🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شیخ عبد الخالق چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
شیخ عبد الخالق چشتی صابری ۔ لقب: شیخ العصر ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کا سن ولادت کتب میں معلوم نہ ہو سکا ۔ قرین قیاس یہ ہے کہ دسویں صدی ہجری کا اوائل ہی ہوگا ۔

تحصیل علم:
آپ جامع علوم عقلیہ و نقلیہ تھے ۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ میں حضرت شیخ نظام الدین بلخی کے خلیفہ حضرت شیخ جان اللہ چشتی صابری لاہوری کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے، مجاہدات و ریاضت کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے ۔ (تذکرہ اولیائے لاہور، ص:358) ـ

سیرت و خصائص:
شیخ العصر حضرت شیخ عبد الخالق چشتی صابری ۔ آپ اپنے وقت کے شیخ کامل و عارف باللہ تھے ۔ آپ کی ذات مبارکہ سے سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ کو فروغ حاصل ہوا ۔ حضرت شیخ جان اللہ لاہوری چشتی صابری جو کہ حضرت شیخ نظام الدین بلخی چشتی صابری کے مرید و خلیفہ تھےکہ دست حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ آپ فقر و وفاقہ ترک و تجرید میں بلند مقام کے مالک تھے ۔

سماع کے دوران آپ پر وجد کی ایک خاص کیفیت ہوتی تھی ۔ اس موقع پر جس کسی پر آپ کی نگاہ پڑجاتی بے خود کر دیتے تھے ۔ دوران سماع اکثر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ لوگوں کو شبہ ہو جاتا تھاکہ آپ کا وصال ہو چکا ہے ۔ جو شخص بھی آپ کے حلقہ ارادت میں داخل ہوتا وہ کامل ہو کے واپس جاتا تھا ۔ مخلوق خدا کا ایک اژدہام آپ کی خدمت میں ہمہ وقت موجود رہتا تھا ۔ آنے والا سائل کبھی آپ کے دربار سے خالی واپس نہ جاتا ۔ آپ کا لنگر ہر خاص و عام کے لیے ہمہ وقت کھلا رہتا تھا ۔(خزینۃ الاصفیاء، ص:434) ـ

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال باکمال 12 رجب المرجب شریف 1059ھ / مطابق 22 جولائی 1649ء بروز جمعرات، بعہد شاہجہان ہوا ۔ مزار پُر انوار میدان زین خان بیرون موچی دورازہ لاہور میں مرجع خاص و عام ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdul-khaliq-chishti
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

میر سید علی ہمدانی:
ہمدان میں دو شنبہ کے روز ۱۲ رجب ۷۱۴ھ میں پیدا ہوئے ۔ مخزن علوم ظاہری، مظہر تجلیات ربانی، عالمِ عامل، عارف کامل، صاحبِ کرامات و خوارق عادات تھے، علوم ظاہری و باطنی میں آپ کو وہ کمال حاصل تھا کہ ایک سو ستّر سے زیادہ کتابیں تصنیف کیں جن میں سے مجمع الاحادیث، شرح اسماء الحسنیٰ، ذخیرۃ الملوک، شرح فصوص الحکم، مراۃ التائبین، شرح قصیدہ حمزیہ و فارضیہ، آداب المریدین، اور دس قواعد اشہر ہیں ۔

۷۸۰ھ میں مع سات سور فقاء و سادات کے ہمدان سے کاشمیر میں تشریف لائے اور محلہ علاء الدین پورہ میں جہاں اب آپ کی خانقاہ فیض پناہ ہے، جلوہ افروز ہوئے ۔ بادشاہ کمال خشوع و خضوع سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اسلام نے جو بلبل شاہ کے وقت سے کاشمیر میں رواج پکڑنا شروع کیا تھا آپ کے وقت میں رونق بے اندازہ حاصل کی،اسی لیے آپ کو بانی مبانی اسلام کہتے ہیں کہ ایک شاعر نے کہا ہے ؎

