🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-07-1445 ᴴ | 23-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-07-1445 ᴴ | 23-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
★ اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ۫ - وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْؕ - وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ (۱۹)

☆ Kanzul Iman Translation:
◆ بے شک اللّٰہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے (ف۴۰) اور پھوٹ میں نہ پڑے کتابی (ف۴۱) مگر بعد اس کے کہ انہیں علم آچکا (ف۴۲) اپنے دلوں کی جلن سے (ف۴۳) اور جو اللّٰہ کی آیتوں کا منکر ہو تو بے شک اللّٰہ جلد حساب لینے والا ہے
◆ बेशक अल्लाह के यहाँ इस्लाम ही दीन है (फ़40) और फूट में न पड़े किताबी (फ़41) मगर बाद इसके कि उन्हें इल्म आ चुका (फ़42) अपने दिलों की जलन से (फ़43) और जो अल्लाह की आयतों का मुन्किर हो तो बेशक अल्लाह जल्द हिसाब लेने वाला है।
( AL-IMRAN - 3:19 )
____
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ عصمت اللہ نوشاہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت حافظ برخوردار کے پسرِ پنجم تھے۔ نہایت بزرگ، عالم و فاضل، فقیرِ کامل، متقی اورعارفِ کامل تھے۔ زہدو اتقا اور عبادت و ریاضت میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے۔

تعلیم:
تحصیلِ علوم حافظ محمد تقی سے کی تھی۔ ابتداء میں شیخ رحیم داد فرزندِ شاہ سلیمان کی خدمت میں بھی رہے اور فوائدِ عظیم حاصل کیے، اس کے بعد شیخ پیر محمد سچیار قاضی رضی الدین و سیّد شاہ محمد خلفائے حضرت حاجی محمد نوشاہ گنج بخش کی خدمت میں حاضر رہ کر اخذِ فیض کیا۔ آخر میں حضرت شیخ عبد الرحمٰن المعروف بہ پاک رحمان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تکمیلِ سلوک کی۔ صاحبِ حال و قال و وجد و سماع تھے۔ طبع عالی پر جذب و استغراق بے حد غالب تھا۔

حالتِ سُکر میں جس پہ نظر ڈالتے تھے وُہ مست و بے ہوش ہو جاتا تھا۔ کشفِ صریح کا یہ عالم تھا کہ گھر میں بیٹھے ہوئے بتادیتے تھے کہ حضرت شیخ فلاں جگہ پر اور فلاں کام کر رہے ہیں۔ حالتِ وجد میں کئی دفعہ بالا خانہ سے گِر کر صحن میں آپڑے مگر کوئی گزند نہ پہنچا۔ جب آپ کے کشف و کرامات کی مشہوری اقصائے عالم میں ہُوئی تو حضرت شاہ محمد غوث (لاہوری) خلف حضرت سید حسن پشاوری آپ کے فضل و کمال کا شہرہ سُن کر حاضرِ خدمت ہوئے اور اکتسابِ فیض کیا ور مردِ کامل ہوئے۔ شیخ محمد عظیم آپ کے فرزند اور شیخ ابوسعید جو آپ کے برادر زادہ اور داماد بھی تھے۔ اس قدر کامل و مکمّل ہوئے کہ ثانی نہ رکھتے تھے۔

آپ کے دُوسرے بھتیجے شیخ سلطان محمد نے بھی آپ ہی کی توجّہ سے سلوک و معرفت میں درجۂ کمال حاصل کیا تھا۔ آپ پر حالتِ جذب و سُکر اس درجہ طاری رہا کرتی تھی کہ کئی کئی روز بغیر کھائے پیے گزر جاتے تھے حتّٰی کہ بارہ (۱۲) سال تک کُچھ نہ کھایا ۔ آپ کے ہمشیر زادہ شیخ عبدالجلیل نے بھی آپ ہی کی نظرِ فیض اثر سے عرفان میں مرتبۂ بلند پایا تھا اور ایسی حالتِ جذب حاصل ہوئی تھی کہ سالہا سال تک طعام کا لقمہ گلے سے نیچے نہ اُترا، اِن پر بھی حالتِ استغراق اکثر و بیشتر طاری رہتی تھی۔ آخری عمر میں کشمیر چلے گئے تھے وہیں وفات پائی۔

