی صلح کروں گا ۔ یہ فرما کر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور تقریر کی ۔ چند ایام گزرنے کے بعد آپ ﷺ باذن خدا وندی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو ہم راہ لے کر مدینہ کی طرف ہجرت فرما گئے ۔ سبحان اللہ! انصار نے کیسا ساتھ نبھایا، اور مصطفیٰ کریم ﷺ نے کیسا کرم فرمایا ۔
منقول ہے کہ حضرت عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا مکان مسجد نبوی سے متصل تھا اور بارش میں اس مکان کا پر نالے کا پانی گلی میں گرتا تھا، جس کی وجہ سے گلی میں پانی بھر جاتا تھا، امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس پرنالہ کو اکھاڑ دیا ۔حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ آپ کے پاس آئے اور کہا کہ خدا کی قسم! اس پرنالہ کو رسول ﷲ ﷺ نے میری گردن پر سوار ہو کر اپنے مقدس ہاتھوں سے لگایا تھا ۔ یہ سن کر امیر المؤمنین نے فرمایا کہ اے عباس! مجھے اسکا علم نہ تھا اب میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ آپ میری گردن پر سوار ہو کر اس پر نالہ کو پھر اسی جگہ لگا دیجئے ،جہاں رسول اللہ ﷺ نے لگایا تھا چنانچہ ایسا ہی کیا گیا ۔ (وفاء الوفا جلد: 1 ، ص: 348) ۔
( یہ صحابی تھے، وہابی نہیں تھے، وہ رسول اللہ کی نسبت والی چیزوں کا خیال اور ان کو بحال رکھتے تھے، اور یہ گرانے اور مٹانے پہ تلے ہوئے ہیں ) ـ
❤2
آپ کے توسل سے بارش کا نزول:
امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں جب شدید قحط پڑ گیا اور خشک سالی کی مصیبت سے دنیا ئے عرب بد حالی میں مبتلا ہو گئی تو امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز استسقاء کے لیے مدینہ منورہ سے باہر میدان میں تشریف لے گئے اور اس موقع پر ہزاروں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا اجتماع ہوا ۔ اس بھرے مجمع میں دعا کے وقت حضرت امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بازو تھام کر انہیں اٹھایا اور ان کو اپنے آگے کھڑا کر کے اس طرح دعا مانگی: ''یا اللہ! پہلے جب ہم لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تھے تو تیرے نبی کو وسیلہ بنا کر بارش کی دعائیں مانگتے تھے اور تو ہم کو بارش عطا فرماتا تھا مگر آج ہم تیرے نبی ﷺ کے چچا کو وسیلہ بنا کر دعا مانگتے ہیں لہٰذا تو ہمیں بارش عطا فرما دے''۔ (صحیح البخاری: 3710) ـ
پھر جب حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی بارش کے ليے دعامانگی تو ناگہاں اسی وقت اس قدر بارش ہوئی کہ لوگ گھٹنوں تک پانی میں چلتے ہوئے اپنے گھروں میں واپس آئے اورلوگ جو ش مسرت اورجذبہ عقیدت سے آپ کی چادر مبارک کو چومنے لگے اورکچھ لوگ آپ کے جسم مبارک پر اپنا ہاتھ پھیرنے لگے۔
وصال:
آپ کا وصال 12 رجب المرجب 32ھ / مطابق 18 فروری 653ء بروز جمعۃ المبارک 88 سال کی عمر میں ہوا ۔ جنت البقیع میں مدفون ہوئے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم نے قبر میں اتارا ۔
ماخذ و مراجع:
صحیح البخاری ۔ وفاء الوفاء ۔ سیرت مصطفیٰ ﷺ ۔ الاصابہ ۔ کامل ابن کثیر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-fazl-al-abbas-ibn-abdul-muttalib
امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں جب شدید قحط پڑ گیا اور خشک سالی کی مصیبت سے دنیا ئے عرب بد حالی میں مبتلا ہو گئی تو امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز استسقاء کے لیے مدینہ منورہ سے باہر میدان میں تشریف لے گئے اور اس موقع پر ہزاروں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا اجتماع ہوا ۔ اس بھرے مجمع میں دعا کے وقت حضرت امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بازو تھام کر انہیں اٹھایا اور ان کو اپنے آگے کھڑا کر کے اس طرح دعا مانگی: ''یا اللہ! پہلے جب ہم لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تھے تو تیرے نبی کو وسیلہ بنا کر بارش کی دعائیں مانگتے تھے اور تو ہم کو بارش عطا فرماتا تھا مگر آج ہم تیرے نبی ﷺ کے چچا کو وسیلہ بنا کر دعا مانگتے ہیں لہٰذا تو ہمیں بارش عطا فرما دے''۔ (صحیح البخاری: 3710) ـ
پھر جب حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی بارش کے ليے دعامانگی تو ناگہاں اسی وقت اس قدر بارش ہوئی کہ لوگ گھٹنوں تک پانی میں چلتے ہوئے اپنے گھروں میں واپس آئے اورلوگ جو ش مسرت اورجذبہ عقیدت سے آپ کی چادر مبارک کو چومنے لگے اورکچھ لوگ آپ کے جسم مبارک پر اپنا ہاتھ پھیرنے لگے۔
وصال:
آپ کا وصال 12 رجب المرجب 32ھ / مطابق 18 فروری 653ء بروز جمعۃ المبارک 88 سال کی عمر میں ہوا ۔ جنت البقیع میں مدفون ہوئے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم نے قبر میں اتارا ۔
ماخذ و مراجع:
صحیح البخاری ۔ وفاء الوفاء ۔ سیرت مصطفیٰ ﷺ ۔ الاصابہ ۔ کامل ابن کثیر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-fazl-al-abbas-ibn-abdul-muttalib
scholars.pk
Hazrat Abul Fazl Al-Abbas
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-07-1445 ᴴ | 23-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-07-1445 ᴴ | 24-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-07-1445 ᴴ | 24-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-07-1445 ᴴ | 24-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1