یعنی آں بانی مسلمانی میر سیّد ھمدانی

بادشاہ کو جمع بین الاختین کیا ہوا تھا، آیت لا تجمعوابین الاختین پر عمل کرایا ۔ تین دفعہ کاشمیر میں آئے اور تین بار سیر سیاھب ربع مسکون کی فرمائی ۔ جب اخیر کو کاشمیر سے رحلت کی تو تہتّر سال کی عمر میں میدان کبیر میں پہنچ کر ۷۸۵ھ میں انتقال فرمایا اور نعش آپ کی ختلان میں لے جاکر دفن کی گئی۔مزار آپ کا زیارت گاہ عام ہے ۔ شیخ میر محمد اویسی نے قطعہ تاریخ آپ کا اس طرح پر کہا ہے ؎

فخر عارفاں شہِ ہمداں
کنہ دمش باغ معرفت بشگفت

مظہر نورِ حق کہ رویش بود
عاقبت از جہانیاں نہفت

عقل تاریخ سالِ رحلت
سید باعلی ثانی گفت

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ameer-kabir-syed-ali-hamdani
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
ابو الفضل شمس الدین محمد بن شحنہ

شمس الدین ابو الفضل محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن محمود بن غازی ثقفی حلبی المعروف بہ ابن شحنہ صغیر: فقیہ، محدث، اصولی، مؤرخ، ادیب، ناظم اور ناثر تھے ۔

ولادت:
۱۲ رجب ۸۰۴ھ کو پیدا ہوئے ـ

آپ علیہ الرحمہ حلب کے رؤسا میں سے تھے۔ ۸۳۶ھ میں حلب کے قاضی مقرر ہوئے، پھر مصر منتقل ہوگئے اور وہاں کاتب السر کے عہدے پر کام کرتے رہے، آخر عمر میں بڑی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا،فالج ہوگیا جس کی وجہ سے ذہن پر بھی اثر پڑا۔محرم ۸۹۰ھ میں وفات پائی ۔

آپ کی تصانیف میں سے طبقات الحنفیہ، نزہۃ النواظر فی روض المناظر (تاریخ میں اپنے والد کی تاریخ کی شرح) نہایۃ النہایہ فی شرح ہدایہ، تنویر المنار (اصول فقہ میں)، المتجد المغیث (حدیث میں) اور ترتیب مہمات ابن بشکوال علیٰ اسماء صحابہ، مشہور ہیں ۔ (ان کے والد قاضی محب الدین ابو الولید محمد ابن شحنہ متوفی ۸۱۵ھ اور بیٹے سری الدین عبد البر بن محمد ابن شحنہ متوفی ۹۲۱ھ کے حالات آپ اصل کتاب میں پڑھ چکے ہیں۔)

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shamsuddin-abul-fazal-muhammad
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
بحر العلوم مولانا عبد العلی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
نام: عبد العلی ـ کنیت: ابو العباس ـ لقب: بحر العلوم ـ

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا عبد العلی لکھنوی بن مولانا نظام الدین سہالوی بن مولانا قطب الدین سہالوی شہید (علیہم الرحمہ) ۔

آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت خواجہ عبد اللہ انصاری علیہ الرحمہ سے ملتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
1144ھ لکھنؤ میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
سترہ سال کی عمر میں تمام علومِ نقلیہ و عقلیہ اور جملہ درسی کتب کی تکمیل اپنے والدِ گرامی سے فرمائی ۔ والدِ گرامی کے وصال کے بعد ان کے تلمیذِ رشید مولانا کمال الدین سہالوی (متوفیّٰ 1175ھ) سے تمام علوم میں کمال حاصل کیا ۔

بیعت و خلافت:
آپ کا قول ہے کہ مجھے عالمِ رؤیا (خواب) میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زیارت ہوئی، اور آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے بیعت کیا اور تعلیم و ارشادِ طریقت کا حکم دیا ۔ پس میں خاص آپ کا مرید ہوں اور صرف آپ کے واسطے سے آنحضرت ﷺ کے ساتھ میرا سلسلۂ طریقت پہنچتا ہے ۔ چنانچہ جو شخص آپ سے بیعت ہوتا تھا، آپ اس کو ایک واسطے سے شجرہ لکھ کر دیتے تھے، اور نیز دیگر سلاسل میں اپنے والد بزرگوار اور شیخ عبد الرزاق ہانسوی سے اجازت حاصل تھی ۔