شیخ محمد حیات صاحبِ تذکرہ نوشاہی لکھتے ہیں کہ ایک روز میں حاضرِ خدمت تھا، میرے دل میں خیال گزرا کہ شیخ نجم الدین کبریٰ قدس سرہٗ جب کسی کچّے گھڑے پر نظر ڈالتے تھے تو وُہ پک جاتا تھا اور اگر پکّے پر نظر ڈالتے تو وُہ ٹوٹ جاتا۔ کیا واقعی یہ بات درست ہے۔ آپ اُسی وقت نورِ باطن سے میرے خیال سے آگاہ ہوگئے۔ فرمایا: ہاں کیوں نہیں، اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے ہوتے ہیں جن کی نظر میں یہ تاثیر ہے اُسی وقت گردن اٹھا کر سامنے شیشے کی طرف دیکھا جو طاق پر پڑا تھا، اسی وقت ٹوٹ کر زمین پر گر پڑا۔

آپ کی وفات بارھویں (۱۲) رجب مطابق انیسوی (۱۹) چیت سوموار کے دن شام کے وقت نماز کی حالت میں ظہور میں آئی کہ دو (۲) رکعت نماز قیام کی حالت میں پڑھی، تیسری رکعت کے سجدہ میں وفات پائی، آپ کا سالِ وفات ۱۱۳۷ھ ہے۔ آپ کے تین صاحبزادے تھے: اوّل شیخ شیر محمد جو آپ کے بعد مسند سجادگی پر قائم ہُوئے۔ دُوسرے شیخ گل محمد جواسم بامسمیّٰ تھے۔ تیسرے شیخ محمد عظیم المراتب تھے۔

حضرت شیخ عصمت اللہ کو شیخ عبدالرحمٰن کی طرف سے ’’امیر حمزہ پہلوان نوشاہ ثانی‘‘ کا خطاب مِلا تھا۔ ؎

ز عالم شد در خُلدِ معلیّٰ
ز دل جستم چو سالِ ارتحالش

جناب شیخ صادق عصمت اللہ
خود فرمود ’’عاشق عصمت اللہ‘‘ ۱۱۳۷ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-asmatullah-noshahi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شیخ عبد الخالق چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
شیخ عبد الخالق چشتی صابری ۔ لقب: شیخ العصر ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کا سن ولادت کتب میں معلوم نہ ہو سکا ۔ قرین قیاس یہ ہے کہ دسویں صدی ہجری کا اوائل ہی ہوگا ۔

تحصیل علم:
آپ جامع علوم عقلیہ و نقلیہ تھے ۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ میں حضرت شیخ نظام الدین بلخی کے خلیفہ حضرت شیخ جان اللہ چشتی صابری لاہوری کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے، مجاہدات و ریاضت کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے ۔ (تذکرہ اولیائے لاہور، ص:358) ـ

سیرت و خصائص:
شیخ العصر حضرت شیخ عبد الخالق چشتی صابری ۔ آپ اپنے وقت کے شیخ کامل و عارف باللہ تھے ۔ آپ کی ذات مبارکہ سے سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ کو فروغ حاصل ہوا ۔ حضرت شیخ جان اللہ لاہوری چشتی صابری جو کہ حضرت شیخ نظام الدین بلخی چشتی صابری کے مرید و خلیفہ تھےکہ دست حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ آپ فقر و وفاقہ ترک و تجرید میں بلند مقام کے مالک تھے ۔

سماع کے دوران آپ پر وجد کی ایک خاص کیفیت ہوتی تھی ۔ اس موقع پر جس کسی پر آپ کی نگاہ پڑجاتی بے خود کر دیتے تھے ۔ دوران سماع اکثر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ لوگوں کو شبہ ہو جاتا تھاکہ آپ کا وصال ہو چکا ہے ۔ جو شخص بھی آپ کے حلقہ ارادت میں داخل ہوتا وہ کامل ہو کے واپس جاتا تھا ۔ مخلوق خدا کا ایک اژدہام آپ کی خدمت میں ہمہ وقت موجود رہتا تھا ۔ آنے والا سائل کبھی آپ کے دربار سے خالی واپس نہ جاتا ۔ آپ کا لنگر ہر خاص و عام کے لیے ہمہ وقت کھلا رہتا تھا ۔(خزینۃ الاصفیاء، ص:434) ـ

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال باکمال 12 رجب المرجب شریف 1059ھ / مطابق 22 جولائی 1649ء بروز جمعرات، بعہد شاہجہان ہوا ۔ مزار پُر انوار میدان زین خان بیرون موچی دورازہ لاہور میں مرجع خاص و عام ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdul-khaliq-chishti
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

میر سید علی ہمدانی:
ہمدان میں دو شنبہ کے روز ۱۲ رجب ۷۱۴ھ میں پیدا ہوئے ۔ مخزن علوم ظاہری، مظہر تجلیات ربانی، عالمِ عامل، عارف کامل، صاحبِ کرامات و خوارق عادات تھے، علوم ظاہری و باطنی میں آپ کو وہ کمال حاصل تھا کہ ایک سو ستّر سے زیادہ کتابیں تصنیف کیں جن میں سے مجمع الاحادیث، شرح اسماء الحسنیٰ، ذخیرۃ الملوک، شرح فصوص الحکم، مراۃ التائبین، شرح قصیدہ حمزیہ و فارضیہ، آداب المریدین، اور دس قواعد اشہر ہیں ۔

۷۸۰ھ میں مع سات سور فقاء و سادات کے ہمدان سے کاشمیر میں تشریف لائے اور محلہ علاء الدین پورہ میں جہاں اب آپ کی خانقاہ فیض پناہ ہے، جلوہ افروز ہوئے ۔ بادشاہ کمال خشوع و خضوع سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اسلام نے جو بلبل شاہ کے وقت سے کاشمیر میں رواج پکڑنا شروع کیا تھا آپ کے وقت میں رونق بے اندازہ حاصل کی،اسی لیے آپ کو بانی مبانی اسلام کہتے ہیں کہ ایک شاعر نے کہا ہے ؎

یعنی آں بانی مسلمانی میر سیّد ھمدانی

بادشاہ کو جمع بین الاختین کیا ہوا تھا، آیت لا تجمعوابین الاختین پر عمل کرایا ۔ تین دفعہ کاشمیر میں آئے اور تین بار سیر سیاھب ربع مسکون کی فرمائی ۔ جب اخیر کو کاشمیر سے رحلت کی تو تہتّر سال کی عمر میں میدان کبیر میں پہنچ کر ۷۸۵ھ میں انتقال فرمایا اور نعش آپ کی ختلان میں لے جاکر دفن کی گئی۔مزار آپ کا زیارت گاہ عام ہے ۔ شیخ میر محمد اویسی نے قطعہ تاریخ آپ کا اس طرح پر کہا ہے ؎

فخر عارفاں شہِ ہمداں
کنہ دمش باغ معرفت بشگفت

مظہر نورِ حق کہ رویش بود
عاقبت از جہانیاں نہفت

عقل تاریخ سالِ رحلت
سید باعلی ثانی گفت

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ameer-kabir-syed-ali-hamdani
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
ابو الفضل شمس الدین محمد بن شحنہ

شمس الدین ابو الفضل محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن محمود بن غازی ثقفی حلبی المعروف بہ ابن شحنہ صغیر: فقیہ، محدث، اصولی، مؤرخ، ادیب، ناظم اور ناثر تھے ۔

ولادت:
۱۲ رجب ۸۰۴ھ کو پیدا ہوئے ـ

آپ علیہ الرحمہ حلب کے رؤسا میں سے تھے۔ ۸۳۶ھ میں حلب کے قاضی مقرر ہوئے، پھر مصر منتقل ہوگئے اور وہاں کاتب السر کے عہدے پر کام کرتے رہے، آخر عمر میں بڑی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا،فالج ہوگیا جس کی وجہ سے ذہن پر بھی اثر پڑا۔محرم ۸۹۰ھ میں وفات پائی ۔