سیرت و خصائص:
رئیس المتکلمین ، فخر الاسلام والمسلمین ، عالمِ محقق ، فاضلِ مدقق ، جامع المعقول و المنقول ، حاوئ فروع واصول ، صاحبِ طریقت و معرفت بحر العلوم مولانا عبد العلی لکھنوی علیہ الرحمہ کی ذاتِ والا صفات ہے ۔

آپ اپنے والدِ گرامی بانیِ درسِ نظامی مولانا نظام الدین سہالوی علیہ الرحمہ کے سچے جانشین تھے ۔ ساری زندگی اپنے والدِ گرامی کے مشن کے فروغ کیلئے گزار دی ۔ تمام عمر درس و تدریس، تصنیف و تالیف سے وابستہ رہے اور امتِ مرحومہ کے لئے بہترین علمی ذخیرہ بطورِ یاد گار چھوڑا ہے ۔ تمام معاملات میں رسول اللہ ﷺ کی سنتِ مبارکہ کو مقدم رکھتے تھے، اپنے تمام تلامذہ، متعلقین، متوسلین اور محبین کو بھی خاص تاکید فرماتے تھے ۔

اہلِ سنت و جماعت کے عقائد و معمولات پر شدت سے عمل پیرا تھے، یہی وجہ ہے کہ "اودھ پور" کی رافضی حکومت نے آپ کو شہر بدر کر دیا تھا ۔ لیکن آپ نے مشکل حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے دینِ متین کے کام کو مزید وسعت وقوت اور ایسے منظم طریقے سے کیا کہ اس کے اثرات آج تک زندہ و باقی ہیں اور قیامت تک باقی رہیں گے ۔ (ان شاء اللہ تعالیٰ) ـ

وصال:
12 رجب المرجب 1235ھ میں آپ کا وصال ہوا ۔ قبرِ انور "مدراس " انڈیا میں ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abul-abbas-abdul-ali-muhammad-lakhnavi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
حضرت عباس بن عبد المطلب ۔ کنیت: ابو الفضل ۔ لقب: خاتم المہاجرین، عم رسول اللہ ﷺ ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت عباس بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ ۔ الی آخرہ ۔ (الاصابہ)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 566ء میں واقعہ فیل سے تین سال قبل مکۃ المکرمہ میں ہوئی ۔ حضرت عباس پانچ سال کی عمر میں اتفاقیہ طور پر کہیں گم ہو گئے ۔ ان کی والدہ محترمہ کو بڑی فکر ہوئی، انہوں نے اسی وقت نذر مانی کہ اگر عباس مجھ کو مل گئے تو میں بیت اللہ پر حریر و دیباج کا، جو نہایت بیش قیمت کپڑا ہوتا ہے، غلاف چڑھاؤں گی ۔نذر ماننے کے بعد ہی حضرت عباس مل گئے، ان کی والدہ نے نذر پوری کی ۔حضرت عباس کی والدہ ہی وہ اول عرب خاتون ہیں جنہوں نے بیش بہا کپڑے کا غلاف بیت اللہ کو پہنایا ۔

تحصیلِ علم:
زمانۂ جاہلیت میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ ان افراد میں سے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے ۔ چنانچہ حضرت عباس جب سن تمیز کو پہنچے تو علم الانساب، علم التاریخ، علم الادیان میں مہارت حاصل کی، چوں کہ عرب میں یہ علوم عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے، خصوصاً علم الانساب، کیوں کہ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام ہی کے زمانے سے برابر یہ خبر چلی آرہی تھی کہ عرب میں نسل اسماعیل ہی سے نبی آخر الزامان پیدا ہوں گے، اس وجہ سے علم الانساب کا بہت خیال رکھا جاتا تھا ۔ رسول اللہ کی بعثت کے بعد تو رسول اللہ ﷺ کا ہر صحابی وحی کا امین اور علومِ مصطفیٰ ﷺ کا وارث بنا ۔