آپ کی تصانیف میں سے طبقات الحنفیہ، نزہۃ النواظر فی روض المناظر (تاریخ میں اپنے والد کی تاریخ کی شرح) نہایۃ النہایہ فی شرح ہدایہ، تنویر المنار (اصول فقہ میں)، المتجد المغیث (حدیث میں) اور ترتیب مہمات ابن بشکوال علیٰ اسماء صحابہ، مشہور ہیں ۔ (ان کے والد قاضی محب الدین ابو الولید محمد ابن شحنہ متوفی ۸۱۵ھ اور بیٹے سری الدین عبد البر بن محمد ابن شحنہ متوفی ۹۲۱ھ کے حالات آپ اصل کتاب میں پڑھ چکے ہیں۔)

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shamsuddin-abul-fazal-muhammad
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
بحر العلوم مولانا عبد العلی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
نام: عبد العلی ـ کنیت: ابو العباس ـ لقب: بحر العلوم ـ

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا عبد العلی لکھنوی بن مولانا نظام الدین سہالوی بن مولانا قطب الدین سہالوی شہید (علیہم الرحمہ) ۔

آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت خواجہ عبد اللہ انصاری علیہ الرحمہ سے ملتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
1144ھ لکھنؤ میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
سترہ سال کی عمر میں تمام علومِ نقلیہ و عقلیہ اور جملہ درسی کتب کی تکمیل اپنے والدِ گرامی سے فرمائی ۔ والدِ گرامی کے وصال کے بعد ان کے تلمیذِ رشید مولانا کمال الدین سہالوی (متوفیّٰ 1175ھ) سے تمام علوم میں کمال حاصل کیا ۔

بیعت و خلافت:
آپ کا قول ہے کہ مجھے عالمِ رؤیا (خواب) میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زیارت ہوئی، اور آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے بیعت کیا اور تعلیم و ارشادِ طریقت کا حکم دیا ۔ پس میں خاص آپ کا مرید ہوں اور صرف آپ کے واسطے سے آنحضرت ﷺ کے ساتھ میرا سلسلۂ طریقت پہنچتا ہے ۔ چنانچہ جو شخص آپ سے بیعت ہوتا تھا، آپ اس کو ایک واسطے سے شجرہ لکھ کر دیتے تھے، اور نیز دیگر سلاسل میں اپنے والد بزرگوار اور شیخ عبد الرزاق ہانسوی سے اجازت حاصل تھی ۔

سیرت و خصائص:
رئیس المتکلمین ، فخر الاسلام والمسلمین ، عالمِ محقق ، فاضلِ مدقق ، جامع المعقول و المنقول ، حاوئ فروع واصول ، صاحبِ طریقت و معرفت بحر العلوم مولانا عبد العلی لکھنوی علیہ الرحمہ کی ذاتِ والا صفات ہے ۔

آپ اپنے والدِ گرامی بانیِ درسِ نظامی مولانا نظام الدین سہالوی علیہ الرحمہ کے سچے جانشین تھے ۔ ساری زندگی اپنے والدِ گرامی کے مشن کے فروغ کیلئے گزار دی ۔ تمام عمر درس و تدریس، تصنیف و تالیف سے وابستہ رہے اور امتِ مرحومہ کے لئے بہترین علمی ذخیرہ بطورِ یاد گار چھوڑا ہے ۔ تمام معاملات میں رسول اللہ ﷺ کی سنتِ مبارکہ کو مقدم رکھتے تھے، اپنے تمام تلامذہ، متعلقین، متوسلین اور محبین کو بھی خاص تاکید فرماتے تھے ۔

اہلِ سنت و جماعت کے عقائد و معمولات پر شدت سے عمل پیرا تھے، یہی وجہ ہے کہ "اودھ پور" کی رافضی حکومت نے آپ کو شہر بدر کر دیا تھا ۔ لیکن آپ نے مشکل حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے دینِ متین کے کام کو مزید وسعت وقوت اور ایسے منظم طریقے سے کیا کہ اس کے اثرات آج تک زندہ و باقی ہیں اور قیامت تک باقی رہیں گے ۔ (ان شاء اللہ تعالیٰ) ـ

وصال:
12 رجب المرجب 1235ھ میں آپ کا وصال ہوا ۔ قبرِ انور "مدراس " انڈیا میں ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abul-abbas-abdul-ali-muhammad-lakhnavi
2