سیرت و خصائص:
کچھ شخصیات زمانہ جاہلیت واسلام دونوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتیں تھیں، اوران کی رائے کو تسلیم کیا جاتا تھا، ان میں سے ایک ذات حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی بھی ہے ۔ آپ قبل از قبول اسلام اور بعد از قبول اسلام ہمیشہ عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھے گئے ۔ اس گھرانے کے طبع سلیم رکھنے والے بزرگ قبل از اعلان نبوت ملت خلیل پر عمل پیرا تھے، جیسے حضرت عبد المطلب، چنانچہ ان کی پرہیزگاری عرب میں مشہور تھی ۔ اس لئے بیت اللہ اور دیگر اہم قومی امور کی نگرانی انہیں کے ذمہ تھی ۔ حضرت عبد المطلب کے بعد قریش نے حضرت عباس میں علم، شجاعت، سخاوت، سیادت، خاندانی نجابت، صلہ رحمی دیکھ کر انہیں کو بیت اللہ کا محافظ منتخب کیا ۔(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب)

چنانچہ حضرت عباس ہمیشہ بیت اللہ کی حفاظت میں اپنے وقت کو صرف کیا کرتے تھے اور آپ نے اس قدر اچھا انتظام کیا کہ کسی کو مجال نہ تھی کہ کوئی شخص بیت اللہ میں بیٹھ کر کسی کی ہجو یا غیبت کر سکے، اگر کوئی ایسا کرتا تو حضرت عباس فوراً اس کو تنبیہ فرما دیا کرتے تھے اور ان کے حکم کے آگے سب کی گردنیں خم ہو جاتی تھیں۔ (کامل ابن اثیر، ج: 1 ، ص: 9) ـ

تعمیرِ کعبہ:
حضرت عباس کی عمر جب سولہ سال کی ہوئی تو خانہ کعبہ میں اتفاقیہ طور پر آگ لگ گئی،جس کی وجہ سے عمارت مسمار ہوگئی، قریش نے جمع ہوئےاور اس کو بنانا شروع کیا تو ہر شخص کار ثواب سمجھ کراس کی تعمیر میں حصہ لینے لگا، حضرت عباس نے سب سے زیادہ اس میں حصہ لیا ۔

حضرت عباس کا نکاح:
حضرت عباس کا نکاح حضرت لبابۃ الکبریٰ سے ہوا، جو ام المومنین حضرت میمونہ کی حقیقی بہن تھیں، ابن سعد نے لکھا ہے کہ حضرت لبابۃ الکبریٰ جن کی کنیت ام الفضل ہے، یہ وہ پہلی خاتون ہیں جو حضرت خدیجہ کے بعد مسلمان ہوئیں اور بہت سی حدیثیں ان سے مروی ہیں ۔ یہ رسول اللہ کی چچی محترمہ تھیں اور آپ ﷺ کا بہت خیال رکھتی تھیں ۔

قبولِ اسلام:
جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو اس وقت حضرت عباس کی عمر تینتالیس سال تھی ۔ آپ نے غزوۂ بدر کے بعد ہی اسلام ظاہر کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا ایک عرصہ تک مکہ میں مقیم رہنا اور علانیہ دائرہ اسلام میں داخل نہ ہونا در حقیقت ایک مصلحت پر مبنی تھا، وہ کفار مکہ کی نقل و حرکت اور ان کے رازہائے سر بستہ کی اطلاع رسول اللہ ﷺ کو دیتے تھے، نیز اس سر زمین کفر میں جو ضعفائے اسلام رہ گئے تھے ان کے لیے تنہا ماویٰ وملجا تھے، یہی وجہ ہے کہ حضرت عباس نے جب کبھی رسالت پناہ ﷺ سے ہجرت کی اجازت طلب کی تو آپ نے منع کر دیا اور فرمایا: کہ "آپ کا مکہ میں مقیم رہنا بہتر ہے، خدانے جس طرح مجھ پر نبوت ختم کی ہے ،اسی طرح آپ پر ہجرت ختم کرے گا۔یہی وجہ ہے کہ جنگ بدر میں لڑائی سے پہلے حضور اکرم ﷺ نے فرما دیا تھا: کہ تم لوگ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل مت کرنا کیونکہ وہ مسلمان ہوگئے ہیں،اورکفار مکہ ان پر دباؤ ڈال کر انہیں جنگ میں لائے ہیں ۔ (سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: 151) ـ
2
فضائل و مناقب:
آپ کے بہت فضائل ہیں ۔ سب سے بڑی فضیلت رسول اللہ ﷺ کی قرابت ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کے عم محترم ہیں ۔ حضور ﷺ انہیں والد کہ کر بُلاتے تھے ۔ جب پوری قوم نے آپ ﷺ کا ساتھ چھوڑ دیا، اور دشمنی پہ اتر آئے، اور معاشی، معاشرتی ہر قسم کا بائیکاٹ کر دیا، اور خاندان بنی ہاشم نے "شعب ابی طالب" میں تین سال انتہائی کسمپرسی میں  بسر کیے یہاں تک کہ نوبت درختوں کے پتے کھانے، اور سوکھا چمڑا چبانے، اور پیٹ پر پتھر باندھنے تک جا پہنچی ۔ ان مشکل حالات میں حضرت عباس اور حضرت عبد المطلب نے رسول اللہ ﷺ کا ساتھ نہ چھوڑا ۔

ہجرتِ حضرت عباس رضی اللہ عنہ:
حضرت سہل بن سعد رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے حضور اقدس ﷺ کی بارگاہ میں (مکہ معظمہ سے) خط تحریر کیا کہ مجھے اذن عطا ہو تو ہجرت کر کے (مدینہ طیبہ) حاضر ہو جاؤں ۔ اس کے جواب میں حضور پر نور ﷺ نے یہ فرمایا: یا عم اقم مکانک الذی انت فیہ، فان اﷲ یختم بک الھجرۃ کما ختم بی النبوۃ ۔ اے چچا! اطمینان سے رہو کہ تم ہجرت میں خاتم المہاجرین ہونے والے ہو، جس طرح میں نبوت میں خاتم النبیین ہوں ﷺ ۔ (تہذیب تاریخ دمشق الکبیر، ذکر من اسمہ عباس، دار احیاء التراث العربی، بیروت، 7/235) ـ

جب رسول اللہ ﷺ نے کفار مکہ کے ظلم و ستم کی وجہ سے ابتداءً مدینۃ المنورہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نےحضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشورہ فرمایا کہ میرا ارادہ یہاں سے ہجرت کا ہے آپ کی کیا رائے ہے، اس وقت مدینۃ المنورہ کے بارہ افراد اسلام قبول کر چکے تھے ۔ تو حضرت عباس نے اس وقت منع کر دیا، اور عرض کی اتنی قلیل لوگوں کے ساتھ آپ تشریف نہ لے جائیں، بلکہ آپ اپنا نائب بھیج کر وہاں تبلیغ کریں ۔ آپ ﷺ کو یہ رائے بہت پسند آئی، اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو مدینۃ المنورہ تبلیغ کی غرض سے بھیج دیا ۔ اور ان کی کوششوں سے حضرت سعد بن معاذ مشرف با اسلام ہو گئے، اور ان کی تبلیغ پران کا پورا قبیلہ مسلمان ہو گیا ۔ دوسرے سال اسی (80) مسلمان حج کے لئے مکۃ المکرمہ آئے ۔ تو اس وقت ان سےبات چیت اور رسول اللہ ﷺ کی ہر حال میں حفاظت و اطاعت کا عہد کرنے والے حضرت عباس رضی اللہ عنہ تھے ۔

ان لوگوں نے پورا عہد کیا اور کہا:
اے عباس! ہم نے خدا کے لیے یہ عہد کیا ہے، کہ ہم ان پر اپنی جانیں قربان کر دیں‌گے اور ان کاساتھ نہ چھوڑیں گے، جب تک جسم میں جان باقی ہے ہم ان تک کسی دشمن کو نہیں پہنچنے دیں گے، ہم اپنی جان ،اولاد سب کچھ ان پر قربان کردیں گے ۔ لیکن! ایک عرض ہماری بھی ہے کہ، اگر آں حضرت ﷺ اپنے دشمنوں پر غالب آجائیں اور کسی کا خوف و اندیشہ نہ رہے تو ایسا نہ ہوکہ آپ ہمیں چھوڑ کر مکہ چلے آئیں ۔ آپ ﷺ نے یہ سن کر ارشاد فرمایا: کہ ایسانہ ہوگا، میری قبر تمہاری قبروں میں ہوگی اور میرا گھر تمہارے گھروں میں ہوگا ۔جن کے ساتھ تم لڑوگے میں بھی لڑوں گا،جن سے تم صلح کرو گے میں بھی صلح کروں گا ۔ یہ فرما کر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور تقریر کی ۔ چند ایام گزرنے کے بعد آپ ﷺ باذن خدا وندی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو ہم راہ لے کر مدینہ کی طرف ہجرت فرما گئے ۔ سبحان اللہ! انصار نے کیسا ساتھ نبھایا، اور مصطفیٰ کریم ﷺ نے کیسا کرم فرمایا ۔

منقول ہے کہ حضرت عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا مکان مسجد نبوی سے متصل تھا اور بارش میں اس مکان کا پر نالے کا پانی گلی میں گرتا تھا، جس کی وجہ سے گلی میں پانی بھر جاتا تھا، امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس پرنالہ کو اکھاڑ دیا ۔حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ آپ کے پاس آئے اور کہا کہ خدا کی قسم! اس پرنالہ کو رسول ﷲ ﷺ نے میری گردن پر سوار ہو کر اپنے مقدس ہاتھوں سے لگایا تھا ۔ یہ سن کر امیر المؤمنین نے فرمایا کہ اے عباس! مجھے اسکا علم نہ تھا اب میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ آپ میری گردن پر سوار ہو کر اس پر نالہ کو پھر اسی جگہ لگا دیجئے ،جہاں رسول اللہ ﷺ نے لگایا تھا چنانچہ ایسا ہی کیا گیا ۔ (وفاء الوفا جلد: 1 ، ص: 348) ۔

( یہ صحابی تھے، وہابی نہیں تھے، وہ رسول اللہ کی نسبت والی چیزوں کا خیال اور ان کو بحال رکھتے تھے، اور یہ گرانے اور مٹانے پہ تلے ہوئے ہیں ) ـ
2
آپ کے توسل سے بارش کا نزول:
امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں جب شدید قحط پڑ گیا اور خشک سالی کی مصیبت سے دنیا ئے عرب بد حالی میں مبتلا ہو گئی تو امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز استسقاء کے لیے مدینہ منورہ سے باہر میدان میں تشریف لے گئے اور اس موقع پر ہزاروں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا اجتماع ہوا ۔ اس بھرے مجمع میں دعا کے وقت حضرت امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بازو تھام کر انہیں اٹھایا اور ان کو اپنے آگے کھڑا کر کے اس طرح دعا مانگی: ''یا اللہ! پہلے جب ہم لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تھے تو تیرے نبی کو وسیلہ بنا کر بارش کی دعائیں مانگتے تھے اور تو ہم کو بارش عطا فرماتا تھا مگر آج ہم تیرے نبی ﷺ کے چچا کو وسیلہ بنا کر دعا مانگتے ہیں لہٰذا تو ہمیں بارش عطا فرما دے''۔ (صحیح البخاری: 3710) ـ

پھر جب حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی بارش کے ليے دعامانگی تو ناگہاں اسی وقت اس قدر بارش ہوئی کہ لوگ گھٹنوں  تک پانی میں چلتے ہوئے اپنے گھروں میں واپس آئے اورلوگ جو ش مسرت اورجذبہ عقیدت سے آپ کی چادر مبارک کو چومنے لگے اورکچھ لوگ آپ کے جسم مبارک پر اپنا ہاتھ پھیرنے لگے۔

وصال:
آپ کا وصال 12 رجب المرجب 32ھ / مطابق 18 فروری 653ء بروز جمعۃ المبارک 88 سال کی عمر میں ہوا ۔ جنت البقیع میں مدفون ہوئے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم نے قبر میں اتارا ۔

ماخذ و مراجع:
صحیح البخاری ۔ وفاء الوفاء ۔ سیرت مصطفیٰ ﷺ ۔ الاصابہ ۔ کامل ابن کثیر ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-fazl-al-abbas-ibn-abdul-muttalib
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-07-1445 ᴴ | 23-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-07-1445 ᴴ | 24-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2